إسماعیل بن عبدالرحمن السدی کبیر پر 15 ائمہ محدثین کی جروح

مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

اس مضمون میں ہم ایک ضعیف اور مجروح راوی إسماعيل بن عبد الرحمن بن أبي كريمة السدي الكبير (م 127ھ) کے بارے میں ائمہ جرح و تعدیل کی آراء پیش کرتے ہیں۔
یہ راوی کوفہ کا رہنے والا تھا اور رافضی میلان رکھتا تھا۔ محدثین نے اس پر سخت جروح کی ہیں اور اس کی منفرد روایات کو ناقابلِ احتجاج قرار دیا ہے۔

ہم اس مضمون میں جمہور پندرہ (15) محدثین کے اقوال نقل کریں گے جو اس کی کمزوری، جھوٹ اور رفض پر متفق ہیں۔

امام ابو حاتم الرازی (م 277ھ):

النص:

إسماعيل بن عبد الرحمن السدي يكتب حديثه ولا يحتج به.
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 2/208)

📌 ترجمہ:
"اسماعیل السدی کی حدیث لکھی تو جا سکتی ہے لیکن اس سے حجت نہیں پکڑی جائے گی۔”

امام ابو زرعہ الرازی (م 264ھ):

النص:

سئل أبو زرعة عن إسماعيل السدي فقال: لين.
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 2/208)

📌 ترجمہ:
جب ابو زرعہ سے اسماعیل السدی کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: "یہ ضعیف ہے۔”

امام جوزجانی (م 259ھ):

النص:

السدي كذاب شتام.
(أحوال الرجال للجوزجاني ص 20)

📌 ترجمہ:
"السدی جھوٹا اور سبّ و شتم کرنے والا ہے۔”

امام یحییٰ بن معین (م 233ھ):

النص:

سمعت يحيى بن معين… يقول: كانا ضعيفين مهينين.
(الضعفاء الكبير للعقيلي 1/102)

📌 ترجمہ:
یحییٰ بن معین نے کہا: "یہ (ابراہیم بن المہاجر اور السدی) دونوں ضعیف اور ذلیل ہیں۔”

حافظ ذہبی (م 748ھ):

النص:

ورمي السدي بالتشيع… واه بمرة.
(ميزان الاعتدال 1/907)

📌 ترجمہ:
"السدی پر تشیع کا الزام ہے، اور یہ بالکل ہی واہ یعنی فضول اور بیکار راوی ہے۔”

امام عامر بن شراحیل الشعبي (م 103ھ):

النص:

قيل للشعبي: إن إسماعيل السدي قد أعطي حظًا من علم بالقرآن. فقال: إن إسماعيل قد أعطي حظًا من جهل بالقرآن.
(العلل ومعرفة الرجال لابن حنبل 3/2477)

📌 ترجمہ:
شعبی سے کہا گیا کہ اسماعیل السدی کو قرآن کے علم کا بڑا حصہ ملا ہے۔ تو فرمایا: "اسماعیل کو قرآن کے جاہل ہونے کا بڑا حصہ ملا ہے۔”

امام معتمر بن سلیمان (م 187ھ):

النص:

إن بالكوفة كذابين: الكلبي، والسدي.
(الضعفاء الكبير للعقيلي 1/101)

📌 ترجمہ:
"کوفہ میں دو بڑے کذاب ہیں: کلبی اور السدی۔”

امام حسین بن واقد المروزی (م 159ھ):

النص:

قدمت الكوفة فأتيت السدي… فما أتممت مجلسي حتى سمعته يشتم أبا بكر وعمر، فلم أعد إليه.
(الضعفاء الكبير للعقيلي 1/101)

📌 ترجمہ:
"میں کوفہ آیا اور السدی کے پاس گیا۔ اس سے تفسیر پوچھی۔ ابھی مجلس ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ میں نے اسے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو برا بھلا کہتے سنا۔ اس کے بعد میں کبھی اس کے پاس نہ گیا۔”

امام ابن عدی (م 365ھ):

النص:

قال السعدي: كذاب شتام، يعني السدي.
(الكامل في ضعفاء الرجال 1/312)

📌 ترجمہ:
سعدی نے کہا: "السدی جھوٹا اور سبّ و شتم کرنے والا ہے۔”

امام عبدالرحمن بن مہدی (م 198ھ):

النص:

ذكر السدي لعبد الرحمن بن مهدي فقال: ضعيف.
(الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي 2/407)

📌 ترجمہ:
جب عبدالرحمن بن مہدی کے سامنے السدی کا ذکر ہوا تو کہا: "یہ ضعیف ہے۔”

امام ابن قیم الجوزیہ (م 751ھ) کی طرف منسوب (کتاب الروح):

النص:

قيل مثل هذا الإسناد لا يُحتج به، فإنه من تفسير السدي عن أبي مالك وفيه أشياء منكرة…
(الروح لابن القيم ص 106)

📌 ترجمہ:
"کہا گیا کہ ایسی سند سے احتجاج نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ السدی کی تفسیر ابو مالک سے ہے اور اس میں بہت سی منکر روایات ہیں۔”

امام ابو عبداللہ الحاکم النیشاپوری (م 405ھ):

النص:

ذكره في كتاب المدخل في الرواة الذين عيب على مسلم إخراج حديثهم.
(إكمال تهذيب الكمال 2/137)

📌 ترجمہ:
امام حاکم نے اپنی کتاب المدخل میں السدی کو ان رواۃ میں ذکر کیا ہے جن کی روایت لینے پر امام مسلم پر اعتراض کیا گیا۔

امام مغلطائی حنفی (م 762ھ) نے ابن خلفون کے حوالے سے:

النص:

عن الحسين بن واقد قال: أتيت السدي فسألته عن تفسير سبعين آية… حتى سمعته يشتم أبا بكر وعمر رضي الله عنهما فلم أعد إليه. قال ابن خلفون: وإن صح ما ذكره فلا ينبغي لأحد عندي إخراج حديثه.
(إكمال تهذيب الكمال 2/115)

📌 ترجمہ:
حسین بن واقد نے کہا: "میں نے السدی سے ستر آیات کی تفسیر پوچھی۔ ابھی مجلس ختم نہ ہوئی تھی کہ میں نے اسے حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو سبّ و شتم کرتے سنا۔ اس کے بعد میں دوبارہ اس کے پاس نہ گیا۔” ابن خلفون نے کہا: "اگر یہ بات درست ہے تو کسی کے لیے بھی اس سے روایت لینا جائز نہیں۔”

امام ابن الجوزی (م 597ھ):

النص:

إسماعيل السدي… ضعفه ابن مهدي ويحيى بن معين وكذبه المعتَمد بن سليمان.
(الضعفاء والمتروكون ص 390)

📌 ترجمہ:
"اسماعیل السدی کو عبدالرحمن بن مہدی اور یحییٰ بن معین نے ضعیف کہا، اور معتمد بن سلیمان نے اسے کذاب کہا۔”

امام ابن ملقن (م 804ھ):

النص:

إسماعيل هذا هو السدي الكبير وفيه مقال، قال أبو حاتم: لا يحتج به، وقال ابن معين: في حديثه ضعف.
(البدر المنير 6/430)

📌 ترجمہ:
"یہ اسماعیل السدی کبیر ہے، اور اس پر کلام ہے۔ ابو حاتم نے کہا: اس سے حجت نہیں لی جاتی۔ ابن معین نے کہا: اس کی حدیث میں ضعف ہے۔”

✿ خلاصہ اور نتیجہ

تمام دلائل و جروح کے بعد یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ إسماعيل بن عبد الرحمن السدي الكبير (المتوفی 127ھ) سخت ضعیف اور مجروح راوی ہے:

  • 15 ائمہ و محدثین نے متفقہ طور پر اس پر جروح کی ہیں۔

  • بعض نے اسے کذاب کہا (جوزجانی، معتمر بن سلیمان، ابن عدی، معتمد بن سلیمان)۔

  • بعض نے اسے سبّاب و رافضی کہا (حسین بن واقد، مغلطائی کے واسطے سے ابن خلفون)۔

  • اکابر محدثین (ابو حاتم، ابو زرعہ، عبدالرحمن بن مہدی، یحییٰ بن معین) نے اسے ضعیف و مہین کہا۔

  • حافظ ذہبی نے کہا: واہٍ بمرة یعنی سراسر ناقابلِ اعتماد ہے۔

  • ابن الجوزی اور ابن ملقن جیسے ائمہ نے بھی اس کی روایات کو ناقابلِ حجت اور ضعیف قرار دیا۔

📌 لہٰذا اصولِ حدیث کی رو سے:

  • السدی کبیر کی کوئی منفرد روایت حجت نہیں۔

  • ایسی روایات صرف متابعات یا شواہد میں لکھی جا سکتی ہیں۔

  • دین و عقیدہ میں اس پر اعتماد کرنا سخت علمی خطا ہے۔

اہم حوالاجات کے سکین

إسماعیل بن عبدالرحمن السدی کبیر پر 15 ائمہ محدثین کی جروح – 01 إسماعیل بن عبدالرحمن السدی کبیر پر 15 ائمہ محدثین کی جروح – 02 إسماعیل بن عبدالرحمن السدی کبیر پر 15 ائمہ محدثین کی جروح – 03 إسماعیل بن عبدالرحمن السدی کبیر پر 15 ائمہ محدثین کی جروح – 04 إسماعیل بن عبدالرحمن السدی کبیر پر 15 ائمہ محدثین کی جروح – 05 إسماعیل بن عبدالرحمن السدی کبیر پر 15 ائمہ محدثین کی جروح – 06 إسماعیل بن عبدالرحمن السدی کبیر پر 15 ائمہ محدثین کی جروح – 07 إسماعیل بن عبدالرحمن السدی کبیر پر 15 ائمہ محدثین کی جروح – 08 إسماعیل بن عبدالرحمن السدی کبیر پر 15 ائمہ محدثین کی جروح – 09 إسماعیل بن عبدالرحمن السدی کبیر پر 15 ائمہ محدثین کی جروح – 10 إسماعیل بن عبدالرحمن السدی کبیر پر 15 ائمہ محدثین کی جروح – 11 إسماعیل بن عبدالرحمن السدی کبیر پر 15 ائمہ محدثین کی جروح – 12 إسماعیل بن عبدالرحمن السدی کبیر پر 15 ائمہ محدثین کی جروح – 13 إسماعیل بن عبدالرحمن السدی کبیر پر 15 ائمہ محدثین کی جروح – 14 إسماعیل بن عبدالرحمن السدی کبیر پر 15 ائمہ محدثین کی جروح – 15

 

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے