آیاتِ قرب و معیت سے متعلق شبہات کا ازالہ فہم سلف کی روشنی میں

یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب اللہ کہاں ہے؟ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

شبہات کا ازالہ

زمین و آسمان میں وہ رب ہے

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وهو الله في السموت و في الأرض ، يعلم سركم وجهركم ويعلم ما تكسبون.

(الأنعام: 3)

’’اللہ ہی آسمان و زمین میں تمھاری پوشیدہ و ظاہر باتوں اور عملوں کو جانتا ہے۔‘‘

اس کا معنی کیا ہے؟

بعض حضرات اس کا معنی کرتے ہیں کہ اللہ ہر جگہ ہے، ان کی یہ دلیل درست نہیں، حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ (774ھ) لکھتے ہیں:

اختلف مفسروا هذه الآية على أقوال، بعد الإنفاق على تخطئة قول الجهمية الأول القائلين بأنه، تعالى عن قولهم علوا كبيرا، في كل مكان، وهذا إختبار ابن جرير.

’’اس آیت میں مفسرین کے کئی اقوال ہیں، لیکن سب کا اتفاق ہے کہ جہمیہ کی یہ بات غلط ہے کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے۔ اللہ ان کی ایسی باتوں سے پاک و منزہ ہے۔ امام طبری رحمتہ اللہ نے اسی کو پسند کیا ہے۔‘‘

نماز میں اللہ کا سامنے ہونا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

(تفسير القرآن العظيم: 240/3 ، سلامة)

إذا كان أحدكم يصلي فلا يبصن قبل وجهه، فإن الله قبل وجهه إذا صلى.

’’نماز میں سامنے نہ تھوکیں، کیونکہ جب آپ نماز پڑھتے ہیں، اللہ آپ کے سامنے ہوتا ہے۔‘‘

(صحیح البخاري: 406 ، صحيح مسلم: 547)

اسلاف امت کی تصریحات

امام ابن عبد البر رحمتہ اللہ : (463ھ) فرماتے ہیں:

قد نزع بهذا الحديث بعض من ذهب مذهب المعتزلة في أن الله عز وجل في كل مكان، وليس على العرش، وهذا جهل من قائله، لأن في الحديث الذي جاء فيه النهي عن المزاق في القبلة أنه يبزق تحت قدمه وعن يساره، وهذا ينقض ما أصلوه في أنه في كل مكان.

’’بعض لوگ، جو معتزلہ کے مذہب کی طرف مائل ہیں، نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ اللہ ہر جگہ ہے، (صرف) عرش پر نہیں ہے۔ یہ بات جہالت پر مبنی ہے، کیونکہ جس حدیث میں قبلہ کی جانب تھوکنے سے ممانعت وارد ہوئی ہے، اسی حدیث میں نمازی کے لیے اپنے پاؤں کے نیچے اور بائیں جانب تھوکنے کی اجازت بھی موجود ہے۔ یہ بات ان کی طرف سے اللہ کے ہر جگہ ہونے کے دعوی کی دلیل کا توڑ ہے۔‘‘

(التمهيد لما في المؤطا من المعاني والأسانيد: 157/14)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

حق على ظاهره وهو سبحانه فوق العرش وهو قبل وجه المصلي، بل هذا الوصف يثبت للمخلوقات، فإن الإنسان لو أنه يناجي السماء أو يناجي الشمس والقمر لكانت السماء والشمس والقمر فوقه وكانت أيضا قبل وجهه.

یہ حدیث اپنے ظاہری معنی پر حق ہے۔ اللہ اپنے عرش پر ہونے کے ساتھ ساتھ نمازی کے سامنے بھی ہوتا ہے۔ یہ صفت تو مخلوقات کے لیے بھی ثابت ہے، جیسا کہ اگر انسان آسمان، سورج اور چاند سے سرگوشی کرے، تو آسمان، سورج اور چاند اس کے اوپر ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے سامنے بھی ہوں گے ۔‘‘

(الفتاوی الحموية الكبرى: 118/2 مجموع الفتاوى: 107/5)

نیز فرماتے ہیں:

جماع الأمر في ذلك: أن الكتاب والسنة يحصل منهما كمال الهدى والنور لمن تدبر كتاب الله وسنة نبيه وفصد اتباع الحق وأعرض عن تحريف الكلم عن مواضعه والإلحاد في أسماء الله وآياته، ولا يحسب الحاسب أن شيئا من ذلك يناقض بعضه بعضا ألبتة، مثل أن يقول القائل: ما في الكتاب والسنة من أن الله فوق العرش يخالفه الظاهر من قوله: (وهو معكم اين ما كنتم) ، وقوله صلى الله عليه وسلم: إذا قام أحدكم إلى الصلاة فإن الله قبل وجهه، ونحو ذلك فإن هذا غلط ، وذلك أن الله معنا حقيقة وهو فوق العرش حقيقة كما جمع الله بينهما في قوله سبحانه وتعالى: (هو الذي خلق السموت والأرض في ستة ايام ثم استوى على العرش يعلم ما يلج في الأرض وما يخرج منها وما ينزل من السماء وما يعرج فيها وهو معكم أين ما كنتم والله بما تعملون بصيره) ، فأخبر أنه فوق العرش يعلم كل شيء وهو معنا أينما كنا كما قال النبي صلى الله عليه وسلم في حديث الأوعال: والله فوق العرش وهو يعلم ما أنتم عليه، وذلك أن كلمة «مع» في اللغة إذا أطلقت فليس ظاهرها في اللغة إلا المقارنة المطلقة؛ من غير وجوب مماسة أو محاذاة عن يمين أو شمال، فإذا قيدت بمعنى من المعاني دلت على المقارنة في ذلك المعنى ، فإنه يقال: ما زلنا نسير والقمر معنا أو والنجم معنا، ويقال: هذا المتاع معي لمجامعته لك، وإن كان فوق رأسك، فالله مع خلقه حقيقة وهو فوق عرشه حقيقة، ثم هذه المعية تختلف أحكامها بحسب الموارد فلما قال: (يعلم ما يلج في الأرض وما يخرج منها) إلى قوله: (وهو معكم أين ما كنتم) ، دل ظاهر الخطاب على أن حكم هذه المعية ومقتضاها أنه مطلع عليكم، شهيد عليكم ومهيمن عالم بكم، وهذا معنى قول السلف: إنه معهم بعلمه وهذا ظاهر الخطاب وحقيقته.

خلاصہ کلام یہ ہے کہ کتاب وسنت سے مکمل ہدایت اور کامل نور اس شخص کو حاصل ہوتا ہے، جو قرآن وسنت پر تدبر کرتا ہے، حق کے اتباع کا ارادہ رکھتا ہے، کلمات میں تحریف اور اللہ تعالیٰ کے اسما وصفات میں الحاد سے اعراض کرتا ہے۔   کوئی یہ گمان نہ کر بیٹھے کہ اس میں سے کوئی بات ایک دوسرے سے متناقض ہے، مثلاً کوئی یہ کہے کہ قرآن وسنت میں اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کا بیان اس فرمانِ الہی کے خلاف ہے:

وهو معكم أين ما كنتم.

’’آپ جہاں بھی ہو، اللہ آپ کے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘

نیز اس فرمانِ نبوی کے بھی خلاف ہے کہ جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے، تو اللہ تعالی اس کے سامنے ہوتا ہے۔ یہ تعارض والی بات غلط ہے، کیونکہ اللہ ہمارے ساتھ بھی حقیقی طور پر ہے اور عرش پر بھی حقیقی طور پر ہے۔ ان دونوں چیزوں کو اللہ نے یوں جمع کیا ہے:

هو الذي خلق السموت والأرض في ستة أيام ثم استوى على العرش يعلم ما يلج في الأرض وما يخرج منها وما ينزل من السماء و ما يعرج فيها وهو معكم اين ما كنتم والله بما تعملون بصيره.

’’وہی ذات ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش پر مستوی ہوا۔ وہ زمین میں داخل ہونے والی اور اس سے نکلنے والی چیزوں، آسمان سے اُترنے اور چڑھنے والی چیزوں کو جانتا ہے اور وہ آپ کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں بھی آپ ہوتے ہو۔ اللہ آپ کے اعمال کو بخوبی دیکھنے والا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی ہے کہ وہ عرش پر ہر چیز کو جانتا ہے اور ہم جہاں بھی ہوتے ہیں، وہ ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔ حدیث اوعال میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عرش کے اوپر ہے اور آپ کے اعمال کو جانتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ عربی لغت میں ’’مع‘‘ کا کلمہ جب مطلق استعمال کیا جائے، تو اس سے مراد بغیر کسی سمت یا ملاپ کے مطلق مقارنہ ہوتا ہے۔ جب اسے کسی معنی کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے، تو اسی معنی پر دلالت کرتا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ہم چلتے ہیں تو ہمیشہ چاند اور ستارے ہمارے ساتھ ہوتے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ سامان میرے ساتھ ہے۔ آپ یہ بات اس وقت بھی کہہ دیتے ہیں، جب سامان آپ کے سر پر ہو، اس لیے کہ وہ آپ کے ساتھ ملا ہوتا ہے۔ چنانچہ اللہ اپنے عرش پر حقیقی طور پر ہے اور اپنی مخلوق کے ساتھ بھی حقیقی طور پر ہے۔ پھر اس معیت کے احکام مختلف جگہوں کے اعتبار سے بدلتے رہتے ہیں۔ جب اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ زمین میں داخل ہونے والی اور نکلنے والی سب چیزوں کو جانتا ہے اور پھر فرمایا کہ جہاں بھی آپ ہوتے ہو، وہ آپ کے ساتھ ہوتا ہے، تو اس معیت سے مراد یہ ہے کہ وہ آپ پر مطلع رہتا ہے، آپ پر گواہ ہے، آپ پر نگہبان ہے اور آپ کے متعلق خوب جاننے والا ہے۔ سلف صالحین کی یہی مراد ہے کہ اللہ علم کے اعتبار سے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ کا ظاہری اور حقیقی معنی یہی ہے ۔‘‘

(مجموع الفتاوی: 102/5)

شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمتہ اللہ (1421 ھ ) فرماتے ہیں:
إن الله سبحانه وتعالى قبل وجه المصلي، ولا يلزم من المقابلة أن يكون بينه وبين الجدار أو السترة التي يصلي إليها، فهو قبل وجهه وإن كان على عرشه، ومثال ذلك: الشمس حين تكون في الأفق عند الشروق أو الغروب فإن من الممكن أن تكون قبل وجهك وهي في العلم.

’’اللہ سبحانہ وتعالٰی نمازی کے سامنے ہوتا ہے۔ اس سامنے ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ نمازی اور دیوار کے درمیان ہو یا نمازی اور اس سترے کے مابین ہو، جس کی طرف وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہو۔ اللہ اپنے عرش پر ہونے کے باوجود نمازی کے سامنے ہوتا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ جب سورج طلوع یا غروب کے وقت افق میں ہوتا ہے، تو اس کا آپ کے سامنے ہونا ممکن ہوتا ہے، حالانکہ وہ بلندی پر ہوتا ہے۔‘‘

(القول المفيد: 6/2)

جس طرف بھی رخ کرو، اللہ کا چہرہ وہاں ہے

مذکورہ بحث سے آیت کریمہ:

ولله المشرق والمغرب، فأينما تولوا فثم وجه الله.

(البقرة: 115)

’’مشرق و مغرب اللہ ہی کے لیے ہے۔ آپ جس طرف بھی رُخ کرو گے، وہیں اللہ کا چہرہ ہوگا۔‘‘ کا معنی سمجھنے میں آسانی پیدا ہو گئی۔
’’وجہ اللہ‘‘ کے یہ معافی بیان ہوئے ہیں:
◈قبلتہ اللہ۔
یہ امام مجاہد بن جبر رحمتہ اللہ (الأسماء والصفات للبيهقي : 107/2، وسنده حسن، تفسير الطبري:834/2) اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ (مجموع الفتاوی: 14/6-17) کی تفسیر ہے۔

◈ اللہ تعالیٰ کا حقیقی چہرہ مراد ہے۔
یہ اکثر ائمہ کرام کی تفسیر ہے اور یہی رائج اور صواب ہے۔ امام الائمہ ابن خزیمہ (311 ھ) لکھتے ہیں:

أثبت الله لنفسه وجها وصفه بالجلال والإكرام، وحكم لوجهم بالبقاء، ونفى الهلاك عنه فنحن وجميع علمائنا من أهل الحجاز وتهامة واليمن، والعراق والشام ومصر، مذهبنا: أنا نثبت لله ما أثبته الله لنفسه، نقر بذلك بألسنتنا، ونصدق ذلك بقلوبنا من غير أن نشبه وجه خالقنا بوجه أحد من المخلوقين، عز ربنا عن أن يشبه المخلوقين، وجل ربنا عن مقالة المعطلين، وعز أن يكون عدما كما قاله المبطلون، لان ما لا صفة له عدم، تعالى الله عما يقول الجهميون الذين ينكرون صفات خالقنا الذي وصف بها نفسه في محكم تنزيله، وعلى لسان نبيه.

’’اللہ نے اپنے لیے چہرہ ثابت کیا ہے، جسے جلال اور اکرام کے ساتھ متصف کیا ہے، اس کے لیے بقا کا فیصلہ سنایا ہے اور اس سے ہلاکت کی نفی کی ہے۔ ہمارا اور حجاز ، تہامہ، یمن، عراق، شام اور مصر کے ہمارے تمام علماء کا مذہب ہے کہ ہم اللہ کے لیے وہ تمام صفات ثابت کرتے ہیں، جن کو اللہ تعالٰی نے اپنے لیے ثابت کیا ہے۔ ہم اس بات کا زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرتے ہیں۔ ہم اپنے خالق کے چہرے کو مخلوق کے چہروں سے تشبیہ نہیں دیتے۔ ہمارا رب مخلوق کے ساتھ تشبیہ سے مبرا ومنزہ ہے۔ صفات کا انکار کرنے والوں کے قول سے بہت بلند ہے، باطل پرستوں کے معدوم کہنے سے بھی پاک ہے، کیوں کہ جس چیز کی کوئی صفت نہ ہو، وہ معدوم ہوتی ہے۔ اللہ جہمیہ کی باتوں سے بھی پاک ہے، جو ہمارے خالق کی ان صفات کا انکار کرتے ہیں، جو اس نے اپنے لیے اپنی کتاب میں اور اپنے نبی کی زبان پر بیان فرمائیں۔‘‘

(کتاب التوحيد 25/1-26)

قرب باری تعالیٰ اور جہمی استدلات

آیت نمبر ①

فرمان باری تعالی ہے:
ونحن أقرب إليه من حبل الوريد.(ق: 16)

’’ہم اس (قریب الموت) سے اس کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہیں۔‘‘
نیز ارشادِ باری تعالی ہے:

ونحن أقرب إليه منكم. (الواقعة:85)

’’ہم تم سے زیادہ اس (مرنے والے) کے قریب ہیں۔‘‘

ان آیات بینات کو بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ اللہ تعالٰی کی ذات انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، درست نہیں ، سلف نے اس کا معنی کچھ یوں بیان کیا ہے:

فہم سلف سے آیت کا معنی

ان دو آیات کی تفسیر میں سلف صالحین اور ائمہ اہل سنت والجماعت کی دو آرا ہیں: بعض نے اس سے مراد فرشتے اور بعض نے اللہ کا علم لیا ہے۔

حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ (774ھ) لکھتے ہیں:

قوله: (ونحن أقرب إليه من حبل الوريد) ، يعني ملائكته تعالى أقرب إلى الإنسان من حبل وريده إليه ومن تأوله على العلم فإنما فر لئلا يلزم حلول أو اتحاد، وهما منفيان بالإجماع، تعالى الله وتقدس، ولكن اللفظ لا يقتضيه فإنه لم يقل: وأنا أقرب إليه من حبل الوريد، وإنما قال: (ونحن أقرب إليه من حبل الوريد) كما قال في المحتضر : (ونحن أقرب إليه منكم ولكن لا تبصرون) ، يعني ملائكته وكما قال تعالى: (إنا نحن نزلنا الذكر و انا له لحفظون) ، فالملائكة نزلت بالذكر، وهو القرآن بإذن الله عزوجل وكذلك الملائكة أقرب إلى الإنسان من حبل وريده إليه بإقدار الله لهم على ذلك.

اس آیت سے مراد ہے کہ اللہ کے فرشتے قریب المرگ سے اس کی شہ رگ سے بھی قریب ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں نے جو اس آیت کی تاویل علم باری تعالی سے کی ہے، تو انھوں نے (ظاہری معنی سے) خروج اس لیے اختیار کیا ہے کہ حلول اور اتحاد (وحدۃ الوجود) لازم نہ آئے۔ یہ دونوں عقیدے بالا تفاق غلط ہیں۔ اللہ ایسی باتوں سے پاک اور بلند ہے۔ البتہ آیت کریمہ کے لفظ اس (حلول اور اتحاد) کے متقاضی نہیں ہیں، اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں قریب الموت سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں، بلکہ فرمایا کہ ہم اس سے اس کی شہ رگ سے بھی قریب ہوتے ہیں اور یہاں مراد اللہ کے فرشتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:

إنا نحن نزلنا الذكر وإنا له تحفظون.

(الحجر: 9)

’’ہم نے ہی ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘

چنانچہ فرشتے ہی اللہ کے حکم سے اس ذکر، یعنی قرآنِ کریم کو لے کر اترے تھے۔ اسی طرح فرشتے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت سے قریب الموت انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوتے ہیں۔

(تفسير ابن كثير: 398/7 ، سلامة)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
هذه الآية لا تخلو، إما أن يراد بها قربه سبحانه، أو قرب ملائكته، كما قد اختلف الناس في ذلك فإن أريد بها قرب الملائكة فقوله: (إذ يتلقى المتلقين عن اليمين وعن الشمال قعيده) ، فيكون الله سبحانه وتعالى قد أخبر بعلمه هو سبحانه بما في نفس الإنسان وأخبر بقرب الملائكة الكرام الكاتبين منه، ودليل ذلك قوله تعالى: (ونحن أقرب إليه من حبل الوريد إذ يتلقى) ، ففسر ذلك بالقرب الذي هو حين يتلقى المتلقيان وبأي معنى فسر؛ فإن علم وقدرته عام التعلق وكذلك نفسه سبحانه لا يختص بهذا الوقت وتكون هذه الآية مثل قوله تعالى: (آم يحسبون أنا لا نسمع سرهم ونجوبهم على ورسلنا لديهم يكتبون) ومنه قوله في أول السورة: (قد علمنا ما تنقص الأرض منهم وعندنا كتب حفيظ) وعلى هذا فالقرب لا مجاز فيه، وإنما الكلام في قوله تعالى: (ونحن أقرب) ، حيث عبر بها عن ملائكته ورسله أو ع بها عن نفسه أو عن ملائكته ولكن قرب كل بحسبه، فقرب الملائكة منه تلك الساعة وقرب الله تعالى منه مطلق؛ كالوجه الثاني إذا أريد به الله تعالى أي نحن أقرب إليه من حبل الوريد، فيرجع هذا إلى القرب الذاتي اللازم، وفيه القولان أحدهما: إثبات ذلك، وهو قول طائفة من المتكلمين والصوفية ، والثاني : أن القرب هنا بعلمه، لأنه قد قال: (ولقد خلقنا الإنسان ونعلم ما توسوس به نفسه ونحن أقرب إليه من حبل الوريد) ، فذكر لفظ العلم هنا دل على القرب بالعلم، ومثل هذه الآية حديث أبي موسى: إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا إنما تدعون سميعا قريبا إن الذي تدعونه أقرب إلى أحدكم من عنق راحلته، فالآية لا تحتاج إلى تأويل القرب في حق الله تعالى إلا على هذا القول وحينئذ فالسياق دل عليه ومما دل عليه السياق هو ظاهر الخطاب، فلا يكون من موارد النزاع، وقد تقدم أنا لا ندم كل ما يسمى تأويلا مما فيه كفاية وإنما ندم تحريف الكلم عن مواضعه ومخالفة الكتاب والسنة والقول في القرآن بالرأي.

اس آیت سے مراد اللہ کا قرب ہے یا فرشتوں کا۔ اس میں اختلاف ہے۔ اگر یہاں فرشتوں کا قرب مراد ہو، تو فرمانِ باری تعالی:

اذ يتلقى المتلقين عن اليمين وعن الشمال قعيد.

’’جب اس کی دائیں بائیں جانب بیٹھے، دو لکھنے والے لکھتے ہیں۔‘‘

یہاں اللہ نے خبر دی ہے کہ وہ انسان کے دل کی بات جانتا ہے، نیز یہ بتایا ہے کہ کراماً کاتبین فرشتے اس کے قریب ہیں۔ اس کی دلیل اللہ کا یہ فرمان ہے:

’’ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں جب لکھتے ہیں۔‘‘

اس کی توضیح یہ کی گئی ہے کہ یہ قرب اس وقت ہوتا ہے جب دو لکھنے والے لکھ رہے ہوتے ہیں۔ جس معنی میں بھی تفسیر کی جائے ، اللہ کا علم اور اس کی قدرت کا تعلق انسان کے ساتھ عام (ہمہ وقتی) ہوتا ہے، نیز اللہ کی ذات اس وقت کے ساتھ خاص نہیں ہے (بلکہ وہ ہر وقت موجود ہے) یہ آیت اس آیت کریمہ کی طرح ہے:

ام يحسبون انا لا نسمع سرهم ونجوبهم بلى ورسلنا لديهم يكتبون.

’’کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کی خفیہ باتیں اور سرگوشیاں نہیں سن رہے، کیوں نہیں ! ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھ رہے ہوتے ہیں۔‘‘

سورت (ق) کے شروع میں اللہ کا یہ فرمان اسی طرز کا ہے:

قد علمنا ما تنقص الأرض منهم وعندنا كتب حفیظ.

’’جو کچھ زمین ان میں سے کم کرتی ہے، یقیناً ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس ایک حفاظت کرنے والی کتاب ہے۔‘‘

اس بنا پر اس قرب میں کوئی مجاز نہیں۔ بات اس فرمانِ باری تعالیٰ کے بارے میں ہے:

ونحن أقرب.

’’اور ہم اس سے زیادہ قریب ہیں۔‘‘

یہاں اللہ نے اپنے فرشتوں کو مراد لیا ہے یا اپنے آپ کو، لیکن ہر ایک کا قرب اس کے حسب حال ہے۔ فرشتوں کا قریب الموت شخص سے قرب اسی وقت ہوتا ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کا اس سے قرب مطلق (ہر حال میں) ہوتا ہے۔ اس آیت میں جب ذات باری تعالیٰ مراد لی جائے تو اس سے ذاتی قرب لازم آئے گا۔ اس میں دو قول ہیں: ایک قول گروه متكلمين اور صوفیوں کا ہے کہ وہ اس کا اثبات کرتے ہیں، جب کہ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم ہے، کیونکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

ولقد خلقنا الإنسان ونعلم ما توسوس به نفسه ونحن أقرب إليه من حبل الوريد.

’’ہم انسان کے خالق ہیں اور اس کے دل میں پیدا ہونے والے وسوسوں کو جانتے ہیں اور ہم اس سے شہ رگ سے بھی قریب ہیں ۔‘‘

یہاں علم کا لفظ اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں قرب سے مراد علم کا قرب ہے۔ اسی آیت کی طرح سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی الله کی حدیث ہے:

”تم کسی بہری یا غائب ذات کو نہیں پکار رہے، بلکہ تم تو سمیع اور قریب ذات کو پکار رہے ہو۔ تم جس ذات کو پکارتے ہو، وہ تمھاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے۔‘‘

اس آیت کریمہ میں قرب کی تفسیر اللہ تعالیٰ کے ساتھ صرف اسی قول (علم) کے مطابق ہو سکتی ہے۔ ایسا مراد لینے پر سیاق دلالت کرتا ہے اور جس بات پر سیاق دلالت کرے، وہ ظاہر خطاب ہوتا ہے، لہذا اس میں کوئی نزاع نہیں۔ پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ ہم ہر اس چیز کی مذمت نہیں کرتے ، جسے تاویل کا نام دیا جائے اور اس میں کفایت ہو۔ ہم تو کلمات کی تعریف اور کتاب وسنت کی مخالفت اور قرآن کی اپنی رائے سے تفسیر کی مذمت کرتے ہیں۔

(مجموع الفتاوی: 2019/6)

نیز فرماتے ہیں:

أما من ظن أن المراد بذلك قرب ذات الرب من حبل الوريد أو أن ذاته أقرب إلى الميت من أهله، فهذا فى غاية الضعف، وذلك أن الذين يقولون: إنه في كل مكان أو أنه قريب من كل شيء بذاته لا يخصون بذلك شيئا دون شيء ولا يمكن مسلما أن يقول: إن الله قريب من الميت دون أهله ولا إنه قريب من حبل الوريد دون سائر الأعضاء، وكيف يصح هذا الكلام على أصلهم وهو عندهم في جميع بدن الإنسان، أو قريب من جميع بدن الإنسان أو هو في أهل الميت كما هو في الميت، فكيف يقول ونحن أقرب إليه منكم إذا كان معه ومعهم على وجه واحد وهل يكون أقرب إلى نفسه من نفسه، وسياق الآيتين يدل على أن المراد الملائكة، فإنه قال: (ونحن أقرب إليه من حبل الوريد) (إذ يتلقى المتلقين عن اليمين وعن الشمال قعيد) (ما يلفظ من قول إلا لديه رقيب عتيد) ، فقيد القرب بهذا الزمان وهو زمان تلقي المتلقيين فعيد عن اليمين وقعيد عن الشمال وهما الملكان الحافظان اللذان يكتبان كما قال: (ما يلفظ من قول إلا لديه رقيب عتيد) ، ومعلوم أنه لو كان المراد قرب ذات الرب لم يختص ذلك بهذه الحال ولم يكن لذكر القعيدين والرقيب والعتيد معنى مناسب، وكذلك قوله في الآية الأخرى: (فلو لا إذا بلغت الحلقوم) (وانتم حينهن تنظرون) (ونحن اقرب إليه منكم ولكن لا تبصرون) ، فلو أراد قرب ذاته لم يخص ذلك بهذه الحال ولا قال: (ولكن لا تبصرون).

جن لوگوں نے یہ گمان کیا ہے کہ اس آیت سے ذات الہی کا شہ رگ سے زیادہ قریب ہونا مراد ہے یا یہ مراد ہے کہ مرنے والے کے گھر والوں سے اللہ زیادہ قریب ہوتا ہے، ان کی یہ بات بہت کمزور بات ہے۔ وہ اس لیے کہ وہی لوگ کہتے ہیں کہ اللہ ہر جگہ ہے یا وہ اپنی ذات کے ساتھ ہر چیز کے قریب ہے۔ وہ اس سلسلے میں کسی چیز کو خاص نہیں کرتے۔ کسی مسلمان کے لیے یہ کہنا ممکن نہیں کہ اللہ میت کے قریب ہے، اس کے گھر والوں کے قریب نہیں، نہ ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ شہ رگ سے قریب ہے۔ باقی اعضا سے قریب نہیں۔ ان لوگوں کے قاعدے کے مطابق یہ کہنا کیسے درست ہو سکتا ہے، حالاں کہ ان کے نزدیک (معاذ اللہ!) اللہ انسان کے تمام بدن میں ہوتا ہے یا پورے جسم سے زیادہ قریب ہوتا ہے یا وہ گھر والوں میں بھی ہوتا ہے، جیسا کہ میت میں ہوتا ہے۔ اللہ تعالٰی میت کے ساتھ اور گھر والوں کے ساتھ ایک ہی طرح ہونے کے باوجود کیسے فرما سکتا ہے کہ وہ میت سے گھر والوں کی نسبت زیادہ قریب ہے۔ کیا اللہ مرنے والے سے اپنی ذات کی نسبت بھی قرب ہے؟ پھر دونوں آیات کا سیاق اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہاں فرشتے مراد ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:

’’ہم اس مرنے والے سے شہ رگ سے بھی قریب ہیں، جب دو لکھنے والے دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے لکھ رہے ہوتے ہیں۔ وہ انسان جو بات بھی کرتا ہے، اس کے پاس ایک نگران تیار ہوتا ہے۔‘‘

قرب کو ایک زمانے ، یعنی دو دائیں بائیں سے لکھنے والے فرشتوں کے لکھنے سے مقید کیا گیا ہے، فرمانِ الہی ہے:

’’وہ جو بات بھی کرتا ہے، اس کے پاس ایک نگران تیار فرشتہ ہوتا ہے۔‘‘ یہ بات معلوم ہے کہ اگر یہاں ذات الہی کا قرب مراد ہو، تو یہ قرب اس حالت کے ساتھ خاص نہ ہو اور دو تیار اور محافظ فرشتوں کے ذکر کی کوئی مناسبت نہیں بنتی۔ فرمانِ باری تعالی ہے:

’’پھر کیوں نہیں (تم روح کو واپس لوٹا لیتے) ، جب وہ حلق تک پہنچ جاتی ہے اور آپ اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو اور ہم اس مرنے والے کے آپ کی نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں۔‘‘

یہاں اللہ اپنی ذات کا قرب مراد لیتا، تو اس قرب کو اس حالت کے ساتھ خاص نہ کرتا، نہ یہ فرماتا کہ تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو۔

(مجموع الفتاوى: 507/5)

علامہ ابن قیم رحمتہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:

قيل: هذه الآية فيها قولان للناس : أحدهما أنه قربه بعلمه، ولهذا قرنه بعلمه بوسوسة نفس الإنسان ….. والقول الثاني: أنه قربه من العبد بملائكته الذين يصلون إلى قلبه، فيكون أقرب إليه من ذلك العرق اختاره شيخنا.

’’کہا گیا ہے کہ اس آیت میں کی دو آرا ہیں: ایک یہ کہ اللہ اپنے علم کے اعتبار سے قریب ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس قرب کے ساتھ انسان کے دل کے وسوسے کو بھی جاننے کا ذکر کیا ہے. دوسرا یہ ہے کہ اللہ کا قرب اس کے ان فرشتوں کے ذریعے ہوتا ہے، جو اس انسان کے دل تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس اعتبار سے اللہ شہ رگ سے بھی قریب ہوتا ہے۔ ہمارے شیخ (شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ) نے اسی قول کو اختیار کیا ہے ۔‘‘

(مدارج السالكين، ص 290)

مزید فرماتے ہیں:

التصريح بتنزيل الكتاب منه كقوله (تنزيل الكتب من الله العزيز الحكيم) (الزمر: 1)، (لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حمید) (فصلت: 42) (قل نزلة له روح القدس من ربك بالحق ليثبت الذين آمنوا وهدى وبشرى للمسلمين) (النحل: 102)، وهذا يدل على شيئين: على أن القرآن ظهر منه ، لا من غيره، وأنه الذي تكلم به لا غيره، الثاني: على علوه على خلقه، وأن كلامه نزل به الروح الأمين من عنده من أعلى مكان إلى رسوله.

قرآنِ کریم میں اللہ کی طرف سے کتاب نازل ہونے کی صراحت ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

’’یہ کتاب غالب اور حکمت والے اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔‘‘

(الزمر: 1)

نیز فرمایا:

’’یہ قرآن حکمت والے اور قابلِ تعریف اللہ کا نازل کردہ ہے۔‘‘

(فصلت: 42)

ایک مقام پر ارشاد ہے:

’’( نبی!) فرما دیجیے کہ اس قرآن کو تیرے ربّ کی طرف سے روح القدس نے نازل کیا ہے۔‘‘

(النحل: 102)

ان فرامین الہی سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں: پہلی یہ کہ قرآن اللہ کی طرف سے ہے، کسی اور کی طرف سے نہیں، نیز اللہ نے ہی اس کی کلام کی ہے، کسی اور نے نہیں۔ دوسری یہ کہ اللہ اپنی مخلوق سے بلند ہے اور اس کی کلام روح الامین اس کے پاس سے ایک بلند مقام سے لے کر اس کے رسول کی طرف نازل ہوتے رہے ہیں ۔

(إعلام الموقعين عن رب العالمين: 282/2)

علامہ ابن ابی العز حنفی رحمتہ اللہ (792ھ) فرماتے ہیں:

التصريح بتنزيل الكتاب منه كقوله تعالى: (تنزيل الكتب من الله العزيز العليم)

(غافر: 2)

اللہ کی طرف سے تصریح موجود ہے کہ قرآن اوپر سے نازل ہوتا ہے، فرمانِ الہی ہے:

تنزيل الكتب من الله العزيز العليم.

(غافر: 2)

’’یہ کتاب غالب اور علم والے اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔‘‘

(شرح العقيدة الطحاوية، ص 285)

علامہ آلوسی حنفی (1270ھ) اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

لا مجال لحمله على القرب المكاني لتنزهه سبحانه عن ذلك، وكلام أهل الوحدة مما يشق فهمه على غير ذي الأحوال.

’’اس آیت کو قرب مکانی (ذات الہی کے شہ رگ سے قریب ہونے) پر محمول کرنے کا کوئی جواز نہیں، کیوں کہ اللہ اس سے پاک ہے۔ وحدۃ الوجود کی کلام غیر ذی الاحوال نہیں سمجھ سکتے ۔‘‘

(روح المعاني: 178/28)

تنبيه ①:

ذی الاحوال سے موصوف کی مراد صوفیا ہیں، جو نام نہاد ’’حال‘‘ اور ’’جذب‘‘ جیسی اصطلاحات استعمال کر کے اسلامی احکام سے جان چھڑانے کا حیلہ کرتے ہیں۔ جب اس آیت سے مراد ذات الہی کا قرب مراد لیا ہی نہیں جاسکتا، تو یہ ذى الاحوال ایسا معنی کیوں کرتے ہیں؟

تنبيه ②:

مذکورہ بالا بحث سے اس آیت کا معنی بھی واضح ہو جاتا ہے۔ فرمان باری تعالی ہے:

وإذا سألك عبادي عني فإني قريب أجيب دعوة الداع إذا دعان.

(البقرة: 186)

’’میرے بندے میری بابت پوچھتے ہیں، تو میں قریب ہوں اور پکارنے والا جب بھی مجھے پکارتا ہے، اس کا جواب دیتا ہوں۔‘‘

آیت نمبر ②:

جہمیہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی پیش کرتے ہیں:

وهو الذي في السماء اله و في الأرض اله وهو الحكيم العليم.

(الزخرف: 84)

’’اللہ وہ ذات ہے، جو آسمان میں بھی معبود ہے، زمین میں بھی۔ وہ حکمت والا، خوب علم والا ہے۔‘‘

فہم سلف امت

اس سے مراد ہے کہ وہ اللہ جو آسمان و زمین میں معبود ہے۔

حافظ ابن عبدالبر رحمتہ اللہ (463 ھ ) لکھتے ہیں:

وجب حمل هذه الآيات على المعنى الصحيح المجتمع عليه، وذلك أنه في السماء إله معبود من أهل السماء ، وفي الأرض إله معبود من أهل الأرض، وكذلك قال أهل العلم بالتفسير.

’’اس آیت کو صحیح اتفاقی معنی پر محمول کرنا ضروری ہے اور وہ معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں میں آسمان والی مخلوق کا معبود ہے اور زمین میں زمین والی مخلوق کا معبود ہے (یعنی زمین ہو یا آسمان عبادت اسی کی ہے) اسی طرح مفسرین کرام نے کہا ہے ۔‘‘

(التمهد لما في المؤطا من المعاني والأسانيد: 134/7)

امام ابو بکر آجری رحمتہ اللہ (360ھ) فرماتے ہیں:

مما يلبسون به على من لا علم معه احتجوا بقوله عز وجل: (وهو الله في السموت و في الأرض) ، وبقوله عز وجل (وهو الذى في السماء الله و فى الأرض اله)، وهذا كله إنما يطلبون به الفتنة، كما قال الله تعالى: (فيتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تأويله) ، وعند أهل العلم من أهل الحق: (وهو الله في السبوت و في الأرض يعلم سركم وجهركم ويعلم ما تكسبون) ، فهو كما قال أهل العلم مما جاءت به السنن: إن الله عز وجل على عرشه، وعلمه محيط بجميع خلقه، يعلم ما يسرون وما يعلنون، يعلم الجهر من القول ويعلم ما تكتمون، وقوله عزوجل: (وهو الذي في السماء اله و في الأرض اله) ، فمعناه: أنه جل ذكره إله من في السماوات، وإله من في الأرض إله يعبد في السماوات، وإله يعبد في الأرض، هكذا فسره العلماء.

جن چیزوں کے ساتھ جہمیہ جاہل لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں، ان میں سے ایک یہ فرمان باری تعالی ہے:

’’اللہ آسمانوں میں بھی اللہ ہے اور زمین میں بھی۔‘‘

نیز فرمان الہی ہے:

’’وہی اللہ آسمانوں میں الہ ہے اور زمین میں الہ ہے۔‘‘

ان سب باتوں سے ان کا مقصد لوگوں کو دھوکہ دینا ہوتا ہے، اللہ فرماتے ہیں:

”وہ لوگ متشابہ آیات کے پیچھے اس لیے پڑتے ہیں تا کہ ان کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دیں اور ان کی تاویلات تلاش کریں۔‘‘

اہل حق اہل علم کے ہاں ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ اللہ آپ کی پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے، جیسا کہ احادیث میں صراحت آگئی ہے کہ اللہ اپنے عرش پر مستوی ہے، جبکہ اس کا علم تمام مخلوقات کو محیط ہے۔ وہ ظاہری و مخفی تمام باتوں کو جانتا ہے۔ اس فرمان الہی:

’’وہی آسمان میں الہ ہے اور زمین میں اللہ ہے۔‘‘

اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ آسمان والوں کا بھی اللہ ہے اور زمین والوں کا بھی اللہ ہے۔ آسمانوں میں بھی اسی کی عبادت کی جاتی ہے اور زمین میں بھی اسی کی عبادت کی جاتی ہے۔ اہل علم نے اس کی یہی تفسیر کی ہے ۔

(کتاب الشريعة: 1102/3)

حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ (774ھ) فرمان باری تعالیٰ:

وهو الله في السموت و في الأرض يعلم سركم وجهركم ويعلم ما تكسبون.

(الانعام: 3)

’’وہ اللہ ہی زمین و آسمان میں (معبود) ہے، جو آپ کے ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے اور آپ کے اعمال واقوال سے بھی واقف ہے۔‘‘
کے تحت لکھتے ہیں:

اختلف مفسرو هذه الآية على أقوال، بعد اتفاقهم على تخطئة قول الجهمية القائلين تعالى الله عن قولهم علوا كبيرا بأنه في كل مكان، حيث حملوا الآية على ذلك، فالأصح من الأقوال أنه المدعو الله في السموات وفي الأرض ، أي يعبده ويوحده ويقر له بالإلهية من في السموات والأرض، ويسمونه الله، ويدعونه رغبا ورهبا، إلا من كفر من الجن والإنس، وهذه الآية على هذا القول كقوله تعالى: (وهو الذي في السماء اله و في الأرض اله) أي هو إله من في السماء وإله من في الأرض، وعلى هذا فيكون قوله: (يعلم سركم وجهركم) خبرا أو حالا، والقول الثاني: أن المراد أنه الله الذي يعلم ما في السموات وما في الأرض من سر و جهر ، فيكون قوله: (يعلم) متعلقا بقوله: (في السموات وفي الأرض) تقديره: وهو الله يعلم سركم وجهركم في السموات وفي الأرض، ويعلم ما تكسبون.

اس آیت کی تفسیر میں کئی اقوال ہیں، لیکن وہ جہمیہ کی اس بات کو بالا تفاق غلط قرار دیتے ہیں کہ نعوذ باللہ اللہ ہر جگہ موجود ہے، انھوں نے اس آیت کو اس معنی میں لیا ہے۔ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جس ذات کو اللہ کے نام سے پکارا جاتا ہے، وہ اللہ ہی کی ذات ہے، یعنی آسمانوں و زمین کی تمام مخلوق اس کی عبادت کرتی ہے، اس کی توحید کا اقرار کرتی ہے، اس کی الوہیت کی اقراری ہے اور اس کا نام اللہ رکھتی ہے، اس سے ڈرتے ہوئے یا رغبت سے اسے پکارتی ہے، سوائے ان جنوں اور انسانوں کے جنوں نے کفر کیا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس فرمان باری تعالی کی طرح ہے:

وهو الذي في السماء اله و في الأرض اله.

’’وہی ذات ہے، جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے۔‘‘

یعنی زمین و آسمان کی مخلوق کا وہی معبود ہے۔ اس طرح یہ: (يعلم سركم وجهركم) کے الفاظ خبر یا حال ہوں گے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں سے مراد یہ ہے کہ اللہ زمین و آسمان
میں جو بھی پوشیدہ و ظاہر چیز ہے، اسے جانتا ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے (يعلم) کے الفاظ (في السموات وفي الأرض) کے متعلق ہوں گے۔ اصل عبارت یوں ہوگی:

وهو الله يعلم سركم وجهركم في السموات وفي الأرض ويعلم ما تكسبون.

’’وہی اللہ ہے، جو زمین و آسمان میں مخفی و ظاہری چیزوں کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو، اسے بھی جانتا ہے۔‘‘

(تفسير ابن كثير : 240/3)

بعض احادیث اور جہمی استدلالات

حدیث نمبر ①

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی الله بیان کرتے ہیں کہ ہم بلندی پر چڑھتے وقت بآواز بلند
اللہ اکبر کہتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أيها الناس اربعوا على أنفسكم، فإنكم لا تدعون أصم ولا غائبا، إنه معكم، إنه سميع قريب.

’’لوگو تحمل سے کام لیں، آپ کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے، کیونکہ وہ (اللہ) تمھارے ساتھ ہے اور وہ خوب سننے والا اور قریب ہے۔‘‘

(صحيح البخاري : 2992، صحیح مسلم:2704)

سنن ترمذی (3374، وسندہ صحیح) کے الفاظ ہیں:

إن ربكم ليس بأصم ولا غائب، هو بينكم وبين رؤوس رحالكم.

’’آپ کا رب بہرا یا غائب نہیں ہے، بلکہ وہ آپ اور آپ کی سواریوں کی گردنوں کے مابین ہے۔‘‘

اس کا معنی اسلاف کے فہم سے

امام ترمذی رحمتہ اللہ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

معنى قوله: بينكم وبين رؤوس رحالكم، إنما يعني علمه وقدرته.

’’اس فرمان نبوی کی مراد یہ ہے کہ اللہ کا علم اور قدرت تمھارے ساتھ ہے۔‘‘

علامہ ابن رجب رحمتہ اللہ (795ھ ) لکھتے ہیں:

لم يكن أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يفهمون من هذه النصوص غير المعنى الصحيح المراد بها، يستفيدون بذلك معرفة عظمة الله وجلاله، وإطلاعه على عباده وإحاطته بهم، وقربه من عابديه، وإجابته لدعائهم، فيزدادون به خشية لله وتعظيما وإجلالا ومهابة ومراقبة واستحياء، ويعبدونه كأنهم يرونه، ثم حدث بعدهم من قل ورعه، وساء فهمه وقصده، وضعفت عظمة الله وهيبته في صدره، وأراد أن يري الناس امتيازه عليهم بدقة الفهم وقوة النظر، فزعم أن هذه النصوص تدل على أن الله بذاته في كل مكان، كما يحيي ذلك عن طوائف من الجهمية والمعتزلة ومن وافقهم، تعالى الله عما يقولون علوا كبيرا، وهذا شيء ما خطر لمن كان قبلهم من الصحابة رضي الله عنهم ، وهؤلاء ممن يتبع ما تشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء صلى الله عليه وسلم أمته منهم في حديث عائشة الصحيح المتفق عليه، وتعلفوا أيضا بما فهموه بفهمهم القاصر مع قصدهم الفاسد بآيات في كتاب الله، مثل قوله تعالى: (وهو معكم أين ما كنتم) (الحديد: 4) وقوله: (ما يكون من نجوى ثلثة إلا هو رابعهم) (المجادلة: 7)، فقال من قال من علماء السلف حينئذ: إنما أراد أنه معهم بعلمه، وقصدوا بذلك إبطال ما قاله أولئك، مما لم يكن أحد قبلهم قاله ولا فهمه من القرآن.

’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ان آیات سے یہاں مراد صحیح معنی کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتے تھے، وہ ان آیات سے اللہ کی عظمت و جلال، اپنے بندوں پر اطلاع، ان کے احاطہ، اپنے عبادت گزاروں سے قرب اور ان کی دعاؤں کی قبولیت کی معرفت حاصل کرتے تھے، پھر وہ اللہ کے ڈر تعظیم، ہیبت، خیال اور حیا میں بڑھ جاتے تھے اور اس کی عبادت ایسے کرتے تھے، جیسے اسے دیکھے رہے ہوں۔ پھر ان کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوئے جن کا تقویٰ کم ہو گیا اور قصد و فہم برا ہو گیا اور ان کے سینے میں اللہ کی ہیبت اور عظمت مانند پڑ گئی، انھوں نے ارادہ کیا کہ لوگوں کو اپنی منفرد دقت فہم اور قوت استدلال دکھا ئیں، تو یہ دعویٰ کر دیا کہ اللہ اپنی ذات کے اعتبار سے ہر جگہ ہے، جیسا کہ جہمیہ، معتزلہ اور ان کے ہم نواؤں سے بیان کیا جاتا ہے۔ اللہ ان کی باتوں سے منزہ و مبرا ہیں۔ یہ بات ان سے پہلے صحابہ کو سمجھ نہیں آئی۔ یہی وہ لوگ ہیں جو قرآن میں سے متشابہ آیات کے پیچھے پڑتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دیں اور ان میں تاویلات تلاش کریں۔ سیدہ عائشہ رضی الله عنه نے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے بچنے کا حکم دیا ہے۔‘‘

(فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: 331/2)

حدیث نمبر 3

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

والذي نفس محمد بيلم لو أنكم دليتم رجلا بحبل إلى الأرض السفلى لهبط على الله.

’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر ایک شخص کو آپ رسی سے نچلی زمین کی طرف لٹکاؤ تو وہ اللہ کے اوپر گرے گا۔‘‘

(سنن الترمذي: 3298)

سند ’’ضعیف‘‘ ہے، کیونکہ
◈ امام حسن بصری رحمتہ اللہ ’’مدلس‘‘ ہیں اور سماع کی تصریح ثابت نہیں ہو سکی۔

◈ جمہور کے نزدیک ابو ہریرہ رضی الله عنه سے حسن بصری رحمتہ اللہ کا سماع ثابت نہیں۔

(عمدة القاري للعيني: 271/1)

امام ترمذی نے اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

فسر بعض أهل العلم هذا الحديث، فقالوا: إنما هبط على علم الله وقدرته وسلطانه، وعلم الله وقدرته وسلطانه في كل مكان، وهو على العرش كما وصف في كتابه.

بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر میں کہا ہے کہ وہ شخص اللہ کے علم، قدرت اور بادشاہت پر گرے گا۔ اللہ کا علم، قدرت اور بادشاہت ہر جگہ میں ہے اور وہ خود اپنے عرش پر مستوی ہے، جیسا کہ اس نے اپنی کتاب میں بیان کر دیا ہے۔

(سنن الترمذي، تحت الحديث: 2398)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️

آیاتِ قرب و معیت میں تعارض صحیح آحادیث کی روشنی میں