اکیلا آدمی نماز کے لیے اپنی اذان و اقامت کہہ سکتا ہے ؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال : کیا تنہا آدمی اپنی نماز کے لیے اپنی اذان و اقامت کہہ سکتا ہے ؟
جواب : اگر نمازی اکیلا نماز پڑھے تو اذان و اقامت کہہ سکتا ہے۔ حدیث نبوی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
يَعْجَبُ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَاعِيْ غَنَمٍ فِيْ رَأْسِ شَظِيَّةٍ بِحَبَلِ يُؤَذِّنُ لِلصَّلَاةِ وَيُصَلِّيْ فَيَقُوْلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ اُنْظُرُوْا إِلٰي عَبْدِيْ هٰذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيْمُ الصَّلَاةَ يَخَافُ مِنِّيْ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِيْ وَ اَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ [ أبوداؤد، كتاب صلاة السفر : باب الأذان فى السفر 1203 ]
”تمہارا رب ایسے چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر اپنا ریوڑ چراتا ہے اور نماز کے لیے اذان کہتا ہے اور نماز ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے : ”میرے اس بندے کی طرف دیکھو جو مجھ سے ڈرتے ہوئے نماز کے لیے اذان اور اقامت کہتا ہے۔ میں نے اپنے اس بندے کو معاف کر دیا اور میں نے اسے جنت میں داخل کر دیا“۔
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ آدمی اکیلا نماز پڑھے تو وہ اذان اور اقامت کہہ سکتا ہے۔ یہ اس کے لیے بخشش کا ذریعہ بنتی ہے۔

ہماری موبائل ایپ ڈاؤنلوڈ کریں

قرآن مع تفاسیر
احادیث مع شرح و تخریج
تحقیقی مضامین
اوقات نماز
آف لائن دستیاب