بدعتی کی مذمت قرآن، حدیث اور سلف کے اقوال کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب عید میلا النبیﷺ کی شرعی حیثیت سے ماخوذ ہے۔

① امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ ﴿وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِيْنَ﴾
(الأعراف : 152)
”ہم افترا بازوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ۔ “ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
كل صاحب بدعة ذليل .
”ہر بدعتی ذلیل ہوتا ہے۔“
(تفسير ابن أبي حاتم : 1571/5، وسنده صحيح)
② ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ الْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلْلٌ وَهذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوْا عَلَى اللهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ
(النحل : 116)
”ہر چیز کو اپنی صواب دید سے حلال یا حرام نہ کر لیا کرو، یہ اللہ پر جھوٹ ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھنے والے کامیاب نہیں ہوں گے۔“
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (م : 774 ھ) فرماتے ہیں :
يدخل فى هذا كل من ابتدع بدعة ليس له فيها مستند شرعي أو حلل شيئا مما حرم الله أو حرم شيئا مما أباح الله بمجرد رأيه وتشهيهه .
”اس آیت کا مصداق بدعت جاری کرنے والے تمام لوگ ہیں، ان کے پاس کوئی شرعی دلیل نہیں ہوتی اور وہ محض اپنی رائے اور نفسانی خواہش سے اللہ کی
حرام کردہ چیزوں کو حلال اور اس کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔“
(تفسیر ابن کثیر : 779/2)
③ فرمان باری تعالی ہے:
﴿هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ﴾
(آل عمران : 7)
”اسی ذات نے آپ پر کتاب نازل کی، اس کی بعض آیات محکم ہیں، بعض متشابہہ ہیں، محکم آیات اصل کتاب ہیں ۔ ٹیڑھے دل والے فتنہ و تاویل باطلہ کی
غرض سے متشابہ آیات کا سہارا لیتے ہیں۔“
❀ امام طبری رحمہ اللہ (م : 310 ھ ) فرماتے ہیں :
هذه الآية وإن كانت نزلت فيمن ذكرنا أنها نزلت فيه من أهل الشرك، فإنه معنى بها كل مبتدع فى دين الله بدعة، فمال قلبه إليها ، تأويلا منه لبعض متشابه آي القرآن، ثم حاج به وجادل به أهل الحق، وعدل عن الواضح من أدلة آبه المحكمات إرادة منه بذلك اللبس على أهل الحق من المؤمنين، وطلبا لعلم تأويل ما تشابه عليه من ذلك كائنا من كان
” اگر چہ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے، لیکن اس سے مراد ہر بدعتی ہے، جو اللہ کے دین میں بدعت جاری کرتا ہے، پھر قرآن کی بعض متشابہ آیات میں تاویل کرتے ہوئے اس کا دل اس بدعت کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور وہ اہل حق سے جھگڑا کرتے ہوئے محکم آیات میں موجود واضح حق سے ہٹ جاتا ہے، اس کا ارادہ ہوتا ہے کہ مومنوں سے حق چھپائے اور متشابہ آیات کی تاویل تلاش کرے، چاہے جو بھی ہو ۔ “
(تفسیر الطبري : 181/3)
④ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ﴾
(البقرة : 16)
”انہیں لوگوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کا سودا کیا ہے، لیکن ان کی تجارت سودمند نہ رہی ، کہ یہ لوگ ہدایت یافتہ نہ تھے ۔“
⑤ الله تعالىٰ كا فرمان هے:
وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَنثُورًا
(الفرقان : 23)
”ہم ان کے اعمال کا جائزہ لیں گے اور انہیں اڑتا ہوا غبار بنا دیں گے۔“
⑥ فرمان باری تعالی ہے :
فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ
(النساء : 140)
”آپ اس وقت تک ان کے ساتھ بیٹھک نہ کریں جب تک کہ وہ گفتگو کا موضوع بدل نہیں لیتے ، ورنہ آپ میں اور ان میں کوئی فرق نہ ہوگا۔“
❀ علامہ قرطبی رحمہ اللہ (م : 671 ھ ) فرماتے ہیں:
﴿إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ﴾ فدل بهذا على وجوب اجتناب أصحاب المعاصي إذا ظهر منهم منكر، لأن من لم يجتنبهم فقد رضي فعلهم، والرضا بالكفر كفر .
﴿إِنَّكُمْ إِذَا مِثْلُهُمْ﴾ کے الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ اہل معاصی جب معصیت کا پرچار کر رہے ہوں، تو ان سے اجتناب واجب ہے، جو ان سے اجتناب نہیں کرتا ، وہ ان کی برائی سے راضی ہے اور کفر پر راضی ہو جانا بھی کفر ہے۔“
(تفسير القرطبي : 418/5)
⑦ فرمان باری تعالیٰ ہے :
﴿فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾
(الأنعام : 68)
”یاد آنے پر ظالموں سے کنارہ کشی کر لیجئے۔“
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (م : 774ھ) فرماتے ہیں:
ألا يجلس مع المكذبين الذين يحرفون آيات الله ويضعونها على غير مواضعها، فإن جلس أحد معهم ناسيا﴿فَلا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى﴾ بعد التذكر ﴿مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾.
”آیات قرآنیہ میں تحریف کرنے والوں اور انہیں مطلب برآوری کے لئے استعمال کرنے والے جھوٹوں کے ساتھ نہ بیٹھئے ، اگر بھولے سے بیٹھ جائیں ،تو یاد آنے پر کنارہ کر لیں۔ “
(تفسیر ابن کثیر : 278/3)
❀ امام ابو بکر آجری رحمہ اللہ (م : 360ھ) فرماتے ہیں:
كل من عمل عملا أو تكلم بكلام لا يوافق كتاب الله عز وجل، ولا سنة رسوله صلى الله عليه وسلم، وسنة الخلفاء الراشدين، وقول صحابته رضي الله عنهم فهو بدعة، وهو ضلالة ، وهو مردود على قائله أو فاعله
”ہر ایک قول و عمل، جو کتاب اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سنت خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور اقوال صحابہ رضی اللہ عنہم کے خلاف ہو، وہ بدعت ہے، ضلالت ہے اور اپنے قائل و فاعل کے منہ پر مار دیا جائے گا۔“
(الأربعون حديثا : 8)
⑧ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں :
كان الناس يسألون رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخير، وكنت أسأله عن الشر ، مخافة أن يدركني، فقلت : يا رسول الله، إنا كنا فى جاهلية وشر، فجاء نا الله بهذا الخير، فهل بعد هذا الخير من شر؟ قال : نعم، قلت : وهل بعد ذلك الشر من خير؟ قال : نعم، وفيه دخن، قلت : وما دخنه؟ قال : قوم يهدون بغير هديي تعرف منهم وتنكر، قلت : فهل بعد ذلك الخير من شر؟ قال : نعم، دعاة على أبواب جهنم، من أجابهم إليها قذفوه فيها، قلت : يا رسول الله صفهم لنا، قال : هم من جلدتنا، ويتكلمون بألسنتنا، قلت : فما تأمرني إن أدركني ذلك؟ قال : تلزم جماعة المسلمين وإمامهم، قلت : فإن لم يكن لهم جماعة ولا إمام؟ قال : فاعتزل تلك الفرق كلها، ولو أن تعص بأصل شجرة، حتى يدركك الموت وأنت على ذلك .
”لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق پوچھا کرتے تھے اور میں شر کے متعلق سوال کرتا، مجھے اندیشہ تھا کہ شرکی گرفت میں نہ آجاؤں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! ہم جاہلیت اور شر میں مبتلا تھے ، اللہ نے ہمیں خیر سے نواز دیا، کیا خیر کے بعد کوئی شر بھی آئے گا؟ فرمایا : جی ہاں! عرض کیا : اس شہر کے بعد کوئی خیر آئے گی؟ فرمایا : جی ہاں! لیکن اس میں کمزوری ہوگی ، عرض کیا : کمزوری کیا ہوگی؟ فرمایا : کچھ لوگ میری سنت اور طریقہ کے خلاف چلیں گے، آپ ان کی کچھ باتیں اچھی خیال کریں گے اور کچھ بری، عرض کیا : کیا اس کے بعد شر آئے گا؟ فرمایا : جی ہاں! جہنم کے دروازوں پر آواز لگانے والے ہوں گے، جو ان کی طرف جائے گا اسے جہنم میں پھینک دیں گے۔کہا: اللہ کے رسول! ان کا تعارف تو کروادیں؟ فرمایا : وہ ہمارے ہی قبیلے سے ہوں گے اور وہ ہماری زبان میں کلام کریں گے، سوال کیا : اگر میرے جیتے وہ دور آگیا تو میں کیا کروں؟ فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امیر کے ساتھ رہنا، عرض کیا : اگر ان کی نہ جماعت ہو اور نہ ہی امام تو ؟ فرمایا : تمام فرقوں سے دور چلے جانا، خواہ وہاں درختوں کی جڑیں چبانی پڑیں اور وہیں فوت ہو جانا۔“
(صحيح البخاري : 7084، صحیح مسلم : 1847)
❀ علامہ نووی رحمہ اللہ (م : 676 ھ ) فرماتے ہیں:
قال العلماء : هؤلاء من كان من الأمراء يدعو إلى بدعة أو ضلال آخر كالخوارج والقرامطة وأصحاب المحنة .
”اہل علم کہتے ہیں کہ اس سے مراد بدعات اور دیگر گمراہیوں کی طرف دعوت دینے والے امرا ہیں، مثلا خارجی، قرامطہ اور اصحاب محنہ (معتزلہ)۔“
(شرح صحیح مسلم : 320/6)
⑨ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من وقر صاحب بدعة فقد أعان على هدم الإسلام .
”جس نے بدعتی کی تعظیم کی ، اس نے انہدام اسلام پر معاونت کی ۔“
(الشريعة للآجري : 2040 ، تاريخ ابن عساكر : 456/26، وسنده صحيح)
⑩ سید نا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من أحدث حدثا أو آوى محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين ، لا يقبل منه صرف ولا عدل .
”بدعت جاری کرنے والے یا بدعتی کو سہارنے والے پر اللہ کی لعنت، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہوتی ہے۔ اس کی کوئی فرض و نفل عبادت قبول نہیں ہوتی۔“
(مسند الطيالسي : 299، مسند المسدّد (اتحاف الخيرة المهرة : 6850)، واللفظ له، مسند الإمام أحمد : 191،180،178/2، 192، 194، 211 ، وسنده حسن)
⑪ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إني على الحوض حتى أنظر من يرد على منكم، وسيؤخذ ناس دوني، فأقول : يا رب مني ومن أمتي، فيقال : هل شعرت ما عملوا بعدك، والله ما برحوا يرجعون على أعقابهم، فكان ابن أبى مليكة، يقول : اللهم إنا نعوذ بك أن نرجع على أعقابنا، أو نفتن عن ديننا .
”میں حوض کوثر پر آپ کا انتظار کروں گا، دیکھوں گا کہ کون میرے پاس آتا ہے۔ وہاں کچھ لوگوں کو مجھ سے دور کر دیا جائے گا، میں عرض کروں گا : میرے رب ! یہ میرے اپنے ہیں، یہ میرے امتی ہیں، چنانچہ مجھ سے کہا جائے گا : آپ ان کے کارناموں سے واقف ہیں؟ واللہ ! یہ لوگ تا حیات گمراہی کے رسیا ر ہے۔ راوی حدیث ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہا کرتے تھے : اے اللہ ! ہم اس بات سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم گمراہی کے رسیا ہوں یا اپنے دین کے بارے میں فتنے میں مبتلا ہو جائیں ۔“
(صحیح البخاري : 6593، صحيح مسلم : 2293)
⑫ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ کی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
ألا وإني فرطكم على الحوض، وأكاثر بكم الأمم، فلا تسودوا وجهي، ألا وإني مستنقذ أناسا، ومستنقة مني أناس، فأقول : يا رب أصيحابي؟ فيقول : إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك .
سنو! میں حوض (کوثر) پر آپ کا پیش رو ہوں گا اور آپ کی کثرت میرے لئے دوسری امتوں پر وجہ تفاخر ہوگی۔ مجھے (روز قیامت) شرمندہ نہ کر دینا ”سنو! میں کچھ افراد کو ( جہنم سے ) چھڑاؤں گا اور کچھ افراد مجھ سے چھین لیے جائیں گے ( اور جہنم رسید کر دیئے جائیں گے ) میں کہوں گا : با الہا! میرے ساتھی؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، آپ کو معلوم نہیں، انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعات جاری کیں؟“
(سنن ابن ماجه : 3057، حسن، وأخرجه مسدّد في مسنده كما في مصباح الزجاجة : 207/3، وأحمد : 412/5، والنسائي (الكبرى : 4099)، وسنده صحيح)
علامہ بوصیر ی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”صحیح“ کہا ہے۔
(مصباح الزجاجة : 207/3)
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أشد الناس عذابا يوم القيامة، رجل قتله نبي، أو قتل نبيا، وإمام ضلالة، وممكل من الممكلين .
”روز قیامت سب سے زیادہ عذاب ان چار کو ہو گا، جسے نبی قتل کرے، یا وہ نبی کو قتل کرے، تیسرا بدعت گر اور چوتھا تصویر گر“
(مسند الإمام أحمد : 497/1، وسنده حسن)
⑭ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
يكون فى آخر الزمان دجالون كذابون، يأتونكم من الأحاديث بما لم تسمعوا أنتم، ولا آباؤكم، فإياكم وإياهم، لا يضلونكم، ولا يفتنونكم.
”آخری زمانہ میں دجال و کذاب پیدا ہوں گے، جو ایسی باتیں کریں گے، جو آپ اور آپ کے آبا واجداد نے سنی تک نہ ہوں گی۔ بچ کے رہنا، کہیں وہ آپ
کو گمراہ اور فتنہ کا شکار نہ کر دیں ۔“
(صحیح مسلم : 7)