◈مدونہ کبری کی ایک روایت
سابقہ صفحات پر گزر چکا ہے کہ امام مالک بن انس رحمہ الله سے عند الرکوع و بعدہ کے رفع الیدین کی روایت کا اثبات تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔ [دیکھئے ص 68]
بعض لوگوں نے اس کے خلاف ”المدونة الكبري“ کی ایک روایت پیش کی ہے۔
عن ابن وهب وابن القاسم عن مالك عن ابن شهاب عن سالم عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه حذو منكبيه إذا افتتح الصلوة
سیدنا عبد الله بن عمر رضی الله فرماتے ہیں کہ (سیدنا) رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کندھوں تک رفع یدین کرتے تھے۔ (المدونۃ الکبریٰ ج1 ص 71 بحوالہ معارف السنن ج 2 ص 297 محمد یوسف بنوری کوثری دیوبندی، نور الصباح فی ترک رفع الیدین بعد الافتتاح ص 60 61)
اس روایت کو کسی قابل اعتماد محدث نے رفع الیدین کے خلاف پیش نہیں کیا اور نہ کوئی عقل مند سے پیش کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ استدلال کئی وجہ سے مردود ہے:
① یہ حدیث مختصر ہے۔ اس میں رکوع سے پہلے اور بعد کے رفع الیدین کا ذکر نہیں اور عدم ذکر نفی ذکر کے لیے مستلزم نہیں ہوتا، جیسا کہ گزر چکا ہے۔
② امام مالک سے رفع الیدین کی روایت متواتر ہے۔
③ ابن وہب عن مالک عن ابن شہاب الزہری والی روایت السنن الکبری (69/2) میں موجود ہے۔ اس میں رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع الیدین کا اثبات ہے۔
ابن وہب تک بیہقی کی سند بالکل صحیح ہے۔
④ ابن القاسم کی روایت میں بھی عند الرکوع و بعدہ رفع الیدین کا اثبات ہے (التمہید 210/9 ،211 معلقاً) ابن القاسم کی روایت موطا امام مالک (روایت ابن القاسم) میں بھی موجود ہے۔ (ص 113 ح 59)
⑤ امام ابن شہاب الزہری سے رفع الیدین کے اثبات کی روایات متواتر ہیں (کما تقدم) لہذا اس ”عدم ذکر“ والی روایت سے دلیل پکڑ نا باطل ہے۔
⑥ بذات خود کتاب مدد نہ کبری کی سند اور توشیق محلِ نظر ہے۔
المدونة الكبرى امام مالک کی کتاب نہیں ہے۔ صاحب مدونہ ”سحنون“ ایک متصل سند نا معلوم ہے لہذا یہ ساری کتاب بے سند ہوئی۔ ایک مشہور عالم ابو عثمان سعید بن محمد بن صبیح بن الحداد المغربی (صاحب مسنون) جو کہ مجتہدین میں سے تھے۔ [سیر اعلام النبلا 14/ 205] انھوں نے مدونہ کے رد میں ایک کتاب لکھی ہے۔ (ایضا ص 206)
وہ مددنہ کو ”مدوّدہ“ (کیڑوں والی کتاب) کہتے تھے۔ [العمر في خبر من غیر 122/2]
الشیخ ابو عثمان اہلسنت کے اماموں میں سے تھے۔ آپ 302ھ میں فوت ہوئے۔ رحمہ الله اس بے سند کتاب کے دوسرے مسئلے بھی دیوبندی حضرات نہیں مانتے، مثلاً ج 1 ص 68 پر لکھا ہوا ہے:
⋆ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سرا بھی نہیں پڑھنی چاہیے۔
⋆ بقول المدونۃ الکبری: امام مالک کے نزدیک نماز میں ہاتھ باندھنا مکروہ ہے۔ [ج 1 ص 76]
ان مسائل کے بارے میں کیا خیال ہے؟