مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری

تحفہ دے کر احسان جتلانا

فونٹ سائز:
تحریر : فتاویٰ سعودی فتویٰ کمیٹی

تحفہ دے کر احسان جتلانے کا حکم
اگر تم قرآن پڑھتے ہو تو یہ آیت پڑہو:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ[البقرة: 264]
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے صدقے احسان رکھنے اور تکلیف پہنچانے سے برباد مت کرو۔“
جب آپ کوئی چیز دیں اور وہ صدقہ ہو تو اسے اللہ کے لیے کریں اور اگر وہ نہ ہو تو پھر اپنے درمیان اور اس شخص کے درمیان قربت پیدا کرنے کی نیت رکھیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
”ایک دوسرے کو تحفے دو، تم میں محبت پیدا ہو جائے گی۔“ [سنن البيهقي 196/6]
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تحفہ کینہ دور کر دیتا ہے۔“ [ضعيف۔ مجمع الزوائد 146/4]
[ابن عثيمين: لقاء الباب مفتوح: 27/223]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔