1 📘 عمرہ کے فضائل و احکام سے پہلے — عقیدۂ توحید کی بنیادی شرط
📘 عمرہ کے فضائل و احکام سے پہلے — عقیدۂ توحید کی بنیادی شرط
عمرہ کے فضائل و احکام پر بات کرنے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرنا بہت ضروری ہے کہ چاہے عمرہ ہو، نماز ہو یا کوئی بھی عبادت — اس کے لیے عقیدۂ توحید بنیادی شرط ہے۔
اگر کسی کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی:
غوث الاعظم (سب سے بڑا فریادرس)
گنج بخش (خزانے دینے والا)
بگڑیاں بنانے والا
اولاد دینے والا
ہو سکتا ہے، تو یہ صریح شرک ہے۔
ایسا شخص اگر اربوں نیک اعمال بھی کرے تو وہ برباد ہو جاتے ہیں — الا یہ کہ وہ سچے دل سے توبہ کرے اور عقیدۂ توحید کو اپنائے۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
🟦 قرآن میں بیان — اگر انبیاء بھی شرک کرتے تو اعمال برباد
قرآن مجید میں 17 انبیاء علیہم السلام کا ذکر خیر کرنے کے بعد فرمایا:
وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ
(سورۃ الانعام 84–88)
ترجمہ:
"اگر بالفرض یہ حضرات بھی شرک کرتے تو ان کے سارے اعمال برباد کر دیے جاتے۔"
یوں اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ شرک وہ جرم ہے جو نیکیوں کو جڑ سے کاٹ دیتا ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
🟦 رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بھی یہی اصول
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب، رسول اللہ ﷺ سے فرمایا:
لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
(سورۃ الزمر 65)
ترجمہ:
"اگر آپ ﷺ (بالفرض) شرک کرتے تو آپ کے اعمال برباد ہو جاتے اور آپ نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہو جاتے۔"
یہ آیت بتاتی ہے کہ شرک کے مقابلے میں کوئی رتبہ، کوئی مقام، کوئی قربت بھی فائدہ نہیں دیتی — اعمال تب ہی باقی رہتے ہیں جب توحید پر قائم رہیں۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
📘 حج و عمرہ کا بلانا — صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے
یہ جان لینا بھی بہت ضروری ہے کہ عمرہ ہو یا حج — اس کا بلانا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
وہی:
فیصلہ کرتا ہے
توفیق دیتا ہے
راستے بناتا ہے
اور بندے کو اپنے گھر بلاتا ہے
لہٰذا یہ کہنا:
❌ "بگڑی بناو مکی مدنی، در پر بلاو مکی مدنی"
❌ "مجھے در پر پھر بلانا مدنی مدینے والے"
یہ سب عقیدۂ توحید کے منافی ہے۔
⚠️ اللہ کے سوا کوئی بھی ہستی:
ہماری پکار سننے پر قادر نہیں
دعا قبول کرنے پر قادر نہیں
ہمارے نصیب، حج، عمرہ یا تقدیر پر کوئی اختیار نہیں رکھتی
فوت شدہ ہستیوں کا تو بالکل کوئی اختیار نہیں
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
📘 حج و عمرہ کی اصل پہلی شرط — خالص توحید
اگر آپ حج یا عمرہ پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ شرکیہ عقائد سے مکمل رجوع کریں۔
✔ خالص توحید کو اپنائیں
✔ عبادت کا حق صرف اللہ کے لیے مانیں
✔ دعا، مدد، فریاد، رزق، اولاد — سب کا تعلق صرف اللہ کے ساتھ رکھیں
تاکہ آپ کی عبادت:
مقبول ہو
خالص ہو
اور آپ کے لیے نجات اور اجر کا باعث بنے
اللہ ہمیں خالص توحید پر زندہ رکھے اور اسی پر دنیا سے رخصت فرمائے۔ آمین۔