سوال :
آج کل لوگ آنکھوں کا رنگ بدلنے کے لیے جو لینز لگا رہے ہیں کیا ان کا استعمال درست ہے؟ اس سے گناہ تو نہیں ہوتا، براہ مہربانی جواب سے نوازیں۔
جواب :
مارکیٹ میں دو طرح کے لینز دستیاب ہیں، ایک نظر کے لیے کہ جس شخص کی بینائی کمزور پڑ جائے تو وہ عینک کی جگہ لینز لگا لیتا ہے، دوسرے بالکل سادہ ہیں جو بینائی کی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ فیشن اور زینت سمجھ کر لگائے جاتے ہیں، تو ان دونوں کے لگانے میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔ البتہ خواتین کے بارے میں ایک بات کا لحاظ ضروری ہے۔ کتنی ہی نصوص شرعیہ میں عورت کو غیر محرم کے سامنے اظہار زینت سے روکا گیا ہے، لہذا اگر کوئی عورت لینز لگا کر غیر محرم کے سامنے اس کا اظہار کرتی ہے اور آنکھوں کا رنگ تبدیل کر کے دعوت گناہ دیتی ہے تو یہ فعل عبث اور حرام ہوگا، اس کے لیے لینز لگانے کی اجازت نہیں ہے۔ جو عورتیں شرعی لباس و حجاب کا لحاظ رکھتی ہیں، گھر سے باہر نکلتے ہوئے اپنی آنکھوں کی حفاظت کرتی ہیں تو جس طرح دیگر زیب و زینت ان کے حق میں جائز اور درست ہے تو یہ زینت بھی اسی قسم میں داخل ہے۔