اہلیہ کا دودھ پینے کا حکم حدیث کی روشنی میں

یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

اگر کوئی شخص غلطی سے اپنی اہلیہ کا دودھ پی لے تو کیا میاں بیوی والا رشتہ قائم رہے گا،يا ختم ہو جاتا ہے؟

جواب :

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں:
”ایک آدمی نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے خود سے سوال کیا: ”میں نے اپنی اہلیہ کا دودھ چوس لیا ہے اور وہ میرے پیٹ میں چلا گیا ہے۔“ تو ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں سمجھتا ہوں وہ تجھ پر حرام ہو چکی ہے۔“ تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم اس آدمی کو جو فتویٰ دے رہے ہو اس پر غور کرو؟“ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ کیا کہتے ہیں؟“ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رضاعت صرف وہی ہے جو دو سال میں ہو۔“ ابو موسیٰ نے فرمایا: ”جب تک یہ عالم تم میں موجود ہے تم مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرو۔“
الموطا للمالک کتاب الرضاع (14)، مسند أحمد (432/1، ح: 4114)، إرواء الغليل (223/7) (224)
اس صحیح روایت سے معلوم ہوا کہ حرمت رضاعت جس مدت میں ہوتی ہے وہ دو سال تک ہے، جیسا کہ قرآن حکیم نے بھی تین مقامات پر اس کی وضاحت کی ہے کہ مدت رضاعت دو سال ہے، لہٰذا بڑی عمر میں رضاعت ثابت نہیں ہوتی اور نہ مرد پر عورت حرام ہوتی ہے۔ فقیہ امت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فتویٰ قرآن حکیم کے بالکل مطابق ہے اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بھی اس کی تائید کر دی ہے۔ یاد رہے کہ عورت کا دودھ مرد کے لیے نہیں ہے، بلکہ عورت کے بچوں کے لیے ہے، کتاب و سنت کی نصوص سے ماں کا دودھ بچوں کے حق کے لیے ثابت ہوتا ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے