سوال: کیا رمضان میں کسی عذر کی بنا پر چھوڑے گئے روزوں کی قضائی رمضان کے فوراً بعد دینا ضروری ہے؟
جواب: رمضان کے چھوڑے گئے روزوں کی قضائی پے در پے مستحب تو ہے ، ضرور ی نہیں ، کیونکہ:
➊ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿فَعِدَّۃٌ مِّنْ أَیَّامٍ أُخَرَ﴾ [البقرة: ۱۸۵]
”دوسرے دونوں کی گنتی ہے۔ “
➋ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں:
كان يكون عليّ الصوم من رمضان فما أستطيع أن أقضيه إلّا فى شعبان. ”مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضائی ہوتی ، میں انہیں شعبان سے پہلے نہ رکھ سکتی تھی۔“
[صحيح بخاري: ۱۹۵۰، صحيح مسلم: ۱۱۴۶]
حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:
”اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رمضان کی قضاء کو مطلق طور پر مؤخر کرنا جائز ہے ، خواہ عذر کی وجہ سے یا بغیر عذر کے ۔“ [فتح الباري: ۱۹۱/۴]
➌ سیدنا عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں:
لا يضرّك كيف قضيتها، إنّما هي عدّة من أيام أخر.
”تجھے کوئی نقصان نہیں، جیسے جی چاہے قضائی دے، صرف دوسرے دنوں کی گنتی (پوری کرنا ضروری) ہے ۔“
[تغليق التعليق لابن حجر: ۱۸۶/۳، وسندة صحيح]
➍ امام عطاء بن أبی رباحؒ کہتے ہیں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ، دونوں نے فرمایا: فرقه إذا أحصيته. ”جب تو گنتی رکھے، تو وقفے میں کوئی حرج نہیں۔ “ [سنن دار قطني: ۱۹۳/۲، وسنده حسن]
➎ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: يو اترهٗ إن شاءَ.
”چاہے ، تو پے در پے رکھ لے ۔ “ [مصنف ابن ابي شيبه: ۳۴/۳، وسنده صحيح]
➏ بکر بن عبداللہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
أنهٗ كان لا يرى بهٖ بأسا، ويقول؛ إنّما قال اللّٰه فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ.
”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وقفے یا تأخیر میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف دوسرے دنوں کی گنتی کا ذکر فرمایا ہے ۔“ [ السنن الكبريٰ للبيهقي: ۲۵۸/۴ و سنده صحيح]
۷… أبو عامر الہوزنی کہتے ہیں:
سمعت أبا عبيدة بن الجراح رضي اللہ عنه سئل عن قضاء رمضان فقال؛ إن اللہ لم يرخص لكم فى فطره و هو يريد أن يشق عليكم فى قضائه، فأحص العدة واصنع ماشئت.
”میں نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سنا، آپ سے رمضان کی قضاء کے بارے پوچھا گیا ، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے روزہ چھوڑنے کی رخصت اس لئے نہیں دی کہ قضاء میں تم پر مشقت ڈال دے ، آپ گنتی شمار کریں اور جو چاہیں کرلیں۔ “ [السنن الكبري للبيهقي: ۲۵۸/۴ ، سنن دارقطني: ۱۹۱/۲، وسنده حسن]
➑ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےفرمایا:
فرق قضاء رمضان، وأحص العدة.
”رمضان کی قضاء کو وقفے سے پورا کرلو، لیکن گنتی شمار کرو۔ “
[سنن دار قطني: ۱۹۲/۲، وسنده حسن]
➒ امام حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ وقفے سے قضاء رمضان میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے ۔
[ابن ابي شيبه: ۳۳/۳ و سنده صحيح]
➓ جعفر بن میمون کہتے ہیں:
قضاء رمضان عدة من أيام أخر.“
”قضاء رمضان میں صرف دوسرے دنوں کی گنتی (پوری کرنا) ضروری ہے۔ “ [ابن ابي شيبه: ۳۳/۳، و سنده صحيح]
فوری قضائی کے قائلین کے دلائل:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما قضائے رمضان کے بارے میں فرماتے ہیں:
يتابع بينه.” اس میں پے در پے روزہ رکھا جائے گا ۔ “ [مصنف ابن أبى شيبه: ۳۴/۳، وسنده صحيح]
عروہؒ فرماتے ہیں:
يواتر قضاءرمضان.
” رمضان کے روزوں کی قضاء لگاتار دے گا ۔ “
[مصنف ابن ابي شيبه: ۳۴/۳، وسنده صحيح]
سعید بن مسیب فرماتے ہیں:
يقضيه كهيأته.
” جس طرح چھوڑے تھے، اسی طرح قضائی دے گا۔ “
[مصنف ابن ابي شيبه: ۳۴/۳، وسنده صحيح]
محمد بن سیرین کہتے ہیں:
أحب إلي أن يصومه كما أفطره.
” مجھے محبوب یہی ہے کہ جس طرح روزے چھوڑے تھے ، اسی طرح قضائی دے ۔ “
[ابن أبى شيبه: ۳۴/۳، وسنده صحيح]
حکم بن عتیبہ کہتے ہیں:
” لگاتار قضائی دینا مجھے پسند ہے ۔ “
[ابن ابي شيبه: ۳۴/۳، وسنده صحيح]
قاسم بن محمد کہتے ہیں:
صمه متتابعا، إلا أن يقطع بك كما قطع بك فيه.
” لگاتار روزے رکھ ، الا یہ کہ (قضائی میں بھی) وہی عارضہ پیش آجائے ، جو پہلے پیش آیا تھا۔ “
[ابن ابي شيبه: ۳۴/۳، وسنده صحيح]
ان سب اقوال کو استحباب پر محمول کیا جائے گا ، جیساکہ :
امام عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں:
يقضيه متتابعاً أحبّ إليّ و إن فرق أجزأهٗ.
” رمضان کی قضائی لگاتار ہو، تو مجھے محبوب ہے ، اگر وقفہ آجائے ، تو کفایت کرجائے گی ۔ “
[ مصنف ابن أبى شيبه: ۳۵/۳ ، وسنده صحيح]
روزوں کی قضائی پے در پے مستحب ہے ، ضروری نہیں ، جو لوگ لگاتار قضائی کو ضروری قرا ر دیتے ہیں، ان کے پاس نہ تو کوئی دلیل ہے ، نہ سلف صالحین میں سے ان کا کوئی حامی ہے ۔