مضمون کے اہم نکات
ِِِِِِِ
فصل: 3
وحدت رؤیت
پچھلی بحث سے واضح ہو گیا ہے کہ مسلمانوں کے دینی و دنیوی معاملات قمری مہینوں سے مربوط ہیں اور قمری مہینوں کی صحیح معلومات کا ذریعہ رؤیت ہلال ہے اس لیے شریعت نے رؤیت ہلال کو بڑی اہمیت دی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل میں رؤیت ہلال کی ترغیب اور اس کی تاکید پائی جاتی ہے۔ لہذا قمری مہینوں کی ابتدا اور انتہا میں صرف رؤیت ہلال پر ہی اعتماد کیا جائے گا۔
رؤیت ہلال کے بارے میں یہ بھی ایک علمی حقیقت ہے کہ اختلاف مطالع امر واقع ہے اور یہ چیز صرف علمی حقیقت ہی نہیں بلکہ ایک بدیہی امر ہے۔ اسی لیے علمائے امت متفقہ طور پر اختلاف مطالع کو تسلیم کرتے ہیں۔
مذکورہ امور کے بارے میں چند سرسری معلومات حاصل کر لینے کے بعد اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے دینی معاملات خصوصاً روزہ، عید، حج اور قربانی وغیرہ کے بارے میں وحدت رؤیت کا اعتبار ہے یا نہیں؟ یعنی اگر دنیا کے کسی گوشے میں چاند نظر آ گیا تو یہ رؤیت تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے کافی ہوگی یا ہر شہر و ملک والوں کو اپنی اپنی رؤیت کا اہتمام کرنا ہوگا۔
اس فصل میں یہی چیز زیر بحث آئے گی بلکہ یہی اس مقالہ کا اصل موضوع ہے۔
◈وحدت رؤیت سے متعلق مختلف اقوال کا اجمالی بیان:
بنیادی طور پر اس سلسلے میں علماء کے دو قول ہیں:
اول: اختلاف مطالع ایک علمی حقیقت ہے لیکن صوم و افطار میں اس کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ ایک جگہ کی رؤیت ساری دنیا کے لیے کافی ہو گی۔ اس خیال کے علماء میں سواد اعظم کی رائے یہ ہے کہ دنیا کے کسی حصے میں اگر چاند نظر آ گیا تو سارے عالم کے لیے یہ رؤیت کافی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جمہور علماء کا مذہب یہی ہے۔
تمام المنة صفحہ 398
بعض متأخرین کا کہنا ہے کہ سارے عالم کے لیے اہل مکہ کی رؤیت کا اعتبار ہوگا۔ علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ علیہ نے اس رائے پر بہت زور دیا ہے۔
دیکھیے علامہ مرحوم کا رسالہ اوائل الشهور العربية صفحہ 21۔
دوم: وحدت رؤیت کا نظریہ صحیح نہیں ہے بلکہ مسافت کے لحاظ سے رؤیت ہلال میں فرق کا واقع ہونا ایک بدیہی امر ہے پھر کتنی مسافت تک وحدت رؤیت کا اعتبار ہوگا اور اس کے بعد نہیں؟ اس سلسلے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں:
① جن علاقوں کا مطلع ایک ہوگا وہاں تک وحدت رؤیت کا اعتبار ہوگا اور اگر مطلع کا فرق واقع ہو گیا تو اختلاف رؤیت ناگزیر ہے۔
امام ابن عبد البر رحمہ اللہ علیہ، امام خطابی رحمہ اللہ علیہ، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ علیہ، امام نووی رحمہ اللہ علیہ اور محققین کی ایک بڑی جماعت کا یہی مسلک ہے بلکہ کاتب مقالہ کی تحقیق کے مطابق جمہور محدثین اور شارحین حدیث اسی طرف گئے ہیں۔
التمهيد: 14/358 – الاختیارات الفقهية صفحہ 106 – المجموع: 6/227۔
② جتنی مسافت تک بغیر کسی مانع کے رؤیت ہلال ممکن ہو وہاں تک کے لیے وحدت رؤیت کا اعتبار ہوگا اس کے بعد نہیں۔
امام سرخسی رحمہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے۔
فتح الباري: 4/123 – المرعاة: 6/426۔
یہ قول اس سے قبل مذکور قول یعنی اختلاف مطالع کے قریب قریب ہے صرف تعبیر کا فرق ہے اور اسی معنی میں قدیم علماء کا یہ قول بھی ہے کہ: لكل بلد رؤيتهم واللہ اعلم۔
③ مسافت قصر تک وحدت رؤیت کا اعتبار ہوگا اس کے بعد نہیں۔
یہ مسلک خراسان کے علمائے شافعیہ اور بعض حنابلہ کا ہے۔
العلم المنشور ص 28، المجموع: ج 6 ص 227، فتح العلام: 4/16
④ ایک اقلیم (علاقہ صوبہ) میں وحدت رؤیت کا اعتبار ہوگا البتہ ایک اقلیم کی رؤیت کسی دوسری اقلیم میں معتبر نہیں ہوگی۔
احناف میں حسین بن علی الصیمری م436 اور بعض فقہائے شافعیہ کا یہ قول ہے۔
المجموع: 6/337 – فتح الباري: 4/123 – العلم المنشور: ص 27۔
⑤ ایک امام کے زیر تصرف شہروں کے لیے وحدت رؤیت معتبر ہوگی اس کے علاوہ نہیں۔ مشہور مالکی فقیہ و امام عبد الملک بن الماجشون رحمہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے۔
طرح التثریب: 4/116 – العلم المنشور 37۔
فقیه عصر علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ علیہ نے اجتماعی اعتبار سے اسے قوی قرار دیا ہے۔
الشرح الممتع: 6/323۔
⑥ اگر دو شہروں میں اتنا فاصلہ ہے کہ مثال کے طور پر ایک شہر میں ظہر کا وقت ہے تو دوسرے شہر میں عصر کا وقت یعنی ایک شہر میں ایک نماز کا وقت داخل ہوا تو دوسرے شہر میں دوسری نماز کا وقت داخل ہو گیا تو وحدت رؤیت کا اعتبار نہیں ہوگا۔
مجلة الاعتصام: جلد 47 عدد 3۔
⑦ رات ہی رات میں جہاں تک خبر پہنچائی جا سکے وہاں تک وحدت رؤیت کا اعتبار ہوگا اس کے بعد نہیں۔
الشرح الممتع: 326۔
مذکورہ اقوال کا تفصیلی بیان اور دلائل کا جائزہ
◈وحدت رؤیت کے دلائل:
واضح رہے کہ وحدت رؤیت پر کوئی صریح دلیل قرآن وحدیث میں موجود نہیں ہے صرف بعض آیات و احادیث کے عموم سے استدلال کیا گیا ہے ذیل میں ان دلائل کا ذکر کیا جاتا ہے:
❀ قرآن سے دلیل:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾
”تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پالے وہ اس کا روزہ رکھے۔“
(البقرة: 185)
وجه استدلال یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں خطاب تمام امت کو ہے اور صرف مہینہ پالینے یا چاند دیکھ لینے کو روزہ رکھنے کی علت قرار دیا ہے نہ تو کسی خاص قوم کو مخاطب کیا ہے اور نہ کسی علاقے کو مخصوص کیا ہے بلکہ ایک عام حکم ہے جس کے مخاطب تمام دنیا کے مسلمان ہیں پھر جب یہ امر متفق علیہ ہے کہ مسلمانوں کے ہر فرد کا چاند دیکھنا شرط نہیں ہے بلکہ صرف اتنا ہی کافی ہے کہ چاند ظاہر ہونے کی خبر پہنچ جائے اس لیے امت کے جس جس فرد تک یہ خبر پہنچے گی ان پر روزہ رکھنا یا افطار کرنا فرض ہوگا۔
اولاً: اس استدلال پر ایک شدید اعتراض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزے کے وجوب کو رؤیت ہلال یا 30 دن کی گنتی کے بعد دخول شہر سے معلق کیا ہے خواہ یہ رؤیت حقیقی ہو یا حکمی یعنی ایک مسلمان خود چاند دیکھے یا جس جگہ وہ رہتا ہے وہاں کے رہنے والوں میں سے کوئی چاند دیکھے پہلی صورت میں تو یہ کہا جائے گا کہ اس نے حقیقت میں چاند دیکھا ہے اور دوسری صورت میں کہا جائے گا کہ وہ چاند دیکھنے کے حکم میں ہے یعنی اگر کوئی ظاہری رکاوٹ نہ ہوتی تو وہ شخص بھی فی الواقع چاند دیکھ لیتا اب سوال یہ ہے کہ وہ شخص جو کسی ایسی جگہ رہ رہا ہے جہاں مطلع کے اختلاف یا کسی اور سبب سے چاند ظاہر ہی نہیں ہوا تو وہاں رؤیت ہلال نہ حقیقی ہے اور نہ حکمی پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ شخص ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ کے حکم میں داخل ہے جبکہ اس کے لیے دخول شہر نہ تو حقیقی ہے اور نہ حکمی۔
ثانیاً: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا عمل اس کے خلاف رہا ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی میں 9 مرتبہ رمضان آیا لیکن کسی بھی رمضان سے متعلق بسندِ صحیح یا ضعیف یہ مذکور نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی رؤیت کی خبر لوگوں کو بھیجی ہو یا دوسرے علاقوں کی رؤیت سے متعلق لوگوں سے سوال کیا ہو یہی عمل خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا بھی رہا ہے اس لیے یہ سوچنے کی بات ہے کہ ایک ہی جگہ کی رؤیت اگر ہر جگہ کے لیے کافی ہوتی تو دور دور تک اس خبر کو پہنچانے کا اہتمام ہوتا یا آنے والی امت کے لیے اس کا صریح حکم دیا جاتا۔
تبيان الأدلة 7 – معرفة اوقات العبادات 2 / 46 .
ثالثاً: متعدد واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ عہد صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کے زمانے میں بعض علاقوں میں چاند کا ثبوت ہوتا تھا اور بعض دوسرے علاقوں میں نہیں ہوتا تھا جس کی اطلاع دوسروں تک پہنچتی بھی تھی لیکن کسی صحابی یا تابعی نے لوگوں کو فوت شدہ روزوں کی قضا کا حکم نہیں دیا۔
مجموع الفتاوی: 25 / 108 نیز دیکھئے: التمهيد 358/14 .
❀حدیث سے دلیل:
الف: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
إذا رأيتموه فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا فإن غم عليكم فاقدروا له
”جب چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھو تو افطار کرو پھر اگر تم پر بادل چھا جائیں تو اندازہ کر کے (تیس کی گنتی پوری کرو)۔“
(متفق عليه عن ابن عمر ، تخریج گزرچکی ہے۔)
وجہ استدلال تقریباً وہی ہے جو اس سے قبل گزر چکی ہے یعنی اس حدیث میں خطاب عام امت کو ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اہل مدینہ کو خطاب نہیں فرمایا بلکہ تمام مسلمانوں سے خطاب کیا ہے اس لیے اگر کسی جگہ رؤیت ہلال ثابت ہو جائے تو تمام لوگ اس کے مکلف ہوں گے۔
مجموع فتاوی شیخ ابن باز: 10 / 79 – معرفة اوقات العبادات 2 /50۔
اس دلیل پر بھی وہی اعتراضات وارد ہوتے ہیں جو اس سے قبل دلیل پر وارد کیے گئے یعنی اس حدیث کے مخاطب وہی لوگ ہیں جن کے نزدیک حقیقتاً یا حکماً رؤیت ہلال کا وجود ہوا ہے اور جہاں کے لوگ حکماً یا حقیقتاً رؤیت ہلال سے مشرف نہیں ہوئے ان پر یہ حکم کیسے لگ سکتا ہے جس طرح کہ کسی شہر میں جمعہ کی اذان ہو تو وہاں کے لوگوں پر جمعہ کی حاضری ضروری ہوگی لیکن وہ شہر جہاں ابھی جمعہ کا وقت ہوا ہی نہیں انہیں جمعہ کے لیے حاضری کا مکلف کیسے بنایا جا سکتا ہے اس لیے حق یہ ہے کہ یہ حدیث اور اس طرح کی تمام حدیثیں عام ہیں جنھیں اختلاف مطالع میں مذکور دلائل سے خاص کیا گیا ہے۔
ب: مشہور تابعی حضرت ربعی بن حراش ایک صحابی (ان صحابی کا نام ابو مسعود عقبہ بن عامر البدری رضی اللہ عنہ ہے ، جیسا کہ متدرک الحاکم میں اس کی صراحت موجود ہے۔ 1/ 397 ) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بار مدینہ منورہ میں رمضان کے آخر میں اختلاف ہوا (چونکہ مطلع صاف نہیں تھا اس لیے آپس میں گفتگو اور گفتگو میں متضاد باتیں ہونے لگیں) اتفاق سے دو صحرانشین آئے اور اللہ کا نام لے کر شہادت دی کہ کل شام کو انھوں نے چاند دیکھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ لوگ روزہ افطار کر دیں اور کل دوسرے دن عید گاہ کی طرف نکلیں۔
سنن ابو داود : 3340 الصوم مسند أحمد : 362/5 و 4 / 314 ، سنن الدارقطني 3 / 169 ، امام دارقطنی لکھتے ہیں : هذا اسناد حسن ثابت نیز دیکھئے: صحیح ابوداود 3 / 54 .
وجہ استدلال یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے باہر کی رؤیت پر اعتماد کیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک جگہ کی رؤیت دوسری جگہ بھی مقبول اور قابل اعتبار ہے۔
اس استدلال پر اعتراض یہ ہے کہ شام کے وقت چاند دیکھنا اور پھر دوسرے دن چاشت کے وقت مدینہ منورہ پہنچ جانا کوئی ایسی مسافت نہیں ہے جس کی بنیاد پر مطلع کا فرق پڑ جائے اور نہ ہی یہ دوری کوئی ایسی دوری ہے جسے عرف میں دوری کہا جائے بلکہ یہ تو صرف چند میل کا فاصلہ ہوگا کیونکہ اس زمانے کے مسافر عادۃ رات کے آخری حصے میں پڑاؤ ڈالتے تھے اس لیے حقیقت میں یہ حدیث وحدت رؤیت پر نہیں بلکہ کسی اور مسئلے کی دلیل ہے یعنی اگر کسی علاقے میں بدلی کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے پھر دوسرے دن کسی قریب علاقے سے چاند ہونے کی تصدیق ہو جائے تو اس رؤیت کا اعتبار ہو گا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔
ج: حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک بار رؤیت ہلال کے لیے باہر نکلے سامنے سے ایک سوار آتا نظر آیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے سوال کیا کہ تم کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے جواب دیا: ملک شام سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر سوال کیا: کیا تم نے چاند دیکھا؟ اس نے ”ہاں “میں جواب دیا یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
الله أكبر يكفي المؤمنين أحدهم
”مسلمانوں کے لیے ایک آدمی کا چاند دیکھ لینا کافی ہے۔“
مسند احمد 1 / 29- مسند ابو یعلى المقصد العلى ص 477 نمبر 500- سنن الدار قطنى 3 / 168، 169۔ الفاظ ابو یعلی کے ہیں ۔
وجہ استدلال یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کی رؤیت کو تمام مسلمانوں کی رؤیت قرار دیا اختلاف مطالع یا کسی اور فرق کا ذکر نہیں کیا بلکہ سیاق حدیث سے ظاہر ہے کہ اس شخص نے مدینہ منورہ سے دور کہیں چاند دیکھا تھا۔
اولاً: اس استدلال پر اعتراض یہ ہے کہ اولاً تو یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس حدیث کی سند کے ایک راوی عبد اللہ بن الثعلبی پر علماء نے کلام کیا ہے بلکہ ابن ابی حاتم اور امام نسائی رحمہما اللہ نے اسے نا قابل حجت قرار دیا ہے۔
تهذيب التهذيب 6 / 54-55 .
نیز حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے راوی عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کی ملاقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے۔
دیکھئے: التعليق المغنى 3 / 169 – تحقيق المسند 1 / 324 .
ثانیاً: اس حدیث میں کہیں دور دراز علاقے کی شہادت کا ذکر نہیں ہے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ رؤیت ہلال کے لیے نکلے تو اسی وقت ایک مسافر آتا دکھائی دیا جس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں سے پہلے چاند دیکھ لیا تھا۔ واللہ اعلم۔
د: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
الصوم يوم تصومون والفطر يوم تفطرون والأضحى يوم تضحون
”روزے کا وہ دن ہے جس دن تم لوگ روزہ رکھو اور افطار کا وہ دن ہے جس دن تم سب روزہ افطار کرو اور قربانی کا دن وہ ہے جس دن تم سب لوگ قربانی کرو۔“
سنن ابو داود : 2324 الصوم – سنن الترمذي : 697: الصوم – سنن ابن ماجه:1660 الصيام بروايت ابو هريرة ، الفاظ سنن الترمذی کے ہیں ۔
وجہ استدلال یہ ہے کہ اس حدیث میں تمام مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے کہ تمھارے روزہ رکھنے، عید منانے اور قربانی کرنے کا دن ایک ہونا چاہیے۔
مجموع فتاوی شیخ ابن باز : ج 15 ص 78.
اس استدلال پر کئی اعتراضات وارد ہوتے ہیں:
اولاً : یہ ایک حکم عام ہے جس کے مخاطب وہ لوگ ہیں جن کے یہاں شرعی رؤیت کی بنیاد پر روزہ کا دن یعنی پہلا یوم رمضان، عید کا دن یعنی پہلا یوم شوال اور قربانی کا دن یعنی دسویں ذی الحجہ کا وجود ہو جائے اور جس علاقے یا ملک والوں کے یہاں شرعی طور پر یعنی رؤیت ہلال کے ذریعے ابھی تک رمضان کا مہینہ داخل ہی نہیں ہوا بلکہ ابھی شعبان کی 28 یا 29 تاریخ ہے اسی طرح رمضان کی 28 یا 29 تاریخ ہے اور ذی الحجہ کی 8 یا 9 تاریخ ہے تو انھیں رمضان کے روزے، عید اور دسویں ذی الحجہ کی قربانی کا مکلف کیسے بنایا جا سکتا ہے بعینہ اسی طرح جس طرح کہ روزہ افطار کرنے کی اجازت سورج ڈوبنے پر دی گئی ہے۔ روزہ دار کے لیے کھانے اور پینے سے رک جانے کا حکم طلوع فجر پر دیا گیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ حکم صرف انھیں لوگوں پر لاگو ہو گا جن کے یہاں سورج ڈوب جائے یا فجر طلوع ہو جائے اور جن کے یہاں سورج نہ ڈوبے اور فجر طلوع نہ ہو وہ اس حکم کے مکلف نہیں ہوں گے بعینہ اسی طرح جن علاقوں میں رمضان داخل نہیں ہوا اور نہ ہی شوال کا چاند دکھائی دیا وغیرہ انھیں اس عام حکم کا مکلف کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ غور کریں کیا شریعت میں اس کی کوئی اور مثال ہے جس پر اسے قیاس کیا جا سکے؟
ثانیاً: شارحین حدیث نے اس حدیث کا جو مفہوم بیان کیا ہے وہ اس سے قطعاً مختلف ہے چنانچہ میری معلومات کی حد تک اس حدیث کی توجیہ و تشریح میں علماء کے دو قول ہیں۔
قول اول: روزہ، قربانی، حج اور عید وغیرہ مسلمانوں کے ایسے معاملات ہیں جن میں کسی کو انفرادی فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے بلکہ تمام اہل شہر، اہل ملک اور مسلمانوں کی جماعت کے اجتماعی فیصلے کو مد نظر رکھنا چاہیے علی سبیل المثال اگر کوئی شخص شوال کا چاند دیکھتا ہے اسے اپنے دیکھے پر یقین بھی ہے لیکن چونکہ اس کا کوئی ساتھی نہیں ہے جو چاند دیکھنے میں اس کی تائید کرے اس لیے حاکم وقت یا شہر کا قاضی یا عام مسلمان اس کی رؤیت کی تصدیق نہیں کرتے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اکیلے ہی عید منانے چل نکلے بلکہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ہی اسے عید منانی چاہیے وہ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتا ہے کہ وہ اپنے طور پر روزہ نہ رکھے اور افطاری کا اعلان بھی نہ کرے اگر حاکم یا قاضی یا عام مسلمان اس کی شہادت رد کرنے میں اجتہاد سے کام لیے ہیں تو اس غلطی پر ان کی گرفت نہیں ہے چنانچہ امام ترمذی رحمہ اللہ علیہ اس حدیث کے لیے یوں باب منعقد کرتے ہیں:
باب ما جاء ان الفطر يوم تفطرون والأضحى يوم تضحون
پھر اوپر ذکر شدہ حدیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
وفسر بعض أهل العلم هذا الحديث فقال: إنما معنى هذا: أن الصوم والفطر مع الجماعة وعظم الناس
سنن الترمذى : ج 3 ص 80 علامہ بدیع الزمان نے اس باب کا ترجمہ کیا خوب کیا ہے : باب اس بیان میں کہ عید الفطر اور اضحی جب ہی ہے کہ سب مل کر منا ئیں ۔ سنن ترمذی مترجم ج 1 ص 366۔ تفصیل کیلئے دیکھئے: تهذیب السنن لابن القيم وعون المعبود : ج 4 ص 443 ۔ سبل السلام ج 3 ص 73 – فيض القدير للمناوى ج 4 ص 320۔ اور سلسله الأحاديث الصحيحة للالباني ج 1 ص .443، 444 ۔
یعنی روزہ اور افطار مسلمانوں کی جماعت اور سب لوگوں کے ساتھ ہونی چاہیے۔
مشہور محدث علامہ ابو الحسن سندھی رحمہ اللہ علیہ اس حدیث پر یوں حاشیہ لگاتے ہیں:
”ظاہر میں اس حدیث کا معنیٰ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان معاملات میں افراد کا کوئی دخل نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ ان امور میں تفرد سے کام لے بلکہ یہ تمام امور امام وقت اور مسلمانوں کی جماعت کے حوالے ہیں بنابر میں اگر کسی شخص نے چاند دیکھا لیکن امام وقت نے اس کی گواہی رد کر دی تو اس پر واجب ہے کہ اس بارے میں مسلمانوں کی جماعت کی پیروی کرے۔“
حاشيه السندى على سنن ابن ماجه :ج 3 ص 306 .
قول ثانی: جن معاملات میں اجتہاد کرنے کی گنجائش ہو اور اجتہاد کے باوجود غلطی ہو جائے تو اللہ کی طرف سے اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے مثلاً لوگوں نے چاند دیکھنے کی پوری کوشش کی لیکن چاند دکھائی نہ دیا نتیجہ مسلمانوں نے شعبان کی تیس کی گنتی پوری کر کے روزہ رکھا پھر بعد میں معلوم ہوا کہ شعبان کا مہینہ اصل میں انتیس ہی دن کا تھا اور لوگوں سے چاند دیکھنے میں غلطی ہوئی ہے تو ایسی صورت میں نہ تو ان لوگوں پر کوئی گناہ ہے اور نہ ہی ایک روزے کی قضا واجب ہے بشرطیکہ رمضان کا مہینہ کم از کم انتیس دن کا مکمل ہو بعینہ اسی طرح مسلمانوں نے ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کی کوشش کی لیکن کسی وجہ سے چاند نظر نہ آیا جس کے نتیجہ میں لوگوں نے عرفہ کے میدان میں 9 ذی الحجہ کے بجائے 10 ذی الحجہ کو قیام کیا پھر بعد میں معلوم ہوا کہ دراصل عرفہ میں قیام ایک دن پہلے ہونا چاہیے تھا تو اس قسم کی غلطی کی وجہ سے حج متاثر نہ ہوگا بلکہ ان کا حج مکمل اور بالکل صحیح شمار ہوگا چنانچہ ایک مشہور تابعی حضرت مسروق رحمہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں عرفہ کے دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مسروق کو ستو پلاؤ اور میٹھا زیادہ کرو۔ مسروق رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: آج ہم نے صرف اس وجہ سے روزہ نہیں رکھا کہ آج یوم النحر نہ ہو یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
النحر يوم ينحر الناس والفطر يوم يفطر الناس
”قربانی کا دن وہ شمار ہوگا جب سب لوگ قربانی کریں اور افطار (عید)کا دن وہ ہے جب سب لوگ روزہ افطار کریں۔“
السنن الكبرى للبيهقى ج 4 ص 252 .
امام ابو داود رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک یہی قول راجح ہے چنانچہ وہ اپنی سنن میں زیر بحث حدیث کے لیے یہ باب منعقد کرتے ہیں:
باب اذا اخطأ الناس الهلال
”جب چاند دیکھنے میں لوگوں سے غلطی ہو جائے۔ “
سنن ابو داود ج 4 ص 441 مع عون المعبود.
یعنی یہ باب اس بیان میں ہے کہ کسی قوم نے چاند دیکھنے کی کوشش کی لیکن غلطی ہو گئی( فی الواقع چاند تھا لیکن ابر وغیرہ کی وجہ سے دیکھا نہ جا سکا) اور لوگوں نے تیس کا عدد پورا کر لیا پھر بعد میں معلوم ہوا کہ مہینہ 29 دن کا تھا تو اس بارے میں کیا حکم ہے؟
دیکھئے: عون المعبود ج 6 ص 441-442 .
امام بیہقی رحمہ اللہ علیہ بھی اپنی سنن میں یہ باب منعقد کرتے ہیں:
باب القوم يخطئون فى رؤية الهلال
”باب اس بیان میں کہ اگر لوگ چاند دیکھنے میں غلطی کا شکار ہو جائیں۔“
پھر اس باب میں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کی حدیثوں کو بیان کیا ہے۔
السنن الكبرى: ج 4 ص 351 حضرت ابو ہریرہ نبی صلى الله عليه وسلم کی حدیث : وفطركم يوم تفطرون، وأضحاكم يوم تضحون ، وكل عرفة موقف، وكل منى منحر ، وكل فجاج مكة منحر ، وكل جمع موقف رواه ابو داود 2324 الصوم البيهقـى -251/4 ، 252 ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عید الفطر اس دن ہے جس دن تم افطار کرو اور عید الاضحیٰ اس دن ہے جس دن تم قربانی کرو اور سارا عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے اور سارا منی قربان گا ہے اور مکے کے تمام راستے قربانی کی جگہ ہیں اور سارا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔“
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث : الفطر يوم يفطر الناس ، والأضحى يوم يضحي الناس ، (سنن الترمذی 802 الصوم) افطار کا دن (عید کا دن) وہ ہے جب سب لوگ افطار کریں اور قربانی کا دن وہ ہے جب سب لوگ قربانی کریں ۔
کتب حدیث کے مشہور شارح امام ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا یہی معنی بیان کیا ہے۔ دیکھئے: معالم السنن مع مختصر السنن ج 3 ص 213 . اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ زیر بحث حدیث وحدت رؤیت کے بارے میں صریح نہیں ہے بلکہ یہ ایک حکم عام ہے جسے اختلاف مطالع کے بیان میں مذکور دلائل سے خاص کیا جائے گا۔
❀ قیاس سے دلیل:
وحدت رؤیت کے مؤیدین ایک عقلی دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ وحدت رؤیت کو قبول کر لینے کا فائدہ یہ ہوگا کہ ساری دنیا کے مسلمان جس طرح جمعہ کی نماز ایک ہی دن میں پڑھتے ہیں اسی طرح ان کا روزہ عید اور قربانی بھی ایک ہی دن میں واقع ہوں گے جس سے ان کے باہمی اتفاق و اتحاد کو تقویت ملے گی اور اگر مسلمان اپنے تہوار اور دینی تقریبات میں مختلف ممالک میں مختلف دنوں میں منائیں تو نہ صرف ان کی وحدت پاش پاش ہوگی بلکہ یہ دوسری قوموں کے سامنے مضحکہ خیز بنتے ہیں۔
دیکھیے: مجلة مجمع الفقهي عدد ثاني جزء ثاني صفحہ 991 اور 992
اس عقلی دلیل پر علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ علیہ نے خاص توجہ دی ہے۔ ملک شام کے مشہور فقیہ شیخ وہبہ الزحیلی رحمہ اللہ علیہ نے بھی اپنی کتاب ”الفقه الاسلامي وأدلته“ میں اس دلیل پر کافی زور دیا ہے اور ایک ہندوستانی مؤلف نے بھی اسے خوب ابھارا ہے۔
أوائل الشهور، مکہ مکرمہ کی رؤیت ہلال صفحہ 8۔
اس استدلال پر ایک بڑا اشکال یہ وارد ہوتا ہے کہ اگر وحدت کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک ہی دن اور ایک ہی تاریخ کو عید منانا صرف مشکل ترین کام ہی نہیں بلکہ محال نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر مملکت سعودی عرب میں یا اس کے قرب و جوار کے اسلامی ممالک میں چاند کا ثبوت مل جاتا ہے اور وہ ایام گرمی کے ہیں جبکہ سورج 7 بجے غروب ہوتا ہے۔ اس وقت سعودیہ سے مشرق میں واقع بعض ممالک جیسے فیجی اور نیوزی لینڈ وغیرہ میں صبح کے چار یا پانچ بجے ہوں گے یعنی وہاں کے لوگ فجر کی نماز سے فارغ ہو چکے ہوں گے کیونکہ دونوں ملکوں کی توقیت میں 9 اور 10 گھنٹے کا فرق ہے۔ اور یہ بھی واضح بات ہے کہ موجودہ حالات کے لحاظ سے سعودیہ میں رؤیت ہلال کا اعلان 9 بجے یا 10 بجے رات سے پہلے کم ہی ہو پاتا ہے کیونکہ عام اعلان کے لیے رؤیت ہلال کا مسئلہ مختلف مراحل سے گزرتا ہے اولاً مقامی قضاة اس کی تحقیق کرتے ہیں اس کے بعد یہ مسئلہ مجلس قضائے اعلیٰ (سپریم جیوری کونسل) میں شہادتوں کے ریکارڈ کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، پھر مجلس قضائے اعلیٰ اس کی ثبوت اور عدم ثبوت کی بحث کے بعد دیوان ملکی (رولر آفس) میں رپورٹ کرتی ہے اور دیوان ملکی منظوری کے بعد بالترتیب مجلس قضائے اعلیٰ، وزارت داخلیہ اور وسائل اعلام کو اطلاع دیتا ہے، اسی طرح بڑی کوشش کے بعد رؤیت ہلال اور اس کے اعلان میں کم از کم دو تین گھنٹے صرف ہوتے ہیں، جبکہ یہ وقت فیجی اور نیوزی لینڈ کے باشندوں کے لحاظ سے چاشت کا وقت ہو گا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ لوگ اسی دن اپنی عید کس طرح منا سکتے ہیں یا روزہ کی ابتدا کس طرح کر سکیں گے، اور اگر اس دن عید نہیں مناتے اور اپنے روزہ کی ابتدا نہیں کرتے تو جس وحدت کا راگ آلاپا جا رہا ہے وہ کیسے پوری ہوگی۔ اور اگر یہی چاند سعودی عرب کے دور کسی مغربی ملک میں دکھائی دے تو اوپر ذکر شدہ مشکلات میں اور اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ ایک مثال ہے، اگر غور کیا جائے تو وحدت رؤیت کو ماننے میں اور بھی بہت سی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، جن کا علاج مدعیان وحدت رؤیت کے پاس نظر نہیں آتا۔ چنانچہ مولانا عبد الرحمن کیلانی مرحوم نے اس اشکال کو متعدد مثالوں سے واضح کیا ہے۔ غیر مناسب نہ ہوگا اگر ان کا ایک لمبا اقتباس نقل کر دیا جائے۔
مولانا مرحوم ایک جگہ لکھتے ہیں:
اس سال 1978ء شوال کا نیا چاند لندن میں شام کے 4 بج کر 9 منٹ پر وقوع پذیر ہوگا اور تاریخ 2 ستمبر ہوگی۔ اس لمحہ حجاز مقدس میں شام کے 6 بج کر 9 منٹ، پاکستان میں 9 بج کر 9 منٹ رات، مشرقی پاکستان میں 10 بج کر 9 منٹ رات اور جزائر فیجی اور سائبیریا میں 4 بج کر 9 منٹ سحری کا وقت ہوگا اور تاریخ 2 ستمبر ہی ہوگی۔ کیونکہ یہ مقامات بین الاقوامی تاریخی خط کے مشرق میں واقع ہیں۔
حکومت حجاز اسی قرآن کے لمحہ یعنی 2 ستمبر 6 بج کر 9 منٹ رات کو دوسرے دن عید منانے کا اعلان کرتی ہے تو جزائر فیجی اور سائبیریا کا مسلمان اس وقت کیا طریقہ اختیار کرے گا۔ اگر اس دن یعنی 2 ستمبر کو عید کرے تو اتحاد ممکن نہیں کہ حجاز میں عید 3 ستمبر کو ہو گی اور اگر روزہ رکھے تو کیوں رکھے، نیا چاند تو ہو چکا ہے؟ یہی صورت حال روزہ شروع کرنے یا دوسرے امور میں بھی پیش آ سکتی ہے۔
یہ تو تھا نئے چاند یا قرِ ان کا مسئلہ، اب ہم دیکھیں گے کہ اگر نئے چاند کی بجائے رؤیت ہلال کو ہی بنیاد قرار دیا جائے تو آیا یہ وحدت و اتحاد ممکن ہے؟ یہ بات پہلے واضح ہو چکی ہے کہ قرِ ان اور رؤیت ہلال دو الگ الگ چیزیں ہیں اور ان دونوں میں ایک ہی مقام پر 24 سے لے کر 30 گھنٹے تک کا وقفہ ہو سکتا ہے۔ اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ علم ہیئت کی رو سے چاند کی رویت کے لیے دنیا بھر کے تمام مقامات پر 24 گھنٹے کے بجائے 24 گھنٹے 49 منٹ کا عرصہ درکار ہے۔ تو اگر دنیا بھر کے لیے رویت ہلال کا اعلان کر دیا جائے تو اس سے مثال بالا سے بھی زیادہ الجھن پیش آسکتی ہے۔ مثلاً اوپر والی مثال میں 3 ستمبر 1978ء کو مکہ مکرمہ میں رویت مل جاتی ہے اور ساڑھے سات بجے شام اگلے دن کے لیے عید کا اعلان کر دیا جاتا ہے تو میکسیکو (امریکہ) میں اس وقت ساڑھے نو بجے دن کا وقت ہوگا۔ کیا لوگ اس دن روزہ پورا کر کے دوسرے دن عید منائیں گے یا فوراً افطار کر کے اسی دن اور اسی وقت عید منائیں گے۔ ان دونوں صورتوں میں سے مکہ معظمہ سے وحدت کی کون سی صورت ممکن ہے؟
میں کہتا ہوں کہ شرعی احکام کو بالکل پس پشت ڈال دیا جائے تو بھی جس وحدت و اتحاد کی تمنا کی جاتی ہے، پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ وضعی طریق سے عیسوی کیلنڈر میں گھڑیوں کے آگے پیچھے کرنے سے خط تاریخ پر ایک دن کی کمی بیشی کرنے سے یعنی ایک ہی دن میں دو طرح کی پیوند کاری سے جو عیسوی تاریخ میں یکسانیت پیدا کی گئی ہے، اس سے حقیقی صورت حال میں تو کچھ فرق نہیں پڑ سکتا۔
رویت ہلال کی بنا پر کسی مقررہ تاریخ میں دو دن کا فرق پڑ سکتا ہے۔ لیکن بہت ہی کم مقامات پر یعنی دنیا کے ستائیسویں حصے میں، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ دو دن کا فرق بسا اوقات مشاہدہ میں آ رہا ہے۔ جس کی وجہ یہی اختراعی طریق ہے۔ جس کی بنا پر عیسوی تقویم میں ایک دن کے فرق کو جو سیارگان کی چال کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ فرق بھی قمری تاریخ پر جا پڑتا ہے۔ اگر یہ وضعی طریق کار ختم کر دیا جائے تو قمری تاریخوں میں اختلاف خود بخود ختم ہو جائے گا۔ اب یہ حضرات چاہتے ہیں کہ اسی طرح وضعی طریق کار سے قمری تاریخوں کا اختلاف ختم کیا جائے۔ ہماری گذارش یہ ہے کہ یہ وضعیت کبیسہ یا نسی سے پوری پوری مشابہت رکھتی ہے۔ جس کی قمری تقویم میں گنجائش نہیں ہے اور جس سے مسلمانوں کو سختی سے منع کر دیا گیا ہے۔
بادل، بارش، یا فضا کی کثافت کی بنا پر چاند کا نظر نہ آنا تقویم پر کچھ اثر نہیں ڈالتا۔ یہ اختلاف محض مقامی قسم کا ہوتا ہے۔ اور ایسا اختلاف رؤیت ہلال کمیٹیاں، یا مقامی حکومتیں شہادت کی بنا پر اعلان کے ذریعے دور کر سکتی ہیں بشرطیکہ مطلع ایک ہی ہو، مختلف نہ ہو، اختلاف مطالع کی حقیقت ہم پچھلے باب میں تفصیل سے بیان کر چکے ہیں اور قمری تاریخ میں اختلاف کی یہی ایک قسم ہے جسے ہم حسن تدبیر سے دور کر سکتے ہیں۔
اعلانات کے ذریعے دنیا بھر میں قمری تاریخ کو ایک بنانے کا مسئلہ بہت ٹیڑھا ہے اور کسی مخصوص دن میں مخصوص وقت پر شعائر کی ادائیگی میں اتحاد اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ اگر ہم چاہیں کہ حج کے دن حجاج کرام کی دعاؤں کے وقت ہم بھی ان کے ساتھ شریک ہو کر یہ عبادات بجا لائیں تو یہ مشکل سی بات ہو گی۔ کیوں کہ 9 ذی الحجہ کو زوال آفتاب کے بعد سے لے کر شام تک حجاج کرام میدان عرفات میں دعائیں کرتے ہیں۔ یہی حج کا رکن اعظم ہے اور اصل حج ہے۔ غروب آفتاب کے بعد وہاں سے روانہ ہو کر انہیں مشعر الحرام (مزدلفہ) پہنچنا ہوتا ہے۔ اس وقت ہند اور چین کے مسلمان گہری نیند سو رہے ہوتے ہیں اور آسٹریلیا میں سحری کا وقت ہوتا ہے۔ کیا وقت کی اس مطابقت کے لیے مسلمانوں کو مکلف بنایا جا سکتا ہے؟
یہی حال یوم النحر یعنی قربانی کے دن کا ہے۔ 10 ذی الحجہ کو حجاج دن طلوع ہونے کے بعد مزدلفہ سے منی آتے ہیں، پھر جمرہ کبری کو کنکریاں مارتے ہیں، اس کے بعد قربانی کا وقت آتا ہے۔ گویا طلوع آفتاب سے تقریباً تین گھنٹے بعد قربانی کا وقت آتا ہے۔ اور ہم اس وقت قربانی کا گوشت پکا کر ہضم بھی کر چکے ہوتے ہیں۔ تو کیا یہ حجاج کے کام سے مطابقت ہوگی یا مسابقت؟ پھر ایسے علاقے بھی ہیں جہاں کے مسلمان یہ قربانی کا دن گزار کر رات کو سونے کی تیاری کر رہے ہوں گے۔ اور ادھر یہ کیفیت ہوگی کہ حجاج کرام ابھی مزدلفہ سے روانہ بھی نہ ہوئے ہوں گے۔ علی ہذا القیاس ہماری نمازوں کا بھی یہی حال ہے کہ ان میں اوقات کی وحدت محال ہے۔ اہل حجاز جس وقت ظہر کی نماز ادا کرتے ہیں اس وقت ہم عصر کی نماز کی تیاری میں مصروف ہوتے ہیں۔ اور جب فجر ادا کرتے ہیں تو یہاں سورج خاصہ بلند ہو چکا ہوتا ہے۔
مکہ مکرمہ کی رؤیت کا اعتبار
یہ بات گزر چکی ہے کہ اس رائے کے موجد علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ علیہ ہیں۔ ان سے قبل اور ان کے بعد کسی قابل وثوق شخصیت نے ان کی موافقت نہیں کی ہے، علامہ مرحوم نے اپنے استدلال کی بنیاد ایک آیت اور ایک حدیث پر رکھی ہے، ذیل میں ان کا ذکر کیا جاتا ہے:
❀قرآن سے دلیل:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ﴾
”لوگ آپ سے چاند (کے گھنٹے بڑھنے)کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیں کہ یہ لوگوں کے اوقات، خاص کر حج کی تعیین کے لیے ہے۔“
(البقرة: 189)
وجه استدلال: علامہ مرحوم لکھتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو یہ ہدایت دی کہ منازل قمر کے اختلاف اور اس میں کمی و زیادتی میں ان کے تمام معاملات کے اوقات کا بیان ہے اور خاص کر أیام حج کی تعیین ہے، چنانچہ جیسا کہ میں سمجھتا ہوں عام کے بعد حج کی تخصیص میں اس بات کی طرف ایک بار یک اشارہ ہے کہ لوگوں کو چاہیے کہ اپنے اوقات کی تعیین بھی ایک ہی جگہ یعنی مکان حج مکہ مکرمہ سے کریں۔
اوائل الشهور العربية ص 31 .
لیکن یہ استدلال کئی اعتبار سے محل نظر ہے:
اولاً : یہ تفسیر تمام اگلے پچھلے علمائے امت کی تفاسیر کے خلاف ہے۔
اس آیت کی تفسیر میں علمائے تفسیر کے بیان کا ماحصل یہ ہے کہ چونکہ حج اسلام کا ایک رکن ہے جس کے لیے وقت کی معرفت بڑی اہمیت رکھتی ہے اور چونکہ مشرکین نے نسی و کبیسہ کی بدعت ایجاد کر کے حج کے مہینے اور ایام میں تبدیلی کر دی تھی اس لیے انھیں متنبہ کیا گیا کہ حج کے بارے میں نسبی وکبیسہ کی بدعت جائز نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ذی الحجہ کا مہینہ طبعی طور پر متعین کیا جائے گا۔
(دیکھئے: تفسير القرطبي ج 2 ص 343 – تفسير الشوكاني ج 1 ص 240)
ثانیاً : یہ کہنا کہ آیت میں حج کا ذکر توقیت زمانی کو توقیت مکانی سے مرتبط کرنے کے لیے ہے یہ ایک پوشیدہ نکتہ ہے جس کی وضاحت کسی ظاہری دلیل کی محتاج ہے خواہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان سے ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے، جبکہ یہ دونوں چیزیں مفقود ہیں، حتی کہ خلفائے راشدین سے لے کر آج تک امت کے کسی بھی عالم نے توقیت زمانی کو توقیت مکانی سے مرتبط نہیں کیا۔
معرفة اوقات العبادات ج 2 ص 54 .
❀حدیث سے استدلال:
الصوم يوم تصومون والفطر يوم تفطرون والأضحى يوم تضحون
”روزہ کا دن وہ ہے جس دن تم لوگ روزہ رکھو اور افطار کا دن وہ ہے جس دن تم سب لوگ افطار کرو اور قربانی کا دن وہ ہے جس دن تم سب لوگ قربانی کرو۔“
سنن ابی داود : 2324 الصوم سنن الترمذى: 697 الصوم سنن ابن ماجه :166 الصيام بروايت ابو هريرة ، الفاظ سنن الترمذی کے ہیں ۔
حدیث کا جو ترجمہ اوپر نقل کیا گیا ہے، وہ اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہے جس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ البتہ وہ ترجمہ جو ہمارے ایک بزرگ نے کیا ہے اسے بھی نقل کیا جا رہا ہے، قارئین سے گزارش ہے کہ اسے بھی سامنے رکھیں اور دیکھیں کہ وہ حدیث کا ترجمہ ہے یا تاویل و تحریف، محترم لکھتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اہل مکہ کو خطاب کرتے ہوئے) فرمایا: روزہ (تمام عالم اسلامی میں بشرطیکہ وہاں رؤیت ہلال کی خبر یا بادل چھا جانے کی صورت میں شعبان کے تیس دن پورے ہو جانے کی خبر، وجوب امساک کے وقت سے قبل پہنچ جائے) اس دن مشروع ہو گا جس دن تم لوگ (اے اہل مکہ) روزہ رکھنا شروع کرو گے اور (اسی طرح تمام عالم اسلامی میں) اس دن سلسلہ روزہ توڑ دیا جائے گا جس دن تم لوگ (اے اہل مکہ) روزہ کا اختتام کرو گے (نیز عالم اسلام میں )قربانی اس دن کی جائے گی جس دن (دسویں ذی الحجہ تا آخری ایام تشریق) تم لوگ قربانی کرو گے۔ (مکہ مکرمہ کی رؤیت ہلال صفحہ 109)
میں سمجھتا ہوں کہ یہ حدیث شریف کا ترجمہ و تشریح نہیں بلکہ تاویل و تحریف ہے۔ واللہ اعلم۔
وجه استدلال: علامہ مرحوم نے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد اپنے رسالہ کے تقریباً تین صفحات پر اس حدیث کی علمی تخریج کی ہے جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان حجۃ الوداع کے موقع پر تھا، چنانچہ علامہ مرحوم لکھتے ہیں:
”ان احادیث میں روزے، قربانی اور افطار وغیرہ کا ذکر حجۃ الوداع کے موقع پر کرنے سے یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ تمام عالم اسلامی میں روزہ اس دن رکھا جائے گا جس دن اہل مکہ روزہ رکھیں، افطار اس دن کیا جائے گا جس دن اہل مکہ افطار کریں اور عرفات کے میدان میں اسی دن ٹھہرا جائے گا جس دن اہل مکہ وہاں ٹھہریں، چنانچہ یہی اماکن رؤیت ہلال کے اثبات کے لیے معتمد مانے جائیں گے اور مسلمانوں پر لازم ہوگا کہ یہیں کے مطلع کا اعتبار کریں۔“
علامہ مرحوم کی تخریج اور ان کے تبصرہ پر متعدد اعتراضات ہیں جن سے تعرض کرنا مجھ جیسے طالب علم کے لیے زیب نہیں دیتا، البتہ تحقیقی ذوق رکھنے والے حضرات سے گذارش ہے کہ راویوں کی تضعیف و توثیق سے متعلق علامہ مرحوم کے تفردات کو دھیان میں رکھیں، اس بارے میں علامہ مرحوم کی کوششیں زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوئیں۔ علی سبیل المثال اسی حدیث کی تخریج میں ایک جگہ لکھتے ہیں: والواقدي عندنا ثقة خلافا لمن ضعفه ” بر خلاف ان لوگوں کے جو واقدی کو ضعیف کہتے ہیں یہ واقدی ہمارے نزدیک ثقہ ہیں “(حاشیہ صفحہ 22) حالانکہ واقدی کا ضعیف بلکہ سخت ضعیف ہونا علم جرح و تعدیل میں ایک مسلمہ امر ہے حتی کہ امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے انھیں متروک، امام نسائی رحمہ اللہ علیہ نے انھیں (كان يضع الحديث) کہا ہے۔ متقدمین کے اقوال کا خلاصہ حافظ ذہبی ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں مجمع على تركه، حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: متروك مع سعة علمه، یعنی علامہ ہونے کے باوجود متروک ہیں۔ (دیکھیے: المغني جلد 2 صفحہ 619 – التقريب صفحہ 882)
علامہ مرحوم کے اس استدلال پر چند اعتراضات وارد ہوتے ہیں:
اولاً: علامہ کا یہ فرمان کہ (یہ خطاب اہل مکہ یا اہل حج کے لیے تھا) غیر مقبول ہے کیونکہ علامہ مرحوم نے جس چیز کو بنیاد بنا کر اس حدیث کو حج اور ایام حج سے متعلق قرار دیا ہے وہ صحیح نہیں ہے، علامہ مرحوم کا استدلال سنن ابو داود میں حماد بن زيد عن ايوب عن محمد بن المنكدر عن ابي هريرة کی سند سے مروی درج ذیل حدیث سے ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
وفطركم يوم تفطرون وأضحاكم يوم تضحون وكل عرفة موقف وكل منى منحر وكل فجاج مكة منحر وكل جمع موقف
”تمہاری افطار کا دن وہ ہے جس دن تم لوگ افطار کرو گے تمھاری قربانی کا دن وہ ہے جس دن تم قربانی کرو گے اور پورا عرفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور مکہ کی تمام گلیاں قربانی کی جگہ ہیں، اور مزدلفہ پورا کا پورا ٹھہرنے کی جگہ ہے۔“
سنن ابی داود : 2324 الصوم – سنن الدارقطني 1 / 163- السنن الكبرى للبيهقى 4 / 251 بروايت ابو هريرة .
اس حدیث کی تخریج میں علامہ البانی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
فالسند صحيح لولا انه منقطع فان ابن المنكدر لم يسمع من ابي هريرة كما قال البزار وغيره
”اگر اس حدیث میں انقطاع نہ ہوتا تو یہ سند صحیح ہے کیونکہ ابن المنكدر کا سماع حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے جیسا کہ امام البزار وغیرہ نے ذکر کیا۔“
(ارواء الغليل ج 4 ص 11 .
واضح رہنا چاہیے کہ ہم نے حدیث کو ضعیف نہیں بلکہ سند کو ضعیف کہا ہے ۔ متن کے لحاظ سے یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ اس حدیث کے تمام جملے انفرادی طور پر صحیح سندوں سے ثابت ہیں ، دیکھئے علامہ البانی کی ارواء الغليل ج 4 ص11 اور اس کے بعد اور الصحيحه نمبر 224۔
میرے کہنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ علامہ مرحوم نے حدیث کی جس سند اور اس کے جس سیاق پر استدلال کی بنیا د رکھی ہے وہ صحیح نہیں ہے ۔)
معلوم یہ ہوا کہ علامہ مرحوم جس سند کو بنیاد بنا کر اس واقعہ کو حجۃ الوداع سے جوڑنا چاہتے ہیں وہ صحیح نہیں ہے۔ اس لیے جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان حجۃ الوداع کے موقع پر تھا، اس وقت اس روایت پر استدلال کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔
ثانیاً: اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خطاب ایام حج میں تھا تو کس دلیل سے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ خطاب صرف اہل مکہ کے لیے تھا اور عام امت اس کی مخاطب نہ تھی، یہ قول بلا دلیل ہے، اگر آیات واحادیث کی تاویل تفسیر کا یہ باب کھول دیا جائے تو ہر شخص اپنے لحاظ سے جو تاویل و تفسیر چاہے کرتا پھرے، یہی اصول ہے شیعہ اور دوسرے گمراہ فرقوں کا۔
ثالثاً: اگر یہ خطاب خاص اہل مکہ کے لیے تھا تو اس سے وحدت رؤیت اور وحدت صوم وغیرہ کا ثبوت کہاں سے ملتا ہے، بلکہ حدیث کا ظاہر و واضح مفہوم تو یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عام اجتماع کو غنیمت سمجھتے ہوئے عام امت کو مخاطب فرمایا کہ ہر جماعت اور ہر جگہ کے لوگوں کو یہ چاہیے کہ اپنے روزے اور اپنی عید و قربانی کے موقع پر باہمی اختلاف کا مظاہرہ نہ کریں جیسا آج کل دیکھا جا رہا ہے بلکہ جہاں رؤیت ہلال کی شہادت مل جائے وہاں کے سارے لوگ ایک ساتھ بغیر کسی اختلاف و انشقاق کے روزے اور عید و قربانی کا اہتمام کریں۔
رابعاً: مکہ مکرمہ شرفہا اللہ کو مرکز رؤیت تسلیم کر لینے میں ایک بہت بڑی خرابی یہ لازم آتی ہے کہ بعض وہ ممالک جو مکہ مکرمہ سے غرب میں واقع ہیں اور خط طول البلد میں اختلاف کی وجہ سے وہاں چاند پہلے نظر آ جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کے لوگ چاند دیکھ لینے کے باوجود اپنی رؤیت پر اعتماد نہ کریں یعنی اگر رمضان کا چاند ہے تو چاند دیکھ لینے کے باوجود روزہ نہ رکھیں۔ جبکہ شرعاً رمضان المبارک کا مہینہ انہوں نے پا لیا ہے، اور عید کا چاند ہے تو چاند دیکھ لینے کے باوجود افطار نہ کریں کیونکہ مکہ مکرمہ میں ابھی تک چاند نہیں ہوا جبکہ ان کے یہاں شوال کا مہینہ داخل ہو چکا ہے، اس طرح وہ لوگ دو خرابیوں کے مرتکب ہوئے، اول یہ کہ رمضان کا چاند دیکھنے کے باوجود روزہ نہیں رکھا اور دوم یہ کہ عید کا چاند دیکھ لینے کے باوجود افطار نہیں کیا، اس قسم کی مشکلات کا سامنا اہل مشرق کے لیے بھی ہو سکتا ہے، یا پھر یہ کہا جائے کہ مکہ مکرمہ اور اس کے اطراف کے علاوہ کے مسلمان (صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته) کے مخاطب نہیں ہیں بلکہ اگر نہ چاہتے ہوئے بھی چاند پر نظر پڑ جائے تو فوراً اپنی نظر کو پھر لیں تا کہ ماہ رمضان میں روزہ توڑنے اور عید کے دن روزہ رکھنے کے گناہ کے مرتکب نہ ہوں۔
خامساً: یہ ایسا معنی ہے کہ عہد رسالت سے لے کر آج تک مکمل چودہ صدیاں بلکہ اس سے زیادہ مدت تک امت مرحومہ اس سے نا واقف رہی ہے، یہ نکتہ نہ تو کسی مفسر نے سمجھا ہے، نہ کسی محدث نے اور نہ ہی کسی فقیہ نے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے؟
حاشا لله سبحانك هذا بهتان عظيم.
اس حدیث کا مفہوم کیا ہے؟
پچھلی سطور میں اس کی طرف اشارہ ہو چکا ہے۔
عدم وحدت رؤیت کے دلائل
اس قول کے قائلین علماء نے اپنے موقف کی صحت پر اثر و نظر سے استدلال کیا ہے:
❀اثر سے دلیل :
مشہور تابعی حضرت کریب بن ابی مسلم مولی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام الفضل بنت الحارث رضی اللہ عنہا (حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ ہیں ۔) نے مجھے ملک شام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، میں ملک شام گیا اور ان کا کام پورا کیا، ابھی میں شام ہی میں تھا کہ رمضان کا چاند نظر آ گیا، چنانچہ جمعرات کو ہم نے خود چاند دیکھا، پھر مہینہ کے آخر میں مدینہ منورہ واپس آیا تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم سے پوچھا کہ تم لوگوں نے چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے کہا کہ ہم لوگوں نے جمعرات کو چاند دیکھا تھا، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دوبارہ سوال کیا کہ کیا تم نے خود چاند دیکھا تھا؟ میں نے جواب دیا کہ ہاں، میں نے بھی دیکھا تھا اور میرے علاوہ اور بھی لوگوں نے چاند دیکھا تھا اور اس کے مطابق لوگوں نے روزہ رکھا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لیکن ہم لوگوں نے ہفتہ کی شب (جمعہ کی شام) کو چاند دیکھا ہے اس لیے ہم برابر روزہ رکھتے رہیں گے حتی کہ تیس روزے پورے کر لیں یا اس سے قبل چاند دیکھ لیں۔ حضرت کریب رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: کیا آپ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رؤیت اور ان کے روزے کا اعتبار نہیں کرتے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: نہیں (ایسی بات نہیں ہے بلکہ) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے۔
صحیح مسلم: 1087 الصيام – مسند احمد :ج 1 ص 306۔ سنن ابی داود: 2332 الصوم سنن الترمذى: 693 الصوم – سنن النسائى : ج 4 ص 131 .
یہ حدیث تو عدم وحدت رؤیت کے خلاف سب سے واضح دلیل ہے کیونکہ حبر أمت صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اہل شام کی رؤیت کو حجاز کے لیے معتبر نہیں سمجھا، بلکہ یہ کہہ کر رد کر دیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے یعنی ایک جگہ کی رؤیت ہر جگہ کے لیے کافی نہیں ہے۔
اس دلیل پر متعدد اعتراضات کیے گئے ہیں:
اولاً: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول هكذا أمرنا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کون سا حکم مراد ہے؟
یہ چیز قابل غور ہے، کیا اس بارے میں ان کے پاس کوئی خاص أمر تھا یا آپ کی مراد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته فإن غم عليكم فأكملوا العدة ولا تستقبلوا الشهر استقبالا سے ہے۔
موطا امام مالك : ج 1 ص 387 کتاب الصوم سنن ابي دواد :2327 الصوم سنن الترمذي : 688 الصوم.
اگر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس کوئی ”نبوی امر“ تھا تو وہ معلوم ہونا چاہیے تا کہ دیکھا جا سکے کہ وہ اپنے مفہوم میں کہاں تک صریح ہے اور اگر اس سے مراد مذکورہ نص ہے تو وہ ایک عام حکم ہے جس میں کسی خاص قوم، ملک اور علاقے کو مخاطب نہیں کیا گیا ہے، اس لیے وہ مخالف کے لیے حجت نہیں ہے اور جہاں تک حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا اہل شام کی رؤیت قبول نہ کرنا ہے تو یہ ان کا اجتہاد ہے جس کا ہمیں مکلف نہیں بنایا گیا۔
امام شوکانی کے اعتراض کا یہ خلاصہ ہے دیکھئے: نیل الأوطار:507،506/2۔ تحفه الأحوذي 3 / 308، 309۔
اس اعتراض کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ سیاق و سباق سے یہ ظاہر ہے کہ یا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس کوئی نص صریح تھی یا پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ حکم سے یہی سمجھا کہ ہر علاقے کے لوگ اس حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی طرح مخاطب ہیں جس طرح نماز کے اوقات کے مخاطب ہیں کہ وہ نماز ظہر (مثال کے طور پر) اس وقت پڑھیں جب ان کے یہاں سورج ڈھل جائے اسی طرح روزہ اس وقت رکھیں جب رمضان کا مہینہ آ جائے۔ چنانچہ شیخ الحدیث مولانا عبید اللہ رحمانی مبارک پوری رحمہ اللہ علیہ اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وعندي أن كلام الشوكاني مبني على التحامل يرده ظاهر سياق الحديث، والشام من جهة الشمالية من المدينة المنورة مائلا إلى المشرق وبينهما قريب من سبعمائة ميل، فالظاهر أن ابن عباس إنما لم يعتمد على رؤية أهل الشام واعتبر اختلاف المطالع لأجل هذا البعد الشاسع.
”میرے نزدیک امام شوکانی کا قول تکلف پر مبنی ہے، حدیث کا ظاہری سیاق اس کی تردید کر رہا ہے، شام مدینہ منورہ سے شمال مشرق کی طرف اور 700 میل کی مسافت پر واقع ہے اس لیے ظاہر یہی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اہل شام کی رؤیت کا اعتبار دوری اور اختلاف مطالع کی وجہ سے نہیں کیا۔“
مرعاة المفاتيح : ج 4 ص 428 ۔ اصل یہ ہے کہ دمشق 35 درجے طول البلد مشرق پر واقع ہے اور مدینه منوره 40 در جے طول البلد مشرق پر واقع ہے اور دونوں میں 5 درجے کا فرق ہے جس کی وجہ سے اختلاف مطالع کی گنجائش ہے۔
ثانیاً: یہ بات ہمیشہ سامنے رکھنی چاہیے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بلا واسطہ مخاطب تھے اور آپ کے خطاب کی زیادہ سمجھ بھی رکھتے تھے، خاص کر حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جیسا فقیہ صحابی جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی دعا تھی :
اللهم فقهه فى الدين وعلمه التأويل
”اے اللہ تعالیٰ اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور تفسیر کا علم دے۔“
مسند احمد: ج 1 ص 296 ۔
یہ حدیث مختصر صحیح بخاری وغیرہ میں موجود ہے ۔
اور اخص الخاص یہ کہ اس وقت مدینہ منورہ میں بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے، لیکن کسی نے بھی حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی تردید نہیں کی۔
معرفة اوقات العبادات : ج 2 ص 36 .
اس لیے بغیر کسی واضح دلیل کے جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فہم کو رد کر دینا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے، مزید برآں یہ کہ تمام وہ محدثین جنھوں نے اس حدیث کی تخریج کی ہے، سبھی نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی فقہ سمجھ کی تائید کی ہے، جیسا کہ ان کے اقوال آئندہ سطور میں ذکر کیے جائیں گے۔
اس استدلال پر دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ممکن ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اہل شام کی رؤیت پر اس لیے اعتماد نہ کیا ہو کہ یہ خبر واحد تھی اور خبر واحد کی شہادت ان کے نزدیک معتبر نہیں تھی، اور کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے کہ اس وقت مدینہ منورہ میں مطلع صاف ہو اور جب اہل مدینہ نے چاند نہیں دیکھا تو ایسی صورت میں رؤیت ہلال سے متعلق ایک آدمی کی شہادت معتبر نہیں ہے۔ اس اعتراض کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ محض ایک دعوی ہے، جس پر کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ حدیث میں اُس طرف کوئی اشارہ نہیں ہے۔
بعض علماء نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ بات کیسے تسلیم کی جاسکتی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت کریب کی خبر کو صرف اس لیے رد کر دیا کہ خبر دینے میں وہ اکیلے تھے ،جبکہ خود ان سے روایت ہے کہ ایک اعرابی صحرانشین اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أتشهد أن لا إله إلا لله کیا تم ” لا الہ الا اللہ“ کی گواہی دیتے ہو؟ یعنی کیا تم مسلمان ہو؟“ اس نے جواب دیا : ہاں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال فرمایا: أتشهد أن محمدا رسول الله ؟ ” کیا تم محمد رسول اللہ کی گواہی دیتے ہو؟ اس نے ہاں کہہ کر جواب دیا۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يا بلال أذن فى الناس أن يصوموا غدا اے بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل روزہ رکھیں ۔ سنن ابی داود : 234: الصوم ، باب نمبر 14 – سنن الترمذى: 691 الصوم – سنن النسائي: 2114 الصيام – سنن ابن ماجه : 652 الصيام اس حدیث کی صحت علماء کے نزدیک مختلف فیہ ہے ۔ (دیکھئے المجموع للنووى 4 / 282 المرعاة: 6 / 448 ، 449 ـ ارواء الغليل ج 4 ص 16،15)
ثانیاً: حضرت کریب رحمہ اللہ علیہ چاند دیکھنے میں اکیلے نہیں تھے، بلکہ ان کے ساتھ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت نے چاند دیکھا تھا، خلیفہ المسلمین اور شام کے تمام مسلمانوں نے اس رؤیت کو ثابت مانا تھا، جیسا کہ حدیث کے الفاظ سے ظاہر ہے۔
ثالثاً: حضرت کریب رحمہ اللہ علیہ چاند کی شہادت نہیں دے رہے تھے بلکہ ایک خاص جگہ چاند ہونے کی خبر دے رہے تھے۔
اور علماء کے نزدیک خبر اور شہادت دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، علماء خبر واحد کو تو قبول کرتے ہیں البتہ شہادت واحد کا مسئلہ محل نظر ہوتا ہے۔
امام ابو بکر ابن العربی رحمہ اللہ علیہ احکام القرآن میں لکھتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے اس قول هكذا أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم کی تاویل میں اختلاف ہے بعض نے کہا کہ چونکہ حضرت کریب رحمہ اللہ علیہ کی خبر (خبر واحد) تھی اس لیے اسے رد کر دیا۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ چونکہ مطلع کے لحاظ سے دونوں علاقے مختلف تھے اس لیے اس خبر کو رد کر دیا، اور یہی بات صحیح ہے، کیونکہ کریب رحمہ اللہ علیہ نے گواہی نہیں دی تھی (کہ اکیلے ہونے کی وجہ سے اسے رد کر دیا جائے) بلکہ ایک ایسے حکم کی خبر دی تھی جو بطور شہادت ثابت ہو چکا تھا، اور اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اگر کوئی حکم شہادت کی بنیاد پر ثابت ہو چکا ہو تو اس بارے میں خبر واحد کافی ہوتی ہے، اس واقعہ کی نوعیت یہ ہے کہ ”اغمات“ میں جمعہ کی رات کو چاند نظر آیا اور اشبیلیہ میں ہفتہ کی رات کو تو ہر شہر کے لیے اپنی رؤیت کا اعتبار ہوگا کیونکہ سھیل تارا (بسا اوقات) اغمات میں نظر آتا ہے لیکن اشبیلیہ میں نظر نہیں آتا جو اختلاف مطالع کی دلیل ہے۔
(احکام القرآن: 84، 85)
امام نووی رحمہ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت کریب رحمہ اللہ علیہ کی خبر کو صرف اس لیے رد کیا کہ رؤیت ہلال دور کے ممالک کے حق میں ثابت نہ مانی جائے گی۔ (شرح صحیح مسلم: 7/85، 84 – نیز دیکھیے: المرعاة: 6/428 – فتاویٰ اہل الحدیث: 2/310، 311)
رابعاً: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جب حضرت کریب رحمہ اللہ علیہ کی خبر کو سنا اور اہل شام کی رؤیت کو قبول نہیں کیا تو یہ نہیں فرمایا کہ خبر دینے میں تم اکیلے ہو، یا اس دن ہمارے یہاں مطلع صاف تھا اور کوشش کے باوجود ہم لوگوں نے چاند نہیں دیکھا وغیرہ وغیرہ، بلکہ آپ رضی اللہ عنہما نے صرف یہ کہہ کر رد کر دیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہی حکم دیا ہے یعنی یہ کہ دور کی رؤیت پر اعتماد نہ کریں۔
معرفة أوقات العبادات: جلد 2 صفحہ 44، 45۔
❀نظری دلیل:
جو علماء سارے عالم کے لیے وحدت رؤیت کے قائل نہیں ہیں وہ ایک عقلی استحالہ یہ پیش کرتے ہیں کہ اگر وحدت رؤیت ضروری ہوتی تو عہد صحابہ رضی اللہ عنہم اور اس کے بعد کے ادوار میں مسلمان حکام اور علماء، اپنے مرکز خلافت یا کسی اور جگہ رؤیت کے ثابت ہو جانے کے بعد ملک کے اطراف میں رؤیت ہلال کی اطلاع دیتے اور حتی الامکان لوگوں کو روزہ وعید کے موقع پر متحد رکھنے کی کوشش کرتے، جبکہ ایسی کوئی دلیل یا کوئی واقعہ پایا نہیں جاتا۔ آج اس دین کو چودہ صدیاں گزر گئیں لیکن کسی بھی صدی سے متعلق یہ اطلاع نہیں ملتی کہ امت کو ایک ہی جگہ کی رؤیت کا مکلف بنایا گیا ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانے میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا کہ جس دن اہل مدینہ نے روزہ رکھنا شروع کیا، اور جس دن اہل حجاز نے عید منائی اور جس دن اہل مکہ و مدینہ نے قربانی کی اس دن مسلمانوں کے دوسرے علاقے اور شہر بھی عید و قربانی کا اہتمام کیے ہوں۔
دیکھیے: العلم المنشور صفحہ 29، ابحاث ھيئة كبار العلماء: جلد 3 صفحہ 33، 34۔
اگر یہ کہا جاتا ہے کہ اس وقت روزہ کی ابتدا کی خبر دینا ایک مشکل کام تھا اس لیے خاموشی اختیار کی گئی تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ وحدت رؤیت کی وہ اہمیت نہیں ہے جو اس وقت دی جا رہی ہے۔ واللہ اعلم۔
پہلا قول: اتفاق مطلع کی صورت میں وحدت رؤیت کا اعتبار ہے اور اختلاف مطالع کی صورت میں وحدت رؤیت کا اعتبار نہیں:
اس رائے کے قائلین علماء کا استدلال قرآن وحدیث اور قیاس سے ہے، واضح رہے کہ اس رائے کے قائلین علماء کا استدلال تقریباً انھیں دلیلوں سے ہے جن دلائل سے وحدت رؤیت کے قائلین علماء کا استدلال ہے البتہ وجہ استدلال میں فرق ہے۔
❀قرآن سے استدلال:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾
”پس تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پالے وہ اس کا روزہ رکھے۔“
(البقرة: 185)
وجه استدلال: آیت مبارکہ میں روزے کے وجوب کو ”شہود شہر“ یعنی ماہ صیام پالینے پر معلق کیا گیا ہے اور ماہ صیام کا وجود 29 شعبان کی شام میں رؤیت ہلال یا پھر تیس دنوں کی گنتی پورے ہونے پر موقوف ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته یعنی ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔ “
اب اگر ایک شخص کسی ایسی جگہ رہتا ہے جہاں مطلع کے فرق کی وجہ سے نہ تو شعبان کی 29 تاریخ ہے اور نہ ہی رؤیت ہلال ممکن ہے، اس طرح وہاں کے رہنے والوں نے ماہ صیام پایا ہی نہیں اور جب ماہ صیام پایا ہی نہیں تو ان پر روزہ کس طرح واجب ہو سکتا ہے۔
مجموع فتاوی ورسائل شیخ ابن عثيمين : ج 19 ص 45 .
اس دلیل پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان کا روزہ تمام مسلمانوں پر فرض کیا ہے اور قابل وثوق لوگوں کی شہادت سے یہ ثابت ہو گیا کہ یہ دن رمضان المبارک کی ابتدا ہے لہذا تمام مسلمانوں پر اس دن کا روزہ فرض ہو گیا کیونکہ شریعت نے ہر شخص اور ہر شہر والوں کے لیے الگ الگ رؤیت کی شرط نہیں لگائی ہے۔
المغني: ج 4 ص 329 .
اس اعتراض کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ جس جگہ کا مطلع رؤیت ہلال کی جگہ کے مطلع سے مختلف ہو وہاں ماہ رمضان نہ تو شرعاً ثابت ہے اور نہ عقلاً، لہذا ان پر یہ حکم بھی نہ لگے گا۔
❀احادیث سے استدلال:
① اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
الشهر تسع وعشرون ليلة فلا تصوموا حتى تروه فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين
”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے اس لیے جب تک چاند نہ دیکھو روزہ نہ رکھو اور اگر بادل چھا جائے تو تیس کی گنتی پوری کر لو۔“
صحيح البخاری : 1907 ، الصوم – صحیح مسلم : 1080 الصوم بروایت ابن عمر ، الفاظ صحیح بخاری کے ہیں ۔
وجه استدلال: اس حدیث اور اس طرح کی متعدد احادیث (جن کا ذکر گزر چکا ہے) میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے اور افطار کو اولاً رؤیت ہلال سے مشروط کیا ہے۔ ثانیاً اگر رؤیت ہلال کا ثبوت نہ مل سکے تو تیس دن مکمل کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے جس جگہ رؤیت ہلال کا ثبوت حقیقتاً یا حکماً پایا جائے (اگر رمضان کا چاند ہے) تو وہاں کے لوگوں پر روزہ رکھنا یا (اگر شوال کا چاند ہے تو) افطار کرنا واجب ہوگا، اور یہ بات علمی طور پر متفق علیہ ہے کہ ساری دنیا میں ایک ہی دن رؤیت ہلال ممکن ہی نہیں ہے، بلکہ مطالع کے فرق کی وجہ سے ایک یا دو دن کا فرق ہو سکتا ہے، جیسا کہ مشاہدے سے معلوم ہے۔ اس لیے اگر کسی ایک جگہ رؤیت ہلال کا ثبوت ملتا ہے اور وہاں کا مطلع کسی دوسری جگہ کے مطلع سے مختلف ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس دوسری جگہ بھی رؤیت کا ثبوت ہو گیا ہے، بلکہ حق یہ ہے کہ ان کے یہاں نہ تو رؤیت ہلال کا وجود حقیقتاً ہے، نہ حکماً، لہذا ان پر روزہ و افطار بھی واجب نہ ہوگا۔
اس دلیل پر بھی وہی اعتراض ہے جو اس سے قبل ذکر شدہ دلیل پر کیا گیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم عام ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خاص قوم کو مخاطب نہیں فرمایا بلکہ حکم چاند کے دیکھنے پر معلق کیا ہے اس لیے دنیا کے کسی بھی حصے میں چاند دیکھا جائے تو اس پر عمل کرنا لازم ہوگا بشرطیکہ معتبر ذرائع سے خبر پہنچ جائے۔
اس اعتراض کا جواب بھی وہی ہے جو اس سے پہلے دیا گیا کہ یہ حکم ان تمام لوگوں کے لیے ہے جو اتحاد مطلع کی حدود میں رہتے ہوں اور جو لوگ مطلع کی حدود سے باہر ہیں، ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انہوں نے حقیقتاً یا حکماً چاند دیکھا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھئے: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ج 19 سوال نـمبـر 15، 16، 17، 18
② اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
لا تقدموا الشهر حتى تروا الهلال أو تكملوا العدة ثم صوموا حتى تروا الهلال أو تكملوا العدة
”چاند دیکھنے سے قبل مہینے کا استقبال نہ کرو (یا وقت سے قبل مہینہ کا اعتبار نہ کرو) گنتی کو پورا کر لو پھر روزہ رکھو یہاں تک کہ چاند دیکھ لو یا گنتی پوری کر لو۔“
سنن ابو داود : 2326 ، الصوم – سنن النسائى : 2126 الصيام صحيح ابن خزیمه : 3/1911 ص 203 بروایت حذیفہ ۔ اس معنی میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کی بھی حدیث ہے، دیکھئے سنن ابی داود : 2327، الصوم، سنن النسائي : 2130، الصيام : صحيح ابن خزیمه : ج 3 ص 203 .
وجه استدلال: اس حدیث سے وجہ استدلال یہ ہے کہ وجوب صوم کے لیے رؤیت ہلال کے ساتھ یہ شرط بھی ہے کہ رمضان کا مہینہ داخل ہونے سے قبل روزہ نہ رکھا جائے، اسی طرح افطار کے لیے رؤیت ہلال کے ساتھ یہ شرط بھی ہے کہ رمضان کا مہینہ گزر جائے، اب اگر اختلاف مطالع جو نہ صرف ایک علمی حقیقت ہے، بلکہ ایک بدیہی امر ہے، اسے مؤثر نہ مانا جائے تو یہ خرابی لازم آئے گی کہ دنیا کے بعض علاقوں میں رمضان شروع ہونے سے قبل روزہ رکھا گیا اور رمضان پورا ہونے سے قبل افطار کیا گیا۔
❀قیاس سے دلیل :
اختلاف مطالع کے قائلین علماء ایک عقلی دلیل بھی پیش کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ امر سب کے مشاہدے میں ہے کہ روئے زمین کے مشرقی علاقے میں طلوع فجر مغربی علاقے سے پہلے ہوتی ہے، یعنی ہم سے مشرقی علاقے میں فجر طلوع ہوتی ہے اور ہمارے یہاں ابھی رات باقی ہوتی ہے، اسی طرح ہم سے مشرق میں سورج ڈوب جاتا ہے اور ابھی ہمارے یہاں دن کا ایک حصہ باقی ہوتا ہے تو کیا سمت مشرق میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی جماعت جن پر فجر طلوع ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ان میں سے روزہ رکھنے والے حضرات کے لیے کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے تو کیا ہمارے اوپر بھی کھانا پینا (روزہ رکھنے کے لیے) حرام ہو گیا اور اسی طرح جب ہمارے مشرق میں سورج ڈوب گیا تو ہمارے لیے بھی افطار جائز ہو گیا، اگر چہ ہمارے یہاں ابھی عصر کا وقت ہے؟ یقیناً جواب نہیں میں ہوگا تو چاند بھی سورج ہی کی طرح ہے کیونکہ چاند مہینے کے وقت کا بیان ہے اور سورج دن کے اوقات کا بیان ہے اور جس ذات نے یہ فرمایا ہے:
﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ﴾
(سورة البقرة: 187)
اور فرمایا:
﴿ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ﴾
(سورة البقرة: 187)
اسی ذات نے یہ بھی فرمایا ہے:
﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ (سورة البقرة: 185)
مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين : ج 19 ص 48 .
اس دلیل پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ روزے اور افطار سے متعلق ایک نص عام ہے کہ (صوموا لرؤيته)، (وأفطروا لرؤيته) اور جب کسی ایک فرد یا جماعت کے چاند دیکھ لینے سے رؤیت کا حکم ثابت ہو گیا تو وجوب بھی ثابت ہو گیا بخلاف زوال و غروب کے کہ کسی بھی شرعی نص میں محض ان کے نام پر کوئی عام حکم معلق نہیں کیا گیا۔
فتح القدير : ج 2 ص 312 تنيبه الغافل والوسنان ص 108 .
لیکن اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ بعض شرعی نصوص میں بعض عبادات کو سورج کی حرکت کے ساتھ جوڑا گیا ہے چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ﴾
”نماز کو قائم کریں آفتاب کے ڈھلنے سے لے کر رات تاریکی تک اور فجر کا قرآن پڑھنا بھی۔“
معرفة اوقات العبادات : ج 2 ص 47 .
اس دلیل پر ایک اعتراض یہ بھی کیا گیا ہے کہ وجوب اور ادائے وجوب میں فرق ہے، ادائے وجوب میں تو مطلع اور وقت کا فرق پڑتا ہے۔ البتہ وقت وجوب میں فرق نہیں پڑتا، مثلاً جمعہ کی نماز جمعہ کے دن ہی پڑھی جاتی ہے اور ساری دنیا میں جمعہ ہی کے دن پڑھی جاتی ہے البتہ طلوع و غروب کے فرق کے لحاظ سے آگے پیچھے ہوتی رہتی ہے۔ بعینہ اسی طرح روزہ تمام مسلمانوں پر ایک ہی دن میں واجب ہوتا ہے اور عید کا دن تمام مسلمانوں کے لیے ایک ہی دن ہے، البتہ سورج کی حرکت کی وجہ سے اور علاقے کے فرق کے لحاظ سے اداء میں تقدیم و تاخیر ہوتی رہتی ہے۔
جريدة ترجمان : جلد : 2 شمار: 40 – 41 ص 14
اس اعتراض کا جواب یہ دیا جا سکتا ہے کہ اصل مسئلہ وقت وجوب ہی کا ہے یعنی روزہ کا وجوب اس وقت ہوگا جب ماہ رمضان کا چاند حقیقتاً یا حکماً نظر آئے گا یا پھر شعبان کے تیس دن مکمل ہو جائیں گے، اسی طرح عید کا دن وہ ہوگا جب شوال کی پہلی تاریخ ہوگی۔ پھر جب رمضان کا مہینہ شرعاً یا فعلاً داخل ہی نہیں ہوا، تو وقت وجوب کا سوال ہی نہیں ہوتا البتہ جن علاقوں کا مطلع ایک ہے، وہاں وجوب اور ادائے وجوب کا فرق قابل قبول ہو سکتا ہے۔
دوسرا قول:کسی جگہ کی رؤیت اسی علاقے کی حدود تک مانی جائے گی جہاں تک یہ کہا جا سکے کہ اگر بادل و غبار وغیرہ جیسی کوئی رکاوٹ نہ ہوتی تو یہاں بھی چاند ضرور دکھائی دے جاتا:
میری سمجھ کی مطابق یہ قول اس سے قبل مذکور قول کے قریب قریب ہی ہے، یعنی اختلاف مطالع کی صورت میں وحدت رؤیت کا اعتبار نہ ہوگا اور اتفاق مطلع کی صورت میں وحدت رؤیت کو تسلیم کیا جائے گا، دونوں قول ایک ہی مفہوم ادا کر رہے ہیں، دونوں میں صرف تعبیر کا فرق ہے، شائد اسی وجہ سے علامہ سبکی رحمہ اللہ علیہ نے اسے بہتر قرار دیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
اعتبار كل بلد لا يتصوره خفاؤه عنهم جيد.
العلم المنشور : ص 29 .
لیکن واضح رہے کہ یہ کوئی ایسا ضابطہ نہیں ہے جس کے تابع لوگوں کو کیا جا سکے۔ واللہ اعلم۔
تیسرا قول:مکان رؤیت سے قصر کی مسافت تک رؤیت کا اعتبار کرنا:
اس قول کی دلیل یہ ہے کہ چونکہ شریعت میں مسافت کی کوئی تحدید نہیں کہ کتنی دوری تک رؤیت ہلال کا اعتبار ہوگا اور کتنی دوری کے بعد نہیں، اور اس بارے میں اختلاف مطالع کا اعتبار کرنا اصل میں اہل نجوم اور اہل حساب کی بات کو تسلیم کرنا ہے۔ جبکہ نجومیوں کی بات قبول کرنا شرع میں منع ہے۔ اس لیے مسافت قصر کا اعتبار ضروری ہے کیونکہ شریعت نے بعض عبادات کو مسافت قصر سے منسلک کیا ہے جیسے نماز کا قصر کرنا اور افطار کی اجازت وغیرہ۔
المجموع : ج 6 ص 237- معرفة اوقات العبادات: ج 3 ص 52 – العلم المشورص 28 .
اس دلیل پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ:
اولاً : از روئے شرع مسافت قصر کی کوئی تحدید وارد نہیں ہوئی ہے۔ اسی لیے اس سلسلے میں علماء کے اقوال مختلف ہیں حتی کہ بعض کے نزدیک نو میل کی مسافت پر قصر جائز ہے، حتی کہ ظاہر یہ کے نزدیک تین میل کی مسافت پر بھی قصر جائز ہے، حالانکہ یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ہر تین میل یا نو میل کے بعد رؤیت کا اعتبار نہ ہوگا۔
ثانیاً: علم ہیئت اور علم نجوم دونوں الگ الگ علم ہیں اور جس نجومی کی بات سننے اور اس کے مطابق عمل کرنے سے روکا گیا ہے، وہ علم ہیئت جدید ہسے قطعاً مختلف ہے، بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عصر حاضر میں اختلاف مطالع ایک علمی حقیقت بن گیا ہے، جس کا تعلق مسافت قصر سے نہیں ہے (مجموع الفتاوى: ج 35 ص 104) بلکہ اس کا تعلق زمین کے طول البلد اور عرض البلد سے ہے جس کی تفصیل ابتدا میں گزر چکی ہے، کیونکہ بسا اوقات دو شہروں میں قصر کی مسافت ہو سکتی ہے، لیکن اختلاف مطلع نہ ہوگا، کیونکہ دونوں ایک ہی طول البلد پر واقع ہوئے ہیں جیسے ریاض اور ماسکو۔
معرفة اوقات العبادات : ج 2 ص .53،52
ثالثاً: خود علمائے شافعیہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ چنانچہ علامہ سبکی رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
و اعتبار مسافة القصر فى المحل ضعيف .
”یعنی رؤیت ہلال کی وحدت کے لیے قصر کی مسافت کا اعتبار ضعیف ہے۔“
العلم المنشور ص 29 ، المجموع : ج 6 ص 337 .
چوتھا قول: ایک اقلیم، انتظامی صوبہ میں جہاں کہیں بھی رؤیت ہوگی وہ پورے اقلیم کے لیے کافی ہوگی:
اس قول کی دلیل حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی مذکورہ سابقہ حدیث ہے۔
وجه استدلال یہ ہے کہ چونکہ شام ایک اقلیم (انتظامی صوبہ) تھا اور حجاز دوسری اقلیم (انتظامی صوبہ) تھا، اس لیے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اقلیم شام کی رؤیت کا اعتبار نہیں کیا۔
ارشاد اهل الملة ص 278- معرفة الوقات العبادات : ج 2 ص 53 .
اس دلیل پر یہ اعتراض ہے کہ:
اولاً : یہ چیز محل نظر ہے کہ اقلیم کی حد کیا ہے؟
مجموع الفتاوى : ج 35 ص 104 .
اس کی صحیح تعیین کرنا بہت ہی مشکل ہے اور جب تک کسی چیز کی صحیح تعیین نہیں ہو سکتی تو اس پر کسی حکم کی بنیاد کیسے رکھی جا سکتی ہے؟
ثانیاً: آج یہ بات عملی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ اختلاف و اتحاد مطالع کا تعلق اقلیم سے قطعاً نہیں ہے، بلکہ طول البلد اور عرض البلد سے ہے۔
ثالثاً: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جب حضرت کریب رحمہ اللہ علیہ کی خبر کو رد کیا تو یہ نہیں فرمایا کہ چونکہ شام دوسری اقلیم ہے اور حجاز دوسری اقلیم اس لیے وہاں کی رؤیت مقبول نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ علامہ سبکی رحمہ اللہ علیہ نے اس قول کو بھی ضعیف قرار دیا ہے۔
العلم المنشور : ص 29
پانچواں قول: ایک امام کے زیر حکومت رہنے والے ملکوں کی رؤیت ایک شمار ہوگی:
اس قول کے قائلین علماء کے پاس کوئی شرعی دلیل نہیں ہے، البتہ ان کا کہنا ہے کہ ایک امام کے زیر تصرف جتنے بھی شہر ہیں وہ امام کے لیے ایک ہی شہر کی مانند ہیں، کیونکہ اس کا حکم پورے ملک پر نافذ ہے۔ (الكافي لابن عبد البر : ج 1 ص -435 طرح التثريب : ج 4 ص 116، 117) یہ قول چوتھے قول کے قریب قریب ہے، شاید اسی لیے علامہ سبکی رحمہ اللہ علیہ نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
اس استدلال پر بھی چند اعتراضات ہیں:
اولاً: اس استدلال پر کوئی شرعی دلیل نہیں ہے۔
ثانیاً: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جس وقت حضرت کریب رحمہ اللہ علیہ کی خبر کو رد کیا تھا اس وقت صوبہ حجاز شام کی مرکزی حکومت کے تابع تھا کیونکہ خلیفہ المسلمین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور امام اعظم تھے۔ لیکن نہ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اہل مدینہ کو لکھا اور نہ ہی حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اہل شام کی رؤیت پر اعتماد کیا۔
ثالثاً: پوری تاریخ اسلام میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے یا بعد میں آنے والے بادشاہوں نے لوگوں کو مرکز خلافت کی یا ملک کی کسی دوسری جگہ کی رؤیت کے تابع کیا ہو۔
رابعاً: ایک ہی ملک کی زمین میں جب اس کی حدود بڑی ہوں تو مطلع کا اختلاف ہو سکتا ہے جیسا کہ یہ امر مشاہدے میں آ رہا ہے۔
مملکت سعودی عرب میں اسی پر عمل ہو رہا ہے، بطور دلیل اگر چہ یہ قول ضعیف ہے، لیکن معاشرتی یکجہتی کے اعتبار سے قوی ہے۔
الشرح الممتع : ج 6 ص 323
اس لیے اگر کوئی شخص کسی ایسے ملک میں رہتا ہے جہاں اس قول پر عمل ہو رہا ہو تو اس کی مخالفت مناسب نہیں ہے۔
چھٹا قول:نماز کے وقت کے فرق سے رؤیت کا فرق کرنا:
یعنی اگر دو شہروں میں اتنا فاصلہ ہے کہ ایک شہر میں اگر ظہر کی نماز کا وقت ہے تو دوسرے شہر میں عصر یا مغرب کا وقت داخل ہو چکا ہے، تو ایسے دو شہروں کی رؤیت میں فرق مانا جائے گا۔
علامہ وقت ابوسعید شرف الدین محدث دہلوی رحمہ اللہ اور مشہور مجلہ الاعتصام پاکستان کے مستقل فتوی نگار شیخ الحدیث مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی نے یہی فتوی دیا ہے۔ (الاعتصام ، جلد 47 ، عدد 3 ) بعض قدیم فقہاء نے بھی یہ بات کہی ہے، لیکن بوقت تحریر اس کتاب کا نام میرے ذہن میں نہیں ہے۔
یہ قول اصل میں کوئی مستقل قول نہیں ہے بلکہ اختلاف مطالع کی حدود کا بیان ہے، یعنی اگر دو شہروں میں اتنی مسافت ہو کہ ایک شہر میں ایک نماز کا وقت ہو اور دوسرے شہر میں دوسری نماز کا وقت تو وہاں مطلع کا فرق پڑ سکتا ہے ورنہ نہیں۔ اس کے قریب قریب فقہاء کا یہ قول بھی ہے کہ اگر دو شہروں میں ایک ماہ کی مسافت کی دوری ہو تو مطلع کا اختلاف مانا جائے گا ورنہ نہیں۔
المرعاة : ج 6 ص 436 ، 437 – تنبيه الغافل والوسنان: ص 105 .
اس قول پر یہ اعتراض ہے کہ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے، اختلاف مطالع کا تعلق مسافت سے نہیں ہے بلکہ طول البلد اور عرض البلد سے ہے۔ جیسا کہ اختلاف مطالع کے عنوان سے یہ تفصیل گزر چکی ہے۔
ساتواں قول: ایک ہی رات میں خبر پہنچنے کی مسافت کو اصول بنانا:
اگر کسی جگہ رؤیت ہلال کا شرعی ثبوت مل چکا ہے تو وہاں سے چاروں سمت جتنی دور تک رات بھر میں خبر پہنچائی سکتی ہے وہاں تک کے لیے یہ رؤیت معتبر مانی جائے گی، اس کے بعد کے لیے نہیں۔
الشرح الممتع : ج 6 ص 323 .
ظاہر میں اس قول کا مقصد یہ سمجھ میں آتا ہے کہ چونکہ رؤیت ہلال کی بنیاد پر روزہ رکھنا یا ترک کرنا ہے، اس لیے روزے کا وقت شروع ہونے سے قبل جہاں تک خبر پہنچ سکتی ہے وہاں تک کے لیے اس علاقے کی رؤیت معتبر مانی جائے گی کیونکہ اگر روزہ شروع کرنے سے پہلے خبر نہ پہنچ سکے گی تو اس رؤیت کا عملاً کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
شاید یہ قول شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ علیہ کے اس قول کا خلاصہ ہے کہ:
والأشبه أنه إن رؤي بمكان قريب وهو ما يمكن أن يبلغهم خبره فى اليوم الأول فهو كما لو رؤي فى بلدهم ولم يبلغهم.
”حق کے زیادہ مشابہ یہ قول ہے کہ اگر چاند کسی ایسے قریبی شہر میں دکھائی دے جہاں سے پہلے دن خبر پہنچانا ممکن ہو تو گویا اس شہر ہی میں دکھائی دیا ہے جس کی خبر پہنچ نہ سکی۔“
مجموع الفتاوى : ج 25 ص 106 .
اس استدلال پر یہ اعتراض کہ:
اولاً : یہ اس وقت کی بات ہے جب وسائل ابلاغ فطری اور عادی تھے اور آج جیسے تیز رفتار اور برقی وسائل ایجاد نہیں ہوتے تھے، اس لیے یہ قول کوئی ضابطہ نہیں ہے۔
ثانیاً: قرآن وحدیث اور سلف صالحین کے اقوال سے اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔
ثالثاً: کتب تاریخ وسیر میں یہ کہیں نہیں ملتا کہ مسلمان خلفاء چاند دیکھنے کے بعد اس طریقے سے رؤیت کی خبر چاروں طرف بھیجتے رہے ہوں۔
ترجیح اور کاتب مقالہ کی رائے
زیر تحریر مقالہ میں دو موضوع خصوصی طور پر زیر بحث آئے ہیں:
① قمری مہینوں کا ثبوت بذریعہ علم فلک یا رؤیت؟
② تمام عالم اسلامی کے لیے وحدت رؤیت یا اختلاف رؤیت؟
پہلے موضوع سے متعلق نصوص قرآن وحدیث اور ان کی تشریح و توضیح سے مذکور علمائے کرام کے اقوال کی روشنی میں حتمی طور پر یہ ظاہر ہوا کہ قمری مہینوں کے ثبوت کے لیے رؤیت ہلال یا گنتی کے تیس دنوں کا پورا ہونا ضروری ہے۔ اور آج تک جن علمائے کرام کے اقوال کا اعتبار رہا ہے ان کا اجماع ہے کہ اس بارے میں علم حساب و فلکیات پر اعتماد جائز نہیں، اور جہاں تک علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ علیہ اور ان کے ہمنوا حضرات کے قول کا تعلق ہے کہ اس وقت مسلمانوں پر واجب ہے کہ علم فلکیات پر اعتماد کر کے قمری مہینے کی ابتدا کو قبول کریں تو یہ ایسا قول ہے کہ ان سے قبل کسی عالم دین نے یہ بات نہیں کہی، اور حق یہ ہے کہ علامہ مرحوم کے اقوال کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ علامہ موصوف بھی اپنے اس قول سے رجوع کر چکے ہیں۔
جہاں تک دوسرے موضوع کا تعلق ہے تو اس بارے میں وحدت رؤیت اور عدم وحدت رؤیت دونوں طرف کے دلائل کا موازنہ کرنے سے راجح قول یہی ثابت ہوتا ہے کہ وحدت رؤیت کے لیے اتفاق مطلع شرط ہے اور اختلاف مطالع کی صورت میں ہر علاقے کے لوگ اپنی اپنی رؤیت پر اعتماد کریں، یہی قول عقلی و نقلی دلائل کی روشنی میں قوی معلوم ہوتا ہے۔
راقم مقالہ کے مطالعے کے مطابق یہی مسلک جمہور محدثین اور فقہاء کی ایک بہت بڑی جماعت کا ہے، بلکہ حافظ ابن عبد البر، علامہ ابن رشد اور ابن جزئی کلبی نے اس پر علماء کا اجماع نقل کیا ہے، لیکن چونکہ عمومی طور پر فقہاء اور عصر حاضر کے بعض مؤلفین اس قول کو جمہور علماء کے قول کے خلاف کہتے ہیں، اس لیے غیر مناسب نہ ہو گا اگر چند باتیں اس سے متعلق تحریر کر دی جائیں۔
اولاً: یہ ضروری نہیں ہوتا کہ جو قول جمہور علماء کا ہو وہ حق سے زیادہ قریب اور دلیل کے لحاظ سے زیادہ قوی بھی ہو، جیسا کہ علمی دنیا میں کام کرنے والے حضرات پر مخفی نہیں ہے۔ چنانچہ متاخرین میں اہل تحقیق علمائے اہل حدیث نے متعدد مسائل میں قوی دلائل کی بنیاد پر جمہور علماء کی مخالفت کی ہے جیسے کہ طلاق ثلاثہ اور بیس رکعات تراویح وغیرہ، میری اس تحریر کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ میں مذہب جمہور کو اہمیت نہیں دیتا، بلکہ ایک طالب علم کی حیثیت سے راقم سطور کا یہ تجربہ ہے کہ عام طور پر جمہور کے مسلک کو چیلنج کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا اور چھوٹے علماء اور طالب علموں کو اچھی طرح غور و فکر کے بغیر جمہور کی رائے کو چیلنج نہیں کرنا چاہیے، البتہ جہاں دلائل روزِ روشن کی طرح واضح ہوں وہاں جمہور کی نہیں بلکہ دلیل کی قوت مانی جائے گی۔
ثانیاً: بہت سے مؤلفین جب کسی مسئلے کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ جمہور کا مسلک ہے، یا اس پر اجماع ہے، تو بسا اوقات اس میں اپنی رائے کی طرف جھکاؤ پایا جاتا ہے، ہوتا یوں ہے کہ جب کسی فقیہ یا عالم نے اپنی تحقیق اور معلومات کی بنیاد پر کسی مسئلے کو جمہور کا قول کہہ دیا، یا اس پر اجماع نقل کر دیا ہے، تو متاخرین بغیر کسی تحقیق و تمحیص کے اس نقل پر اعتماد کر لیتے ہیں حالانکہ تحقیق کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یا تو یہاں پر لفظ جمہور کا استعمال غلط ہے یا پھر آئمہ اربعہ کے مقلدین کے جمہور فقہاء مراد ہوتے ہیں (نہ کہ جمہور علماء یا جمہور محدثین)۔
سر دست زیر بحث موضوع کو لے لیا جائے کہ وحدت رؤیت کے مؤیدین بڑے زور دار انداز سے کہہ دیتے یا لکھ دیتے ہیں کہ جمہور علماء یا جمہور فقہاء و محدثین وحدت رؤیت کے قائل ہیں حالانکہ اس مسئلے پر تحقیقی نظر ڈالنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے، البتہ یہ کہنا صحیح ہے کہ اگر تمام نہیں تو جمہور محدثین اس مسئلے میں عدم وحدت رؤیت کے قائل ہیں جیسا کہ کتب حدیث پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے معلوم ہو جاتا ہے۔
جس کی ایک قریب مثال یہ ہے کہ (جریدہ ترجمان دہلی جلد 22 شمارہ 40-41 کے ص 13-14) پر ایک مضمون شائع ہوا، جس کا عنوان ہے ”ایک ملک کی رؤیت ہلال“ بعد میں معلوم ہوا کہ فاضل مضمون نگار نے اس بارے میں ایک رسالہ بھی تحریر فرمایا ہے اور اس میں بھی یہی کچھ لکھا ہے۔ فاضل مضمون نگار نے اپنے مضمون میں اس بات پر زور دیا ہے کہ جمہور فقہاء و محدثین کا یہی قول ہے، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر موصوف نے اپنے مخالف کو ہٹ دھرم قرار دیا ہے۔لا حول ولا قوة إلا بالله حالانکہ یہ مضمون یا تو موصوف کی اپنی ذاتی تحقیق نہیں ہے (اور بدقسمتی سے بعض مؤلفین اور مضمون نگار حضرات میں یہ مرض بڑھتا جا رہا ہے) یا پھر انھوں نے علمی تحقیق کا حق ادا ہی نہیں کیا ہے، جس کا اندازہ درج ذیل نقاط پر غور کرنے سے ہوتا ہے۔ لکھتے ہیں:
”مذکورہ مضمون کی تائید و حمایت میں درج ذیل علماء و فقہاء اور محدثین کی آراء سامنے آئیں۔“
① جمہور فقہاء اور محدثین اس بات کی طرف گئے ہیں کہ …. الخ
یہ قول کس قدر حقانیت پر مبنی ہے، اس کی حقیقت اوپر ذکر کی جا چکی ہے۔
② موصوف نے دوسرا نام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا لیا ہے، چنانچہ المسؤى شرح الموطأ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ علیہ رؤیت ہلال صرف چاند دیکھنے والے ملک اور اس کے قریبی ممالک میں معتبر مانتے ہیں، لیکن امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ تو ایک ملک کی رؤیت ہلال کو دیگر تمام ممالک میں قبول کیے جانے کے قائل ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ محض دونوں قول نقل کر دینے سے شاہ صاحب کا مسلک کیسے جان لیا گیا؟ کیونکہ شاہ صاحب کی عبارت میں کسی ایک قول کی ترجیح کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہے۔
③ تیسرا نام موصوف نے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ علیہ کا لیا ہے اور بطور دلیل مجموع فتاویٰ سے ایک مجمل قول نقل کیا ہے، جبکہ شیخ الاسلام ہمیشہ اختلاف مطالع اور اس کے اعتبار کے قائل ہیں، چنانچہ الاختيارات الفقهية میں لکھتے ہیں:
تختلف المطالع باتفاق أهل المعرفة بهذا، فإن اتفقت لزم الصوم والا فلا وهو الأصح للشافعية وقول فى مذهب أحمد
یعنی علم فلک کی معرفت رکھنے والے اہل علم اس پر متفق ہیں کہ اختلاف مطالع ایک حقیقت ہے اس لیے اگر مطلع ایک رہے تو روزہ رکھنا واجب ہوگا ورنہ نہیں۔ مذہب شافعی کا صحیح قول یہی ہے اور امام احمد کے مذہب میں بھی ایک قول اسی کی تائید میں ہے۔
(ص 106)
④ موصوف نے چوتھا نام امام شوکانی رحمہ اللہ کا لیا ہے اور اس میں وہ حق بجانب ہیں۔
⑤ موصوف نے پانچواں نام نواب صدیق حسن خان صاحب کا لیا ہے جس پر دو اعتراضات ہیں:
اولاً : الروضة الندية کے حوالے سے جو عبارت نقل کی گئی ہے وہ نواب صاحب کی عبارت نہیں ہے بلکہ امام شوکانی رحمہ اللہ کی عبارت ہے، جس کی شرح نواب صاحب کر رہے ہیں۔
ثانیاً : مذکورہ کتاب میں نواب صاحب کا رجحان بظاہر وحدت رؤیت کی طرف معلوم ہوتا ہے، لیکن ان کی دوسری تالیف فتح العلام (جو الروضة الندية کے بعد کی تالیف ہے دیکھیے مقدمہ فتح العلام 8/1) کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ نواب صاحب توحید رؤیت کے قائل نہیں ہیں، چنانچہ لکھتے ہیں: وفى المسألة اقوال ليس على أحدها دليل ناهض والأقرب لزوم أهل بلد الرؤية وما يتصل بها من الجهات التى على سمتها (690/2)۔ نواب صاحب کی اس عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اختلاف اور اس کے اعتبار کے قائل ہیں۔
⑥ موصوف نے چھٹا نام علامہ البانی رحمہ اللہ کا لیا ہے اور اس میں وہ حق بجانب ہیں۔
⑦ موصوف نے ساتواں نام علامہ قصیم شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کا لیا ہے اور کاش کہ ایسا نہ کیے ہوتے۔
موصوف لکھتے ہیں: شیخ محمد بن عثیمین رحمہ اللہ مفتی مملکت سعودی عرب نے اپنی کتاب ”مجالس شهر رمضان“ عربی، ص 14 پر فتویٰ دیا ہے۔ جس کا ترجمہ مختصر مجالس رمضان ص 12 پر ہے: نیز رمضان کی رؤیت ثابت ہو جانے کے بعد مطلع کا اعتبار نہ ہو گا، کیونکہ حکم رؤیت پر موقوف ہے نہ کہ اختلاف مطالع پر۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند کی رویت پر صوم رکھو اور چاند کی رویت پر صوم توڑو۔“
موصوف نے یہی بات اپنی کتاب ”مکہ مکرمہ کی رویت“ میں بھی نقل کی ہے اور بدقسمتی یہ کہ وہاں عربی عبارت بھی نقل کر دی ہے۔
موصوف کی اس عبارت پر متعدد ملاحظات ہیں لیکن بغرض اختصار ان تمام سے اعراض کر کے صرف ترجمہ کی غلطی پر توجہ دلاتا ہوں۔
سب سے پہلے شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کی عربی عبارت ناظرین کے سامنے رکھتے ہیں:
علامہ مرحوم اس سلسلہ کلام میں گفتگو کر رہے ہیں کہ دخول رمضان کا حکم دو باتوں سے ثابت ہو گا: ① چاند دیکھنا۔ ② شعبان کے تیس دنوں کا پورا ہونا۔
رؤیت ہلال، اس کے ثبوت کی شرائط، چاند دیکھنے والے کی ذمہ داری اور حکومت کی طرف سے چاند کے ثبوت کا اعلان ہو جانے کے بعد اس کے مطابق عمل کے وجوب وغیرہ کے بیان کے بعد لکھتے ہیں:
واذا ثبت دخول الشهر ثبوتا شرعيا فلا عبرة بمنازل القمر لأن النبى صلى الله عليه وسلم علق الحكم بروية الهلال لا بمنازله فقال صلى الله عليه وسلم :
إذا رأيتم الهلال فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا.
اور جب (رمضان المبارک کے) مہینے کے دخول کا شرعی ثبوت مل جائے تو منازل قمر کا کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دخول ماہ کو رویت ہلال پر معلق کیا ہے، منازل قمر سے نہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: إذا رأيتم الهلال فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا.
(مجالس شهر رمضان ص 14)
”یعنی جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھو تو افطار کرو۔“
میری سمجھ کے مطابق علامہ مرحوم یہ بات ان لوگوں کے رد میں لکھ رہے ہیں جو رویت ہلال پر اعتماد نہ کر کے علم فلک پر بھروسہ کرتے ہیں۔
لیکن غور کریں کہ موصوف نے شیخ رحمہ اللہ کی عبارت کا مطلب بالکل ہی دوسری طرف پھیر دیا ہے۔ چنانچہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ”منازل القمر“ کا کوئی اعتبار نہیں ہے، جس کا ترجمہ مضمون نگار نے ”مطلع کا اعتبار نہ ہوگا“ سے کیا ہے۔
نیز شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ علق الحكم بروية الهلال لا بمنازله یعنی شریعت نے دخول ماہ کو رویت ہلال سے معلق کیا ہے نہ کہ ”منازل قمر“ سے، اس عبارت کا ترجمہ موصوف نے: ”حکم رویت پر موقوف ہے نہ کہ اختلاف مطلع پر“ سے کیا ہے، یعنی ایک غلطی تو یہ کہ منازل کا ترجمہ مطالع سے کیا جا رہا ہے جبکہ یہ دونوں بالکل مختلف چیزیں ہیں۔
ثانیاً : لفظ ”اختلاف“ کا اضافہ کر دیا جا رہا ہے تا کہ اپنا مدعا ثابت کیا جا سکے۔
ترجمہ کی یہ غلطی موصوف مضمون نگار کی جلد بازی یا پھر کسی اور کے ترجمہ پر اعتماد کا نتیجہ ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ محترم مضمون نگار نے اپنی تائید میں سات نام درج کیے ہیں، جن میں سے وہ صرف دو کے بارے میں حق بجانب ہیں، پھر بھی کس دلیری سے کہہ رہے ہیں کہ کچھ علماء اس مسئلے میں قدرے ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے جھٹ سے کہہ دیتے ہیں … الخ سبحانك هذا بهتان عظيم.
چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت جس سے ”وحدت رویت“ کے کافی نہ ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے، اس حدیث کی تخریج جن جن محدثین نے کی ہے، تمام نے یہی استدلال کیا ہے کہ ایک جگہ کی رؤیت دوسری جگہ کے لیے معتبر نہیں ہے۔
◈على سبيل المثال:
① امام ابو عبد اللہ محمد بن عیسی الترمذی رحمہ اللہ اپنی سنن میں باب منعقد کرتے ہیں:
باب ما جاء لكل أهل بلد رؤيتهم.
”باب اس بیان میں کہ ہر شہر کے لوگ اپنی رؤیت پر اعتماد کریں۔“
اس باب میں امام ترمذی رحمہ اللہ نے حضرت کریب عن ابن عباس کی وہی حدیث نقل کی ہے جس کا ذکر اس سے قبل آ چکا ہے۔
سنن الترمذی 76/3 – كتاب الصيام: 9۔
امام ترمذی رحمہ اللہ آگے لکھتے ہیں:
حديث ابن عباس حديث حسن صحيح غريب والعمل على هذا الحديث عند أهل العلم أن لكل بلد رؤيتهم.
(امام ترمذی رحمہ اللہ کی اس عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے عصر تک اس سلسلے میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں تھا اور اگر تھا بھی تو قابل ذکر نہیں تھا۔ واللہ اعلم۔)
”عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث حسن صحیح غریب ہے اور اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ ہر ملک والوں کے لیے اپنی رؤیت ہے۔“
② سنن اربعہ کے ایک اور مؤلف امام ابو عبد الرحمن النسائی رحمہ اللہ اپنی کتاب السنن الکبریٰ اور الجتبي (السنن الصغريٰ) میں حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے یہ باب منعقد فرماتے ہیں:
باب اختلاف أهل الآفاق فى الرؤية
السنن الكبرى 67/2، والسنن النسائي 16/3 باب: 5۔
اہل آفاق کا رؤیت ہلال میں اختلاف کا بیان۔
③ سنن اربعہ کے ایک تیسرے مصنف امام ابو داود رحمہ اللہ اسی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے باب باندھتے ہیں:
باب اذا رؤى الهلال فى بلد قبل الآخرين بليلة (اى فما الحكم؟).
سنن ابو داود – ابواب الصوم – باب: 9۔
”یہ باب کہ اگر کسی ملک میں چاند دوسرے ملک سے پہلے دکھائی دے تو کیا حکم ہے؟“
④ صحیح حدیثوں کو جمع کرنے والے مشہور امام محمد بن اسحاق ابن خزیمہ رحمہ اللہ اپنی صحیح میں یہ باب باندھتے ہیں:
باب الدليل على أن الواجب على أهل كل بلدة صيام رمضان لرؤيتهم لا لرؤية غيرهم
”اس حکم کی دلیل کہ ہر ملک والوں پر روزہ رکھنا اپنی رؤیت پر واجب ہے نہ کہ کسی غیر کی رؤیت پر۔“
پھر وہی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی نقل فرماتے ہیں جس کا ذکر چل رہا ہے۔
صحیح ابن خزیمہ 3/205۔
⑤ حافظ عبد العظیم منذری رحمہ اللہ ”صحیح مسلم“ کی تلخیص میں حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے یوں باب باندھتے ہیں:
باب لكل بلد رؤيتهم
مختصر صحیح مسلم ص 156، تحقيق الالباني
⑥ امام نووی رحمہ اللہ نے بھی صحیح مسلم کی شرح کرتے ہوئے جب اس کی تبویب کی تو انھوں نے بھی اس حدیث (ابن عباس رضی اللہ عنہما) کے لیے یہ باب باندھا ہے:
باب بيان أن لكل بلد رؤيتهم وأنهم اذا رأوا الهلال ببلد لا يثبت حكمه لما بعد عنهم
شرح صحیح مسلم 197/7
”باب اس بیان میں کہ ہر ملک والوں کے لیے اپنی رؤیت ہے اور اگر کسی شہر میں چاند ہو گیا تو اس شہر سے دور ملکوں کے لیے یہ حکم ثابت نہ ہوگا۔“
⑦ ایک سے زائد مؤلفین نے امام بخاری رحمہ اللہ کی طرف یہ منسوب کیا ہے کہ:
باب البخاري: باب لكل بلد رؤيتهم
امام القرطبي 471- تفسير القرطبي 756/2 حافظ السبكي 756 العلم المنشور ص28 والفقيه القرافي 684 هـ الذخيره 491/2 ، واضح رہے کہ صحیح البخاری کے موجودہ نسخہ میں یہ باب موجود نہیں ہے، معلوم نہیں کہ یہ نسخوں کا اختلاف ہے یا ان ائمہ کا سہو۔ واللہ اعلم ۔
⑧ امام مجد الدین ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی مشہور کتاب ”منتقى الأخبار“ میں حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے یوں باب باندھتے ہیں:
باب الهلال اذا رأوه اهل بلد هل يلزم بقية البلاد الصوم؟
منتقى الاخبار 2 / 162
”باب یہ ہے کہ اگر ایک شہر والوں نے چاند دیکھا تو کیا باقی شہروں کو روزہ رکھنا لازم ہوگا؟“
⑨ مشہور محدث امام ابن شیرازی رحمہ اللہ اپنی مشہور کتاب ”جامع الاصول فى احاديث الرسول“ میں حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے یہ باب باندھتے ہیں:
باب اختلاف البلد فى الرؤية
جامع الاصول 6 / 325 .
”شہروں کا چاند دیکھنے میں اختلاف۔“
⑩ اور آخر میں جنھیں فی الحقیقت سب سے پہلے آنا چاہیے، امام بخاری رحمہ اللہ و مسلم رحمہ اللہ وغیرھما کے استاذ امام ابو بکر عبد اللہ بن ابی شیبہ رحمہ اللہ اپنی کتاب ”المصنف فى الاحاديث والاثار“ میں یہ باب منعقد فرماتے ہیں: في القوم يرون الهلال ولا يرونه الآخرون پھر اس کے تحت عبد اللہ بن سعید کا ایک اثر ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں:
ذكروا بالمدينة رؤية الهلال وقالوا: ان اهل استارة قد راوه، فقال القاسم وسالم: مالنا ولأهله استارة
المصنف 329/2
”مدینہ منورہ میں لوگوں نے بیان کیا کہ اہل استارہ نے چاند دیکھا ہے تو قاسم بن محمد اور سالم بن عبد اللہ نے کہا کہ ہمیں استارہ سے کیا واسطہ۔“
کتب حدیث کا یہ سرسری جائزہ تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زیر بحث مسئلے میں محدثین کی رائے بالکل واضح اور دوٹوک ہے کہ ہر علاقے کی اپنی اپنی رؤیت ہلال ہوگی اور جہاں چاند ہو جائے وہیں کے لوگ اس کے مکلف ہوں گے۔ اس کے برعکس مجھے یاد نہیں ہے کہ کسی محدث نے یہ باب باندھا ہو کہ:
اس بیان میں کہ ایک ہی جگہ کی رؤیت سارے عالم اسلام کے لیے کافی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سارے عالم کے لیے وحدتِ رؤیت کا اعتبار جمہور محدثین یا جمہور علماء کا مسلک نہیں ہو سکتا، بلکہ اگر صرف یہ کہا جائے کہ فقہائے مذاہب اربعہ کے جمہور کا قول ہے تو یہ بات کسی حد تک قابل غور ہو سکتی ہے۔
ثالثاً : آج کل جس معنی میں وحدت رویت کو جمہور کا قول قرار دیا جا رہا ہے، یہ بھی محل نظر ہے، کیونکہ میرے علم کے مطابق یہ حکم عام کہ خواہ اختلاف مطالع ہو یا نہ ہو، دور ہو یا بہت دور، اقصی مشرق میں ہو یا اقصیٰ مغرب میں، ہر جگہ کے لیے کسی ایک جگہ کی رؤیت کو کافی سمجھنا اور اسے بلا کسی شرط کے جمہور فقہاء کی طرف منسوب کرنا محلِ نظر ہے، کیونکہ بہت سے فقہاء جو اس بات کے قائل ہیں یا جن کی طرف وحدت رؤیت کا قول منسوب کیا جاتا ہے، انہوں نے اس بات کی بھی صراحت کی ہے کہ اس وحدت سے مراد وہ علاقے نہیں ہیں جو دور اور بہت دور واقع ہوں۔
ذیل میں ہم چند فقہائے مالکیہ کا قول نقل کرتے ہیں جسے تفصیل درکار ہو اور دوسرے مذاہب کے فقہاء کا مسلک دیکھنا چاہے وہ فضیلۃ الشیخ علامہ عبد اللہ بن حمید رحمہ اللہ (سابق رئیس شئون الحرمين الشريفين ورئيس مجلس القضاء الاعلیٰ سعودی عرب والد ڈاکٹر شیخ صالح بن عبد اللہ بن حمید) کا کتابچہ (تبيان الأدلة فى اثبات الأهلة)کا مطالعہ کر لے۔
(علامہ رحمہ اللہ نے اس کتابچہ میں بڑی تفصیل کے ساتھ نقل و عقل کی روشنی میں وحدت رؤیت کے بطلان کو ثابت کیا ہے۔)
① مشہور امام حدیث و فقہ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ اپنی مشہور کتاب ”الاستذكار“ میں لکھتے ہیں:
قد أجمعوا أن لا تراعي الرؤية فيما أخر من البلدان كالأندلس من خرسان وكذلك كل بلد له رؤية الا ما كان كالمصر الكبير وما تقاربت أقطاره من بلاد المسلمين.
الأستذكار 10/30۔
”علماء کا اس پر اجماع ہے کہ دور دراز شہر جیسے اندلس سے خراسان کے لیے رؤیت کا اعتبار نہیں ہوگا، اسی طرح ہر وہ شہر جس کی اپنی رؤیت مختلف ہے، ہاں! ایک ہی بڑے شہر اور دو ایسے شہر جن کی رؤیت ایک ہے ان کے لیے رؤیت معتبر مانی جائے گی۔“
حالانکہ یہی امام ابن عبد البر رحمہ اللہ اپنی دوسری کتاب ”الكافي فى فقه اهل المدينة“ میں لکھتے ہیں:
اذا رؤي الهلال فى مدينة أو بلد رؤية ظاهرة او ثبتت رؤيته بشهادة قاطعة ثم نقل ذلك عنهم الى غير هم بشهادة شاهدين لزمهم الصوم ولم يجزلهم الافطار.
الكافي 1/334 – 335۔
”جب کسی شہر یا ملک میں رویت ہلال کا واضح ثبوت ہو جائے پھر اس کی خبر دوسروں کو دو گواہوں سے پہنچ جائے، تو ان پر روزہ رکھنا واجب ہوگا اور ان کے لیے افطار کرنا جائز نہ ہوگا۔“
اس کے باوجود اجماع کا دعوی کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بعض علماء و فقہاء نے جو یہ کہا ہے کہ ایک جگہ کی رؤیت دور و قریب ہر جگہ کے لیے کافی ہے تو اس کا مطلب یہ قطعاً نہیں ہے کہ اس دوری سے مراد وہ دوری ہے جس کی وجہ سے مطلع میں اختلاف واقع ہو جائے، بلکہ صرف اتنی گنجائش نکلتی ہے کہ ایک ہی خط طول البلد میں واقع دور و نزدیک کے شہروں کے لیے چاند کا ثبوت مانا جا سکتا ہے۔
② ایک دوسرے مالکی امام ابن جزئی الکلبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
اذا رآه أهـل بـلـد لزم الحكم غيرهم من أهل البلدان ، وفاقا للشافعي خلافا لابن الماجشون ولا يلزم البلاد البعيدة كالاندلس والحجاز اجماعا.
القوانين الفقهيه ص 79۔
”جب کسی شہر کے لوگ چاند دیکھ لیں تو تمام شہروں کے لوگوں پر یہ حکم لاگو ہوگا اس پر امام شافعی رحمہ اللہ کی موافقت اور ابن ماجشون کی مخالفت ہے، البتہ بہت دور کے شہر جیسے اندلس اور حجاز کے لیے یہ حکم نہ ہوگا اور اس پر اجماع ہے۔“
③ ایک تیسرے مالکی عالم و فقیہہ امام ابن رشد رحمہ اللہ اپنی مشہور کتاب بداية المجتهد میں لکھتے ہیں:
واجمعوا انه لا يراعى ذالك فى البلدان النائية كالاندلس والحجاز.
”اس پر علماء کا اجماع ہے کہ بہت دور کے شہر جیسے اندلس و حجاز میں یہ حکم نافذ نہ ہوگا۔“
بداية المجتهد 2/563۔
④ ایک اور مالکی فقیہ محمد الدسوقی المتوفی 1230 ھ نے بھی یہ اعتراف کیا ہے کہ ”رؤیت ہلال“ کے سلسلے میں فقہاء نے جو یہ کہا ہے کہ کسی ایک جگہ کی رؤیت دور و نزدیک ہر جگہ کے لیے کافی ہے تو اس سے مراد بہت دور کے شہر نہیں ہیں۔
حاشية الدسوقى على الشرح الكبير 2/ 131 .
⑤ اس طرح ”موسوعة الفقه المالكي“ کے مؤلف لکھتے ہیں:
اذا رآه أهل بلد لزم الحكم غيرهم من أهل البلدان ، وفاقا للشافعي خلافا لابن الماجشون ، ولا يلزم البلاد البعيدة جدا كالاندلس والحجاز اجماعا.
موسوعة الفقه المالكي 363/5
اس مفہوم کے مزید اقوال کو ذکر کر کے بحث کو طول نہیں دینا چاہتا بلکہ صرف یہ بتا دینا مقصود ہے کہ فقہائے متقدمین نے جو یہ کہا ہے کہ ایک شہر کی رؤیت دور و نزدیک ہر جگہ کے لیے کافی ہے تو اس سے مراد ایسی دوری نہیں ہے کہ اس دوری کی وجہ سے مطلع کا اختلاف ہو جائے، کتب فقہ و حدیث کے مطالعہ سے راقم سطور نے تو یہی سمجھا ہے۔ اب اہل علم اور خصوصاً فقہ و اصول سے تعلق رکھنے والے اصحاب کو اس طرف توجہ دینی چاہیے کہ رؤیت ہلال کی وحدت کے بارے میں فقہاء نے جو قریب و بعید کا لفظ استعمال کیا ہے اس سے متعلق میری سمجھ کہاں تک صحیح ہے؟ مجھے اپنی رائے پر نہ اصرار ہے اور نہ ہی میری سمجھ کوئی حرف آخر ہے، نیز یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ مشہور محقق ڈاکٹر بکر بن ابو زید رحمہ اللہ نے بھی رؤیت ہلال کی عدمِ وحدت کو جمہور اہل علم اور آئمہ ثلاثہ کا مذہب قرار دیا ہے، جس سے میری رائے کی تائید ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔
فقه النوازل 333/3 .
نیز شیخ مصطفی الزرقاء رحمہ اللہ نے جب مجمع الفقہی الاسلامی منعقدہ 1406ھ میں وحدت رؤیت کو جمہور کا مذہب قرار دیا تو مناقشہ میں رئیس مجلس (شیخ ابن باز رحمہ اللہ) نے ان الفاظ میں اعتراض کیا:
يا فضيلة الشيخ نقطة توضيحية بسيطة : الحقيقه أن اختلاف المطالع هو الذى عليه الجمهور وأنتم تفضلتم وقلتم ان الذى عليه الأكثر هو الجائز حتى ان ابن عبد البر حكى الاجماع على اختلاف المطالع.
تو اس کے جواب میں شیخ مصطفیٰ رحمہ اللہ نے صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا:
لكم رأيكم وأنا رأيي أنه يكفينا أن نلقى الله برأى امامين عظيمين ولو خالفهما الاكثر.
مجلة مجمع الفقه الاسلامي العدد الثاني الجزء الثاني ص 992 .
لہذا اگر کوئی شخص وحدت رؤیت کے برعکس یہ کہے کہ گذشتہ نقول سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عہد قدیم سے آئمہ مجتہدین کا اس بات پر اجماع رہا ہے کہ اختلاف مطالع کی صورت میں وحدت رویت کا اعتبار نہیں ہوگا تو وہ بڑی حد تک حق بجانب ہوگا۔
خلاصہ یہ کہ اختلاف مطلع کی بنیاد پر رؤیت ہلال کا حکم بھی بدلے گا کاتب مقالہ کے نزدیک راجح مسلک یہی ہے۔ امام حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اس کو اختیار کیا ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا اس پر تقریباً اجماع نقل کیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
الى القول الأول أذهب لان فيه اثرا مرفوعا وهو حديث حسن تلزم به الحجة وهو قول صاحب كبير لا مخالف له من الصحابة وقول طائفة من فقهاء التابعين ومع هذا ان النظر يدل عليه عندى لأن الناس لا يكلفون علم ما غاب عنهم فى غير بلدهم ولو كلفو ذالك لضاق عليهم.
”میں پہلے مسلک کو اختیار کرتا ہوں کیونکہ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث ہے جو حسن کے درجہ کو پہنچتی ہے، جس سے حجت قائم ہو جاتی ہے، یہی قول ایک بڑے صحابی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ان کا کوئی مخالف نہیں، تابعین رحمہم اللہ میں سے فقہاء کی ایک جماعت کا بھی یہی مسلک ہے۔ علاوہ ازیں میرے نزدیک عقل بھی اسی پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ جو چیز لوگوں سے غائب ہو انھیں اس کا مکلف نہیں بنایا جا سکتا، اگر ایسا کیا جائے تو انھیں بڑی مشقت کا سامنا ہوگا۔“
التمهيد 357/14۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس قول کو اختیار کیا ہے جیسا کہ الاختیارات الفقہیة سے ظاہر ہے۔
الاختيارات الفقهية ص 29 ، یہیں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جن لوگوں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی طرف وحدت رؤیت کی نسبت کی ہے ، وہ صحیح نہیں ہیں۔
امام خطابی رحمہ اللہ نے بھی اسی کو راجح قرار دیا ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
قوله صلى الله عليه وسلم : إذا رأيتموه ، جعل صلى الله عليه وسلم العلة فى وجوب الصوم رؤية الهلال وأوجب على كل قوم أن يعتبروه بوقت الرؤية فى بلادهم دون بلاد غيرهم، فإن البلاد تختلف أقاليمها فى الارتفاع والانخفاض فربما رؤي الهلال فى بعضها ولم ير فى بعض ، فحكم أهل كل أقليم معتبر بأرضهم وبلادهم دون بلاد غيرهم.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: (اذا رأيتموه) اس حکم میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وجوب صوم کے لیے رؤیت کو علت قرار دیا ہے اور ہر قوم پر واجب قرار دیا ہے کہ ہر قوم کے لوگ اپنے شہر کی رؤیت اور اس کے وقت کا اعتبار کریں نہ کہ دوسرے شہر کی رؤیت کا کیونکہ ایک بعض ملک دوسرے ممالک سے ارتفاع و انخفاض (سطح سمندر سے بلندی پستی) میں مختلف ہوتے ہیں۔ اس لیے بسا اوقات ایک شہر میں چاند دکھائی دیتا ہے اور دوسرے شہر میں دکھائی نہیں دیتا، اس لیے ہر علاقے کا حکم اس سرزمین میں معتبر ہوگا، دوسرے شہروں میں نہیں۔
اعلام الحديث شرح صحيح البخاري 2/943
ہند و پاک کے جمہور علمائے اہل الحدیث کا بھی یہی مسلک رہا ہے، (فتاوى ثنائيه 1 / 425 ،شیخ الحدیث مبارکپوری رحمہ اللہ نے المرعاة ج 6 ص 305 ، 306 طبعة قدیمہ اور رمضان سے متعلق رسالے میں اس کو راجح قرار دیا ہے ص 98) مشہور عالم علامہ ابو سعید شرف الدین رحمہ اللہ محدث دہلوی اور حافظ عبد اللہ صاحب محدث روپڑی رحمہ اللہ نے اس سلسلے میں مستقل مقالے تحریر کیے ہیں(دیکھئے: فتاوی ثنائیه 1 / 659 : فتاوی اهلحدیث 3 / 309)، آں جناب نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ نے ”فتح العلام “ شرح بلوغ المرام میں اس مذہب کو اختیار کیا ہے، فتح العلام 2 / 690 ، بلوغ المرام کے شارح امیر یمانی رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو راجح قرار دیا ہے۔ سبل السلام 2 / 310۔ سعودی عرب کے مقتدر علماء کی فتاویٰ کمیٹی نے اس قول کو راجح قرار دیا ہے، (ابحاث هيئة كبار العلماء 29/3 وفتاوی شیخ ابن باز رحمہ اللہ 15 / 74) نیز رابطہ عالم اسلامی کے زیر نگرانی کام کرنے والی کمیٹی مجمع الفقہ الاسلامی نے اس کی تائید میں قرار صادر کیا ہے، (مجلة مجمع الفقه الإسلامي عدد 2 ، 925/2 ، نیز دیکھئے: قرارات المجمع الفقهى الاسلامی ص 82 ، 83) بلکہ سعودی عرب کے جمہور فقہاء و علماء نے اس مسلک کو اختیار کیا ہے اور اپنے فتووں میں اسی مسلک کو تفصیل سے واضح کیا ہے، خصوصاً شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ نے اپنے متعدد فتوؤں میں اس موضوع کو مدلل بیان کیا ہے، (دیکھئے: فتاوى ورسائل شیخ عبدالرزاق عفیفی ص 423 ، المنتقى من فتاوى الشيخ الفوزان ج 3 ص 123 ، 125 فتاوی رمضان ص 106 ، 107 اور فتاوی ابن عثیمین ج 19 ص 44 تا 62۔) خود سماخۃ العلامۃ ابن باز رحمہ اللہ (یہ بات اس لیے کہی جارہی ہے کہ لوگ جب اس موضوع کو چھیڑتے ہیں تو مذکورہ شخصیات خصوصاً ابن باز رحمہ اللہ کا نام بڑے زوردار انداز سے لیتے ہیں۔) نے بھی اس مسئلے کو دلیل کے لحاظ سے قومی تسلیم کیا ہے، حالانکہ شیخ کا مسلک اور فتویٰ توحید رؤیت کے اعتبار پر ہے، چنانچہ اپنے ایک فتوے میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
وهذا القول له حظه من القوة وقد رأى القول به أعضاء مجلس هيئة كبار العلماء فى المملكة العربية السعودية جمعا بين الأدلة، والله ولي التوفيق
”یہ قول بھی قدرے قوی ہے اور دلیلوں میں تطبیق دیتے ہوئے مملکت سعودی عرب کے مقتدر علماء کی کمیٹی کے ممبران نے اس قول کو راجح قرار دیا ہے۔“
فتاوی ابن باز 15/84۔
وحدت رویت کی تائید میں جہاں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ جمہور فقہاء و محدثین کا یہی مسلک ہے، وہیں پر یہ نکتہ بڑے زور و شور سے اٹھایا جاتا ہے کہ عید و بقر عید اور روزہ وغیرہ میں مسلمانوں کے اتحاد کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے مسلمانوں کی وحدت برقرار رہتی ہے، اور یہ بہت ہی غیر معقول بات ہے کہ ایک کلمہ پڑھنے والے مسلمان اپنی سالانہ تقریبات کے موقعہ پر مختلف نظر آئیں، کوئی جمعرات کو عید منا رہا ہے اور کسی نے اس سے قبل چہارشنبہ کو عید منا لی ہے، جبکہ کوئی جمعہ کو، اس طرح مسلمان غیر قوموں کی نظر میں مضحکہ خیز بن جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
یہ ایسا نکتہ ہے جسے علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ نے خوب اٹھایا اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں نے جب بھی وحدت رویت کا موضوع چھیڑا ہے اس کا ذکر ضرور کیا ہے۔
دیکھیے: مجله مجمع الفقهي عدد 2 جلد 2۔
ہم ان بزرگوں کے ان جذبات کی قدر کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اولاً تو وحدت رویت کی شکل میں کسی بھی طرح یہ جذبات پورے نہیں ہو سکتے، خواہ دنیا کے کسی مقام کو مرکز رؤیت مان لیا جائے یا عام چھوڑ دیا جائے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے دن ورات کی آمد ورفت کا کچھ ایسا سلسلہ قائم کر رکھا ہے کہ یہ اتحاد ممکن ہی نہیں ہے، جیسا کہ اس کی بعض مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں، یہاں ایک اور مثال پر غور کر لیجیے۔
یہ بات معلوم ہے کہ جزیرہ فیجی (Fuji) میں جب صبح ہوتی ہے تو لندن (London) میں اس وقت سورج ڈوبنے کی تیاری کر رہا ہوتا ہے۔ اور فیجی (Fuji) میں یہ صبح وہ ہوتی ہے جس صبح کا سورج لندن (London) میں ابھی بارہ گھنٹے یا اس کے کچھ بعد طلوع ہوگا۔ ایسی صورت میں اگر لندن میں روزے کا چاند یا عید کا چاند دکھائی دیتا ہے، تو اہل فیجی کے بارے میں کیا حکم ہوگا؟ اگر انہیں روزہ رکھنے کا حکم دیا جاتا ہے تو انھوں نے طلوع فجر سے قبل روزے کی نیت نہیں کی ہے، بلکہ چونکہ ان کے یہاں ابھی شعبان کی اٹھائیس یا انتیس تاریخ ہوگی اس لیے رات میں نیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، پھر اگر انھیں روزہ رکھنے کا حکم نہیں دیا جاتا تو توحید صوم کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اسی پر عید کو بھی قیاس کر لیا جائے۔ نیز اگر یہی مسافت مشرق میں اور بڑھا دی جائے تو روزہ و عید میں وحدت کا مسئلہ اور بھی مشکل نظر آتا ہے۔ اس لیے حق تو یہ ہے کہ رؤیت ہلال کی بنیاد پر مسلمانوں کی عید اور روزے میں وحدت کا مسئلہ مشکل ہی نہیں بلکہ محال ہے۔ فليتدبروا يا أولي الأبصار.
ثانیاً : احکام شریعت میں تبدیلی یا اس کے بارے میں رواداری سے اسلامی وحدت برقرار نہیں رہ سکتی، بلکہ انسانی دلوں، جسموں اور ماحول پر اسلامی قوانین کا نفاذ ہی اسلامی وحدت کی ضمانت ہے۔ اگر یہ چیز غائب رہی تو عید و روزہ اور بقر عید وغیرہ میں وحدت پیدا کر کے مسلمانوں کی حقیقی قوت بحال نہیں کی جا سکتی۔
ماضی قریب کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ وحدت عید و روزہ کے ذریعے اُمت میں وحدت پیدا کرنے کی یہ کوئی نئی آواز نہیں ہے، چنانچہ آج سے تقریباً تیس سال قبل پاکستان میں یہ آواز اٹھائی گئی تھی کہ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) اور مغربی پاکستان کی عید و روزے میں وحدت ہونی چاہیے، ایک بار ایسا ہوا کہ مشرقی پاکستان میں رویت ہلال کی شہادت نہ ملنے کے باوجود زبردستی عید منوائی گئی اور لوگوں کو افطار کرنے پر مجبور کیا گیا، اس واقعہ پر شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل صاحب رحمہ اللہ (گوجرانوالہ) نے الاعتصام 7 اپریل 1967ء میں ایک لمبا مضمون لکھا جس میں رویت ہلال سے متعلق موجودہ مسائل پر گفتگو کی اور آخر میں تحریر فرمایا:
◈عید اور وحدت ملت:
29 رمضان کے ریڈیو سے معلوم ہوا کہ ڈھاکہ (Dhaka) میں چاند نظر نہیں آیا، لیکن کمشنر(Commissioner) صاحب مشرقی پاکستان نے وہاں بھی عید کا اعلان کر دیا، معلوم نہیں کیوں کیا گیا؟
بات یہ ہے کہ اختلاف مطالع ایک حقیقت ہے۔ وحدت ملت کی دلیل صرف عید ہی کو تصور کرنا حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اگر ڈھاکہ (Dhaka) میں عید اتوار کو ہو جاتی تو اس سے ملت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا تھا۔ موسمیات کے محکمہ سے ہی دریافت فرمائیے، اگر ڈھاکہ (Dhaka) کا مطلع مغربی پاکستان سے مختلف ہے تو ان لوگوں کو عید پر کیوں مجبور کیا جائے؟ کمشنر (Commissioner) صاحب ہزاروں روزے تڑوانے یا رکھنے کا گناہ اپنے ذمے کیوں لیں؟ یہ نہ شرعاً درست ہے نہ عقلاً۔ محکمہ موسمیات اس کا فتویٰ دے سکتا ہے۔ مسلمان بحمد اللہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، ان سب کا ایک دن عید منانا ممکن ہی نہیں۔ اور نہ یہ وحدت شرعاً مطلوب ہے۔ حجاز، مصر (Egypt) اور شام (Syria) میں عید جمعہ کو ہو تو وحدت ملت کو کچھ نقصان نہیں۔ ڈھاکہ میں چاند نظر نہ آنے کی وجہ سے اگر عید اتوار کو ہو تو اس میں وحدت ملت کو کون سا نقصان پہنچ سکتا ہے؟ بلکہ وحدت ملت اس میں ہے کہ ملت کے احکام اور قواعد کی صحیح پابندی کی جائے۔ دانشمندی یہ ہے کہ جب اتنی دور کے منطقہ (Province) میں چاند نظر نہیں آیا تو معاملہ کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے، طے شدہ مسائل کے خلاف پبلک (Public) سے کچھ کہنا حکومت کے وقار کا تقاضا ہر گز نہیں۔
فتاوی سلفیه ص 58۔
خاتمہ اور بعض سفارشات
الحمد لله الذى بنعمته تتم الصالحات
بفضلہ تعالیٰ رؤیت ہلال اور وحدت رؤیت سے متعلق یہ بحث خاتمہ کو پہنچی۔ موضوع سے متعلق آیات و احادیث کے مطالعہ اور اقوال اہل علم کی روشنی میں یہ لمبا سفر طے کرنے کے بعد راقم سطور جس نتیجے پر پہنچا ہے، اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
① مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنے دینی و دنیوی معاملات میں شرعی مہینوں کا التزام کریں، کیونکہ یہی مہینے خالق کائنات کے مقرر کردہ ہیں اور اسی کو اللہ تعالیٰ نے دین قیم قرار دیا ہے۔
② شرعی مہینوں کی معرفت کا ذریعہ اللہ تعالیٰ نے صرف رؤیت ہلال کو بنایا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل کے ذریعے بھی اس کی اہمیت کو بیان فرما دیا ہے، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ عمومی طور پر پورے سال اور خصوصی طور پر شعبان و رمضان اور ذی الحجہ وغیرہ مہینوں کے لیے رویت ہلال کا اہتمام کریں، حتیٰ کہ جمہور فقہاء نے اسے فرض کفایہ قرار دیا ہے۔
③ شرعی مہینوں کی ابتدا و انتہا کی تعیین کے سلسلے میں علم فلک اور حساب نجوم پر اعتماد جائز نہ ہوگا، البتہ جدید ٹیکنالوجی اور علم فلکیات کے ماہرین سے اس سلسلے میں مدد لی جا سکتی ہے، لیکن اس کو بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
④ یہ ایسا مسئلہ ہے کہ علمائے اُمت کا اس پر اجماع چلا آ رہا ہے، جس کی مخالفت جائز نہیں ہے، کیونکہ اجماع امت کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف فرمان الہی:
﴿مَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ (سورۃ النساء: 115) حجت ہے۔
⑤ جن بعض فقہاء سے اس بارے میں خلاف مروی ہے۔
اولاً: تو ان میں سے اکثر کی طرف یہ نسبت صحیح نہیں ہے۔
ثانیاً: انہوں نے ایک محدود دائرے میں علم فلک پر اعتماد کو جائز قرار دیا ہے۔
ثالثاً: ان کا یہ عمل حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم: صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته فإن غم عليكم فاقدروا العدة کے صریح خلاف ہے۔
رابعاً: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام اور ان کے بعد کے آئمہ متبعین کا اجماع ان کے خلاف حجت ہے۔
⑥ علم فلک اور علم ہیئت کا معاملہ ابھی تک ظن کی حدود میں ہے اور متعدد اعتبار سے وہ شریعت سے ٹکراتا ہے، اس لیے قابل قبول نہیں ہے۔
⑦ اختلاف مطالع نہ صرف ایک عملی حقیقت ہے بلکہ علمائے شرع متین کا اجماع ہے کہ اختلاف مطالع ایک بدیہی امر ہے۔
⑧ البتہ علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ اختلاف مطالع ابتدائے صوم و فطر پر اثر انداز ہے یا ایک علمی حقیقت ہونے کے باوجود مسلمانوں کی عبادات پر اس کا کوئی اثر نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اختلاف مطالع کے باوجود عالم اسلامی کے لیے کسی ایک جگہ کی رؤیت کافی ہے یا یہ کہ ہر شہر اور ملک والے صرف اپنے علاقے کی رؤیت کے مکلف ہوں گے۔
⑨ اس کی تفصیل میں مختلف اقوال ہیں اور ہر ایک کی اپنی دلیل ہے، جو اصل مقالے میں درج ہے۔
⑩ اس بارے میں دو رائیں زیادہ قابل احترام اور لائق اعتبار ہیں:
اول: دنیا میں کسی بھی جگہ اگر چاند کا ثبوت ہوتا ہے تو تمام مسلمانوں کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔
دوم: اتفاق مطلع کی صورت میں وحدت رویت کا اعتبار ہوگا اور جن علاقوں کا مطلع مختلف ہے وہاں کی رؤیت بھی مختلف ہوگی۔
جبکہ دوسرے اقوال یا تو مذکورہ اقوال کے ضمن میں آتے ہیں یا پھر ان پر کوئی قوی دلیل نہیں ہے۔
⑪ خاص کر یہ قول کہ ”تمام عالم اسلامی کے لیے صرف مکہ مکرمہ کی رؤیت کا اعتبار ہے“ دلیل سے بالکل عاری اور قول شاذ و مردود ہے۔ علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ سے قبل کوئی عالم اس کا قائل نہیں ہے اور نہ ہی ان کے بعد کسی قابل ذکر عالم نے ان کی تائید کی ہے، بلکہ حق تو یہ ہے کہ علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ نے بھی اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا۔
⑫ نصوص کتاب و سنت، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد کے علماء کے تعامل کی بنیاد پر کاتب مقالہ کے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ اختلاف مطالع کا اثر رؤیت ہلال پر ضرور پڑتا ہے، اس لیے جن علاقوں کا مطلع مختلف ہوگا، وہاں وحدت رؤیت کا اعتبار نہ ہوگا، جمہور علماء و محدثین کی رائے یہی ہے۔
⑬ البتہ جو یہ کہا جاتا ہے کہ جمہور علماء و محدثین وحدت رویت کے قائل ہیں تو یہ دعویٰ دلیل سے عاری اور حقیقت سے دور ہے۔ ہاں! اگر یہ کہا جائے کہ فقہائے مذاہب اربعہ کے جمہور وحدت رویت کے قائل ہیں، تو یہ بات کسی حد تک قابل قبول ہو سکتی ہے۔
⑭ واضح رہے کہ جو علماء وحدت رؤیت کے قائل ہیں، ان کے پاس بھی اپنے دلائل ہیں اور اپنی جگہ ان دلائل کا ایک وزن بھی ہے اور ان شخصیات کا دل میں ایک مقام بھی، اس لیے دلائل کو سامنے رکھ کر ان سے اختلاف کے باوجود ان کا احترام اور ان کی آراء کا پاس و لحاظ ضروری ہے، بہت ممکن ہے کہ حق ان کے ساتھ ہو، لیکن کاتب مقالہ اپنی وسعت بھر تحقیق کے بعد جس نتیجے پر پہنچا ہے امانت داری سے اس کا اظہار کر دیا ہے۔
اللهم فاطر السماوات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون، اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك تهدي من تشاء إلىٰ صراط مستقيم
⑮ اس کے باوجود کاتب مقالہ یہی بہتر سمجھتا ہے کہ کسی بھی جگہ کے عوام اور طلبہ علم اپنے یہاں موجود علماء اور ان کی رائے سے اختلاف کر کے اپنا الگ تشخص نہ بنائیں، بلکہ اگر کسی جگہ کے اہل علم وحدت رؤیت کے قائل ہیں، تو وہاں کے لوگوں پر ان کی اتباع لازمی ہے، یہ چیز وحدت امت کے لیے اکسیر کی حیثیت رکھتی ہے۔
◈جمعیت اہل حدیث، سیمینار میں شریک اہل علم اور اہل قلم حضرات سے:
چند سفارشات :
وحدت رؤیت کا اعتبار یا عدم اعتبار ایک خالص علمی مسئلہ ہے، قدیم و جدید، ہر زمانے کے اہل علم کے درمیان یہ مسئلہ مختلف فیہ رہا ہے، ہندو پاک کے علمائے اہل حدیث کی اکثریت بلکہ بڑی اکثریت عدم اعتبار کی قائل رہی ہے، بلکہ مملکت سعودی عرب کے اکثر اہل علم بھی اس کے قائل ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے کو عوام میں لانے سے قبل اہل علم کے درمیان بحث و تنقیح کے مراحل سے گزار لیا جائے، کیونکہ اگر اس مسئلے کو عوامی پرچوں، اخبارات اور جلسوں میں اٹھایا گیا تو اس کے نتائج افتراق و انشقاق کی شکل میں ظاہر ہوں گے، جیسا کہ متعدد ملکوں میں اس کی مثال موجود ہے۔ چونکہ عوام اور نوجوان عمر و علم طلبہ جو عموماً جذباتی ہوتے ہیں اس لیے ان تک جب کوئی ایسا مسئلہ پہنچتا ہے تو وہ کسی کی عقیدت اور اپنی کم فہمی کی وجہ سے بسا اوقات ایک مسئلے کو لے اٹھتے ہیں، جس کی وجہ سے مسلمانوں کی جماعت بلکہ خود جمعیت بھی افراق و انتشار کا شکار ہو جاتی ہے، ماضی قریب و بعید میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں، بنابریں میری رائے یہ ہے کہ جمعیت اہل حدیث نے جب اس مسئلے کو اٹھایا ہے تو چاہیے کہ اہل علم و فکر کی مدد سے اس مسئلے پر اچھی طرح غور کر کے کوئی ایسا قرار صادر کرے جس پر تمام لوگ عمل کے مکلف ہوں، اس بارے میں ماہرین علم فلک سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔ کیا ہی خوب ہو، اگر دوسری جماعتوں کے اہل علم و فقہ حضرات کو بھی اپنی رائے پیش کرنے کی دعوت دی جائے، اور مسئلے پر اچھی طرح نظر ثانی و ثالث ہو جانے کے بعد جب کوئی متفقہ قرار پاس ہو تو اسے ہندوستان کے تمام علاقوں میں پہنچایا جائے، اس کے مطابق عمل کی دعوت دی جائے، اور وحدت امت کی اہمیت کو لوگوں کے سامنے رکھا جائے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ کام مشکل نہیں ہے اور نہ ہی ہندوستان کی سرزمین اہل فکر و نظر سے خالی ہے۔ اطلاعاً نہیں بلکہ یاد دہانی کے طور پر عرض ہے کہ رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے تحت کام کرنے والی فقہ اکیڈمی ”المجمع الفقهي الاسلامی“ میں یہ موضوع کئی سالوں تک زیر بحث رہا ہے اور ہر مکتب فکر کے اہل علم اپنے اپنے مقالات اور مناقشوں کے ذریعے اس میں شریک رہے ہیں، وہ مقالے اور مناقشے بلفظہ کتابی شکل میں موجود ہیں، اس سے کافی استفادہ کیا جا سکتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ امت مسلمہ کی وحدت کو باقی رکھنے کے لیے خاص کر عصر حاضر میں یہ کام بہت ضروری ہے اور جمعیت اہل حدیث کے امکان سے باہر نہیں ہے۔
البتہ جب تک یہ مسئلہ بحث و مناقشہ کی بھٹی میں چڑھنے کے بعد بالکل نکھر کر سامنے نہیں آجاتا، اُس وقت تک اُمت کو اسی طریقے پر رہنے دیا جائے جس پر وہ آج چودہ صدیوں سے چلی آ رہی ہے، اس درمیان ہر علاقے کے اہل علم، آئمہ مساجد اور خطبائے منابر حضرات سے درخواست ہے کہ عوام کو انتشار و افتراق سے بچائیں اور ملت کی وحدت کو کسی بھی صورت پاش پاش نہ ہونے دیں۔
گرامی قدر حضرات! یہ بات صرف وحدت رؤیت کے مسئلے تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ دیگر مسائل جو امت مسلمہ میں عموماً اور جمعیت اہل حدیث میں خصوصاً اختلاف کا سبب بنتے ہیں، ان کے بارے میں بھی ایسا ہی سوچنا چاہیے۔ بسا اوقات یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی مسئلے میں علماء اہل حدیث متفق ہوتے ہیں، لیکن ایک طالب علم جو ابھی تک علم و ادراک اور عقل و تجربہ کے ابتدائی مراحل میں ہوتا ہے، کبھی کبھار وہ اپنی ناقص تحقیق جو علمائے اہل حدیث کے مسلک کے خلاف ہوتی ہے یا کسی دوسرے عالم (جس کی تحقیق سے وہ مرعوب ہوتا ہے) کی تحقیق کو پڑھتا ہے تو اختلاف کی پرواہ کیے بغیر اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس تحقیق کو جلد ہی منظر عام پر لائے، خواہ تحریری شکل میں ہو یا تقریر کی شکل میں، کتابی شکل میں ہو یا پرچوں میں مقالے اور بحوث کی شکل میں۔ حالانکہ اس کے نتائج بہتر ظاہر نہیں ہوتے بلکہ عوام اور کم علم جوانوں اور جذباتی دیندار لوگوں کی وجہ سے جمعیت اور اس کے افراد میں انتشار پیدا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے جمعیت اہل حدیث دوسری جماعتوں کے سامنے ایک مضحکہ بن جاتی ہے، یہ ایسی چیز ہے جسے آپ حضرات مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ کسی بھی ایسے مسئلہ کو جس سے عوام میں انتشار کا خوف ہو، عوام میں پھیلانے سے پرہیز کیا جائے، درس و تدریس اور علمی مجلس میں ایسے مسائل کا ذکر مناسب ہوتا ہے، البتہ بغیر علمائے حق کی تصدیق کے عوام میں ایسے مسائل کا ذکر قطعاً مناسب نہیں ہے۔ درج ذیل واقعہ کا ذکر شاید یہاں غیر مناسب نہ ہوگا۔
مشہور تابعی عبیدہ السلمانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فتویٰ دیا کہ ام ولد کا بیچنا جائز ہے (حالانکہ اس سے قبل وہ اس بات کے قائل تھے کہ ام ولد کا بیچنا جائز نہیں ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بھی یہی مسلک تھا) ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین! آپ کا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کسی مسئلے پر متفق رہنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ آپ دونوں کے اختلاف سے لوگوں میں افتراق و اختلاف کا خطرہ ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اُس وقت جو جواب دیا تھا وہ اہل علم کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
أقضوا كما كنتم تقضون فإني أكره الاختلاف حتى يكون للناس جماعة أو أموت على ما مات أصحابي أبوبكر وعمر
جس طرح تم پہلے فیصلہ کیا کرتے تھے، اب بھی ویسے ہی کیا کرو۔ کیونکہ میں اختلاف کو برا جانتا ہوں۔ اُس وقت تک کہ سب لوگ جمع ہو جائیں یا میں (علی) بھی اپنے ساتھیوں (ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) کی طرح دنیا سے چلا جاؤں۔
صحیح البخاری: 3707 المناقب۔
اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وحدت امت کی کس قدر اہمیت ہے کہ بسا اوقات اپنے نزدیک راجح اور از روئے دلیل قومی مسئلہ کے بارے میں بھی سکوت اختیار کرنا پڑتا ہے، اس لیے تمام اہل علم و اہل قلم حضرات سے میری مؤدبانہ گذارش ہے کہ کوئی ایسا مسئلہ جس کے خلاف کسی جگہ کے علماء کا اتفاق ہو اسے اٹھانے اور مسئلہ عوام بنانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
میرا یہ مقصد قطعاً نہیں ہے کہ اہل زبان و قلم حضرات اپنی زبان و قلم کو اظہار حق سے رو کے رکھیں، بلکہ اس سے میرا مقصد صرف یہ ہے کہ ”الكل مقام مقال“ کی حکمت پر عمل کیا جائے اور کسی مسئلے کی تحقیق کے لیے اہل علم سے خصوصی رابطے کیے جائیں، کسی علمی کتاب اور خاص علمی پرچے میں بحث و مناقشہ کے لیے پیش کیا جائے، مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر بوقت ضرورت علماء حق کی میٹنگ بھی بلائی جا سکتی ہے، اور یہ چیز جمعیت کی بساط سے باہر نہیں ہے اور نہ ہی دینی مدارس و درس گاہوں کے دائرہ عمل سے خارج ہے۔
یہ چند گذارشات تھیں جنھیں اہل علم اور ذمہ داران جمعیت کے سامنے رکھنا ضروری سمجھا گیا، اگر حق ہوں تو قبول کر لی جائیں اور اگر حق کے خلاف ہیں تو میں بھی ایک بشر ہوں، جس کی فطرت میں خطا و نسیان ودیعت کی گئی(37-الصافات:181) ہے جس کے لیے بصد عاجزی بارگاہ مستجاب الدعوات میں گذارش ہے کہ:
ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا
سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين
متعلقہ بعض اہم فتاویٰ
① مملکت سعودی عرب کی ہيئة كبار العلماء کی قرار داد:
ونظر الاعتبارات رأتها الهيئة وقدرتها، ونظرا الى أن الاختلاف فى هذه المسألة ليست له آثار تخشى عواقبها، فقد مضى على ظهور هذا الدين أربعة عشر قرنا، لا نعلم فيها فترة جرى فيها توحيد الأمة الاسلامية على روية واحدة فان أعضاء مجلس هيئة كبار العلماء يرون بقاء الأمر على ما كان عليه، وعدم اثارة هذا الموضوع، وأن يكون لكل دولة اسلامية حق اختيار ماتراه بواسطة علمائها من الرأيين المشار اليهما فى المسألة، اذ لكل منهما أدلته ومستنداته
ھیئة كبار علماء نے کئی چیزوں کا خیال کرتے ہوئے اور کئی پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ اس مسئلہ میں اختلاف سے کوئی ایسے برے اثرات مرتب نہیں ہوں گے جن کے انجام کا ڈر ہو۔ اور اس بات کے مد نظر بھی کہ اس دین کو آئے ہوئے چودہ صدیاں گذر چکی ہیں، اس دوران ہمارے علم کے مطابق کبھی پوری امت اسلامیہ ایک رؤیت پر متفق ہو کر عمل نہیں کر سکی ہے۔ اس مجلس کے ارکان یہی مناسب سمجھتے ہیں کہ مسئلہ جوں کا توں رہنے دیا جائے اور اس موضوع کو بار بار بھڑکایا نہ جائے۔ اور یہ بھی رائے دیتے ہیں کہ ہر مسلم حکومت کو اختیار ہے کہ وہ مسئلہ میں مذکور دونوں آراء میں سے اپنے علماء کے ذریعے جس رائے کو مناسب سمجھے اپنا لے۔ کیونکہ ہر ایک کے پاس اپنے دلائل و مستندات موجود ہیں۔
(فتاوى اللجنة الدائمة رقم الفتوى 3686)
② عالمی فقہ اکیڈمی کی قرار داد (فتویٰ) :
المجمع الفقهي الاسلامي (عالم اسلام کے علماء کی سب سے بڑی فقہ اکیڈمی) نے مسئلہ کا ہر طرح سے جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ:
عالم اسلام میں عید اور چاند کے مسئلہ میں یکسانیت پیدا کرنے (توحید رؤیت) کی دعوت دینے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ اس مسئلہ میں یکسانیت کے پیدا ہو جانے سے اُمت میں اتحاد نہیں ہو جائے گا جیسا کہ اس مسئلہ کی طرف دعوت دینے والوں کو وہم ہوا ہے۔
اور یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ چاند کے سلسلہ میں فیصلہ کا اختیار مسلم ممالک میں موجود دار الافتاء یا دار القضاء کے حوالے کر دیا جائے کیونکہ یہی طریقہ مصلحت شرعیہ کے مطابق اور مناسب بھی ہے۔ اُمت میں اتحاد کی ضمانت تو اس بات میں ہے کہ امت اپنے تمام معاملات میں اللہ کی کتاب اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق عمل کرنے پر متفق ہو جائے اور اللہ توفیق دینے والا ہے۔
وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم.
عالمی فقہ اکیڈمی کے شر کا ء علماء کرام:
① عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز۔
② محمد علی الحر کان۔
③ عبد اللہ بن محمد بن حمید۔
④ محمد محمود الصواف۔
⑤ صالح بن عثیمین۔
⑥ محمد بن عبد اللہ بن سبیل۔
⑦ مبروك العوادي۔
⑧ محمد الشاذلي۔
⑨ عبد القدوس الہاشمي۔
⑩ ابولحسن علی الحسنی الندوی۔
⑪ محمد رشید قبانی۔
⑫ ابو بکر محمود جومی۔
⑬ حسنین محمد مخلوف۔
⑭ ڈاکٹر محمد رشید۔
③ شیخ بن باز رحمہ اللہ :
شیخ ابن باز رحمہ اللہ جو کہ دلائل کی روشنی میں توحید رؤیت کے قائل ہیں اور ان کے ساتھ سعودی عرب کی دائمی کمیٹی برائے فتویٰ و بحوث علمیہ نے یہ فتویٰ جاری کیا ہے:
يجب عليهم ان يصوموا مع الناس ويفطروا مع الناس ويصلوا العيدين مع المسلمين فى بلادهم
”یعنی ان لوگوں پر واجب ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ روزہ رکھیں اور لوگوں کے ساتھ روزہ چھوڑیں اور اپنے ملک کے مسلمانوں کے ساتھ ہی عیدین کی نماز پڑھیں۔“
(فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والافتاء: 94/10)
④ فتویٰ شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ اور شیخ محمد بن صالح المنجد :
سوال : جب رمضان کی ابتدا اور یوم عرفہ کی تحدید مختلف ممالک میں ایک نہ ہو تو مجھے کس کے ساتھ روزہ رکھنا ہوگا؟
بعض اسباب کی بنا پر ہم نے پاکستان میں رہائش اختیار کر لی ہے، اور اس کی بنا پر بہت سے معاملات مختلف ہو چکے ہیں مثلاً: نماز یا اوقات وغیرہ بھی بدل چکے ہیں وغیرہ میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ یوم عرفہ کا روزہ رکھنے کی رغبت ہے، لیکن پاکستان میں ہجری تاریخ سعودی عرب سے مختلف ہے، وہ اس طرح کہ پاکستان میں آٹھ تاریخ ہو تو سعودی عرب میں نو تاریخ ہوگی تو کیا میں پاکستان کی آٹھ تاریخ یعنی سعودی عرب کی نو تاریخ کے مطابق روزہ رکھوں یا کہ مجھے پاکستان کی تاریخ کے مطابق روزہ رکھنا ہوگا؟
جواب : الحمد لله:
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے مندرجہ ذیل سوال کیا گیا:
چاند کا مطلع مختلف ہونے کی صورت میں جب یوم عرفہ مختلف ہو جائے تو کیا ہم اپنے علاقے کی رؤیت کے مطابق روزہ رکھیں یا کہ حرمین کی رؤیت کا اعتبار کیا جائیگا؟
شیخ رحمہ اللہ کا جواب تھا:
یہ اہل علم کے اختلاف پر مبنی ہے کہ: آیا ساری دنیا میں چاند ایک ہی ہے یا مطلع مختلف ہونے کی بنا پر چاند بھی مختلف ہے؟
صحیح یہی ہے کہ: مطلع مختلف ہونے کی بنا پر چاند بھی مختلف ہیں، مثلاً جب مکہ مکرمہ میں چاند دیکھا گیا تو اس کے مطابق یہاں نو تاریخ ہو گی، اور کسی دوسرے ملک میں مکہ سے ایک دن قبل چاند نظر آیا تو ان کے ہاں دسواں دن یوم عرفہ ہوگا، لہذا ان کے لیے اس دن روزہ رکھنا جائز نہیں کیونکہ یہ عید کا دن ہے، اور اسی طرح فرض کریں کہ رؤیت مکہ سے لیٹ ہو اور مکہ مکرمہ میں نو تاریخ ہو تو ان کے ہاں چاند کی آٹھ تاریخ ہوگی تو وہ اپنے ہاں نو تاریخ کے مطابق روزہ رکھیں گے جو کہ مکہ کے حساب سے دس تاریخ بنے گی، راجح قول یہی ہے۔
اس لیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
”جب چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھو تو عید کرو۔“
اور وہ لوگ جن کے یہاں چاند نظر نہیں آیا انہوں نے چاند نہیں دیکھا، اور جیسا کہ سب لوگ بالا جماع طلوع فجر اور غروب شمس میں ہر علاقے کے لوگ اس علاقے کا اعتبار کرتے ہیں، تو اسی طرح مہینہ کی توقیت بھی یومی توقیت کے طرح ہی ہوگی۔ (دیکھیں: مجموع الفتاوی 20)
شیخ رحمہ اللہ سے کسی ایک ملک میں حرمین (سعودی عرب) کے سفارت خانے کے ملازمین نے مندرجہ ذیل سوال کیا:
یہاں ہمیں خاص کر رمضان المبارک اور یوم عرفہ کا روزہ رکھنے میں ایک مشکل در پیش ہے، یہاں بھائی تین اقسام میں بٹ چکے ہیں:
ایک قسم تو یہ کہتی ہے کہ: ہم سعودی عرب کے ساتھ ہی روزہ رکھیں گے اور اس کے ساتھ ہی عید منائیں گے۔
اور ایک قسم تو یہ کہتی ہے کہ: ہم جس ملک میں ہیں اسی ملک کے ساتھ روزہ رکھیں گے اور عید بھی انہی کے ساتھ منائیں گے۔
اور ایک قسم تو یہ کہتی ہے کہ: ہم رمضان المبارک کے روزے تو اسی ملک کے مطابق رکھیں گے جس میں رہتے ہیں، لیکن یوم عرفہ سعودی عرب کے ساتھ۔
اس بنا پر میری آپ سے گزارش ہے کہ رمضان المبارک اور یوم عرفہ کے روزہ میں تفصیلی اور شافی جواب سے نوازیں، اس اشارہ کے ساتھ کہ مملکت میں پچھلے پانچ برس سے ایسا نہیں ہوا کہ مملکت نہ تو رمضان اور نہ ہی یوم عرفہ میں موافق آیا ہے، اس طرح کہ سعودی عرب کے اعلان کے ایک یا دو روز بعد رمضان شروع ہوتا ہے اور بعض اوقات تین روز کے بعد۔
شیخ رحمہ اللہ کا جواب تھا:
علماء کرام کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا مسلمانوں کے ملک میں ایک جگہ چاند نظر آ جائے تو کیا سب مسلمانوں کو اس پر عمل کرنا لازم ہوگا یا صرف وہی عمل کریں گے جنہوں نے دیکھا ہے اور جن کا مطلع ایک ہے یا پھر جنہوں نے دیکھا ہے ان پر عمل کرنا لازم ہوگا اور ان پر بھی جو ان کے ساتھ ان کی ولایت میں بستے ہیں، اس میں کئی ایک اقوال ہیں، اور اس میں ایک اور اختلاف ہے۔
اور راجح یہی ہے کہ یہ اہل معرفت کی طرف لوٹتا ہے، اگر تو دو ملکوں کے مطلع جات ایک ہی ہوں تو وہ ایک ملک کی طرح ہوں گے، لہذا جب ایک ملک میں چاند دیکھا گیا تو دوسرے کا بھی حکم ثابت ہو جائیگا، لیکن اگر مطلع مختلف ہے تو ہر ایک ملک کا حکم اس کے اپنے مطلع کے مطابق ہوگا، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یہی اختیار کیا ہے اور کتاب و سنت سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے اور قیاس بھی اسی کا متقاضی ہے۔
❀کتاب و سنت سے دلائل:
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:
”تم میں جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزہ رکھنا چاہئے ، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں، وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کر لو اور اللہ تعالی کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔“
اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جو اس مہینہ کو نہ پائے اس پر روزہ رکھنا لازم نہیں۔
اور سنت کی دلیل یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
”جب تم اسے (چاند کو) دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب تم اسے (چاند کو) دیکھو تو روزہ رکھنا چھوڑ دو۔“
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب ہم چاند نہ دیکھیں تو روزے رکھنا لازم نہیں ہوں گے اور نہ ہی عید کرنا۔
اور رہا قیاس تو اس کے بارے میں گزارش ہے کہ: ہر ملک میں روزہ کھولنا اور سحری کھانا بند کرنا علیحدہ اور اس کے مطلع اور غروب شمس کے اعتبار سے علیحدہ ہوتا ہے، اور یہ محل اجماع ہے، آپ دیکھتے ہیں کہ ایشیا میں اہل مشرق اہل مغرب سے پہلے سحری بند کر دیں گے اور اہل مغرب سے قبل ہی روزہ افطار بھی کریں گے، کیونکہ ان کے یہاں فجر پہلے طلوع ہوتی ہے، اور اسی طرح ان کے یہاں سورج بھی پہلے غروب ہوتا ہے، لہذا جب روزانہ سحری کا کھانا بند کرنے اور افطاری کرنے میں یہ ثابت ہو چکا تو اسی طرح ماہانہ روزہ رکھنے اور روزہ چھوڑنے میں بھی ایسا ہی ہوگا، اس میں کوئی فرق نہیں۔
لیکن جب مختلف ریاستیں ایک ہی ملک کے ماتحت ہوں اور اس ملک کے حکمران نے روزہ رکھنے کا حکم دے دیا یا روزہ افطار کرنے کا حکم دیا تو اس حکم کا ماننا واجب ہوگا، کیونکہ یہ مسئلہ اختلافی ہے اور حاکم کا حکم اختلاف ختم کر دیتا ہے۔
اس بنا پر آپ لوگ اسی طرح روزہ رکھیں اور عید منائیں جس طرح اس ملک کے لوگ مناتے ہیں جہاں آپ رہائش پذیر ہیں، چاہے وہ آپ کے اصل ملک کے موافق آئے یا اس کے مخالف ہو، اور اسی طرح یوم عرفہ میں بھی آپ اسی ملک کے مطابق عمل کریں جس میں رہائش پذیر ہیں۔ (دیکھیں: مجموع الفتاوی 19) واللہ اعلم۔
شیخ محمد بن صالح المنجد (الخبر سعودی عرب)