تقلید امام میں اتباع رسول اللہ علی اللہ
فرماتے ہیں کہ امتی کی بات اگر نبی سے ٹکرار ہی ہو تو بات نبی ہی کی مانی جائے گی‘ اگر امتی کی بات پیغمبر سے ٹکرانہ رہی ہو‘ بلکہ ٹکراؤ محض فرض کر لیا جائے تو اس کا علاج آپ خود ہی متعین کرلیں، اس کی وضاحت شاہ ولی اللہؒ نے فرمائی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں
(ما اقتدينا بأمامنا الالعلمنا انه اعلم منا بكتاب الله وسنة رسوله ) (حجة البالغد)
ہم تو اپنے امام کی اقتداء محض اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہم سے زیادہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم کو جانتے ہیں۔
منکرین حدیث نے خالق اور مخلوق کا چکر دے کر حدیث رسولﷺ چھوڑا دی، آپ نے نبی و امتی کا چکر دے کر فقہاء کی فقہ چھوڑ وادی‘ آپ اپنے آپ کو اہل حدیث کہتے ہیں اور منکر حدیث اپنے آپ کے اہل قرآن کہتے ہیں۔ ( تحفہ اہل حدیث ص 23)
الجواب:
اولاً:-
منکرین حدیث کی مشابہت کا تفصیل سے ہم جواب عرض کر چکے ہیں کہ وہ تمہارے ہی اقوال کی روشنی میں معرض وجود میں آئے ہیں، علاوہ ازیں اگر فقہ چھڑوانے سے منکرین حدیث سے تشبیہ ہے تو اس میں ماشاء اللہ آپ بھی شریک ہیں۔ کیونکہ مخالفت احادیث کی صورت میں ترک فقہ حنفیہ کا آپ نے بھی اعتراف کر لیا ہے‘ یہی اہل حدیث کا مؤقف ہے۔
مولانا محمد اسماعیل سلفی مرحوم حسن البیان کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’اس قسم کی سینکڑوں جزئیات مروجہ فقہ کے دفاتر میں موجود ہیں‘ جو عقل و نقل و شعور کے دامن کو بڑے زور سے جھنجھوڑتی ہیں‘ بجز تقلید اور عصبیت کے ان کے قبول کے لیے ذہن آمادہ نہیں ہوتا‘‘۔
ان گزارشات کا یہ مطلب نہیں کہ فقہ حنفیہ کے سارے مسائل سطحی اور عدم احتیاط پر مبنی ہیں بلکہ بعض مقامات میں انتہائی تفقہ اور گہرائی سے کام لیا ہے‘ اور بڑی محتاط روش اختیار فرمائی گئی ہے۔ اس لیے دور اندیش اور محقق علماء کی رائے ہے کہ ان مروجہ مسالک سے کسی مسلک کے ساتھ کلی وابستگی نہیں رکھنی چاہیے ’’ خذ ماصفاء دع ما کدر‘‘ پر عمل ہونا چاہیے۔
(مقدمہ حسن البیان ص 17)
ثانیاً:-
آپ نے ’’حجۃ اللہ البافتہ‘‘ سے جو حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کا کلام نقل کیا ہے‘ اسے ہم نے ’’حجۃ اللہ‘‘ کے متعلقہ مباحث‘ تقلید میں دیکھ لیا ہے، ہمیں نہیں ملا‘ اسے کذب وافترا کہنا تو آپ کی شان میں گستاخی ہو گی غالباً آپ نے کسی رسالہ سے نقل کر دیا ہے اور مراجعت نہیں کی ورنہ یہ غلطی نہ ہوتی، بالغرض اگر اس عبارت کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو خود امام ابو حنیفہ نے اپنے سے اعلم امام مالکؒ کی تقلید کیوں نہ کی‘ امام شافعی کے ساتھ مناظرہ میں امام محمد نے تسلیم کر لیا تھا کہ قرآن وحدیث اور آثار صحابہ کا علم امام مالکؒ کے پاس امام ابو حنیفہ سے زیادہ تھا‘ جس پر امام شافعی رحمہ اللہ نے امام محمد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ
(قال الشافعي فلم يبق الا القياس والقياس لا يكون الاعلى هذه الاشياء فعلی ای شی نقیس )
( تاریخ ابن خلکان ترجمه امام مالک)
امام شافعیؒ نے کہا کہ اب رہ گیا قیاس‘ اور قیاس تو انہیں چیزوں پر ہوتا ہے تو اب کس بات میں دونوں کا مقابلہ کرو گے‘
امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ نے امام شافعیؒ سے اس طرح نقل کیا ہے کہ
(ما بقى بيننا وبينكم الا القياس ، ونحن نقول بالقياس ولكن من كان بالاصول اعلم كان قياسه اصح)
(صحتہ مذہب اہل المدینہ ص 36)
یعنی اب ہمارے اور تمہارے درمیان رہ گئی قیاس، جس کے ہم بھی قائل ہیں ، لیکن جو اصول ( قرآن وحدیث آثار صحابہ ) کو زیادہ جانتا ہو گا اس کی قیاس بھی بہتر ہو گی۔
ثالثاً:-
رہا آپ کا یہ کہنا کہ ٹکراؤ محض فرض کر لیا جائے الخ اس عبارت سے غالباً آپ یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ فقہ حنفی کے جس قدر قرآن وحدیث کے خلاف مسائل ہیں وہ صرف فرضی داستان ہے حالانکہ یہ کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ آئمہ اربعہ میں سے سب سے زیادہ قرآن و سنت کی مخالفت فقہ حنفی میں پائی جاتی ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد فرماتے ہیں کہ
’’نا قابل انکار دلائل سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ فقہ حنفی جس قدر اسرار شریعت کے خلاف ہے کوئی فقہ نہیں‘‘۔
(حواشی ابو الکلام آزاد ص 275)
یہ اس شخص کی گواہی ہے جس کو دیو بندی حنفی قرار دیتے ہیں۔
( قادیانی بٹالوی گٹھ جوڑ ص 81)
خود حضرت امام کے شاگردوں نے ایک ثلث مسائل میں ان سے اختلاف کیا ہے‘ جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ تو کیا یہ ساری فرضی داستانیں ہیں، علاوہ ازیں راقم الحروف نے آگے ایک مستقل باب باندھا ہے، حنفی فقہ کے مفتی بہ اقوال نقل کیے ہیں‘ اگر آپ میں ہمت ہے تو ہر ہر مسئلہ کو قرآن و سنت سے ثابت کیجیے ورنہ ارباب عقل و خرد آپ کے اس دعویٰ کو محض دیوانہ بیکار خویش ہشیار تصور کریں گے۔