آئمہ اربعہ اور حجیت حدیث

فونٹ سائز:
تحریر: عطاء اللہ سلفی

قرآن وحدیث کی برتری

🌸امام ابوبکر عبدالله بن الزبیر الحمیدی (متوفی ۲۱۹ ھ ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
میں مصر میں تھا، جب (ایک دن) محمد بن ادریس الشافعی (متوفی ۲۰۴ھ مشہور امام ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان کی تو ایک آدمی نے اُن سے کہا: اے ابو عبد اللہ کیا آپ اس (حدیث ) کے قائل (وفاعل ) ہیں؟

🌸(امام) شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:

کیا تو نے دیکھا ہے کہ میں (عیسائیوں کے ) کنیسہ سے باہر آیا ہوں یا مجھ پر (ہندؤوں کا) زنار (خاص نشان: دھاگہ) دیکھا ہے؟ جب میرے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ثابت ہو جائے تو وہی ہمیشہ کے لئے میرا قول ہوتا ہے۔ اور اگر حدیث ثابت نہ ہو تو وہ میرا اقول نہیں ہوتا۔ کیا تو نے مجھ پر (ہندؤوں کا خاص نشان ) زنار دیکھا ہے کہ میں حدیث کے مطابق فتوی نہ دوں؟

🌿(حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصبہانی ج ۹ ص ۱۰۶ وسندہ صحیح)

امام شافعی رحمہ اللہ کے اس سنہری قول سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث حجت اور معیار حق ہوتی مسلمان پر یہ لازم ہے کہ وہ قرآن وحدیث کے مطابق ہی اپنے عقائد ، اقوال و اعمال اختیار کرے۔ تمام ائمہ مسلمین کا یہی مسلک و مذہب اور طریقہ کا ر تھا۔

امام ابوحنیفه (متوفی ۵۱۵۰ ) رحمہ اللہ نے ایک (صحیح) حدیث سن کر فورا اپنے سابقہ فتوے سے رجوع کر لیا تھا اور حکم دیا تھا کہ میرے (لکھے ہوئے) فتوے کو کاٹ کر مٹادو۔

🌿(کتاب النياعبد الله بن أحمد بن حنبل: ۳۸۰ وسندہ صحیح)

امام مالک (متوفی ۱۷۹ھ ) رحمہ اللہ نے بھی پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں ایک قومی حدیث سُن کر فورا اپنے سابقہ فتوے سے رجوع کیا تھا۔

🌿(تقدمة الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ۳۱/۱ ۳۲ والسنن الکبری لیقی (۷۷،۷۶ وسنده حسن)

🌸امام احمد بن حنبل (متوفی ۲۴۱ھ) فرماتے تھے کہ :
’’جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث رد کر دی ہلاکت کے کنارے پر ہے۔‘‘
🌿(مناقب الامام لابن الجوزی ص ۱۸۲، الحدیث حضر و ۲ ص ۵ وسنده حسن)
جو لوگ ان ائمہ کرام سے محبت کا دعوی رکھتے ہیں، اور وہ اس دعوے میں اگر بچے ہیں تو ان پر یہ لازم ہے کہ وہ قرآن وحدیث کو سر آنکھوں پر رکھتے ہوئے اپنا عقیدہ ، قول وفعل بنا ئیں ۔ یہ طریقہ اختیار کر کے ہی وہ ائمہ کرام سے اپنی محبت کے دعوے کو سچا ثابت کر سکتے ہیں۔ تنبیہ: قرآن وحدیث سے اجماع امت کا حجت ہونا اور اجتہاد کا جواز ثابت ہے۔ والحمد للہ