جو شخص رمضان کی راتوں میں شراب نوشی کرے اس کے روزے کا حکم

شیخ ابن عثیمین۔ رحمۃ اللہ علیہ۔

سوال :

ایک شخص شراب نوشی کا اس قدر عادی ہے کہ رمضان کی راتوں میں بھی پیتا رہتا ہے۔ دن میں اس کے صوم رکھنے کا کیا حکم ہے ؟

جواب :

شراب نوشی کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ٭ إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّـهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ [5-المائدة:90]

’’ اے ایمان والو ! بات یہی ہے کہ شراب اور جو ا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر یہ سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو، تاکہ تم فلاح یاب ہو۔ شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض وا قع کرا دے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور صلاۃ سے تم کو باز رکھے۔ سو اب بھی باز آ جاؤ “۔

پس اس کا شراب پینا رمضان اور غیر رمضان سب میں حرام ہے۔ اگرچہ رمضان میں پینے سے اس کی حرمت بڑھ جاتی ہے، لہٰذا شراب نوشی کرنے والے پر توبہ کرنا ضروری ہے۔ اس طرح کہ شراب پینے سے باز آ جا ئے، اور شراب نوشی کرنے سے جو کوتاہی اور نافرمانی کی ہے اس پر نادم اور شرمندہ ہو اور آئندہ رمضان اور غیر رمضان سب میں دوبارہ ایسی غلطی نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرے۔ رہا اس شخص کا صوم رکھنا جو رات میں شراب نوشی کرے تو اس کا صوم صحیح ہے۔ بشرطیکہ طلوع صبح صادق سے غروب آفتا ب تک اللہ کے لئے، صوم کی نیت سے صوم کو تو ڑنے والی تمام چیزوں سے باز رہے۔

’’ اللجنۃالدائمۃ

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں: