واٹساپ دعوتی مواد تعویذ گنڈے

تعویذ گنڈے

8 پیغامات

1 قرآنی اور غیر قرآنی تعویذات کی شرعی حیثیت

📘 قرآنی اور غیر قرآنی تعویذات کی شرعی حیثیت

📖 بنیادی دلیلِ حدیث

قال رسول الله ﷺ:
"مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ.”
(مسند أحمد 16781، السلسلة الصحيحة 2961)

ترجمہ:
“جس نے تعویذ لٹکایا اُس نے شرک کیا۔”

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

✦ پہلی قسم: غیر قرآنی / شرکیہ تعویذ

(جادوئی نقش، طلسم، غیر معلوم حروف، شیاطین کے نام، ہڈیاں، کیل، دھاگے، منتر وغیرہ)

شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"…وهذا النوع محرم بلا شك… وهو من أنواع الشرك الأصغر… وقد يكون شركا أكبر إذا اعتقد أنها تحفظه أو تدفع الضرر دون إذن الله."
(مجموع فتاوى ابن باز)

ترجمہ:
یہ قسم بلا شبہ حرام ہے۔
یہ شرکِ اصغر ہے۔
اگر عقیدہ بن جائے کہ یہ تعویذ اللہ کے بغیر حفاظت کرتے ہیں → شرکِ اکبر بن جاتا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

✦ دوسری قسم: قرآنی آیات اور مسنون دعاؤں والے تعویذ

شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"فهذا النوع اختلف فيه العلماء… بعضهم أجازه… وبعض أهل العلم منعه… واحتجوا بعموم أحاديث النهي عن التمائم… ولا دليل على التخصيص."
(مجموع فتاوى ابن باز)

ترجمہ:
اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے:

✔ بعض نے اسے جائز کہا—اور کہا کہ یہ جائز رقیہ کی قسم ہے۔
✘ جبکہ بعض نے اسے ناجائز کہا—اور دلیل یہ دی کہ:

تمائم کی ممانعت والی احادیث عام ہیں

کوئی دلیل موجود نہیں جو "قرآنی تعویذ" کو استثناء دے سکے

اس لئے مندرجہ بالا حدیث کا عموم قرآنی تعویذ کو بھی شامل ہے

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📌 حاصلِ کلام (خلاصہ):

❌ غیر قرآنی / شرکیہ تعویذ

→ حرام
→ شرکِ اصغر
→ عقیدہ بن جائے کہ یہ خود نفع/ضرر دیتے ہیں → شرکِ اکبر

⚠️ قرآنی تعویذ

→ بعض علماء کے نزدیک جائز
→ مگر ممانعت پر دلائل زیادہ قوی
→ "تمائم" کی احادیث کا عموم ہر قسم کے لٹکائے گئے تعویذ کو شامل کرتا ہے

📌 اس لیے راجح قول:
تعویذ چاہے قرآنی ہو یا غیر قرآنی—لٹکانا درست نہیں۔

2 کیا تمائم اور تعویذ میں فرق ہے؟

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 بعض لوگوں کا دعویٰ

"تمائم اور تعویذ میں فرق ہے۔
اگر ہڈیاں، منکے، بلی کی ہڈیاں، دھاگے یا طلسم لٹکائے جائیں → یہ تمائم ہیں (شرک)۔
لیکن اگر قرآن کا تعویذ لٹکایا جائے → یہ جائز ہے!"

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 الجواب

یہ دعویٰ سراسر دھوکہ اور حقیقت کا انکار ہے۔

🔹 1 — شریعت میں فرق نام سے نہیں، عقیدے سے پڑتا ہے

اگر کوئی شخص بلی کی ہڈی گلے میں ڈالے اس نیت سے کہ:

✔ یہ مجھے بچائے گی
✔ یہ مجھے محفوظ رکھے گی

→ یہ شرک ہے۔

اور اگر کوئی قرآن لکھ کر گلے میں لٹکائے اور عقیدہ بنائے کہ:

✔ یہ مجھے نقصان سے بچائے گا
✔ یہ مجھے بیماری سے بچائے گا

→ یہ بھی وہی شرک ہے۔

📌 شرک کا مدار "ذریعے" پر نہیں، "عقیدے" پر ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 بنیادی دلیلِ نبوی ﷺ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ»
(مسند أحمد 16781، السلسلة الصحيحة 2961)

ترجمہ:
"جس نے کوئی تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا۔"

🔹 حدیث میں کوئی تخصیص نہیں
🔹 نہ کہا کہ "صرف غیر قرآنی تعویذ"
🔹 نہ کہا کہ "قرآنی تعویذ مستثنیٰ ہیں"

بلکہ عموم کے لفظ "تمیمة" سے ہر قسم کے لٹکائے گئے تعویذ مراد ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 مثال سے سمجھیں

جیسے:

شراب کے نام بدل دینے سے حقیقت نہیں بدلتی
(شراب، وسکی، برانڈی، رم وغیرہ)

✔ سب حرام ہی رہتی ہیں۔

اسی طرح:

تمائم

تعویذ

نقش

لوح

"سفلی نظر سے بچاؤ والا کاغذ"

"قرآنی وظیفہ والا تعویذ"

✔ نام بدل دینے سے حقیقت نہیں بدلتی۔
✔ گلے میں لٹکانا اصل جرم ہے، نہ کہ کیا لکھا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 حاصل کلام

1️⃣ تعویذ اور تمائم کو الگ الگ سمجھنا بدعتی مغالطہ ہے۔
2️⃣ عمل کا حکم نیت اور عقیدے سے ہے، نام سے نہیں۔
3️⃣ حدیث کا عموم بتاتا ہے کہ:

ہر قسم کا لٹکایا گیا تعویذ → شرک ہے۔

چاہے اس پر آیات لکھی ہوں یا کچھ اور۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

3 تعویذات کے جواز میں ایک عقلی قیاس

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 ایک اور دعویٰ

"نبی ﷺ نے رقیہ، تمائم اور تولہ سب کو شرک کہا ہے۔
چونکہ رقیہ (دم) بعض صورتوں میں جائز ہے، اس لیے تعویذ بھی جائز ہونا چاہیے۔”

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 الجواب

یہ دلیل سب سے بڑا دھوکہ ہے اور اصولِ حدیث سے لاعلمی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

✦ پہلی بات: اصل حدیث "رقیہ، تمائم، تولہ" — تینوں کی عمومی ممانعت

نبی ﷺ نے فرمایا:

عربی متن:
«إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ»

ترجمہ:
"دم (رقیہ)، تعویذ اور تولہ — سب شرک ہیں۔"

🔹 حوالہ:
سنن أبي داود، کتاب الطب، حدیث 3883
مسند أحمد 3615
صحیح ابن حبان 6086

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

✦ دوسری بات: رقیہ (دم) کا استثناء خود نبی ﷺ نے کیا

پہلے رقیہ بھی عام ممانعت میں داخل تھا،
پھر رسول اللہ ﷺ نے رقیہ کے بارے میں تخصیص فرما دی:

عربی متن:
«اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ، لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ»

ترجمہ:
"اپنے دم (رقیے) مجھے دکھاؤ،
اس میں کوئی حرج نہیں، جب تک اس میں شرک نہ ہو۔"

🔹 حوالہ:
صحیح مسلم، کتاب السلام، باب استحباب الرقى… حدیث 5732

📌 نتیجہ:
رقیہ (دم) → شرط کے ساتھ جائز: "ما لم يكن فيه شرك"

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

✦ تیسری بات: تعویذ/تمائم کے بارے میں کوئی تخصیص نہیں

نبی ﷺ کا عمومی فرمان:

عربی متن:
«مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ»

ترجمہ:
"جس نے تعویذ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔"

🔹 حوالہ:
مسند أحمد 16781
السلسلة الصحيحة للألباني 2961

اس حدیث میں:

❌ قرآنی تعویذ کا استثناء نہیں
❌ کسی خاص قسم کے تمیمہ کی تخصیص نہیں
❌ نہ کوئی نص کہ "قرآنی تمائم" جائز ہیں

📌 اس لیے:
– رقیہ کو خود سنت نے سنت کے ذریعے مخصوص کیا
– تمائم کے بارے میں کوئی تخصیص وارد نہیں → اصل حکم (شرک) باقی رہا

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

✦ اصولِ فقہ: سنت کو سنت کے ساتھ خاص کرنا (تخصیص السنّة بالسنّة)
① امام ابو اسحاق الشیرازی (متوفی 476ھ)

عربی:
«تخصيص السنّة بالسنّة جائز عند الأكثرين.»
(الإحكام في أصول الأحكام)

ترجمہ:
اکثر علماء کے نزدیک ایک سنت کو دوسری سنت کے ذریعے مخصوص کرنا جائز ہے۔

━━━━━━━━━━

② خطیب بغدادی (متوفی 463ھ)

عربی:
«ويجوز تخصيص السنّة بالسنّة من قول النبي ﷺ وفعله.»
(الفقيه والمتفقه)

ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ کے قول یا فعل کے ذریعے سنت کو سنت کے ساتھ خاص کرنا جائز ہے۔

━━━━━━━━━━

③ ابو الحسن الآمدی (متوفی 631ھ)

عربی:
«ويجوز تخصيص السنة بالسنة.»
(اللمع في أصول الفقه)

ترجمہ:
سنت کو سنت کے ذریعے خاص کرنا جائز ہے۔

📌 اطلاق اس مسئلے پر:
– پہلی سنت: «الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ» (ابو داود 3883 وغیرہ)
– دوسری سنت: «لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ» (مسلم 5732)

→ اس دوسری سنت نے رقیہ کے بارے میں استثناء دے دیا
→ مگر تمائم کے بارے میں کوئی استثناء نہیں آیا

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

4 📘 تعویذات کے جواز میں پیش کردہ پہلی دلیل

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 تعویذات کے جواز میں پیش کردہ پہلی دلیل

ایک شخص نے عبداللہ بن عمروؓ سے مروی یہ روایت دلیل کے طور پر پیش کی کہ:

“وہ اپنے بچوں کو کلمات سکھاتے تھے اور نابالغ بچوں کے گلے میں لٹکا دیتے تھے۔”
(سنن ابوداؤد 3893، ترمذی 3528 وغیرہ)

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 الجواب

یہ روایت سخت ضعیف ہے، کیونکہ اس کی سند میں محمد بن اسحاق بن یسار ہے، جس پر ائمہ حدیث نے شدید جرح کی ہے:

جروحاتِ ائمہ:

● امام مالک:
“دجال من الدجاجلہ”
(یہ دجالوں میں سے ایک ہے)

● امام احمد بن حنبل:
مدلس اور ضعیف

● ابو داود:
لوگوں کی کتابوں سے روایات لے کر اپنی کتاب میں داخل کرتا تھا

● نسائی:
“لیس بالقوی”
(قوی نہیں ہے)

ایک مشہور دیوبندی عالم و محقق نے تو اپنی کتاب میں اس راوی کو گالی تک دی ہوئی ہے۔ نعوذباللہ۔

📌 نتیجہ:
🔴 یہ روایت سخت ضعیف ہونے کی وجہ سے حجت نہیں بن سکتی۔

5 📘 تعویذات کے جواز میں پیش کردہ دوسری دلیل

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 تعویذات کے جواز میں پیش کردہ دوسری دلیل

نوح بن ابی مریم سے نقل کیا جاتا ہے کہ سعید بن المسیبؒ نے فرمایا:

“چمڑے کے تعویذ میں کوئی حرج نہیں۔”
(مصنف ابن ابی شیبہ 24008)

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 الجواب

یہ روایت بھی باطل ہے، کیونکہ نوح بن ابی مریم خود سخت مجروح راوی ہے:

جروحاتِ ائمہ:

● امام بخاری:
منکر الحدیث

● ابو حاتم:
متروک الحدیث

● ابو زرعہ:
ضعیف الحدیث

● دارقطنی:
متروک

● ابن حجر:
“کذاب” (جھوٹا)

📌 نتیجہ:
🔴 یہ اثر باطل ہے اور کسی بھی درجے میں قابلِ احتجاج نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

6 📘 تعویذات کے جواز میں پیش کردہ تیسری دلیل

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 تعویذات کے جواز میں پیش کردہ تیسری دلیل

ابن جریج سے روایت ہے کہ عطاء نے فرمایا:

“اگر تعویذ چمڑے میں ہو تو عورت اسے اتار دے،
اور اگر چاندی کے خول میں ہو تو چاہے اتارے، چاہے نہ اتارے۔”
(مصنف ابن ابی شیبہ 24009)

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 الجواب

یہ روایت بھی قابلِ حجت نہیں کیونکہ:

ابن جریج کے بارے میں جروحات:

● مدلس ہے
● اور یہاں عنعنہ کے ساتھ روایت کر رہا ہے
→ یعنی روایت معلول ہے

ائمہ کی جرح:

● نسائی: مدلس قبیح
● ابن معین: ضعیف
● امام احمد: خبیث الرائے

📌 حتیٰ کہ دیوبندی و بریلوی محققین نے بھی اس کے عنعنہ کو ضعیف مانا ہے۔

نتیجہ:
🔴 یہ روایت بھی ناقابلِ حجت ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

7 📘 تعویذات کے جواز میں پیش کردہ چوتھی دلیل

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 تعویذات کے جواز میں پیش کردہ چوتھی دلیل

ثویر بن ابی فاختہ سے منقول ہے کہ مجاہدؒ لوگوں کو تعویذ لکھ کر دیتے تھے۔
(مصنف ابن أبي شيبة 24010)

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 الجواب

یہ روایت قابلِ حجت نہیں کیونکہ ثویر بن ابی فاختہ سخت ضعیف راوی ہے۔

جروحاتِ ائمہ:

● یحییٰ بن معین: ضعیف
● ابو حاتم: ضعیف
● دارقطنی: متروک
● ابن حجر: ضعیف، رمی بالرفض (رافضی ہونے کا الزام)

📌 نتیجہ:
🔴 روایت ضعیف ہے، اس سے شرعی حکم ثابت نہیں ہو سکتا۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

8 📘 تعویذات کے جواز میں پیش کردہ پانچویں دلیل

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 تعویذات کے جواز میں پیش کردہ پانچویں دلیل

یونس بن خباب سے نقل کیا گیا کہ امام ابو جعفر (محمد بن علی الباقر)
نے بچوں پر تعویذ لٹکانے کی اجازت دی۔
(مصنف ابن أبي شيبة 23551)

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 الجواب

یہ روایت بھی سخت ضعیف بلکہ “مردود” ہے، کیونکہ یونس بن خباب پر شدید جرح موجود ہے۔

جروحاتِ ائمہ:

● امام جوزجانی: کذاب مفتری
● امام احمد بن حنبل: خبیث الرائے
● ابو حاتم: مضطرب الحدیث
● دارقطنی: رجل سوء (برا آدمی)

📌 نتیجہ:
🔴 روایت مردود ہے، قابلِ استدلال نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 خلاصہ

✔ تعویذات کے جواز میں پیش کیے گئے تمام دلائل:

یا ضعیف ہیں

یا متروک راویوں سے

یا رافضی / جھوٹے راویوں سے

یا مضطرب / منقطع سندوں سے

✔ کسی صحیح حدیث سے تعویذ لٹکانے کا جواز نہیں ملتا۔

✔ بلکہ صحیح احادیث میں واضح الفاظ میں آیا ہے:

«مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ»
جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا۔

📌 اس لیے کوئی ضعیف روایت صحیح حدیث کے مقابل نہیں آ سکتی۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━