مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بچی کے ساتھ شفقت اور کھیلنے کی اجازت کا واقعہ

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

«باب من ترك صبية تلعب»
بچی کو اپنے ساتھ کھیلنے دے

«عن ام خالد بنت خالد بن سعيد، قالت: اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم مع ابي وعلي قميص اصفر، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” سنه سنه، قال عبد الله: وهى بالحبشية حسنة، قالت: فذهبت العب بخاتم النبوة فزبرني ابي، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: دعها، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ابلي واخلقي ثم ابلي واخلقي ثم ابلي واخلقي، قال عبد الله: فبقيت حتى ذكر، يعني من بقائها.» [صحيح: رواه البخاري 1993]
حضرت ام خالد بنت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتی ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور میں نے زر در نگ کی قمیص زیب تن کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنہ سنہ۔ عبد اللہ کہتے ہیں بہ حبشی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے بہت خوب۔ ام خالد کہتی ہیں کہ میں مہر نبوت کے ساتھ کھیلے گی۔ میرے والد نے مجھے ڈانٹا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کھیلنے دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جیتی رہو، الله تمھاری عمر دراز کرے۔ تم جگ جگ جیو۔ راوی حدیث عبد اللہ نے بیان کیا، انہوں نے بہت لمی عمر پائی اور ان کی لمبی عمر کے چرچے ہونے لگے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔