➊ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُم ۖ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ ۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾
“جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ عطا فرمایا ہے، وہ اس میں بخل کرنا اپنے لیے ہرگز بہتر نہ سمجھیں، بلکہ یہ ان کے لیے نہایت برا ہے۔ عنقریب قیامت کے دن یہی بخیلی ان کے گلے کا طوق بنا دی جائے گی۔”
📖 (3-آل عمران: 180)
🔗 https://tohed.com/tafsir/3/180/
━━━━━━━━━━━━━━━
⚠ پانچ ایسی آزمائشیں جن میں سے ایک زکوٰۃ ادا نہ کرنا ہے:
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:
"يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ، خَمْسٌ إِذَا ابْتُلِيتُمْ بِهِنَّ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تُدْرِكُوهُنَّ:
❶ لَمْ تَظْهَرِ الْفَاحِشَةُ فِي قَوْمٍ قَطُّ حَتَّى يُعْلِنُوا بِهَا إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الطَّاعُونُ وَالْأَوْجَاعُ الَّتِي لَمْ تَكُنْ فِي أَسْلَافِهِمْ۔
❷ وَلَمْ يَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِلَّا أُخِذُوا بِالسِّنِينَ وَشِدَّةِ الْمَئُونَةِ وَجَوْرِ السُّلْطَانِ۔
❸ وَلَمْ يَمْنَعُوا زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ إِلَّا مُنِعُوا الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ، وَلَوْلَا الْبَهَائِمُ لَمْ يُمْطَرُوا۔
❹ وَلَمْ يَنْقُضُوا عَهْدَ اللَّهِ وَعَهْدَ رَسُولِهِ إِلَّا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ۔
❺ وَمَا لَمْ تَحْكُمْ أَئِمَّتُهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ وَيَتَخَيَّرُوا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ۔"
📜 ترجمہ:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
“اے مہاجرین کی جماعت! پانچ باتیں ہیں، جب تم ان میں مبتلا ہو جاؤ گے — اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ تم ان میں مبتلا ہو —
➊ جب کسی قوم میں علانیہ فحاشی (فسق و فجور اور زناکاری) عام ہو جائے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان سے پہلے لوگوں میں نہ تھیں۔
➋ جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور حکمرانوں کے ظلم کا شکار ہو جاتے ہیں۔
➌ جب لوگ اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش روک دیتا ہے، اور اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو ایک قطرہ بھی نہ برستا۔
➍ جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑ دیتے ہیں تو اللہ ان پر باہر کے دشمن مسلط کر دیتا ہے جو ان کے اموال چھین لیتے ہیں۔
➎ اور جب حکمران اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور اللہ کے نازل کردہ احکام کو اختیار نہیں کرتے تو اللہ ان کے درمیان پھوٹ اور اختلاف ڈال دیتا ہے۔”
📖 سنن ابن ماجہ / کتاب الفتن / حدیث: 4019
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/4019/
━━━━━━━━━━━━━━━
➋ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۚ هَٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ﴾
“جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے۔ جس دن اس خزانے کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیاں، پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی، (اور کہا جائے گا:) یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، پس اب اپنے خزانے کا مزہ چکھو۔”
📖 (9-التوبة: 34،35)
🔗 https://tohed.com/tafsir/9/34/
━━━━━━━━━━━━━━━
🔥 سونے، چاندی اور جانوروں کی زکوٰۃ ادا نہ کرنے کا انجام:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
“مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ، فَأُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُكْوَىٰ بِهَا جَنْبُهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ، كُلَّمَا بَرَدَتْ أُعِيدَتْ لَهُ، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَىٰ بَيْنَ الْعِبَادِ...”
📜 ترجمہ:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
❖ جو شخص سونے اور چاندی کا مالک ہو اور اس کا حق (زکوٰۃ) ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کے لیے سونے اور چاندی کی تختیاں بنائی جائیں گی، انہیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان سے اس کے پہلو، پیشانی اور پیٹھ کو داغا جائے گا۔ جب وہ ٹھنڈی ہوں گی تو دوبارہ گرم کر کے عذاب دیا جائے گا۔ یہ سلسلہ اس دن جاری رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہو گی، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے، پھر وہ اپنا راستہ دیکھے گا — جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔
❖ جو شخص اونٹوں کی زکوٰۃ ادا نہ کرے، قیامت کے دن اسے ہموار میدان میں اوندھا لٹایا جائے گا، اور وہ اونٹ موٹے تازے ہو کر آئیں گے، ایک بھی کم نہ ہو گا۔ وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے اور منہ سے کاٹیں گے۔ جب پہلا گزر جائے گا تو دوسرا آ جائے گا۔ یہ سلسلہ پچاس ہزار سال کے دن تک جاری رہے گا۔
❖ جو شخص گائے اور بکریوں کی زکوٰۃ ادا نہ کرے، اسے بھی ہموار میدان میں لٹایا جائے گا، اور وہ جانور اپنے سینگوں سے ماریں گے اور کھروں سے روندیں گے۔ نہ کوئی بغیر سینگ کے ہو گا، نہ ٹوٹے سینگ والا۔ یہ عذاب بھی مسلسل جاری رہے گا، یہاں تک کہ فیصلہ ہو جائے۔
📖 صحیح بخاری: 1402
📖 صحیح مسلم: 987
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/987/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1460/
━━━━━━━━━━━━━━━
⚖ سبق حاصل کریں!
زکوٰۃ محض مالی عبادت نہیں بلکہ ایمان کا عملی تقاضا ہے۔ اس کی ادائیگی میں کوتاہی دنیا میں قحط اور آسمانی محرومی کا سبب بنتی ہے، اور آخرت میں سخت ترین آگ کے عذاب کا باعث۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اموال کی زکوٰۃ صحیح طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔