سوال :
کیا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کا کسی صحیح حدیث میں ذکر موجود ہے اور وہ کیسے آدمی تھے؟
جواب :
اویس قرنی رضی اللہ عنہ بہت اچھے تابعی تھے۔ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تمھارے پاس یمن سے ایک آدمی آئے گا، جسے اویس کہا جاتا ہو گا، جو یمن کو اپنی ماں کے بغیر نہیں چھوڑے گا۔ اس کے جسم پر سفیدی کا نشان ہوگا، اس نے اللہ سے دعا کی تو اللہ نے اس کی سفیدی ختم کر دی، سوائے ایک دینار یا درہم کی جگہ کے، تم میں سے جو شخص بھی اس سے ملاقات کرے، چاہیے کہ وہ تمھارے لیے بخشش کی دعا کرے۔“
(مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل أويس القرني رضي الله عنه 2542)
اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بے شک تابعین میں سے سب سے بہتر تابعی وہ ہے جسے اویس کہا جاتا ہے، اس کی ماں ہے اور اس پر سفیدی کا نشان ہے، اس سے کہنا کہ وہ تمھارے لیے بخشش کی دعا کرے۔
(مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل أويس القرني رضي الله عنه 2546)
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ بڑے نیک اللہ کے بندے اور ولی تھے اور سب سے اچھے تابعی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ان سے دعا کروانے کا کہا۔ رہا ان کے دانت نکلوانے والا واقعہ تو ہمیں یہ کسی بھی صحیح روایت میں نہیں ملا۔