مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بیوی سے لطف اندوز ہونے کی حدود

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال:

خاوند کے اپنی بیوی کے تمام بدن سے لطف اندوز ہونے کی حدود میں کیا ضابطہ ہے؟

جواب:

اس میں ضابطہ یہ ہے کہ وہ عورت کی دبر (پچھلی شرمگاہ) میں جماع نہیں کرے اور نہ ہی حالت حیض و نفاس اور جماع سے تکلیف محسوس کرنے کی حالت میں اس کی قبل (اگلی شرمگاہ) میں جماع کرے، بس یہی ضابطہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
«وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ‎ ﴿٥﴾ ‏ إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ‎ ﴿٦﴾ ‏ فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ» [23-المؤمنون: 5]
اور وہی جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، مگر اپنی بیویوں، یا ان (عورتوں) پر جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں تو بلاشبہ وہ ملامت کیے ہوئے نہیں ہیں۔ پھر جو اس کے سوا تلاش کرے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔“
[محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔