مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بلی کا جھوٹا نجس یا پاک؟ حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا بلی کا جھوٹا پاک ہے، اس کے بارے شریعت میں کیا حکم ہے؟

جواب :

بلی کا جھوٹا نجس نہیں ہوتا، کیونکہ بلی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: یہ نجس نہیں ہے، یہ تم پر گھومنے والوں اور گھومنے والیوں میں سے ہے۔
(موطا امام مالک 17/1 ح 13، مسند احمد 303/5 ح 22990، ابن حبان ح 1299، ترمذی ح 92)
لہذا بلی اگر برتن میں منہ ڈال دے تو وہ چیز پلید نہیں ہوگی، اسے بلا خطر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔