مضمون کے اہم نکات
یہ مضمون دو بڑے الزامات کی تحقیقی تردید ہے جو بعض معترضین حضرت ابو ہریرہؓ پر عائد کرتے ہیں: (۱) یہ کہ انہوں نے کعب الاحبار کی باتیں نبی ﷺ کی طرف منسوب کیں، اور (۲) یہ کہ انہوں نے “سنی سنائی” باتیں بلا تحقیق نبی ﷺ کی طرف نسبت کر دیں۔ ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پہلی بات کے لیے جو دلیل پیش کی جاتی ہے وہ ضعیف/غیر ثابت نقل پر قائم ہے جبکہ صحیح اور محفوظ طرق سے حدیث مرفوعاً ثابت ہے؛ اور دوسری بات میں واقعہ سرے سے “حدیث گھڑنے” کا نہیں بلکہ اجتہادی فتویٰ کا ہے، جس سے ابو ہریرہؓ نے صحیح علم سامنے آنے پر رجوع کر لیا—اور اہلِ علم کے اصول کے مطابق یہ طرزِ عمل دیانت و احتیاط کی علامت ہے، نہ کہ (معاذ اللہ) جھوٹ کی۔
بہتان نمبر 1: “ابو ہریرہؓ نے کعب الاحبار کی روایت نبی ﷺ کی طرف منسوب کی”
اعتراض کا خلاصہ
📌 اعتراض یہ ہے کہ “جمعہ کے دن” والی روایت میں بعض الفاظ (آدمؑ کی تخلیق، جنت میں داخلہ/اخراج، قیامت وغیرہ) ابو ہریرہؓ نے نبی ﷺ کی طرف منسوب کیے، حالانکہ وہ (بزعمِ معترض) اصل میں کعب الاحبار کی بات تھی؛ اور اس کے لیے “صحیح ابن خزیمہ” کی ایک بحث/نقل پیش کی جاتی ہے۔
① صحیح مسلم کی مرفوع روایت: اصل بنیاد
17 – (854) وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا»
اردو ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “سب سے بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن آدمؑ پیدا کیے گئے، اسی دن جنت میں داخل کیے گئے اور اسی دن وہاں سے نکالے گئے۔”
(صحيح مسلم)
مختصر توضیح:
یہ روایت صریحاً مرفوع ہے اور صحیح سند کے ساتھ مسلم میں موجود ہے؛ لہٰذا اصولی طور پر جس چیز کا ثبوت صحیح طریق سے قائم ہو، اسے کسی کمزور/معلول طریق یا محض “اشتباہ” کے دعوے سے ساقط نہیں کیا جاتا۔
② مستدرکِ حاکم کی روایت: کعب کا تصدیق کرنا، “ماخذ” بن جانا نہیں
1030 – عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ، وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ مَاتَ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُصِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ يُصْبَحُ حَتَّى الشَّمْسَ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَفِيهَا سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ» قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ؟ فَقُلْتُ: بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، قَالَ فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَّامٍ، فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: «قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ؟» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ لَهُ فَأَخْبَرَنِي بِهَا. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: «هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ» .
[التعليق – من تلخيص الذهبي] 1030 – على شرطهما
( (المستدرك على الصحيحين
اردو ترجمہ (خلاصہ):
حضرت ابو ہریرہؓ نبی ﷺ سے جمعہ کی فضیلت والی مفصل حدیث بیان کرتے ہیں۔ کعب (الاحبار) پوچھتے ہیں: کیا یہ (خاص گھڑی/خصوصیت) سال میں ایک دن ہے؟ ابو ہریرہؓ کہتے ہیں: نہیں، ہر جمعہ۔ پھر کعب تورات پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں: “رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا۔” پھر ابو ہریرہؓ عبداللہ بن سلامؓ سے ملتے ہیں اور مزید گفتگو ہوتی ہے۔
المستدرك على الصحيحين (مع تلخیص الذهبي) — 1030 – على شرطهما
مختصر توضیح:
اس روایت کا رخ واضح ہے: ابو ہریرہؓ حدیث نبی ﷺ سے بیان کر رہے ہیں اور کعب (تابعی) اس پر تصدیق کر رہا ہے۔ تصدیق کا مطلب “ماخذ ہونا” نہیں ہوتا؛ بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ کہ کعب نے اپنی کتابی معلومات سے مطابقت پا کر گواہی دی۔
③ ابن خزیمہؒ کی عبارت: انہوں نے “اختلاف” ذکر کیا، مگر فیصلہ دلیل کا تابع ہے
أخبرنا أبو طاهر ، نا أبو بكر ، نا يعقوب بن إبراهيم الدورقي ، حدثنا محمد بن مصعب يعني القرقساني ، ثنا الأوزاعي ، عن أبي عمار ، عن عبد الله بن فروخ ، عن أبي هريرة ، عن النبي – صلى الله عليه وسلم – قال : ” خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة ، فيه خلق آدم ، وفيه أدخل الجنة ، وفيه أخرج منها ، وفيه تقوم الساعة ” .
قال أبو بكر : قد اختلفوا في هذه اللفظة في قوله : ” فيه خلق آدم ” إلى قوله : ” وفيه تقوم الساعة ” ، أهو عن أبي هريرة ، عن النبي – صلى الله عليه وسلم – ؟ أو عن أبي هريرة ، عن كعب الأحبار ؟ قد خرجت هذه الأخبار في كتاب الكبير : من جعل هذا الكلام رواية من أبي هريرة ، عن النبي – صلى الله عليه وسلم – ، ومن جعله عن كعب الأحبار ، والقلب إلى رواية من جعل هذا الكلام عن أبي هريرة ، عن كعب أميل ؛ لأن محمد بن يحيى ، حدثنا قال : نا محمد بن يوسف ، ثنا الأوزاعي ، عن يحيى ، عن أبي سلمة ، عن أبي هريرة : خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة ، فيه خلق آدم ، وفيه أسكن الجنة ، وفيه أخرج منها ، وفيه تقوم الساعة ، قال : قلت له : أشيء سمعته من رسول الله – صلى الله عليه وسلم – ؟ قال : بل شيء حدثناه كعب.
اردو ترجمہ (مرکزی مفہوم):
ابن خزیمہؒ نے جمعہ والی روایت ذکر کرنے کے بعد کہا کہ “فِيهِ خُلِقَ آدَمُ” سے “وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ” تک کے الفاظ میں اختلاف ہوا ہے: آیا یہ ابو ہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کیے یا کعب الاحبار سے؟ پھر انہوں نے بتایا کہ ان کے دل کا میلان اس طرف ہے کہ یہ کعب سے ہو، کیونکہ ایک نقل میں ابو ہریرہؓ سے سوال ہوا: کیا یہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، یہ بات ہمیں کعب نے بیان کی۔
صحیح ابن خزیمہ – ابوبکر بن خزیمہ (مع اردو ترجمہ)// جلد ۲ // صفحہ ۵۴۱- ۵۴۲ // رقم ۱۷۲۹ // طبع دار العلم ممبئ ہندوستان۔
مختصر توضیح:
یہاں دو باتیں الگ ہیں:
✅ ابن خزیمہؒ کا “اختلاف” نقل کرنا (یہ علمی دیانت ہے) ور
✅ اختلاف میں فیصلہ اسی وقت معتبر ہوتا ہے جب جس نقل پر اعتماد کیا جا رہا ہو وہ سنداً قابلِ حجت ہو۔ اب آگے یہی بنیادی نکتہ آتا ہے کہ ابو ہریرہؓ کے “کعب سے سنا” والی نقل سنداً کمزور قرار دی گئی ہے۔
④ ابن خزیمہؒ کے اسی مقام کی “موقوف” نقل سنداً کمزور ہے
ابن خزیمہؒ کے اسی محل کی روایت (1729) یوں ہے:
1729 – نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ يَعْنِي الْقُرْقُسَانِيَّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ , فِيهِ خُلِقَ آدَمُ , وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ , وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا , وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ»——
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدِ اخْتَلَفُوا فِي هَذِهِ اللَّفْظَةِ فِي قَوْلِهِ: «فِيهِ خُلِقَ آدَمُ» إِلَى قَوْلِهِ: «وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ» , أَهُوَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ؟
لِأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ , ثنا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ , فِيهِ خُلِقَ آدَمُ , وَفِيهِ أُسْكِنَ الْجَنَّةَ , وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا , وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ, قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَلْ شَيْءٌ حَدَّثَنَاهُ كَعْبٌ
اور اسی پر آپ کے متن میں یہ تعلیق بھی موجود ہے:
[التعليق] 1729 – قال الألباني: إسناده ضعيف
اردو ترجمہ (خلاصہ):
ایک طرف مرفوع روایت نقل کی گئی، پھر اختلاف بیان کیا گیا، اور ایک طریق میں یہ جملہ آیا کہ ابو ہریرہؓ نے کہا: “یہ چیز ہمیں کعب نے بیان کی۔” مگر اسی نقل کی سند کے بارے میں تصریح کی گئی کہ اسناد ضعیف ہے۔
(صحيح ابن خزيمة) — [التعليق] 1729 – قال الألباني: إسناده ضعيف
مختصر توضیح:
جب “کعب سے سنا” والی نقل سنداً ضعیف ہو، اور دوسری طرف صحیح مسلم میں یہی مفہوم مرفوعاً صحیح ہو، تو الزام کا بنیادی ستون خود بخود گر جاتا ہے۔ اسی لیے اسے “اعترافِ جرم” قرار دینا علمی طور پر درست نہیں؛ یہ زیادہ سے زیادہ ایک ضعیف طریق کا دعویٰ ہے۔
⑤ شاہدِ حدیث: اوس بن اوسؓ کی روایت
5511 – حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ»
اردو ترجمہ:
حضرت اوس بن اوس ثقفیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تمہارے دنوں میں سے افضل دن جمعہ ہے؛ اسی دن آدمؑ پیدا کیے گئے، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن (لوگوں پر) بیہوشی/صعقہ طاری ہوگی۔”
(مصنف ابن أبي شيبة)
مختصر توضیح:
یہ شاہد اس اصول کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ جمعہ کے دن آدمؑ کی پیدائش وغیرہ کے مضامین نبی ﷺ سے مرفوعاً متعدد صحابہ سے ثابت ہیں؛ لہٰذا انہیں محض “کعب کی بات” قرار دینا علمی انصاف کے خلاف ہے۔
بہتان نمبر 1 کا حاصلِ جواب
🧾 درست علمی نتیجہ یہ ہے کہ:
✅ صحیح مسلم کی مرفوع روایت اور دیگر شواہد کے بعد “کعب سے لیا اور نبی ﷺ کی طرف منسوب کیا” کا الزام ثابت نہیں ہوتا۔
بلکہ “کعب کی تصدیق” والی روایت بھی بتاتی ہے کہ کعب نے حدیث سن کر مطابقت کی گواہی دی، نہ یہ کہ ابو ہریرہؓ نے کعب سے لے کر نبی ﷺ کی طرف منسوب کر دیا۔
بہتان نمبر 2: “ابو ہریرہؓ ہر سنی سنائی بات نبی ﷺ کی طرف منسوب کرتے تھے”
اعتراض کا خلاصہ
📌 اعتراض ایک واقعے پر قائم ہے کہ ابو ہریرہؓ سے یہ بات منقول ہوئی کہ “جو حالتِ جنابت میں صبح کرے وہ اس دن روزہ نہ رکھے/افطار کرے”؛ پھر امہات المؤمنینؓ کی روایت سامنے آئی کہ نبی ﷺ جنابت کی حالت میں صبح کرتے اور روزہ رکھتے تھے؛ اس پر ابو ہریرہؓ نے کہا: “مجھے علم نہیں، مجھے ایک بتانے والے نے بتایا تھا۔” معترض اسے “بلا تحقیق نسبت” بنا کر پیش کرتا ہے۔
① موطا میں واقعہ: ابو ہریرہؓ کا “لا علم لي… إنما أخبرنيه مخبر”
وعنه انه سمع ابا بكر بن عبد الرحمن يقول: كنت انا وابي عند مروان ابن الحكم وهو امير المدينة، فذكر له ان ابا هريرة يقول: من اصبح جنبا افطر ذلك اليوم، فقال مروان: اقسمت عليك يا ابا عبد الرحمن، لتذهبن إلى امي المؤمنين عائشة وام سلمة فلتسالنهما عن ذلك، قال: فذهب عبد الرحمن وذهبت معه حتى دخلنا على عائشة، فسلم عليها عبد الرحمن ثم قال: يا ام المؤمنين، إنا كنا عند مروان بن الحكم، فذكر له ان ابا هريرة يقول، من اصبح جنبا افطر ذلك اليوم، فقالت عائشة: ليس كما قال ابو هريرة يا عبد الرحمن، اترغب عما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع؟، فقال عبد الرحمن: لا والله، فقالت: فاشهد على رسول الله صلى الله عليه وسلم ان كان ليصبح جنبا من جماع غير احتلام ثم يصوم ذلك اليوم؛ قال: ثم خرجنا حتى دخلنا على ام سلمة فسالها، فقالت كما قالت عائشة: قال: فخرجنا حتى جئنا مروان بن الحكم فذكر له عبد الرحمن ما قالتا، فقال له مروان: اقسمت عليك يا ابا محمد، لتركبن دابتي فإنها بالباب، فلتذهبن إلى ابى هريرة فإنه بارضه بالعقيق فلتخبرنه ذلك، قال: فركب، عبد الرحمن وركبت معه حتى اتينا ابا هريرة، فتحدث معه عبد الرحمن ساعة ثم ذكر ذلك له، فقال ابو هريرة: لا علم لي بذلك، إنما اخبرنيه مخبر.
اردو ترجمہ (خلاصہ):
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں: ہم مروان کے پاس تھے، اسے بتایا گیا کہ ابو ہریرہؓ کہتے ہیں: جو جنابت میں صبح کرے تو اس دن روزہ نہیں۔ مروان نے کہا: ام المؤمنین عائشہؓ اور ام سلمہؓ سے پوچھ کر آؤ۔ دونوں امہات المؤمنینؓ نے فرمایا: بات یوں نہیں، نبی ﷺ جنابت میں صبح کرتے اور روزہ رکھتے تھے۔ پھر ابو ہریرہؓ کے پاس جا کر یہ بات بتائی گئی تو ابو ہریرہؓ نے فرمایا: “مجھے اس کا علم نہیں، مجھے تو یہ بات ایک بتانے والے نے بتائی تھی۔”
موطا مالک بروایہ ابن القاسم // صفحہ ۵۱۵ – ۵۱۶ // رقم ۴۳۷ // طبع اعتقاد پبلیشنگ ہاوس دہلی ہندوستان۔
مختصر توضیح:
یہاں ابو ہریرہؓ کا جملہ فیصلہ کن ہے: انہوں نے یہ نہیں کہا کہ “میں نے نبی ﷺ سے سنا”؛ بلکہ واضح کیا کہ یہ بات انہیں کسی مخبر سے پہنچی تھی۔ پھر جب امہات المؤمنینؓ کی واضح خبر سامنے آئی تو انہوں نے اسے قبول کیا۔ یہ طرزِ عمل “نسبت میں احتیاط” کے قریب ہے، نہ کہ جھوٹ کے۔
② “کفى بالمرء كذبًا…” حدیث: معیارِ اخلاق، نہ کہ ابو ہریرہؓ پر الزام
وعن ابي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كفى بالمرء كذبا ان يحدث بكل ما سمع۔
رواه مسلم
اردو ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے۔”
اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح للتبریزی – زبیر علی زائی // جلد ۱ // صفحہ ۲۱۰ // رقم ۱۵۶ // طبع مکتبہ اسلامیہ لاہور پاکستان۔
مختصر توضیح:
یہ حدیث ایک عمومی اصولی تنبیہ ہے۔ اسی کو دلیل بنا کر ابو ہریرہؓ پر “جھوٹ” لازم کرنا درست نہیں، خصوصاً جب اسی واقعے میں ابو ہریرہؓ نے سوال/تحقیق کے بعد عدمِ علم کہا اور پھر رجوع کیا۔
③ ابو ہریرہؓ کا رجوع: ابن عبدالبرؒ کی سندی نقل
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سُفْيَانَ(صدوق) قَالَ حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ أَصْبَغَ ( ثقة حافظ)قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ ( ثقة)قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَيَحْيَى(ابن القطان ثقة) قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ( ثقة) قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ( ثقة سماع کی تصریح) يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ تَرَكَ فُتْيَاهُ بَعْدَ ذَلِكَ
اردو ترجمہ:
سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ ابو ہریرہؓ نے اس کے بعد اپنا وہ فتویٰ چھوڑ دیا (یعنی رجوع کر لیا)۔
علامہ ابن عبدالبر کی سندی نقل (کتاب/جلد/صفحہ کی تفصیل منقول متن میں مذکور نہیں)
مختصر توضیح:
یہی وہ علمی معیار ہے جو صحابہؓ کی فقہی دیانت واضح کرتا ہے: جب مضبوط دلیل سامنے آئے تو رجوع کر لیا جائے۔
④ فتح الباری میں حافظ ابن حجرؒ کی صراحت: “ابو ہریرہؓ نے فتویٰ سے رجوع کیا”
(قَوْلُهُ بَابٌ الصَّائِمُ يُصْبِحُ جُنُبًا)
قَدْ رَجَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ الْفَتْوَى بِذَلِكَ إِمَّا لِرُجْحَانِ رِوَايَةِ أُمَّيِ الْمُؤْمِنِينَ فِي جَوَازِ ذَلِكَ صَرِيحًا عَلَى رِوَايَةِ غَيْرِهِمَا مَعَ مَا فِي رِوَايَةِ غَيْرِهِمَا مِنَ الِاحْتِمَالِ إِذْ يُمْكِنُ أَنْ يُحْمَلَ الْأَمْرُ بِذَلِكَ عَلَى الِاسْتِحْبَابِ فِي غَيْرِ الْفَرْضِ وَكَذَا النَّهْيُ عَنْ صَوْمِ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَإِمَّا لِاعْتِقَادِهِ أَنْ يَكُونَ خَبَرُ أُمَّيِ الْمُؤْمِنِينَ نَاسِخًا لِخَبَرِ غَيْرِهِمَا
اردو ترجمہ (خلاصہ):
حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ ابو ہریرہؓ نے اس مسئلے میں اپنے فتویٰ سے رجوع کر لیا؛ یا تو اس لیے کہ امہات المؤمنینؓ کی روایت جواز میں صریح ہے اور دوسرے طریق میں احتمال ہے، یا اس لیے کہ ابو ہریرہؓ نے سمجھا کہ امہات المؤمنینؓ کی خبر دوسری خبر کے لیے ناسخ ہے (وغیرہ)۔
فتح الباري
مختصر توضیح:
یہ عبارت واضح کرتی ہے کہ معاملہ “حدیث گھڑنے” کا نہیں بلکہ “فقہی استنباط/فتویٰ” کا تھا، جس کی اصلاح دلیل سامنے آنے پر ہو گئی۔
⑤ ابو ہریرہؓ کا مقامِ فقہ و اجتہاد: ائمہ کے کلمات
الإمام الفقيه المجتهد الحافظ، صاحب رسول الله ، أبو هريرة الدوسي اليماني سيّد الحفاظ الأثبات
اردو ترجمہ:
(ذہبیؒ کے الفاظ میں) ابو ہریرہؓ امام، فقیہ، مجتہد، حافظِ حدیث، رسول اللہ ﷺ کے صحابی، اور ثابت حفاظ کے سردار ہیں۔
(سیر) .
مختصر توضیح:
ائمہ کے اس طرح کے کلمات اس حقیقت کو مضبوط کرتے ہیں کہ ابو ہریرہؓ کی نسبت “بلا تحقیق” اور “جھوٹ” کی طرف کرنا اہلِ علم کے معروف منہج سے ٹکراتا ہے، خصوصاً جب خود واقعہ میں رجوع بھی ثابت ہو۔
⑥ اجتہاد میں خطا ہو تو بھی اجر: صحیح بخاری کی اصل
7352 – حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ المُقْرِئُ المَكِّيُّ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الحَارِثِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ العَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ العَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا حَكَمَ الحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ» ،
اردو ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب کوئی حاکم/اہلِ فیصلہ اجتہاد کرے پھر درست پہنچے تو اسے دو اجر ملتے ہیں، اور اگر اجتہاد کرے پھر خطا کرے تو اسے ایک اجر ملتا ہے۔”
(صحيح البخاري)
مختصر توضیح:
یہ اصول بتاتا ہے کہ اگر کسی مجتہد سے اجتہاد میں خطا ہو بھی جائے تو اسے “جھوٹ” نہیں کہا جاتا، خصوصاً جب وہ ثبوت آنے پر رجوع بھی کر لے۔
بہتان نمبر 2 کا حاصلِ جواب
🧾 اس قصے سے صحیح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ:
✅ ابو ہریرہؓ نے ایک خبر/فتویٰ کی نسبت میں “مخبر” کا ذکر کیا، پھر قوی دلیل سامنے آنے پر رجوع کیا۔
یہ “بنا تحقیق احادیث گھڑنے” کے بجائے “علمی مراجعت” اور “فقہی دیانت” کی مثال ہے۔
حتمی نتیجہ
⚖️ دونوں الزامات کا خلاصہ یہ ہے کہ:
جمعہ والی روایت کے بارے میں “کعب سے لے کر نبی ﷺ کی طرف نسبت” کا دعویٰ ضعیف نقل پر قائم ہے، جبکہ صحیح مسلم اور دیگر شواہد سے حدیث مرفوعاً ثابت ہے۔
“جنابت میں صبح ہونے” والے مسئلے میں ابو ہریرہؓ نے مرفوع حدیث گھڑی نہیں بلکہ ایک خبر/فتویٰ کا معاملہ تھا، جس سے انہوں نے صحیح علم سامنے آنے پر رجوع کیا—اور یہی اہلِ سنت کے نزدیک صحابہؓ کی علمی امانت کا معیار ہے۔
اہم حوالوں کے سکین













