تاخیر سے قضا روزوں کی ضوابط و مسائل

تحریر: قاری اسامہ بن عبدالسلام حفظہ اللہ

سوال :

جو شخص رمضان کا کوئی صوم کسی عذر کی بنا پر چھوڑ دے اور دوسرے رمضان کی آمد تک اس کی قضا نہ کرے اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب :

اگر کوئی شخص چھوٹے ہوئے صوم کی قضا کو عذر جیسے بیماری وغیرہ کی بنا پر مؤخر کر دے تو قدرت پانے کے وقت اس پر صرف قضا ہے۔ لیکن اگر بغیر کسی عذر کے قضا میں تاخیر کرے تو اس کا یہ عمل غلط ہے اور اس پر قضا کے ساتھ ہر دن کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا بھی ضروری ہے۔سوال : ایک شخص نے رمضان 92 ھ میں ایک دن صوم نہیں رکھا اور رمضان 93ھ کے آنے تک اس دن کی قضا نہیں کی، اس کا کیاحکم ہے ؟
جواب : جب انسان رمضان کے ایک دن یا کئی دنوں کے صوم کی قضا میں غفلت و لاپروائی برتے اور دوسرے رمضان کے آنے تک اس کی قضا نہ کرے، تو اسے فوت شدہ صوم یا صیام کی قضا کے ساتھ ہر دن کے بدلہ ایک مسکین کو آدھ صاع (سوا کلو تقریباً) گیہوں یا اس جیسی کوئی دوسری چیز جو عام طور پر اس کے ملک میں کھائی جاتی ہے کھلانا چاہیے۔ یہ اس صورت میں ہے جب کہ قضا کو مؤخر کرنے کا کوئی معقول عذر نہ ہو، اور اگر کسی عذر جیسے بیماری یا ایسی کمزوری جس کی بنا پر قضاء صوم پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے قضا میں تاخیر کرے تو کھانا کھلانا ضروری نہیں ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے