مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اعمال صالحہ کی توفیق اور شیطان سے بچاؤ اللہ کی رحمت کا مظہر

فونٹ سائز:
تالیف: ڈاکٹر رضا عبداللہ پاشا حفظ اللہ

کیا اعمال صالحہ سرانجام دینا اور شیطان کی اتباع سے بچنا، اللہ کی رحمت سے ہے

جواب :

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
«وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ ۖ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ ۗ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلً» [النساء : 83]
”اور جب ان کے پاس امن یا خوف کا کوئی معاملہ آتا ہے، وہ اسے مشہور کر دیتے ہیں اور اگر وہ اسے رسول کی طرف اور اپنے حکم دینے والوں کی طرف لوٹاتے تو وہ لوگ اسے ضرور جان لیتے جو ان میں سے اس کا اصل مطلب نکالتے ہیں اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو بہت تھوڑے لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔“
اس آیت کریمہ میں اس شخص کی تردید ہے جو امور کے ثبوت سے قبل ہی ان میں جلدی کرتا ہے، وہ ان کی خبر دیتا اور ان کی نشر و اشاعت کر دیتا ہے اور ایسا بھی ممکن ہے کہ وہ امور درست ہی نہ ہوں۔
«يَسْتَنبِطُونَهُ» کا معنی یہ ہے کہ وہ اسے نکالتے ہیں اور اسے اس کی اصل جگہ میں استعمال کرتے ہیں۔
اس سوال کا جواب آیت کریمہ کے آخری حصے میں ہے کہ اگر تم پر اللہ کی رحمت و فضل نہ ہوتا تو تم شیطان کی پیروی کرتے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔