عورت کا مردوں کے ساتھ مل کر کام کرنا

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ

عورتوں کے دین اور عقل میں کمی کا مطلب
——————
سوال : «النساء ناقصات عقل ودين» ”عورتیں دین اور عقل میں کم ہوتی ہیں۔“ یہ حدیث شریف ہم ہمیشہ سنتے رہتے ہیں۔ بعض لوگ اس حدیث کو بنیاد بنا کر عورتوں کے بارے میں غلط رویہ اپناتے ہیں۔ ہم جناب سے اس حدیث کے مفہوم کی وضاحت چاہیں گے۔
جواب : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلم کا ارشاد ہے :
«ما رأيت من ناقصات عقل ودين أغلب للب الرجل الحازم من إحداكن، فقيل : يا رسول الله صلى الله عليه وسلم ما نقصان عقلها ؟ قال أليست : شهادة المرأتين بشهادة رجل ؟ قيل : يا رسول الله ما نقصان دينها ؟ قال أليست إذا حاضت لم تصل ولم تصم ؟» [رواه البخاري 1/ 83 والذهبي 20]
”میں نے عقل اور دین میں کم اور ایک دانا آدمی کی عقل پر غالب آنے والیاں تم سے بڑھ کر نہیں دیکھیں۔ دریافت کیا گیا یا رسول اللہ ! اس کی عقل میں کمی کیسے ہے ؟ فرمایا : کیا دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر نہیں ہے ؟ پھر پوچھا: گیا یا رسول اللہ ! اس کے دین میں کمی کیسے ہے ؟ فرمایا : کیا ایسا نہیں ہے کہ وہ دوران حیض نماز پڑھتی ہے نہ روزے رکھتی ہے ؟“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرما دی ہے کہ عورت کا ناقص عقل ہونا اس کی قوت حافظہ میں کمی کی وجہ سے ہے۔ اس کی گواہی دوسری عورت کی گواہی کے ساتھ مل کر مکمل ہو گی۔ اس طرح اس کی گواہی مضبوط ہو گی کیونکہ عورت کبھی بھول بھی سکتی ہے۔ بھول کر گواہی میں اضافہ بھی کر سکتی ہے۔ جہاں تک اس کے دین میں نقص کا تعلق ہے تو وہ اس بناء پر ہے کہ عورت حیض اور نفاس کے دوران نماز روزہ چھوڑ دیتی ہے۔ بعد ازاں روزوں کی قضاء تو دیتی ہے جبکہ نماز کی قضاء دینے کی مکلف نہیں۔ لیکن بہ نقص قابل مواخذہ نہیں ہے۔ یہ نقص صرف اللہ تعالیٰ کی شریعت کی رو سے ہے اور صرف اس کی آسانی اور سہولت کے پیش نظر ہے، کیونکہ حیض اور نفاس کے دوران روزہ رکھنا اس کے لئے نقصان دہ ہے۔ لہٰذا رحمت باری کا تقاضا ہوا کہ وہ ان ایام میں روزہ رکھنا چھوڑ دے۔ حیض کے دوران اس کی حالت طہارت سے مانع ہوتی ہے، تو رحمت الہٰی نے یہاں بھی اس کے ترک نماز کو مشروع قرار دے دیا۔یہی حکم نفاس کا ہے۔ پھر نماز کے بارے میں حکم دیا کہ اس کی قضاء بھی نہیں ہو گی کیونکہ نماز دن رات میں پانچ بار ادا کرنا ہوتی ہے لہٰذا اس کی قضاء میں عورت کے لیے بڑی مشقت ہے۔ حیض کے دن سات یا آٹھ بھی ہو سکتے ہیں جبکہ نفاس کی مدت چالیس دن تک بھی ہو سکتی ہے تو چونکہ نمازوں کی تعداد کافی زیادہ ہوتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس پر رحمت اور احسان کرتے ہوئے نماز کو یکسر معاف فرما دیا ہے۔ نہ تو اسے ادا کرے گی اور نہ ہی اس کی قضاء دے گی۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ عورت ہر اعتبار سے ناقص عقل و دین ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت فرما دی ہے کہ عورت میں نقص عقل عدم ضبط کی بناء پر ہے جبکہ نقص دین حیض و نفاس کے دوران نماز روزہ چھوڑنے کی وجہ سے ہے۔ اس سے یہ ہرگز لازم نہیں آتا کہ وہ ہر پہلو میں مرد سے کم تر اور مرد ہر اعتبار سے برتر ہے۔ ہاں بحیثیت مجموعی کئی اسباب کی بناء پر جنس مرد جنس عورت سے افضل ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
«الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّـهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ» [4-النساء:34]
”مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس لئے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس لئے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کئے۔“
عورت بعض اوقات کئی چیزوں میں مرد پر فوقیت حاصل کر لیتی ہے بے شمار خواتین عقل، دین اور ضبط میں کئی مردوں سے بڑھ کر ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی رو سے عورتیں صرف ان دو حیثیتوں سے عقل و دین میں ناقص ہیں۔
نیک اعمال، تقوی و طہارت اور اخروی منازل کے اعتبار سے عورتیں کبھی بہت سے مردوں پر سبقت لے جاتی ہیں اسی طرح عورتوں کو بعض معاملات میں خاصی دلچسپی ہوتی ہے جس کی بناء پر وہ کئی مردوں سے حفظ و ضبط میں بڑھ جاتی ہیں اور وہ تاریخ اسلام اور دیگر کئی امور میں مرجع کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ جو شخص عہد نبوی اور بعد کی خواتین کے حالات کا بغور مطالعہ کرے گا تو اس پر مذکورہ بالا حقیقت آشکارا ہو جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ مخصوص قسم کا نقص اس پر اعتماد فی الروایۃ سے مانع نہیں ہے۔ اسی طرح اگر اس کی گواہی دوسری عورت کے ساتھ مل کر مکمل ہو جائے تو معتبر ہو گی۔ اگر عورت دین میں استقامت کا مظاہرہ کرے تو وہ مقام تقوی پر فائز ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نیک اور پاکباز بندوں میں شامل ہو سکتی ہے، اگرچہ حیض و نفاس کی صورت میں اس سے نماز ہر اعتبار سے اور روزہ اداء کے اعتبار سے ساقط ہو جاتا ہے۔ تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ تقوی و طہارت، دینی اور دنیوی معاملات و فرائض کی ادائیگی اور دیگر معاملات میں بھی ناقص عقل و دین ہے۔ یہ نقص صرف عقل اور دین کے خاص حوالوں کے پیش نظر ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت فرما دی ہے۔
لہٰذا کسی مومن کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ ہر اعتبار سے عورت پر ناقص عقل و دین ہونے کی تہمت لگائے۔ عورت ذات سے انصاف کرنا چاہئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی بہترین اور خوبصورت توجیح کرنی چاہئے۔
——————
شیخ ابن باز

مبنی برحقیقت خوش طبعی میں کوئی حرج نہیں
——————
سوال 2 : خوش طبعی کا کیا حکم ہے ؟ کیا یہ لہو الحدیث کے ضمن میں آتی ہے ؟ یہ صراحت ضروری ہے کہ ہمارا سوال ایسی خوش طبعی کے بارے میں ہے جس میں دین کا استہزاء نہیں ہوتا۔
جواب : اگر خوش طبعی مبنی برحقیقت ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ خاص طور پر اگر اس میں بہتات بھی نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوش طبعی فرمایا کرتے تھے اور خلاف واقعہ کوئی بات نہ کرتے، رہی ایسی خوش طبعی جو جھوٹ سے عبارت ہو تو وہ جائز نہیں ہے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
«ويل للذى يحدث فيكذب ليضحك به القوم، ويل له ثم ويل له» [سنن أبى داؤد، سنن ترمذي وسنن نسائي]
”اس آدمی کے لئے بربادی ہے ! جو لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے۔ اس کے لئے بربادی ہے۔ پھر اس کے لئے بربادی ہے۔“
——————
شیخ ابن باز

سات آدمیوں والی حدیث مردوں کے ساتھ خاص نہیں
——————
سوال : سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سایہ کے علاوہ اور کوئی سایہ نہ ہو گا کیا یہ حدیث مردوں کے ساتھ خاص ہے یا ان جیسے اعمال بجا لانے والی عورتیں بھی اس اجر کی مستحق ہو سکتی ہیں ؟
جواب : مذکورہ بالا حدیث میں مذکور اجر صرف مردوں کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ یہ مردوں اور عورتوں سب کے لئے عام ہے۔ لہٰذا وہ نوجوان لڑکی جس نے بچپن سے ہی اللہ کی بندگی میں نشوونما پائی وہ بھی اس اعزاز کی مستحق ہے۔ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک دوسری سے محبت کرنے والی عورتیں بھی اس میں داخل ہیں۔ وہ خاتون جسے خوبصورت اور صاحب منصب نوجوان نے دعوت گناہ دی اور اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں اللہ سے ڈرتی ہوں تو وہ بھی اس اجر و ثواب کی مستحق ہے۔ جس عورت نے اپنی پاکیزہ کمائی سے اس طرح مخفی صدقہ کیا کہ بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چل سکا کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے تو وہ بھی اس تکریم کی حقدار ہو گی۔ اسی طرح جس عورت نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور رو دی تو وہ بھی مردوں کے لیے بیان کئے گئے۔ ثواب کی حقدار ہو گی۔ رہی امارت تو وہ مردوں کا خاصہ ہے۔ اسی طرح مساجد میں باجماعت نماز ادا کرنا بھی مردوں کے لئے مخصوص ہے۔ عورت کا گھر میں نماز پڑھنا اس کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
——————
شیخ ابن باز

عورت کی ڈرائیونگ کا حکم
سوال : عورت کا گاڑی چلانا کیا حکم رکھتا ہے ؟
——————
جواب : اس کے ناجائز ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، کیونکہ اس سے بے شمار خرابیاں اور خطرناک نتائج جنم لیتے ہیں، مثلا مرد و زن کا بے باکانہ اختلاط ایسی ممنوع چیزوں کا ارتکاب جن کی بناء پر ایسے امور کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ شریعت مطہرہ نے حرام تک پہنچانے والے تمام و سائل و اسباب کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ اللہ عزوجل نے ازواج مطہرات اور مومن عورتوں کو گھروں میں رہنے پردہ کرنے اور غیر محرم مردوں کے سامنے اظہار زینت سے منع فرمایا ہے۔ کیونکہ یہ سب کچھ اس اباحیت کا پیش خیمہ ہے جو کہ مسلم معاشرہ کے لئے تباہ کن ہے۔ اس کے متعلق ارشاد ہوتا ہے۔
«وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ» [33-الأحزاب:33]
”اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیمی جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرو اور نماز کی پابندی کرو اور زکوۃ دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔“
دوسری جگہ فرمایا :
«يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ» [33-الأحزاب:59]
”اے نبی ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور عام مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیجئے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی۔“
مزید ارشاد ہوتا ہے :
«وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [24-النور:31]
”مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے بیٹوں کے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں اور عورتیں اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کو پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے۔ اے مسلمانو ! تم سب کے سب اللہ تعالیٰ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔“
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«ما خلا رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان» [رواه أحمد1/ 222]
”نہیں خلوت میں جاتا کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ مگر تیسرا شیطان ہوتا ہے۔“
شریعت مطہرہ نے رزائل کا ذریعہ بننے والے تمام وسائل کے اپنانے سے منع کیا ہے۔ اس میں بدکاری سے ناواقف پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا بھی شامل ہے، شریعت نے اس کی انتہائی سنگین سزا مقرر کیا ہے تاکہ مسلم معاشرے کو غلط کاری کے اسباب عام ہونے سے بچایا جائے اور یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ عورت کا گاڑی چلانا بھی ان اسباب میں سے ایک ہے۔ لیکن شرعی احکام سے عدم واقفیت اور برے انجام سے بے خبری کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شرعی منکرات کا سبب بنے والے امور سے کوتاہی برتی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ اکثر لوگ دلی روگ کا شکار ہونے، اباحیت کا دلدادہ بننے اور اجنبی عورتوں کے نظارے سے لطف اندوز ہونے لگتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس پر خطر وادی میں بلا سوچے سمجھے کود پڑنے اور خطرناک نتائج سے لاپرواہی کا رویہ اپنانے کا نتیجہ ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
« قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّـهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ» [7-الأعراف:33]
”آپ فرما دیجئے کہ میرے رب نے تو صرف ان تمام فخش باتوں کو حرام قرار دیا ہے، جو علانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اور ہر گناہ کی بات کو اور ناحق کسی پر ظلم و زیادتی کرنے کو اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ذمے ایسی بات لگا دو جس کی تم سند ہی نہ رکھو۔“
نیز فرمایا :
«وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ٭ إِنَّمَا يَأْمُرُكُمْ بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ» [2-البقرة:168]
”اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے وہ تو تمہیں صرف برائی اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے اور اس بات کا کہ تم اللہ پر ایسی باتیں گھڑ لو جن کا تمہیں علم نہیں۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
«ما تركت بعدي فنتة أضر على الرجال من النساء» [رواه البخاري و مسلم فى كتاب الذكر والدعاء باب 29]
”میں نے اپنے پیچھے ایسا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا جو مردوں کے لئے عورتوں سے زیادہ خطرناک ہو۔“
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں دریافت کیا کرتے، جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے متعلق دریافت کرتا، اس خوف کے پیش نظر کہ کہیں وہ مجھے پا نہ لے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم جاہلیت اور شر میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہم کو یہ خیر (اسلام) عطا فرمائی، کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں، میں نے پھر عرض کیا : اس شر کے بعد پھر خیر آۓ گی ؟ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں، اور اس میں کچھ فساد بھی ہو گا۔ میں نے کہا: اس کا فساد کیا ہے ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو بغیر ہدایت کے ھادی ہوں گے۔ تو ان سے کچھ اچھی چیزیں دیکھے گا اور کچھ بری بھی۔ میں نے پھر کہا: کیا اس خیر کے بعد شر آئے گا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں جہنم کے دروازوں پر کچھ داعی ہوں گے جو ان کی دعوت پر لبیک کہے گا وہ اسے جہنم میں پھینک دیں گے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہمیں ان کا تعارف
کرائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ہم سے ہوں گے۔ ہماری زبان میں گفتگو کریں گے۔ میں نے کہا: اگر یہ وقت مجھے پا لے تو آپ مجھے کیا حکم دیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے وابستہ رہنا۔ میں نے کہا: اگر ان کا امام اور جماعت نہ ہو تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان تمام فرقوں سے الگ ہو جانا اگرچہ مجھے کسی درخت کے تنے کے ساتھ چمٹنا پڑے یہاں تک کہ تجھے اسی حالت میں موت آ جائے۔“ [صحيح بخاري وحيح مسلم]
میں تمام مسلمانوں کو اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ وہ اپنے قول و عمل میں تقوی پیدا کریں۔ فتنہ اور اس کی طرف دعوت دینے والوں سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنے والے تمام امور سے اجتناب کریں، ہر مسلمان اس بارے میں مکمل احتیاط کرے کہ اس کا شمار ان لوگوں میں نہ ہونے پائے جن کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فتنوں اور فتنہ پرستوں سے محفوظ فرمائے۔ امت مسلمہ کے دین کا تحفظ فرمائے اور بدی کا پرچار کرنے والوں سے اسے حفظ و امان میں رکھے۔ ادیب اور صحافی حضرات اور تمام مسلمانوں کو اپنے پسندیدہ اعمال بجا لانے، مسلمانوں کے امور کی اصلاح اور دین و دنیا میں ان کی کامیابی کے حصول کی توفیق عطا فرمائے۔
«وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم»
——————
شیخ ابن باز

عورت کا مردوں کے ساتھ مل کر کام کرنا
——————
سوال : عورت کا مردوں کے ساتھ مل کر کام کرنا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے ؟
جواب : یہ بات طے شدہ ہے کہ عورت کا مردوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے میدان عمل میں اترتا مذموم اختلاط اور خلوت کا سبب بنتا ہے اور یہ انتہائی خطرناک بات ہے۔ اس کے نتائج خطرناک اور پھل کڑوا ہوتا ہے اور انجام انتہائی برا اور ناپسندیدہ ہوتا ہے۔ عورتوں کا مردوں کے ساتھ میدان عمل میں اترنا ان قرآنی آیات (احکام) سے متصادم ہے جو عورت کا دائرہ عمل گھر کی چار دیواری تک محدود بناتی ہیں اور اسے ایسے اعمال بجا لانے کی تلقین کرتی ہیں جن کے لئے عورت کی تخلیق ہوئی اور جو اس کے ساتھ مخصوص ہیں اس طرح ہی وہ مردوں کے ساتھ اختلاط سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ ایسے صحیح اور صریح دلائل و براہین جو اجنبی عورتوں سے خلوت اپنانے، انہیں دیکھنے، شرعی محرمات کے وسائل و اسباب کے ارتکا ب کو حرام قرار دیتے ہیں مکم اور کثیر تعداد میں ہیں جو کہ انجام بد سے دوچار کرنے والے مرد و زن کے اختلاط کے حرام ہونے کے بارے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ ان دلائل میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں :
«وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ٭ وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّـهِ وَالْحِكْمَةِ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا» [33-الأحزاب:33]
”(اے نبی کی بیویو !) اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیمی زمانہ جاہلیت کی طرح اپنے بناؤ سنگار نہ دکھاتی پھرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوۃ دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو۔ اے نبی کی بیویو ! اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ تم سے وہ ہر قسم کی گندگی و پلیدی کو دور کر دے اور تمہیں(ہر طرح سے) خوب پاک صاف کر دے۔ تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور رسول کی جو حدیثیں پڑھی جاتی ہیں یاد رکھو۔ یقیناًً اللہ تعالیٰ مخفی سے مخفی بات تک کو جانے والا ہے۔“
نیز فرمایا :
«يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَحِيمًا» [33-الأحزاب:59]
”اے نبی ! اپنی بیویوں سے، اپنی صاجزادیوں اور عام مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ د یجئیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں۔ اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی، پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔“
مزید ارشاد ہوتا ہے :
«قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ٭ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ» [24-النور:30]
”(اے نبی !) ایمان والوں سے کہہ دیجئیے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہی ان کے لئے پاکیزگی ہے۔ لوگ جو کچھ کرتے ہیں یقیناًً اللہ تعالیٰ کو سب کچھ کی خبر ہے اور آپ مسلمان عورتوں سے فرما دیجئیے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے۔“
ایک اور جگہ پر ہے :
«وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ» [33-الأحزاب:53]
”اور تم جب ان (ازواج مطہرات) سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے۔“
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«إياكم والدخول على النساء، قيل يا رسول الله صلى الله عليه وسلم : أفرأيت الحمو ؟ قال : الحمو الموت» [رواه الترمذي فى كتاب الرضاع وأحمد 4/ 49]
”اپنے آپ کو (اجنبی) عورتوں کے پاس جانے سے بچاؤ، پوچھا گیا یا رسول اللہ ! خاوند کے بھائی کے متعلق کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تو موت ہے۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلم نے اجنبی عورت کے ساتھ اختلاط سے مطلقاً منع کرتے ہوئے فرمایا :
«إن ثالثهما الشيطان»
”ان کا تیسرا شیطان ہوتا ہے۔“
عورت کو اجنبی مرد کے ساتھ سفر کرنے سے منع فرمایا تاکہ فساد کا سدباب کیا جا سکے، گناہ کا دروازہ بند ہو اور شر کے اسباب کا خاتمہ کیا جا سکے اور دونوں کو شیطانی مکاریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«اتقوا الدنيا واتقوا النساء، فإن أول فنتة بني إسرائيل كانت فى النساء»
دنیا سے بچو ! اور عورتوں سے بچو ! اس لئے کہ بنی اسرائیل میں پہلا فتنہ عورتوں کی وجہ سے ہوا۔
«ما تركت بعدي فنتة أضر على الرجال من النساء» [رواه مسلم فى كتاب الذكر والدعاء باب 29]
”میں نے اپنے بعد اپنی امت میں مردوں کے لئے عورتوں سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔“
مذکورہ بالا آیات مبارکہ اور احادیث نبویہ اس امر کی واضح دلیل ہیں کہ ایسے اختلاط سے دور رہنا ضروری ہے جو کہ فتنہ و فساد کو جنم دیتا ہو۔ خاندانوں کو تباہ کرتا ہو اور معاشرے کو برباد کرنے کا سبب بنتا ہے۔ جب ہم بعض اسلامی ممالک میں عورت کی حیثیت کا مشاہدہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ گھر سے باہر نکلنے اور اپنی فطری ذمہ داریوں سے ہٹ کر دیگر کاموں میں مشغول ہونے کی بناء پر ذلت و پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں گر چکی ہے مغرب اور مغرب کے مقلد ممالک میں بعض دانشور اب دوبارہ عورت کو اس کے اس فطری دائرہ عمل میں لانے کے لئے نعرہ زن ہیں۔ وہ فطری کردار و عمل جس کے لئے قدرت نے اس کی تخلیق کی اور جس کے لئے جسمانی و عقلی طور پر اس کی ترکیب فرمائی، لیکن یہ وقت بیت جانے اور سب کچھ کھونے کے بعد ہو رہا ہے۔
اگر خواتین گھریلو کام کاج میں حصہ لیں، درس و تدریں اور عورتوں سے متعلق دیگر شعبہ ہائے حیات میں کام کریں تو انہیں مردوں کے ساتھ مصروف عمل ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں رہے گی۔ ہم اللہ رب العزت کے حضور دعاگو ہیں کہ وہ تمام بلاد اسلامیہ کو دشمنان اسلام اور ان کے تباہ کن منصوبوں سے محفوظ فرمائے۔ تمام ذمہ داران اور اصحاب قلم و قرطاس کو اس امر کی توفیق بخشے کہ وہ ایسے امور کی طرف مسلم عوام کی راہنمائی کریں جو دین و دنیا میں ان کے معاملات کی اصلاح کر سکیں۔ وہ اپنے رب کے احکام کو نافذ کریں جو ان کا خالق ہے اور انکی بھلائی سے بخوبی آگاہ ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام دیار اسلام کے ذمہ دار حضرات کو ہر وہ کام کرنے کی توفیق ارزاں فرمائے جس میں بندگان رب اور بلاد اسلامیہ کا بھلا ہو۔ ان کے معاش اور معاد کے معاملات کی درستگی ہو۔ وہ ہم سب کو، جملہ اہل اسلام کو اور مسلم حکمرانوں کو گمراہ کن فتنوں اور اپنی ناراضگی کے اسباب سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین۔ «انه ولي ذلك والقادر عليه .»
——————
شیخ ابن باز

عورت کا نشی خاوند کے ساتھ رہنا
——————
سوال : میرے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ خاوند نشے کا عادی ہے۔ اس جرم کی پاداش میں وہ پہلے قید بھی رہا ہے۔ وہ رائمی شرابی ہے۔ اس نے مجھے اور میرے بچوں کو عذاب سے دو چار کئے رکھا۔ اب اس نے مجھے طلاق دے دی ہے اور میں اپنے بچوں سمیت والدین کے ہاں مقیم ہوں۔ وہ ہم پر کچھ بھی خرچ نہیں کرتا اور مجھے اس کے پاس دوبارہ جانے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ وہ مجھ سے بچے چھین لینے کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے، جبکہ میں ایک ماں ہونے کے حوالے سے اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اس بارے میں میری راہنمائی فرمائیں۔
جواب : یہ قضیہ شرعی عدالتوں سے تعلق رکھتا ہے۔ عادی شراب نوش کے ساتھ رہنا ناروا ہے۔ ایسا شخص بیوی بچوں کے لئے ضرر رساں ہے اس سے دور ہی رہنا چاہئے۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت نصیب فرما دے اور وہ اپنی اصلاح کرے تو دوسری بات ہے۔ اگر عدالت میاں بیوی کے درمیان تفریق کرا دے تو غالباً وہ بچوں کو ماں کے حوالے کرے گی اس لئے کہ ماں اس کی اہل ہے اور شرابی باپ نااہل۔ جب تک اس میں شراب نوشی کی عادت موجود ہے وہ بچوں کو اپنی تحویل میں لینے کا اہل نہیں کیونکہ اس طرح وہ ان کے ضیاع اور بربادی کا باعث بنے گا۔ دریں حالات عورت آدمی سے بڑھ کر بچوں کی حقدار ہے چاہے وہ بچیاں ہی کیوں نہ ہوں ؟ بظاہر عدالتوں کا فیصلہ یہی ہونا چاہئے اور واجب بھی یہی کچھ ہے کہ بچے ماں کے پاس رہیں کیونکہ وہ باپ سے بہتر ہے۔ جبکہ ان کا باپ فاسق ہے اگر عورت خاوند سے رجوع نہ کرنا چاہے تو یہ امر مستحسن ہے کیونکہ وہ خطرات سے دوچار رہے گی۔ یہ تو اس صورت میں ہے کہ وہ جملہ کو تاہیوں کے باوجود نماز پڑھتا ہو لیکن اگر وہ نماز نہیں پڑھتا تو اس صورت میں عدم رجوع واجب ہے۔ کیونکہ تارک صلوۃ کافر ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
«العهد الذى بيننا وبينهم الصلاة، فمن تركها فقد كفر» [ترمذي]
ہمارے اور ان (کفار) کے درمیان نماز حد فاصل ہے جس نے نماز کو چھوڑ دیا اس نے یقیناًً کفر کیا۔ لہٰذا تارک نماز سے الگ رہنا واجب ہے۔
ارشاد قرآنی ہے :
«لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ» [60-الممتحنة:10]
”وہ (مومن عورتیں) کافروں کے لئے حلال نہیں اور نہ وہ کافر ان مومن عورتوں کے لئے حلال ہیں۔“
اللہ تعالیٰ اگر اسے ہدایت نصیب فرما دے اور وہ تائب ہو جائے تو دوسری بات ہے اس سے قبل عورت اپنے میکے جا سکتی ہے یا خاوند سے الگ اپنے بچوں کے پاس رہ سکتی ہے۔
اگر وہ نماز پڑھتا ہے اور شراب بھی پیتا ہے تو یہ ایک عظیم گناہ اور سنگین جرم ہے، لیکن وہ کافر نہیں بلکہ فاسق ہے اس بناء پر بیوی کو خاوند سے انکار کرنے اور گھر سے نکل جانے کی اجازت ہے وہ معذور سمجھی جائے گی اور اگر وہ صبر کر سکے تو ساتھ رہنے میں کوئی حرج نہیں۔
——————
شیخ ابن باز

انحراف پسند رسائل و جرائد کے اجراء، ان میں کام کرنے، ان کے خریدنے اور تقسیم کرنے کا حکم
——————
سوال : ایسے رسائل و جرائد جو عورتوں کی ننگی اور عشقیہ تصاویر نیز اداکاروں اور اداکاراؤں کی خبریں شائع کرنے کا اہتمام کرتے ہیں ان کے اجراء کا کیا حکم ہے ؟ نیز ایسے رسائل کے ورکروں خریداروں اور تقسیم کاروں کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے ؟
جواب : خواتین کی تصاویر شائع کرنے والے، زنا کاری، فحش کاری لواطت اور نشہ آور اشیاء کے استعال کی دعوت دینے والی تصاویر پر مشتمل رسائل و جرائد کا اجراء جائز نہیں ہے۔ ایسے رسائل میں کام کرنا بھی جائز نہیں ہے وہ کتابت کی صورت میں ہو یا ترویج وغیرہ کی صورت میں کیونکہ یہ سب کچھ گناہ اور عدوان پر تعاون کرنے، زمین میں فتنہ و فساد برپا کرنے، معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے اور اخلاق رزیلہ کی دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
«وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ» (5-المائدة:2)
”نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو اور گناہ اور عدوان پر تعاون نہ کرو اور اللہ سے ڈر جاؤ یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب والا ہے۔“
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
«من دعا إلى هدى كان له من الأجر مثل أجور من تبعه، لا ينقص ذلك من أجورهم شيئا، ومن دعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه، لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا» [صحيح مسلم، كتاب العلم16]
”جو شخص ہدایت کی طرف دعوت دے تو اسے اس ہدایت پر عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا۔ اس کا یہ اجر ان کے اجر سے کچھ کم نہ کرے گا۔ اور جو شخص گمراہی کی طرف دعوت دے تو اس پر اس گمراہی پر عمل کرنے والوں کے برابر گناہ ہو گا۔ اس کا یہ گناہ ان کے گناہوں سے کچھ کم نہ ہو گا۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«صنفان من أهل النار لم أرهما بعد : رجال بأيديهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس، ونساء كاسيات عاريات مائلات ميلات، رؤوسهن كأسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها، وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا » [صحيح مسلم، كتاب الجنة والنار 52]
”دوزخیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جنہیں میں نے ابھی تک نہیں دیکھا۔ ایک وہ لوگ کہ ان کے ہاتھوں میں گائے کی دم جیسے کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے۔ دوسرے وہ عورتیں جو لباس پہن کر بھی ننگی ہوں گی (یعنی چست اور باریک لباس پہنے والی)) ((گناہ کی طرف) مائل ہونے والی اور مائل کرنے والی ان کے سر بختی اونٹوں کی جھکی ہوئی کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی، حالانکہ اس کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے پائی جاتی ہے۔“
اس مفہوم کی کئی ایک آیات مبارکہ اور احادیث وارد ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور دعاگو ہیں کہ وہ مسلمانوں کو ایسے کام کرنے کی توفیق دے جن میں ان کی اصلاح اور کامیابی کا سامان ہو۔ ذرائع ابلاغ اور صحافتی سرگرمیوں کے ذمہ دار حضرات کو ایسے امور بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے جو مسلم معاشرہ کی سلامتی اور نجات کے ضامن ہوں۔ انہیں ان کے نفس کی شرارتوں اور شیطانی جالوں سے محفوظ رکھے کہ وہ بڑا سخی اور کریم ہے۔
——————
شیخ ابن باز

انحراف پسند رسائل و جرائد کے مطالعہ کا حکم
——————
سوال : انحراف پسند رسائل و جرائد کا مطالعہ کرنے والی خواتین کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
جواب : ہر مکلف مرد و عورت پر بدعت و ضلالت سے بھرپور کتابوں اور خرافات و واہیات کے علمبردار رسائل و جرائد کا مطالعہ کرنا حرام ہے۔ ایسے تمام اخبارات و رسائل جو جھوٹ کے پیامبر اور اخلاق فاضلہ کے انحراف کا ارتکاب کرتے ہوں ناقابل مطالعہ ہیں۔ ہاں جو شخص ایسے رسائل و جرائد میں موجود دینی انحراف اور الحاد و بےدینی کا رد کرے اور لوگوں کو استقامت کی راہ پر گامزن کرنے کی سعی کرے، تو وہ ایسے مواد کا مطالعہ کر سکتا ہے تاکہ وہ عوام کو اس شر سے آگاہ کر سکے اور ان کی غلط روش کی تردید کر سکے۔
——————
دار الافتاء کمیٹی

قرآن ہی نعم البدل ہے
——————
سوال : محترم ! آپ ان لوگوں کو کیا نصیحت کرنا چاہیں گے جو کئی ماہ تک بغیر کسی شرعی عذر کے قرآن مجید کو ہاتھ تک نہیں لگاتے ؟ جبکہ غیر مفید اخبارات و رسائل کا مطالعہ باقاعدگی سے کرتے رہتے ہیں۔
جواب : اہل ایمان خواتین و حضرات کے لئے تفکر و تدبر کے ساتھ کثرت سے تلاوت کلام پاک کرنا مسنون ہے، چاہے زبانی پڑھے یا قرآن مجید سے دیکھ کر، بہرحال اس کی تلاوت ضرور کرنی چاہیئے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
«كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29]
”یہ (قرآن) ایک بابرکت کتاب ہے، جس کو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں اور تاکہ عقل والے نصیحت حاصل کریں۔“
اسی طرح ارشاد ہے :
«إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّـهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ ﴿٢٩﴾ لِيُوَفِّيَهُمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ إِنَّهُ غَفُورٌ شَكُورٌ» [35-فاطر:29]
”بے شک وہ لوگ جو کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے رہتے ہیں، وہ ایسی تجارت کی آس لگائے بیٹھے ہیں جو کبھی ماند نہ پڑے گی تاکہ وہ انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا حصہ دے اور اپنے فضل سے کچھ زائد بھی دے، بے شک وہ بڑا بخشنے والا اور قدر دان ہے۔“
مذکورہ بالا آیت تلاوت کرنے اور عمل کرنے دونوں سے عبارت ہے۔ خلوص دل سے، تدبر اور تفکر کے ساتھ تلاوت کرنا اتباع کا ایک ذریہ اور اجر عظیم کا باعث ہے۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«اقرؤوا القرآن، فإنه يأتي شفيعا لأصحابه يوم القيامة» [صحيح مسلم، صلاة المسافرين 252]
”قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اصحاب قرآن کے لئے سفارش کرے گا۔“
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا :
«خيركم من تعلم القرآن وعلمه» [صحيح البخاري]
تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن پڑھے اور پڑھائے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور ارشاد گرامی ہے :
«من قرأ حرفا من كتاب الله فله حسنة، والحسنة بعشر أمثالها، لا أقول (ألم) حرف، ولكن ألف حرف، ولام حرف، وميم حرف» [رواه الترمذي فى كتاب ثواب القرآن باب 16]
”جس شخص نے قرآن کا ایک حرف پڑھا اسے ایک نیکی ملے گی اور ایک نیکی دس گنا شکل میں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ (الم) ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے۔ لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا :
«اقرا القران فى كل شهر، فقال : إني أطيق أكثر من ذلك، فقال : اقرأه فى سبع» [صحيح البخاري فضائل القرآن، باب 34 وأبوداؤد ورمضان]
”ہر ماہ میں ایک بار مکمل قرآن پڑھا کرو انہوں نے کہا: میں اس سے زیادہ پڑھنے کی طاقت رکھتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سات دنوں میں پڑھ لے۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا معمول تھا کہ وہ سات دنوں میں قرآن مجید مکمل کر لیا کرتے تھے۔ میری تمام تلاوت قرآن کرنے والوں کو وصیت ہے کہ وہ تدبر و تفکر اور خلوص دل کے ساتھ بکثرت تلاوت قرآن کیا کریں اس کے ساتھ ہی ساتھ حصول علم اور فائدے کا بھی ارادہ کریں۔ وہ قرآن مجید کو ہر ماہ ختم کیا کریں اس سے کم مدت میں ختم کر سکیں تو یہ خیر کثیر ہے۔ سات دن سے کم مدت میں بھی ختم کیا جا سکتا ہے اور تین دن سے کم مدت میں ختم نہ کرنا زیادہ افضل ہے، کیونکہ یہ کم از کم مدت ہے جس کی تلقین نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو فرمائی تھی۔ نیز اس لئے بھی کہ اس سے کم مدت میں قرآن مجید ختم کرنا جلد بازی اور عدم تدبر کا باعث بن سکتا ہے۔
قرآن مجید بغیر طہارت کے دیکھ کر پڑھنا ناجائز ہے، جبکہ زبانی بلا وضوء پڑھنے میں کوئی حرج نہیں جہاں تک جنبی آدمی کا تعلق ہے تو وہ غسل کرنے تک نہ تو دیکھ کر پڑھ سکتا ہے اور نہ ہی زبانی اس لئے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
«كان النبى صلى الله عليه وسلم، لا يحجزه شيء عن القرآن سوى الجنابة » [رواه أحمد 84/1 وأبو داود و كتاب الطهارة باب 91]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنابت کے علاوہ کوئی چیز تلاوت قرآن سے نہیں روکتی تھی۔
——————
شخ ابن باز

موسیقی اور لچر قسم کے ٹی وی پروگراموں کا حکم
——————
سوال : موسیقی اور گانے سننے کا کیا حکم ہے ؟ نیز بےپردہ عورتوں پر مشتمل ٹی وی پروگرام دیکھنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب : اس کا حکم یہ ہے کہ یہ حرام اور منع ہے۔ اس لئے کہ یہ چیزیں اللہ کے دین کے راستے میں رکاوٹ ہیں، قلبی امراض کا سبب ہیں اور حرام کردہ فواحش و منکرات کے ارتکاب کا باعث ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتے ہیں :
«وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّـهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَـئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ ٭ وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ آيَاتُنَا وَلَّى مُسْتَكْبِرًا كَأَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِي أُذُنَيْهِ وَقْرًا فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» [31-لقمان:6]
”اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو خرافات اور لغو باتیں خریدتے ہیں تاکہ بے عملی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے ذلیل و رسوا کرنے والے عذاب ہیں جب اس کے سامنے ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تکبر کرتا ہوا اس طرح منہ پھیر لیتا ہے گویا اس نے سنا ہی نہیں گویا اس کے دونوں کانوں میں بوجھ ہے۔ آپ اسے دردناک عذاب کی خبر سنا دیجئیے۔“
یہ دونوں آیتیں اس امر کی دلیل ہیں کہ لہو و لعب اور آلات موسیقی کا سننا گمراہ ہونے، گمراہ کرنے آیات الٰہیہ کا مذاق اڑانے اور ان کے مقابلے میں استکبار کا باعث ہیں۔
——————
شیخ ابن باز

ایسے پروگرام سننے کا حکم جن کے دوران موسیقی بھی نشر ہو
——————
سوال : ریڈیو پر اخبارات کی آراء وغیرہ نشر ہونے کے دوران موسیقی بھی نشر ہوتی ہو تو ایسے پروگرام سنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب : ایسے پروگرام سننے اور ان سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جب موسیقی شروع ہو تو اس کے ختم ہونے تک ریڈیو بند کر دیا جائے اس لئے کہ موسیقی آلات لہو ولعب سے ہے۔
——————
شیخ ابن باز

ان کا کہنا ہے میں دقیانوسی خیالات کی حامل ہوں
——————
سوال : میں نوجوان لڑکی ہوں۔ دیگر طالبات کے ساتھ داخلی ہوٹل میں مقیم ہوں، اللہ تعالیٰ نے حق کی طرف میری راہنمائی فرمائی اور بحمد اللہ میں نے اس کا دامن تھام لیا، جب اپنے ارد گرد اور خاص طور پر بعض ساتھی طالبات میں کچھ معاصی اور منکرات کو دیکھتی ہوں مثلاً گانے سننا، غیبت کرنا اور چغلی کھانا وغیرہ تو شدید قسم کی ذہنی کوفت سے دو چار ہوتی ہوں۔ میں نے انہیں بہت سمجھایا مگر ان میں سے کچھ تو میرا مذاق اڑاتی ہیں اور کہتی ہیں میں پرانے خیالات کی حامل ایک دقیانوسی لڑکی ہوں دریں حالات مجھے کیا کرنا چاہئے ؟ میری راہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا
جواب : آپ پر حسب استطاعت اچھے انداز اور نرم لہجے میں ان کے ان اعمال کا انکار واجب ہے۔ اپنے علم کے مطابق اس بارے میں قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ دیں، ان کے ساتھ گانا سننے اور دیگر حرام اقوال و افعال میں شریک نہ ہوں اور امکانی حد تک ان سے الگ رہیں تا آنکہ وہ کسی اور بات میں مصروف نہ ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی بناء پر :
«وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ» [6-الأنعام:68]
”اور جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری نشانیوں کو مشغلہ بناتے ہوں تو ان سے کنارہ کش ہو جا یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔“
جب آپ حسب استطاعت ان کے غلط رویوں کا انکار کریں گی اور ان کے غیر پسندیدہ اعمال سے الگ رہیں گی تو آپ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو جائیں گی اور ان کا غیر شرعی امور کا ارتکاب کرنا اور آپ پر عیب دھرنا آپ کے لئے نقصان دہ نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
يَ «ا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ» [5-المائدة:105]
”اے ایمان والو ! تم اپنی ہی فکر کرو، جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ رہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں اللہ ہی کے پاس تم سب کو جانا ہے پھر وہ تم سب کو بلا دے گا جو کچھ تم سب کرتے تھے۔“
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے صراحت فرما دی ہے کہ بندۂ مومن جب حق کا التزام کرتے ہوئے ہدایت پر قائم رہے تو پھر کسی کی گمراہی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن جب وہ شری منکرات کا انکار کرتے ہوئے خود حق پر ثابت قدم رہے اور دوسروں کو خوبصورت انداز میں اس کی طرف دعوت دے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے لئے ضرور کوئی راستہ نکالے گا اور اگر صبر و استقامت کے ساتھ ان کی راہنمائی کرتی رہیں گی تو اللہ تعالیٰ انہیں اس سے ضرور فائدہ پہنچائے گا۔ ان شاء اللہ۔ اگر آپ حق پر ثابت قدم رہتے ہوئے غیر شری امور کی مخالفت کرتی رہیں گی تو آپ کے لئے بڑی نیکی اور اپنے انجام کی خوشخبری ہے۔ ارشاد ربانی ہے :
«وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» [7-الأعراف:128]
پرہیزگاروں کے لئے اچھا انجام ہے۔
نیز فرمایا :
«وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا» [29-العنكبوت:69]
”اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انہیں اپنے راستے ضرور دکھا دیتے ہیں۔“
اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے پسندیدہ اعمال بجا لانے کی توفیق دے اور صبر و استقامت سے نوازے۔ آپ کی بہنوں، اہل خانہ اور ساتھی طالبات کو بھی اپنے پسندیدہ اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ وہ سننے والا قریب ہے اور وہی سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرنے والا ہے۔
——————
شیخ ابن باز

غیبت اور چغل خوروں پر انکار سے شرمندگی
——————
سوال : میں ایک نوجوان لڑکی ہوں اور چغل خوری سے نفرت کرتی ہوں۔ کبھی ایسے لوگوں کے پاس بھی رہنا ہوتا ہے جو دوسرے لوگوں کے متعلق گفتگو کرتے کرتے غیبت گوئی تک پہنچ جاتے ہیں۔ میں اندر ہی اندر اسے ناپسند کرتے ہوئے کڑھتی رہتی ہوں مگر زیادہ شرمیلے پن کی وجہ سے انہیں ایسا کرنے سے روک نہیں پاتی اور نہ ہی ان سے دور جا سکتی ہوں، جبکہ میری تمنا یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ دوسری باتوں میں مصروف ہو جائیں۔ کیا اس دوران ان کے پاس بیٹھنے سے میں گناہ گار ہوں گی ؟ مجھے کیا کرنا چائے ؟
جواب : اگر آپ شرعی منکرات کا انکار نہیں کرتیں تو گناہ گار ہیں۔ آپ انہیں سمجھائیں اگر وہ آپ کی بات تسلیم کر لیں تو الحمد للہ، بصورت دیگر انہیں چھوڑ کر الگ ہو جانا ضروری ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
«وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ » [6-الأنعام:68]
”اور جب آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں عیب جوئی کر رہے ہیں تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہو جائیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔“
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
«من رأى منکم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيماني» [صحيح مسلم، كتاب الإيمان حديث 78]
”تم میں سے جو شخص بھی برائی کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان سے روکے اور اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو دل سے برا سمجھے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔“
اس مفہوم کی قرآنی آیات اور احادیث بکثرت وارد ہیں۔
——————
شیخ ابن باز

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت
——————
سوال : جب ہم غیبت اور چغل خوری سے روکنا چاہیں تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی وجہ سے وہ لوگ ہمیں برا بھلا کہتے ہیں اور ہم پر ناراض ہوتے ہیں چاہے وہ والدین ہی کیوں نہ ہوں تو کیا ان کی ناراضگی کی وجہ سے ہم گناہ گار ہوں گے ؟ کیا ہم منع کرتے رہیں یا انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں ؟
جواب : امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اہم ترین فرائض میں سے ایک ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
«وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ» [9-التوبة:71]
”اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کے رفیق اور دوست ہیں بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے رہتے ہیں۔“
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر مومن مردوں اور عورتوں کا ضروری وصف ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
«كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ» [3-آل عمران:110]
”تم بہترین جماعت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔“
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
«من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان» [صحيح مسلم، كتاب الإيمان حديث 78]
”تم میں سے جو شخص بھی برائی کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان سے روکے اور اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو دل سے برا سمجھے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔“
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام نہ دینے اور اس ذمہ داری کو نہ نبھانے والوں کی مذمت میں بہت ساری آیات اور احادیث وارد ہیں۔
لہٰذا آپ پر اور ہر مومن مرد و عورت پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر واجب ہے اگرچہ جنہیں تم روکتے ہو وہ ناراض ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر وہ تمہیں گالیاں دیں تو انبیاء علیہم السلام کی اقتداء میں صبر کریں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا :
«فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ» [46-الأحقاف:35]
”آپ صبر کیجئے جیسا کہ اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا تھا۔“
نیز فرمایا :
«وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الصَّابِرِينَ» [8-الأنفال:46]
”اور صبر کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔“
حضرت لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے کہا:
« يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ» [31-لقمان:17]
”میرے بیٹے نماز قائم کر اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور جو کچھ پیش آئے اس پر صبر کیا کر بے شک یہ (صبر) ہمت کے کاموں میں سے ہے۔“
اور یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ معاشرے کی اصلاح اور استقامت اللہ تعالیٰ کی نصرت اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے ہی ممکن ہے۔ معاشرتی بگاڑ اس کی ٹوٹ پھوٹ اور عموی عقوبت ایسی چیزوں کا ایک اہم ترین سبب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے اہم فریضے کا ترک ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«إن الناس إذا رأوا المنكر فلم يغيروه أوشك أن يعمهم الله بعقابه» [رواه أحمد 2/1]
”لوگ جب برائی کو دیکھیں گے اور اسے روکیں گے نہیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں عموی عذاب میں گرفتار کر لے۔“
اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو کفار بنی اسرائیل کی سیرت و کردار سے خبردار کرتے ہوئے یوں فرمایا :
«لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ ٭ كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ» [5-المائدة:78]
”بنی اسرائیل کے کافروں پر داور اور عیسی بن مریم علیہم السلام کی زبانی لعنت کی گئی۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے برابر نافرمانی کی اور حد سے آگے نکل جاتے تھے۔ جو برائی انہوں نے اختیار کر رکھی تھی ایک دوسرے کو اس سے روکتے نہ تھے۔ جو کچھ بھی یہ کرتے تھے یقیناً وہ بہت برا تھا۔“
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں (حاکم و محکو م سب کو) اس فریضہ کی بانداز احسن ادائیگی کی توفیق بخشے۔ ان کے احوال کی اصلاح فرمائے اور اہل اسلام کو اپنے غضب کے اسباب سے بچائے یقیناً وہ سنے والا اور قبول فرمانے والا ہے۔
——————
شیخ ابن باز

عورتوں کے لئے بال اتارنے کا حکم
——————
سوال : مندرجہ ذیل کا شرعی حکم کیا ہے ؟ ① بغلوں اور زیر ناف بالوں کا ازالہ کرنا۔ ② عورتوں کا ٹانگوں اور بازووں کے بال اتارنا۔ ③ خاوند کی فرمائش پر ابرؤوں کے بال اتارتا۔
جواب : ① بغلوں اور زیر ناف حصوں کے بال اتارنا سنت ہے۔ بغلوں کے بال نوچنا (یعنی ہاتھ سے اکھیڑنا) جبکہ زیر ناف بالوں کا مونڈنا افضل ہے۔ ویسے ان بالوں کا کسی بھی طرح ازالہ کرنا درست ہے۔
② جہاں تک عورتوں کے لئے ٹانگوں اور بازووں کے بال اتارنے کا تعلق ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔
③ عورت کے لئے خاوند کی فرمائش پر ابرو کے بال اتارنا ناجائز ہے۔ کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نامصہ اور متنمصہ یعنی بال اکھاڑنے والی اور بال اکھڑوانے والی (اس کا مطالبہ کرنے والی) دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (نمص) سے مراد ابرو کے بال اتارنا ہے۔
——————
شیخ ابن باز

مال وغیرہ میں بچوں کو ایک دوسرے پر ترجیح دینا
——————
سوال : کیا میرے لئے جائز ہے کہ میں ایک بچے کو کچھ دوں اور دوسرے کو اس لئے نہ دوں کہ وہ غنی ہے ؟
جواب : آپ کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں ہے کہ آپ بعغ بچوں کو تو کوئی چیزیں دیں اور بعض کو اس سے محروم رکھیں، بلکہ ہدایت کے اصول کے تحت ان میں عدل و انصاف سے کام لینا واجب ہے۔ سب کو دیا جائے یا سب کو چھوڑ دیا جائے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
«اتقوا الله واعدلوا بين أولادكم» [متفق عليه]
”اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں میں عدل کرو۔“
اگر تمام بچے کسی ایک کے ساتھ خصوصی سلوک پر راضی ہوں تو پھر ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ وہ بالغ اور راشد ہوں۔ اسی طرح اگر بچوں میں سے کوئی ایک کی بیماری یا کسی اور عارضہ کی وجہ سے روزی کمانے سے قاصر ہو اور اس کے اخراجات برداشت کرنے کے لئے اس کا باپ یا بھائی نہ ہو اور نہ حکومت کی طرف سے اس کی کفالت کا کوئی انتظام ہو تو اس صورت میں آپ اس پر بقدر ضرورت خرچ کر سکتی ہیں۔ تاوقتیکہ اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دے۔
——————
شیخ ابن باز

پرانے سونے کا نئے سونے سے تبادلہ کا حکم
——————
سوال : ا ایک عورت پرانا سونا لے کر سونے کی مارکیٹ میں جاتی ہے اور صراف (سنار) سے کہتی ہے کہ اس کی قیمت کا اندازہ لگاؤ جب وہ اس کی قیمت کا اندازہ کر لیتا ہے تو کہتی ہے کہ اس کی قیمت کے بدلے مجھے نیا سونا دے دو۔ کیا اس طریقہ کار میں شریعت اسلامیہ کے مخالف کوئی چیز ہے ؟
جواب : یہ معاملہ ناجائز ہے اس لئے کہ یہ سونے کے بدلے سونے کی بیع ہے اور تماثل کا علم نہیں جو کہ معاملے کی صحت کے لیے شرط ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :۔
«الذهب بالذهب مثلا بمثل، سواء بسواء، وزنا بوزن، يدا بيد، فمن زاد أو استزاد فقذ أربي» [صحيح مسلم]
”سونا سونے کے بدلے (فروخت ہو سکتا ہے) جبکہ وہ مثل بمثل (ایک جیسا) ہو یا برابر ہو، ہم وزن ہو اور نقد در نقد ہو۔ جو زیادہ دے یا زیادہ طلب کرے تو اس نے سود کا ارتکاب کیا۔“
اس لئے سونے کو زیادہ سونے کے بدلے فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اس تماثل سے مانع ہے جو کہ ایسے معاملے کی صحت کے لئے شرط ہے۔ اس کے متعلق شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ وہ اپنے پاس موجود سونے کو مستقل قیمت وصول کر کے فروخت کر دے،، پھر اس شخص سے یا کسی اور سے اپنی ضرورت کے مطابق سونا خرید لے یہ معاملہ سود سے ہٹ کر ایک مستقل معاملہ ہوتا ہے۔
ایسے معاملات میں یوں کرنا بھی جائز ہے کہ آپ اس سے کرنسی نوٹوں یا چاندی کی کرنسی کے بدلے نقد سونا خرید لیں، یا نقدی کے علاوہ کسی اور چیز کے بدلے سونا خرید لیں چاہے وہ ایک معین عرصہ تک ادھار ہی کیوں نہ ہو، مثلا قہوہ، الائچی، چاول، چینی اور کپڑے وغیرہ کے بدلے، اس لئے کہ ان اشیاء اور سونے کے تبادلے میں سود نہیں ہے۔ واللہ ولی التوفیق۔
——————
شیخ ابن باز

باقی ماندہ خوراک کو کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر پھینکنا اور اخبارات کو دسترخوان کے طور پر استعمال کرنا
——————
سوال : ① کیا اخبارات کو دسترخوان کے طور پر استعمال کرنا جائز ہے ؟ اگر نہیں تو پڑھنے کے بعد ان سے کیا سلوک کرنا چاہیے ؟ ② بعض لوگ باقی ماندہ کھانا کسی کارٹن وغیرہ میں ڈال کر اسے سڑک پر رکھ دیتے ہیں تاکہ اسے جانور کھا لیں، مگر صفائی کا عملہ اسے اٹھا کر دوسرے کمرے میں پھینک دیتا ہے۔ کیا اس طرح کرنا درست ہے ؟
جواب : ① اگر اخبارات قرآنی آیات اور دیگر مقدس عبارات پر مشتمل ہوں تو انہیں بطور دستر خوان استعمال نہیں کرنا چاہیئے اور نہ ہی استعال کے لئے ان کے لفافے وغیرہ بنانے چاہئیں اور نہ ہی کسی دیگر ذریعے سے ان کی بے وقعتی ہونی چاہیئے۔ ایسے اخبارات کو کسی مناسب جگہ پر محفوظ کرنا یا جلا دینا یا پاک مٹی میں دفن کرنا ضروری ہے۔
باقی ماندہ کھانا فقراء کے میسر آنے کی صورت میں ان کے حوالے کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اسے استعمال کر لیں اگر فقراء میسر نہ ہوں تو اسے بے وقعتی سے بچاتے ہوئے کہیں دور ٹھکانے لگانا ضروری ہے تاکہ جانور وغیرہ کھا سکیں۔ اگر ایسا نہ ہو سکے تو اسے کارٹن یا لفافوں وغیرہ میں محفوظ کرنا چاہیئے۔
کھانے کو اہانت اور ضیاع سے بچانے کے لئے ہر شہر کی بلدیہ اپنے سٹاف کو اس بات کا پابند کرے کہ وہ ایسے کھانے کو کسی صاف جگہ پر رکھے تا کہ وہ جانوروں کی خوراک بن جائے یا بعض لوگ اسے اپنے جانوروں کے لئے اٹھا کر لے جائیں۔
——————
شیخ ابن باز

گناہ اور برکت کا اٹھ جانا
——————
سوال : میں نے پڑھا ہے کہ گناہوں کا نتیجہ عذاب الہٰی اور برکت اٹھ جانے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ میں تو اس خوف سے رو دیتی ہوں۔ برائے کرم میری راہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا
جواب : ہر مسلمان مرد و عورت پر گناہوں سے بچنا اور گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنا واجب ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن رکھا جائے۔ اس سے معافی کی امید رکھی جائے۔ اس کے عذاب اور غضب سے ڈرا جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے بارے فرمایا :
«إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ» [21-الأنبياء:90]
تحقیق یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں طمع لالچ اور ڈر خوف سے پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔
مزید فرمایا :
«أُولَـئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا » [17-الإسراء:57]
”یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کا قرب ڈھونڈھ رہے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ مقرب ہے اور اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بیشک آپ کے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کی چیز ہے۔“
ایک جگہ یوں فرمایا :
«وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ أُولَـئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [9-التوبة:71]
”اور مومن مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے ممدو معاون اور رفیق ہیں۔ نیک باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے رہتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں کہ اللہ ان پر ضرور رحمت کرے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ بڑا اختیار والا اور بڑا حکمت والا ہے۔“
اس کے ساتھ ساتھ مومن کے لئے جائز اسباب کو اپنانا بھی مشروع ہے۔ اس طرح ہی وہ خوف اور امید کو جمع کر سکتا ہے اور حصول مطلوب اور باعث خوف چیزوں سے بچاؤ کے لئے اللہ تعالیٰ پر توکل اور اعتماد کرتے ہوئے مباح اسباب کو اپنا سکتا ہے، کہ وہ بڑا سخی اور کرم فرما ہے۔ اس کا فرمان ہے :
«وَمَنْ يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا * وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ» [65-الطلاق:2]
”اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ اس کے لئے کشائش پیدا کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق پہنچاتا ہے جہاں سے اسے گمان نہیں ہوتا۔“
اسی نے فرمایا :
«وَمَنْ يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا» [65-الطلاق:4]
”اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا۔ تو اللہ اس کے ہر کام میں آسانی کر دے گا۔“
مزید ارشاد ہوا :
«وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [24-النور:31]
”اور اے ایمان والو ! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاو۔“
لہٰذا میری اسلامی بہن ! آپ پر گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنا، اس کی اطاعت پر استقامت اختیار کرنا اس کے بارے میں حسن ظن سے کام لینا اور اس کی ناراضگی کا باعث بنے والے کاموں سے پرہیز کرنا واجب ہے۔ آپ کے لئے خیر کثیر اور انجام بالخیر کی بشارت ہو۔
——————
شیخ ابن باز

ضرورت کے علاوہ تمام جاندار اشیاء کی تصاویر کا حکم
——————
سوال : ہمیں بعض لوگوں کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ تصویریں حرام ہیں اور تصویروں والے گھروں میں فرشتے داخل نہیں ہوتے کیا یہ صحیح ہے ؟ اور کیا حرام تصاویر سے مراد آدمیوں اور حیوانوں کی تصاویر اور مجسمے ہیں یا ہر طرح کی تصویریں اس کے تحت آتی ہیں ؟ مثلاً شناختی کارڈز اور نوٹوں وغیرہ پر موجود تصویریں بھی ؟ اور اگر تمام تصاویر اس حرمت کے تحت آتی ہیں تو ان سے گھروں کو کس طرح صاف کیا جا سکتا ہے ؟
جواب : تصویر آدمی کی ہو یا کسی حیوان کی وہ مجسم ہو یا کاغذ پر ڈیزائن دار کپڑوں میں بنی ہو یا فوٹو گرافی کے انداز میں ہو الغرض تمام جاندار اشیاء کی تصاویر حرام ہیں۔
یہ بات بھی درست ہے کہ فرشتے تصاویر والے گھروں میں داخل نہیں ہوتے۔ کیونکہ اس کی دلیل کے طور پر وارد احادیث عام ہیں۔ ہاں ضرورت کے تحت تصویریں اس حکم سے مستثنی ہیں۔ مثلاً جرائم پیشہ اور مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لئے تصاویر اسی طرح پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے لئے تصاویر۔ ہمیں امید ہے کہ گھروں میں ایسی تصاویر فرشتوں کے آنے میں رکاوٹ نہیں ہوں گی۔ کیونکہ ایسی تصویروں کا پاس رکھنا ایک ضرورت ہے۔ بستروں اور تکیوں پر موجود غیر مجسم تصویروں کا بھی یہی حکم ہے۔ اس بارے میں وارد احادیث میں سے ایک حدیث کے الفاظ یوں ہیں :
«إن أصحاب هذه الصور يعذبون يوم القيامة، ويقال لهم أحيوا ما خلقتم» [صحيح البخاري]
”تحقیق تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ جسے تم نے بنایا ہے اسے زندہ بھی کرو۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے اور تصویریں کھینچنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔
——————
دار الافتاء کمیٹی

یادگاری تصاویر جمع کرنا
——————
سوال : یادگاری تصاویر جمع کرنا جائز ہے یا ناجائز ؟
جواب : کسی بھی مسلم مرد و عورت کے لئے کسی بھی ذی روح چیز کی یادگاری تصویر سنبھال کر رکھنا جائز نہیں، بلکہ ان کا ضائع کرنا ضروری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا :
«لا تدع صورة إلا طمستها ولا قبرا مشرقا إلا سويته» [صحيح مسلم]
”ہر تصویر کو مٹا دے اور ہر اونچی قبر کو برابر کر دے۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے گھر میں تصویر رکھنے سے منع فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن کعبۃ اللہ میں داخل ہوئے تو اس کی دیواروں پر تصویریں دیکھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی اور کپڑا منگوایا اور انہیں مٹا دیا۔ جہاں تک غیر جاندار اشیاء مثلا پہاڑ یا درخت وغیرہ کی تصاویر کا تعلق ہے تو ان میں کوئی حرج نہیں۔
——————
شیخ ابن باز
عورت کی آواز
——————
سوال : کہا جاتا ہے کہ عورت کی آواز پردہ ہے۔ کیا یہ صحیح ہے ؟
جواب : عورت مردوں کی نفسانی خواہشات کی تکمیل کا محال ہے۔ شہوانی اسباب کی بناء پر طبعی طور پر مردوں کا میلان عورت کی طرف ہوتا ہے۔ اگر عورت ناز و نخرے سے باتیں کرے گی تو فتنہ میں مزید اضافہ ہو گا۔ اس لئے اللہ رب العزت نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ جب عورتوں سے کوئی چیز مانگیں تو پس پردہ رہ کر مانگیں۔
«وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ» [33-الأحزاب:53]
”اور جب ان (ازواج مطہرات) سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو ! یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی کامل پاکیزگی ہے۔“
اسی طرح عورتوں کو بھی مردوں سے بات کرتے وقت نرم لہجہ اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ تاکہ دلی روگ میں مبتلا لوگ غلط طمع نہ کرنے لگیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
«يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ» [33-الأحزاب:32]
”اے نبی کی بیویو ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگاری کرو تو نرم لہجے میں بات نہ کرو کہ جس سے ایسے شخص کو خیال (فاسد) پیدا ہونے لگتا ہے جس کے دل میں روگ (بیماری) ہے۔“
جب مضبوط ترین ایمان کے حامل حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں یہ حکم ہے تو اس زمانے کا کیا حال ہو گا ؟ جبکہ ایمان کمزور پڑ چکا ہو اور دین سے وابستگی بھی کم ہو چکی ہو ؟
لہٰذا آپ غیر مردوں سے کم از کم ملاقات اور گفتگو کریں۔ ضرورت کے تحت ایسا ہو سکتا ہے لیکن اس دوران بھی مذکورہ بالا قرآنی آیت کی رو سے لہجے میں نرمی اور لجاجت نہیں ہونی چاہیئے۔ اس سے آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ نرم لہجے سے پاک آواز پردہ نہیں ہے، اس لئے کہ خواتین نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دینی امور کے متعلق سوالات کیا کرتی تھیں۔ اسی طرح وہ اپنی ضروریات کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی گفتگو کرتی تھیں اور ان پر اس بارے میں کوئی بھی اعتراض نہیں کیا گیا۔ وباللہ التوفیق۔
——————
دار الافتاء کمیٹی

خاوند کی اجازت کے بغیر عورت کا گھر سے باہر جانا
——————
سوال : خاوند کی اجازت کے بغیر عورت کا بازار جانا کیا حکم رکھتا ہے ؟
جواب : اگر عورت گھر سے باہر جانا چاہے تو اسے خاوند کو بتا کر جانا چاہیے کہ اسے کہاں جانا ہے۔ خاوند بھی اسے ایسی جگہ جانے کی اجازت دے دے جہاں کسی فتنہ و فساد کا ڈر نہ ہو اس لئے کہ خاوند اس کی بہتری کے بارے میں زیادہ واقفیت رکھتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
«وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ» [2-البقرة:228]
”اور عورتوں کا بھی حق ہے جیسا کہ عورتوں پر حق ہے، موافق دستور (شرعی) کے اور مردوں کو عورتوں پر ایک گونہ فضیلت حاصل ہے۔“
دوسری جگہ ارشاد ہوا :
« الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّـهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ» [4-النساء:34]
”مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس لئے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے۔“
——————
دار الافتاء کمیٹی

حرام تحفہ
——————
سوال : میں قبل ازیں مرد و زن پر مشتمل مخلوط معاشرے میں رہتی تھی، اس دوران ایک شخص نے شیطانی خواہش کی تکمیل کے لئے مجھے سونے کا ایک قیمتی ہار بطور تحفہ پیش کیا۔ الحمدللہ کہ میں اب اس معاشرے سے نکل آئی ہوں اور حق کا راستہ پہچان لیا ہے اور اپنے کئے پر نادم ہوں۔ کیا اب اس تحفے پر میرا کوئی حق ہے ؟ اسے زیب تن کرنا میرے لئے جائز ہے یا اسے صدقہ کر دوں یا آخر کیا کروں ؟ یاد رہے کہ میں اب اس معاشرے کو ناپسند کرتی ہوں لہٰذا اسے واپس کرنا بھی ناممکن ہے ؟
جواب : عزت و ناموس کی اس سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی تعریف کریں، مالک کو تحفہ واپس نہ کریں بلکہ اسے صدقہ کر دیں۔
——————
دار الافتاء کمیٹی

عورت کی آواز کا پردہ ہے
——————
سوال : ٹیلی فون یا دیگر ذرائع رابط پر اجنبی شخص کے لئے کسی عورت کی آواز سنے کا شرعاً کیا حکم ہے ؟
جواب : صحیح قول کی رو سے اجنبی (غیر محرم) لوگوں کے لیے عورت کی آواز پردہ ہے۔ اس لئے دوران نماز اگر امام کسی غلطی کا ارتکاب کرے تو عورتیں مردوں کی طرح سبحان اللہ نہیں کہتیں بلکہ تالی بجاتی ہیں۔ عورت اذان بھی نہیں کہہ سکتی کہ اس میں آواز بلند کرنا پڑتی ہے، اسی طرح وہ دوران احرام تلبیہ بھی اتنی آواز میں کہہ سکتی ہے کہ اس کے ساتھ والی سن لے۔ لیکن بعض علماء نے عورت کے لیے بقدر ضرورت مردوں سے گفتگو کو جائز قرار دیا ہے۔ مثلاً کسی سوال کا جواب دینا بشرطیکہ ماحول شک سے پاک ہو اور شہوت بھڑکنے کا خطرہ بھی نہ ہو۔ اس کی دلیل اللہ کا یہ ارشاد ہے :
«فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ» [33-الأحزاب:32]
”تم نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی خیال کرے۔“
کیونکہ جب کوئی خاتون ملائمت سے گفتگو کرے یا میاں بیوی کے مابین ہونے والی گفتگو کا سا انداز اپنائے تو اس کے دل میں شہوانی خیالات ابھرتے ہیں۔ لہٰذا اضطراری حالت میں بقدر ضرورت ایک خاتون ٹیلی فون وغیرہ پر غیر مردوں سے گفتگو کر سکتی ہے، وہ خود بھی رابطہ کر سکتی ہے اور فون کا جواب بھی دے سکتی ہے۔
——————
شیخ ابن جبرین

عورت کا اجنبی آدمی کے ساتھ گاڑی میں سوار ہونا
——————
سوال : عورت کا اجنبی ڈرائیور کے ساتھ سوار ہونا کیا حکم رکھتا ہے ؟
جواب : اکیلی عورت کا اجنبی ڈرائیور کے ساتھ ایک گاڑی میں سوار ہونا ناجائز ہے تاوقتیکہ عورت کا محرم اس کے ساتھ موجود ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«لا يخلون رجل بامرأة إلا مع ذي محرم» [رواه البخاري كتاب النكا ح باب 112]
”کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ محرم ہو۔“
اگر ڈرائیور کے ساتھ دو یا زیادہ عورتیں ہوں تو پھر کوئی حرج نہیں کیونکہ اس طرح خلوت نہیں ہوتی۔ اس میں بھی شرط یہ ہے کہ ڈرائیور قابل اعتماد ہو اور حالت بھی سفر کی نہ ہو۔
——————
شیخ محمد بن صالح عثیمین

گھر میں کتا رکھنا
——————
سوال : ہمارے گھر میں ایک کتیا ہے۔ ہم اسے جب گھر لائے تھے تو اس وقت ہم ضرورت کے علاوہ کتا رکھنے کے شرعی حکم سے آگاہ نہیں تھے۔ جب ہم شرعی حکم سے آگاہ ہوئے تو ہم نے اسے بھگا دیا۔ لیکن چونکہ وہ ہم سے مانوس ہو گئی تھی اس لئے وہ گھر چھوڑ کر نہ گئی۔ میں اسے جان سے مارنا بھی نہیں چاہتا اس کا حل کیا ہے ؟
جواب : اس میں کوئی شک نہیں کہ بجز ان صورتوں کے جن میں شریعت نے کتا پالنا جائز قرار دیا ہے۔ عام حالات میں کتا پالنا حرام ہے۔ شکار کرنے یا جانوروں اور کھیتی کی حفاظت کے مقاصد کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے اگر کوئی کتا پالتا ہے تو اس کے اجر سے روزانہ ایک قیراط کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اجر میں کمی کا مطلب اس شخص کا گناہ گار ہونا ہے کیونکہ اجر میں کمی حصول گناہ کے مترادف ہے اور یہ دونوں چیزیں حرمت کی دلیل ہیں۔
اس حوالے سے کفار کی تقلید میں کتے پالنے والے تمام لوگوں کو میری نصیحت ہے کہ کتا خبیث جانور ہے اس کی نجاست تمام حیوانوں سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ کتوں کی نجاست سات بار دھوئے بغیر پاک نہیں ہوتی۔ ان میں سے ایک بار اسے مٹی سے بھی دھویا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ خنزیر کہ جس کے حرام ہونے کی قرآن میں نص موجود ہے، نجس تو ہے مگر اس کی نجاست بھی اس حد تک نہیں پہنچتی، پس کتا نجس اور خبیث جانور ہے۔ مگر افسوس کہ بعض لوگ خباثتوں کے دلدادہ کفار کی تقلید میں بلا ضرورت کتے پالتے ہیں انہیں کھلاتے پلاتے اور نہلاتے ہیں، جبکہ کتا سمندر کے پانی سے بھی پاک نہیں ہو سکتا کہ وہ نجس عین ہے۔ پھر یہ لوگ کتے پالنے کے شوق میں بہت سارا مالی نقصان بھی کرتے ہیں، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مال ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
میں کفار کے ان دلدادہ حضرات کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کریں۔ کتوں کو گھروں سے نکال دیں۔ ہاں اگر شکار کرنے، مال مویشی پالنے یا، کھیتی باڑی کے لئے ان کی ضرورت ہو تو کوئی حرج نہیں اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔
باقی رہا آپ کا یہ سوال کہ کتیا گھر سے مانوس ہونے کی وجہ سے اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں تو آپ جب اسے گھر سے نکال باہر کریں گے اور گھر میں رہنے کی اجازت نہیں دیں گے تو اس طرح آپ اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوں گے۔ شاید وہ گھر سے باہر رہنے کی وجہ سے شہر چھوڑ جائے اور دوسرے کتوں کی طرح خالق کا عطاء کردہ رزق کھانے پینے اور باہر زندگی بسر کرنے لگے۔
——————
محمد بن صالح عثیمین

غیر محرم لوگوں سے مصافحہ کرنا
——————
سوال : ہم ایک ایسی بستی میں رہتے ہیں کہ جس میں کئی بری عادات کا رواج ہے۔ ان میں سے ایک بد عادت یہ ہے کہ جب کوئی مہمان گھر آتا ہے تو تمام مرد و زن اس سے مصافہ کرتے ہیں۔ اگر میں اس سے انکار کروں تو گھر والے مجھ پر یہ کہہ کر پھبتی کستے ہیں کہ میں سب سے تنہائی پسند ہوں۔ اس کے متعلق کیا حکم ہے ؟
جواب : مسلمان پر اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرنا اور منع کردہ اشیاء سے اجتناب کرنا واجب ہے۔ ”شذوذ“ اطاعت الہٰی کرنے میں نہیں بلکہ اوامر الہٰیہ کے مخالفین میں ہے۔ مذکورہ بالا عادت ایک بری اور غیر پسندیدہ عادت ہے عورتوں کا غیر مردوں سے مصافہ کرنا قطعاً ناجائز ہے۔
براہ راست ہو تب بھی ناجائز ہے کسی رکاوٹ کے ساتھ ہو تب بھی ناجائز ہے کیونکہ یہ فتنہ کا باعث ہے۔ اس بارے میں وعید پر مشتمل احادیث اگرچہ سند کے اعتبار سے اتنی قوی نہیں ہیں لیکن مفہوم اس کی تائید کرتا ہے۔ میں سائلہ سے کہنا چاہوں گا کہ وہ گھر والوں کی مذمت پر کان مت دھرے بلکہ انہیں اس بری عادت کو چھوڑنے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پسندیدہ اعمال و افعال بجا لانے کی نصیحت کرتی رہے۔
——————
شیخ محمد بن صالح عثیمین

جھوٹ بہرحال منع ہے مذاق سے ہو یا سنجیدگی سے
——————
سوال : بعض لوگ دوستوں سے مذاق ہی مذاق میں ایک دوسرے کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتے رہتے ہیں، کیا یہ اسلام میں منع ہے ؟
جواب : ہاں ! یہ اسلام میں ناجائز ہے اس لئے کہ ہر طرح کا جھوٹ ممنوع ہے لہٰذا جھوٹ سے بچنا واجب ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«عليكم بالصدق، فإن الصدق يهدي إلى البر، وإن البر يهدي إلى الجنة، وما يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا، وإياكم والكذب، فإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وما يزال الرجل يكذب ويتحرى الكذب، حتى يكتب عندالله كذابا» [رواه مسلم كتاب البر والصلة، 105]
”سچائی کو لازم پکڑو اس لئے کہ سچائی نیکی کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے۔ آدمی ہمیشہ سچ کی تلاش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صدیق لکھا جاتا ہے۔ اپنے آپ کو جھوٹ سے بچاؤ اس لئے کہ جھوٹ گناہ کا راستہ دکھاتا ہے اور گناہ دوزخ کا راستہ دکھاتا ہے۔ آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کی تلاش میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کذاب لکھا جاتا ہے۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«ويل للذى يحدث بالخديث ليضحك به القوم فيكذب ويل له، ويل له » [رواه الترمذي، كتاب الزهد، باب10]
”اس آدمی کے لئے ہلاکت ہے جو لوگوں کو بنانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے۔۔۔ اس کے لئے ہلاکت ہے پھر اس کے لئے ہلاکت ہے۔“
اس بناء پر ہر طرح کے جھوٹ سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ وہ لوگوں کو ہنسانے کے لئے ہو مذاقاً ہو یا سنجیدگی سے۔ انسان جب اپنے آپ کو سچ بولنے اور اس کی جستجو کا عادی بنا لے تو وہ ظاہری اور باطنی اعتبار سے سچا بن جاتا ہے، اسی لئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«ولا يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا» [متفق عليه]
انسان ہمیشہ سچ بولتا اور سچ کی جستجو میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صدیق لکھا جاتا ہے۔ ہم سب سچائی اور کذب بیانی کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں۔
——————
محمد بن صالح عثیمین

فوت شدہ شخص کو بار بار خواب میں دیکھنے کی کیا تعبیر ہے ؟
——————
سوال : فوت شدہ شخص کو بار بار خواب میں دیکھنے کی کیا تعبیر ہے ؟
جواب : اگر فوت شدہ شخص خواب میں اچھی حالت میں نظر آئے تو اس کے لئے خیر کی امید رکھنی چاہیے اور اگر حالت کچھ اور ہو تو یہ شیطانی کار گزاری بھی ہو سکتی ہے کیونکہ شیطان کسی بھی شخص کا غیر پسندیدہ روپ دھار سکتا ہے۔ اس سے اس کا مقصد زندہ لوگوں کو حزن و ملال میں مبتلا کر دینا ہوتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے :
«إِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّيْطَانِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيْسَ بِضَارِّهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ» [58-المجادلة:10]
”بری سرگوشیاں بس شیطان ہی کی طرف سے ہیں تاکہ وہ مسلمانوں کو غم میں مبتلا کرے اور وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا مگر اللہ کے ارادے سے۔“
اس بناء پر اگر کوئی شخص کسی فوت شدہ کو خواب کے دوران غیر پسندیدہ حالت میں دیکھے تو اسے اللہ تعالیٰ کی شیطان مردود سے پناہ مانگنی چاہیئے اور کسی کو اس کے بارے میں آگاہ نہیں کرنا چاہئے۔ اس طرح میت کو نقصان نہیں ہو گا، اسی طرح جو شخص بھی خواب میں کسی غیر پسندیدہ چیز کو دیکھے تو شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ تین بار بائیں طرف تھوک دے اور جس کروٹ پر سو رہا تھا وہ کروٹ تبدیل کرے اگر وہ وضوء کر کے نماز پڑھ سکے تو بہت ہی بہتر ہے اور جو کچھ اس نے خواب میں دیکھا ہو اس کے متعلق کسی کو آگاہ نہ کرے اس طرح اس نے جو کچھ دیکھا اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔
——————
شیخ محمد بن صالح عثیمین

مجلات کا خریدنا
——————
سوال : میں مفید قسم کے رسائل و جرائد پڑھنے کا شوق رکھتی ہوں اور ان سے استفادہ کرتی ہوں، لیکن ان میں موجود تصویروں کے بارے میں مشکل سے دو چار رہتی ہوں۔ کیا ان مجالات کے خریدنے میں کوئی حرج ہے ؟ مطالعہ کے بعد ان کا کیا کروں ؟ کیا انہیں سنبھال کر رکھوں ؟ جبکہ مجھے ان کی ضرورت بھی رہتی ہے۔ یا انہیں نذر آتش کردوں ؟
جواب : آپ مفید قسم کے رسائل و جرائد کا مطالعہ کر سکتی ہیں۔ ان سے دینی، ادبی اور اخلاقی فوائد حاصل کر سکتی ہیں۔ جہاں تک تصویروں کا تعلق ہے تو سیاہی وغیرہ سے انہیں مٹا دیں جس سے ان کا اثر زائل ہو جائے یا چہرہ مسخ ہو جائے یا انہیں کسی طرح ڈھانپ دیں یا صندوق یا الماری وغیرہ میں بند کر دیں۔ اگر ضرورت نہ ہو تو انہیں جلایا بھی جا سکتا ہے۔
——————
شیخ ابن جبرین

کسی عیب کے ازالہ کے لیے زینت کرنے کا حکم
——————
سوال : حصول زینت کی کاروائیوں کا کیا حکم ہے ؟ کیا ایسے علم کا سیکھنا جائز ہے ؟
جواب : زینت کا حصول دو قسم کا ہوتا ہے ایک تو کسی حادثے وغیرہ کے نتیجے میں لاحق عیب کا ازالہ کرنا، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو سونے کی ناک لگوانے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی جس کی ناک ایک جنگ میں کٹ گئی تھی۔ دوسرے یہ کہ اضافی حسن و جمال کا حصول مطلوب ہو۔ اس سے کسی عیب کا ازالہ نہیں بلکہ حسن میں مزید نکھار کرنا مقصود ہوتا ہے، تو یہ ناجائز اور حرام ہے اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال نوچنے والی اس کا مطالبہ کرنے والی، مصنوعی بال لگانے والی لگوانے والی، سرمہ بھرنے والی سب پر لعنت فرمائی ہے اور یہ اس لئے کہ ان کاروائیوں کا مقصد ازالہ عیب نہیں بلکہ حسن میں کمال پیدا کرتا ہو تا ہے۔ جہاں تک بیوٹی سرجری کا علم حاصل کرنے والے طالب علم کا تعلق ہے تو اس علم کے سیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ ہاں اس علم کو حرام مواقع پر استعمال نہیں کرنا چاہیے، بلکہ جو شخص ایسا کرنا چاہے تو اسے اس سے پرہیز کرنے کی تلقین کرنی چاہئیے، اس لئے کہ وہ حرام ہے کیونکہ عموماً اگر ڈاکڑ کسی بات کی تلقین کرے تو لوگوں پر اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔
——————
شیخ محمد بن صالح عثیمین

بیوی کا خاوند کے علم کے بغیر اس کے مال سے کچھ لینا
——————
سوال : اس بیوی کے متعلق کیا حکم ہے جو خاوند کو بتائے بغیر اس کے مال سے کچھ لیتی رہتی ہو اور اپنی اولاد پر خرچ کرتی رہتی ہو اور خاوند کے سامنے قسم اٹھائے کہ اس نے اس کے مال سے کچھ بھی نہیں لیا۔ اس عمل کا کیا حکم ہے ؟
جواب : بیوی کے لئے خاوند کی اجازت کے بغیر اس کا مال لینا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایک دوسرے کا مال ہتھیانے سے منع فرمایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقعہ پر اعلان کرتے ہوئے یوں فرمایا :
«فان دماءكم وأموالكم وأعراضکم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا، فى شهركم هذا، فى بلدكم هذا . . . ألا يا أمتاه ! هل بلغت ؟ » [رواه ابن حاجة فى كتاب المناسك باب 79]
”تمہارے خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تم پر حرام ہیں جیسا کہ تمہارے اس دن (عرفہ) کی حرمت تمہارے اس مہینے (ذی الحجہ) میں تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) میں۔ کان کھول کر سن لو میں نے (اللہ تعالیٰ کا حکم تمہیں) پہنچا دیا ہے۔“
لیکن اگر اس کا خاوند بخیل ہے اور وہ اپنی بیوی بچوں کے مناسب اخراجات ادا نہیں کرتا تو اس صورت میں وہ اپنے بچوں کے لئے مناسب مقدار میں اخراجات وصول کر سکتی ہے۔ وہ ضرورت سے زائد کا استحقاق نہیں رکھتی۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ہند رضی اللہ عنہا بنت عتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے خاوند کا تذکرہ کرتے ہوئے کہنے گی کہ وہ ایک بخیل شخص ہے۔ میرے اور میرے بچوں کے لئے کافی اخراجات نہیں دیتا۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«خذى من ماله ما يكفيك ويكفى بنيك – أو قال – ما يكفيك ويكفي ولدك بالمعروف» [رواه مسلم كتاب الأقضية، باب 4]
”اس کے مال میں سے اتنا لے لے جو کہ تیرے لئے اور تیرے بچوں کے لئے کافی ہو۔“
دوسرے الفاظ یوں ہیں ”جو تیرے لئے اور تیری اولاد کے لئے عرف کے مطابق کافی ہو۔“
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے اور اپنے بچوں کے لئے خاوند کے مال سے بقدر کفایت عرف کے مطابق وصول کرنے کی اجازت دے دی، چاہے اسے اس کا علم ہو یا نہ ہو۔
سائلہ کے سوال میں یہ بات مذکور ہے کہ اس نے خاوند کے سامنے حلف اٹھایا کہ اس نے اس کے مال میں سے کچھ نہیں لیا تو اس کے متعلق عرض ہے کہ اس کا یہ حلف اٹھانا حرام ہے، بجر اس صورت کے وہ تاویلاً ایسی قسم اٹھائے وہ یوں کہ تم اٹھاتے وقت اس کی نیت یہ ہو کہ میں نے ایسی کوئی چیز نہیں لی جس کا لینا مجھ پر حرام تھا، یا یہ نیت ہو کہ واللہ میں نے تجھ پر واجب اخراجات سے زائد کچھ نہیں لیا، یا اس طرح کی کوئی تاویل جو اس کے شرعی حق کے مطابق ہو۔ انسان کے مظلوم ہونے کی صورت میں ایسی تاویل جائز ہے۔ اور اگر انسان ظالم ہو یا ظالم ہو نہ مظلوم۔ تو اس صورت میں ایسی تاویل جائز نہیں ہے۔ ایسی عورت جس کا خاوند اس کے اور بچوں کے واجب اخراجات کی ادائیگی کے لئے بخل سے کام لیتا ہو تو ایسی عورت مظلوم ہی ہے۔
——————
شیخ محمد بن صالح عثیمین

اپنے چہرے کے غیر عادی بال زائل کرنا
——————
سوال : کیا عورت کے لئے ابرو کے ایسے بال اتارنا یا انہیں باریک کرنا جائز ہے جو اس کے منظر کی بدنمائی کا باعث ہوں ؟
جواب : اس مسئلے کی دو صورتیں ہیں۔ پہلی صورت تو یہ ہے کہ ابرو کے بال اکھاڑے جائیں تو یہ عمل حرام ہے اور کبیرہ گناہ ہے کیونکہ یہ (نمص) ہے جس کے مرتکب پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے :
دوسری صورت یہ ہے کہ بال مونڈ دیئے جائیں، تو اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے کہ آیا یہ نمص ہے یا نہیں ؟ اولیٰ یہ ہے کہ عورت اس سے بھی احتراز کرے۔
باقی رہا غیر معتاد بالوں کا معاملہ یعنی ایسے بال جو جسم کے ان حصوں پر اگ آئیں جہاں عادتاً بال نہیں اگتے مثلا عورت کی مونچھیں اگ آئیں یا رخساروں پر بال آ جائیں تو ایسے بالوں کے اتارنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ وہ خلاف عادت ہیں اور چہرے کے لئے بدنمائی کا باعث ہیں۔
جہاں تک ابرو کا تعلق ہے تو ان کا باریک یا پتلا ہونا یا چوڑا اور گھنا ہونا یہ سب کچھ امر معتاد ہے اور معتاد سے تعرض نہیں کرنا چاہیئے، کیونکہ بعض لوگ اسے عیب نہیں سمجھتے بلکہ کسی ایک انداز کے ہونے کو خوبصورتی سمجھتے ہیں۔ یہ ایسا عیب نہیں ہے کہ انسان کو اس کے ازالے کی ضرورت پیش آئے۔
——————
شیخ محمد بن صالح عثیمین

عورت کا سر پر بالوں کا جوڑا بنانا
——————
سوال : عورت کے لئے سر پر بالوں کا جوڑا بنانے کا کیا حکم ہے ؟
جواب : سر پر بالوں کا جوڑا بنانا اہل علم کے نزدیک اس تحذیر اور نہی کے ضمن میں آتا ہے جس کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث میں وارد ہے :
«صنفان من أهل النار لم أرهما . قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس، ونساء كاسيات عاريات مميلات، مائلات رؤوسهن كأسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها، وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا » [صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة، باب 34]
”دوزخیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جنہیں میں نے ابھی تک نہیں دیکھا ایک وہ لوگ کہ ان کے ہاتھوں میں گائے کی دم جیسے کوڑے ہوں گے، جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے۔ دوسرے وہ عورتیں جو ننگی ہوں گی (لوگوں کی طرف) مائل ہونے والی اور مائل کرنے والی۔ ان کے سر بختی اونٹوں کی جھکی ہوئی کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی حالانکہ اس کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے پائی جاتی ہے۔“
اس حدیث میں آگے چل کر ان عورتوں کا ذکر ہے جو بظاہر کپڑے پہنے ہوئے ہیں مگر حقیقتاً ننگی ہیں۔ خود لوگوں کی طرف مائل ہونے والیاں اور دوسروں کو اپنی طرف مائل کرنے والیاں ہیں۔ ان کے سر بختی اونٹوں کی جھکی ہوئی کوہان کی طرح ہوں گے۔ اگر سر کے بال اوپر اکٹھے کر لئے جائیں تو اس کے متعلق نہی وارد ہے اور اگر مثلاً گردن میں کھلے ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ہاں اگر عورت کو بازار جانا ہو تو بالوں کا ایسی حالت میں رہنا تبرج (اظہار زینت) کے ضمن میں آتا ہے۔ اسی طرح بال عباء کے پیچھے سے ظاہر ہونے والی ایک علامت ہوں گے، جو کہ تبرج ہے لہٰذا فتنہ کا سبب ہونے کی وجہ سے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
——————
محمد بن صالح عثیمین

عورت کے لئے غیر محرم کا بوسہ لینا
——————
سوال : ایک عورت سلام کرتے وقت اپنے بہنوئی کا بوسہ لیتی ہے جب وہ سفر سے آتا ہے اور ہاتھ سے مصافہ نہیں کرتی کیا ایسا کرنا جائز ہے یا ناجائز ؟ واضح رہے کہ ایک کا خاوند اس کا عم زاد بھی ہے جبکہ دوسری طرف اس کا چچازاد نہیں بلکہ صرف بہنوئی ہے آگاہ فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا
جواب : عورت کے لئے غیر محرم آدمی کا بوسہ لینا جائز نہیں ہے۔ مثلاً بہنوئی یا عم زاد کا بوسہ نہیں لے سکتی، اسی طرح اجنبی ہونے کی وجہ سے وہ ان کے سامنے اپنی زینت کا اظہار بھی نہیں کر سکتی۔ ہاں مصافہ کے لیے باپردہ اور بغیر خلوت کے اسے سلام کہہ سکتی ہے۔ لوگوں کو ایسا کرنے سے روکنا ضروری ہے۔ انہیں بتایا جائے کہ یہ ایک جاہلی رسم ہے جسے اسلام نے باطل قرار دیا ہے۔
——————
ابن جبرین

عورتوں کے لئے جنت میں خاوند ہوں گے
——————
سوال : ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ جنتی لوگوں کو جنت میں حوریں ملیں گی، لیکن جنت میں عورتوں کا کیا انجام ہو گا ؟ کیا انہیں بھی خاوند ملیں گے ؟
جواب : اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا ہے :
«وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ ٭ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَحِيمٍ» [41-فصلت:31]
”جس چیز کو تمہارا جی چاہے اور جو کچھ بھی تم مانگو سب جنت میں موجود ہے اللہ غفور و رحیم کی طرف سے یہ سب کچھ بطور مہمانی کے ہے۔“
دوسری جگہ فرمایا :
«وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ وَأَنْتُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [43-الزخرف:71]
”اور اس جنت میں وہ سب کچھ ملے گا جس کو جی چاہے گا اور جس سے آنکھوں کو لذت ملے گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔“
یہ بات طے شدہ ہے کہ زواج (جوڑا) تمام نفوس کی مرغوب چیز ہے اور وہ اہل جنت کو حاصل ہو گا۔ جنتی چاہے مرد ہوں یا عورتیں اللہ تعالیٰ جنت میں جنتی عورت کی شادی اس مرد سے کریں گے جو دنیا میں اس کا خاوند رہا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
«رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ» [40-غافر:8]
”اے ہمارے رب ! انہیں ہمیشگی کی بہشتوں میں داخل فرما دے جن کا تو نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے اور ان کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو بہشت کے لائق ہوں۔“
اگر کسی عورت کے دنیا میں یکے بعد دیگرے دو خاوند ہوں گے تو وہ جنت میں ان میں سے ایک کا انتخاب کرے گی اور اگر اس نے دنیا میں شادی ہی نہیں کی تو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی شادی ایسے مرد سے کرے گا جس سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔
پس جنت کی نعمتیں صرف مردوں تک محدود نہیں ہوں گی بلکہ وہ مردوں اور عورتوں سب کے لئے یکساں ہوں گی۔ ان نعمتوں میں سے شادی بھی ایک نعمت ہے۔
کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو صرف خوبصورت حوروں کا ذکر کیا ہے اور وہ عورتیں ہیں۔ جبکہ عورتوں کے لئے خاوندوں کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے جواب میں ہم کہنا چاہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے خاوندوں کے لئے بیویوں کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ خاوند کی طرف سے ہی مطالبہ اور جنسی رغبت کا اظہار ہوتا ہے۔
——————
شیخ محمد بن صالح عثیمین

خاوند کے لئے ابرو باریک کرنا
——————
سوال : اگر عورت کے ابرو مردوں کی طرح چوڑے ہوں تو کیا وہ خاوند کے لئے خوبصورت بننے کے لئے انہیں باریک کر سکتی ہے ؟بیوٹی سرجری کا علم حاصل کرنے والے طالب علم کا تعلق ہے تو اس علم کے سیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ ہاں اس علم کو حرام مواقع پر استعمال نہیں کرنا چاہیے، بلکہ جو شخص ایسا کرنا چاہے تو اسے اس سے پرہیز کرنے کی تلقین کرنی چاہئیے، اس لئے کہ وہ حرام ہے کیونکہ عموماً اگر ڈاکڑ کسی بات کی تلقین کرے تو لوگوں پر اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔
——————
شیخ محمد بن صالح عثیمین

بیوی کا خاوند کے علم کے بغیر اس کے مال سے کچھ لینا
——————
سوال : اس بیوی کے متعلق کیا حکم ہے جو خاوند کو بتائے بغیر اس کے مال سے کچھ لیتی رہتی ہو اور اپنی اولاد پر خرچ کرتی رہتی ہو اور خاوند کے سامنے قسم اٹھائے کہ اس نے اس کے مال سے کچھ بھی نہیں لیا۔ اس عمل کا کیا حکم ہے ؟
جواب : بیوی کے لئے خاوند کی اجازت کے بغیر اس کا مال لینا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایک دوسرے کا مال ہتھیانے سے منع فرمایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقعہ پر اعلان کرتے ہوئے یوں فرمایا :
«فان دماءكم وأموالكم وأعراضکم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا، فى شهركم هذا، فى بلدكم هذا . . . ألا يا أمتاه ! هل بلغت ؟ » [رواه ابن حاجة فى كتاب المناسك باب 79]
”تمہارے خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تم پر حرام ہیں جیسا کہ تمہارے اس دن (عرفہ) کی حرمت تمہارے اس مہینے (ذی الحجہ) میں تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) میں۔ کان کھول کر سن لو میں نے (اللہ تعالیٰ کا حکم تمہیں) پہنچا دیا ہے۔“
لیکن اگر اس کا خاوند بخیل ہے اور وہ اپنی بیوی بچوں کے مناسب اخراجات ادا نہیں کرتا تو اس صورت میں وہ اپنے بچوں کے لئے مناسب مقدار میں اخراجات وصول کر سکتی ہے۔ وہ ضرورت سے زائد کا استحقاق نہیں رکھتی۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ہند رضی اللہ عنہا بنت عتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے خاوند کا تذکرہ کرتے ہوئے کہنے گی کہ وہ ایک بخیل شخص ہے۔ میرے اور میرے بچوں کے لئے کافی اخراجات نہیں دیتا۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«خذى من ماله ما يكفيك ويكفى بنيك – أو قال – ما يكفيك ويكفي ولدك بالمعروف» [رواه مسلم كتاب الأقضية، باب 4]
”اس کے مال میں سے اتنا لے لے جو کہ تیرے لئے اور تیرے بچوں کے لئے کافی ہو۔“
دوسرے الفاظ یوں ہیں ”جو تیرے لئے اور تیری اولاد کے لئے عرف کے مطابق کافی ہو۔“
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے اور اپنے بچوں کے لئے خاوند کے مال سے بقدر کفایت عرف کے مطابق وصول کرنے کی اجازت دے دی، چاہے اسے اس کا علم ہو یا نہ ہو۔
سائلہ کے سوال میں یہ بات مذکور ہے کہ اس نے خاوند کے سامنے حلف اٹھایا کہ اس نے اس کے مال میں سے کچھ نہیں لیا تو اس کے متعلق عرض ہے کہ اس کا یہ حلف اٹھانا حرام ہے، بجر اس صورت کے وہ تاویلاً ایسی قسم اٹھائے وہ یوں کہ تم اٹھاتے وقت اس کی نیت یہ ہو کہ میں نے ایسی کوئی چیز نہیں لی جس کا لینا مجھ پر حرام تھا، یا یہ نیت ہو کہ واللہ میں نے تجھ پر واجب اخراجات سے زائد کچھ نہیں لیا، یا اس طرح کی کوئی تاویل جو اس کے شرعی حق کے مطابق ہو۔ انسان کے مظلوم ہونے کی صورت میں ایسی تاویل جائز ہے۔ اور اگر انسان ظالم ہو یا ظالم ہو نہ مظلوم۔ تو اس صورت میں ایسی تاویل جائز نہیں ہے۔ ایسی عورت جس کا خاوند اس کے اور بچوں کے واجب اخراجات کی ادائیگی کے لئے بخل سے کام لیتا ہو تو ایسی عورت مظلوم ہی ہے۔
——————
شیخ محمد بن صالح عثیمین

اپنے چہرے کے غیر عادی بال زائل کرنا
——————
سوال : کیا عورت کے لئے ابرو کے ایسے بال اتارنا یا انہیں باریک کرنا جائز ہے جو اس کے منظر کی بدنمائی کا باعث ہوں ؟
جواب : اس مسئلے کی دو صورتیں ہیں۔ پہلی صورت تو یہ ہے کہ ابرو کے بال اکھاڑے جائیں تو یہ عمل حرام ہے اور کبیرہ گناہ ہے کیونکہ یہ (نمص) ہے جس کے مرتکب پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے :
دوسری صورت یہ ہے کہ بال مونڈ دیئے جائیں، تو اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے کہ آیا یہ نمص ہے یا نہیں ؟ اولیٰ یہ ہے کہ عورت اس سے بھی احتراز کرے۔
باقی رہا غیر معتاد بالوں کا معاملہ یعنی ایسے بال جو جسم کے ان حصوں پر اگ آئیں جہاں عادتاً بال نہیں اگتے مثلا عورت کی مونچھیں اگ آئیں یا رخساروں پر بال آ جائیں تو ایسے بالوں کے اتارنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ وہ خلاف عادت ہیں اور چہرے کے لئے بدنمائی کا باعث ہیں۔
جہاں تک ابرو کا تعلق ہے تو ان کا باریک یا پتلا ہونا یا چوڑا اور گھنا ہونا یہ سب کچھ امر معتاد ہے اور معتاد سے تعرض نہیں کرنا چاہیئے، کیونکہ بعض لوگ اسے عیب نہیں سمجھتے بلکہ کسی ایک انداز کے ہونے کو خوبصورتی سمجھتے ہیں۔ یہ ایسا عیب نہیں ہے کہ انسان کو اس کے ازالے کی ضرورت پیش آئے۔
——————
شیخ محمد بن صالح عثیمین

عورت کا سر پر بالوں کا جوڑا بنانا
——————
سوال : عورت کے لئے سر پر بالوں کا جوڑا بنانے کا کیا حکم ہے ؟
جواب : سر پر بالوں کا جوڑا بنانا اہل علم کے نزدیک اس تحذیر اور نہی کے ضمن میں آتا ہے جس کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث میں وارد ہے :
«صنفان من أهل النار لم أرهما . قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس، ونساء كاسيات عاريات مميلات، مائلات رؤوسهن كأسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها، وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا » [صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة، باب 34]
”دوزخیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جنہیں میں نے ابھی تک نہیں دیکھا ایک وہ لوگ کہ ان کے ہاتھوں میں گائے کی دم جیسے کوڑے ہوں گے، جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے۔ دوسرے وہ عورتیں جو ننگی ہوں گی (لوگوں کی طرف) مائل ہونے والی اور مائل کرنے والی۔ ان کے سر بختی اونٹوں کی جھکی ہوئی کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی حالانکہ اس کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے پائی جاتی ہے۔“
اس حدیث میں آگے چل کر ان عورتوں کا ذکر ہے جو بظاہر کپڑے پہنے ہوئے ہیں مگر حقیقتاً ننگی ہیں۔ خود لوگوں کی طرف مائل ہونے والیاں اور دوسروں کو اپنی طرف مائل کرنے والیاں ہیں۔ ان کے سر بختی اونٹوں کی جھکی ہوئی کوہان کی طرح ہوں گے۔ اگر سر کے بال اوپر اکٹھے کر لئے جائیں تو اس کے متعلق نہی وارد ہے اور اگر مثلاً گردن میں کھلے ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ہاں اگر عورت کو بازار جانا ہو تو بالوں کا ایسی حالت میں رہنا تبرج (اظہار زینت) کے ضمن میں آتا ہے۔ اسی طرح بال عباء کے پیچھے سے ظاہر ہونے والی ایک علامت ہوں گے، جو کہ تبرج ہے لہٰذا فتنہ کا سبب ہونے کی وجہ سے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
——————
محمد بن صالح عثیمین

عورت کے لئے غیر محرم کا بوسہ لینا
——————
سوال : ایک عورت سلام کرتے وقت اپنے بہنوئی کا بوسہ لیتی ہے جب وہ سفر سے آتا ہے اور ہاتھ سے مصافہ نہیں کرتی کیا ایسا کرنا جائز ہے یا ناجائز ؟ واضح رہے کہ ایک کا خاوند اس کا عم زاد بھی ہے جبکہ دوسری طرف اس کا چچازاد نہیں بلکہ صرف بہنوئی ہے آگاہ فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا
جواب : عورت کے لئے غیر محرم آدمی کا بوسہ لینا جائز نہیں ہے۔ مثلاً بہنوئی یا عم زاد کا بوسہ نہیں لے سکتی، اسی طرح اجنبی ہونے کی وجہ سے وہ ان کے سامنے اپنی زینت کا اظہار بھی نہیں کر سکتی۔ ہاں مصافہ کے لیے باپردہ اور بغیر خلوت کے اسے سلام کہہ سکتی ہے۔ لوگوں کو ایسا کرنے سے روکنا ضروری ہے۔ انہیں بتایا جائے کہ یہ ایک جاہلی رسم ہے جسے اسلام نے باطل قرار دیا ہے۔
——————
ابن جبرین

عورتوں کے لئے جنت میں خاوند ہوں گے
——————
سوال : ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ جنتی لوگوں کو جنت میں حوریں ملیں گی، لیکن جنت میں عورتوں کا کیا انجام ہو گا ؟ کیا انہیں بھی خاوند ملیں گے ؟
جواب : اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا ہے :
«وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ ٭ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَحِيمٍ» [41-فصلت:31]
”جس چیز کو تمہارا جی چاہے اور جو کچھ بھی تم مانگو سب جنت میں موجود ہے اللہ غفور و رحیم کی طرف سے یہ سب کچھ بطور مہمانی کے ہے۔“
دوسری جگہ فرمایا :
«وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ وَأَنْتُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [43-الزخرف:71]
”اور اس جنت میں وہ سب کچھ ملے گا جس کو جی چاہے گا اور جس سے آنکھوں کو لذت ملے گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔“
یہ بات طے شدہ ہے کہ زواج (جوڑا) تمام نفوس کی مرغوب چیز ہے اور وہ اہل جنت کو حاصل ہو گا۔ جنتی چاہے مرد ہوں یا عورتیں اللہ تعالیٰ جنت میں جنتی عورت کی شادی اس مرد سے کریں گے جو دنیا میں اس کا خاوند رہا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
«رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ» [40-غافر:8]
”اے ہمارے رب ! انہیں ہمیشگی کی بہشتوں میں داخل فرما دے جن کا تو نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے اور ان کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو بہشت کے لائق ہوں۔“
اگر کسی عورت کے دنیا میں یکے بعد دیگرے دو خاوند ہوں گے تو وہ جنت میں ان میں سے ایک کا انتخاب کرے گی اور اگر اس نے دنیا میں شادی ہی نہیں کی تو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی شادی ایسے مرد سے کرے گا جس سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔
پس جنت کی نعمتیں صرف مردوں تک محدود نہیں ہوں گی بلکہ وہ مردوں اور عورتوں سب کے لئے یکساں ہوں گی۔ ان نعمتوں میں سے شادی بھی ایک نعمت ہے۔
کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو صرف خوبصورت حوروں کا ذکر کیا ہے اور وہ عورتیں ہیں۔ جبکہ عورتوں کے لئے خاوندوں کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے جواب میں ہم کہنا چاہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے خاوندوں کے لئے بیویوں کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ خاوند کی طرف سے ہی مطالبہ اور جنسی رغبت کا اظہار ہوتا ہے۔
——————
شیخ محمد بن صالح عثیمین

خاوند کے لئے ابرو باریک کرنا
——————
سوال : اگر عورت کے ابرو مردوں کی طرح چوڑے ہوں تو کیا وہ خاوند کے لئے خوبصورت بننے کے لئے انہیں باریک کر سکتی ہے ؟
جواب : ایسا کرنا کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہے۔ یہ (تنمیص) بال نوچنا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال نوچنے والی اور ایسا مطالبہ کرنے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے اور لعنت اس فعل کے حرام ہونے کی دلیل ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مخلوق کا حسن وہی ہے جس پر اس کی تخلیق ہوئی۔ ابرو کے یہ بال انسانی چہرے کی خوبصورتی کے لئے بنائے گئے ہیں جو کہ مٹی وغیرہ سے اس کی آنکھوں کی حفاظت کا باعث ہیں۔ لہٰذا ان کا ازالہ کرنا اور باریک کرنا، خلق اللہ کو تبدیل کرنا ہے جو کہ ناجائز ہے۔
——————
ابن جبرین

منافق آدمی سب سے بدتر ہے
——————
سوال : میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو مجھ سے اور دوسرے لوگوں سے گفتگو کرتے وقت دوغلے پن (دورخی) کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کیا اس پر خاموش رہوں یا انہیں ان کی حقیقت بتا دوں ؟
جواب : لوگوں سے دو رخی گفتگو کرنا جائز نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
«تجدون شر الناس ذا الوجهين الذى يأتي هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه » [البخاري، المناقب باب 1، الأدب 52، الأحكام 37 – و مسلم البر والصلة، : باب 99]
”تم سب لوگوں سے بدتر دو رخ آدمی کو پاؤ گے جو ان کے پاس ایک چہرے کے ساتھ آتا ہے جبکہ دوسروں کے پاس دوسرے چہرے کے ساتھ۔“
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی انسان کے سامنے اس کی تعریف کرتا ہے اور دنیوی مقصد کے تحت اس کی تعریف میں مبالغہ آرائی سے کام لیتا ہے، جبکہ اس کی عدم موجودگی میں لوگوں کے سامنے اس کی مذمت کرتا اور عیب جوئی کرتا ہے، اکثر لوگوں کے ساتھ اس کا یہی رویہ ہوتا ہے۔
لہٰذا جو شخص بھی اس کے اس رویے سے آگاہ ہو اسے لوگوں کی خیر خواہی کرتے ہوئے اس منافقانہ عمل سے بچنے کی تلقین کرنی چاہیئے۔ ایک نہ ایک دن لوگ اس کے اس قابل مذمت رویے سے آگاہ ہوں گے۔ پھر وہ اس سے نفرت کا اظہار کریں گے اور احتیاطاً اس کی صحبت سے دور رہیں گے۔ اس طرح اس کے غلط مقاصد کی تکمیل ممکن نہ ہو سکے گی۔ اگر وہ نصیحت سے فائدہ نہ اٹھائے تو لوگوں کو اس سے اور اس کے کردار سے خبردار کرنا چاہے۔ چاہے اس کی عدم موجودگی میں ہی ایسا کرنا پڑے حدیث میں ہے :
«أذكروا الفاجر بما فيه كى يحذره الناس» [الكاف الشاف فى تخريج أحاديث الكشاف لابن حجر 157]
”لوگوں کو فاسق کے کردار سے آگاہ کرو تاکہ لوگ اس سے خبردار رہیں۔“
——————
شیخ ابن جبرین

بچوں کو ایک دوسرے پر ترجیح دینا
——————
سوال : ایک عورت بچوں کا استقبال کرتے وقت اور انہیں خوش آمدید کہتے وقت ان سے ترجیحی سلوک کرتی ہے، جبکہ بچوں کا سلوک اپنی ماں کے ساتھ ایک جیسا ہے، اسی طرح وہ اپنے پوتوں سے بھی غیر مساویانہ سلوک کرتی ہے جبکہ ان کا رویہ بھی اس کے ساتھ مساویانہ ہے کیا اس کے لئے ایسا کرنا جائز ہے ؟
جواب : والدین پر بچوں کے بارے میں عدل و انصاف سے کام لینا اور ان کے ساتھ مساویانہ سلوک کرنا واجب ہے۔ انہیں تحائف وغیرہ دیتے وقت ایک کو دوسرے پر تریخ نہیں دینی چاہیئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
«اتقوا الله واعدلوا بين أولادكم» [صحيح مسلم، كتاب الهبات 13]
”اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنی اولاد میں عدل سے کام لو۔“
دوسری جگہ فرمایا :
«أيسرك أن يكونوا إليك فى البر سواء ؟ قال : بلى . قال : فلا إذا» [رواه مسلم كتاب الهبات 17]
”کیا تو چاہتا ہے کہ وہ تجھ سے ایک جیسا حسن سلوک کریں تو پھر تو بھی ان کے ساتھ مساویانہ سلوک کر۔“
اکابر علماء کرام بچوں میں برابری کے رویہ کو پسند فرماتے تھے یہاں تک کہ ان سے پیار کرتے وقت بوسہ دیتے وقت اور خوش آمدید کہتے وقت بھی ان کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرتے اس لئے کہ اولاد میں عدل و انصاف کرنے کا حکم واضح ہے۔ لیکن کبھی غیر عادلانہ رویہ قابل معافی بھی ہوتا ہے کیونکہ باپ چھوٹے یا بیمار بچے سے از روئے شفقت ترجیحی سلوک کرتا ہے۔ ویسے اصل یہی ہے کہ خاص طور پر بچے والدین کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی اور اطاعت گزاری میں برابر ہوں تو ان سے بھی تمام معاملات میں مساویانہ سلوک کرنا چاہیے۔
——————
شخ ابن جبرین

دوران حیض مہندی لگانا
——————
سوال : دوران حیض مہندی لگانے کا کیا حکم ہے ؟ کیا جب تک مہندی کا رنگ ہاتھوں پر رہے اسے نجاست سمجھا جائے گا ؟
جواب : عورت کے لئے دوران حیض ہاتھوں پر مہندی لگانا جائز ہے اس لئے کہ اس کا بدن پاک ہے اسی لئے تو حائضہ عورت سے مصافحہ کرنا بھی جائز ہے۔ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بعد پانی پیا جبکہ وہ حیض سے دوچار تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے منہ رکھنے والی جگہ پر اپنا منہ رکھتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے (جب کپڑا پکڑانے کا مطالبہ کیا انہوں نے اپنے حیض کا ذکر کیا تھا) فرمایا :
«إن حيضت ليست فى ييرك» [رواه مسلم وكتاب الحيض 11]
”تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔“
مہندی پاک ہے۔ پاک جگہ پر لگائی جاتی ہے اس میں منع والی کوئی بات نہیں۔
——————
شیخ ابن جبرین

مطلقہ عورت کی میراث
——————
سوال : خاوند نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، وہ عدت گزار رہی تھی یا گزار چکی تھی کہ اچانک خاوند کا انتقال ہو گیا۔ کیا اس صورت میں عورت خاوند کے ترکہ کی وارث بن سکتی ہے ؟
جواب : اگر مطلقہ عورت کا خاوند عدت کے دوران مر گیا تو یہ طلاق دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو وہ طلاق رجعی ہو گی یا غیر رجی۔ اگر طلاق رجعی ہے تو عورت اختتام مدت تک بیوی کے حکم میں ہے وہ خاوند کی وفات کے بعد طلاق کی عدت سے وفات کی عدت میں منتقل ہو جائے گی۔
طلاق رجعی یہ ہے کہ خاوند بیوی کو دخول کے بعد بغیر معاوضہ دئیے پہلی یا دوسری طلاق (خلع نہیں) دے دے اس دوران اگر اس کا خاوند فوت ہو جائے تو وہ اس کی وارث ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
«وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّـهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [2-البقرة:228]
”اور طلاق دی گئی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں اور ان کے لئے یہ جائز نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحموں میں جو پیدا کیا ہے اسے وہ چھپائیں، اگر وہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہیں۔ اور ان کے خاوند اس مدت میں ان کے واپس لوٹا لینے کے زیادہ حقدار ہیں، بشرطیکہ اصلاح احوال کا ارادہ رکھتے ہوں اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے حق کے ہیں۔“
اسی طرح ارشاد ہوا :
« يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّـهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّـهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا » [64-الطلاق:1]
”اے نبی ! جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو ان کی مدت میں انہیں طلاق دو اور عدت کا حساب رکھو اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، بجز اس صورت کے کہ وہ کھلی برائی (بے حیائی) کا ارتکا ب کریں، یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا، تو اس نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ تم نہیں جانتے شائد کہ اللہ تعالیٰ اس کے بعد کوئی نئی بات پیدا کر دے۔“
اللہ تعالیٰ نے مطلقہ عورت کو عدت کے دوران خاوند کے گھر میں رہنے کا حکم دیا ہے، اور فرمایا ہے کہ وہ نہیں جانتی کہ شائد اللہ تعالیٰ اس کے بعد کوئی نئی صورت حال پیدا فرما دے، یعنی اس کا خاوند اس سے رجوع کر لئے۔
اور اگر اچانک مر جانے والے خاوند نے بیوی کو طلاق بائنہ یعنی تیسری طلاق دی ہو یا بیوی نے خاوند سے خلع کیا ہو یا وہ طلاق کی عدت نہیں بلکہ فسخ نکاح کی عدت گزار رہی ہو تو ان سب صورتوں میں وہ خاوند کی وارث نہیں بن سکتی اور نہ عدت طلاق سے عدت وفات میں منتقل ہو گی۔ ہاں ایک ایسی صورت ہے جس میں بائنہ طلاق والی عورت خاوند کی وارث بن سکتی ہے، وہ یہ کہ خاوند نے مرض الموت کے دوران بیوی کو ترکہ سے محروم کرنے کے ارادے سے طلاق دی ہو۔ اس صورت میں اگر چہ عدت گزر گئی ہو وہ پھر بھی خاوند کے ترکے کی وارث بن جائے گی، لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ عورت نے آگے نکا ح نہ کیا ہو، ورنہ وہ اس سے محروم ہو جائے گی۔
——————
شیخ محمد بن صالح عثیمین

اشکال و تصاویر والے سونے کی فروخت کا حکم
——————
سوال : ایسے سونے کو فروخت کرنے کا کیا حکم ہے جس پر مختلف قسم کی شکلیں اور تصویریں مثلا تتلی یا سانپ کا سر وغیرہ بنے ہوں ؟
جواب : سونے چاندی کے ایسے زیورات جن پر حیوانات کی تصویریں بنی ہوں ان کا خریدنا پہننا اور فروخت کرنا سب کچھ حرام ہے، اس لئے کہ مسلمان پر تو تصاویر کا مٹانا اور انہیں زائل کرنا واجب ہے، جیسا کہ ابوالھیاج سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا :
«ألا أبعثك على ما بعثنى عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، أن لا تدع صورة إلا طمستها ولا قبرا مشرفا إلا وته » [صحيح مسلم]
ک”یا میں تجھے اس کام کے لئے نہ بھیجوں جس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا وہ یہ کہ ہر تصویر کو مٹا دے اور ہر اونچی قبر کو برابر کر دے۔“
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ :
«إن الملائكة لا تدخل بيتا فيه صوره» [متفق عليه]
”جس گھر میں تصویر ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“
اس بناء پر مسلمانوں پر ایسے سونے کی خرید و فروخت اور استعمال سے بچنا واجب ہے۔
——————
شیخ محمد بن صالح عثیمین

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں: