1 📘 نصف شعبان کی رات کی فضیلت — روایات کا تحقیقی جائزہ (حدیث و اصولِ حدیث کی روشنی میں)
نصف شعبان کی رات کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث بیان کی جاتی ہیں، جن کا مفہوم یہ ہے کہ شعبان کی پندرھویں رات کو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے، اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کے گناہ بخش دیتا ہے وغیرہ۔
ان روایات کی بنا پر بہت سے لوگ اس رات کو خاص طور پر غیر معمول عبادات کرتے ہیں۔ ذیل میں ان احادیث کا تحقیقی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
◈ شیخ محمد ناصر الدین الألبانی رحمہ اللہ کا قول
شیخ محمد ناصر الدین الألبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
يَطَّلِعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ، إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ، حَدِيثٌ صَحِيحٌ، رُوِيَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ مِنْ طُرُقٍ مُخْتَلِفَةٍ يَشُدُّ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَهُمْ: مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، وَأَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ، وَعَائِشَةُ
”شعبان کی پندرھویں رات کو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف (خاص طور پر) متوجہ ہوتا ہے، پھر مشرک اور (مسلمان بھائی سے) دشمنی و بغض رکھنے والے کے سوا اپنی تمام (مسلمان) مخلوق کو بخش دیتا ہے۔“
[السلسلة الصحيحة: 3/135، حدیث: 1144]
➊ حدیثِ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ
↰ اس حدیث کو امام مکحول رحمہ اللہ نے
عن مالك بن يخامر عن معاذ بن جبل رضي الله عنه
کی سند سے روایت کیا ہے۔
تخریج:
یہ حدیث درج ذیل کتب میں اسی سند کے ساتھ مروی ہے:
كتاب السنة لابن أبي عاصم
[ح: 512، دوسرا نسخہ: 524]
صحيح ابن حبان
[موارد الظمان: 1980، الإحسان: 5636]
أمالي أبي الحسن القزويني
[2/4]
المجلس السابع لأبي محمد الجوهري
[2/3]
جزء من حديث محمد بن سليمان الربعي
[217/ا، 218/ا]
الأمالي لأبي القاسم الحسيني
[ق 1/12]
شعب الإيمان للبيهقي
[3/382 ح 3833، 5/6628]
تاريخ دمشق لابن عساكر
[40/172، 57/75]
الثالث والتسعين للحافظ عبد الغني المقدسي
[ق 2/44]
صفات رب العالمين لابن أعجب
[2/7، 2/129]
المعجم الكبير للطبراني
[20/108–109 ح 215]
المعجم الأوسط للطبراني
[7/397 ح 6772]
حلية الأولياء لأبي نعيم
[5/191]
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ کا قول
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مَكْحُولٌ لَمْ يَلْقَ مَالِكَ بْنَ يَخَامِرَ
”مکحول نے مالک بن یخامر سے ملاقات نہیں کی۔“
[السلسلة الصحيحة: 3/135]
↰ یعنی یہ روایت منقطع ہے۔
نتیجہ:
یہ سند ضعیف ہے۔
اصولِ حدیث کی کتاب تیسیر مصطلح الحدیث میں لکھا ہے:
الْمُنْقَطِعُ ضَعِيفٌ بِالِاتِّفَاقِ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ، وَذَلِكَ لِلْجَهْلِ بِحَالِ الرَّاوِي الْمَحْذُوفِ
”علماء (محدثین) کا اس پر اتفاق ہے کہ منقطع روایت ضعیف ہوتی ہے، کیونکہ اس میں محذوف راوی کا حال معلوم نہیں ہوتا۔“
[ص: 78]
➋ حدیثِ ابی ثعلبہ رضی اللہ عنہ
↰ اس حدیث کو احوص بن حکیم نے
عن مهاصر بن حبيب عن أبي ثعلبة رضي الله عنه
کی سند سے روایت کیا ہے۔
تخریج:
كتاب السنة لابن أبي عاصم
[ح: 511، دوسرا نسخہ: 523]
كتاب العرش لمحمد بن عثمان بن أبي شيبة
[ح: 87]
(اس میں یہ سند ہے: بشر بن عمارة عن الأحوص بن حكيم عن المهاصر بن حبيب عن مكحول عن أبي ثعلبة)
حديث أبي القاسم الأزجي
[1/67]
شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة لللالكائي
[3/445 ح 760]
المعجم الكبير للطبراني
[22/224 ح 593]
↰ اس کا بنیادی راوی احوص بن حکیم جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ضَعِيفُ الْحِفْظِ
[تقريب التهذيب: 290]
↰ مهاصر (مهاجر) بن حبيب کی ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں۔
❀ تنبیہ
كتاب العرش میں
مهاصر اور أبي ثعلبة کے درمیان مکحول کا واسطہ آیا ہے،
لیکن اس سند میں بشر بن عمارة ضعیف ہیں۔
[تقريب التهذيب: 897]
المعجم الكبير للطبراني
[22/223 ح 590]
میں عبد الرحمن بن محمد المحاربي اس کے متابع ہیں۔
لیکن اس سند میں دو راوی:
أحمد بن النضر العسکري
محمد بن آدم المصيصي
— نامعلوم ہیں۔
↰ عبد الرحمن بن محمد المحاربي مدلس ہیں۔
[طبقات المدلسين: 3832]
↰ اسی روایت کو بیہقی نے دوسری سند سے یوں روایت کیا ہے:
المحاربي عن الأحوص بن حكيم عن المهاجر بن حبيب عن مكحول عن أبي ثعلبة الخشني
[شعب الإيمان: 3832]