مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بدل جانے والی کرنسی میں قرض ادا کرنا

فونٹ سائز:
تحریر : فتاویٰ سعودی فتویٰ کمیٹی

ایسی کرنسی میں قرض ادا کرنا جو بدل چکی ہو
فقہاء کرام نے ذکر کیا ہے کہ حاکم اگر کسی سکے کا لین دین منع کر دے اور قرض دار اس کو وہ سکے واپس کرے تو قرض خواہ کے لیے انہیں قبول کرنا لازمی نہیں ہوتا کیونکہ یہ سکہ عیب ناک کرنسی کے مانند ہو چکا ہے، لہٰذا قرض دینے والا اپنے قرض کی قیمت کے مطابق دوسرے غیر تبدیل شدہ سکوں میں اپنا قرض وصول کرے گا، اگر وہ سونے کے سکے ہوں تو قرض کے وقت کی قیمت کے برابر قیمت ادا کرے گا۔ واللہ اعلم
[عبد الله بن عقيل: فتاوي: 280]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔