➏ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے لقب ‘صدیق’ کی وجہِ تسمیہ
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت یہ خبر دی کہ وہ رات کو مسجدِ اقصیٰ گئے اور وہاں سے آسمانوں پر تشریف لے گئے، تو بہت سے لوگوں نے اس پر یقین نہ کیا، حتیٰ کہ بعض نئے نئے مسلمان بھی اس واقعے کو سن کر ایمان سے پھر گئے۔ لوگ دوڑتے ہوئے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہا:
“کیا آپ نے سنا؟ آپ کے ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ آج کی رات بیت المقدس ہو کر آئے ہیں۔”
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا:
“کیا انہوں نے واقعی ایسا کہا ہے؟”
لوگوں نے کہا:
“ہاں!”
تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“اگر انہوں نے کہا ہے تو یقیناً سچ ہی کہا ہے۔”
لوگوں نے کہا:
“کیا تم اس بات کی تصدیق کرتے ہو کہ وہ رات کو بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے؟”
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“ہاں! میں تو ان کی اس سے بھی بڑی باتوں کی تصدیق کرتا ہوں۔ میں تو صبح و شام آسمان سے آنے والی وحی کی بھی تصدیق کرتا ہوں۔”
اسی وجہ سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا لقب الصدیق رکھا گیا۔
📖 الصحيحة للألباني، ج: 2، رقم الحديث: 306
➐ مشاطۂ فرعون کا حسن انجام
مشاطہ کے معنی ہیں بالوں کو بنانے سنوارنے والی، بالوں میں کنگھی پھیرنے والی۔ فرعون نے اپنے اہلِ خانہ کی خدمت کے لیے ایک مشاطہ مقرر کر رکھی تھی (جسے آج کی اصطلاح میں بیوٹی میکر کہا جا سکتا ہے)۔ یہ عورت فرعون کو رب نہیں مانتی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کو ہی اپنا رب ماننے والی تھی۔
ایک مرتبہ وہ فرعون کی بیٹی کے بالوں میں کنگھی پھیر رہی تھی کہ اس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی، تو اس کے منہ سے بے اختیار یہ الفاظ نکل گئے: “فرعون ہلاک ہو”۔ فرعون کی بیٹی نے یہ بات اپنے باپ کو بتا دی، جس پر فرعون نے اس مشاطہ کو قتل کروا دیا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“معراج کی رات میں نے ایک نہایت پاکیزہ خوشبو محسوس کی۔ میں نے پوچھا: جبریل! یہ خوشبو کیا ہے؟
جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ مشاطہ، اس کا خاوند اور اس کی بیٹی ہے۔”
📚 الإسراء والمعراج للألباني، ص: 56
شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت سنداً ضعیف ہے، لیکن اس کا ایک اور شاہد موجود ہے جس کی وجہ سے اسے تقویت حاصل ہو جاتی ہے۔
📚 الإسراء والمعراج للألباني، ص: 57
➑ حجامت (سینگی لگوانے) کی اہمیت
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ معراج کے بارے میں فرمایا:
ما مررت ليلة أسري بي بملإ، إلا قالوا: يا محمد! مر أمتك بالحجامة
ترجمہ:
“میں معراج کی رات فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے بھی گزرا، وہ یہی کہتے تھے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اپنی امت کو سینگی لگوانے کا حکم دیں۔”
📖 سنن ابن ماجه، كتاب الطب، باب الحجامة، حدیث: 3479
📖 الصحيحة للألباني، حدیث: 2263
سینگی لگانے کو پچھنے لگانا بھی کہا جاتا ہے، یعنی نشتر یا استرے کے ذریعے جسم سے خون نکالنا۔ (نوراللغات)
یہ ایک قدیم طریقۂ علاج ہے جس سے فاسد خون نکل جاتا ہے اور اس کے نکلنے سے انسان کو شفا حاصل ہوتی ہے۔ یونانی طب کے زوال کے ساتھ یہ طریقہ علاج بھی کافی حد تک متروک ہو گیا، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ طریقہ رائج تھا اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی متعدد مرتبہ سینگی لگوائی، جسے عربی میں حجامت کہا جاتا ہے۔ اس حدیثِ معراج سے بھی اس طریقۂ علاج کی اہمیت اور فضیلت واضح ہوتی ہے۔
➒ حضرت جبریل علیہ السلام کا ایک اور منظر (خشیتِ الٰہی)
یہ پہلے گزر چکا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا۔ ان میں سے ایک موقع شبِ معراج کا ہے، جس میں آپ نے جبریل علیہ السلام کو سبز رنگ کے ریشمی لباس میں دیکھا، جس نے آسمانی افقوں کو بھر دیا تھا۔
📖 صحیح البخاري، تفسير سورة النجم، حديث: 4858
لیکن اسی معراج کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کا ایک اور منظر بھی ملاحظہ فرمایا، جب ان پر اللہ تعالیٰ کی خشیت طاری تھی۔ اس خشیتِ الٰہی نے ان کی کیفیت ایسی بنا دی تھی جیسے پرانا بوسیدہ ٹاٹ ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مررت بجبريل ليلة أسري بي بالملإ الأعلىٰ، وهو كالحلس البالي من خشية الله عزوجل
ترجمہ:
“میں شبِ معراج ملأِ اعلیٰ (فرشتوں کی مجلس) میں جبریل علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو وہ اللہ عزوجل کے خوف سے ایسے تھے جیسے پرانا بوسیدہ ٹاٹ ہوتا ہے۔”
📖 الصحيحة للألباني، ج: 5، حدیث: 2289
➓ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتِ محمدیہ کے نام خصوصی پیغام
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لقيت إبراهيم ليلة أسري بي فقال: يا محمد! أقرئ أمتك مني السلام، وأخبرهم أن الجنة طيبة التربة، عذبة الماء، وأنها قيعان، وأن غراسها: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر
ترجمہ:
“شبِ معراج میری ملاقات حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی۔ انہوں نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! میری طرف سے اپنی امت کو سلام کہیے اور انہیں بتائیے کہ جنت کی مٹی بڑی عمدہ ہے، اس کا پانی میٹھا ہے، لیکن وہ چٹیل میدان ہے، اس میں کاشت کرنے کی ضرورت ہے، اور اس کی کاشت کاری یہ کلمات ہیں: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر۔”
📖 جامع الترمذي، كتاب الدعوات، باب أن غراس الجنة، حديث: 3462
⓫ لا حول ولا قوة إلا بالله کی فضیلت
ایک دوسری روایت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا:
مر أمتك فليكثروا من غراس الجنة، فإن تربتها طيبة، وأرضها واسعة
قال: وما غراس الجنة؟
قال: لا حول ولا قوة إلا بالله
ترجمہ:
“اپنی امت سے کہیں کہ وہ جنت میں خوب کاشت کاری کریں، اس لیے کہ اس کی مٹی بڑی عمدہ اور اس کی زمین بہت فراخ ہے۔”
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: “جنت کی کاشت کاری کیا ہے؟”
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: لا حول ولا قوة إلا بالله۔
📖 مسند أحمد، ج: 5، ص: 418
شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے ان دونوں روایات کو شواہد کی بنیاد پر صحیح قرار دیا ہے۔
📚 الصحيحة، ج: 1، ص: 165–166، حديث: 105
📚 الإسراء والمعراج للألباني، ص: 99–107