بدعت کے رد پر اہلسنت کے 6 اصول

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب عید میلا النبیﷺ کی شرعی حیثیت سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

اصول نمبر ①

واضح رہے کہ دینی امر کا حکم من جانب اللہ ہوناضروری ہے، کوئی بھی کام دین سمجھ کر اس وقت تک سر انجام نہیں دیا جا سکتا، جب تک اللہ اجازت نہ دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، تو صحابہ رضی اللہ عنہم کو کھجوروں کی پیوند کاری کرتے دیکھا، آپ نے اس سے منع کر دیا، صحابہ آپ کے حکم کی تکمیل و تعمیل میں اس سے رک گئے ،لیکن پھل بہت کم آئے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی، تو فرمایا:
إنما أنا بشر، إذا أمرتكم بشيء من دينكم فخذوا به، وإذا أمرتكم بشيء من رأيي، فإنما أنا بشر.
”یقیناً میں بشر ہوں، جب آپ کو کوئی دینی حکم دوں، تو اس پر (سختی سے) عمل پیرا ہو جائیں اور جب ( دنیاوی امور کا ) اپنی رائے سے حکم دوں، تو میں بشر ہوں۔“
(صحیح مسلم: 2362)
❀ نیز فرمایا:
أنتم أعلم بأمر دنياكم.
”دنیاوی امور کو آپ بہتر جانتے ہیں ۔“
(صحیح مسلم : 2363)
❀ مزید فرمایا:
فإني إنما ظننت ظنا، فلا تؤاخذوني بالظن، ولكن إذا حدثتكم الله شيئا، فخذوا به، فإني لن أكذب على الله عز وجل.
” یہ میرا گمان تھا، اس کی بنا پر میرا مواخذہ نہ کیجئے ، لیکن جب اللہ کی طرف سے کوئی چیز بیان کروں، تو اسے مضبوطی سے پکڑ لینا، کیوں کہ میں اللہ پر ہرگز جھوٹ نہیں بولتا ۔“
(صحیح مسلم : 2361)
ان احادیث مبارکہ سے یہ اصول ثابت ہوتا ہے کہ دنیا وی کاموں میں جب تک ممانعت وارد نہ ہو سر انجام دیئے جا سکتے ہیں، لیکن دین کے کاموں میں اللہ کا حکم ضروری ہے، جب تک شرعی دلیل نہ ملے، وہ کام کرنا ممنوع ہے۔

اصول نمبر ②

❀ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے :
وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُورًا
(بني إسرائيل : 19)
” ہر مومن، جو آخرت کے لئے شریعت کے مطابق عمل کرے، تو اس کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔“
اس آیت کریمہ میں ﴿سَعْيَهَا ﴾ کے معنی معین عمل کے ہیں ، مصدر کی اضافت تعیین کا فائدہ دیتی ہے، وہی کوشش بار آور ثابت ہو گی اور وہی عمل قبول ہوگا، جو قرآن وسنت سے ثابت ہوگا، جو ثابت نہ ہوا اسے بدعت شمار کیا جائے گا۔

اصول نمبر ③

❀ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا:
”جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے، نہ نقصان پہنچا سکتا ہے، نہ نفع :
لولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قبلك ما قبلتك .
اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھتا، تو بوسہ نہ دیتا۔“
(صحيح البخاري : 1610، صحيح مسلم : 1670)
سید نا عمر رضی اللہ عنہ کے قول سے معلوم ہوا کہ بعض جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کام کو نہ کرنا شرع کا حکم بن جاتا ہے۔ بدعات پر اس کی تطبیق عین صادق آتی ہے۔

اصول نمبر ④

❀ ابو وائل شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
جلست إلى شيبة فى هذا المسجد، قال : جلس إلى عمر فى مجلسك هذا، فقال : لقد هممت أن لا أدع فيها صفراء ولا بيضاء إلا قسمتها بين المسلمين، قلت : ما أنت بفاعل، قال : لم؟، قلت : لم يفعله صاحباك ، قال : هما المرء ان يقتدى بهما .
میں شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ قریشی ( کعبہ کے کنجی بردار ) کے پاس مسجد حرام میں بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسی جگہ (مسجد حرام میں) تشریف فرما تھے اور فرمانے لگے کہ میرا ارادہ ہے کہ (کعبہ میں) جو سونا اور چاندی ہے، وہ مسلمانوں میں بانٹ دوں، تو میں نے کہا کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے ، آپ نے فرمایا: کیوں؟ میں نے کہا: آپ کے دو ساتھیوں ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ) نے یہ کام نہیں کیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ دو ہستیاں مقتدا اور پیشوا ہیں ۔“
(صحیح البخاري : 7275)
ثابت ہوا ”جس کام کا محرک موجود ہو، اس کے بارے میں شرعی ممانعت بھی ثابت نہ ہو اور نہ ہی اسے سر انجام دینے میں کوئی رکاوٹ ہو، اس کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ترک کیا ہو، تو اسے ترک کرنا سنت ہے اور اس پر عمل کرنا بدعت سیئہ وقیحہ ہے۔“
جشن عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی اصل قرآن وسنت میں نہیں ملتی۔
❀ علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (792ھ) فرماتے ہیں:
إن الإتباع كما يكون فى الفعل يكون فى الترك، فالفعل سنة والترك سنة .
”اتباع جس طرح فعل نبوی میں ہوتا ہے، اسی طرح ترک میں بھی ہوتا ہے۔ لہذا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا) فعل بھی سنت ہے اور ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا) ترک بھی سنت ہے۔ “
(التنبيه على مشكلات الهداية :269/1)

عید میلاد بدعت ہے:

اس کی ابتدا 363ھ میں ہوئی ، سب سے پہلے مصر میں شیعوں نے یہ جشن منایا۔
(المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار للمقريزي : 490/1، وغيره)
❀ ایسے ہی کسی معاملہ کے بارے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کیا خوب فرما گئے :
إنه لو أحدثه المسلمون لقد كان يكون قبيحا، فكيف إذا كان مما لم يشرعه نبي قط؟ بل أحدثه الكافرون، فالموافقة فيه ظاهرة القبح ، فهذا أصل .
”اصل یہ کہ اسے اگر مسلمانوں نے ایجاد کیا ہوتا ، تب بھی برا تھا، جس عمل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع نہ کیا ہو، وہ برا ہی ہوتا اور اس عمل کو تو ایجاد ہی کافروں نے کیا ہے اور کفار کی موافقت سے اس کی قباحت مزید عیاں ہو جاتی ہے۔“
(اقتضاء الصراط المستقيم : 477/1)
❀ نیز فرماتے ہیں :
معلوم أنه لو كان هذا مشروعا مستحبا يثيب الله عليه؛ لكان النبى صلى الله عليه وسلم أعلم الناس بذلك، ولكان يعلم أصحابه ذلك، وكان أصحابه أعلم بذلك وأرغب فيه ممن بعدهم، فلما لم يكونوا يلتفتون إلى شيء من ذلك علم أنه من البدع المحدثة التى لم يكونوا يعدونها عبادة وقربة وطاعة، فمن جعلها عبادة وقربة وطاعة، فقد اتبع غير سبيلهم، وشرع من الدين ما لم يأذن به الله.
یہ تو معلوم ہے کہ اگر یہ مشروع و مستحب ہوتا کہ جس پر اللہ ثواب عطا فرما تا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے زیادہ جاننے والے ہوتے اور اپنے صحابہ کو بھی باخبر کر دیتے، بعد والوں کی بہ نسبت صحابہ اسے زیادہ جانتے اور اس میں رغبت رکھتے ۔ لہذا جب صحابہ کرام نے ایسی کسی چیز کی طرف التفات تک نہ کیا، تو معلوم ہوا کہ یہ بدعات میں سے ہے، جنہیں صحابہ عبادت، نیکی اور اطاعت نہیں سمجھتے تھے۔ لہذا جس نے ان امور کو عبادت، نیکی اور اطاعت قرار دیا ، وہ صحابہ کرام کے رستے کو چھوڑ چکا ہے اور اس عمل کو دین بنالیا، جس کی اجازت اللہ نے نہیں دی۔“
(اقتضاء الصراط المستقيم : 798/2)
❀ مزید فرماتے ہیں :
أما ما تركه من جنس العبادات مع أنه لو كان مشروعا لفعله أو أذن فيه ولفعله الخلفاء بعده والصحابة، فيجب القطع بأن فعله بدعة وضلالة ويمتنع القياس فى مثله.
”جنس عبادات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ترک کردہ عمل غیر مشروع ہے، اگر وہ شریعت ہوتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے انجام دیتے یا اس کی اجازت یا حکم فرماتے۔
خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام عمل کرتے ، ایسے معاملات میں قیاس نہیں کیا جاسکتا، بلکہ بالجزم اسے بدعت و گمراہی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔“
(مجموع الفتاوى : 172/26)
بعض بدعات کے بارے میں علامہ سیکی رحمہ اللہ (م : 756 ھ) فرماتے ہیں :
هذه بدعة لا يشك فيها أحد ولا يرتاب فى ذلك، ويكفي أنها لم تعرف فى زمن النبى صلى الله عليه وسلم ولا فى زمن أصحابه ولا عن أحد من علماء السلف
بلا شبہ یہ بدعت ہے۔ اس کے بدعت ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ عہد نبوی اور عہد صحابہ میں اس کا ذکر تک نہیں تھا، نیز علمائے سلف میں سے کسی سے ثابت نہیں ۔
(فتاوی السبكي : 549/2)
❀ علامہ شاطبی رحمہ اللہ (م : 790 ھ) فرماتے ہیں :
لأن ترك العمل به من النبى صلى الله عليه وسلم فى جميع عمره، وترك السلف الصالح له على توالي أزمنتهم قد تقدم أنه نض فى الترك، وإجماع من كل من ترك؛ لأن عمل الإجماع كنبه .
”یہ اس لیے بدعت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری زندگی اس پر عمل نہیں کیا۔ سلف صالحین نے کسی زمانے میں اس پر عمل نہیں کیا، یہ بات گزر چکی ہے کہ ایسی صورت نص کا درجہ رکھتی ہے اور جس نے بھی اس پر عمل نہیں کیا، ان کی طرف سے اسے ترک کرنے پر اجماع ہوگا۔ اجماع پر عمل کرنا نص پر عمل کرنے کے مترادف ہے ۔ “
(الاعتصام : 365/1)
❀ علامہ غلام رسول سعیدی بریلوی صاحب لکھتے ہیں :
”اس سلسلہ میں صحیح قاعدہ یہ ہے کہ جس خاص عبادت کے کرنے کا محرک ہو اور اس کے کرنے سے کوئی مانع نہ ہو، اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کام قصد اترک کیا ہو، تو وہ کام کرنا یقیناً ناجائز امر بدعت ہے۔“
(شرح صحیح مسلم : 545/2)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عید میلاد کا سبب و محرک موجود تھا اور وہ سبب مجلس میلاد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ہے، اس کے کرنے میں کوئی بندش بھی نہیں تھی ، آپ نے اور صحابہ نے اسے قصداً ترک کیا، لہذا اب اس کا انعقاد یقیناً ”ناجائز امر بدعت“ ہے۔

اعمال میں بدعات : ایک تمثیلی جائزہ :

(1) اذان عیدین کی عدم مشروعیت پر دلیل :

عیدین سے پہلے اذان کا محرک موجود تھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے اسے قصداً ترک کیا، جبکہ اذان اللہ کا ذکر، شعار اسلام اور دعوت تامہ ہے، جو بظاہر عام شرعی دلیلوں کے تحت درج بھی ہو سکتی ہے، یہ کسی شرعی حکم کے خلاف بھی نہیں ہے، شریعت نے اس سے منع بھی نہیں کیا ، اذان عیدین کو اذانِ جمعہ پر قیاس بھی کیا جا سکتا تھا، اس کے باوجود یہ بدعت مذمومہ اور سیئہ ہے، وجہ ایک ہی ہے کہ اس کا محرک موجود تھا، کوئی مانع بھی نہیں تھا ، اس کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قصداً ترک کیا، لہذا بدعت ہے۔
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م : 728ھ) فرماتے ہیں :
هذا مثال لما حدث، مع قيام المقتضى له، وزوال المانع لو كان خيرا، فإن كل ما يبديه المحدث لهذا من المصلحة، أو يستدل به من الأدلة، قد كان ثابتا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ومع هذا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه وسلم، فهذا الترك سنة خاصة، مقدمة على كل عموم وكل قياس .
” یہ بدعت کی مثال ہے، حالانکہ یہ خیر کا کام ہوتا، تو (خیر القرون میں ) اس کا مقتضی بھی موجود تھا اور کوئی مانع بھی نہ تھا، بدعتی کے پیش نظر جتنی بھی ہیں یا جو بھی دلائل ہیں، وہ سب کچھ عہد نبوی میں بھی موجود تھا، لیکن اس سب کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل نہیں کیا، لہذا اسے ترک کرنا ہی سنت قرار پایا اور یہ دلیل تمام عمومی دلائل اور قیاسات پر مقدم ہے ۔“
(اقتضاء الصراط المستقيم : 597/2)

(ب) خروج ریح پر استنجا کی عدم مشروعیت:

❀ پانچ سو حنفی فقہا کا فتوی ہے:
بدعة وهو الاستنجاء من الريح .
”ہوا خارج ہونے پر استنجا بدعت ہے۔“
(فتاوی عالمگیری :50/1)
اگر کوئی شخص عدم ممانعت کی دلیل سے ہوا خارج ہونے پر استنجا کا فتوی دے، تو ان پانچ سوحنفی علما کی طرف سے کیا جواب ہوگا؟ یہ حضرات تو عدم فعل کو بدعت قرار دے رہے ہیں۔

(ج) سورت کافرون کی اجتماعی قراءت مکروہ ہے:

❀ فتاوی عالمگیری میں لکھا ہے:
قراءة الكافرون إلى الآخر مع الجمع مكروهة؛ لأنها بدعة لم تنقل عن الصحابة، ولا عن التابعين.
سورت کافرون کی اجتماعی قراءت مکروہ ہے، کیوں کہ یہ بدعت ہے، صحابہ و تابعین سے منقول نہیں ۔“
( فتاوی عالمگیری: 317/5)
عدم عمل کی بنیاد پر اسے مکروہ ، غیر مشروع اور بدعت کہا گیا ہے۔

(د) صلاة الرغائب بدعت ہے:

❀ علامہ ابراہیم حلبی حنفی (م :6 95ھ) فرماتے ہیں:
إن الصحابة والتابعين ومن بعدهم من الأئمة المجتهدين لم ينقل عنهم .
”صلاۃ الرغائب بدعت ہے، صحابہ، تابعین اور بعد کے ائمہ مجتہدین سے منقول نہیں۔“
(کبيري : 433)
رجب میں ادا کی جانے والی نماز ”الرغائب“ کے بدعت ہونے کی وجہ صحابہ و تابعین اور ائمہ مجتہدین سے عدم منقولیت بتائی گئی ہے۔

(ه) كسوف كا خطبه:

❀ علامہ مرغینانی حنفی (م:593ھ) فرماتے ہیں:
ليس فى الكسوف خطبة لأنه لم ينقل .
”نماز کسوف میں خطبہ نہیں ہے، کیوں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں۔“
(الهداية شرح بداية المبتدي : 56/1)
❀ علامه ابن مودود موصلی حنفی (م :683ھ) فرماتے ہیں:
لا يخطب لأنها لم تنقل .
”صلاۃ کسوف میں خطبہ نہ دیں، کیوں کہ وہ منقول نہیں۔“
(الإختيار لتعليل المختار : 70/1)
عدم منقول اور عدم فعل کو عدم مشروعیت پر دلیل بنایا جا رہا ہے۔

تنبیہ :

صلاۃ کسوف کا خطبہ مسنونہ ہے، اس پر صحیح احادیث دلالت کرتی ہیں ۔

قبر پر عرق گلاب چھڑکنا :

❀ علامہ ابن الحاج رحمہ اللہ (م : 773ھ) فرماتے ہیں:
ينبغي أن يتجنب ما أحدثه بعضهم من أنهم يأتون بماء الورد فيجعلونه على الميت فى قبره، وذلك لم يرد عن السلف رضي الله عنهم، وإذا لم يرد فهو بدعة، ثم العجب منهم كيف يأتون بماء الورد ويخرجون القطن من فمه وأنفه وتخرج المواد إذ ذاك وتشم منه الروائح الكريهة، ويتنجس المحل بإحدائهم النجاسة فى القبر بربهم ماء الورد، وقد تقدم هذا، وليس من السنة أن يبخر القبر ولا أن يفرش فيه ريحان، لأنه خروج عن فعل السلف ويكفيه من الطيب ما قد عمل له وهو فى البيت فنحن متبعون لا مبتدعون فحيث وقف سلفنا وقفنا .
بعض اہل بدعت قبر میں میت پر عرق گلاب چھڑکتے ہیں، جس سے بچنا ضروری ہے، کیوں کہ سلف میں اس کا وجود نہیں ملتا اور جو عمل سلف سے منقول نہ ہو، بدعت ہوتا ہے۔ اس سے بڑا عجوبہ یہ ہے کہ یہ لوگ میت کے منہ اور ناک سے روٹی کا ٹکڑا نکال لیتے ہیں، جس سے بد بودار مواد نکلنے لگتا ہے، پھر عرق گلاب سے نجاست دور کی جاتی ہے۔ اس مسئلہ پر پہلے بات ہو چکی ہے۔ اسی طرح قبر میں ”بخور“ بوٹی کی دھونی دینا اور ”ناز بو“ بچھانا بھی نبوی طریقہ نہیں، کیوں کہ یہ سلف کی مخالفت ہے، بلکہ میت کو گھر میں لگائی گئی خوش بو پر ہی اکتفا کر لینا چاہیے۔ ہم متبع ہیں، مبتدع نہیں۔ ہم وہیں رک جائیں گے جہاں سلف رک گئے تھے ۔“
(المدخل : 262/3)

عید غدیر :

❀ علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللہ (م :702 ھ) فرماتے ہیں :
قد منعنا إحداث ما هو شعار فى الدين، ومثاله : ما أحدثته الروافض من عيد ثالث، سموه عيد الغدير، وكذلك الاجتماع وإقامة شعاره فى وقت مخصوص على شيء مخصوص، لم يثبت شرعا، وقريب من ذلك أن تكون العبادة من جهة الشرع مرتبة على وجه محصوص، فيريد بعض الناس أن يحدث فيها أمرا آخر لم يرد به الشرع، زاعما أنه يدرجه تحت عموم، فهذا لا يستقيم، لأن الغالب على العبادات التعبد، ومأخذها التوقيف .
”ہم شعار دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے روکتے ہیں، جیسا کہ رافضیوں نے ”عید الغدیر“ کے نام سے تیسری عید گھڑ لی ہے۔ بطور شعار کسی خاص وقت اور ہیئت پر کوئی اجتماع قائم کرنا بدعت ہے، اسی طرح کسی خاص ہیئت اور طریقہ پر مشروع عبادت میں اس خیال سے ایک زائد چیز داخل کردینا کہ یہ عمومی دلائل سے ثابت ہے، تو یہ بالکل درست نہیں، کیوں کہ عبادات تعبدی ہیں اور ان کے دلائل تو قیفی ہیں ۔ “
( إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام : 200/1)
واضح رہے کہ بدعات یا تو عام دلائل کا فرد ہی نہیں ہوتیں یا ان سے مستثنی ہوتی ہیں، الہذا بدعت کے ثبوت پر عام اور مطلق دلیل سے استدلال کرنا درست نہیں ہے۔
عید میلاد اور دیگر بدعات کے ثبوت میں جو دلائل پیش کئے جاتے ہیں، کیا صحابہ کرام، تابعین عظام، ائمہ دین اور سلف صالحین ان سے بے خبر تھے؟ اگر ان دلائل سے مروّجہ عید میلاد وغیرہ کا جواز یا استحباب ثابت ہوتا ، تو یہ لوگ ضرور اس کا اہتمام کرتے اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود مقتضی اور عدم مانع کے ترک کیا ہے، لہذا اسے ترک کرنا سنت اور انعقاد بدعت سیئہ و مذمومہ ہے۔

اصول نمبر ⑤

❀ بدعت کے ناجائز ہونے کی ایک وجہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں :
لا يجعل أحدكم للشيطان شيئا من صلاته يرى أن حقا عليه أن لا ينصرف إلا عن يمينه لقد رأيت النبى صلى الله عليه وسلم كثيرا ينصرف عن يساره .
”اپنی نماز میں اس طرح شیطان کا حصہ نہ بنا لیں کہ (سلام کے بعد ) دائیں جانب سے مقتدیوں کی طرف پھرنا اپنے اوپر لازم کر لیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی دفعہ بائیں جانب سے پھرتے دیکھا ہے۔“
(صحيح البخاري : 852 ، صحیح مسلم : 707)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کسی جائز و مستحب کام پر اصرار کرنا، اس کے ساتھ واجب کا معاملہ کرنا، اسے شیطانی کام بنا دیتا ہے۔
❀ علامہ طیبی رحمہ اللہ (م :743 ھ) فرماتے ہیں:
فيه أن من أصر على أمر مندوب وجعله عزما ولم يعمل بالرحصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف بمن أصر على بدعة ومنكر
”اس حدیث میں بیان ہے کہ جو شخص مستحب عمل پر دوام کرے، اسے عزیمت سمجھ کر رخصت پر عمل چھوڑ دے، تو شیطان نے اسے گمراہ کر دیا ہے، پھر اس کا کیا بنے گا، جو بدعت اور منکر عمل پر ہمیشگی کرتا ہے؟“
(شرح المشکوۃ : 1051/3)

اصول نمبر ⑥

❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (م : 774ھ) فرماتے ہیں :
أما أهل السنة والجماعة فيقولون فى كل فعل وقول لم يثبت عن الصحابة : هو بدعة؛ لأنه لو كان خيرا لسبقونا إليه، لأنهم لم يتركوا خصلة من خصال الخير إلا وقد بادروا إليها .
”اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے کہ ہر وہ قول وفعل، جو صحابہ کرام سے ثابت نہ ہو، بدعت ہے، اگر وہ کارِ خیر ہوتا، تو وہ ہم سے پہلے یہ کام کر جاتے ، کیونکہ وہ کوئی نیک کام نہ چھوڑتے تھے ، بلکہ اس میں جلدی کرتے تھے ۔“
(تفسير ابن كثير : 567/5 )
اگر مروجہ جشن عید میلاد یا دیگر بدعات کی کوئی اصل ہوتی ، تو صحابہ کرام اس میں پہل کرتے ، کیونکہ وہ سب سے بڑھ کر قرآن وحدیث کے معانی، مفاہیم ومطالب اور تقاضوں کو سمجھنے والے اور ان کے مطابق زندگیاں ڈھالنے والے تھے۔