مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں

مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

«باب المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده»
حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں
✿ «عن عبد الله بن عمرو بن العاص، عن النبى صلى الله عليه وسلم:” المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه. » [متفق عليه: رواه البخاري 6484 و مسلم 40: 64.]
عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔ اور حقیقی مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کی ہوئی باتوں سے رک جائے۔

✿ «عن أبى موسى الاشعري رضي الله عنه، قال: قالوا: يا رسول الله، اي الإسلام افضل؟ قال: من سلم المسلمون من لسانه ويده.» [متفق عليه: رواه البخاري 11، ومسلم 42.]
حضرت ابو موسی اشعری سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! ان سب سے افضل اسلام کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔

✿ «عن جابر بن عبد الله قال سمعت النبى صلى الله عليه وسلم : يقول المسلم من سلم المسلموں من لسانه ويده. » [صحيح: رواه مسلم 41.]
حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوے سنا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور اس کی زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔

✿ «عن انس، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : المؤمن من امنة الناس، والمسلم من سلم المسلموں من لسانه ويده، والمهاجر من هجر السوء، والذي نفسي بيده لا يدخل الجنة عبد لا يأمن جاره بوائقه. » [صحيح: رواه أحمد 12561، وابن حبان 510، والحاكم 11/1.]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مومن وہ ہے جس سے لوگ امن میں ہوں۔ اور مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔ اور حقیقت میں مہاجر وہ ہے جو برائی کو چھوڑ دے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کوئی ایسا بندہ جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کی بدزبانی سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔

✿ «عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمؤمن من امنه الناس على دمائهم واموالهم.» [حسن: رواه الترمذي 2627، والنسائي 4995، وابن حبان 180، والحاكم 10/1.]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انھوں نے کہا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں اور مومن وہ ہے، جس سے لوگوں کی جانیں اور ان کے مال محفوظ ہوں۔

✿ «عن فضالة بن عبيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فى حجة الوداع ألا أخبركم من المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده والمؤمن من امنه الناس على واموالهم وانفسهم والمهاجر من هجر الخطايا والذنوب والمجاهد من جاهد نفسه فى طاعة الله عزوجل. » [صحيح: رواه أحمد 23968، 23958، وابن ماجه 3934، وابن حبان 4862 .]
فضالہ بن عبید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع کے موقعہ پر ارشاد فرمایا: کیا میں تمھیں نہ بتاؤں کہ مسلمان کون ہے ؟ (مسلمان وہ ہے) جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔ اور مومن وہ ہے جس سے لوگوں کی جانیں اور ان کے مال محفوظ ہوں۔ مہاجر وہ ہے جو غلطیوں اور گناہوں کو چھوڑ دے۔ اور مجاہد وہ ہے جو اللہ عزوجل کی اطاعت کے بارے میں اپنے نفس سے جہاد کرلے۔
——————

« باب النهي عن الاشارة بالسلاح إلى مسلم »
کسی مسلمان کی طرف اسلحہ سے اشارے کی ممانعت
✿ «عن أبى هريرة، عن النبى صلى الله عليه وسلم، قال:” لا يشير احدكم على اخيه بالسلاح، فإنه لا يدري لعل الشيطان ينزع فى يده فيقع فى حفرة من النار.» [متفق عليه: رواه البخاري 7072، ومسلم 2617.]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے۔ کیوں کہ تم میں سے کسی کو معلوم نہیں کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ سے چھین لے۔ پھر وہ شخص جہنم کے گڑھے میں گر جائے۔

✿ « عن أبى هريرة قال ابو القاسم صلى الله عليه وسلم: ” من اشار إلى اخيه بحديدة، فإن الملائكة تلعنه حتى يدعه، وإن كان اخاه لابيه وامه ".» [صحيح رواه مسلم 2616]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انھوں نے فرمایا: ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنے بھائی کی طرف کسی لوہے کے ہتھیار سے اشارہ کیا تو ملائکہ اس پر لعنت کرتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ اس سے باز آ جائے۔ اگرچہ وہ شخص اس کے باپ اور اس کی ماں کی طرف سے اس کا بھائی لگتا ہو۔

✿ « عن أبى هريرة أن رسول الذى قال: من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشينا فليس منا. » [صحيح، رواه مسلم 101.]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہمارے خلاف ہتھیار اٹھالے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اور جو ہمیں دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

✿ «عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:” من حمل علينا السلاح فليس منا”.» [متفق عليه رواه البخاري 7070 ومسلم 98]
حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہمارے خلاف ہتھیار اٹھا لے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

✿ « عن أبى موسى الأشعري عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من حمل علينا السلاح فليس منا.»
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا: جو ہمارے خلاف ہتھیار اٹھالے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

✿ «عن اياس بن سلمة عن أبيه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: من حمل علينا السلاح فليس منا.» [متفق عليه: رواه البخاري 7071، ومسلم 100.]
ایاس بن أبی سلمہ اپنے والد سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: جو شخص ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

✿ «عن أبى موسى عن النبى صلى الله عليه وسلم : قال: إذا مر أحدكم فى مسجدنا أو فى سوقنا ومعه نبل فليمسك على نصالها بكفه أن يصيب أحدا من المسلمين منها بشيء أو قال: ليقبض على نصالها. » [صحيح: رواه مسلم 99.]
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی شخص کا ہمارے مسجد سے گزر ہو یا ہمارے بازار سے، اور اس کے ساتھ تیر ہو۔ تو اس کو چاہیے کہ اس کی اني کو اپنی ہتھیلی میں پکڑ لے۔ تا کہ وہ کسی مسلمان کو نہ لگے۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی انی کو اپنے قبضے میں لے۔
——————

«باب التمسك بنصال النبل خشية أن يصيب أحدا من المسلمين »
نیزے کی انی کو تھام لیا اس اندیشہ سے کہ کسی مسلمان کو لگ جائے
✿ « عن ابي موسى، عن النبى صلى الله عليه وسلم، قال:” إذا مر احدكم فى مسجدنا، او فى سوقنا ومعه نبل، فليمسك على نصالها، او قال: فليقبض بكفه ان يصيب احدا من المسلمين منها شيء » [متفق عليه: رواه البخاري 7075، ومسلم 2015: 24.]
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی شخص کا ہماری مسجد سے گزر ہو، یا ہمارے بازار سے اور اس کے ساتھ تیر ہو تو اس کو چاہیے کہ اس کی انی کو اپنی ہتھیلی میں پکڑ لے اور یہ الفاظ آپ نے تین بار دہرائے۔ تاکہ وہ کسی مسلمان کو نہ لگے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی انی کو اپنے قبضے میں لے۔

✿ « عن جابر بن عبد الله : مر رجل فى المسجد بسهام فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم امسك بنصالها. وفي رواية ان رجلا مر باسهم فى المسجد قد ابدى نصولها، فامر ان ياخذ بنصولها كي لا يخدش مسلما ". » [صحيح: رواه مسلم 2015: 123.]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا : ایک آدمی مسجد کے اندر تیر لے کر گزر رہا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: اس کے پھل کو پکڑ لو۔ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: کہ ایک آدمی مسجد کے اندر نیزوں کے ساتھ گزر رہا تھا۔ اور ان کی انیاں ظاہر
تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کی انیوں کو پکڑ لے، تا کہ کسی مسلمان کو خراش نہ آئے۔

✿ «عن جابر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم : أنه أمر رجلا كان يتصدق بالنبل فى المسجد أن لا يمر بها إلا وهو أخذ بنصولها. » [صحيح: رواه مسلم 122:2614]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا جو مسجد کے اندر تیر بانٹ رہا تھا جو بھی وہاں سے گزرے، اس کو چاہیے کہ ان کی انیاں تھام لے۔
——————

« باب إعطاء السيف مغمودا »
تلوار نیام بند کر دینا چاہیے
✿ «عن أبى بكرة قال أتى رسول الله على قوم يتعاطون سيفا مسلولا، فقال : لعن الله من فعل هذا أو ليس قد نهيت عن هذا، ثم قال: إذا سل احدكم سيفه فنظر إليه فأراد أن يناوله أخاه فليغمده ثم يناوله اياه . » [حسن: رواه الإمام أحمد 20429.]
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس آے جو ننگی تلواریں آپس میں ایک دوسرے کو دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لعنت ہے اس شخص پر جو یہ کام کرے۔ کیا یہ بات نہیں ہے کہ میں نے اس سے روکا تھا؟ پھر فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی تلوار کو بے نیام کرے اس کو دیکھے، اپنے بھائی کو دینا چاہے تو اس کو پہلے نیام میں ڈال دے، پھر وہ اس کے حوالے کرے۔

✿ « عن جابر بن عبدلله أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بقوم فى مجلس يسلون سيفا يتعاطونه بينهم غير مغمود فقال ألم أزجركم عن هذا فإذا سل أحدكم
السيف فليغمده، ثم ليعطه اخاه.
» [حسن: رواه الإمام أحمد 14981، والبزار – كشف الأستار 3335، وابن حبان 5943]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ لوگوں پر سے ہوا، جو ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور بے نیام تلواریں آپس میں ایک دوسرے کو دے رہے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں نے تمھیں اس بارے میں نہیں ڈانٹا تھا؟ جس کسی کی تلوار بے نیام ہو، اس کو نیام میں ڈال لینا چاہیے تا کہ پھر اس کے بعد اسے اپنے بھائی کو دے۔

✿ « عن بئة الجهيني أن النبى صلى الله عليه وسلم مر على قوم فى المسجد أو فى المجلس يسلون سيفا بينهم يتعاطونه بينهم غير مغمود. فقال: لعن الله من يفعل ذلك، أو لم ازجركم عن هذا ؛ فإذا سللتم السيف فليغمده الرجل، ثه ليعطه كذلك. » [حسن: رواه الإمام أحمد 14742، وابن سعد 353/3 وابن قانع فى معجم الصحابة 102/1]
حضرت بنہ جھنی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک قوم پر سے ہوا، جو مسجد یا کسی محفل میں بیٹھی ہوی تھی، ان کی تلواریں بے نیام تھیں، اور وہ آپس میں اپنی بے نیام تلواروں کا تبادلہ کر رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ایسا کرے اس پر اللہ کی لعنت ہو، کیا میں نے اس بارے میں تمھیں چوکنا نہیں کیا تھا؟ جب تم تلوار کو بے نیام کرو، تو اس کو نیام میں ڈال لو۔ پھر اس کو اسی حالت میں دوسروں کو دو۔
——————

« باب لا يحل لمسلم أن يروع مسلما »
مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کو ڈرائے
✿ «عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، قال: حدثنا اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم:” انهم كانوا يسيرون مع النبى صلى الله عليه وسلم، فنام رجل منهم، فانطلق بعضهم إلى حبل معه، فاخذه ففزع، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يحل لمسلم ان يروع مسلما”. » [صحيح: رواه أبوداود 2004. وأحمد23064. والبيهقي فى الأداب 542.]
حضرت عبد الرحمن بن ابو لیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے ہم سے بیان کیا کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں جارہے تھے۔ ان میں سے ایک آدمی سوگیا اور دوسرا اس سے ایک رسی لینے لگا جو اس کے ساتھ تھی۔ وہ ڈر گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ دوسرے مسلمان کو ڈرائے۔
——————

« باب فضيلة من عرض أخيه المسلم »
اس شخص کی فضیلت جو اپنے بھائی کی عزت اور آبرو کادفاع کرے
✿ «عن ابي الدرداء، عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ” من رد عن عرض اخيه، رد الله عن وجهه النار يوم القيامة. » [حسن: رواه أحمد 27536 و الترمذي 1931]
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عزت اور آبرو کادفاع کرے تو الله پر واجب ہے کہ قیامت کے دن جہنم کی آگ کو اس سے دور کر دے۔

✿ «عن أسماء بنت يزيد عن النبى صلى الله عليه وسلم قال من ذب عن لهم أخيه بالغيبة كان حقا على الله أن يعتقه من النار. » [حسن: رواه عبد الله بن المبارك فى الزهد 687، ومن طريقه أحمد 27609، والطبراني فى الكبير 176/24]
حضرت اسما بنت یزید سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غیبت کے ذریعے اپنے بھائی کا گوشت کھانے سے کسی کو روکے تو اللہ تعالی پر واجب ہے کہ اس کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے۔
——————

«باب فضل الستر على المسلم»
مسلمان کے عیوب کو چھپانے کی فضیلت
✿ «عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من نفس عن مؤمن كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة، ومن يسر على معسر يسر الله عليه فى الدنيا والآخرة، ومن ستر مسلما ستره الله فى الدنيا والآخرة، والله فى عون العبد ما كان العبد فى عون اخيه. » [صحيح: رواه مسلم 2699]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مومن کی دنیوی تکلیفوں میں سے کسی بڑی تکلیف کو دور کیا، تو اللہ تعالی اس کی اخروی تلیفوں میں سے کسی بڑی تکلیف کو دور فرمائے گا۔ اور جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کر دی تو اللہ تعالی دنیا اور آخرت میں اس پر آسانی فرمائے گا۔ جس نے کسی مسلمان کے عیبوں پر پردہ ڈالا تو اللہ تعالی دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اللہ اس وقت تک اپنے بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی درد میں لگارہتا ہے۔
——————

« باب فضل من كسا مسلما »
اس شخص کی فضیلت جس نے کسی مسلمان کو لباس پہنایا۔
✿ «عن حصين، قال: جاء سائل فسال ابن عباس , فقال ابن عباس للسائل: اتشهد ان لا إله إلا الله؟ قال: نعم، قال: اتشهد ان محمدا رسول الله؟ قال: نعم، قال: وتصوم رمضان؟ قال: نعم، قال: سالت وللسائل حق إنه لحق علينا ان نصلك، فاعطاه ثوبا , ثم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ” ما من مسلم كسا مسلما ثوبا إلا كان فى حفظ من الله ما دام منه عليه خرقة ” , قال: هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه. » [حسن أخرجه الترمذي 2434 والسياق له، والبخاري فى التاريخ الكبير 9/3، والحاكم 196/4]
حضرت حسین بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سائل نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سائل سے کہا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ ابن عباس نے فرمایا: کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور تم رمضان کے روزے رکھتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے مانگا ہے او مانگنے والے کا حق ہوتا ہے۔ اور ہم پر یہ حق بنتا ہے کہ ہم تمھارا حق تمھیں دیں۔ پھر آپ نے اس کو ایک کپڑا عطا کیا: پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے کسی مسلمان کو کوئی کپڑا پہنایا تو وہ اللہ کی امان میں رہے گا جب تک کہ اس کے بدن پر اس کپڑے کا ایک ٹکڑا بھی رہے گا۔
——————

«باب التحذير من الاستطاعة فى عرض المسلم بغير حق»
مسلمان کی عزت اور آبرو کے معاملے میں ناحق زبان درازی کرنے سے بچنا چاہیے۔
✿ «عن سعيد بن زيد، عن النبى صلى الله عليه وسلم، قال:” إن من اربى الربا الاستطالة فى عرض المسلم بغير حق”. » [صحيح: رواه أبو داود 4876، وأحمد 1651، والبزار 1264.]
حضرت سعید بن زید نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کی عزت اور آبرو کے معاملے میں زبان درازی کرنا سود کی ایک بدترین قسم ہے۔

✿ «عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: أربى الربا استطالة المرء فى عرض أخيه المسلم.» [حسن: رواه أبو القاسم الأصبهاني فى الترغيب والترهيب 588]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کا اپنے مسلمان بھائی کی عزت اور آبرو کے معاملے میں زبان درازی کرنا بد ترین سود ہے۔
——————

«باب المؤمن يغلب شيطانه»
مومن اپنے شیطان پر غالب آتا ہے۔
✿ «عن أبى هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إن المؤمن لينضي شياطيه كما ينضي أحدكم بعيره فى السفر.» [حسن: رواه أحمد 8940.]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا مومن اپنے شیاطین پر غالب آتا ہے جیسے تم میں سے کوئی سفر میں اپنے اونٹ پر غالب آتا ہے۔
——————

« باب لا يلدغ المؤمن من جحر مرتين »
مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا
✿ « عن ابي هريرة رضي الله عنه، عن النبى صلى الله عليه وسلم انه قال:” لا يلدغ المؤمن من جحر واحد مرتين”.» [متفق عليه: رواه البخاري 6133، ومسلم 2998.]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔
——————

«باب أن المؤمن غر كريم»
مومن بھولا بھالا شریف ہوتا ہے
✿ «عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال النبى صلى الله عليه وسلم المؤمن غر كريم والفاجر خب لئيم.» [حسن: رواه أبو يعلى 6008، والطحاوي فى شرح المشكل 3128، 3129، والحاكم 43/1]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن بھولا بھالا شریف ہوتا ہے اور فاجر دغاباز، فریبی، کم ظرف ہوتا ہے۔
——————

« باب أن المؤمن مألف »
مومن مانوس ہونے والا ہوتا ہے۔
✿ «عن أبى هريرة رضى الله عنه أن النبى صلى الله عليه وسلم قال المؤمن مألف ولا خير فيمن لا يألف ولا يؤلف. » [حسن: رواه أحمد 9198، والبزار 8919.]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مومن مانوس ہونے والا ہوتا ہے۔ اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو کسی سے مانوس نہیں ہوتا اور نہ لوگ اس سے مانوس ہوتے ہیں۔
——————

« باب تشميت العاطس»
چھینکنے والے کا جواب
✿ « عن البراء رضى الله عنه , قال:” امرنا النبى صلى الله عليه وسلم بسبع ونهانا عن سبع، امرنا: باتباع الجنائز , وعيادة المريض , وإجابة الداعي , ونصر المظلوم , وإبرار القسم , ورد السلام , وتشميت العاطس……… الحديث» [متفق عليه: رواه البخاري 1239، ومسلم 3:2066 .]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنازے میں شرکت کرنے، مریض کی عیادت کرنے، دعوت قبول کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، قسم کو پورا کرنے، سلام کا جواب دینے اور چھینکنے والے کا جواب دینے کا حکم فرمایا۔
——————

« باب إذا عطس كيف يشمت »
چھینک کا جواب کیسے دیا جائے۔
عن ابي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:” إذا عطس احدكم فليقل الحمد لله، وليقل له اخوه او صاحبه يرحمك الله، فإذا قال له: يرحمك الله، فليقل يهديكم الله ويصلح بالكم”. [صحيح رواه البخاري 6224.]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینک دے تو «الحمد لله» (سب تعریف اللہ کے لیے ہے) کہے۔ اس کا بھائی یا ساتھی اس کے جواب میں کہے : «يرحمك الله» (اللہ تم پر رحم فرمائے)۔ جب اس کے حق میں «يرحمك الله»کہے تو چھینک دینے والے کو یھدیکم الله ويصلح بالكم (اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمھارے حالات درست فرمادے) کہنا چاہیے۔
——————

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل