مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بچوں کی تربیت کی غرض سے مانع حمل گولیوں کا استعمال

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال :

شریعت عورت کے لیے چھوٹے بچوں کی تربیت کی خاطر مانع حمل گولیوں کا استعمال کب جائز قرار دیتی ہے ؟

جواب :

مانع حمل گولیوں کا استعمال جائز نہیں ہے ، الا یہ کہ کوئی انتہائی مجبوری ہو ، اور وہ یہ کہ ڈاکڑ لوگ اس خدشہ کا اظہار کریں کہ حمل عورت کی موت کا سبب بنے گا ، رہا حمل میں وقفہ ڈالنے کے لیے مانع حمل گولیوں کا استعمال کرنا اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، جب عورت اس کی ضرورت محسوں کرے ، خصوصاًً جب عورت کی صحت پے در پے تھوڑے تھوڑے وقفوں سے حمل برداشت کرنے کی متحمل نہ ہو ، یا نیاحمل عورت کے اس بچے کے لیے ضرر رساں ہو جس کو وہ دودھ پلا رہی ہو اور گولیاں حمل کے ٹھہرنے کو مستقل طور پر ختم نہ کرتی ہوں ، بلکہ صرف اس میں وقفہ ڈالتی ہوں تو بقدر حاجت وضرورت ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اسپیشلسٹ ڈاکٹر کے مشورہ سے ایسا کیا جائے ۔

(صالح بن فوزان بن عبداللہ حفظہ اللہ)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔