بینک کے سودی فوائد لینے اور دینے کا شرعی حکم

مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

اس فائدے (سود) کا حکم جو بنک قرض دینے والوں سے لیتا ہے

وہ فائدہ (سود) جو بنک قرض دینے والوں سے لیتا ہے اور وہ فوائد (بیاج) جو وہ اپنے پاس مال رکھوانے والوں کو دیتا ہے، یہ سارے فوائد سودی ہیں اور سود کی حرمت کتاب و سنت اور اجماع کے ساتھ ثابت ہے۔
[اللجنة الدائمة: 3197]

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️

بینک کے سودی فوائد لینے اور دینے کا شرعی حکم