مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بیوی کا دودھ پینے پر حرمت کا حکم

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

بیوی کا دودھ پینے کا حکم

سوال:

میں نے اپنے چچا کے بیٹے سے شادی کی، میں اس سے محبت کرتی ہوں اور وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ ہماری شادی کو ابھی چھ مہینے گزرے ہیں۔ جب بھی میں سونے لگتی ہوں تو وہ بچے کی طرح میرا دودھ چوسنے لگتا ہے، میں اس کو کہتی ہوں یہ عیب ناک کام ہے، مگر وہ باز نہیں آتا اور میں اس کے اس فعل پر اس کو زیادہ تنگ کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتی۔

جواب:

ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ میاں بیوی میں سے ہر ایک کے لیے دوسرے سے لطف اندوز ہونا جائز ہے بشرطیکہ وہ لطف اندوزی ایسی نہ ہو کہ جس کواللہ نے حرام کیا ہے مثلاًً دبر (پچھلی شرمگاہ) میں جماع کرنا، حیض اور نفاس میں جماع کرنا، ایسی عبادت (روزہ اور حج وغیرہ) میں جماع کرنا جس میں جماع کرنا حرام ہے، ظہار میں کفارہ دینے سے پہلے جماع کرنا اور اس قسم کی دیگر حالتوں میں، جو اہل علم کے ہاں مشہور ہیں، جماع کے حرام ہونے کی وجہ سے میاں بیوی پر ان حالتوں میں جماع کرنے میں حرج ہو گا۔ [محمد بن صالح العثمین رحمہ اللہ]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔