اللہ کا عرش پر بلند ہونا قرآن و سنت کے علاوہ عقل و فطرت سے بھی ثابت ہے

یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب اللہ کہاں ہے؟ سے ماخوذ ہے۔

دلائل فطرت

علامہ ابن ابی العز حنفی رحمتہ اللہ (792ھ) فرماتے ہیں:

علوه سبحانه كما هو ثابت بالسمع ثابت بالعقل والفطرة.

’’اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا (عرش پر) بلند ہونا جس طرح قرآن وسنت کی نصوص سے ثابت ہے، اسی طرح عقل اور فطرت سے بھی ثابت ہے۔‘‘

(شرح العقيدة الطحاوية: 290)

پہلی دلیل

سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

خرج نبي من الأنبياء يستسقي، فإذا هو بنملة رافعة بعض قوائمها إلى السماء، فقال: ارجعوا، فقد استجيب لكم من أجل شأن النملة.

’’ایک نبی (اپنی قوم کے ساتھ) اللہ سے بارش طلب کرنے نکلے۔ اچانک انھوں نے دیکھا کہ ایک چیونٹی آسمانوں کی طرف اپنی کچھ ٹانگیں اٹھائے ہوئے (بارش کی دُعا کر رہی) ہے۔ نبی نے فرمایا: واپس لوٹ جائیں، کیونکہ چیونٹی کے عمل کی وجہ سے آپ کی دُعا قبول کر لی گئی ہے۔‘‘
(سنن الدارقطني : 1797 ، المستدرك للحاكم 325/1-326 ، وسنده حسن، واللفظ له)

امام حاکم رحمتہ اللہ نے اس حدیث کی سند کو ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔
اس کے راوی محمد بن عون ’’حسن الحدیث‘‘ ہیں۔

امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ فرماتے ہیں:

رجل معروف.

’’یہ جانے پہچانے محدث ہیں ۔‘‘

(العلل ومعرفة الرجال: 211/2)

امام ابن حبان رحمتہ اللہ نے انھیں ’’اثقات‘‘ (411/7) میں ذکر کیا ہے۔

امام حاکم رحمتہ اللہ نے ان کی حدیث کی سند کو ’’صحیح‘‘ قرار دے کر ان کی توثیق ضمنی کی ہے۔
محمد بن عون کے والد عون بن حکم بھی ’’ثقہ‘‘ ہیں۔
امام ابن حبان رحمتہ اللہ نے انھیں ’’الثقات‘‘ (281/7) میں ذکر کیا ہے۔

امام حاکم رحمتہ اللہ نے ان کی حدیث کی سند کو ’’صحیح‘‘ قرار دے کر ان کی توثیق ضمنی کی ہے۔

عون بن حکم رحمتہ اللہ نے امام زہری رحمتہ اللہ سے اور امام زہری رحمتہ اللہ نے ابو سلمہ رحمتہ اللہ سے سماع کی تصریح کی ہے، لہذا سند ’’صحیح، متصل‘‘ ہے۔

چیونٹی کا فطری طور پر یہ نظریہ ہے کہ اللہ ہر جگہ نہیں، بلکہ اپنی مخلوقات سے بلند ہے، اسی لیے تو وہ اپنی ٹانگیں آسمانوں کی طرف بلند کیے ہوئے بارش کی دُعا کر رہی تھی اور اس کی یہ دُعا اللہ تبارک وتعالیٰ نے قبول بھی فرمالی۔

علامہ ابن قیم رحمتہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:

من أبين ما شهدت به الفطر والعقول والشرائع علوه سبحانه فوق جميع العالم، وأما تقرير ذلك بالأدلة العقلية الصريحة فمن طرق كثيرة جدا.

’’فطرت انسانی عقلوں اور آسمانی شریعتوں نے جو سب سے واضح گواہی دی ہے وہ یہی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ تمام جہانوں سے بلند ہے۔ رہا صریح عقلی دلائل سے اس کا اثبات ، تو اس کے بہت سے طریقے ہیں۔‘‘

(الصواعق المرسلة : 1278/4-1279)

دوسری دلیل

فطرت کی ایک دلیل یہ ہے کہ مخلوق دُعا کے وقت ہاتھ اوپر کو بلند کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس سے مانگا جا رہا ہے، وہ اوپر ہے، ائمہ اہل سنت کی تصریحات ملاحظہ ہوں:

امام ابوالحسن اشعری رحمتہ اللہ (324ھ) فرماتے ہیں:

رأينا المسلمين جميعا يرفعون أيديهم إذا دعوا نحو السماء لأن الله تعالى مستو على العرش الذي هو فوق السماوات، فلولا أن الله عز وجل على العرش لم يرفعوا أيديهم نحو العرش كما لا يحطونها إذا دعوا إلى الأرض، وقد قال القائلون من المعتزلة والجهمية والحرورية : إن معنى قول الله (الرحمن على العرش استوى) أنه استولى وملك وقهر وأن الله تعالى في كل مكان وجحدوا أن يكون الله عز وجل مستر على عرشه كما قال أهل الحق وذهبوا فى الإستواء إلى القدرة، ولو كان هذا كما ذكروه كان لا فرق بين العرش والأرض السابعة لأن الله تعالى قادر على كل شيء، والأرض لله سبحانه قادر عليها وعلى الحشوش وعلى كل ما في العالم، فلو كان الله مستويا على العرش بمعنى الاستيلاء، وهو تعالى على الأشياء كلها لكان مستويا على العرش وعلى الأرض وعلى السماء وعلى الحسوش والأقدار لأنه قادر على الأشياء مستول عليها، وإذا كان قادرا على الأشياء كلها لم يجز عند أحد من المسلمين أن يقول: إن الله تعالى مستو على الحشوش والأخلية تعالى الله عن ذلك علوا كبيرا لم يجز أن يكون الاستواء على العرش الإستيلاء الذي هو عام في الأشياء كلها ووجب أن يكون معنى الاستواء يختص بالعرش دون الأشياء كلها، وزعمت الجهمية والحرورية والجهمية أن الله تعالى في كل مكان فلزمهم أنه في بطن مريم وفي الحشوش والأخلية، وهذا خلاف الدين، تعالى الله عن قولهم علوا كبيرا.

ہم نے سب مسلمانوں کو دیکھا ہے، وہ دُعا کرتے ہیں، تو آسمان کی طرف اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے ہیں، کیونکہ اللہ عرش پر ہے، جو آسمانوں کے اوپر ہے۔ مسلمان اللہ سے دُعا کرتے ہوئے زمین کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے ۔ اگر اللہ عرش پر نہ ہوتا، تو مسلمان اپنے ہاتھوں کو عرش کی طرف نہ اُٹھاتے۔ معتزلہ، جہمیہ اور حروریہ میں سے بعض کا کہنا ہے کہ فرمانِ باری تعالیٰ:

الرحمٰن على العرش استوای.

(رحمن عرش پر مستوی ہوا) کا معنی یہ ہے کہ اللہ عرش پر غالب ہوا اور اس پر اپنا تسلط قائم کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اللہ ہر جگہ ہے۔ انھوں نے اللہ کے عرش پر مستوی ہونے کا انکار کرتے ہوئے اہل حق کی مخالفت کی ہے اور استوا کو قدرت کے معنی میں لیا ہے۔ اگر بات ایسے ہی ہو، تو عرش اور ساتویں زمین میں کوئی فرق نہیں، کیونکہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ زمین پر بھی قادر ہے اور نجاست کی جگہوں پر بھی اور کائنات کی ہر چیز پر۔ اگر اللہ کے عرش پر مستوی ہونے سے مراد غلبہ اور قدرت ہوتی تو اللہ عرش کیا، زمین کیا، آسمان کیا، نجاست کے ڈھیر کیا، سب چیزوں پر مستوی ہوتا، کیونکہ وہ سب چیزوں پر قادر اور غالب ہے، حالانکہ کسی مسلمان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اللہ کو نجاستوں والی جگہوں اور بیوت الخلا پر مستوی قرار دے۔ اللہ ایسی باتوں سے بہت بلند ہے۔ چنانچہ عرش پر مستوی ہونے کا معنی وہ غلبہ نہیں، جو تمام اشیا پر بھی ہے۔ ضروری ہے کہ استوی کا معنی باقی چیزوں کے سوا عرش کے ساتھ خاص ہو۔ معتزلہ، حروریہ اور جہمیہ نے کہا ہے کہ اللہ ہر جگہ میں ہے۔ اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ (معاذ اللہ) وہ مریم علیہ السلام کے پیٹ میں بھی تھا، نجاست کی جگہوں میں بھی ہے، بیوت الخلا میں بھی ہے۔ یہ باتیں دین اسلام کے منافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسی باتوں سے بہت بلند ہے۔

(الإبانة عن أصول الديانة: 106/1-108)

امام ابن عبد البر رحمتہ اللہ (463 ھ) لکھتے ہیں:

لم يزل المسلمون في كل زمان إذا همهم أمر وكربهم غم يرفعون وجوههم وأيديهم إلى السماء رغبة إلى الله عز وجل في الكف عنهم.

’’ہر زمانے میں مسلمان کسی پریشانی اور غم میں مبتلا ہوتے وقت اپنے چہرے اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرتے رہے ہیں۔ وہ اس طرح غم اور پریشانی کو دُور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے۔‘‘
(التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 81/22)

علامه ابن قدامہ رحمتہ اللہ (620 ھ ) لکھتے ہیں:

إن الله تعالى وصف نفسه بالعلو في السماء، ووصفه بذلك محمد خاتم الأنبياء، وأجمع على ذلك جميع العلماء من الصحابة الأتقياء والأئمة من الفقهاء، وتواترت الأخبار بذلك على وجه حصل به اليقين، وجمع الله تعالى عليه قلوب المسلمين، وجعله مغروزا في طباع الخلق أجمعين، فتراهم عند نزول الكرب بهم يلحظون السماء بأعينهم، ويرفعون نحوها للدعاء أيديهم، وينتظرون مجيء الفرج من ربهم، وينطقون بذلك بألسنتهم، لا ينكر ذلك إلا مبتدع غال في بدعته، أم مفتون بتقليده واتباعه على ضلالته.

’’اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں خبر دی ہے کہ وہ آسمانوں پر بلند ہے۔ اسی طرح خاتم الانبیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی بتایا ہے۔ اس پر اہل علم صحابہ کرام اور فقہا کا اجماع ہے۔ اس بابت اتنی احادیث بیان ہوئی ہیں کہ ان سے علم یقینی حاصل ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں کو جمع کر دیا ہے۔ اسے تمام مخلوقات کی فطرت کا حصہ بنا دیا ہے۔ دیکھئے! سب مصیبت کے وقت نظریں آسمان کی جانب جماتے ہیں اور دعا کے وقت اسی سمت ہاتھ بلند کرتے ہیں، اپنے رب کی طرف سے خوش حالی کا انتظار کرتے ہیں اور زبانوں سے یہی پکارتے ہیں۔ اس کا انکار وہی کر سکتا ہے، جو غالی بدعتی ہو یا ایسے شخص کی تقلید اور ضلالت پر پیروی کے فتنے کا شکار ہو چکا ہو۔‘‘

ایک واقعہ

حافظ ذہبی رحمتہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں:

أخبرنا يحيى بن أبي منصور الفقيه في كتابه، عن عبد القادر الحافظ ، أخبرنا أبو العلاء الهمذاني، أخبرني أبو جعفر الحافظ، سمعت أبا المعالي وسئل عن قوله (الرحن على العرش استوى) فقال: كان الله ولا عرش وجعل يتخبط، فقلت: هل عندك للضرورات من حيلة؟ فقال: ما معنى هذه الإشارة؟ قلت: ما قال عارف قط: يا رباه إلا قبل أن يتحرك لسانه، قام من باطنه قصد لا يلتفت يمنة ولا يسرة يقصد الفوق فهل لهذا القصد الضروري عندك من حيلة فتنبتنا نتخلص من الفوق والتحت؟ وبكيت وبكى الخلق ، فضرب بكمه على السرير، وصاح بالحيرة، ومزق ما كان عليه، وصارت قيامة في المسجد، ونزل يقول: يا حبيبي الحيرة الحيرة، والدهشة الدهشة.

ہمیں فقیہ یحییٰ بن ابی منصور نے اپنی کتاب میں بیان کیا، وہ عبد القادر الحافظ سے بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ہمیں ابولعلاء ہمدانی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہمیں ابو جعفر الحافظ نے بیان کیا، ان کا کہنا تھا: میں نے ابوالمعالی کو سنا، ان سے فرمانِ باری تعالیٰ:

الرحمن على العرش استوى.

(طه: 5)

رحمن عرش پر مستوی ہوا کے بارے میں سوال ہوا، تو وہ کہنے لگا: اللہ تو اس وقت بھی تھا، جب عرش نہیں تھا۔ یوں وہ بے وقوفی کی باتیں کرنے لگا۔ میں نے اس سے کہا: کیا ضروریات طبیعیہ کو مانے بغیر تیرے پاس کوئی چارہ ہے؟ کہنے لگا: اس سے کیا مراد ہے؟ میں نے کہا: جب بھی کوئی شخص اللہ کو پکارتا ہے، تو زبان کی حرکت سے پہلے ہی دل سے ایک قصد اوپر کی طرف اٹھتا ہے۔ وہ دائیں بائیں کی طرف التفات نہیں کرتا۔ کیا اس لازمی قصد سے جان چھڑانے کا کوئی حیلہ آپ کے پاس ہے، جو اوپر، نیچے کے قصد سے ہماری گلو خلاصی کرا دے۔ میں رونے لگا اور لوگ بھی رونے لگے۔ ابوالمعالی نے اپنا چہرہ چار پائی پر رکھا اور حیرت کے مارے چیخنے اور اپنے کپڑے پھاڑنے لگا۔ مسجد میں تو گویا قیامت برپا ہو گئی۔ ابوالمعالی یہ کہتے ہوئے اُترا: اے میرے دوست! حیرت ہی حیرت ہے اور دہشت ہی دہشت ہے۔
(سير أعلام النبلاء: 477/18 ، العلو (مختصر)، ص 286 ، وسنده حسن)

علامہ ابن ابی العز حنفی رحمتہ اللہ (792ھ) اس واقعے کو اللہ تعالیٰ کے علو پر فطرت کی دلیل بناتے ہوئے لکھتے ہیں:

أراد الشيخ أن هذا أمر فطر الله عليه عباده من غير أن يتلقوه من المرسلين، يجدون في قلوبهم طلبا ضروريا يتوجه إلى الله ويطلبه في العلو.

’’شیخ کی مراد یہ ہے کہ یہ ایک فطری معاملہ ہے، جس پر اللہ نے بندوں کی جبلت بنائی ہے۔ اس چیز کو پیغمبروں سے سیکھے بغیر بھی لوگ اپنے دلوں میں ایک ضروری تڑپ محسوس کرتے ہیں، جو اللہ کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور بلندی میں اس کو تلاش کرتی ہے۔‘‘

(شرح العقيدة الطحاوية: 291، إثبات صفة العلو، ص 63)

حافظ ذہبی رحمتہ اللہ لکھتے ہیں:

هكذا رأينا في كل من يسأل: أين الله يبادر بفطرته ويقول: في السماء.

’’جس سے بھی پوچھا جائے کہ اللہ کہاں ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی فطرت کے مطابق یہی کہے گا کہ آسمانوں پر ہے ۔‘‘

(العلو، ص 26)

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمتہ اللہ (728ھ) لکھتے ہیں:

إن الذي أقره الله تعالى في فطر عباده وجبلهم عليه أن ربهم فوق سماواته.

’’اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کی فطرت میں یہ بات ودیعت کر دی ہے کہ ان کا رب آسمانوں سے اوپر ہے۔‘‘

(الفتاوی الکبری: 153/5)

مزید لکھتے ہیں:
لأنه لو كان معناه على خلاف ما يقر في القلوب السليمة من الأهواء ، والفطرة الصحيحة من الأدواء، لوجب على الصحابة والتابعين أن يبينوا أن استواء الله على عرشه على خلاف ما فطر الله عليه خلقه، وجبلهم على اعتقادہ.

’’اگر عرش پر مستوی ہونے کا اصل معنی ہوائے نفس سے سالم دلوں میں اور بیماریوں سے پاک فطرتوں میں موجود معنی کے خلاف ہوتا، تو صحابہ و تابعین پر لازم ہوتا کہ وہ یہ وضاحت فرماتے کہ اللہ کے عرش پر مستوی ہونے کا وہ معنی نہیں، جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت و جبلت میں رکھا ہے۔‘‘

(كتاب العرش : 262/2-263)

علامہ ابن ابی العز حنفی رحمتہ اللہ (792ھ) فرماتے ہیں:

أما تبوته بالفطرة، فإن الخلق جميعا بطباعهم وقلوبهم السليمة يرفعون أيديهم عند الدعاء ويقصدون جهة العلو بقلوبهم عند التضرع إلى الله تعالى.

’’رہی بات ذات باری تعالٰی کے بلند ہونے پر فطرت کے ثبوت کی، تو تمام مخلوق اپنی سلامت فطرتوں اور درست دلوں کے ساتھ دُعا کے وقت اپنے ہاتھوں کو بلند کرتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے گریہ وزاری کے وقت اپنے دلوں سے بھی بلندی کی طرف قصد کرتے ہیں۔‘‘

(شرح العقيدة الطحاوية، ص 291)

لیکن ملاعلی قاری حنفی (1014 ھ ) اہل سنت کی مخالفت اور شارح عقیدہ طحاویہ علامہ ابن ابی العز حنفی رحمتہ اللہ (792ھ) کے رد میں لکھتے ہیں:

الحاصل أن الشارح يقول بعلو المكان مع نفي التشبيه، وتبع فيه طائفة من أهل البدعة.

’’حاصل کلام یہ ہے کہ شارح (امام ابن ابی العز حنفی) تشبیہ کی نفی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بلندی مکان کے قائل ہیں۔ اس بارے میں انھوں نے اہل بدعت کے ایک گروہ کی پیروی کی ہے۔‘‘

(شرح الفقه الأكبر، ص 172)

چند سطروں بعد مزید لکھتے ہیں:

من الغرائب أنه استدل على مذهبه الباطل (أي في العلو) برفع الأيدي في الدعاء، وهو مردود.

’’عجوبہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بلند ہونے کی بابت اپنے باطل مذہب پر دعا میں ہاتھ اٹھانے سے دلیل لی ہے، حالاں کہ یہ مردود ہے۔‘‘

(شرح الفقه الأكبر، ص 172)

قارئین کرام! خود فیصلہ فرمائیں کہ قرآن وسنت اور اجماع امت کے صریح دلائل سے ثابت مذہب کو باطل اور مردود قرار دینا کیسا اسلام ہے؟

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے