مضمون کے اہم نکات
کیا تقلید پیش امام کی اقتداء کی طرح ہے؟
فرماتے ہیں ہم اتباع واطاعت تو نبی صلى الله عليه وسلم ہی کی کرتے ہیں لیکن امام اعظم ابو حنیفہ کی راہنمائی میں‘ اس کی مثال اس طرح ہے کہ نماز با جماعت میں ایک امام ہوتا ہے باقی مقتدی‘ امام تکبیر تحریمہ کہتا ہے مقتدی بھی کہتا ہے، لیکن امام کے بعد اور امام کی اتباع میں امام و مقتدی دونوں کی تحریمہ اللہ کے لیے ہوتی ہے‘ امام قیام کرتا ہے‘ مقتدی بھی قیام کرتا ہے‘ مگر دونوں کا قیام اللہ کے لیے ہوتا ہے، لیکن مقتدی کا قیام امام کی اتباع میں ہوتا ہے‘ امام رکوع کرتا ہے‘ مقتدی بھی رکوع کرتا ہے، دونوں کار کوع اللہ کے لیے ہوتا ہے، لیکن مقتدی کار کوع امام کی اتباع میں ہوتا ہے۔ امام سجدہ کرتا ہے‘ مقتدی بھی سجدہ کرتا ہے دونوں کا سجدہ اللہ کے لیے ہے لیکن مقتدی کا سجدہ امام کے پیچھے پیچھے ہوتا ہے اور امام کی اتباع میں ہوتا ہے۔ امام رکوع و سجدہ سے سر اٹھاتا ہے‘ مقتدی بھی اٹھاتا ہے‘ لیکن امام کے بعد اور اتباع امام میں‘ اسی طرح تشہد بھی‘ الغرض نماز با جماعت میں امام ارکان نماز ادا کرتا ہے مقتدی بھی کرتا ہے لیکن مقتدی ہر محل میں امام کے پیچھے رہتا ہے ، آگے نہیں بڑھتا‘ اگر آگے بڑھے گا تو حدیث کے مطابق گدھا ہو گا۔ اب اگر کوئی غیر مسلم کہے کہ
امام کی تحریمہ اللہ کے لیے مقتدی کی امام کے لیے‘ امام کا قیام اللہ کے لیے مقتدی کا قیام امام کے لیے امام کا رکوع اللہ کے لیے مقتدی کار کوع امام کے لیے امام کا سجدہ اللہ کے لیے مقتدی کا سجدہ امام کے لیے امام کا قومہ جلسہ اللہ کے لیے مقتدی کا تشہد امام کے لیے۔ امام کا سلام اللہ کے لیے اور مقتدی کا سلام امام کے لیے۔
( تحفہ اہل حدیث ص 44,45)
الجواب:-
اولاً:-
ہمارے بھائی کو یہ وہم اس لیے ہوا ہے کہ وہ تقلید شخصی اور اقتداء امام کو مترادف الفاظ سمجھ بیٹھا ہے۔ حالانکہ ان الفاظ کے معانی میں بعد المشرقین ہے ، تقلید کا معنی پہلے عرض کیا جاچکا ہے۔ ( تقلید ایسے عمل کا نام ہے جو کسی کی بات پر بغیر دلیل کے عمل کیا جائے) جبکہ لفظ اقتداء بمعنی کسی کی پیروی میں اس جیسا کام کرنا آتا ہے۔
(المصباح المنير ص 494)
ارشاد ربانی ہے کہ
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ (الانعام : 90)
یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی تھی تو تم ان کی ہدایت کی پیروی کرو۔
آئمہ لغت نے صراحت کی ہے کہ لفظ اقتداء بمعنی’’ اسوہ ‘‘ استعمال ہوتا ہے۔
(تاج العروس ص 289 ج 10 ولسان العرب ص 171 ج 15 )
اس معنی کو ملحوظ رکھیے تو آپ کی دلیل کا واضح مقصود یہ ہے کہ جیسے امام ابو حنیفہ نے اجتہاد کیا ویسے ہی تم بھی اجتہاد کرو‘ جیسے انہوں نے کسی کی تقلید نہیں کی ویسے ہی آپ کسی کی تقلید نہ کریں۔
ثانياً:-
تقلید شخصی میں آپ حضرات کا یہ دعوی‘ ہے کہ صرف ایک ہی امام کی لازم و ضروری بلکہ واجب ہے۔ کبھی کسی کی اور کبھی کسی کی تقلید کی تو گمراہ ہو جائے گا اور دین ایک کھلونا بن جائے گا۔
(دیکھئے درس ترمذی ص 120 ج 1‘ للعثمانی‘ )
مولانا محمد اسماعیل سنبھلی حنفی دیوبندی ذرا سنبھل کر فرماتے ہیں کہ
’’اس بے دینی ‘کم عقلی اور نفس پرستی کے دور میں تقلید شخصی ضروری اور واجب ہے‘‘
( تقلید آئمہ اور مقام ابو حنیفہ ص42)
قارئین کرام جب اس بات کو اچھی طرح آپ سمجھ گئے ہیں، تو اب سوال یہ ہے کہ کیا مقلدین پیش امام کے بارے میں بھی یہی موقف رکھتے ہیں کہ صرف ایک ہی امام کے پیچھے نماز ادا کرنی چاہیے اور اس کی اقتداء سے الگ ہو کر دوسرے کی اقتداء میں نماز ادا کرنا بے دینی و گمراہی ہے‘ اگر دیو بندی یہی موقف رکھتے ہیں کہ صرف ایک ہی امام کی اقتداء میں نماز ادا کرنی چاہیے تو پھر سن لیجیے کہ آپ حضرات سے بڑھ کر دنیا میں کوئی ناخواندہ واجڑ‘ نہیں اگر آپ پیش امام کی اقتداء کے متعلق ایسا نظریہ نہیں رکھتے یقیناً نہیں رکھتے تو پھر یہ تقلید شخصی کی دلیل کیسے ہوئی الغرض یہ دلیل آپ کے دعویٰ پر تقریب نام نہیں۔
ثالثاً:-
حضرت محمد مصطفی صلى الله عليه وسلم نے عبدالرحمن بن عوفؓ کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے
مسلم كتاب الصلاة باب تقديم الجماعة من يصلى بهم اذا تاخذ الامام ‘ الحديث (۲۷۴/۱۰۵)
اس صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ فاضل مفضول کی اقتداء میں نماز ادا کر سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ مجتہد ایک عامی کے پیچھے نماز ادا کر سکتا ہے۔ میرے بھائی جب آپ کے نزدیک اقتداء نماز اور تقلید ایک ہی چیز کا نام ہے تو کیا مجتہد ایک جاہل واجڑ کی بھی تقلید کر سکتا ہے؟
رابعا:-
پیش امام کی اقتداء کا حکم رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا ہے کہ
(انما جعل الامام ليؤتم به ) ( صحیح مسلم ص 177 ج 1 عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ )
یعنی امام اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے‘
مہربانی فرما کر ایسی ہی حدیث آپ بھی پڑھ دیجئے کہ جس کا یہ معنی ہو کہ امام ابو حنیفہ اس لیے پیدا کیے گئے ہیں کہ تم ان کی تقلید کرتے رہو اگر آپ ایسی کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل دکھا دیں تو ہم ماننے کو تیار ہیں‘ اگر نہیں دکھا سکتے تو اس بیمار قیاس کو اپنے پاس ہی رہنے دیں اہل حدیث ایسے فضول تحفوں کو قبول نہیں کرتے۔
خامساً:-
بعض ضعیف احادیث سے ہر فاسق و فاجر کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔
(ابود اور ص 343 ج 1 و دار قطنی ص 56 ج 2 و بیہقی ص 121 ج 3 نصب الرایہ ص 26 ج 2)
یہ روایات ضعیف ہونے کی وجہ سے ہمار ا موقف نہیں مگر حنفیہ اس کے قائل ہیں ، جس کی وضاحت حاشیہ ابوداؤد ص 343 ج 1 نمبر 6 میں مولانا فخر الحسن گنگوہی نے فرمائی ہے‘ ابن ھمام فرماتے ہیں کہ گو یہ روایت منقطع ہے مگر ہمارے نزدیک یہ مقبول اور درجہ حسن کی روایت ہے۔
(فتح القدیر ص 305 ج 1)
الفرض حنفیہ کے نزدیک فاسق و فاجر کی اقتداء جائز ہے۔
(ہدايه مع فتح ص 304 ج 1 و فتاویٰ شامی ص 561 ج 1 و البحر الرائق ص 349 ج او فتاویٰ عالم گیری ص 84 ج 1)
سوال یہ ہے کہ آپ کے نزدیک فاسق و فاجر اور بدعتی کی تقلید بھی جائز ہے ؟ اگر جائز ہے تو مبارک ہو‘ شاید اسی دلیل کے پیش نظر مولانا اشرف علی تھانوی نے ’’احکام اسلام عقل کی نظر میں‘‘ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تقلید کرتے ہوئے اس کی تالیف اسلامی اصول کی فلا سلفی‘ سے احکام کا فلسفہ اخذ کیا‘ بلکہ مرزا قادیانی کی ایک درجن سے زائد کتب میں سے صفحات کے صفحات نقل کئے جس کی تفصیل ہمارے شیخ مولانا محمد یحییٰ گوندلوی حفظہ اللہ نے اپنی ایک نادر تالیف ‘ مطرۃ الحدید‘ میں درج کی ہے‘ اور آپ کے استاذ المکرم مولانا سر فراز خاں صاحب صفدر نے تھانوی صاحب کی اندھی عقیدت ( تقلید) میں تھانوی صاحب کے واسطہ سے مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارات کو عقیدہ حیاۃ النبی ﷺ کے اثبات میں پیش کیا‘ ہم یہاں قارئین کی دلچسپی کے لیے دونوں کی عبارات کو نقل کرتے ہیں۔
مولانا صفدر صاحب کی عبارت:
پس یہ امر کہ ارواح کا قبور کے ساتھ تعلق ہوتا ہے‘ اس چشم سے لینا چاہیے جس کو کسی قدر کشفی آنکھ نے بھی بتلایا ہے کہ اس تودہ خاک سے ارواح کا ایک تعلق ہوتا ہے اور السلام علیکم یا اھل القبور کہنے سے جواب ملتا ہے‘ جو آدمی ان قویٰ سے کام لے جن سے کشف قور ہوتا ہے تو وہ ان تعلقات کو دیکھ سکتا ہے۔ غرض روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضروری ہوتا ہے‘ انسان میت سے کلام کر سکتا ہے۔ ارواح کا تعلق آسمان سے بھی ہوتا ہے‘ جہاں اس کے لیے ایک مقام ملتا ہے‘ اور یہ ایک ایسی مسلم بات ہے کہ ہندوؤں کی کتابوں میں بھی اس کی گواہی موجود ہے۔ پس یہ مسئلہ عام طور پر مسلمہ مسئلہ ہے بجز اس گمراہ فرقے کے جو نفی بقائے روح کرتا ہے۔
( تسکین الصدور ص 98 طبع 1986ء)
مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارت:
تو یہ امر کہ ارواح کا قبور کے ساتھ تعلق ہوتا ہے‘ اس چشم سے دیکھنا چاہیے اور کشفی آنکھ نے بتلایا ہے کہ اس تودہ خاک سے روح کا ایک تعلق ہے اور السلام علیکم یا اہل القبور کہنے سے جواب ملتا ہے‘ پس جو آدمی ان قویٰ سے کام لے جن سے کشف قبور ہو سکتا ہے
(غرض روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرور ہوتا ہے‘ انسان میت سے کلام کر سکتا ہے‘ روح کا تعلق آسمان سے بھی ہوتا ہے جہاں اس کے لیے ایک مقام ملتا ہے میں پھر کہتا ہوں که یه ایک ثابت شدہ صداقت ہے، ہندوؤں کی کتابوں میں بھی اس کی گواہی موجود ہے۔ یہ مسئلہ عام طور پر مسلمہ مسئلہ ہے بجز اس فرقہ کے جو نفی بقائے روح کرتا ہے)۔
(مرزائی اخبار الحکم جلد 3 شماره 3 مؤرخہ 23 جنوری 1899ء ص 2،3 ملفوظات مرزا ص 191 ج 1‘ طبع جدید)
ان دونوں عبارات کو پڑھئیے یہ ‘کا‘ کی‘ کے علاوہ من و عن ہیں۔ حضرت نے نقل بھی اسے عقیدہ کے اثبات میں کیا ہے‘ معلوم یوں ہوتا ہے کہ دیوبندی مکتب فکر میں‘ حیاة النبی صلى الله عليه وسلم کا عقیدہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تقلید سے آیا ہے‘ یہ تمام تقلیدی آفات ہیں جن سے اللہ تعالی ہر مسلمان کو محفوظ رکھے۔ آمین یاالہ العالمین
سادساً:-
باقی رہا غیر مسلم کا جواب تو جب غیر مسلم اعتراض کرے گا تو ہم خود ہی اسے جواب دے لیں گے‘ آپ نے نہ کبھی پہلے اس سلسلہ میں کوئی قابل ذکر خدمت کی ہے اور نہ ہی اب آپ کو تکلیف دی جائے گی‘ یا پھر ان سے وکالت نامہ لے آیئے کہ اس کی ہار ہماری ہار‘ اور اس کی جیت ہماری جیت ہو گی۔ تو پھر دیکھیے کہ آپ کو کیسے لتاڑا جاتا ہے۔