مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

تعویذ کا حکم

فونٹ سائز:
تالیف: ڈاکٹر رضا عبداللہ پاشا حفظ اللہ

212۔ اسلام میں تمیمہ ( تعویذ) کا کیا حکم ہے ؟
جواب :
تعویذ جائز نہیں۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
من عقد عقدة ثم نفث فيها فقد سحر، ومن سحر فقد أشترك، ومن تعلق شيئا وكل إليه
”جس نے کوئی گرہ لگائی، پھر اس میں پھونک لگائی، تحقیق اس نے جادو کیا اور جس نے جادو کیا، اس نے شرک کیا اور جس نے کوئی چیز لٹکائی تو وہ اسی کے سپرد کر دیا گیا۔ “ امام نسائی 112/7 نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے اسے ضعیف کہا ہے۔ ديكهيں: [ضعيف الترغيب والترهيب، رقم الحديث 1788 ]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔