ترک رفع یدین اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب اثر

عن أبى بكر النهشلي ثنا عاصم بن كليب عن أبيه أن عليا رضى الله عنه كان يرفع يديه فى أول تكبيرة من الصلوة ثم لا يعود
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نماز میں پہلی تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے تھے پھر نہیں کرتے تھے۔ [معانی الآثار للطحاوی 225/1، نصب الرایۃ 406/1]
اس کا پہلا جواب یہ ہے:
① مروی ہے کہ سفیان ثوری نے اس اثر کا انکار کیا ہے۔ [جزء رفع الیدین البخاری: 11]
② امام عثمان بن سعید الدارمی نے اس کو واہی (کمزور) کہا۔ [السنن الکبری للبیہقی 80،81/2، معرفة السنن والآثار 1/550]
③ امام شافعی نے اسے غیر ثابت کہا۔ [سنن الکبری للبیہقی 81/2]
④ امام احمد نے گویا اس کا انکار کیا ہے۔ [المسائل لاحمد ج 1 ص 343]
⑤ امام بخاری نے جرح کی۔ [جزء رفع الیدین: 11]
⑥ ابن الملقن نے اسے ضعيف لا يصح عنه کہا۔ [البدر المنیر 499/3]
یعنی جمہور محدثین کے نزدیک یہ اثر ضعیف و غیر ثابت ہے لہذا اس سے استدلال مردود ہے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ اس روایت میں رکوع کا ذکر نہیں ہے، یعنی یہ عام ہے اور رفع الیدین رکوع والی روایات (من جملہ حدیث علی رضی اللہ عنہ) خاص ہیں اور یہ اصول ہے کہ خاص عام پر مقدم ہوتا ہے۔ ورنہ پھر منکرین رفع الیدین قنوت اور عیدین میں کیوں رفع الیدین کرتے ہیں؟ نیز دیکھیے یہ مضمون حضرت علیؓ بھی رفع یدین کیا کرتے تھے