مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اسلام میں جھوٹی گواہی کا حکم اور اس سے توبہ کی شرطیں

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

جھوٹی گواہی کا حکم

جھوٹی گواہی دینا کبیرہ گناہ ہے۔ جو توبہ کرتا ہے اور دوبارہ جھوٹی گواہی نہ دینے کا پختہ عزم کرتا ہے، اگر وہ اس میں سچا ہے اور اس کی گواہی کی وجہ سے جن کے جو حقوق ضائع ہو گئے تھے یا حلال سمجھ لیے گئے تھے، وہ انہیں لوٹا دیتا ہے تو پھر اس کی توبہ قبول ہو جائے گی۔ فرمان الٰہی ہے:
«وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ» [الشورى: 25]
”اور وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے اور برائیوں سے درگزر کرتا ہے اور جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔“
[اللجنة الدائمة: 4271]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔