استخارہ کا مکمل طریقہ اور احکام صحیح احادیث کی روشنی میں

استخارہ کا مکمل طریقہ اور احکام صحیح احادیث کی روشنی میں – dua-istakhara-HD-scaled

ترجمہ دعا استخارہ:

اے اللہ! بے شک میں تجھ سے تیرے علم کے ساتھ بھلائی طلب کرتا ہوں اور تجھ سے تیری قدرت کے ساتھ طاقت طلب کرتا ہوں اور میں تجھ سے تیرے فضلِ عظیم کا سوال کرتا ہوں کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کو خوب جانتا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ بے شک یہ کام میرے لیے میرے دین، میرے معاش اور میرے انجام کار کے لحاظ سے بہتر ہے تو اس کا میرے حق میں فیصلہ کردے اور اسے میرے لیے آسان کردے، پھر میرے لیے اس میں برکت ڈال دے اور اگر تو جانتا ہے کہ بے شک یہ کام میرے لیے میرے دین، میرے معاش اور میرے انجامِ کار کے لحاظ سے بُرا ہے تو اسے مجھ سے دور کردے اور مجھے اس سے دور کردے اور میرے لیے بھلائی کا فیصلہ کردے جہاں بھی وہ ہو، پھر مجھے اس پر راضی کردے۔‘‘

صحیح البخاری، التھجد، باب ماجاء فی التطوع مثنی مثنٰی، حدیث:1162۔ ھٰذَا الْاَمْرَ ’’یہ کام‘‘ کہتے ہوئے، وہ اس کام کا نام لے یا دل میں اُس کام کا خیال لائے۔

◈ یہ استخارہ دن یا رات میں کسی وقت بھی کیا جا سکتا ہے۔

◈ عصرِ حاضر میں بعض لوگوں نے استخارے کو ایک کاروبار بنا لیا ہے، اور یہ طریقہ ایک وبا کی صورت اختیار کر گیا ہے۔

◈ لوگوں نے جگہ جگہ استخارہ کے اڈے بنا لیے ہیں حالانکہ مسنون تو یہ ہے کہ آدمی خود استخارہ کرے، کسی دوسرے سے استخارہ کروانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں ہے۔

◈ استخارہ کروانے والوں نے پھر یہ اعتقاد بنا لیا ہے کہ فلاں بزرگ سے استخارہ کراؤں گا تو مجھے کوئی پکی بات مل جائے گی، جس پر میں عمل کر لوں گا اور وہ خواب دیکھ کر صحیح صورتحال سے آگاہ کر دیں گے۔ حالانکہ استخارہ ضرورت مند آدمی اللہ وحدہ لا شریک لہ سے کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا سینہ کھول دے گا اور کسی جانب اس کی توجہ مبذول کر دے گا۔ اچھے کام کے لیے استخارہ کے علاوہ اصحاب الخیر سے مشورہ بھی جاری رکھنا چاہیے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے