زکوۃ

7 پیغامات

1 📗 زکوٰۃ کی فرضیت اور فضیلت — قرآنِ مجید کی روشنی میں

زکوٰۃ ہر اُس شخص پر فرض ہے جو صاحبِ استطاعت ہو۔ زکوٰۃ ادا کرنے سے مال پاکیزہ اور بابرکت ہو جاتا ہے اور فقراء و مساکین کی مدد بھی ہو جاتی ہے۔ ذیل میں قرآنِ کریم کی روشنی میں زکوٰۃ کی اہمیت و فضیلت ملاحظہ فرمائیں:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَآتُوا الزَّكَاةَ﴾
”اور زکوٰۃ دو۔“
📖 (2-البقرة: 43)
🔗 https://tohed.com/tafsir/2/43/

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا﴾
”(اے نبی ﷺ!) تم ان کے مالوں سے صدقہ (زکوٰۃ) لے کر انہیں گناہوں سے پاک اور صاف کر دو۔“
📖 (9-التوبة: 103)
🔗 https://tohed.com/tafsir/9/103/

مزید ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ ۖ وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ﴾
”اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق (زکوٰۃ) ادا کرو (یعنی فصلوں کی کٹائی کے وقت اور پھل وغیرہ اتارنے کے وقت) اور حد سے نہ گزرو، یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔“
📖 (6-الأنعام: 141)
🔗 https://tohed.com/tafsir/6/141/

اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾
”بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی، ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“
📖 (2-البقرة: 277)
🔗 https://tohed.com/tafsir/2/277/

اسی طرح فرمایا:

﴿الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ۝ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ۚ لَّهُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ﴾
”وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں (یعنی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں)، یہی لوگ سچے مومن ہیں۔ انہی کے لیے ان کے رب کے پاس بلند درجے، بڑی بخشش اور باعزت رزق ہے۔“
📖 (8-الأنفال: 3-4)
🔗 https://tohed.com/tafsir/8/3/

🔗 https://tohed.com/tafsir/8/4/

مزید ارشاد فرمایا:

﴿وَمَا آتَيْتُم مِّن زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ﴾
”اور جو زکوٰۃ تم لوگ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتے ہو، دراصل وہی لوگ (اپنے مال میں) اضافہ پانے والے ہیں۔“
📖 (30-الروم: 39)
🔗 https://tohed.com/tafsir/30/39/

➤ ان آیاتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ زکوٰۃ اسلام کا بنیادی رکن ہے، ایمان کی علامت ہے، مال کی پاکیزگی اور برکت کا ذریعہ ہے، اور آخرت میں اجرِ عظیم، مغفرت اور بلند درجات کا سبب ہے۔

2 📘 زکوٰۃ کی فرضیت اور فضیلت — احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

➊ زکوٰۃ کی فرضیت اور اس کا نظام

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ:
«ادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ»

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن (کا حاکم بنا کر) بھیجا تو فرمایا:
“تم انہیں اس بات کی گواہی کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ یہ بات مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر روزانہ پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ یہ بھی مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان کے مالوں پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مال دار لوگوں سے لے کر ان کے محتاجوں میں لوٹا دی جائے گی۔”

📖 (صحیح بخاری: 1395، 1458 ـ صحیح مسلم: 121)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1395/

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1458/

➋ اسلام کے پانچ ارکان میں زکوٰۃ

عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ»

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔”

📖 (صحیح بخاری: 8)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/8/

➌ فرض صدقہ (زکوٰۃ) کی تحریری وضاحت

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ:
«بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَالَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ»

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (عاملِ زکوٰۃ کو) یہ تحریر لکھ دی:
“یہ فرض صدقہ (یعنی زکوٰۃ) کی تفصیل ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے اور جس کا اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے۔”

📖 (صحیح بخاری: 1454)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1454/

➍ حلال کمائی سے صدقہ کی عظیم فضیلت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ، وَإِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهِ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ، حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ»

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص حلال کمائی سے کھجور کے برابر صدقہ کرتا ہے — اور اللہ صرف حلال مال ہی قبول فرماتا ہے — تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں قبول فرماتا ہے، پھر اسے اس کے مالک کے لیے اس طرح بڑھاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے کی پرورش کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔”

📖 (صحیح بخاری: 1410 ـ صحیح مسلم: 2390)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1410/

➎ صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ»

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا، معاف کر دینے سے اللہ بندے کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے، اور جو کوئی اللہ کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ اسے بلند کر دیتا ہے۔”

📖 (صحیح مسلم: 2588)
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2588/

➤ ان احادیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ زکوٰۃ اسلام کا بنیادی رکن، فرض عبادت، معاشرتی عدل کا ذریعہ اور مال میں حقیقی برکت و اضافہ کا سبب ہے۔

3 🔥 زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر آگ کے عذاب کی وعید 🔥

➊ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُم ۖ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ ۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾

“جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ عطا فرمایا ہے، وہ اس میں بخل کرنا اپنے لیے ہرگز بہتر نہ سمجھیں، بلکہ یہ ان کے لیے نہایت برا ہے۔ عنقریب قیامت کے دن یہی بخیلی ان کے گلے کا طوق بنا دی جائے گی۔”

📖 (3-آل عمران: 180)
🔗 https://tohed.com/tafsir/3/180/

━━━━━━━━━━━━━━━

⚠ پانچ ایسی آزمائشیں جن میں سے ایک زکوٰۃ ادا نہ کرنا ہے:

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:

"يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ، خَمْسٌ إِذَا ابْتُلِيتُمْ بِهِنَّ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تُدْرِكُوهُنَّ:

❶ لَمْ تَظْهَرِ الْفَاحِشَةُ فِي قَوْمٍ قَطُّ حَتَّى يُعْلِنُوا بِهَا إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الطَّاعُونُ وَالْأَوْجَاعُ الَّتِي لَمْ تَكُنْ فِي أَسْلَافِهِمْ۔

❷ وَلَمْ يَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِلَّا أُخِذُوا بِالسِّنِينَ وَشِدَّةِ الْمَئُونَةِ وَجَوْرِ السُّلْطَانِ۔

❸ وَلَمْ يَمْنَعُوا زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ إِلَّا مُنِعُوا الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ، وَلَوْلَا الْبَهَائِمُ لَمْ يُمْطَرُوا۔

❹ وَلَمْ يَنْقُضُوا عَهْدَ اللَّهِ وَعَهْدَ رَسُولِهِ إِلَّا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ۔

❺ وَمَا لَمْ تَحْكُمْ أَئِمَّتُهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ وَيَتَخَيَّرُوا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ۔"

📜 ترجمہ:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

“اے مہاجرین کی جماعت! پانچ باتیں ہیں، جب تم ان میں مبتلا ہو جاؤ گے — اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ تم ان میں مبتلا ہو —

➊ جب کسی قوم میں علانیہ فحاشی (فسق و فجور اور زناکاری) عام ہو جائے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان سے پہلے لوگوں میں نہ تھیں۔

➋ جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور حکمرانوں کے ظلم کا شکار ہو جاتے ہیں۔

➌ جب لوگ اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش روک دیتا ہے، اور اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو ایک قطرہ بھی نہ برستا۔

➍ جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑ دیتے ہیں تو اللہ ان پر باہر کے دشمن مسلط کر دیتا ہے جو ان کے اموال چھین لیتے ہیں۔

➎ اور جب حکمران اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور اللہ کے نازل کردہ احکام کو اختیار نہیں کرتے تو اللہ ان کے درمیان پھوٹ اور اختلاف ڈال دیتا ہے۔”

📖 سنن ابن ماجہ / کتاب الفتن / حدیث: 4019
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/4019/

━━━━━━━━━━━━━━━

➋ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ۝ يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۚ هَٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ﴾

“جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے۔ جس دن اس خزانے کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیاں، پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی، (اور کہا جائے گا:) یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، پس اب اپنے خزانے کا مزہ چکھو۔”

📖 (9-التوبة: 34،35)
🔗 https://tohed.com/tafsir/9/34/

━━━━━━━━━━━━━━━

🔥 سونے، چاندی اور جانوروں کی زکوٰۃ ادا نہ کرنے کا انجام:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:

“مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ، فَأُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُكْوَىٰ بِهَا جَنْبُهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ، كُلَّمَا بَرَدَتْ أُعِيدَتْ لَهُ، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَىٰ بَيْنَ الْعِبَادِ...”

📜 ترجمہ:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

❖ جو شخص سونے اور چاندی کا مالک ہو اور اس کا حق (زکوٰۃ) ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کے لیے سونے اور چاندی کی تختیاں بنائی جائیں گی، انہیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان سے اس کے پہلو، پیشانی اور پیٹھ کو داغا جائے گا۔ جب وہ ٹھنڈی ہوں گی تو دوبارہ گرم کر کے عذاب دیا جائے گا۔ یہ سلسلہ اس دن جاری رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہو گی، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے، پھر وہ اپنا راستہ دیکھے گا — جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔

❖ جو شخص اونٹوں کی زکوٰۃ ادا نہ کرے، قیامت کے دن اسے ہموار میدان میں اوندھا لٹایا جائے گا، اور وہ اونٹ موٹے تازے ہو کر آئیں گے، ایک بھی کم نہ ہو گا۔ وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے اور منہ سے کاٹیں گے۔ جب پہلا گزر جائے گا تو دوسرا آ جائے گا۔ یہ سلسلہ پچاس ہزار سال کے دن تک جاری رہے گا۔

❖ جو شخص گائے اور بکریوں کی زکوٰۃ ادا نہ کرے، اسے بھی ہموار میدان میں لٹایا جائے گا، اور وہ جانور اپنے سینگوں سے ماریں گے اور کھروں سے روندیں گے۔ نہ کوئی بغیر سینگ کے ہو گا، نہ ٹوٹے سینگ والا۔ یہ عذاب بھی مسلسل جاری رہے گا، یہاں تک کہ فیصلہ ہو جائے۔

📖 صحیح بخاری: 1402
📖 صحیح مسلم: 987
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/987/

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1460/

━━━━━━━━━━━━━━━

⚖ سبق حاصل کریں!

زکوٰۃ محض مالی عبادت نہیں بلکہ ایمان کا عملی تقاضا ہے۔ اس کی ادائیگی میں کوتاہی دنیا میں قحط اور آسمانی محرومی کا سبب بنتی ہے، اور آخرت میں سخت ترین آگ کے عذاب کا باعث۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اموال کی زکوٰۃ صحیح طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

4 📘 زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کا انجام

🔹 زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کا مال قیامت کے دن گنجا سانپ بن کر ان کے گلے کا طوق بنے گا

عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
من آتاه الله مالا فلم يؤد زكاته مثل له ماله يوم القيامة شجاعا أقرع له زبيبتان يطوقه يوم القيامة ثم يأخذ بلهز متيه يعني بشدقيه ثم يقول أنا مالك أنا كنزك ثم تلا ﴿لَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ﴾ الآية.

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی، تو قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل بن کر، جس کی آنکھوں پر دو نقطے (داغ) ہوں گے، اس کے گلے کا طوق بن جائے گا۔ پھر وہ سانپ اس کی دونوں باچھیں پکڑ کر کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
(ترجمہ) جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مال دیا ہے اور وہ بخیلی کرتے ہیں تو اپنے لیے یہ بخل بہتر نہ سمجھیں بلکہ ان کے حق میں برا ہے، عنقریب قیامت کے دن یہ بخیلی ان کے گلے کا طوق ہونے والی ہے۔

📖 (صحیح بخاری: 1403)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1403/

━━━━━━━━━━━━━━━

📘 سونے اور چاندی پر زکوٰۃ

🔹 سونے اور چاندی کے زیورات پر زکوٰۃ نہ دینے پر آگ کی وعید

عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن امرأة أتت رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعها ابنة لها وفي يد ابنتها مسكتان غليظتان من ذهب فقال لها أتعطين زكاة هٰذا؟ قالت لا. قال أيسرك أن يسورك الله بهما يوم القيامة سوارين من نار؟ قال فخلعتهما فألقتهما إلى النبى صلى الله عليه وسلم وقالت هما لله عز وجل ولرسوله.

عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئی۔ اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی، جس کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے کنگن تھے۔

آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
“کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟”

اس نے کہا: “نہیں۔”

آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
“کیا تجھے یہ پسند ہے کہ اللہ تجھے ان کے بدلہ میں قیامت کے دن دو کنگن آگ سے پہنائے؟”

یہ سن کر اس نے دونوں کنگن اتار کر نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں پیش کر دیے اور کہا:
یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کے لیے ہیں۔

📖 (سنن ابی داؤد: 1563، اسناده حسن)
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1563/

━━━━━━━━━━━━━━━

عن أم سلمة قالت كنت ألبس أوضاحا من ذهب فقلت يا رسول الله أكنز هو؟ فقال: ما بلغ أن تؤدىٰ زكاته فزكي فليس بكنز.

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ سونے کا زیور پہنا کرتی تھیں۔ انہوں نے عرض کیا:
اے اللہ کے رسول! کیا یہ کنز (خزانہ) ہے؟

آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
“جب تم اس کی زکوٰۃ ادا کر دو تو پھر یہ کنز نہیں۔”

📖 (سنن ابی داؤد: 1564، اسناده حسن)
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1564/

━━━━━━━━━━━━━━━

عن عبد الله بن شداد بن الهاد أنه قال دخلنا علىٰ عائشة زوج النبى صلى الله عليه وسلم فقالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فرأىٰ فى يدي فتخات من ورق فقال ما هٰذا يا عائشة؟ فقلت صنعتهن أتزين لك يا رسول الله. قال أتؤدين زكاتهن؟ قلت لا أو ما شاء الله. قال هو حسبك من النار.

ثقہ تابعی عبد اللہ بن شداد بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ وہ کہنے لگیں:

میرے پاس نبی کریم صلى الله عليه وسلم تشریف لائے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے میرے ہاتھ میں چاندی کی کچھ انگوٹھیاں دیکھیں اور فرمایا:
“عائشہ! یہ کیا ہے؟”

میں نے عرض کیا:
“میں نے انہیں اس لیے بنوایا ہے کہ اے اللہ کے رسول! میں آپ کے لیے سنگھار کروں۔”

آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا:
“کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟”

میں نے کہا: “نہیں، یا جو کچھ اللہ کو منظور تھا۔”

آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
“یہ تمہیں جہنم میں لے جانے کے لیے کافی ہیں۔”

📖 (سنن ابی داؤد: 1565، اسناده حسن)
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1565/

━━━━━━━━━━━━━━━

📌 وضاحت:

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سونے اور چاندی دونوں کے زیورات وغیرہ میں زکوٰۃ فرض ہے۔

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا والی حدیث میں جو لفظ “کنز” آیا ہے، اس کا معنی خزانہ ہے۔

قرآنِ کریم میں سونا اور چاندی کو خزانہ بنا کر رکھنے والوں (یعنی جو ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے) کے متعلق سخت وعید آئی ہے، اسی لیے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے اس بارے میں دریافت فرمایا۔

5 📘 زکوٰۃ کے مصارف

قرآنِ کریم میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف ذکر ہوئے ہیں اور مزید اس کی تفصیل صحیح حدیثوں میں آئی ہے، جس کی وضاحت پیشِ خدمت ہے:

✨ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾

📝 ترجمہ:
”صدقے صرف فقیروں کے لیے ہیں اور مسکینوں کے لیے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لیے اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنا مقصود ہو اور گردن چھڑانے میں، قرض داروں کے لیے اور اللہ کی راہ میں اور راہرو مسافروں کے لیے فرض ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ علم و حکمت والا ہے۔“

📖 (9-التوبة:60)
🔗 https://tohed.com/tafsir/9/60/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ فقراء و مساکین کون ہیں؟

📌 حدیث:
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
ليس المسكين الذى يطوف على الناس ترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان ولٰكن المسكين الذى لا يجد غنى يغنيه ولا يفطن به فيتصدق عليه ولا يقوم فيسأل الناس.

📝 ترجمہ:
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
”مسکین وہ نہیں جو ایک یا دو لقموں یا ایک دو کھجوروں کی خاطر لوگوں سے سوال کرتا پھرے بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہ ہو جو اسے بے نیاز کر دے اور اس کے متعلق پتہ بھی نہ چلے کہ اس پر صدقہ کیا جا سکے اور وہ لوگوں سے مانگے بھی نہیں۔“

📚 (صحیح بخاری: 1476، 1479 – صحیح مسلم: 1039)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1476/

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1479/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1039/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ تالیفِ قلبی کے لیے مال دینا

📌 حدیث:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني أعطي قريشا أتألفهم لأنهم حديثو عهد بجاهلية.

📝 ترجمہ:
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
”میں قریش کی تالیفِ قلبی کے لیے (انہیں مال) دیتا ہوں کیونکہ انہوں نے حال ہی میں زمانۂ جاہلیت کو ترک کیا ہے۔“

📚 (صحیح بخاری: 3146 – صحیح مسلم: 1059)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3146/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1059/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ بیوی اپنے خاوند اور بیٹے کو زکوٰۃ دے سکتی ہے

📌 حدیث:
عن أبى سعيد الخدري رضى الله عنه قال: جاءت زينب امرأة ابن مسعود يا رسول الله إنك أمرت اليوم بالصدقة وكان عندي حلي لي فأردت أن أتصدق به فزعم ابن مسعود أنه وولده أحق من تصدقت به عليهم فقال النبى صلى الله عليه وسلم: صدق ابن مسعود زوجك وولدك أحق من تصدقت به عليهم.

📝 ترجمہ:
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگیں:
یا رسول اللہ! آج آپ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا تھا اور میرے پاس کچھ زیور ہے جسے میں صدقہ کرنا چاہتی ہوں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ وہ خود اور اس کا بیٹا اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ میں ان پر صدقہ کروں۔
نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
”ابن مسعود نے سچ کہا۔ تیرا خاوند اور تیرا بیٹا اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ تو ان پر صدقہ کرے۔“

📚 (صحیح بخاری: 1462)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1462/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ پانچ قسم کے افراد زکوٰۃ لے سکتے ہیں

📌 حدیث:
عن أبى سعيد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
لا تحل الصدقة لغني إلا لخمسة لغاز فى سبيل الله أو لعامل عليها أو لغارم أو لرجل اشتراها بماله أو لرجل كان له جار مسكين فتصدق على المسكين فأهداها المسكين للغني.

📝 ترجمہ:
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
”صدقہ غنی کے لیے پانچ صورتوں کے علاوہ جائز نہیں: وہ حاملِ زکوٰۃ ہو، یا جس نے اپنے مال سے خریدا ہو، یا مقروض ہو، یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہو، یا کسی مسکین پر صدقہ کیا جائے اور وہ مسکین اس صدقہ میں سے کسی غنی کو کچھ دے۔“

📚 (سنن ابی داؤد: 1635، 1636 – مسند أحمد: 56/3، اسناده حسن)
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1635/

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1636/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ بغیر مانگے صدقہ ملے تو لیا جا سکتا ہے

📌 حدیث:
عن سالم أن عبد الله بن عمر قال سمعت عمر يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعطيني العطاء فأقول أعطه من هو أفقر إليه مني فقال خذه إذا جاءك من هٰذا المال شيء وأنت غير مشرف ولا سائل فخذه وما لا فلا تتبعه نفسك

📝 ترجمہ:
سالم بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کوئی چیز عطا فرماتے تو وہ عرض کرتے:
یہ چیز مجھ سے زیادہ کسی محتاج کو عنایت فرما دیجئے۔
تو آپ صلى الله عليه وسلم فرماتے:
”اسے لے لو اور اسے اپنا مال بنا لو یا اسے صدقہ و خیرات کر دو۔ جو مال تمہیں بغیر کسی حرص و لالچ اور سوال کے ملے اسے لے لیا کرو، اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے اپنے آپ کو مت لگایا کرو۔“

📚 (صحیح بخاری: 1473 – صحیح مسلم: 1045)

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1473/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1045/

6 📘 جن کے لیے زکوٰۃ لینا حلال نہیں

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ محمد ﷺ اور آلِ محمد ﷺ کے لیے حلال نہیں

📌 حدیث:
عن أنس رضي الله عنه قال مر النبى صلى الله عليه وسلم بتمرة مسقوطة فقال والله لولا أن تكون من صدقة لأكلتها

📝 ترجمہ:
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے راستے میں پڑی ہوئی ایک کھجور دیکھی تو فرمایا:
”اگر مجھے اس کے صدقہ کے ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اسے کھا لیتا۔“

📚 (صحیح بخاری: 2055 – صحیح مسلم: 1071)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2055/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1071/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📌 حدیث:
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال أخذ الحسن بن على رضي الله عنهما تمرة من تمر الصدقة فجعلها فى فيه فقال النبى صلى الله عليه وسلم: كخ كخ ليطرحها ثم قال أما شعرت أنا لا نأكل الصدقة

📝 ترجمہ:
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لی اور اسے منہ میں ڈال لیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”ٹھہرو! ٹھہرو!“ تاکہ وہ اسے پھینک دیں، پھر فرمایا:
”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے۔“

📚 (صحیح بخاری: 1491 – صحیح مسلم: 1069)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1491/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1069/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📌 حدیث:
عن عبد المطلب بن ربيعة رضی اللہ عنہ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن هٰذه الصدقات إنما هي أوساخ الناس وإنها لا تحل لمحمد ولا لآل محمد

📝 ترجمہ:
عبد المطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”یہ صدقات تو لوگوں (کے مال کا) میل کچیل ہے اور یہ محمد ﷺ اور آلِ محمد کے لیے حلال نہیں۔“

📚 (صحیح مسلم: 167، 168، 1072)
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1072/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

◈ مال دار اور کمائی کی طاقت والے شخص کے لیے زکوٰۃ لینا حلال نہیں

📌 حدیث:
عن عبيد الله بن عدي بن الخيار قال أخبرني رجلان أنهما أتيا النبى صلى الله عليه وسلم وهو فى حجة الوداع وهو يقسم الصدقة فسألاه منها فرفع فينا البصر وخفضه فرآنا جلدين فقال إن شئتما أعطيتكما ولا حظ فيها لغني ولا لقوي مكتسب

📝 ترجمہ:
عبید اللہ بن عدی بن خیار بیان کرتے ہیں دو آدمیوں نے مجھے بتایا کہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ اس وقت صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ انہوں نے آپ سے صدقہ کی درخواست کی تو آپ نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا، پھر نظر جھکا لی۔ آپ ﷺ نے ہمیں طاقت ور دیکھ کر فرمایا:
”اگر تم چاہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں، لیکن اس میں کسی مال دار شخص اور کمائی کی طاقت رکھنے والے شخص کے لیے کوئی حصہ نہیں۔“

📚 (سنن ابی داؤد: 1633، اسناده صحيح)
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1633/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📌 حدیث:
عن عبد الله بن عمرو عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: لا تحل الصدقة لغني ولا لذي مرة سوي

📝 ترجمہ:
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”زکوٰۃ مال دار اور تندرست آدمی کے لیے حلال نہیں ہے۔“

📚 (سنن ابی داؤد: 1634، اسناده حسن)
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1634/

7 📗 زکوۃ کے متفرق مسائل

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

✅ ◈ زکوۃ دینے والے کو برکت کی دعا دینا

سمعت عبد الله بن أبى أوفى رضى الله عنه يقول:
كان رسول الله ﷺ إذا تصدق إليه أهل بيت بصدقة صلىٰ عليهم، فتصدق أبى بصدقة إليه فقال رسول الله ﷺ:
اللهم صل علىٰ آل أبى أوفىٰ

ترجمہ:
”سیدنا عبد اللہ بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب کسی گھر والے رسول اللہ ﷺ کو صدقات کی ادائیگی کرتے تو آپ ﷺ ان کے لیے دعائے رحمت کرتے۔ جب میرے ابو جان نے رسول اللہ ﷺ کو صدقات ادا کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! ابو اوفی کی آل پر رحمت نازل فرما۔“

📚 حوالہ: (صحیح بخاری: 4166 — صحیح مسلم: 1078)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/4166/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1078/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

✅ ◈ زکوۃ میں کس قسم کا مال لینا چاہیے؟

عن أنس رضي الله عنه:
أن أبا بكر رضي الله عنه كتب له الصدقة التى أمر الله رسوله ﷺ
ولا يخرج فى الصدقة هرمة ولا ذات عوار ولا تيس إلا ما شاء المصدق.

ترجمہ:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں وہ حکم لکھ کر دیا جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو دیا تھا کہ زکوۃ میں بوڑھا اور عیب دار اور نر نہ لیا جائے، البتہ اگر صدقہ وصول کرنے والا مناسب سمجھے تو لے سکتا ہے ۔

📚 حوالہ: (صحیح بخاری: 1455)

https://tohed.com/hadith/bukhari/1455/

عن ابن عباس رضي الله عنهما:
أن رسول الله ﷺ لما بعث معاذا رضى الله عنه إلى اليمن قال فى آخر الحديث:
واجتنبوا كرائم أموال الناس

ترجمہ:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا حکم بنا کر بھیجا تو فرمایا:
(زکوۃ میں) لوگوں کے عمدہ مال لینے سے اجتناب کرنا۔

📚 حوالہ: (صحیح بخاری: 1458)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1458/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

✅ ◈ اگر حکومت زکوۃ لے لے تو کیا کرنا چاہیے؟

عن أنس بن مالك رضى الله عنه أنه قال:
أتى رجل من بني تميم إلى رسول الله ﷺ فقال:
إذا أديت الزكاة إلىٰ رسولك فقد برئت منها إلى الله ورسوله؟
فقال رسول الله ﷺ:
نعم إذا أديتها إلىٰ رسولي فقد برئت منها فلك أجرها وإثمها علىٰ من بدلها

ترجمہ:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: جب میں زکوۃ آپ کے قاصد کو دوں تو کیا میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ہاں بری الذمہ ہو گیا؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
”ہاں! جب تو نے میرے قاصد کو ادا کر دیا تو تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ہاں بری الذمہ ہو گیا۔ تجھے اس کا اجر ملے گا اور جو اس میں ناجائز تصرف کرے گا اس کا گناہ اسی پر ہے۔“

📚 حوالہ: (مسند احمد: 136/3 — اسناده صحيح)
🔗 https://tohed.com/hadith/musnad-ahmad/12394

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

✅ ◈ زکوۃ وصول کرنے والا تحفہ نہ لے

عن أبى حميد الساعدي قال:
استعمل رسول الله ﷺ رجلا من الأسد يقال له ابن اللتبية … على الصدقة
فلما قدم قال: هٰذا لكم وهٰذا لي أهدي لي
فقام رسول الله ﷺ على المنبر فحمد الله وأثنىٰ عليه وقال:
ما بال عامل أبعثه فيقول هٰذا لكم وهٰذا أهدي لي
أفلا قعد فى بيت أبيه أو فى بيت أمه حتىٰ ينظر أيهدىٰ إليه أم لا
والذي نفس محمد بيده لا ينال أحد منكم منها شيئا إلا جاء به يوم القيامة يحمله علىٰ عنقه
بعير له رغاء أو بقرة لها خوار أو شاة تيعر
ثم رفع يديه حتىٰ رأينا عفرتي إبطيه ثم قال:
اللهم هل بلغت مرتين

ترجمہ:
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے بنو اسد کے ایک شخص ابن لتبیہ کو عامل مقرر فرمایا۔ سیدنا عمرو اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اسے زکوۃ وصول کرنے کے لیے (تحصیلدار) مقرر فرمایا تھا۔
جب وہ واپس آیا تو کہنے لگا: یہ آپ ﷺ کا حصہ ہے اور یہ میرا حصہ ہے جو مجھے بطور تحفہ دیا گیا۔
یہ سن کر رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف لائے، اللہ کی حمد و ثنا کی اور پھر فرمایا:
”اس تحصیل دار کا معاملہ کیسا ہے جسے میں نے (زکوۃ وصول کرنے کے لیے) بھیجا اور (واپس آکر) کہتا ہے: یہ تو آپ ﷺ کا مال ہے اور یہ مجھے بطور تحفہ دیا گیا ہے۔ وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر کیوں نہ بیٹھا رہا، پھر دیکھتا کہ اسے تحفہ ملتا ہے یا نہیں۔
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ تم میں سے جو شخص اس طرح سے کوئی مال لے گا (یعنی تحفہ وغیرہ کے نام پر) تو وہ قیامت کے دن اپنی گردن پر اٹھا کر لائے گا: اونٹ ہوگا تو بلبلاتا ہوگا، گائے ہوگی تو چلاتی ہوگی، بکری ہوگی تو ممیاتی ہوگی۔
پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے حتیٰ کہ ہمیں آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی نظر آ گئی۔ آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا:
یا اللہ! میں نے (تیرا حکم) پہنچا دیا۔“

📚 حوالہ: (صحيح مسلم: 4738)
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/4738/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

✅ ◈ شراکت دار زکوۃ میں برابری کے ساتھ شریک ہوں گے

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں فرض زکوۃ کے متعلق تحریر لکھوائی تھی جو رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرمائی کہ:

وما كان من خليطين فإنهما يتراجعان بينهما بالسوية.

ترجمہ:
جو جانور دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہوں، وہ مساوی طور پر زکوۃ کا حصہ نکالیں۔

📚 حوالہ: (صحیح بخاری: 1451)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1451/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━