بدعت کے 17 اسباب قرآن و حدیث کی روشنی میں

یہ تحریر محترم ابوحمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب اسلام مصطفٰی علیہ الصلاۃ والسلام سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

بدعت کے اسباب:

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان حفظہ اللہ اپنی کتاب بنام ”بدعت“ میں اسباب بدعت بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

(1) دینی احکام سے لا علمی و جہالت:

جوں جوں زمانہ گزرتا گیا اور لوگ آثار رسالت سے دور ہوتے گئے، علم کم ہوتا رہا اور جہالت عام ہوتی گئی جیسا کہ اس کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس حدیث میں دی ہے:
”تم میں سے زندہ رہنے والا شخص بہت سارے اختلافات دیکھے گا۔ “
اور اپنے اس فرمان میں بھی:
”کہ اللہ تعالیٰ علم بندوں سے چھین کر نہیں ختم کرے گا بلکہ علماء کو ختم کر کے علم ختم کرے گا، یہاں تک کہ جب کسی عالم کو زندہ نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو رؤسا بنا لیں گے اور یہ لوگ مسئلہ پوچھے جانے پر بغیر علم کے فتویٰ دیں گے تو خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے ۔“
تو علم اور علماء ہی بدعت کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں اور جب علم و علماء ہی کا فقدان ہو جائے تو بدعت کے پھلنے پھولنے اور بدعتیوں کے سرگرم ہونے کے مواقع میسر ہو جاتے ہیں۔

(2) خواہشات کی پیروی:

جو کتاب وسنت سے اعتراض کرے گا وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرے گا، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ فَاعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَاءَهُمْ ۚ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللَّهِ﴾
[القصص: 50]
”اگر یہ تیری نہ مانیں تو تو یقین کرلے کہ یہ صرف اپنی خواہش کی پیروی کر رہے ہیں اور اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہے؟ جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا بغیر اللہ کی رہنمائی کے۔ “
اور فرمایا:
﴿أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّهِ﴾
[الجاثية: 23]
”کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور با وجود سمجھ بوجھ کے اللہ نے اسے گمراہ کر دیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی ہے اور اس کی آنکھ پر بھی پردہ ڈال دیا ہے، اب ایسے شخص کو اللہ کے بعد کون ہدایت دے سکتا ہے۔“
اور یہ بدعتیں خواہشات کی پیداوار ہیں۔

(3) مخصوص لوگوں کی رائے کے لیے تعصب برتنا:

کسی کے رائے کی طرف داری کرنا یہ انسان اور دلیل کی پیروی و معرفت حق کے درمیان بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا﴾
[البقرة: 170]
”اور ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ “
اور آج کل یہی حالت متعصبین کی ہے خواہ ومذہب وصوفیت کے بعض پیروکار ہوں یا قبوری حضرات جب انھیں کتاب وسنت کی پیروی اور ان دونوں کی مخالف چیزوں کو چھوڑنے کو کہا جاتا ہے تو یہ حضرات اپنے مذاہب، مشائخ اور آباؤ اجداد کو دلیل بناتے اور بطور حجت
پیش کرتے ہیں ۔

(4) کافروں سے مشابہت اختیار کرنا:

کافروں سے مشابہت سب سے زیادہ بدعتوں میں مبتلا کرنے والی چیزوں میں سے ہے جیسا کہ ابو واقد اللیثی کی حدیث میں ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کی طرف نکلے اور ہمارے کفر کا زمانہ ابھی قریب ہی تھا، مشرکوں کے لیے ایک بیری کا درخت تھا جہاں یہ لوگ ٹھہرتے تھے اور جس کے ساتھ اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے، جسے ذات انواط کہا جاتا تھا تو ہمارا گزر بیری کے پاس سے ہوا، ہم لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہمارے لیے بھی ذات انواط بنا دیجیے جیسا کہ ان کے لیے ذات انواط ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب کرتے ہوئے فرمایا: ”اللہ اکبر“ ، یہی سنتیں ہیں ، کہا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم لوگوں نے ویسے ہی کہا ہے جیسے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا:
﴿اجْعَل لَّنَا إِلَٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ ۚ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ﴾
[الأعراف: 138]
”ہمارے لیے بھی ایک ایسا معبود مقرر کر دیجیے جیسے ان کے یہ معبود ہیں، آپ نے فرمایا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔“
اس حدیث میں واضح بیان ہے کہ کفار کی مشابہت ہی نے بنی اسرائیل اور بعض صحابہ کو اس بات پر ابھارا کہ وہ اپنے نبی سے ایسا غلط مطالبہ کریں کہ وہ ان کے لیے اللہ کو چھوڑ کر ایک ایسا معبود مقرر کر دیں جس کی وہ پرستش کریں اور اس سے تبرک حاصل کریں۔
اور یہی آج حقیقت میں ہو رہا ہے اس لیے کہ اکثر مسلمانوں نے شرک و بدعت کے ارتکاب میں کافروں کی روش اپنائی ہوئی ہے جیسے برتھ ڈے منانا ، مخصوص اعمال کے لیے دنوں اور ہفتوں کی تعین، یادگاری چیزوں اور دینی مناسبتوں سے جلسے جلوس منعقد کرنا، یادگاری تصویریں و مجسمے قائم کرنا، ماتم کی محفلیں منعقد کرنا ، جنازے کی بدعتیں اور قبروں پر تعمیر وغیرہ۔

(5) آباؤ اجداد کی اندھی تقلید:

بدعت کے اسباب میں سے تقلید آباء بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۗ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ﴾
[البقرة: 170]
”اور جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ نے جو نازل فرمایا ہے اس کی اتباع کرو ، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اس کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء کو پایا، تو کیا اگرچہ ان کے آباء کچھ نہ سمجھتے ہوں اور نہ راہِ راست پر ہوں (اُنھی کی اتباع کریں گے؟ )۔“
اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں بغیر حجت و برهان آباء و اجداد کی اتباع سے روکا ہے جو در حقیقت شیطان ہی کی اتباع ہے۔
اس آیت میں اس بات پر سخت نکیر کی گئی ہے کہ صریح قرآن اور صحیح سنت کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے کی بات مانی جائے ، اور قرآن وسنت کے مقابلے میں اسے دلیل بنایا جائے، اور حجت یہ پیش کی جائے کہ ہمارے امام، ہمارے مرشد، ہمارے بزرگ، اور ہمارے فقیہ زیادہ سمجھتے تھے، اور یقینا یہ حدیثیں ان کے علم میں رہی ہوں گی ، لیکن کسی اقویٰ دلیل ہی کی وجہ سے انھوں نے ان حدیثوں کا انکار کیا ہوگا۔
اور ستم بالاستم یہ کہ ان حضرات نے انکار احادیث کے ان واقعات سے فقہی اصول کشید کیے اور اپنی کتابوں میں مدوّن کر دیا کہ جب بھی کوئی حدیث ان اصولوں کے خلاف پڑے گی اسے ردّ کر دیا جائے گا، اس لیے کہ یا تو وہ ضعیف ہوگی ، یا مرجوح یا منسوخ ہوگی ۔ قرآن وسنت کے حق میں اس جرم عظیم کا بدترین نتیجہ یہ سامنے آیا کہ امت کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بہت سی کمزور اور واہیات قسم کی حدیثیں رائج ہوگئیں، اور وہ صحیح حدیثیں جو بخاری ومسلم نے روایت کی ہیں اور جن پر عمل نہ کرنے کا کوئی جواز امت کے پاس موجود نہیں ، سینکڑوں سال سے مسلمانوں کا منہ تک رہی ہیں، اور پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ ہم پر عمل کرو، ہم اللہ کے رسول کی صحیح احادیث ہیں، لیکن مقلدین انھیں درخورِ اعتناء نہیں سمجھتے۔
اسلام میں تمام گمراہ فرقوں کا وجود، شرک و بدعت کا رواج ، قبروں، مزاروں اور درگاہوں کی پرستش اور عقائد کی تمام بیماریاں اس چور دروازے سے داخل ہوئی ہیں کہ قرآن وسنت کو ترک کر کے اپنے بزرگوں، پیروں ، مشائخ اور خود ساختہ معبودوں کی بات کو ترجیح دی، ان کی تقلید کی اور کہا کہ یہ حضرات جو کرتے آئے ہیں آخر ان کے پاس بھی تو کوئی دلیل رہی ہوگی، اس لیے ہم وہی کریں گے جو ہمارے بزرگ کرتے آئے ہیں اور ان حدیثوں کو ہم نہیں مانیں گے اس لیے کہ ہم اپنے بزرگوں سے زیادہ فہم نہیں رکھتے ۔ یہ روش مشرکین مکہ کی تھی۔
مشرکین مختلف شرکیہ اعمال میں مبتلا تھے، ان سے جب کہا جاتا کہ تم لوگ اپنے آباؤ اجداد کی تقلید چھوڑ دو جنھوں نے اللہ کے بارے میں افترا پردازی کی تھی، اور اللہ اور اس کے رسول کے کہے پر عمل کرو، تو وہ فوراً بول اٹھتے کہ ہم تو اپنے آباؤ اجداد ہی کی تقلید کریں گے، اس کا جواب اللہ نے دیا کہ کیا باپ دادوں کی تقلید ان کے لیے کافی ہوگی، چاہے ان کے وہ باپ دادا حق کو جانتے اور پہچانتے نہ ہوں۔
﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۚ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ﴾
[المائدة: 104]
”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ کتاب اور رسول کی طرف آجاؤ، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے جس دین و عقیدہ پر اپنے آباؤ اجداد کو پایا، وہی ہمارے لیے کافی ہے، (کیا وہ اس پر قائم رہیں گے) اگرچہ ان کے آباؤ اجداد نہ کچھ جانتے رہے ہوں اور نہ راہِ ہدایت پر رہے ہوں ۔“
مشرکین کے فعل شنیع پر مزید نکیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے پاس فرشتوں اور بتوں کی عبادت و پرستش کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے، صرف یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو اسی دین پر عمل کرتے پایا ہے، لہذا ہم بھی اسی دین پر قائم رہیں گے:
﴿آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّهْتَدُونَ. وَكَذَٰلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ.﴾
[الزخرف: 22، 23]
”کیا ہم نے انھیں قرآن سے پہلے کوئی کتاب دی تھی جس سے وہ چمٹے ہوئے ہیں، بلکہ اُن کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر چلتے پایا ہے، اور ہم یقیناً اُنھی سے نقش قدم کی پیروی کرتے رہیں گے۔ اور اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے جب بھی کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا (نبی) بھیجا، تو ان کے عیش پرستوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر چلتے پایا ہے، اور ہم یقینا انھی کے نقش قدم پر چلتے رہیں گے ۔“

(6) کفار کی مشابہت اختیار کرنا:

بنی اسرائیل جو فرعون کی غلامی سے آزاد ہونے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے سمندر پار کرنے کے بعد جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے کی طرف روانہ ہوئے ۔ راستہ میں ان کا گزر ایسی قوم کے پاس سے ہوا جو بتوں کی پرستش کرتی تھی۔ انھیں دیکھ کر بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ ہمیں بھی ایک ایسا ہی بت چاہیے جس کے سامنے جھکیں۔
﴿وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلَىٰ قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَىٰ أَصْنَامٍ لَّهُمْ ۚ قَالُوا يَا مُوسَى اجْعَل لَّنَا إِلَٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ ۚ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ﴾
[الأعراف: 138]
”اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر عبور کرا دیا تو ان کا گزرا ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جو اپنے بتوں کی عبادت کر رہے تھے ، انھوں نے کہا، اے موسیٰ، جس طرح ان کے کچھ معبود ہیں، آپ ہمارے لیے بھی معبود بنا دیجیے ، موسیٰ نے کہا کہ واقعی تم لوگ بالکل نادان ہو۔“
مفسر بغوی نے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت میں کوئی شبہ نہیں تھا، بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ ان بت پرستوں کی طرح ان کے لیے بھی کوئی ایسی چیز ہونی چاہیے جس کی تعظیم کر کے اللہ کا قرب حاصل کریں، اپنی شدت جہالت کی وجہ سے سمجھ بیٹھے تھے کہ اس سے ان کے دین و ایمان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ انتہی (تفسیر بغوی)
امام احمد ، ترمذی اور ابن جریر وغیرھم نے ابو واقد اللیثی سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ حنین کے لیے نکلے تو ایک درخت کے پاس سے گزرے جس پر مشرکین اپنے ہتھیار لٹکایا کرتے تھے، اس لیے اسے ”ذات انواط“ کہا کرتے تھے، تو صحابہ میں سے بعض لوگوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! ہمارے لیے بھی ایک ایسا ہی ”ذات انواط“ بنا دیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سبحان اللہ ! یہ تو وہی قوم موسیٰ کی بات ہے کہ بت پرستوں کے معبودوں کی طرح ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دیجیے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم لوگ گذشتہ قوموں کی راہ پر ضرور چلو گے ۔“
تفسیر ابن جریر: 82/13- سنن ترمذی، کتاب الفتن، رقم: 2180
یہی وجہ ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مقام حدیبیہ کے اس درخت کو کٹوا دیا تھا جس کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے بیعت لی تھی، جسے بیعتہ الرضوان کہا جاتا ہے۔ امام ابوبکر طرطوش مالکی لکھتے ہیں کہ اگر تم کوئی ایسا درخت دیکھو جس کی لوگ زیارت اور تعظیم کرتے ہوں، اسے شفایابی کا سبب مانتے ہوں، اور اس میں کیلیں ٹھونکتے ہوں اور کپڑے کے ٹکڑے لٹکاتے ہوں، تو اسے کاٹ دو، کیونکہ وہ ”ذات انواط“ ہے۔
تفسير ابن كثير: 396، 395/2
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اپنے سے پہلے لوگوں کی ضرور بالضرور بالشت اور ہاتھ کی حد تک پیروی کرو گے یہاں تک کہ اگر وہ سانڈھے کے بل میں گھس گئے تو تم بھی ان کے پیچھے چلو گے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ) ہم نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! کیا پہلے لوگوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: تو پھر اور کون ہیں؟
بخاری، کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، رقم: 7320
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ليأتين على أمتي كما أتى على بني إسرآئيل حذو النعل بالنعل، حتى إن كان منهم من أتى أمه علانية لكان فى أمتي من يصنع ذلك ، وإن بني إسرآئيل تفرقت على ثنتين وسبعين ملة و تفترق أمتي على ثلث وسبعين مله، كلهم فى النار إلا ملة واحدة ، قالوا: من هي يا رسول الله؟ قال ما أنا عليه وأصحابى
مستدرك حاكم: 129/1 ۔ سنن ترمذی کتاب الایمان ، رقم 2641 – واللفظ له ، مشكوة، رقم: 171- سلسلة الصحيحة رقم: 1348
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت پر ایسا وقت آئے گا جیسا کہ بنی اسرائیل پر آیا۔ جس طرح جوتا جوتے کے برابر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر بنی اسرائیل میں سے کسی نے اپنی ماں سے علانیہ بدکاری کی ہوگی تو میری امت کے (کچھ بد نصیب) لوگ بھی ایسا ہی کریں گے، اور بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری اُمت بہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، ایک کے سوا سب دوزخ میں جائیں گے ۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! وہ (نجات پانے والی) کون سی جماعت ہے؟ فرمایا: ”جو میرے اور میرے اصحاب کے طریق پر ہوگی۔“
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”اور ایسی ہی وہ چیزیں ہیں جو بعض لوگ گڑھ کر مناتے ہیں یا میلاد عیسی علیہ السلام ؤ میں نصاریٰ کی مشابہت کرتے ہوئے اور یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور تعظیم میں آپ کی عید مناتے ہیں، حالانکہ آپ کی تاریخ پیدائش میں لوگوں کا اختلاف ہے کیونکہ اسے سلف کرام نے نہیں کیا ہے اگر اس کا کرنا محض خیر ہوتا یا کرنا راجح ہوتا تو سلف صالحین رحمہ اللہ ہم سے زیادہ اس کے حقدار ہوتے ، کیونکہ وہ لوگ ہم سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور تعظیم کرنے والے تھے اور وہ لوگ خیر کے زیادہ حریص تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور تعظیم آپ کی متابعت وفرماں برداری، نیز آپ کے حکم کی پیروی، آپ کی سنت کے احیاء ظاہری اور باطنی طور پر ، آپ کی دعوت کو عام کرنے اور اس پر دل، ہاتھ اور زبان سے جہاد کرنے ہی میں ہے، کیونکہ یہی طریقہ مہاجرین و انصار سابقین اوّلین کا ہے اور ان لوگوں کا بھی ہے جنھوں نے اچھائی کے ساتھ اس کی پیروی کی۔ “
اقتضاء الصراط المستقيم: 615/2

(7) غلو:

اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کو دین میں غلو کرنے سے منع فرمایا ہے، اس لیے کہ ہر دور میں یہ برائی ان کے اندر دوسروں کی بہ نسبت زیادہ پائی گئی ۔ انھوں نے دین میں رہبانیت اور عورتوں سے کنارہ کشی کو ایجاد کیا، اور عیسی علیہ السلام کو اللہ کا مقام دیا، بلکہ اپنے علماء اور راہبوں تک کو اپنا معبود بنا لیا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ ۚ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۖ وَلَا تَقُولُوا ثَلَاثَةٌ ۚ انتَهُوا خَيْرًا لَّكُمْ ۚ إِنَّمَا اللَّهُ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ سُبْحَانَهُ أَن يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ ۘ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا﴾
[النساء: 171]
”اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو نہ کرو، اور اللہ کی شان میں حق بات کے علاوہ کچھ نہ کہو، مسیح عیسی بن مریم صرف اللہ کے رسول تھے، اور اس کا کلمہ ، جسے اس نے مریم کی طرف پہنچا دیا، اور اس کی طرف سے ایک روح، پس تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لے آؤ، اور تین معبودوں کے قائل نہ بنو، اس سے باز آ جاؤ، اسی میں تمھاری بہتری ہے، بے شک اللہ اکیلا معبود ہے، وہ اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کی اولاد ہو، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، اسی کی ملکیت ہے، اور اللہ بحیثیت کارساز کافی ہے۔ “
سورۃ التوبہ میں ارشاد فرمایا:
﴿وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ۖ ذَٰلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَاهِهِمْ ۖ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَبْلُ ۚ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ۚ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ. اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ.﴾
[التوبة: 31، 30]
”اور یہود نے کہا کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں ، اور نصاری نے کہا کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں، یہ اُن کے منہ کی بکواس ہے، ان لوگوں کے قول کی مشابہت اختیار کرتے ہیں جنھوں نے ان سے پہلے کفر کیا تھا، اللہ انھیں ہلاک کر دے، کس طرح حق سے پھرے جا رہے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو اللہ کے بجائے معبود بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی ، حالانکہ انھیں تو صرف ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہ مشرکوں کے شرک سے پاک ہے۔“
امام احمد ، ترمذی اور ابن جریر وغیرھم نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان کی گردن میں چاندی کا صلیب لٹک رہا تھا (انھوں نے جاہلیت کے زمانہ میں عیسائیت کو قبول کر لیا تھا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت پڑھی: ﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ﴾ تو میں نے کہا کہ عیسائیوں نے اپنے عالموں کی عبادت تو نہیں کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ، انھوں نے حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنایا، تو لوگوں نے ان کی بات مانی اور ان کی پیروی ، یہی ان کی عبادت ہے۔ “
مسند أحمد: 378/4- سنن ترمذی، کتاب تفسیر القرآن، رقم: 3095 تفسیر طبری: 212/14 ۔ محدث البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو ممبر پر یہ فرماتے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا، آپ نے ارشاد فرمایا:
لا تطروني كما أطرت النصارى ابن مريم فإنما أنا عبده فقولوا: عبد الله ورسوله
صحیح بخاری کتاب أحاديث الانبیاء رقم: 3445
”مجھے نصاری کی طرح نہ بڑھانا جیسا کہ انھوں نے عیسی علیہ السلام کے معاملہ میں کیا میں تو اللہ کا نبی اور اس کا رسول ہوں ۔ “
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إياكم والغلو فى الدين فإنما أهلك من كان قبلكم الغلو فى الدين
مسند احمد، رقم: 215، 247
”دین میں غلو سے بچو، پس تم سے پہلے لوگوں کو غلو فی الدین نے برباد کر دیا تھا ۔“
علامہ امام ابن قیم رحمہ اللہ نے غلو کو کبائر میں شمار کرتے ہوئے فرمایا کہ:
”مخلوق کے بارے میں غلو کرنا حتی کہ اس کے مقام سے تجاوز کیا جائے اور بعض اوقات یہ غلو گناہ کبیرہ سے شرک کی طرف لے جاتا ہے ۔ “
اعلام الموقعين: 407/4
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”میری اُمت کے دو قسم کے افراد کے حق میں میری شفاعت قبول نہیں ہوگی: (1) انتہائی ظالم حکمران (2) غلو کرتے کرتے دائرہ مذہب سے خارج ہو جانے والا۔“
سلسله احادیث صحیحه، رقم: 470- المعجم الاوسط للطبرانی، رقم: 644
مولانا حالی نے کہا:
تم اوروں کی مانند دھوکا نہ کھانا
کسی کو خدا کا بیٹا نہ بنانا
میری حد سے رتبہ نہ میرا بڑھانا
بڑھا کر بہت تم نہ مجھ کو گھٹانا
سب انسان ہیں واں جس طرح سرفگندہ
اسی طرح ہوں میں بھی ایک اس کا بندہ
بنانا نہ تربت کو میری صنم تم
نہ کرنا میری قبر پس سر خم تم

(8) استدلالات فاسده و اتباع متشابہات:

استدلالاتِ فاسدہ اور اتباع مشابہات بھی بدعات کے اسباب و محرکات میں سے ہیں۔
چنانچہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
يطلبون الدنيا وقد اعتادوا تقليد السلف وأعرضوا عن نصوص الكتاب والسنة وتمسكوا بتعمق عالم وتشدده وإستحسانه فاعرضوا كلام الشارع المعصوم وتمسكوا بأحاديث موضوعة وتاويلات فاسدة ، كانت سبب هلاكهم
الفوز الكبير في اصول التفسير ص: 10 ، 11
”اگر تم یہودیوں کا نمونہ دیکھنا چاہتے ہو تو (ہمارے زمانے کے) علمائے سوء کو دیکھو، جو دنیا کی طلب اور (اپنے) سلف کی تقلید پر جمے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ کتاب وسنت کی نصوص (دلائل) سے منہ پھیرتے اور کسی (اپنے پسندیدہ) عالم کے تعمق، تشدد اور استحسان کو مضبوطی سے پکڑے بیٹھے ہیں ۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو معصوم ہیں، کے کلام کو چھوڑ کر موضوع روایات اور فاسد تاویلوں کو گلے سے لگا لیا ہے۔ اسی وجہ سے یہ لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔“
جن لوگوں کے دلوں میں کفر و نفاق ہے، وہ متشابہ آیتوں کے درپے ہوتے ہیں، تا کہ لوگوں کو شبہات میں مبتلا کر سکیں، اپنے باطل عقائد و نظریات پر فاسد تاویلات کے ذریعہ ان سے استدلال کر سکیں، اور اسلام میں بدعتوں کو رواج دے سکیں ۔ ایسے لوگ یقیناً بیمار عقل والے ہوتے ہیں جو مشتبہ آیتوں کی تلاش میں ہوتے ہیں، تاکہ اپنے باطل افکار کی تائید میں کوئی دلیل لا سکیں، اور مسلمانوں میں شر اور فتنہ پھیلا سکیں۔
﴿فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ ۗ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ﴾
[آل عمران: 7]
”پس جن لوگوں کے دلوں میں کھوٹ پن ہوتا ہے وہ فتنہ انگیزی کی غرض سے اور (اپنی خواہش نفس کے مطابق) تاویل کی غرض سے انہی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، حالانکہ ان کی تاویل اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، اور راسخ علم والے کہتے ہیں کہ ہم اُن پر ایمان لے آئے ، سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو صرف عقل والے حاصل کرتے ہیں۔ “

(9) تعصبِ مذہبی:

تعصب بہت بری چیز ہے، اس کی وجہ سے اُمت مختلف گروہوں اور فرقوں میں بٹ گئی اور اس کی بنا پر دوستی یا دشمنی کی جانے لگی ۔ حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد پاک ہے:
﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾
[آل عمران: 103]
”اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور فرقوں میں مت بٹو ۔ “
تعصب سے افتراق و عداوت اس حد تک بڑھ گئی کہ بعض اصحاب مذہب نے مخالف مذہب کی لڑکی یا اس کے عکس سے نکاح کو ناجائز قرار دیا ہے اور بعض نے مخالف مذہب کی لڑکی کو یہودی یا نصرانی عورت کی طرح سمجھ کر نکاح کو جائز قرار دیا۔ اسی طرح مخالف مذہب کے امام کے پیچھے نماز کو بھی ناجائز قرار دیا ہے۔
چنانچہ ابن ھمام حنفی رقمطراز ہیں کہ: ابو الیسر نے کہا ہے: کہ حنفی آدمی کی صلاۃ شافعی کے پیچھے جائز نہیں ! اس کی وجہ یہ ہے کہ مکحول نخعی نے اپنی کتاب ”یشفاع“ میں رقم کیا ہے کہ رکوع کو جاتے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے رفع الیدین کرنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے کیونکہ یہ عمل کثیر ہے۔
فتح القدير: 31/1
شیخ محمد حیات سندھی حنفی نے کہا ہے:
”ہمارے اہل زمانہ نے جو خاص مذہب کے التزام کی بدعت ایجاد کی ہے کہ ہر ایک کسی ایک مذہب سے منتقل ہو کر دوسرے مذہب میں جانے کو ناجائز کہتا ہے۔ تو یہ جہالت، بدعت اور ظلم ہے۔ ہم نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو صحیح غیر منسوخ احادیث کو چھوڑ کر جن مذاہب کی کوئی سند نہیں انھی سے تمسک کرتے ہیں ۔ انا لله وإنا إليه راجعون
ايقاظ همم أولى الأبصار، ص 70
اسی تعصب مذہبی کے نتیجے میں ہی لوگوں نے مسجد الحرام کو چار یا پانچ مصلوں میں بانٹ رکھا تھا۔ جیسا کہ گذشتہ صفحات میں گزرا ہے۔
یہ ملّاں کافروں کو دولت اسلام کیا دے گا
اسے کافر بنانا بس مسلمانوں کو آتا ہے
تعصب نے اس صاف چشم کو آکر
کیا بغض کے خارو خس سے مکدر

(10) بدعتی لوگوں کی ہم نشینی:

ابتلائے اسلام میں مشرکین مکہ صحابہ کرام کو قرآن پڑھتے دیکھتے تو مذاق اُڑاتے ، اور باتیں بناتے ، انھی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کومنع کیا کہ کفار جب قرآن کا مذاق اڑار ہے ہوں تو ایسی مجلسوں سے اُٹھ جائیں، یہاں تک کہ وہ لوگ کوئی اور بات کرنے لگیں:
﴿حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾
[الأنعام: 68]
”اور جب آپ اُن لوگوں کو دیکھئے جو ہماری آیتوں کے خلاف باتیں بناتے ہیں، تو آپ ان سے اعراض کیجیے، یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور بات کرنے لگیں، اور اگر شیطان آپ کو بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھئے ۔“
اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ شریف پہنچے، تو وہاں بھی جب کفار اور منافقین کا ایسا ہی رویہ تھا کہ وہ لوگ قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ایسی مجلسوں سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ، جیسا کہ سورہ نساء میں آیا ہے:
﴿وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا﴾
[النساء: 140]
”اللہ نے قرآن میں تمھارے لیے اتارا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے، اور اس کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے، تو اُن کے ساتھ نہ بیٹھو، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کوئی اور بات کرنے لگیں، ورنہ تم انھی کے جیسے ہو جاؤ گے۔“
مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ حکم عام ہے، اور اُمت مسلمہ کے ہر فرد کا فرض ہے کہ جہاں کہیں بھی اسلام کا یا قرآن وسنت وغیرہ کا مذاق اُڑایا جا رہا ہو ، یا بدعت وخرافات کی طرف دعوت دی جا رہی ہو اس مجلس کا بائیکاٹ کرے ، ورنہ اس پر بھی وہی حکم لگے گا جس کا بیان ابھی سورہ نساء کے آخر میں گزرا کہ ﴿إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ﴾ ”تم بھی ان کے مانند ہو جاؤ گے۔“ محمد بن سیرین رحمہ اللہ اسی آیت کریمہ کی روشنی میں اہل بدعت سے مجالست کو مردود قرار دیتے تھے، اور فرماتے کہ یہ آیت انھی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
سير أعلام النبلاء: 610/4
فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جو شخص اہل بدعت کی مجلس اختیار کرتا ہے۔ اسے حکمت و بصیرت نہیں ملتی ۔
سير أعلام النبلاء: 430/8
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إنما مثل الجليس الصالح والجليس السوء كحامل المسك ونافح الكير، فحامل المسك إما أن يحذيك، وإما أن تبتاع منه، وإما أن تجد منه ريحا طيبة، ونافخ الكير إما أن يحرق ثيابك، وإما أن تجد ريحا خبيثة
صحيح البخاري: كتاب الذبائح والصيد ، باب السمك حديث رقم: 5534۔ صحیح مسلم، کتاب البر والصلة، باب استحباب مجالسة الصالحين …. حديث رقم: 2628، بروایت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ
”نیک ہم نشین اور برے ہم نشین کی مثال مشک فروش اور آگ کی بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے۔ مشک فروش یا تو آپ کو مشک ہدیہ میں دے دے گا، یا آپ اس سے خرید لیں گے، یا کم از کم تمھیں اس سے پاکیزہ خوشبو ضرور ملے گی۔ اور بھٹی دھونکنے والا یا تو تمھارے کپڑے جلا دے گا، یا کم از کم تمھیں اس سے بدبو ملے گی ۔“

(11) تصوف:

یہ معاملے ہیں نازک، جو تیری رضا ہو تو کر
کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی
تصوف بدعت کی جڑ ہے۔ ائمہ ہدی نے اس سے بڑا ڈرایا ہے، کیونکہ اس کے ذریعہ انسان غیر محسوس طریقے سے گمراہی میں چلا جاتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لوأن رجلا تصوف أون النهار لا يأتى الظهر على بصير أحمق
”اگر کسی نے شروع دن میں صوفیانہ زندگی اختیار کر لی تو وہ دوپہر تک احمق ہو جائے گا۔ “
مزید فرماتے ہیں:
ما لزم أحد الصوفيين أربعين يوما فعاد عقله

”جس کسی نے متواتر چالیس دن تک کسی صوفی کی صحبت اختیار کی تو اس کی عقل دوبارہ لوٹ کر نہیں آئے گی ۔“
اور امام السنہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
حذروا من الحارث أشد التحذير الحارث أصل البلبلة يعني فى حوادث كلام جهم، ذاك جالسه فلان وفلان وأخرجهم إلى رأى جهم ما زال مأوى أصحاب الكلام، حارت بمنزلة الأسد المرابط أنظر أى يوم يتب على الناس
الفكر الصوفي في ضوء الكتاب والسنة، ص: 684/683
”حارث صوفی سے جہاں تک ہو سکے بچو، کیوں کہ وہ مصیبت کی جڑ ہے، جہمم بن صفوان کے کلام کے حوادث کا شکار ہے، دیکھتے نہیں کہ فلاں اور فلاں اشخاص اس کے ہم جلیسں ہیں، جس نے ان کو جہمم بن صفوان کی رائے کا پابند بنا دیا ہے، جواب تک علم کلام والوں کا ملجا و ماویٰ ہے، حارث کی مثال گھات میں رہنے والے شیر کی ہے، دیکھو وہ کس دن حملہ آور ہوتا ہے۔“
یہ سلسلے بھی تصوف کے ہیں ، ان سے محبت ومجلس بدعت کی طرف لے جاتی ہے۔
1: سلسلہ قادریہ
2: سلسل نقشبندیہ
3: سلسلہ سہروردیہ
4: سلسلہ رفاعیہ
5: سلسلہ تیجانیہ
6: سلسلہ چشتیہ

(12) طمع ولالچ:

طمع ولالچ بھی انسان کو بدعت کی طرف لے جاتا ہے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
بادروا بالأعمال فتنا كقطع الليل المظلم يصبح الرجل مؤمنا ويمسي كافرا، أو يمسي مؤمنا ويصبح كافرا يبيع دينه بعرض من الدنيا
صحیح مسلم کتاب الایمان ، رقم: 118
”ان فتنوں کے واقع ہونے سے پہلے نیک اعمال کی طرف سبقت اور جلدی کرو جو شب دیجور کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے کہ آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر ، یا شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر، اپنے دین کو ایک دنیوی سامان کے عوض فروخت کرے گا۔“
دوسرے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ما ذئبان جائعان أرسلا فى غنم بأفسد من حرص المرء على المال والشرف لدينه
سنن الترمذي، كتاب الزهد، باب حدثنا سوید، رقم: 2376۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
”بکریوں کے کسی ریوڑ میں بھیجے گئے دو بھوکے بھیڑیے اتنا زیادہ نقصان دہ نہیں جتنا مال و شرف کا لالچ آدمی کے دین کو نقصان پہنچاتا ہے۔“

(13)اکابر پرستی:

جاہل اور غلو کرنے والے یہودیوں نے سیدنا عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیا ، جن کا زمانہ عیسی علیہ السلام سے تقریبا ساڑھے پانچ سو سال پہلے کا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے بکھرے ہوئے تورات کو اکٹھا کیا، اور عبرانی زبان میں لکھی ہوئی تمام اسرائیلی کتابوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کے لیے قانون کی ایک عظیم کتاب تیار کی۔ جس سے متاثر ہوکر یہودیوں نے انھیں اللہ کا مجازی بیٹا کہنا شروع کر دیا، جو توحید باری تعالیٰ کی شان کے خلاف تھا۔
اور گمراہ نصاریٰ میں سے کسی نے سیدنا عیسی علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا، کسی نے ان کو بعینہ اللہ اور کسی نے انھیں تین میں سے ایک معبود قرار دیا۔
﴿وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ۖ ذَٰلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَاهِهِمْ ۖ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَبْلُ ۚ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ۚ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ﴾
[التوبة: 30]
”اور یہود نے کہا کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاری نے کہا کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں ، یہ اُن کے منہ کی بکواس ہے، ان لوگوں کے قول کی مشابہت اختیار کرتے ہیں جنھوں نے ان سے پہلے کفر کیا تھا، اللہ انھیں ہلاک کر دے، کس طرح حق سے پھرے جارہے ہیں ۔“
قوم نوح صالحین کی عبادت کرنے لگی۔ قوم کے سرغنوں نے عوام الناس کو شرک پر ابھارتے ہوئے کہا کہ جن معبودوں کی ہمارے اور تمھارے آباء پرستش کرتے آئے ہیں، انھیں ہرگز نہیں چھوڑو، اور اُن کی عبادت پر سختی کے ساتھ جمے رہو۔ تم لوگ اپنے معبودوَدّ ، سواع ، یغوث ، یعوق اور نسر کو کسی حال میں فراموش نہ کرو۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ:
”ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر قوم نوح میں نیک لوگوں کے نام تھے جب وہ لوگ وفات پا گئے تو شیطان نے ان کی قوم کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ان کے بیٹھنے کی جگہوں پر ان کے ناموں کے مجسمے بنا کر گاڑ دو، چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا اور جب وہ لوگ مر گئے، اور ان کے درمیان سے علم اُٹھ گیا تو ان مجسموں کی عبادت کی جانے لگی ۔ “
صحیح بخاری، رقم: 492

(14) عقل پرستی:

عقل پرستی انسان کو گمراہ کر دیتی ہے۔ چنانچہ امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
نهاية اقدام العقول عقال
وأكثر سعي العالمين ضلال
وأرواحنا فى وحشة فى جسومنا
وحاصل دنيانا أذى ووبال
ولم نستفد من بحثنا طول عمرنا
سوى أن جمعنا فيه قيل وقالوا

”عقلوں کے گھوڑوں کی منزل ہے بے بسی اور علماء کی زیادہ محنت گمراہی کا سبب ہے۔ ہماری روحیں ہمارے جسموں میں وحشت زدہ ہیں اور ہماری دنیا کا حاصل تکلیف اور مصیبت ہے۔ ہماری عمر بھر کی بحثوں سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوا سوائے اس کے کہ ہم نے اس میں قیل اور قالوا کو جمع کر دیا ہے ۔“
یہ ابن خطیب المعروف فخر الدین رازی کے اشعار ہیں، شاطبی نے انھیں ”الافادات و الانشادات“ میں (صفحہ 84، 85 پر اپنی سند کے ساتھ بیان کیا ہے اور المقری کی کتاب ”نفح الطيب“ (19/9) میں اور لسان الدین ابن خطیب کی كتاب ”الاحاطة فی اخبار غرناطه“ (222/2) میں دوسری سند کے ساتھ مروی ہیں۔
اور ان کا ایک دوسرا عالم کہتا ہے:
”میں نے ایک بڑے سمندر میں غوطہ لگا دیا ہے۔ اہل اسلام اور ان کے علوم کو چھوڑ دیا ہے۔ ایک ایسے علم میں مشغول ہو گیا ہوں جس سے لوگوں نے روکا تھا اور اب اگر مجھے میرے رب کی رحمت نے مجھے اپنے دامن میں نہ لیا تو ہلاکت ہو فلاں آدمی کے لیے ۔ لہذا اب میں اپنی ماں کے عقیدے پر جان دے رہا ہوں۔ “
یہ ابن جوینی کے الفاظ ہیں۔ جیسا کہ ”المنتظم“ (9/19) ”سیر اعلام النبلاء“ (471/18)، ”طبقات شافعیہ“ (260/3) اور ”شذرات الذهب“ (361/3) میں ہے۔
ان میں سے ایک اور شخص کہتا ہے:
”موت کے وقت سب سے زیادہ شک میں پڑنے والے لوگ اہل کلام ہیں ۔ “

(15) ابتلائے شک و شبہ:

مشرکین مکہ اپنے جھوٹے معبودوں جنھیں انھوں نے اور اُن سے پہلے ان کے آباء و اجداد نے اللہ کے ناموں سے مشتق نام دے رکھے تھے، ان میں معبود بننے کی کوئی بھی صفت موجود نہیں تھی ، انھوں نے محض اپنی طرف سے ان کے ایسے نام رکھ دیے تھے، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا، اور جن کی اللہ تعالی نے کوئی دلیل نہیں نازل کی تھی ۔ وہ محض اپنے وہم وگمان اور اپنی خواہش نفس کی اتباع کرتے تھے، حالانکہ اُن کے پاس اُن کے رب کی طرف سے واضح دلیل آچکی تھی کہ یہ ہت اس لائق نہیں کہ ان کی عبادت کی جائے ۔ عبادت تو صرف اُس اللہ جل شانہ کے لیے خاص ہے جو ہر چیز کا خالق اور آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے۔ مشرکین مکہ کے لیے ان کے رب کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو ہدایت آئی، اس سے انھوں نے منہ پھیر لیا، اور اپنی من مانی تمناؤں سے رشتہ جوڑ لیا، اور اس خیال باطل کو اپنے دل میں جگہ دے دی کہ اُن کے بت اُن کے لیے سفارشی بنیں گے:
﴿إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَىٰ﴾
[النجم: 23]
”یہ بت تو محض نام ہیں جنھیں تم نے اور تمھارے باپ دادوں نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے، وہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں، اور اپنی خواہش نفس کی، حالانکہ اُن کے پاس اُن کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی ہے۔“
اور ابو نعیم نے شافعی رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ: ”مالک بن انس رحمہ اللہ کے پاس جب بعض اہل اہواء آتے تو کہا کرتے تھے کہ میں اپنے رب اور اپنے دین کی طرف سے بینہ (واضح دلیل) پر ہوں اور تم محض مبتلائے شک ہو، لہذا اپنے جیسے شکی کے پاس جاؤ اور اسی سے لڑو جگھڑو۔“

(16) کتمان حق:

کتمان حق بھی اسباب بدعت میں سے بڑا سبب ہے۔ جب حق پس پردہ ہو جائے تو بدعات سے پردہ اٹھ جاتا ہے، جن لوگوں کا شیوہ کتمان حق ہو وہ باطل کو بیان کرنے والے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی نے ان لوگوں کی شدید مذمت فرمائی جو انبیاء ورسل کے ذریعہ بھیجی گئی ہدایت و رہنمائی کو لوگوں سے چھپاتے تھے۔
﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ ۙ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ﴾
[البقرة: 159]
”بے شک جو لوگ ہماری نازل کردہ نشانیوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں، اس کے باوجود کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے کتاب میں بیان کر چکے ہیں، ان پر اللہ اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔ “
یہ آیت کریمہ اگرچہ یہود و نصاری کے ان علماء کے بارے میں نازل ہوئی تھی جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی نشانیوں کو چھپایا تھا، لیکن اس کا حکم عام ہے، ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ حق کو چھپاتا ہے، وہ لازمی طور پر اس وعید شدید میں شامل ہوگا۔
چند آیات آگے کتمان حق کرنے والوں کے لیے وعید کا دوبارہ ذکر کیا تاکہ امت مسلمہ کے افراد ایسی مذموم صفت سے اپنے آپ کو بچا کر رکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۙ أُولَٰئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾
[البقرة: 174]
”جو لوگ اللہ کی نازل کردہ کتاب کو چھپاتے ہیں، اور اس کے بدلے حقیر سی قیمت قبول کر لیتے ہیں، وہ درحقیقت اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتے ہیں، اور روز قیامت اللہ اُن سے کلام نہیں فرمائے گا، اور نہ انھیں پاک کرے گا، اور اُن کے لیے بڑا دردناک عذاب ہوگا۔“
سید نا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سئل عن علم يعلمه فكتمه الجم يوم القيامت بلجام من النار
سنن الترمذى كتاب العلم باب ما جاء في كتمان العلم، حدیث نمبر: 2649 ۔ سنن ابوداؤد، کتاب العلم، باب كراهية منع العلم، حدیث نمبر: 3658۔ سنن ابن ماجه، المقدمة ، باب من سئل عن علمه فكتمه، حدیث نمبر: 266 ۔ مسند احمد: 263/2، 305۔ علامہ البانی اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
”جس شخص سے کوئی علم دریافت کیا گیا جسے وہ جانتا ہے اور اس نے اسے چھپا لیا تو اسے قیامت کے روز آگ کی لگام پہنائی جائے گی ۔“

(17) تحريف:

تحریف بھی بدعت کے اسباب میں سے ہے اور بڑا مذموم فعل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے علمائے یہود کے لیے وعید شدید کا ذکر فرمایا جو تحریف کیا کرتے تھے:
﴿فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَٰذَا مِنْ عِندِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا يَكْسِبُونَ﴾
[البقرة: 79]
”پس ویل ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھ لیتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے بدلے کچھ مال حاصل کریں، پس ان کے لیے خرابی ہے، اپنے ہاتھوں سے لکھی ہوئی (کتاب) کے سبب، ان کے لیے خرابی ہے ان کی اپنی کمائی کے سبب ۔“
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان یہیود علماء کی مذمت کی ہے جو تورات کی آیات کو بدل دیتے تھے لیکن دین اسلام آنے کے بعد ان لوگوں کو بھی شامل ہے جو بدعتوں کو صحیح ثابت کرنے کے لیے قرآن وسنت میں تحریف کرتے ہیں۔ اس میں ان یہود کی مذمت کی گئی ہے جو تورات کا علم نہیں رکھتے تھے، صرف ان کے پاس چند بے بنیاد تمنائیں تھیں، اور اب اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو قرآن کریم میں غور وفکر نہیں کرتے صرف حروف کی تلاوت کرتے ہیں، اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دنیاوی مقاصد حاصل کرنے کے لیے قرآن کریم کے خلاف کوئی دوسری بات اپنے ہاتھ سے لکھ کر لوگوں میں رائج کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی شریعت اور اللہ کا دین ہے۔ اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جو قرآن وسنت کو چھپاتے ہیں، تاکہ ان کا مخالف حق بات پر ان سے استدلال نہ کرے ۔ انتہی

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️