تحریک اہل حدیث کا اصل قصور: حقیقت یا پروپیگنڈا؟

فونٹ سائز:
یہ تحریرمولانا ابو صحیب داؤد ارشد حفظہ اللہ کی کتاب تحفہ حنفیہ سے ماخوذ ہے۔ یہ کتاب دیوبندی عالم دین ابو بلال جھنگوی کیجانب سے لکھی گئی کتاب تحفہ اہلحدیث کا مدلل جواب ہے۔

تحریک اہل حدیث کا اصل قصور

ہمارے مخالفین ، ہمیں وہابی‘ غیر مقلد‘ لا مذ ہب‘ خارجی، حشوی، شیعہ کے مینی بھائی وغیرہ القاب سے نوازتے ہیں‘ تانیب الخطیب ص 21 وار شاد الشیعه ص 149 و فتح المبین ص 442 ص 455 و ص 453 و غیره
اس پرو پیگنڈا کو اس قدر ہوادی گئی ہے کہ آج غیر مقلد وہابی و غیر ہ کا لفظ ایک گالی بن کر رہ گیا ہے آخر ہم لوگوں نے ان کا کیا بگاڑا ہے۔ کسی جائداد پر قبضہ کیا ہے یا عزت نفس مجروح کی ہے؟ نہیں ہر گز نہیں، تو پھر ہمارے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں کیا جارہا ہے، حالانکہ تعلیم قرآن ہے کہ
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ (الانعام: 108)
یعنی مشرکین کے معبودان باطلہ کو گالیاں مت دو۔
قابل غور بات ہے کہ کیا ہمارا اتنا ہی نا قابل معافی جرم ہے کہ ہمیں چڑانے کے لیے برے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے، بعض فرقہ ضالہ کی طرف ہماری نسبت کی جاتی ہے‘ خشیت الہی کو بالائے طاق رکھ کر ہماری طرف وہ چیزیں منسوب کی جاتی ہیں، جن کو ہم بھی کفر و گمراہی سمجھتے ہیں، بزرگوں کے گستاخ آئمہ دین کی توہین کرنے والے تو ہمیں عام کہا جاتا ہے‘ حالانکہ ہم بر ملا کہہ رہے ہیں کہ ہم امت مرحومہ میں سے کسی بھی بزرگ کی شان میں گستاخی کرنے والے نہیں، جن ناموں سے آپ ہمیں مخاطب کرتے ہیں ان کے ساتھ ہمارا سرے سے کوئی مذ ہبی رشتہ و تعلق ہی نہیں‘ مگر ان لوگوں کو ہماری قسمیں جھوٹی دکھائی دیتی ہیں‘ نمازیں ریا معلوم ہوتی ہیں، اتباع سنت کا جذ بہ ان کو نمائش معلوم ہوتا ہے، قرآن و سنت کی خدمت کو یہ لوگ ہوائے نفس کا نام دیتے ہیں۔
خاکسار راقم الحروف نے متعدد بار غور کیا کہ آخر ہمارا جرم کیا ہے ؟ جس کی اتنی سنگین سزا ہمیں سنائی جارہی ہے۔ بھائیو جہاں تک میری عقل و فکر نے کام کیا تو مجھے یہ قصور نظر آیا کہ ہم نے تقلید کی بجائے اتباع رسول کو اوڑھنا بچھونا بنایا‘ ہدایہ کی بجائے قرآن کی طرف بلایا، کنز قدوری کی بجائے احادیث رسول پڑھنے کے لیے لوگوں کو تحفہ دیا‘ تراجم فقہ کی بجائے قرآن وحدیث کے تراجم کیے۔ انگریز کی غلامی کی بجائے جہاد فی سبیل اللہ کو فروغ دیا‘ ملک میں فتاوی عالم گیری کی بجائے قرآن و سنت کے نفاذ کا مطالبہ کیا‘ بدعات کی بجائے سنت کی آبیاری کی شرک کی بجائے تو حید کا درس دیا۔ یہی قصور ان لوگوں کی نگاہ میں ناقابل معافی جرم بن گیا، جیسے ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو صابی کہا گیا‘ اسی طرح ہمیں لامذہب کا لقب دیا گیا۔ جیسے آپ علیہ السلام کو مذمم کہا گیا‘ ویسے ہی ہمیں مال کا لقب دیا گیا‘ جیسے آنحضرت ﷺ کو توحید کے درس پر معبودان باطلہ کا گستاخ کہا گیا ویسے ہی ہمیں درس توحید پر اولیاء کا گستاخ قرار دیا گیا۔ جیسے صحابہ کرام کو اتباع رسول کی وجہ سے سفہاء کہا گیا (سورہ البقرہ:13) اسی طرح ہمیں بھی غیر فقہی کہا گیا‘ جیسے صحابہ کرام کو اسوہ رسول کی پیروی کی وجہ سے صابی(شتر بے مہار) کہا گیا اسی طرح اتباع رسول کی وجہ سے ہمیں آوارہ (غیر مقلد کا لفظ انہیں معنوں میں یہ لوگ استعمال کرتے ہیں) کہا گیا، افسوس صد افسوس کہ اگر عامی کو ہدا یہ پڑھنے کے لیے دیا جائے تو وہ راہ ہدایت پر رہے گا اگر قرآن اور بخاری دی جائے تو ضال گمر اہ اور آوارہ ہو جائے گا اس زیادتی کی کوئی انتہا ہے۔
مگر کان کھول کر سن لو ان فتاویٰ کی اللہ کے ہاں پر کاہ کی بھی حیثیت نہیں‘ دین تمہارے امام اور فقہاء کا نہیں‘ اللہ اور اس کے رسول کا ہے ، ہمیں خوشی ہے کہ ہمیں ہمارے آقا کی طرح سب کچھ سننا پڑا اور ہم نے صبر کیا اللہ تعالیٰ ہمارے اسلاف اور ہمارے لئے ان چیزوں کو توشہ آخرت اور کفارہ سیات بنائے‘ اور اس عمل حسنہ کے وسیلہ سے ہمیں اپنے پیارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ صلى الله عليه وسلم کی شفاعت اور جنت میں رفاقت نصیب فرمائے‘ اور ان لوگوں کو ہدایت عطاء فرمائے۔ آمین یا رب العلمین خیر ان لوگوں کی ایسی حرکات سے علماء حق بد دل نہ ہوئے‘ اور اپنے مشن کو جاری رکھا، جس کے نتیجہ میں جلد ہی تقلید وغیرہ مسائل اہل علم کی محفل سے نکل کر عوامی بن گئے‘ اور فقہ حنفی کے بعض غلط اور قرآن و سنت کے خلاف فتاویٰ کا مذاق اڑایا جانے لگا‘ حنفیہ نے اپنے انداز فکر پر غور کیا اور اہل حدیث کو مطعون کرنے کے لیے نصوص پر حرف گیری اور تاویل و تحریف کا راستہ اختیار کیا‘ ان لوگوں میں سے بعض نام کے علامہ و فہامہ اور مناظرین نے سنت رسول پر مذاق کرنا اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا‘ ہمارے معاصر نے بھی‘ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا دوران نماز بچے کو اٹھانا‘ نماز میں کنڈی کھولنے کی احادیث کا مذاق اڑایا ہے۔
(دیکھیے تحفہ اہل حدیث ص 10)
اہل حدیث کی عداوت میں بخاری و مسلم کی روایات پر اعتراض ہوا‘ تو کبھی حجیت حدیث پر حرف گیری کی گئی‘ تو کبھی تدوین حدیث کے نام سے حدیث میں شکوک و شبہات پیش کیے‘ جب یہ اعتراضات مارکیٹ میں آئے جہلاء اور بابو ٹائپ لوگوں کو ان اعتراضات میں معقولیت نظر آئی‘ جس کا نتیجہ واضح تھا کہ انہوں نے سرے سے حجیت حدیث سے ہی انکار کر دیا‘ اور ملت اسلامیہ کے اجتماعی موقف کے بر عکس اطاعت رسول کا ہی انکار کر دیا۔

مؤلف تحفہ اہل حدیث کو کھلا چیلنج

ہماری طرف سے ابو بلال کو کھلا چیلنج ہے کہ وہ ہمارے اس مؤقف کی دلائل سے تردید کرے اور کم از کم منکرین حدیث کے دس ایسے اعتراضات کی نشان دہی کرے جس کے موجد فقط منکرین حدیث ہوں اور ان اعتراضات کو اہل حدیث کی عداوت میں علماء احناف نے ان سے پہلے ہم پر نہ کیے ہوں‘ مگر یاد رہے کہ دس تو کجا ان کا نصف بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا، راقم یہ بات پورے وثوق سے کہتا ہے کہ اگر کسی حنفی یا ابو بلال نے بزعم خود ایسے اعتراضات کی نشان دہی کی تو یہ خاکسار دلائل سے ثابت کر دے گا کہ ان کے موجد اور علمی مواد فراہم کرنے والے بر صغیر کے حنفی مولوی ہیں‘ ان شا الرحمٰن
یہاں سے ان لوگوں کے زہد و تقویٰ اور پارسی کا بھی پتہ لگ گیا کہ ان میں خشیت الٰہی ہوتی تو مشترک چیز ( قرآن و حدیث) پر اعتراض نہ کرتے بلکہ متنازع فیہ تقلید اور فقہ حنفی کا د فارع ہی کرتے‘ مگر ان لوگوں نے ہماری عداوت اور بغض میں حلال و حرام کا فرق ہی نہ رکھا سب کو ہی رگڑد یا‘ اناللہ وانا الیہ راجعون