14- اسلام میں غلو کا حکم
اسلام میں غلو کا مفہوم یہ ہے کہ دینی معاملات میں انتہائی سختی اختیار کرتے ہوئے ہر بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنا۔ اور اس کا حکم یہ ہے کہ یہ انسان کی تباہی اور ہلاکت کا سبب ہے۔ اس کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا:
« هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ، هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ، هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ » (صحیح مسلم [2670/7])
”دین میں غلو کرنے والے ہلاک ہو گئے، دین میں غلو کرنے والے ہلاک ہو گئے، دین میں غلو کرنے والے ہلاک ہو گئے۔“
اللہ تعالیٰ کا حق اور خالص دین تو درمیانی راہ اختیار کرنے کا نام ہے، لہٰذا غلو اور زیادہ گہرائی تک جانا اور غیر ضروری چیزوں کو اپنے اوپر لازم کر لینا تباہی و بربادی ہے، جبکہ سب سے بہترین طریقہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہے۔ (ابن عثیمین: نور علی الدرب: 7/2)