① مسیب بن نجبه رحمہ اللہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے:
إني تركت قوما بالمسجد يقولون : من سبح كذا وكذا فله كذا وكذا، قال : قم يا علقمة فلما رآهم، قال : يا علقمة اشغل عني أبصار القوم، فلما سمعهم وما يقولون، قال : إنكم لمتمسكون بذنب ضلالة، أو إنكم لأهدى من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم .
”میں نے مسجد میں چند لوگوں کا حلقہ دیکھا وہ کہہ رہے تھے کہ جس نے اتنی مرتبہ سبحان اللہ کہا، اس کے لئے اتنا اجر ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : علقمہ ! اٹھئے ، میرے ساتھ چلئے ، جب آپ نے ان کا حلقہ دیکھا، تو علقمہ سے کہا : ان کا دھیان دوسری طرف کریں، پھر جب آپ نے ان کا ذکر سن لیا تو فرمایا : یا تو تم گمراہ ہو یا اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہدایت والے!“
(المعجم الكبير للطبراني : 125/9، ح : 8628، حسن)
❀ اس سے ملتے جلتے ایک اور واقعہ کے بعد ابن مسعود ی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
إنكم لأهدى من محمد صلى الله عليه وسلم، وأصحابه، إنكم لمتمسكون بطرف ضلالة .
”یا تو تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو یا گمراہی کا راستہ چن چکے ہو۔“
(المعجم الكبير للطبراني : 128/9، ح : 8639، وسنده صحيح)
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ خوارج سے مناظرہ کے لئے گئے ، تو وہ کہنے لگے :
فما جاء بك؟ قلت : أتيتكم من عند صحابة النبى صلى الله عليه وسلم من المهاجرين والأنصار، لأبلغكم ما يقولون المخبرون بما يقولون فعليهم نزل القرآن، وهم أعلم بالوحي منكم .
”کیسے آنا ہوا؟ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے کہا : میں مہاجرین و انصار صحابہ کی طرف سے آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں میں آپ کو ان کی وحی پر مبنی رائے سے آگاہ کرسکوں ، قرآن ان کی موجودگی میں نازل ہوا اور وہ وحی کو آپ سے زیادہ جانتے تھے۔“
(المُستدرك على الصحيحين للحاكم : 150/2، ح : 2656، وسنده حسن)
امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے مسلم کی شرط پر ”صحیح“ کہا ہے اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
③ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ (م : 101ھ) نے منکرین تقدیر کے رد میں فرمایا:
لقد قره وا منه ما قد قرأتم، وعلموا من تأويله ما جهلتم، ثم قالوا بعد ذلك : كله كتاب وقدر .
”جو قرآن آپ پڑھ رہے ہیں، یہی سلف نے پڑھا تھا، اس کا سلف نے جو معنی و تفسیر کیا، آپ اس سے جاہل اور کورے رہ گئے ، وہ آپ کے پیش کردہ دلائل پڑھنے کے باوجود قضا وقدر کے قائل تھے۔“
(سنن أبي داود : 4612 ، الشريعة للآجري : 223 وسنده حسن)
④ علامہ مقریزی رحمہ اللہ (م : 845ھ) فرماتے ہیں؛
أصل كل بدعة فى الدين البعد عن كلام السلف والإنحراف عن اعتقاد الصدر الأول .
”کلام سلف سے دوری اور صدر اول کے عقیدہ سے انحراف ہر بدعت کی جڑ ہے۔“
(المَواعِظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار : 198/4)
⑤ علامہ شاطبی رحمہ اللہ (م : 790ھ) فرماتے ہیں :
لو كان دليلا عليه لم يعرب عن فهم الصحابة والتابعين، ثم يفهمه هؤلاء ، فعمل الأولين كيف كان مصادم لمقتضى هذا المفهوم ومعارض له، ولو كان ترك العمل فما عمل به المتأخرون من هذا القسم مخالف لإجماع الأولين، وكل من خالف الإجماع فهو مخطىء، وأمة محمد صلى الله عليه وسلم لا تجتمع على ضلالة ، فما كانوا عليه من فعل أو ترك فهو السنة والأمر المعتبر، وهو الهدى، وليس ثم إلا صواب أو خطة، فكل من خالف السلف الأولين فهو على خطأ، وهذا كاف .
”اس پر کوئی دلیل ہوتی ، تو اس کا فہم صحابہ و تابعین سے غائب رہ جا نا ممکن نہیں تھا، کہ بعد والے اسے سمجھتے۔ سلف نے اگر کوئی عمل چھوڑا تو وہ دلیل کے درست مفہوم سے نابلد ہونے کی بنا پر نہیں چھوڑا ہے، بلکہ وہ دلیل کے صحیح مفہوم سے واقف تھے، متاخرین میں سلف کا مخالف عمل اگر آ گیا ہے تو وہ سلف کے اجماع کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہوگا۔ امت محمدیہ علی گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی، لہذا سلف جس کام کے کرنے یا چھوڑنے پر متفق ہوں، وہی سنت اور معتبر ہے اور وہی ہدایت ہے۔ کسی کام میں دو ہی احتمال ہوتے ہیں، درستی یا خطا اور سلف کی مخالفت کرنے والا یقیناً خطا کار ہے۔“
(الموافقات : 72/3)
❀ نیز فرماتے ہیں :
لهذا كله يجب على كل ناظر فى الدليل الشرعي مراعاة ما فهم الأولون، وما كانوا عليه فى العمل به، فهو أحرى بالصواب، وأقوم فى العلم والعمل .
”ان تمام امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے شرعی دلیل میں تدبر کرنے والے ہر شخص کے لیے سلف کے فہم و عمل کا پاس رکھنا فرض ہے، کیونکہ وہی درستی کے زیادہ قریب اور علم و عمل میں پختہ ہیں ۔“
(الموافقات : 77/3)
❀ مزید فرماتے ہیں :
لا تجد مبتدعا ممن ينسب إلى الملة إلا وهو يستشهد على بدعته بدليل شرعي، فينزله على ما وافق عقله وشهوته.
”آپ اسلام کی طرف منسوب تمام بدعتیوں کو دیکھیں گے کہ وہ اپنی بدعت پر دلیل شرعی سے استدلال کرتے ہیں، پھر اسے اپنی عقل وخواہش کے مطابق ڈھال لیتے ہیں ۔“
(الاعتصام : 134/1)
❀ مزید فرماتے ہیں:
فالحذر الحذر من مخالفة الأولين ، فلو كان ثم فضل ما ، لكان الأولون أحق به، والله المستعان .
”بچیں بچیں! سلف کی مخالفت سے بچیں۔ متاخرین کے اختیار کردہ کاموں میں فضیلت ہوتی تو سلف ان کاموں کو ضرور اپنا لیتے ۔“
(الموافقات : 56/3)
❀ مزید فرماتے ہیں :
في كثير من الأمور يستحسنون أشياء، لم يأت فى كتاب ولا سنة ولا عمل بأمثالها السلف الصالح، فيعملون بمقتضاها ويثابرون عليها، ويحكمونها طريقا لهم مهيعا وسنة لا تخلف، بل ربما أوجبوها فى بعض الأحوال .
”اہل بدعت بیسیوں ان کاموں کو مستحب جانتے ہیں، جن پر کتاب وسنت میں دلیل ہی نہیں اور نہ سلف نے وہ کام کئے ہیں۔ بدعتی اس طرح کے کام دوام کے ساتھ کرتے ہیں اور انہیں اپنے لیے واضح راستہ اور سنت غیر معارضہ سمجھتے ہیں، بلکہ بعض اوقات اسے واجب بھی قرار دیتے ہیں۔“
(الاعتصام : 212/1)
⑥ حافظ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ (م : 744ھ) فرماتے ہیں :
لا يجوز إحدات تأويل فى آية أو سنة لم يكن على عهد السلف، ولا عرفوه ولا بينوه للأمة، فإن هذا يتضمن أنهم جهلوا الحق فى هذا، وضلوا عنه، واهتدى إليه هذا المعترض المتأخر .
”کسی آیت یا حدیث کا ایسا مفہوم و مطلب لینا جائز نہیں ، جو زمانہ سلف میں نہیں تھا ، سلف نے یہ مفہوم نہیں سمجھا تھا اور امت کے لئے بیان نہیں کیا تھا۔ اگر ایسا مفہوم لینا جائز سمجھا جائے تو ماننا پڑے گا سلف اس بات کی حقیقت سے واقف نہ ہو سکے اور بعد میں آنے والا حقیقت کو پا گیا ہے۔“
(الصارم المنكي في الرد على السبكي، ص 318)
⑦ امام ابن الانباری رحمہ اللہ (م : 328 ھ) فرماتے ہیں :
من قال فى القرآن قولا يوافق هواه، لم يأخذ عن أئمة السلف، فأصاب، فقد أخطأ، لحكمه على القرآن بما لا يعرف أصله، ولا يقف على مذهب أهل الأثر والنقل فيه .
” جس شخص نے قرآنِ کریم کی تفسیر میں اپنی خواہش سے ایسی بات کہی، جو ائمہ سلف سے ثابت نہیں، اگر وہ درست ہے، تو بھی غلط ہے، کیونکہ اس نے قرآنِ کریم پر ایسا حکم لگایا ہے، جس کی وہ دلیل نہیں جانتا تھا اور نہ ہی وہ اس بارے میں اہل اثر ونقل (سلف ) کے مذہب پر واقف ہوا ہے۔“
(الفقيه والمتفقه للخطيب : 2238، وسنده صحيح)
⑧ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م : 728ھ) فرماتے ہیں:
إن الصحابة والتابعين والأئمة إذا كان لهم فى تفسير الآية قول وجاء قوم فسروا الآية بقول آخر لأجل مذهب اعتقدوه وذلك المذهب ليس من مذاهب الصحابة والتابعين لهم بإحسان صاروا مشاركين للمعتزلة وغيرهم من أهل البدع فى مثل هذا، وفي الجملة من عدل عن مذاهب الصحابة والتابعين وتفسيرهم إلى ما يخالف ذلك كان مخطئا فى ذلك بل مبتدعا وإن كان مجتهدا مغفورا له خطوه فالمقصود بيان طرق العلم وأدلته وطرق الصواب ونحن نعلم أن القرآن قرأه الصحابة والتابعون وتابعوهم وأنهم كانوا أعلم بتفسيره ومعانيه كما أنهم أعلم بالحق الذى بعث الله به رسوله صلى الله عليه وسلم فمن به خالف قولهم وفسر القرآن بخلاف تفسيرهم فقد أخطأ فى الدليل والمدلول جميعا .
” صحابہ وتابعین کا قرآن کی تفسیر میں ایک قول ہو اور بعد والے اپنے مذہب کی تائید میں اس قول کے خلاف بات کہہ دیں، تو یہ انداز فکر صحابہ و تابعین والا نہیں، بلکہ مشرکین اور معتزلہ والا ہے ، خلاصہ کلام یہ کہ مذہب صحابہ وتابعین کے مخالف بات کہنے والا خطا کار بلکہ بدعتی ہے، اگر مجتہد ہوا، تو اس خطا پر اجر پائے گا، ہمارا مقصد علم کے راستوں اور دلائل کا بیان اور ان میں سے درست راستے کی نشاندہی ہے، ہمیں معلوم ہے کہ قرآن صحابہ، تابعین اور تبع تابعین نے پڑھا تھا اور وہ لوگ قرآن کا معنی و تفسیر ہم سے اسی طرح زیادہ جانتے ، جس طرح حق ہم سے زیادہ جانتے تھے، تو جس نے ان کی مخالفت میں بات کہی یا تفسیر قرآن میں ان کی مخالفت کی وہ دلیل و مدلول دونوں میں خطا کار ہے۔“
(مجموع الفتاوى : 362/13)
⑨ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (م : 751ھ) فرماتے ہیں :
إن إحداث قول فى تفسير كتاب الله الذى كان السلف والأئمة على خلافه يستلزم أحد الأمرين، إما أن يكون خطأ فى نفسه، أو تكون أقوال السلف المخالفة له خطأ، ولا يشك عاقل أنه أولى بالغلط والخطأ من قول السلف
” فہم سلف اور ائمہ سنت کے خلاف قرآن کی تفسیر بیان کرنے سے دو باتوں میں سے ایک بات لازم آتی ہے، بیان کرنے والا خود غلط ہوگا یا سلف کے اقوال غلط ہوں گے اور کسی عقلمند کے لئے اس میں شک کی گنجائش نہیں کہ سلف کی مخالفت کرنے والے کی بات غلطی اور خطا پر مبنی ہے۔“
(مختصر الصواعق المُرسَلة : 128/2)
مقصد یہ ہے کہ عید میلاد کا کوئی شرعی ثبوت یا جواز ہوتا ، تو سلف صالحین اور ائمہ اہل سنت میلاد منانے میں پہل کرتے ، اگر انہوں نے یہ کام نہیں کیا تو یقیناً جائز نہیں ہے۔
⑩ علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (م : 792ھ) فرماتے ہیں :
صاروا يبتدعون من الدلائل والمسائل ما ليس بمشروع، ويعرضون عن الأمر المشروع .
”بعض مشروع کام سے اعراض برت کر ایسے کام گھڑنے لگے ہیں، جن کا شریعت سے تعلق ہی نہیں ۔“
(شرح العقيدة الطحاوية : 593)
⑪ علامہ سیوطی رحمہ اللہ (م : 911ھ) فرماتے ہیں:
مثل طوائف من أهل البدع اعتقدوا مذاهب باطلة وعمدوا إلى القرآن فتأولوه على رأيهم وليس لهم سلف من الصحابة والتابعين لا فى رأيهم ولا فى تفسيرهم.
”اہل بدعت کے مختلف گروہ ہیں، یہ باطل عقائد کے حامل ہیں اور دلائل قرآنیہ کو اپنی آراء کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ ان کی رائے اور ان کی بیان کردہ تفسیر صحابہ و تابعین کی آراء و تفاسیر سے ہٹ کر ہوتی ہیں ۔“
(الإتقان : 206/4)
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب عید میلا النبیﷺ کی شرعی حیثیت سے ماخوذ ہے۔