واٹساپ دعوتی مواد واقعہ معراج

واقعہ معراج

22 پیغامات

1 📘 معراج: اسراء اور معراج کی وضاحت

معراج کے دو حصے ہیں: پہلے حصے کو اسراء اور دوسرے کو معراج کہا جاتا ہے، لیکن عرفِ عام میں دونوں ہی کو معراج سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

اسراء کا ذکر سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں ہے، یعنی مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ (بیت المقدس) تک کا سفر۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا﴾

ترجمہ:
پاک ہے وہ ذات جو رات کے ایک تھوڑے سے حصے میں اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی، جس کے آس پاس ہم نے برکت رکھی ہے، تاکہ ہم اسے اپنی قدرت کے کچھ نمونے دکھائیں۔

📖 بنی اسرائیل: 1

مسجدِ حرام (خانۂ کعبہ) مکہ میں ہے اور مسجدِ اقصیٰ (بیت المقدس) فلسطین کے شہر القدس میں ہے، جس کا پرانا نام ”ایلیا“ ہے۔ مکہ سے القدس تک کی مسافت پرانے زمانے کے مطابق، جب آمدورفت کے برق رفتار ذرائع موجود نہیں تھے، چالیس دن کی تھی، لیکن یہ چالیس دن کی مسافت اس رات اللہ تعالیٰ کے حکم سے رات کے ایک تھوڑے سے حصے میں، گویا پلک جھپکنے میں طے ہوگئی۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کا آغاز لفظ (سُبْحَانَ) سے کیا، جو (سَبَّحَ يُسَبِّحُ) کا مصدر ہے۔ اس کے معنی ہیں: (انزه الله تنزيها) یعنی ”میں اللہ کی ہر نقص سے تنزیہ اور براءت کرتا ہوں۔“ عام طور پر اس لفظ کا استعمال ایسے موقعوں پر ہوتا ہے جب کسی عظیم الشان واقعے کا ذکر ہو۔ اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے نزدیک ظاہری اسباب کے اعتبار سے یہ واقعہ کتنا ہی محال کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں، کیونکہ وہ اسباب کا پابند نہیں۔ وہ تو لفظ کُن سے پلک جھپکتے جو چاہے کر سکتا ہے۔ اسباب انسانوں کے لیے ہیں، اللہ تعالیٰ ان پابندیوں اور کمزوریوں سے پاک ہے۔

معراج (عَرَجَ يَعْرُجُ) سے اسمِ آلہ ہے، جس کے معنی ”چڑھنے“ کے ہیں۔ معراج کے معنی ہوں گے: ”چڑھنے کا آلہ، یعنی سیڑھی“۔ مسجدِ اقصیٰ سے نبی ﷺ کو آسمانوں پر لے جایا گیا۔ اس کے لیے نبی ﷺ نے حدیث میں “عُرِجَ بي” یعنی ”مجھے آسمانوں پر چڑھایا گیا“ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ علاوہ ازیں بعض روایات میں معراج کی سیڑھی کا ذکر بھی ملتا ہے کہ اس کے ذریعے آسمانوں پر لے جایا گیا، اسی لیے آسمانی سفر کے اس دوسرے حصے کو معراج کہا جاتا ہے۔ اس واقعے کا کچھ ذکر اللہ تعالیٰ نے سورہ نجم میں کیا ہے اور اس کی دیگر تفصیلات احادیث میں بیان ہوئی ہیں۔

2 📘 اسراء و معراج ایک عظیم معجزہ (بیداری کا سفر)

ظاہر بات ہے کہ چالیس روز کا سفر رات کے ایک تھوڑے سے حصے میں کر لینا کسی انسان کے بس کی بات نہیں، اسی طرح رات کے اس حصے میں آسمانوں کی سیر کر لینا بھی ظاہری طور پر ایک انہونا واقعہ ہے، لیکن جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو یعنی اس میں اس کی قدرت کی کارفرمائی اور اس کی مشیت کی جلوہ فرمائی ہو تو پھر اس میں استبعاد کسی مسلمان کے شایاں نہیں۔ اسی لیے اس قسم کے واقعات کو معجزات کہا جاتا ہے، یعنی کوئی انسان اپنے طور پر ان کو کرنے پر قادر نہیں، وہ صرف اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت ہی سے وجود پذیر ہوتے ہیں۔ ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی انسان ہی تھے، وہ ازخود اس طرح بیت المقدس جا سکتے تھے نہ وہاں سے آسمانوں پر چڑھ سکتے تھے، یہ سب کچھ اعجاز اور شان اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ہے۔

🔸 یہ کشف اور روحانی مشاہدہ نہیں تھا بلکہ بجسدہ العنصری (روح اور بدن سمیت) ایک سفر تھا، اسی لیے علمائے کرام کا متفقہ عقیدہ ہے کہ یہ کشف اور روحانی مشاہدہ نہیں تھا بلکہ عالم بیداری کا واقعہ ہے، آپ فی الواقع اپنی روح اور بدن سمیت پہلے بیت المقدس اور پھر وہاں سے آسمانوں پر تشریف لے گئے۔

🔸 اسراء کے معنی ہی روح و بدن سمیت لے جانے کے ہیں، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اسی لفظ کو ایک اور مقام پر بھی بیان فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا:

﴿فَأَسْرِ بِعِبَادِي لَيْلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ﴾
ترجمہ:
"اے موسیٰ! میرے بندوں کو راتوں رات (فرعون کے پنجے سے) نکال کر لے جا، یقیناً تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔”
📖 الدخان: 23

یہاں بنو اسرائیل کو لے جانے کا حکم روحانی طور پر نہیں تھا بلکہ واقعی حقیقی طور پر لے جانے کا تھا، چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام واقعی اپنی قوم کو نکال کر لے گئے، پھر فرعون نے ان کا تعاقب کیا۔ یہی لفظ (أَسْرَىٰ) اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کے سفر کے لیے بھی استعمال فرمایا ہے: (أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ) پس اس کے بھی وہی معنی ہوں گے جو (أَسْرِ بِعِبَادِي) کے ہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک جگہ اس کے معنی روحانی سیر کے ہوں اور دوسری جگہ واقعی روح و بدن سمیت لے جانے کے۔

🔸 حدیث میں آتا ہے کہ جب کفار و مکذبین نے سوالات کیے تو اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کر دیا اور آپ اسے دیکھ دیکھ کر جواب دیتے رہے۔ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں:

لما كذبني قريش قمت فى الحجر فجلى الله لي بيت المقدس فطفقت أخبرهم عن آياته وأنا أنظر إليه
ترجمہ:
"جب قریش نے مجھے جھٹلایا تو میں حجر (حطیم) میں کھڑا ہو گیا، پس اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس میرے سامنے لا کھڑا کیا اور میں اسے دیکھ دیکھ کر ان کو بتلاتا رہا۔”
📖 صحيح البخاري، مناقب الأنصار، باب حديث الإسراء، حديث: 3886
📖 صحيح مسلم، الإيمان، حديث: 170

اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے:

لقد رأيتني فى الحجر وقريش تسألني عن مسراي، فسألتني عن أشياء من بيت المقدس لم أثبتها، فكربت كربة ما كربت مثله قط – قال – فرفعه الله لي أنظر إليه، ما يسألوني عن شيء إلا أنبأتهم به
ترجمہ:
"میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں حجر میں ہوں اور قریش مجھ سے میری سیر معراج کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں، پس انہوں نے بیت المقدس کے بارے میں ایسی چیزیں پوچھیں جنہیں میں اچھی طرح یاد نہیں رکھ سکا تھا تو میں بہت پریشان ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا کہ میں اسے دیکھنے لگا، پھر وہ جو بھی سوال کرتے میں انہیں بتلاتا رہا۔”
📖 صحيح مسلم، الإيمان، باب ذكر المسيح ابن مريم والمسيح الدجال، حديث: 172

3 📘 رؤیا نہیں بلکہ بیداری کا مشاہدہ

ایک اور روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ مکہ میں صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس اندیشے میں پریشان تھے کہ لوگ اس واقعے کو مانیں گے نہیں اور جھٹلائیں گے۔ اسی حالت میں ابو جہل آیا اور استہزا کے انداز میں پوچھا کہ کوئی خاص بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ہاں!” اس نے پوچھا: کیا؟ فرمایا: “آج رات مجھے سیر کرائی گئی ہے۔” اس نے پوچھا: کہاں تک؟ فرمایا: “بیت المقدس تک۔” اس نے کہا: پھر صبح آپ ہمارے درمیان بھی موجود ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ہاں!” پھر اس نے قریش کو جمع کیا اور سب کے سامنے یہی بات دہرائی گئی۔ کچھ لوگوں نے تالیاں بجائیں، کچھ نے تعجب سے سر پکڑ لیے، اور جنہوں نے بیت المقدس دیکھا ہوا تھا انہوں نے مسجد اقصیٰ کی صفات پوچھیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے مسجد کی صفات بیان کرنا شروع کیں، یہاں تک کہ بعض چیزوں میں مجھے التباس ہونے لگا، تو مسجد میرے سامنے کر دی گئی، میں اسے دیکھتا رہا اور اس کی صفات بیان کرتا رہا، یہاں تک کہ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! اس نے سب صفات صحیح بیان کی ہیں۔
📚 مسند أحمد: 309/1، الطبراني: 12782، وسنده صحيح بحوالہ الإسراء والمعراج للألباني، ص: 81–82

اگر یہ خواب کا واقعہ ہوتا تو قریش کے سوالات پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہ تھی، بلکہ آپ فرما دیتے کہ یہ تو خواب تھا، لیکن آپ نے ایسا نہیں فرمایا، جس سے واضح ہو گیا کہ یہ عالمِ بیداری کا واقعہ تھا، نہ کہ محض روحانی کشف و مشاہدہ۔

بعض لوگ قرآن مجید کی اس آیت سے اسے خواب ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں:

﴿وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ﴾
ترجمہ:
اور جو رؤیا ہم نے آپ کو دکھائی، اسے لوگوں کے لیے آزمائش بنا دیا۔
📖 الإسراء: 60

حالانکہ یہاں رؤیا خواب کے معنی میں نہیں بلکہ آنکھوں سے دیکھنے کے معنی میں ہے، کیونکہ عربی زبان میں رؤیا اور رؤیت دونوں آنکھوں کے مشاہدے کے لیے بھی آتے ہیں۔
📚 التفسير المنير، ڈاکٹر وہبہ زحیلی، ج: 15، ص: 111
📚 تفسير القاسمي
📚 تفسير القرطبي

اسی لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

هي رؤيا عين أريها رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة أسري به
ترجمہ:
یہ آنکھوں کا دیکھنا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء و معراج والی رات دکھایا گیا۔
📖 صحيح البخاري، التفسير، حديث: 4716

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کے تحت لکھتے ہیں:

واستدل به على إطلاق لفظ الرؤيا على ما يرى بالعين فى اليقظة
ترجمہ:
اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ رؤیا کا لفظ عالمِ بیداری میں آنکھ سے دیکھنے پر بھی بولا جا سکتا ہے۔
📚 فتح الباري

پس جب عربی لغت، تفسیر اور احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں اور خود قرآن اسے لوگوں کے لیے آزمائش قرار دیتا ہے، تو واضح ہو جاتا ہے کہ اسراء و معراج نہ خواب تھا اور نہ محض روحانی مشاہدہ، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روح و بدن کے ساتھ ایک حقیقی، معجزانہ اور بیداری کا سفر تھا۔

4 📘 بعض راویوں کی تعبیرات سے غلط استدلال اور اس کی حقیقت

بعض حضرات نے چند روایات میں آنے والے الفاظ جیسے «نائم»، «بين النائم واليقظان» یا «ثم استيقظت» سے اسراء و معراج کو خواب قرار دینے کی کوشش کی ہے، مگر یہ استدلال درست نہیں۔

🔸 اولاً یہ تعبیرات اکثر روایات میں موجود نہیں، بلکہ بہت سی روایات میں واضح الفاظ ہیں جو اس واقعے کی اعجازی شان اور بیداری کو ظاہر کرتے ہیں۔
🔸 ثانیاً نائم سے مراد وہ ابتدائی حالت ہے جب فرشتے آئے، یعنی ابتدا میں آپ ﷺ آرام فرما تھے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ پورا واقعہ نیند ہی میں پیش آیا۔
🔸 اسی طرح بين النائم واليقظان کا مطلب گہری نیند کی نفی ہے، نہ کہ خواب کا اثبات، اور یہ بھی ابتدائی کیفیت کی تعبیر ہے۔

🔸 قصے کے آخر میں بعض روایات کے الفاظ «ثم استيقظت» کو ائمہ حدیث نے راوی شریک بن عبد اللہ کا وہم قرار دیا ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وقدم فيه شيئا وأخر، وزاد ونقص
ترجمہ:
اس نے روایت میں آگے پیچھے کیا اور کمی بیشی کر دی۔
📖 صحيح مسلم، الإيمان، باب الإسراء، حديث: 162

امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

وقد جاء فى رواية شريك فى هذا الحديث: فى الكتاب أوهام أنكرها العلماء
ترجمہ:
شریک کی اس روایت میں کئی اوہام ہیں جنہیں علماء نے تسلیم نہیں کیا۔
📚 شرح نووی، 2/209

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وقوله فى حديث شريك عن أنس: ثم استيقظت فإذا أنا فى الحجر، معدود فى غلطات شريك
ترجمہ:
شریک کی روایت میں «پھر میں بیدار ہوا» اس کی غلطیوں میں شمار کیا گیا ہے۔
📚 البداية والنهاية، 2/112
📚 تفسير ابن كثير، 5/5–6

🔸 مزید یہ کہ عربی اسلوب میں استيقظ کا استعمال ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف انتقال کے لیے بھی ہوتا ہے، جیسا کہ خود نبی ﷺ کے دیگر واقعات میں ثابت ہے، لہٰذا اس سے خواب مراد لینا ضروری نہیں۔

🔸 اسی طرح قرآن کی آیت:

﴿وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ﴾
ترجمہ:
اور جو رؤیا ہم نے آپ کو دکھائی، اسے لوگوں کے لیے آزمائش بنا دیا۔
📖 الإسراء: 60

اس میں رؤیا خواب کے معنی میں نہیں بلکہ آنکھوں سے دیکھنے کے معنی میں ہے، جیسا کہ عربی لغت اور تفاسیر سے ثابت ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

هي رؤيا عين أريها رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة أسري به
ترجمہ:
یہ آنکھوں کا دیکھنا تھا جو رسول اللہ ﷺ کو اسراء و معراج کی رات دکھایا گیا۔
📖 صحيح البخاري، التفسير، حديث: 4716

🔸 اسراء و معراج کا واقعہ چوبیس سے زائد صحابہ سے مروی ہے اور تواترِ معنوی کے درجے کو پہنچتا ہے، لہٰذا بعض راویوں کے وہم یا تعبیر کی بنا پر پورے واقعے کو خواب قرار دینا درست نہیں۔

🔸 متعدد اسراء و معراج کا قول بھی صحیح نہیں۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وإذا حصل الوقوف على مجموع هذه الأحاديث … والحق أنه عليه السلام أسري به يقظة لا مناما من مكة إلى بيت المقدس راكبا البراق
ترجمہ (خلاصہ):
تمام روایات کے مجموعے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کو ایک ہی مرتبہ مکہ سے بیت المقدس تک بیداری کی حالت میں براق پر لے جایا گیا، خواب میں نہیں۔
📚 تفسير ابن كثير، 5/39–40

🔸 نتیجتاً راویوں کے اختلافِ تعبیر سے نہ تو واقعہ معراج مشکوک ہوتا ہے، نہ خواب ثابت ہوتا ہے، بلکہ صحیح بات یہی ہے کہ اسراء و معراج ایک ہی مرتبہ، روح و بدن کے ساتھ، عالمِ بیداری میں پیش آنے والا عظیم معجزہ ہے۔

5 📘 حضرت عائشہؓ اور حضرت معاویہؓ کی طرف منسوب اقوال کی حقیقت

بعض لوگ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب بعض اقوال سے اسراء و معراج کو محض روحانی مشاہدہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ یہ استدلال درست نہیں۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب قول یہ بیان کیا جاتا ہے:

يعقوب بن عتبة أن معاوية بن أبى سفيان كان إذا سئل عن مسرى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: كانت رؤيا من الله صادقة
ترجمہ:
یعقوب بن عتبہ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے جب رسول اللہ ﷺ کی معراج کے بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ایک سچا خواب تھا۔
📖 تفسير ابن جرير الطبري، سورة الإسراء: 9/16

اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف یہ قول منسوب کیا جاتا ہے:

عن محمد بن إسحاق قال حدثني بعض آل أبى بكر أن عائشة كانت تقول: ما فقد جسد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولكن الله أسرى بروحه
ترجمہ:
محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے بعض آل ابی بکر نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ کا جسم مبارک مفقود نہیں ہوا بلکہ اللہ نے آپ ﷺ کی روح کو لے گیا۔
📖 تفسير ابن جرير الطبري، سورة الإسراء: 9/16

🔸 ان دونوں اقوال پر اعتماد درست نہیں، کیونکہ پہلی روایت منقطع ہے؛ یعقوب بن عتبہ کی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت ہی نہیں۔
🔸 دوسری روایت میں بعض آل ابی بکر مجہول ہیں، یعنی یہ معلوم نہیں کہ وہ کون شخص ہے، اس لیے یہ روایت بھی سند کے اعتبار سے قابلِ حجت نہیں۔

🔸 مزید یہ کہ واقعۂ معراج کے وقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہی نہیں تھے، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس وقت کم عمر تھیں، نہ انہوں نے اس واقعے کا مشاہدہ کیا اور نہ اسے براہِ راست نبی ﷺ سے روایت کیا، اس لیے اس معاملے میں ان کی طرف منسوب رائے کو بنیاد بنانا درست نہیں۔

اسی حقیقت کو امام قرطبی رحمہ اللہ نے واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے:

وقد اعترض قول عائشة ومعاوية، بأنها كانت صغيرة لم تشاهد ولا حدثت عن النبي، وأما معاوية فكان كافرا فى ذلك الوقت غير مشاهد للحال ولم يحدث عن النبى صلى الله عليه وسلم
ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اقوال پر اعتراض کیا گیا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس وقت بچی تھیں، انہوں نے نہ اس واقعے کا مشاہدہ کیا اور نہ اسے نبی ﷺ سے بیان کیا، اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس وقت کافر تھے، وہ بھی نہ اس حال کے گواہ تھے اور نہ انہوں نے یہ بات نبی ﷺ سے نقل کی ہے۔
📖 تفسير القرطبي، سورة الإسراء: 10/209

6 📘 علمائے اسلام، محدثین اور مفسرینِ امت کی صراحت

جمہور علمائے اسلام، محدثین اور مفسرین نے واضح طور پر اس بات کی صراحت کی ہے کہ اسراء و معراج ایک ہی رات میں، عالمِ بیداری میں، نبی ﷺ کے روح و بدن کے ساتھ واقع ہوا، اور یہی قرآن و صحیح احادیث کا ظاہر ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وقد اختلف السلف بحسب اختلاف الأخبار الواردة… وإلى هذا ذهب الجمهور من علماء المحدثين والفقهاء والمتكلمين… ولا ينبغي العدول عن ذلك، إذ ليس فى العقل ما يحيله حتى يحتاج إلى تأويل
ترجمہ:
سلف میں روایات کے اختلاف کے سبب کچھ اختلاف پایا جاتا ہے، مگر جمہور محدثین، فقہاء اور متکلمین کا یہی مسلک ہے کہ اسراء و معراج ایک ہی رات میں، عالمِ بیداری میں، نبی ﷺ کے روح و بدن کے ساتھ واقع ہوا، اور صحیح احادیث کا ظاہر اسی پر دلالت کرتا ہے، اس سے انحراف کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ عقل میں اس کے ناممکن ہونے کی کوئی بات نہیں۔
📚 فتح الباري

قاضی عیاض رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

وذهب معظم السلف والمسلمين إلى أنه إسراء بالجسد وفي اليقظة وهذا هو الحق
ترجمہ:
سلف اور مسلمانوں کی اکثریت کا یہی مسلک ہے کہ اسراء جسمانی تھا اور عالمِ بیداری میں ہوا، اور یہی حق ہے۔
📚 الشفا بتعريف حقوق المصطفى

اسی قاضی عیاض رحمہ اللہ نے مزید فرمایا:

والحق… أنه إسراء بالجسد والروح فى القصة كلها… ولو كان مناما لما كانت فيه آية ولا معجزة…
ترجمہ:
حق بات یہی ہے کہ اسراء و معراج پورا کا پورا روح و بدن کے ساتھ ہوا۔ اگر یہ خواب ہوتا تو نہ یہ معجزہ بنتا، نہ کافر اس کا انکار کرتے اور نہ ضعیف الایمان لوگ فتنے میں پڑتے۔
📚 تفسير القاسمي: 10/189–190

امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

الصواب من القول… أن الله أسرى بعبده محمد صلى الله عليه وسلم من المسجد الحرام إلى المسجد الأقصى… ولا وجه لقول من قال: أسرى بروحه دون جسده
ترجمہ:
ہمارے نزدیک صحیح قول یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے محمد ﷺ کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی، اور یہ کہنا بے بنیاد ہے کہ صرف روح کو لے جایا گیا، جسم کو نہیں۔
📖 تفسير الطبري، سورة بني إسرائيل، 15/16–17

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

أكثر العلماء على أنه إسراء بالجسد فى اليقظة… لقوله تعالى: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ﴾
ترجمہ:
اکثر علماء کا مذہب یہی ہے کہ اسراء جسمانی اور بیداری میں ہوا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو لے گئی”، اور عبد روح و جسم دونوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔
📚 تفسير ابن كثير: 5/40–41

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ثبت الإسراء فى جميع مصنفات الحديث… فهو من المتواتر… وذهب معظم السلف والمسلمين إلى أنه كان إسراء بالجسد وفي اليقظة
ترجمہ:
اسراء کا واقعہ تمام کتبِ حدیث میں ثابت ہے اور صحابہ سے متواتر مروی ہے، اور سلف و مسلمانوں کی اکثریت کا یہی قول ہے کہ یہ جسمانی اور عالمِ بیداری میں ہوا۔
📚 تفسير القرطبي: 10/205–209

اسی طرح حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے تواتر کا ذکر کرتے ہوئے متعدد صحابہ کے نام گنوائے اور فرمایا کہ:

الإسراء والمعراج قد أجمع عليه المسلمون ولم يعترض عليه إلا الزنادقة
ترجمہ:
اسراء و معراج پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے، اور اس پر اعتراض صرف زنادقہ نے کیا ہے۔
📚 تفسير ابن كثير: 5/42

🔹 خلاصۂ دلائل:

➤ قرآن میں ﴿أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ﴾ آیا، روح کا ذکر نہیں
➤ صحیح احادیث میں براق، بیت المقدس، نماز اور مشاہدات کا ذکر
➤ اگر خواب ہوتا تو نہ معجزہ بنتا، نہ انکار و فتنہ پیدا ہوتا
➤ جمہور سلف، محدثین، فقہاء اور مفسرین کا متفقہ موقف: بیداری، جسم و روح کے ساتھ

یہی امت کا مسلک اور یہی حق ہے۔

7 📘 واقعۂ معراج: صحیح احادیث کی روشنی میں

اب ہم واقعۂ معراج کو صحیح احادیث کی روشنی میں بیان کرتے ہیں۔ حسنِ اتفاق سے اس عظیم واقعے کی بیشتر تفصیلات صحیحین (بخاری و مسلم) میں محفوظ ہیں، جس سے اس کی اسنادی قوت اور وضاحت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔

🔹 صحیح بخاری میں واقعۂ معراج کی مفصل روایات
➤ كتاب الصلاة، باب كيف فرضت الصلاة في الإسراء
📖 حديث: 349

➤ كتاب بدء الخلق، باب ذكر الملائكة
📖 حديث: 3207

➤ كتاب مناقب الأنصار، باب المعراج
📖 حديث: 3887

➤ كتاب التوحيد، باب ما جاء في قوله عز وجل: ﴿وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا﴾
📖 حديث: 7515

🔹 صحیح بخاری میں واقعے کی دیگر جزئیات
➤ كتاب مناقب الأنصار، باب حديث الإسراء
📖 حديث: 3886

➤ كتاب أحاديث الأنبياء، باب قول الله تعالى: ﴿وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ﴾
📖 حديث: 336–3394

➤ كتاب التفسير، باب أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا
📖 حديث: 4709–4710

➤ تفسير سورة النجم
📖 حديث: 4855–4858

🔹 صحیح مسلم میں واقعۂ معراج
➤ كتاب الإيمان، باب الإسراء برسول الله ﷺ إلى السموات وفرض الصلوات
📖 صحيح مسلم

یہ تمام روایات مختلف صحابہ سے مروی ہیں، اسی لیے ان میں بعض جزوی تفصیلات کا باہم مختلف ہونا فطری امر ہے۔ جب کسی عظیم واقعے کو متعدد لوگ بیان کریں تو تفصیلات میں ایسا اختلاف عموماً پایا جاتا ہے، اور یہی معاملہ اسراء و معراج کی روایات میں بھی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ ان جزوی اختلافات یا بعض اوہام کی بنا پر نفسِ واقعہ کی اسنادی حیثیت متاثر نہیں ہوتی۔ ائمۂ حدیث اور شارحینِ حدیث نے ان اختلافات کی نشاندہی بھی کی ہے اور جہاں تطبیق ممکن تھی وہاں جمع و تطبیق بھی پیش کی ہے، جس کے بعد واقعۂ معراج اپنی اصل صورت میں بالکل واضح اور بے غبار ہو جاتا ہے۔

8 📘 واقعۂ معراج — صحیح بخاری کی روایت (ترجمہ)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ، حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نے اس رات کا واقعہ بیان فرمایا جس میں آپ کو معراج کرائی گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

میں ایک وقت حطیم میں (اور بعض دفعہ فرمایا: حجر میں) لیٹا ہوا تھا — اور حطیم و حجر ایک ہی جگہ ہے — کہ ایک آنے والا میرے پاس آیا، اس نے میرا سینہ سینے سے ناف تک چاک کیا، میرا دل نکالا، پھر سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان و حکمت سے بھرا ہوا تھا، میرے دل کو دھویا گیا، ایمان و حکمت سے بھر کر اسے اپنی جگہ لوٹا دیا گیا۔

پھر ایک سفید جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا، اسے بُراق کہا جاتا تھا، وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں اس کی نگاہ کی آخری حد ہوتی۔ مجھے اس پر سوار کیا گیا اور جبریل علیہ السلام مجھے لے کر چلے، یہاں تک کہ ہم پہلے آسمان پر پہنچے۔

جبریل نے دروازہ کھولنے کو کہا۔ پوچھا گیا: کون ہے؟
کہا: میں جبریل ہوں۔
پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟
کہا: محمد ﷺ ہیں۔
پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟
کہا: ہاں۔
کہا گیا: خوش آمدید، کیا ہی مبارک آنے والے ہیں۔

دروازہ کھولا گیا۔ وہاں آدم علیہ السلام تھے۔ جبریل نے کہا: یہ آپ کے باپ آدم ہیں، انہیں سلام کریں۔ میں نے سلام کیا، انہوں نے جواب دیا اور کہا: خوش آمدید نیک بیٹے اور نیک نبی۔

پھر جبریل مجھے دوسرے آسمان پر لے گئے، وہاں یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام تھے۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا: خوش آمدید نیک بھائی اور نیک نبی۔

پھر تیسرے آسمان پر یوسف علیہ السلام، چوتھے پر ادریس علیہ السلام، پانچویں پر ہارون علیہ السلام، چھٹے پر موسیٰ علیہ السلام اور ساتویں آسمان پر ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ ہر آسمان پر یہی کہا جاتا رہا: خوش آمدید، کیا ہی مبارک آنے والے ہیں۔

چھٹے آسمان پر موسیٰ علیہ السلام رو پڑے اور فرمایا: میں اس لیے روتا ہوں کہ میرے بعد آنے والا یہ نبی، اس کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ جنت میں جائیں گے۔

پھر مجھے سدرة المنتہٰی کی طرف لے جایا گیا، اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں جیسے تھے اور اس کا پھل ہجر کے مٹکوں جیسا تھا۔ وہاں چار نہریں تھیں: دو جنت کے اندر اور دو باہر۔ جبریل نے بتایا کہ اندر والی جنت کی نہریں ہیں اور باہر والی نیل اور فرات ہیں۔

پھر بیت المعمور میرے سامنے بلند کیا گیا۔ اس کے بعد تین برتن لائے گئے: ایک میں شراب، ایک میں دودھ اور ایک میں شہد۔ میں نے دودھ کا پیالہ لے لیا۔ جبریل نے کہا: یہ وہ فطرت ہے جس پر آپ اور آپ کی امت ہے۔

پھر مجھ پر ایک دن اور رات میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ واپسی میں موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ کی امت پچاس نمازیں ادا نہیں کر سکے گی، اپنے رب سے تخفیف کا سوال کریں۔ میں بار بار واپس گیا اور ہر مرتبہ دس نمازیں کم ہوتی رہیں، یہاں تک کہ پانچ نمازیں رہ گئیں۔

موسیٰ علیہ السلام نے پھر فرمایا کہ مزید تخفیف کروائیں، مگر نبی ﷺ نے فرمایا: میں بار بار سوال کر چکا ہوں، اب مجھے شرم آتی ہے، میں اسی پر راضی ہوں۔ پھر ایک منادی نے اعلان کیا:

میں نے اپنا فریضہ قائم کر دیا اور اپنے بندوں سے تخفیف کر دی۔

📖 حوالہ:

صحیح البخاری، كتاب مناقب الأنصار، باب المعراج، حديث: 3887

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3887

9 📘 واقعۂ معراج سے متعلق اہم توضیحات (مختصر، دلائل کے ساتھ)

معراج کب ہوئی؟
معراج کے وقت کے بارے میں دس سے زیادہ اقوال ہیں، تاہم عوام میں زیادہ مشہور رائے رجب کی ستائیسویں شب ہے، اور یہ واقعہ ہجرت سے دو تین سال قبل پیش آیا۔ اس اختلاف سے واضح ہوتا ہے کہ عہدِ رسالت، صحابہ اور تابعین (خیر القرون) میں جشنِ معراج یا شبِ معراج منانے کا کوئی رواج نہیں تھا، ورنہ تاریخِ وقوع میں اس قدر اختلاف نہ ہوتا، اور نہ ہی کسی خاص عبادت کا اہتمام ثابت ہے۔

فرشتوں کے آنے کے وقت نبی ﷺ کہاں تھے؟
بعض روایات میں ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر کا ذکر ہے، بعض میں گھر کی چھت کھلنے کا، اور بعض میں حِجر یا حطیم کا۔ حطیم اور حجر ایک ہی جگہ ہے، جو خانۂ کعبہ کا وہ حصہ ہے جسے قریش نے تعمیر میں شامل نہیں کیا تھا۔ تطبیق یہ ہے کہ آپ ﷺ ام ہانی کے گھر آرام فرما تھے، وہاں سے فرشتہ آپ کو خانۂ کعبہ لایا جہاں آپ لیٹے۔

سونے یا جاگنے کی کیفیت
بعض روایات میں سونے کا ذکر ہے اور بعض میں سونے اور جاگنے کے درمیان ہونے کا۔ نائم (سوئے ہوئے) کا ذکر شریک کی روایت میں ہے جسے اوہام میں شمار کیا گیا ہے، اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ آپ ﷺ سوئے نہیں تھے بلکہ سونے کی نیت سے لیٹے ہوئے تھے۔

بیت المقدس کا ذکر اور براق
بعض روایات میں بیت المقدس کا ذکر صراحتاً نہیں، مگر دیگر صحیح روایات میں واضح ہے کہ پہلے آپ ﷺ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ براق پر تشریف لے گئے، پھر وہاں سے آسمانوں پر۔ واپسی میں بھی بیت المقدس آئے اور براق ہی پر مکہ پہنچے۔
📖 صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب الإسراء، حديث: 162

براق کے بارے میں آیا ہے کہ اس نے شوخی کی تو جبریل علیہ السلام نے فرمایا:
فما ركبك أحد أكرم على الله منه
ترجمہ:
اللہ کے نزدیک محمد ﷺ سے زیادہ معزز کوئی تم پر سوار نہیں ہوا۔
📖 جامع الترمذي، تفسير القرآن، باب ومن سورة بني إسرائيل، حديث: 3131

شقِ صدر کی حکمت
سینہ چاک کر کے دل دھویا گیا اور ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا، حالانکہ اللہ بغیر اس کے بھی قادر تھا، مگر اس معجزے سے یقین، اعتماد علی اللہ اور قلبی قوت میں اضافہ ہوا۔
📚 فتح الباري، ج: 7، ص: 258

بیت المقدس میں نماز
آپ ﷺ نے بیت المقدس میں دو رکعت نماز ادا کی اور انبیاء علیہم السلام نے آپ کی اقتدا میں نماز پڑھی۔ اس بارے میں دو اقوال ہیں: نماز آسمانوں پر جانے سے پہلے ہوئی یا واپسی پر۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
والأظهر أن صلاته بهم ببيت المقدس كان قبل العروج
ترجمہ:
زیادہ ظاہر یہی ہے کہ بیت المقدس میں نماز معراج سے پہلے ہوئی۔
📚 فتح الباري، ج: 7، ص: 262

انبیاء کی اقتدا: روح یا جسم؟
دونوں صورتیں ممکن ہیں، مگر زیادہ واضح بات یہی ہے کہ اللہ نے اپنی قدرت سے انبیاء علیہم السلام کو اجساد سمیت حاضر فرمایا۔ اللہ کے لیے کوئی بات ناممکن نہیں۔
📚 فتح الباري، ج: 7، ص: 262–263

10 📘 واقعۂ معراج سے متعلق مزید اہم توضیحات

برتنوں کا اختلاف اور تطبیق
صحیح بخاری کی حدیثِ معراج میں ہے کہ سدرة المنتہٰی پر نبی ﷺ کی خدمت میں تین برتن پیش کیے گئے: شراب، دودھ اور شہد۔
جبکہ صحیح مسلم کی روایت میں (جس میں بیت المقدس کا ذکر ہے) آیا ہے کہ دو رکعت نماز کے بعد جب آپ باہر تشریف لائے تو حضرت جبریل علیہ السلام دو برتن لائے: ایک شراب کا اور ایک دودھ کا۔ آپ ﷺ نے دودھ کو اختیار فرمایا، تو جبریل علیہ السلام نے کہا:
اخترتَ الفطرة
ترجمہ: آپ نے فطرت کو اختیار کیا۔
📖 صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب الإسراء، حديث: 162

اور صحیح بخاری کے ایک اور مقام پر ہے کہ ایلیا (بیت المقدس) میں دو پیالے پیش کیے گئے، ایک شراب کا اور ایک دودھ کا، آپ ﷺ نے دودھ کا پیالہ لیا، تو جبریل علیہ السلام نے کہا:
الحمد لله الذي هداك للفطرة، ولو أخذتَ الخمر غوت أمتك
ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے آپ کو فطرت کی طرف ہدایت دی، اگر آپ شراب لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
📖 صحيح البخاري، تفسير سورة الإسراء، حديث: 4709

دیگر کتبِ حدیث کی بعض روایات میں پانی کے برتن کا بھی ذکر ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تطبیق دیتے ہوئے فرمایا کہ مختلف راویوں نے مختلف چیزیں ذکر کیں، اس لیے کہیں دو، کہیں تین اور کہیں چار برتنوں کا ذکر آیا۔ مجموعی طور پر پانی، دودھ، شراب اور شہد کے چار برتن پیش کیے گئے، اور یہ دو مقامات پر پیش ہوئے: ایک مرتبہ بیت المقدس میں اور دوسری مرتبہ سدرة المنتہٰی پر۔
📚 فتح الباري، ج: 7، ص: 270

اور طبری کی روایت میں ہے کہ سدرة المنتہٰی کی جڑوں سے چار نہریں نکلتی ہیں:
❀ ایسا پانی جو متغیر نہیں ہوتا
❀ ایسا دودھ جس کا ذائقہ نہیں بدلتا
❀ ایسی شراب جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہے
❀ اور ایسا شہد جو صاف شفاف ہے
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: شاید ہر نہر میں سے ایک ایک پیالہ آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا ہو۔
📚 فتح الباري، ج: 7، ص: 270

شقِ صدر کی تکرار
شقِ صدر کتنی مرتبہ ہوا، اس میں اختلاف ہے؛ بعض دو مرتبہ اور بعض چار مرتبہ کے قائل ہیں، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ چار مرتبہ کے قائل ہیں۔ معراج کے موقع پر شقِ صدر کا مقصد یہ تھا کہ آپ ﷺ کا قلبِ اطہر اس رات کے انوار و تجلیات کا کامل تحمل کر سکے۔ اسی لیے فرمایا گیا:
﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ﴾
ترجمہ: نہ نگاہ بہکی اور نہ حد سے بڑھی۔
📖 النجم: 17

پہلے بیت المقدس کیوں؟
آپ ﷺ کو پہلے بیت المقدس لے جانا، پھر وہاں سے آسمانوں پر اٹھانا اس لیے تھا کہ لوگوں کے لیے اس واقعے کو ماننا آسان ہو جائے۔ جب اہلِ مکہ نے بیت المقدس کی جزئیات پوچھیں تو آپ ﷺ نے اللہ کی مدد سے سب صحیح بتا دیں، جس سے اہلِ ایمان کے ایمان میں اضافہ ہوا، پھر آسمانی سیر کو ماننا نسبتاً آسان ہو گیا۔
📚 فتح الباري، ج: 7، ص: 252

حضرت آدم علیہ السلام کے دائیں بائیں ارواح
بعض روایات میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے دائیں جانب جنتیوں کی ارواح اور بائیں جانب جہنمیوں کی ارواح تھیں۔ دائیں جانب دیکھتے تو خوش ہوتے اور بائیں جانب دیکھتے تو روتے۔
📖 صحيح البخاري، كتاب الصلاة، حديث: 349

انبیاء علیہم السلام کی اوصاف
نبی ﷺ نے فرمایا:
حضرت موسیٰ علیہ السلام دراز قد اور کھلے بالوں والے تھے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام درمیانے قد اور سرخ و سپید رنگ کے تھے، اور میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔
📖 صحيح البخاري، أحاديث الأنبياء، حديث: 3394

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا رونا
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا رونا حسد کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اپنی امت بنو اسرائیل کے رویّے پر غم کی بنا پر تھا، کیونکہ نبی ﷺ کی امت زیادہ ہوگی اور نیکیوں کا اجر بھی آپ ﷺ کو زیادہ ملے گا۔

بیت المعمور
ساتویں آسمان پر بیت المعمور دکھایا گیا، جس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں، پھر دوبارہ ان کی باری نہیں آتی۔
📖 صحيح البخاري، بدء الخلق، حديث: 3207

حضرت یوسف علیہ السلام کا حسن
صحیح مسلم میں آیا ہے:
وإذا هو قد أُعطي شطر الحسن
ترجمہ: یوسف علیہ السلام کو آدھا حسن عطا کیا گیا تھا۔
📖 صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب الإسراء، حديث: 162

یہ تمام جزئیات صحیح احادیث سے ثابت ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ جمع و تطبیق کے بعد واقعۂ معراج اپنی کامل اور واضح صورت میں سامنے آتا ہے۔

11 📘 واقعۂ معراج سے متعلق مزید جزئیات

داروغۂ جہنم (مالک) سے ملاقات
نبی ﷺ نے فرمایا: جب میں (بیت المقدس میں امامت کر کے) نماز سے فارغ ہوا تو کہا گیا: اے محمد ﷺ! یہ مالک ہے، داروغۂ جہنم، اسے سلام کریں۔ میں نے اس کی طرف رخ کیا تو اس نے پہل کر کے مجھے سلام کیا۔
📖 حوالہ: صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب ذكر المسيح ابن مريم والمسيح الدجال، حديث: 172

سدرة المنتہٰی کی حقیقت و مقام
اکثر روایات کے مطابق سدرة المنتہٰی ساتویں آسمان کے قریب ہے، بعض میں چھٹے آسمان پر بتایا گیا ہے۔ تطبیق یہ کی گئی ہے کہ اس کا تنا چھٹے آسمان پر ہو اور پھیلاؤ ساتویں آسمان تک ہو۔ یہ بیری کا درخت ہے جو تجلیاتِ الٰہی کا مظہر ہے؛ منتهٰی یعنی انتہا کی حد—زمین سے اوپر جانے والی چیزوں کی آخری حد بھی یہی ہے اور اوپر سے نازل ہونے والے احکام کی حد بھی یہی۔
📖 حوالہ: صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب فى ذكر سدرة المنتهى، حديث: 173

صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے:
فلما غشيها من أمر الله ما غشي تغيرت، فما أحد من خلق الله يستطيع أن ينعتها من حسنها
ترجمہ: جب اللہ کا خصوصی حکم اس پر چھا جاتا ہے تو وہ اس طرح بدل جاتی ہے کہ مخلوق میں کوئی اس کے حسن کی پوری وصف کشی نہیں کر سکتا۔
📖 حوالہ: صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب الإسراء، حديث: 162

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت میں آیت ﴿إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ﴾ کی تفسیر یہ آئی ہے کہ وہاں پروانے اس کے گرد منڈلا رہے تھے۔ بعض نے تمثیلاً سونے جیسے کہے، اور بعض نے حقیقی سونے کے پروانے قرار دیے—اللہ کے لیے دونوں ممکن ہیں۔
📚 حوالہ: فتح الباري، ج: 7، ص: 267

قرآن کے مطابق جنت سدرة المنتہٰی کے پاس ہے: ﴿عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ﴾ اور اسی مقام پر نبی ﷺ نے جبریلؑ کو دوسری مرتبہ ان کی اصل صورت میں دیکھا: ﴿وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ ۝ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ﴾
📖 حوالہ: النجم: 13–14

شبِ معراج کا عظیم عطیہ: نمازِ پنجگانہ
سدرة المنتہٰی آخری حد ہے؛ اس سے آگے کسی کو اجازت نہیں۔ یہیں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نماز کی فرضیت سے آگاہ فرمایا:
﴿فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ﴾
ترجمہ: پس اللہ نے اپنے بندے کی طرف وحی کی جو وحی کی۔
📖 حوالہ: النجم: 10

ابتدا میں پچاس نمازیں فرض ہوئیں؛ حضرت موسیٰؑ کے مشورے پر تخفیف ہوتی رہی یہاں تک کہ پانچ رہ گئیں۔ تطبیق میں اہلِ علم نے بتایا کہ یا تو دس دس کر کے یا پانچ پانچ کر کے تخفیف ہوئی؛ حافظ ابن حجرؒ نے دوسری صورت کو راجح قرار دیا۔
📚 حوالہ: فتح الباري، ج: 1، ص: 600

اور فرمایا گیا:
هن خمس وهن خمسون
ترجمہ: یہ (عمل میں) پانچ ہیں اور (اجر میں) پچاس ہیں۔
📖 حوالہ: صحيح البخاري، كتاب الصلاة، باب كيف فرضت الصلاة فى الإسراء، حديث: 349

دوسری روایت میں آیا:
إنه لا يبدل القول لدي… فكل حسنة بعشر أمثالها، فهي خمس عليك وهي خمسون في أم الكتاب
ترجمہ: میرے ہاں بات نہیں بدلتی… ہر نیکی دس کے برابر ہے؛ اس طرح یہ تم پر پانچ ہیں اور لوحِ محفوظ میں پچاس۔
📖 حوالہ: صحيح البخاري، كتاب التوحيد، حديث: 7517

12 📘 واقعۂ معراج: مزید اہم امور

شبِ معراج میں فرضیتِ نماز کی حکمت
علماء نے بیان کیا ہے کہ آسمانوں میں فرشتوں کی عبادت مختلف حالتوں میں ہے: کوئی قیام میں، کوئی رکوع میں اور کوئی سجدے میں۔ امتِ محمدیہ کے لیے نماز ایسی جامع عبادت مقرر کی گئی جس میں قیام، رکوع اور سجدہ سب جمع ہیں۔
📚 حوالہ: فتح الباري، ج: 7، ص: 270

ایک حکمت یہ بھی بیان کی گئی کہ جس طرح شبِ معراج میں نبی ﷺ کے ظاہر و باطن کو پاک کر کے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا، اسی طرح نماز سے پہلے طہارت لازم کی گئی۔ نیز اس سے فرشتوں پر بھی نبی ﷺ کا شرف و فضل واضح ہوا۔
📚 حوالہ: فتح الباري، كتاب الصلاة، ج: 1، ص: 596

معراج سے قبل نماز کی تعیین میں اختلاف ہے: بعض کے نزدیک صرف رات کی نماز، بعض کے نزدیک صبح و شام دو دو رکعتیں، اور بعض کے نزدیک رات کے کچھ حصے کا قیام فرض تھا۔
📚 حوالہ: فتح الباري، ج: 1، ص: 603

قلموں کی آواز
بعض روایات میں آیا ہے کہ نبی ﷺ ایسے بلند مقام پر پہنچے جہاں قلموں کے چلنے کی آواز سنائی دیتی تھی—یہ وہ مقام ہے جہاں فرشتے لوحِ محفوظ سے فیصلے نقل کرتے ہیں۔
📖 حوالہ: صحيح البخاري، كتاب الصلاة، حديث: 349

(20) سدرة المنتہٰی پر چار نہریں
حدیث میں آیا ہے کہ وہاں چار نہریں ہیں: دو جنت کے اندر اور دو باہر؛ باہر والی نیل اور فرات ہیں، اور صحیح مسلم میں سیحان اور جیحان کا ذکر بھی آیا ہے—اور ان سب کو جنت کی نہریں کہا گیا ہے۔
📖 حوالہ: صحيح مسلم، حديث: 2839

امام نوویؒ فرماتے ہیں: نیل و فرات کی اصل جنت سے ہے؛ وہ جہاں اللہ چاہے چلتی ہیں اور پھر زمین میں ظاہر ہوتی ہیں—یہ عقل کے خلاف نہیں۔
📚 حوالہ: فتح الباري، ج: 7، ص: 268

حافظ ابن حجرؒ کے مطابق: نہریں پہلے سدرة المنتہٰی کی اصل سے نکلتی ہیں، پھر زمین میں استقرار پاتی ہیں۔
📚 حوالہ: فتح الباري (حوالہ مذکور)

شیخ البانیؒ فرماتے ہیں: جنت سے ہونے کا مطلب اصل کا جنت سے ہونا ہے؛ یہ معلوم زمینی سرچشموں کے منافی نہیں، اور اگر نہ سمجھ آئے تو یہ امورِ غیب ہیں جن پر ایمان لازم ہے۔
📚 حوالہ: الصحيحة، 1/177–178، حديث: 111–112

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ… وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾
📖 النساء: 65

(21) جنت کا مشاہدہ
نبی ﷺ نے فرمایا:
ثم أدخلت الجنة فإذا فيها جنابذ اللؤلؤ، وإذا ترابها المسك
ترجمہ: پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا؛ اس میں موتیوں کے قبے ہیں اور اس کی مٹی کستوری ہے۔
📖 حوالہ: صحيح مسلم، كتاب الإيمان، حديث: 163

(22) سدرة المنتہٰی کے مزید دو تحفے
حدیث میں آیا:
فأعطي رسول الله ﷺ ثلاثا: أُعطي الصلوات الخمس، وأُعطي خواتيم سورة البقرة، وغُفر لمن لم يشرك بالله من أمته شيئا المقحمات
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کو تین چیزیں عطا کی گئیں: (1) پانچ نمازیں، (2) سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں، (3) امت کے اُن لوگوں کے کبیرہ گناہوں کی مغفرت جنہوں نے شرک نہ کیا۔
📖 حوالہ: صحيح مسلم، كتاب الإيمان، حديث: 173

سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں (﴿آمَنَ الرَّسُولُ﴾ تا آخر) کے بارے میں فرمایا گیا:
الآيتان من آخر سورة البقرة… كفتاه
ترجمہ: جو انہیں رات میں پڑھ لے، وہ اسے کافی ہو جاتی ہیں۔
📖 حوالہ: صحيح مسلم، صلاة المسافرين، حديث: 807

امام نوویؒ کے مطابق: یہ قیام اللیل کے قائم مقام بھی ہو سکتی ہیں، شیطان سے حفاظت بھی، اور تمام آفات سے کفایت بھی—ممکن ہے سب کے لیے کافی ہوں۔
📚 حوالہ: شرح نووي، ج: 6، ص: 91–92

ایک اور حدیث میں دو نور عطا کیے جانے کی بشارت آئی: سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں—ان کا ہر حرف اجر کا باعث ہے۔
📖 حوالہ: صحيح مسلم، صلاة المسافرين، حديث: 806

(مقحمات) سے مراد ہلاکت میں ڈالنے والے کبیرہ گناہ ہیں؛ اہلِ سنت کے نزدیک ایسے گناہ بالآخر مغفرت کے تحت آئیں گے—اگر سزا ہو بھی تو ہمیشگی نہیں۔

13 📘 مشاہداتِ معراج: رؤیتِ باری تعالیٰ، کلامِ الٰہی اور (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ) کی وضاحت

مشاہداتِ معراج میں تین مسائل خاص طور پر اہم ہیں، جن میں صحابہ و تابعین کے درمیان بھی اختلاف پایا گیا:
➊ کیا شبِ معراج میں نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے دیدار کا شرف حاصل ہوا؟
➋ کیا اللہ تعالیٰ نے براہِ راست نبی ﷺ سے کلام فرمایا؟
➌ آیت ﴿ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ﴾ (النجم: 8) میں دنوّ و تدلّی کس کی طرف منسوب ہے؟

🔹 رؤیتِ باری تعالیٰ (دیدارِ الٰہی)

راجح اور معتمد قول یہ ہے کہ دنیا میں، حتیٰ کہ معراج کی رات بھی، کسی کو اللہ تعالیٰ کا دیدار حاصل نہیں ہوا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دنیا میں دیدار کی درخواست کی:

﴿رَبِّ أَرِنِي أَنظُرْ إِلَيْكَ﴾
ترجمہ: اے رب! مجھے اپنا دیدار کرا تاکہ میں تجھے دیکھوں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿لَن تَرَانِي وَلَٰكِنِ انظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي﴾
ترجمہ: تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکو گے، البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ لوگے۔

﴿فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا﴾
ترجمہ: پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا، اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔
📖 حوالہ: الأعراف: 143

ہوش آنے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:

﴿سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ﴾
ترجمہ: اے اللہ! تو پاک ہے، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔
📖 حوالہ: الأعراف: 143

اس سے واضح ہوا کہ دنیاوی آنکھیں اللہ کی تجلی کی متحمل نہیں۔ آخرت میں اللہ تعالیٰ آنکھوں کو یہ قوت عطا فرمائے گا۔

🔹 نبی ﷺ نے کیا معراج میں اللہ کو دیکھا؟

نبی ﷺ سے جب پوچھا گیا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:

«هُوَ نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ»
ترجمہ: وہ تو نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟

اور ایک روایت میں ہے:

«رَأَيْتُ نُورًا»
ترجمہ: میں نے نور دیکھا۔

یہ احادیث رؤیت کی نفی میں صریح ہیں۔

📚 حوالہ: شرح عقيدة الطحاوية، ص: 163

🔹 براہِ راست کلامِ الٰہی

یہ بات ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ سے وحی کے ذریعے کلام فرمایا، جیسا کہ فرمایا:

﴿فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ﴾
ترجمہ: پھر اللہ نے اپنے بندے کی طرف وحی کی جو وحی کی۔
📖 حوالہ: النجم: 10

لیکن بغیر واسطہ، دیدار کے ساتھ براہِ راست کلام پر کوئی صریح دلیل نہیں۔

🔹 ﴿ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ﴾ کی وضاحت

آیت:

﴿ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ﴾
ترجمہ: پھر وہ قریب ہوا اور جھک گیا۔
📖 حوالہ: النجم: 8

راجح تفسیر کے مطابق یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں نہیں بلکہ حضرت جبریل علیہ السلام کے بارے میں ہے، یعنی جبریل علیہ السلام نبی ﷺ کے قریب آئے اور جھکے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے قرب و بُعد کو جسمانی معنی میں لینا درست نہیں۔

🔹 خلاصہ اور راجح موقف

➤ شبِ معراج میں نبی ﷺ کو اللہ کا دیدار حاصل نہیں ہوا
➤ کلامِ الٰہی وحی کے ذریعے ہوا
➤ ﴿ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ﴾ سے مراد جبریل علیہ السلام کا قرب ہے، نہ کہ اللہ تعالیٰ کا جسمانی قرب

یہی موقف جمہور اہلِ سنت کا ہے اور مضبوط دلائل اسی پر دلالت کرتے ہیں۔

14 📘 قائلینِ رؤیت کے دلائل اور ان کا تجزیہ

رؤیتِ باری تعالیٰ کے قائلین کا اصل استدلال سورۂ نجم کی ان آیات سے کیا جاتا ہے:

﴿ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ۝ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ۝ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ۝ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ۝ أَفَتُمَارُونَهُ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ۝ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ۝ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ۝ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ۝ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ۝ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ۝ لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ﴾
ترجمہ: پھر وہ قریب ہوا اور جھک گیا، پس دو کمانوں کے بقدر یا اس سے بھی زیادہ قریب ہو گیا، پھر اس نے اپنے بندے کی طرف وحی کی جو وحی کی… یقیناً اس نے اپنے رب کی بڑی نشانیوں میں سے بعض کو دیکھا۔
📖 النجم: 8–18

ان میں سے پہلی آیات میں قربت (دنوّ و تدلّی) کو بعض لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں، لیکن سیاقِ آیات اس کی نفی کرتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ بذاتِ خود اتنے قریب ہو جاتے تو وحی کے بجائے براہِ راست کلام (كَلَّمَ) کا ذکر ہونا چاہیے تھا، جبکہ آیت میں ﴿فَأَوْحَىٰ﴾ آیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں قربت نبی ﷺ اور حضرت جبریل علیہ السلام کے درمیان ہے، نہ کہ اللہ اور رسول ﷺ کے درمیان۔

مفسرین نے ﴿فَأَوْحَىٰ﴾ کی تین ممکنہ تفسیری صورتیں بیان کی ہیں، مگر کسی صورت میں بھی براہِ راست کلام یا رؤیت لازم نہیں آتی۔
📚 تفسير ابن كثير، تفسير سورة النجم
📚 التفسير المنير، ج: 27، ص: 901

یہ آیات دراصل ابتدائے نبوت کے واقعے سے متعلق ہیں، جب نبی ﷺ نے جبریل علیہ السلام کو پہلی مرتبہ ان کی اصل صورت میں زمین پر دیکھا، اور دوسری مرتبہ سدرة المنتہٰی کے پاس معراج کی رات دیکھا۔
📚 تفسير ابن كثير، ج: 7، ص: 420

اس کی تائید ماقبل آیات سے بھی ہوتی ہے:

﴿عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ۝ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ۝ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ﴾
ترجمہ: اسے سخت قوتوں والے (فرشتے) نے سکھایا، وہ قوت والا ہے، وہ اوپر افق پر قائم تھا۔
📖 النجم: 5–7

یہ شدید القویٰ فرشتہ حضرت جبریل علیہ السلام ہی ہیں، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقام پر بھی آیا ہے:

﴿إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ۝ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ۝ مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ۝ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ﴾
📖 التكوير: 19–23

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ آیات ﴿ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ﴾، ﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ﴾، ﴿لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ﴾ سے مراد نبی ﷺ کا جبریلؑ کو ان کی اصل صورت میں دیکھنا ہے۔
📖 صحیح مسلم، الإيمان، حديث: 178

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ﴿وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ﴾ سے مراد بھی جبریل علیہ السلام کا دیکھنا ہے۔
📖 صحیح مسلم، الإيمان، حديث: 175

حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے پوچھا: کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
«نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ؟»
ترجمہ: وہ تو نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟
📖 صحیح مسلم، الإيمان، حديث: 175

اور ایک روایت میں فرمایا:
«رَأَيْتُ نُورًا»
ترجمہ: میں نے نور دیکھا۔
📖 صحیح مسلم، الإيمان

اس کا مطلب یہی ہے کہ اللہ کی نورانی حجابیں رؤیت میں حائل ہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا:

«حِجَابُهُ النُّورُ… لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَىٰ إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ»
📖 صحیح مسلم، الإيمان، حديث: 179

سب سے فیصلہ کن دلیل ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کی روایت ہے۔ مسروقؒ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا؟ انہوں نے فرمایا:
سبحان اللہ! جو یہ دعویٰ کرے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا، اس نے اللہ پر بڑا بہتان باندھا۔
اور انہوں نے خود نبی ﷺ سے ان آیات کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
«إنما هو جبريل، لم أره على صورته التي خُلق عليها إلا مرتين»
ترجمہ: یہ تو جبریل تھے، میں نے انہیں ان کی اصل صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا۔
📖 صحیح مسلم، الإيمان، حديث: 177

🔗 درج بالا تمام احادیث صحیح مسلم کے اس باب میں ملاحظہ کریں: https://tohed.com/hadith/muslim/177

پھر حضرت عائشہؓ نے یہ آیات پیش کیں:

﴿لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ﴾
📖 الأنعام: 103

﴿وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ﴾
📖 الشورى: 51

ان صریح نصوص سے واضح ہو جاتا ہے کہ:

➤ شبِ معراج میں نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا
براہِ راست کلام نہیں ہوا، بلکہ وحی کے ذریعے احکام دیے گئے
﴿ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ﴾ کا مصداق حضرت جبریل علیہ السلام ہیں، نہ کہ اللہ تعالیٰ

یہی موقف جمہور صحابہ، تابعین اور اہلِ سنت کا ہے اور قرآن و صحیح حدیث کی روشنی میں یہی راجح اور درست ہے۔

15 📘 حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا موقف

بعض روایات میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا، مگر دوسری طرف حضرت ابن عباسؓ ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ رؤیت آنکھوں سے نہیں بلکہ دل سے ہوئی۔

صحیح مسلم میں حضرت ابن عباسؓ نے آیاتِ نجم:

﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ﴾
﴿وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ﴾
(النجم: 11، 13)

کی تفسیر یوں فرمائی:

رآه بفؤاده مرتين
ترجمہ: آپ نے اللہ کو اپنے دل سے دو مرتبہ دیکھا۔
📖 حوالہ: صحيح مسلم، كتاب الإيمان، حديث: 176

اسی بنا پر اہلِ علم نے حضرت ابن عباسؓ سے مروی “مطلق رؤیت” کو “رؤیتِ قلب” والی روایت پر محمول کیا ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

وفي رواية عنه: أنه أطلق الرؤية، وهى محمولة على المقيدة بالفؤاد، ومن روى عنه بالبصر فقد أغرب، فإنه لا يصح فى ذلك شيء عن الصحابة رضي الله عنهم
ترجمہ: ابن عباسؓ سے مطلق رؤیت کی روایت کو دل والی مقید روایت پر محمول کیا جائے گا، اور جس نے بصر (آنکھ) والی روایت بیان کی اس نے عجیب بات کی، کیونکہ اس باب میں صحابہ سے کوئی چیز صحیح ثابت نہیں۔
📚 حوالہ: تفسير ابن كثير، 7/423–424

شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے بھی یہی اصول بیان کیا کہ مرفوع (قولِ رسول ﷺ) کو موقوف (قولِ صحابی) پر ترجیح دی جائے، خصوصاً جب روایات میں اضطراب ہو، اور ابن عباسؓ کی “قلب” والی روایت سب سے صحیح ہے۔
📚 حوالہ: ظلال الجنة في تخريج السنة، ص: 203

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

جاءت عن ابن عباس أخبار مطلقة وأخرىٰ مقيدة، فيجب حمل مطلقها علىٰ مقيدها
ترجمہ: ابن عباسؓ سے مطلق اور مقید دونوں طرح کی روایات آئی ہیں، لہٰذا مطلق کو مقید پر محمول کرنا ضروری ہے۔
📚 حوالہ: فتح الباري، التفسير، 8/773

اور اسی بنیاد پر انہوں نے جمع و تطبیق یوں کی:

وعلىٰ هذا فيمكن الجمع بين إثبات ابن عباس ونفي عائشة بأن يحمل نفيها علىٰ رؤية البصر، وإثباته علىٰ رؤية القلب
ترجمہ: یوں ابن عباسؓ کے اثبات اور عائشہؓ کے نفی کے درمیان تطبیق یہ ہے کہ عائشہؓ کی نفی کو رؤیتِ بصر پر اور ابن عباسؓ کے اثبات کو رؤیتِ قلب پر محمول کیا جائے۔
📚 حوالہ: فتح الباري، التفسير، 8/774

اس جمع سے صحابہ رضی اللہ عنہم کا موقف متفق ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا۔ رہ گیا “رؤیتِ قلب” کا مفہوم، تو اس کی حقیقت کو ہم نہ پوری طرح جان سکتے ہیں نہ بیان کر سکتے ہیں، اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔

16 📘 شریک بن عبداللہ کی روایت: وہم و تفرد کی وضاحت

شریک بن عبداللہ کی وہ روایت جو صحیح بخاری (کتاب التوحید) میں حضرت انسؓ سے منقول ہے—جس میں ﴿ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ﴾ کی ضمیروں کا مرجع اللہ تعالیٰ کو قرار دیا گیا—محدثین کے نزدیک تفرد اور وہم پر مشتمل ہے۔

➤ اصل متنِ تفرد:
شریک نے کہا کہ ساتویں آسمان کے بعد “جبار ربّ العزّت” قریب ہوا اور جھکا یہاں تک کہ قابَ قوسین کا فاصلہ رہ گیا، پھر پچاس نمازیں فرض ہوئیں۔
📖 حوالہ: صحيح البخاري، كتاب التوحيد، حديث: 7515

➤ ائمہ کی نقد و تحقیق:

➊ تفرد اور مخالفتِ طرق
حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ معراج کی حدیث حضرت انسؓ سے متعدد طرق سے آئی ہے، مگر شریک کی روایت دیگر تمام راویوں سے مختلف ہے اور اس میں ایسے اضافے ہیں جو کسی اور نے بیان نہیں کیے۔
📚 فتح الباري، ج: 13، ص: 593–594

➋ امام مسلمؒ کی صریح تنبیہ
امام مسلمؒ شریک کی روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:
وقدم فيه شيئا وأخر وزاد ونقص
ترجمہ: شریک نے تقدیم و تاخیر کی اور کمی بیشی کی۔
📖 صحیح مسلم، كتاب الإيمان، حديث: 162

➌ امام بیہقیؒ اور حافظ ابن کثیرؒ
امام بیہقیؒ نے اس اضافہ کو تفرد قرار دیا اور بتایا کہ یہ قول اُن لوگوں کے مطابق ہے جو رؤیت کے قائل ہیں؛ جبکہ حضرت عائشہؓ، ابن مسعودؓ اور ابو ہریرہؓ نے آیاتِ نجم کو رؤیتِ جبریلؑ پر محمول کیا—اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
📚 تفسير ابن كثير، ج: 5، ص: 6؛ ج: 7، ص: 422

➎ آیاتِ نجم کا صحیح مصداق
حافظ ابن کثیرؒ کے مطابق ﴿ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ﴾ کا مصداق جبریلؑ ہیں، نہ کہ اللہ تعالیٰ۔ سیاق بھی یہی بتاتا ہے کہ پہلی رؤیت زمین پر جبریلؑ کی اصل صورت میں تھی، اور دوسری رؤیت معراج کی رات سدرة المنتہىٰ پر۔
📚 تفسير ابن كثير، ج: 7، ص: 420–422

➏ صحابہ کی تصریحات

حضرت ابن مسعودؓ: آیاتِ نجم سے مراد جبریلؑ کی رؤیت ہے۔
📖 صحیح مسلم، حديث: 178
حضرت ابو ہریرہؓ: ﴿وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ﴾ = جبریلؑ کی رؤیت۔
📖 صحیح مسلم، حديث: 174
حضرت ابوذرؓ: نبی ﷺ نے فرمایا: «نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ؟» (وہ نور ہے، میں کیسے دیکھ سکتا ہوں؟)
📖 صحیح مسلم، حديث: 175

➐ امام نوویؒ و دیگر ائمہ
امام نوویؒ نے قاضی عیاضؒ کے حوالے سے واضح کیا کہ شریک کی روایت میں کئی اوہام ہیں؛ معتبر حفاظ (زہری، ثابت بنانی، قتادہؒ) نے حضرت انسؓ سے وہ بات بیان نہیں کی جو شریک نے کی۔
📚 شرح نووي، ج: 2، ص: 209–210

➑ ثقہ راوی کا وہم—حدیث کا حکم
یہ اصول مسلم ہے کہ ثقہ راوی کے وہم سے پوری حدیث ساقط نہیں ہوتی؛ قابلِ قبول وہی اجزاء ہیں جو دیگر ثقہ طرق کے موافق ہوں، اور تفردات/اوہام قبول نہیں کیے جاتے۔
📚 فتح الباري، ج: 13، ص: 593

➤ خلاصۂ راجح نتیجہ:

شریک کی روایت کے تفردی اضافے (ثم دنا الجبار…) قابلِ قبول نہیں۔
آیاتِ نجم میں دنوّ و تدلّی کا تعلق جبریلؑ سے ہے۔
شبِ معراج میں نہ رؤیتِ بصر ثابت ہے، نہ براہِ راست کلام؛ وحی ہی کے ذریعے احکام ہوئے۔

17 📘 امام ابن القیمؒ کا موقف اور اس کی تردید

امام ابن القیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد میں یہ تسلیم کیا ہے کہ سورۂ نجم میں مذکور دنوّ و تدلّی (دو مرتبہ) سے مراد نبی ﷺ اور حضرت جبریلؑ ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی لکھا کہ شبِ معراج میں اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ اور نبی ﷺ کے درمیان بھی قرب ہوا اور اللہ تعالیٰ اتنا قریب آئے کہ قابَ قوسین یا اس سے کم فاصلہ رہ گیا۔
📚 حوالہ: زاد المعاد، ج: 3، ص: 38 (طبع جدید)

یہی موقف شرح عقیدۃ الطحاویہ کے مصنف نے امام ابن القیمؒ کے حوالے سے نقل کیا، اور الرحيق المختوم کے مصنف مولانا صفی الرحمن مبارکپوریؒ نے بھی اختیار کیا۔

لیکن اس موقف کی بنیاد دراصل شریک بن عبداللہ کی وہ روایت ہے جس میں اس نے کہا کہ سدرة المنتہىٰ پر پہنچنے کے بعد “جبار ربّ العزّت” قریب آیا اور جھکا یہاں تک کہ قابَ قوسین کا فاصلہ رہ گیا۔
📖 حوالہ: صحيح البخاري، كتاب التوحيد، حديث: 7515

ائمۂ حدیث کی تصریح کے مطابق یہ الفاظ شریک راوی کا وہم اور تفرد ہیں اور قابلِ قبول نہیں:

➊ شیخ ناصر الدین البانیؒ (شرح عقیدۃ الطحاویہ کے حاشیے میں) لکھتے ہیں:
إن الدنو المذكور فى هذا السياق هو من رواية شريك… ومن أوهامه… كما بينه الحافظ ابن كثير… ومن قبله البيهقي
ترجمہ: اس سیاق میں مذکور دنوّ شریک بن عبداللہ کی روایت سے ہے، اور یہ اس کے اوہام میں سے ہے، جیسا کہ حافظ ابن کثیرؒ اور ان سے پہلے امام بیہقیؒ نے واضح کیا۔
📚 حوالہ: شرح عقيدة الطحاوية، ص: 248؛ البيهقي، الأسماء والصفات، ص: 440–442

➋ زاد المعاد کے محقق و مخرج لکھتے ہیں:
هذه الجملة من الزيادات… من طريق شريك… وهي من أوهامه التى تفرد بها
ترجمہ: یہ جملہ ان اضافات میں سے ہے جو شریک بن عبداللہ کی روایت سے آیا اور یہ اس کے اوہام میں سے ہے جن میں وہ متفرد ہے؛ لہٰذا مؤلف کو اس پر تنبیہ کرنی چاہیے تھی۔
📚 حوالہ: زاد المعاد، ج: 3، ص: 35

➤ نتیجۂ تحقیق:

سورۂ نجم میں دنوّ و تدلّی کا صحیح مصداق حضرت جبریلؑ ہیں۔
شبِ معراج میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ قابَ قوسین والی قربت پر دلالت کرنے والے الفاظ شریک راوی کے تفرد/وہم ہیں اور قابلِ قبول نہیں۔
لہٰذا امام ابن القیمؒ کا یہ اضافی قول (اللہ اور نبی ﷺ کے درمیان قابَ قوسین قرب) اسی کمزور بنیاد پر قائم ہے اور راجح نہیں۔

18 📘 شبِ اسراء و معراج میں دکھائی جانے والی 10 عظیم نشانیاں

قرآنِ مجید میں اسراء کا مقصد یوں بیان ہوا ہے:
﴿لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا﴾
ترجمہ: تاکہ ہم اپنے بندے کو اپنی نشانیاں دکھائیں۔
📖 بنی اسرائیل: 1

اور معراج (سیرِ آسمانی) کے بارے میں فرمایا:
﴿لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ﴾
ترجمہ: یقیناً اس نے اپنے رب کی بعض بڑی نشانیاں دیکھیں۔
📖 النجم: 18

ان آیات سے واضح ہے کہ شبِ اسراء و معراج میں رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی بہت سی عظیم نشانیاں دکھائی گئیں، جن میں سے نمایاں یہ ہیں:

شقِ صدر
نبی ﷺ کے قلبِ اطہر کو نکال کر دھونا اور ایمان و حکمت سے بھر کر دوبارہ رکھ دینا۔ اس دور میں دل کا نکالا جانا موت کے مترادف تھا، مگر اللہ کے حکم سے آپ ﷺ کو کچھ نہ ہوا، یہ ایک عظیم معجزہ ہے۔

بُراق جیسی برق رفتار سواری
اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی سواری کا انتظام جس نے مہینوں کے سفر کو رات کے ایک نہایت قلیل حصے میں طے کرا دیا۔

معراج (سیڑھی) کے ذریعے آسمانوں کا عروج
نبی ﷺ کا بیت المقدس سے آسمانوں پر لے جایا جانا، براق کو بیت المقدس میں باندھنا، پھر واپسی پر اسی براق پر مسجدِ حرام تک آنا۔

بیت المقدس میں انبیاء کی امامت
تمام انبیاء علیہم السلام کا جمع ہونا اور نبی ﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھنا، چاہے یہ آسمانوں پر جانے سے پہلے ہوا ہو یا واپسی پر، یہ آپ ﷺ کی امتیازی شان کی واضح نشانی ہے۔

ایک انسان کا آسمانوں تک پہنچنا
بذاتِ خود ایک انسان کا آسمانوں پر عروج ایک بہت بڑی اور غیر معمولی نشانی ہے۔

آسمانوں پر انبیاء علیہم السلام سے ملاقاتیں
جلیل القدر انبیاء سے بالمشافہ ملاقاتیں، جو نبی ﷺ کے شرف اور فضیلت کی عظیم علامت ہیں۔

سدرۃ المنتہٰی کا مشاہدہ
یہ مقامِ انتہا ہے، اوپر سے نازل ہونے والے احکام اور نیچے سے اوپر جانے والی چیزوں کی آخری حد؛ مرکزِ تجلیاتِ الٰہی؛ اس کے گرد نورانی پروانے؛ اسی کے پاس جنة المأویٰ؛ یہی وہ مقام ہے جہاں صریفُ الأقلام (قلموں کی آوازیں) سنیں، جہاں لوحِ محفوظ سے فیصلے نقل ہوتے ہیں، اور جہاں شبِ معراج کے خاص تحفے عطا ہوئے۔

حضرت جبریلؑ کو اصل صورت میں دیکھنا
اسی مقام کے پاس نبی ﷺ نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دوسری مرتبہ ان کی اصل صورت میں دیکھا، اور چار نہروں کے سوتے بھی یہیں دیکھے۔

بیتُ المعمور کا مشاہدہ
ساتویں آسمان پر فرشتوں کی عبادت گاہ، جہاں روزانہ ستر ہزار فرشتے عبادت کے لیے آتے ہیں اور قیامت تک ان کی دوبارہ باری نہیں آتی۔

جنت و دوزخ اور وقت کی تحدید
جنت و جہنم کے بعض مناظر کا مشاہدہ، اور یہ سب کچھ رات کے نہایت ہی قلیل حصے میں ہونا—جو کسی انسان کے بس میں نہ تھا، مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی ﷺ کو یہ عظیم نشانیاں دکھائی گئیں۔

19 📘 معراج کے چند مستند مشاہدات

مذکورہ دس نکتوں پر غور کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک نکتہ اور پہلو ایک عظیم نشانی ہے، اور ان سب کا مشاہدہ فی الواقع:

﴿لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا﴾
﴿لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ﴾

کا مصداق و مظہر ہے۔ تاہم ان کے علاوہ بھی کچھ اور مشاہدات ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس عظیم معجزاتی سفر میں کیے۔ ان میں سے جو سنداً صحیح ہیں، ان میں سے چند اہم واقعات درج ذیل ہیں:

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قبر (برزخ) میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس رات مجھے سیر کرائی گئی، اس رات کو میں نے موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔“

📖 صحیح مسلم، كتاب الفضائل، باب فضائل موسىٰ، حديث: 2375

قبر یعنی برزخ میں آپ کو یہ مشاہدہ کروایا گیا۔ اس سے برزخی زندگی کا اثبات ہوتا ہے جو ہر انسان کو حاصل ہوتی ہے، چاہے وہ مومن ہو یا کافر۔ انبیاء علیہم السلام چونکہ تمام انسانوں میں افضل ہوتے ہیں، اس لیے یقیناً یہ برزخی زندگی انھیں دوسرے عام انسانوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر انداز سے حاصل ہوتی ہوگی، لیکن یہ زندگی کس نوعیت کی ہے اور اس کی کیفیت کیا ہے؟ اس کی تفصیل کا ہمیں علم نہیں، نہ ہم اسے بیان کر سکتے ہیں۔ البتہ یہ دعویٰ کرنا کہ برزخی زندگی دنیوی زندگی ہی کی طرح ہے بلکہ اس سے زیادہ قوی ہے، جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں، بلا دلیل ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر انبیاء علیہم السلام کو منوں مٹی کے نیچے دفن کیے جانے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی؟

داروغۂ جہنم (مالک) اور دجال کا مشاہدہ

شبِ معراج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو داروغۂ جہنم، جس کا نام مالک ہے، اور دجال (جس کا خروج قیامت کے قریب ہوگا) کا مشاہدہ بھی کرایا گیا۔ یہ دونوں مشاہدات بھی اسی رات کی عظیم نشانیوں میں شامل ہیں۔

📖 صحیح مسلم، كتاب الإيمان، باب الإسراء، حديث: 165

جنت کا مشاہدہ

سدرۃ المنتہٰی پر پہنچنے اور وہاں بہت سے عجائبات کا مشاہدہ کرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ثم أدخلت الجنة فإذا فيها جنابذ اللؤلؤ، وإذا ترابها المسك

ترجمہ:
“پھر مجھے جنت میں لے جایا گیا تو میں نے وہاں دیکھا کہ موتیوں کے قبے ہیں اور اس کی مٹی کستوری ہے۔”

📖 صحیح مسلم، كتاب الإيمان، باب الإسراء برسول الله ﷺ، حديث: 163

نہرِ کوثر کا مشاہدہ

جنت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہرِ کوثر کا مشاہدہ فرمایا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی تو آپ نے فرمایا:

أتيت علىٰ نهر حافتاه قباب اللؤلؤ مجوف، فقلت: ما هٰذا يا جبريل؟ قال: هٰذا الكوثر

ترجمہ:
“میں ایک نہر پر آیا جس کے دونوں کنارے موتیوں کے قبوں کے تھے۔ میں نے پوچھا: جبریل! یہ کیا ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ کوثر ہے۔”

📖 صحیح البخاري، كتاب التفسير، باب تفسير سورة الكوثر، حديث: 4964

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی دوسری روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

بينما أنا أسير فى الجنة إذا أنا بنهر حافتاه قباب الدر المجوف، قلت: ما هٰذا يا جبريل؟ قال: هٰذا الكوثر الذى أعطاك ربك، فإذا طينه مسك أذفر

ترجمہ:
“میں ایک وقت جنت کی سیر کر رہا تھا کہ میں نے وہاں ایک نہر دیکھی جس کے دونوں کنارے جوف دار موتیوں کے قبے تھے۔ میں نے پوچھا: جبریل! یہ کیا ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو عطا کی ہے، اور اس کی مٹی نہایت خوشبودار کستوری ہے۔”

📖 صحیح البخاري، كتاب الرقاق، باب في الحوض، حديث: 6581

ایک تیسری روایت ہے جس کا راوی شریک بن عبداللہ بن ابی نمر ہے۔ اس روایت میں نہرِ کوثر کا ذکر پہلے آسمان کے مشاہدات میں آیا ہے، لیکن یہ روایت اوہام کا مجموعہ ہے۔

📖 صحیح البخاري، كتاب التوحيد، باب 37، حديث: 7517

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے شریک کی روایت کے جن دس سے زیادہ اوہام ذکر کیے ہیں، ان میں سے ایک وہم یہی ہے کہ اس نے نہرِ کوثر کا ذکر پہلے آسمان پر کر دیا۔

📚 فتح الباري، ج: 13، ص: 593

بہرحال ان تمام روایات سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ نہرِ کوثر جنت میں ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ معراج کے موقع پر جنت میں اس کا مشاہدہ کیا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو روزِ محشر میدانِ حشر میں ایک حوض عطا کیا جائے گا، جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ پاکیزہ، اور اس میں رکھے گئے آبخورے آسمان کے تاروں کی طرح بے شمار ہوں گے۔ جو اس سے ایک مرتبہ پانی پی لے گا، وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔

📖 صحیح البخاري، كتاب الرقاق، باب الحوض، حديث: 6579

اس حوض کو حوضِ کوثر اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ جنت سے متصل، جنت کے ایک کنارے پر ہوگا، اور اس میں پانی جنت کے اندر موجود نہرِ کوثر ہی سے آئے گا۔

📚 فتح الباري، ج: 1، ص: 567

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے قدموں کی آہٹ سننا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی اور آپ جنت میں داخل ہوئے تو جنت کی ایک جانب سے آپ نے قدموں کی آہٹ سنی۔ آپ نے پوچھا:
“جبریل! یہ کیا ہے؟”

جبریل علیہ السلام نے کہا:
“یہ بلال مؤذن کی آواز ہے۔”

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس آ کر لوگوں کو بتایا:
“بلال رضی اللہ عنہ کامیاب ہو گیا، میں نے اسے جنت میں اس طرح دیکھا۔”

📚 الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل الشيباني، ج: 20، ص: 254–255، مطبوعہ مصر

20 📘 معراج کے چند مزید مستند مشاہدات

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے لقب ‘صدیق’ کی وجہِ تسمیہ

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت یہ خبر دی کہ وہ رات کو مسجدِ اقصیٰ گئے اور وہاں سے آسمانوں پر تشریف لے گئے، تو بہت سے لوگوں نے اس پر یقین نہ کیا، حتیٰ کہ بعض نئے نئے مسلمان بھی اس واقعے کو سن کر ایمان سے پھر گئے۔ لوگ دوڑتے ہوئے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہا:
“کیا آپ نے سنا؟ آپ کے ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ آج کی رات بیت المقدس ہو کر آئے ہیں۔”

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا:
“کیا انہوں نے واقعی ایسا کہا ہے؟”

لوگوں نے کہا:
“ہاں!”

تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“اگر انہوں نے کہا ہے تو یقیناً سچ ہی کہا ہے۔”

لوگوں نے کہا:
“کیا تم اس بات کی تصدیق کرتے ہو کہ وہ رات کو بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے؟”

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“ہاں! میں تو ان کی اس سے بھی بڑی باتوں کی تصدیق کرتا ہوں۔ میں تو صبح و شام آسمان سے آنے والی وحی کی بھی تصدیق کرتا ہوں۔”

اسی وجہ سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا لقب الصدیق رکھا گیا۔

📖 الصحيحة للألباني، ج: 2، رقم الحديث: 306

مشاطۂ فرعون کا حسن انجام

مشاطہ کے معنی ہیں بالوں کو بنانے سنوارنے والی، بالوں میں کنگھی پھیرنے والی۔ فرعون نے اپنے اہلِ خانہ کی خدمت کے لیے ایک مشاطہ مقرر کر رکھی تھی (جسے آج کی اصطلاح میں بیوٹی میکر کہا جا سکتا ہے)۔ یہ عورت فرعون کو رب نہیں مانتی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کو ہی اپنا رب ماننے والی تھی۔

ایک مرتبہ وہ فرعون کی بیٹی کے بالوں میں کنگھی پھیر رہی تھی کہ اس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی، تو اس کے منہ سے بے اختیار یہ الفاظ نکل گئے: “فرعون ہلاک ہو”۔ فرعون کی بیٹی نے یہ بات اپنے باپ کو بتا دی، جس پر فرعون نے اس مشاطہ کو قتل کروا دیا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“معراج کی رات میں نے ایک نہایت پاکیزہ خوشبو محسوس کی۔ میں نے پوچھا: جبریل! یہ خوشبو کیا ہے؟
جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ مشاطہ، اس کا خاوند اور اس کی بیٹی ہے۔”

📚 الإسراء والمعراج للألباني، ص: 56

شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت سنداً ضعیف ہے، لیکن اس کا ایک اور شاہد موجود ہے جس کی وجہ سے اسے تقویت حاصل ہو جاتی ہے۔

📚 الإسراء والمعراج للألباني، ص: 57

حجامت (سینگی لگوانے) کی اہمیت

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ معراج کے بارے میں فرمایا:

ما مررت ليلة أسري بي بملإ، إلا قالوا: يا محمد! مر أمتك بالحجامة

ترجمہ:
“میں معراج کی رات فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے بھی گزرا، وہ یہی کہتے تھے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اپنی امت کو سینگی لگوانے کا حکم دیں۔”

📖 سنن ابن ماجه، كتاب الطب، باب الحجامة، حدیث: 3479
📖 الصحيحة للألباني، حدیث: 2263

سینگی لگانے کو پچھنے لگانا بھی کہا جاتا ہے، یعنی نشتر یا استرے کے ذریعے جسم سے خون نکالنا۔ (نوراللغات)

یہ ایک قدیم طریقۂ علاج ہے جس سے فاسد خون نکل جاتا ہے اور اس کے نکلنے سے انسان کو شفا حاصل ہوتی ہے۔ یونانی طب کے زوال کے ساتھ یہ طریقہ علاج بھی کافی حد تک متروک ہو گیا، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ طریقہ رائج تھا اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی متعدد مرتبہ سینگی لگوائی، جسے عربی میں حجامت کہا جاتا ہے۔ اس حدیثِ معراج سے بھی اس طریقۂ علاج کی اہمیت اور فضیلت واضح ہوتی ہے۔

حضرت جبریل علیہ السلام کا ایک اور منظر (خشیتِ الٰہی)

یہ پہلے گزر چکا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا۔ ان میں سے ایک موقع شبِ معراج کا ہے، جس میں آپ نے جبریل علیہ السلام کو سبز رنگ کے ریشمی لباس میں دیکھا، جس نے آسمانی افقوں کو بھر دیا تھا۔

📖 صحیح البخاري، تفسير سورة النجم، حديث: 4858

لیکن اسی معراج کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کا ایک اور منظر بھی ملاحظہ فرمایا، جب ان پر اللہ تعالیٰ کی خشیت طاری تھی۔ اس خشیتِ الٰہی نے ان کی کیفیت ایسی بنا دی تھی جیسے پرانا بوسیدہ ٹاٹ ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مررت بجبريل ليلة أسري بي بالملإ الأعلىٰ، وهو كالحلس البالي من خشية الله عزوجل

ترجمہ:
“میں شبِ معراج ملأِ اعلیٰ (فرشتوں کی مجلس) میں جبریل علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو وہ اللہ عزوجل کے خوف سے ایسے تھے جیسے پرانا بوسیدہ ٹاٹ ہوتا ہے۔”

📖 الصحيحة للألباني، ج: 5، حدیث: 2289

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتِ محمدیہ کے نام خصوصی پیغام

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لقيت إبراهيم ليلة أسري بي فقال: يا محمد! أقرئ أمتك مني السلام، وأخبرهم أن الجنة طيبة التربة، عذبة الماء، وأنها قيعان، وأن غراسها: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر

ترجمہ:
“شبِ معراج میری ملاقات حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی۔ انہوں نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! میری طرف سے اپنی امت کو سلام کہیے اور انہیں بتائیے کہ جنت کی مٹی بڑی عمدہ ہے، اس کا پانی میٹھا ہے، لیکن وہ چٹیل میدان ہے، اس میں کاشت کرنے کی ضرورت ہے، اور اس کی کاشت کاری یہ کلمات ہیں: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر۔”

📖 جامع الترمذي، كتاب الدعوات، باب أن غراس الجنة، حديث: 3462

لا حول ولا قوة إلا بالله کی فضیلت

ایک دوسری روایت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا:

مر أمتك فليكثروا من غراس الجنة، فإن تربتها طيبة، وأرضها واسعة
قال: وما غراس الجنة؟
قال: لا حول ولا قوة إلا بالله

ترجمہ:
“اپنی امت سے کہیں کہ وہ جنت میں خوب کاشت کاری کریں، اس لیے کہ اس کی مٹی بڑی عمدہ اور اس کی زمین بہت فراخ ہے۔”
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: “جنت کی کاشت کاری کیا ہے؟”
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: لا حول ولا قوة إلا بالله۔

📖 مسند أحمد، ج: 5، ص: 418

شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے ان دونوں روایات کو شواہد کی بنیاد پر صحیح قرار دیا ہے۔

📚 الصحيحة، ج: 1، ص: 165–166، حديث: 105
📚 الإسراء والمعراج للألباني، ص: 99–107

21 📘 شبِ معراج میں جہنم اور اس کے عذاب کی جھلک

معراج کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت کے اندر داخل ہونے اور وہاں بعض عظیم نعمتوں کے مشاہدے کا اعزاز حاصل ہوا، جیسا کہ اس کی مستند تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اسی طرح جہنم اور اس کے عذاب کی بھی ایک جھلک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی گئی، تاکہ امت کے لیے تنبیہ اور عبرت ہو۔

غیبت کرنے والوں کا عبرت ناک انجام

مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم میں کچھ لوگوں کو دیکھا جو مردار کھا رہے تھے۔ آپ نے پوچھا:

“جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟”
جبریل علیہ السلام نے کہا:
“یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھایا کرتے تھے۔”

📚 الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد، ج: 20، ص: 255

سنن ابو داود میں حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لما عرج بي مررت بقوم لهم أظفار من نحاس يخمشون وجوههم وصدورهم، فقلت: من هٰؤلاء يا جبريل؟ قال: هٰؤلاء الذين يأكلون لحوم الناس ويقعون فى أعراضهم

ترجمہ:
“معراج کے موقع پر میرا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جن کے ناخن پیتل کے تھے، وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔ میں نے پوچھا: جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟
جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھایا کرتے تھے اور ان کی عزتوں پر حملہ کیا کرتے تھے۔”

📖 سنن أبي داود، كتاب الأدب، باب في الغيبة، حديث: 4878

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/4878

لوگوں کا گوشت کھانے سے مراد غیبت ہے، یعنی پیٹھ پیچھے لوگوں کے عیوب بیان کرنا۔ اسی کو قرآن مجید میں اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے:

﴿وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ﴾
ترجمہ:
“اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ پس تم اسے ناپسند کرتے ہو۔”

📖 الحجرات: 12

بے عمل خطباء کا عبرت ناک انجام

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقاريض من نار، قلت: من هٰؤلاء يا جبريل؟ قال: هٰؤلاء خطباء من أمتك يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم، وهم يتلون الكتاب، أفلا يعقلون

ترجمہ:
“میں نے معراج کی رات کچھ ایسے لوگوں کو دیکھا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے۔ میں نے پوچھا: جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟
جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ آپ کی امت کے وہ خطیب ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں، حالانکہ وہ کتاب بھی پڑھتے ہیں، کیا وہ عقل نہیں رکھتے؟”

📚 شرح السنة للبغوي، ج: 14، ص: 353، حديث: 4159
(یہ حدیث حسن ہے)

ناقةُ الله (اونٹنی) کے قاتل کا انجام

حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے معجزے کے مطالبے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اونٹنی پائی تھی، جسے ناقةُ الله کہا گیا، اور سختی سے منع کیا گیا تھا کہ اسے نقصان نہ پہنچایا جائے۔ پانی کی باری بھی مقرر تھی، ایک دن اونٹنی کے لیے اور ایک دن قوم کے لیے، لیکن ظالموں نے اس کی حرمت کا خیال نہ رکھا اور اسے قتل کر دیا۔

معراج کے موقع پر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کی ایک جھلک دیکھی تو آپ نے اس قاتل کو بھی دیکھا۔ روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو:

➤ سرخ رنگ کا تھا
➤ نیلگوں آنکھوں والا تھا
➤ گھونگریالے بالوں والا تھا
➤ پراگندہ حال تھا

آپ نے پوچھا:
“جبریل! یہ کون شخص ہے؟”
جبریل علیہ السلام نے کہا:
“یہ اونٹنی کا قاتل ہے۔”

📚 الفتح الرباني، ج: 20، ص: 255

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اس روایت کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔

یہ تمام مشاہدات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ شبِ معراج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف جنت کی نعمتوں بلکہ جہنم کے عبرت ناک عذاب بھی دکھائے گئے، تاکہ امت ان گناہوں سے بچے جن کا انجام نہایت خوفناک ہے، اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے قبل انجامِ آخرت کو یاد رکھے۔

22 📘 اختتامِ سلسلہ: واقعۂ اسراء و معراج

الحمد للہ!
واقعۂ اسراء و معراج سے متعلق یہ سلسلہ یہاں مکمل ہوتا ہے۔

اس پورے بیان میں قرآنِ مجید کی آیات، صحیح اور حسن احادیث، صحابۂ کرامؓ کے اقوال، تابعین اور ائمۂ امت کی توضیحات کی روشنی میں اس عظیم معجزے کے مختلف پہلو بیان کیے گئے—اسراء و معراج کے مقاصد، آسمانی و زمینی مشاہدات، جنت و جہنم کی جھلکیاں، عبرت ناک مناظر، اور امت کے لیے رہنمائی کے پیغامات۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان حقائق سے ایمان، عمل اور اصلاحِ نفس کی توفیق عطا فرمائے، اور اس عظیم معجزے کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی توفیق دے۔
آمین۔