مسنون تراویح مع وتر گیارہ رکعات ہیں

یہ اقتباس محدث العصر شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے۔

مسنون تراویح مع وتر گیارہ رکعات ہیں :۔

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي فيما بين أن يفرغ من صلاة العشاء، وهى التى يدعو الناس العتمة إلى الفجر إحدى عشرة ركعة يسلم بين كل ركعتين ويوتر بواحدة
(صحیح مسلم : 254/1 ح 736)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد صبح تک گیارہ رکعات پڑھتے تھے اور ہر دو رکعات پر سلام پھیرتے تھے اور ایک وتر پڑھتے تھے۔ عشاء کی نماز کو لوگ ”عتمہ“ بھی کہتے ہیں۔
ابوسلمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان میں رات کی نماز تراویح کیسی ہوتی تھی؟ تو ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا :
ما كان يزيد فى رمضان ولا فى غيره على إحدى عشرة ركعة
(صحیح بخاری : 269/1 عمدۃ القاری : 128/11، کتاب الصوم، کتاب التراویح ، باب فضل من قام رمضان)
رمضان ہو یا غیر رمضان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فى رمضان ثمان ركعات والوتر
(صحیح ابن خزیمہ 138/2 ح 1070، صحیح ابن حبان : 2406)
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں نماز پڑھائی ،آپ نے آٹھ رکعات اور وتر پڑھے۔
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : میں نے رمضان میں آٹھ رکعات اور وتر پڑھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ بھی نہیں فرمایا۔ پس یہ رضامندی والی سنت بن گئی۔ (مسند ابی یعلی : 336/3 ح 1801)
نورالدین ہیثمی رحمہ اللہ (متوفی 807ھ) نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا : إسناده حسناس کی سند اچھی ہے۔ (مجمع الزوائد : 74/2)
سیدنا الامام امیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو رمضان میں رات کے وقت گیارہ رکعات پڑھائیں۔ (موطا امام مالک : ص 98 ح 249)
اس اثر کو متعدد علماء نے صحیح قرار دیا ہے۔ محمد بن علی النیموی رحمہ اللہ (متوفی 1322ھ) اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں : وإسناده صحيحاس کی سند صحیح ہے۔ (آثار السنن : ص 250)
مصنف ابن ابی شیبہ (متوفی 235ھ) میں ہے کہ :
إن عمر جمع الناس على أبى و تميم فكانا يصليان إحدى عشرة ركعة
بے شک عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور تمیم الداری رضی اللہ عنہ پر جمع کیا ، پس وہ دونوں گیارہ رکعات پڑھاتے تھے۔
اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے اور اسے عمر بن شبہ رحمہ اللہ (متوفی 262ھ) نے بھی ”تاریخ المدینہ“ (713/2) میں روایت کیا ہے۔
سیدنا السائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
كنا نقوم فى زمان عمر بن الخطاب رضى الله عنه بإحدى عشرة ركعة
(سنن سعید بن منصور بحوالہ الحاوی للفتاوی : 1/ 349، حاشیہ آثار السنن 250)
ہم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں گیارہ رکعات پڑھتے تھے۔
اس روایت کے بارے میں علامہ جلال الدین السیوطی رحمہ اللہ (متوفی 911ھ) نے فرمایا : بسند فى غاية الصحة یعنی یہ بہت زیادہ صحیح سند کے ساتھ ہے۔ (المصابيح في صلاة التراويح للسيوطی : ص 15، الحاوی للفتاوی 350/1)

سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إنه من قام مع الإمام حتى ينصرف كتب له قيام ليلة
(جامع ترمذی : ج 1 ص 162 ح 802)
بیشک جو شخص امام کے ساتھ قیام کرتا ہے حتی کہ وہ فارغ ہو جائے تو اس کے نامہ اعمال میں ساری رات کے قیام کا ثواب لکھا جاتا ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا : هذا حديث حسن صحيح یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ہمارے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیس رکعات تراویح قطعا ثابت نہیں ہیں۔
انور شاہ کشمیری دیوبندی (متوفی 1352ھ) فرماتے ہیں :
ولا مناص من تسليم أن تراويحه عليه السلام كانت ثمانية ركعات ولم يثبت فى رواية من الروايات أنه عليه السلام صلى التراويح والتهجد عليحدة فى رمضان
اور اس بات کے تسلیم کرنے سے کوئی چھٹکارا نہیں ہے کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تراویح آٹھ رکعات تھی اور کسی ایک روایت میں بھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں تراویح اور تہجد علیحدہ علیحدہ پڑھے ہوں۔
اور فرمایا :
وأما النبى صلى الله عليه وسلم فصح عنه ثمان ركعات وأما عشرون ركعة فهو عنه عليه السلام بسند ضعيف وعلى ضعفه اتفاق
(العرف الشذی : 166/1)
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آٹھ رکعات صحیح ثابت ہیں اور بیس رکعات والی جو روایت ہے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضعیف سند کے ساتھ مروی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔
خلیفہ راشد سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے بیس رکعات تراویح باسند صحیح متصل قطعاً ثابت نہیں ہیں۔ مخالفین جو کچھ پیش کرتے ہیں وہ یا تو منقطع ہے یا اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول فعلا یا تقریرا ذکر ہی نہیں ہے، لہذا ایسی ضعیف و غیر متعلق روایات اور نا معلوم لوگوں کے سخت اختلافی عمل کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صحیح متصل اور ثابت حکم گیارہ رکعات کے خلاف پیش کرنا انتہائی ناپسندیدہ حرکت ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️

تراویح آٹھ اور وتر ایک: سنتِ رسول ﷺ