1 قرآنی اور غیر قرآنی تعویذات کی شرعی حیثیت
📘 قرآنی اور غیر قرآنی تعویذات کی شرعی حیثیت
📖 بنیادی دلیلِ حدیث
قال رسول الله ﷺ:
"مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ.”
(مسند أحمد 16781، السلسلة الصحيحة 2961)
ترجمہ:
“جس نے تعویذ لٹکایا اُس نے شرک کیا۔”
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
✦ پہلی قسم: غیر قرآنی / شرکیہ تعویذ
(جادوئی نقش، طلسم، غیر معلوم حروف، شیاطین کے نام، ہڈیاں، کیل، دھاگے، منتر وغیرہ)
شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"…وهذا النوع محرم بلا شك… وهو من أنواع الشرك الأصغر… وقد يكون شركا أكبر إذا اعتقد أنها تحفظه أو تدفع الضرر دون إذن الله."
(مجموع فتاوى ابن باز)
ترجمہ:
یہ قسم بلا شبہ حرام ہے۔
یہ شرکِ اصغر ہے۔
اگر عقیدہ بن جائے کہ یہ تعویذ اللہ کے بغیر حفاظت کرتے ہیں → شرکِ اکبر بن جاتا ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
✦ دوسری قسم: قرآنی آیات اور مسنون دعاؤں والے تعویذ
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"فهذا النوع اختلف فيه العلماء… بعضهم أجازه… وبعض أهل العلم منعه… واحتجوا بعموم أحاديث النهي عن التمائم… ولا دليل على التخصيص."
(مجموع فتاوى ابن باز)
ترجمہ:
اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے:
✔ بعض نے اسے جائز کہا—اور کہا کہ یہ جائز رقیہ کی قسم ہے۔
✘ جبکہ بعض نے اسے ناجائز کہا—اور دلیل یہ دی کہ:
تمائم کی ممانعت والی احادیث عام ہیں
کوئی دلیل موجود نہیں جو "قرآنی تعویذ" کو استثناء دے سکے
اس لئے مندرجہ بالا حدیث کا عموم قرآنی تعویذ کو بھی شامل ہے
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
📌 حاصلِ کلام (خلاصہ):
❌ غیر قرآنی / شرکیہ تعویذ
→ حرام
→ شرکِ اصغر
→ عقیدہ بن جائے کہ یہ خود نفع/ضرر دیتے ہیں → شرکِ اکبر
⚠️ قرآنی تعویذ
→ بعض علماء کے نزدیک جائز
→ مگر ممانعت پر دلائل زیادہ قوی
→ "تمائم" کی احادیث کا عموم ہر قسم کے لٹکائے گئے تعویذ کو شامل کرتا ہے
📌 اس لیے راجح قول:
تعویذ چاہے قرآنی ہو یا غیر قرآنی—لٹکانا درست نہیں۔






