ام المؤمنین عائشہ ؓ سے غسل جنابت کا طریقہ: قرآن و حدیث کی روشنی میں
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

ایک حدیث میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے غسل جنابت کا طریقہ پوچھا گیا تو انھوں نے پانی منگوا کر پردے کے پیچھے غسل کر کے بتایا۔ کچھ لوگ اس کو غلط رنگ دے رہے ہیں کہ آپ نے بغیر کپڑوں کے غسل کر کے دکھایا۔ اس حدیث کی مفصل وضاحت فرمائیں۔

جواب:

اللہ تبارک و تعالیٰ کا دین قرآن و حدیث میں محصور ہے۔ ہمارے اوپر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور فرماں برداری لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا مقصود و مطلوب یہ ہے کہ اللہ کے قرآن کو صحیح طور پر تسلیم کیا جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا معنی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث و سنت کو تسلیم کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کار کے مطابق زندگی بسر کی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور اسوۂ کامل کو اپنی زندگیوں میں جگہ دی جائے۔ بعض لوگ قرآن حکیم کے نام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کو غلط رنگ دے کر قرآن و حدیث میں ٹکراؤ کے درپے ہیں اور بعض جعلی قواعد وضوابط وضع کر کے کتب احادیث میں موجود احادیث رسول کو رد کرنے کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو عربی علوم سے نابلد و ناواقف ہیں اور عربی کتاب کا ایک صفحہ بھی پڑھنے پر قدرت نہیں رکھتے، بلکہ بعض نادان قرآن حکیم کے الفاظ بھی صحیح طور پر نہیں پڑھ سکتے۔ ہمارا ایسے کئی نادانوں سے سابقہ پڑا ہے جو بالخصوص صحیح بخاری اور صحیح مسلم کو ہدف تنقید بناتے ہیں، لیکن ان میں سمیعین کی ایک لائن پڑھنے کی بھی سکت و ہمت نہیں ہوتی۔ بلکہ ایک دفعہ سوال میں پوچھی گئی حدیث پر معترض بن کر ایک آدمی ہمارے پاس آیا اور کچھ سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ساتھ لایا۔ ہم نے صحیح بخاری کا اصل عربی نسخہ سامنے رکھ دیا اور کہا یہ حدیث صحیح بخاری سے نکالو، اللہ شاہد ہے وہ آدمی حدیث نہ نکال سکا، بلکہ ہمیں کہنے لگا آپ ہی نکال دیں۔ جب ہم نے اس کی مزعومہ حدیث نکال دی تو پھر اس سے کہا اس کا ترجمہ کرو۔ وہ ایک لفظ بھی نہ پڑھ سکا اور ﴿فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ﴾ کا مصداق ہو کر واپس لوٹ گیا اور آج تک ملاقات کے لیے نہیں آیا۔
بہرحال چند گمراہ اور گمراہ کرنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث صحیحہ کا مفہوم بگاڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں ہدایت نصیب کرے۔ ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی صادق آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من الناس ولكن يقبض العلم بقبض العلماء فإذا لم يبق عالما اتخذ الناس رءوسا جهالا فسئلوا فأفتوا بغير علم فضلوا وأضلوا
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ علم بندوں سے چھین کر قبض نہیں کرتا، بلکہ وہ علم کو علماء کے قبض کرنے کے ذریعے قبض کرتا ہے۔ یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنالیں گے، جب ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے۔ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔“
(ابن ماجه، کتاب السنة، باب احتساب الرأي والقياس 52)
سوال میں جو حدیث درج کی گئی ہے، اس کے بارے میں بعض شر پسند عناصر، منکرین حدیث اور معاندین بہت اللہ پروپیگنڈا کرتے ہیں اور حدیث کا مفہوم بگاڑ کر محدثین کرام رحمہم اللہ اور کتب احادیث کے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔ سب سے پہلے صحیح بخاری سے اس حدیث کا متن درج کرتے ہیں، پھر اس کی تفصیل عرض کریں گے۔ ابوبکر بن حفص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
سمعت أبا سلمة دخلت أنا وأخو عائشة على عائشة فسألها أخوها عن غسل النبى صلى الله عليه وسلم فدعت بإناء فيه نحو من صاع فاغتسلت وأفاضت على رأسها وبيننا وبينها حجاب
(بخاری، کتاب الغسل، باب الغسل بالصاع ونحوه 251)
میں نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انھوں نے کہا: ”میں اور عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھائی عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ ان کے بھائی نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے ایک صاع کی مقدار برتن منگوایا، پھر غسل کیا اور اپنے سر پر پانی بہا دیا اور ہمارے درمیان اور ان کے درمیان حجاب تھا۔“
اس حدیث کے بارے میں جو غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں، اس کے لیے درج ذیل امور پر غور فرمائیں:
① دونوں سائل ان کے محرم رشتہ دار تھے، غیر محرم نہیں تھے۔ ابوسلمہ عبد اللہ بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ رضاعی بھانجے تھے، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان کی خالہ تھیں۔ اس لیے کہ ان کی بہن ام کلثوم نے انھیں دودھ پلایا تھا۔ (فتح الباری 365/1، شرح مسلم للنووی 4/4)
اور دوسرا بھی ان کا رضاعی بھائی تھا۔ صحیح بخاری میں تو ”أخو عائشة“ ہے یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھائی اور صحیح مسلم وغیرہ میں شعبہ کے طریق سے مروی حدیث ہے: ”أخذها من الرضاعة“ یعنی وہ ان کے رضاعی بھائی تھے۔ (مسلم 320، نسائی 228، مستند أبي عوانة 89) امام نووی رحمہ اللہ اور محدثین کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ وہ رضاعی بھائی عبد اللہ بن یزید تھے۔
بہرحال یہ دونوں ام المؤمنین کے رضاعی رشتہ دار تھے، رضاعی رشتے بھی اسی طرح حرام ہیں جیسے نسبی رشتے حرام ہیں۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة
”جو رشتے ولادت سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں۔“
(مسلم، کتاب الرضاع، باب يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة 1444/2، بخاری، کتاب النکاح، باب ورائكم التي أرضعنكم 2009)
لہٰذا دونوں سائل غیر محرم نہیں تھے۔
② دوسری بات یہ ہے کہ حدیث کا مقصود غسل کے لیے پانی کی مقدار بتانا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر باب منعقد کیا ہے: باب الغسل بالصاع ونحوهیعنی ”صاع اور اس کے برابر پانی سے غسل کرنا۔“ اور مسلم شریف میں اس پر یوں باب باندھا گیا ہے:
باب القدر المستحب من الماء فى غسل الجنابة
” غسل جنابت میں مستحب پانی کی مقدار کا بیان۔“
اور زیر بحث حدیث میں ”غسل النبى صلى الله عليه وسلم“ سے مراد نہانے کی بجائے نہانے کا پانی بھی ہو سکتا ہے اور ان معانی میں یہ لفظ صحیح بخاری میں کئی جگہ استعمال ہوا ہے۔ صحیح بخاری میں میمونہ رضی اللہ عنہا سے حدیث ہے:
صببت للنبي صلى الله عليه وسلم غسلا
”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی بہایا۔“
(بخاری، کتاب الغسل، باب المضمضة والاستنشاق في الجنابة 259)
ایک اور حدیث میں ہے:
وضعت لرسول الله صلى الله عليه وسلم غسلا
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا۔“
(بخاری، کتاب الغسل، باب من أفرغ بيمينه على شماله في الغسل 266)
اس بنیاد پر حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے نہانے کے لیے غسل کے پانی کے بارے میں سوال کیا کہ اس کی مقدار کتنی تھی۔ اس کے جواب میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک برتن منگوایا جس میں ایک صاع کی مقدار کے برابر پانی تھا اور انھیں بتا دیا کہ اتنے پانی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کیا کرتے تھے۔ ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی نمائش نہ تھی۔ غسل کی کیفیت بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا نے زبانی بتائی تھی۔ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:
قالت عائشة كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا اغتسل بدأ بيمينه فصب عليها من الماء فغسلها ثم صب الماء على الأذى الذى به ثم صب بيمينه وغسل عنه بشماله حتى إذا فرغ من ذلك صب على رأسه
(مسلم، کتاب الحيض، باب القدر الماء الخ 321)
عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل فرمانے کا ارادہ کرتے تو دائیں ہاتھ سے شروع کرتے، اس پر پانی ڈالتے اور اسے دھوتے، پھر دائیں ہاتھ سے گندگی والی جگہ پانی ڈالتے اور اسے بائیں ہاتھ سے دھوتے، جب اس سے فارغ ہوتے تو اپنے سر پر پانی انڈیل دیتے۔“
اور سنن نسائی میں ہے کہ ابوسلمہ کہتے ہیں:
وصفت عائشة غسل النبى صلى الله عليه وسلم من الجنابة
”عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل جنابت بیان فرمایا۔“
(نسائی، کتاب الطهارة، باب إعادة الجنب غسل يديه بعد….. الخ 247)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سائلوں کی اصل غرض غسل کی کیفیت پوچھنا نہ تھی بلکہ غسل جنابت کے لیے پانی کی مقدار پوچھنا تھی اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے غسل کر کے ان محرم رشتہ داروں کی تشفی کرا دی، وہ پردے کے پیچھے گئیں اور غسل کر کے آئیں اور ثابت کر دیا کہ تقریباً ایک صاع کی مقدار سے غسل ہو سکتا ہے۔ اور یہ تعجب کئی لوگوں کو پہلے بھی ہوا اور آج بھی لوگ کرتے ہیں کہ اتنے کم پانی سے غسل کیسے ہو سکتا ہے؟ جیسا کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا اغتسل من جنابة صب على رأسه ثلاث حفنات من ماء فقال له الحسن بن محمد إن شعري كثير قال جابر فقلت له يا ابن أخي كان شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم أكثر من شعرك وأطيب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت سے غسل کرتے تو اپنے سر پر تین مٹھی پانی ڈالتے۔ حسن بن محمد نے انھیں کہا: ”بلاشبہ میرے بال زیادہ ہیں۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے بھتیجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تیرے بالوں سے زیادہ اور خوبصورت تھے۔“
(مسلم، کتاب الحيض، باب استحباب إفاضة الماء على الرأس وغيره ثلاثا 329)
اس صحیح حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ تھوڑے پانی کے استعمال پر لوگوں کو تعجب ہوتا تھا، لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسے مقامات پر بھی اسراف نہیں کرتے تھے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی غسل کے پانی کی مقدار ایک صاع بتائی اور ان کے متعجب ہونے پر پردے کے پیچھے جا کر غسل کر کے آئیں اور انھیں سمجھا دیا کہ ایک صاع پانی سے غسل کرنا صحیح اور درست ہے اور عملاً ممکن بھی ہے۔
③ تیسری بات یہ ہے کہ حدیث میں بيننا وبينها حجاب کے الفاظ ہیں کہ ہمارے اور ان کے درمیان حجاب تھا، اس سے یہ بات قطعاً ثابت نہیں ہوتی کہ انھوں نے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو غسل کرتے دیکھا۔ اگر ان کو دکھاتا ہوتا تو حجاب و پردے میں جانے کا کوئی مطلب نہیں رہتا اور ہمارے علم میں کوئی ایسی صحیح حدیث موجود نہیں جس میں یہ ہو کہ انھوں نے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو غسل کرتے دیکھا۔ جو لوگ یہ مفہوم نکالتے ہیں ان کے پاس اس کے پیچھے کوئی پختہ دلیل موجود نہیں۔
اگر حجاب کرنے کے بعد بھی نظر آتا ہو تو اس آیت پر غور فرمائیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ﴾
(الأحزاب: 53)
”جب تم ان سے کسی متاع کا سوال کرو تو حجاب کے پیچھے رہ کر سوال کرو۔ “
آپ غور فرمائیں اگر حجاب کرنے کے بعد بھی خاتون نظر آئے تو اس حجاب کا کیا فائدہ؟ پھر حجاب کے بغیر ہی سوال کی اجازت دے دی جاتی اور حدیث میں بھی لفظ حجاب ایسے لوگوں کے ابطال کے لیے نمایاں اور واضح ہے اور ان کی خود تراشیدہ باتوں پر پانی پھیر رہا ہے۔
بہرحال شر پسند منکرین حدیث بلکہ اصل میں منکرین قرآن اور گمراہ کرنے والے لوگوں کا بہت بڑا لال اور طریقہ کار انتہائی غلط ہے اور مسلمان آدمی کے لیے روا نہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مذاق اڑائے۔ بلکہ ایسے لوگ صحیح احادیث کے استہزا کی بنا پر مسلمان نہیں رہتے۔ اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب فرمائے۔ (آمین!)

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے