شب برات

8 پیغامات

1 📘 نصف شعبان کی رات کی فضیلت — روایات کا تحقیقی جائزہ (حدیث و اصولِ حدیث کی روشنی میں)

نصف شعبان کی رات کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث بیان کی جاتی ہیں، جن کا مفہوم یہ ہے کہ شعبان کی پندرھویں رات کو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے، اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کے گناہ بخش دیتا ہے وغیرہ۔
ان روایات کی بنا پر بہت سے لوگ اس رات کو خاص طور پر غیر معمول عبادات کرتے ہیں۔ ذیل میں ان احادیث کا تحقیقی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

◈ شیخ محمد ناصر الدین الألبانی رحمہ اللہ کا قول

شیخ محمد ناصر الدین الألبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

يَطَّلِعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ، إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ، حَدِيثٌ صَحِيحٌ، رُوِيَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ مِنْ طُرُقٍ مُخْتَلِفَةٍ يَشُدُّ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَهُمْ: مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، وَأَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ، وَعَائِشَةُ

”شعبان کی پندرھویں رات کو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف (خاص طور پر) متوجہ ہوتا ہے، پھر مشرک اور (مسلمان بھائی سے) دشمنی و بغض رکھنے والے کے سوا اپنی تمام (مسلمان) مخلوق کو بخش دیتا ہے۔“

[السلسلة الصحيحة: 3/135، حدیث: 1144]

➊ حدیثِ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ

↰ اس حدیث کو امام مکحول رحمہ اللہ نے
عن مالك بن يخامر عن معاذ بن جبل رضي الله عنه
کی سند سے روایت کیا ہے۔

تخریج:
یہ حدیث درج ذیل کتب میں اسی سند کے ساتھ مروی ہے:

كتاب السنة لابن أبي عاصم
[ح: 512، دوسرا نسخہ: 524]

صحيح ابن حبان
[موارد الظمان: 1980، الإحسان: 5636]

أمالي أبي الحسن القزويني
[2/4]

المجلس السابع لأبي محمد الجوهري
[2/3]

جزء من حديث محمد بن سليمان الربعي
[217/ا، 218/ا]

الأمالي لأبي القاسم الحسيني
[ق 1/12]

شعب الإيمان للبيهقي
[3/382 ح 3833، 5/6628]

تاريخ دمشق لابن عساكر
[40/172، 57/75]

الثالث والتسعين للحافظ عبد الغني المقدسي
[ق 2/44]

صفات رب العالمين لابن أعجب
[2/7، 2/129]

المعجم الكبير للطبراني
[20/108–109 ح 215]

المعجم الأوسط للطبراني
[7/397 ح 6772]

حلية الأولياء لأبي نعيم
[5/191]

◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ کا قول

حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مَكْحُولٌ لَمْ يَلْقَ مَالِكَ بْنَ يَخَامِرَ

”مکحول نے مالک بن یخامر سے ملاقات نہیں کی۔“

[السلسلة الصحيحة: 3/135]

↰ یعنی یہ روایت منقطع ہے۔

نتیجہ:
یہ سند ضعیف ہے۔

اصولِ حدیث کی کتاب تیسیر مصطلح الحدیث میں لکھا ہے:

الْمُنْقَطِعُ ضَعِيفٌ بِالِاتِّفَاقِ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ، وَذَلِكَ لِلْجَهْلِ بِحَالِ الرَّاوِي الْمَحْذُوفِ

”علماء (محدثین) کا اس پر اتفاق ہے کہ منقطع روایت ضعیف ہوتی ہے، کیونکہ اس میں محذوف راوی کا حال معلوم نہیں ہوتا۔“

[ص: 78]

➋ حدیثِ ابی ثعلبہ رضی اللہ عنہ

↰ اس حدیث کو احوص بن حکیم نے
عن مهاصر بن حبيب عن أبي ثعلبة رضي الله عنه
کی سند سے روایت کیا ہے۔

تخریج:

كتاب السنة لابن أبي عاصم
[ح: 511، دوسرا نسخہ: 523]

كتاب العرش لمحمد بن عثمان بن أبي شيبة
[ح: 87]
(اس میں یہ سند ہے: بشر بن عمارة عن الأحوص بن حكيم عن المهاصر بن حبيب عن مكحول عن أبي ثعلبة)

حديث أبي القاسم الأزجي
[1/67]

شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة لللالكائي
[3/445 ح 760]

المعجم الكبير للطبراني
[22/224 ح 593]

↰ اس کا بنیادی راوی احوص بن حکیم جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔

◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ضَعِيفُ الْحِفْظِ

[تقريب التهذيب: 290]

↰ مهاصر (مهاجر) بن حبيب کی ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں۔

❀ تنبیہ

كتاب العرش میں
مهاصر اور أبي ثعلبة کے درمیان مکحول کا واسطہ آیا ہے،
لیکن اس سند میں بشر بن عمارة ضعیف ہیں۔

[تقريب التهذيب: 897]

المعجم الكبير للطبراني
[22/223 ح 590]
میں عبد الرحمن بن محمد المحاربي اس کے متابع ہیں۔

لیکن اس سند میں دو راوی:

أحمد بن النضر العسکري
محمد بن آدم المصيصي

— نامعلوم ہیں۔

↰ عبد الرحمن بن محمد المحاربي مدلس ہیں۔
[طبقات المدلسين: 3832]

↰ اسی روایت کو بیہقی نے دوسری سند سے یوں روایت کیا ہے:

المحاربي عن الأحوص بن حكيم عن المهاجر بن حبيب عن مكحول عن أبي ثعلبة الخشني

[شعب الإيمان: 3832]

2 📘 نصف شعبان کی رات کی فضیلت — روایات کا تحقیقی جائزہ

③ حدیث عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ

↰ اسے حسن (بن موسیٰ) نے
حدثنا ابن لهيعة : حدثنا حيي بن عبدالله عن أبى عبدالرحمٰن الحبلي عن عبدالله بن عمرو
کی سند سے روایت کیا ہے۔

[مسند أحمد: 2/176، حدیث: 6642]

↰ یہ روایت عبد اللہ بن لہیعہ کے اختلاط کی وجہ سے ضعیف ہے۔
ابن لہیعہ کے اختلاط کے لیے دیکھیے:
[تقريب التهذيب: 3563]

↰ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ حسن بن موسیٰ نے ابن لہیعہ سے اختلاط سے پہلے حدیث سنی ہو۔

◈ حافظ منذری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادٍ لَيِّنٍ

”اسے احمد نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔“

[الترغيب والترهيب: 3/460 حدیث: 4080]
نیز دیکھیے: [2/119 حدیث: 1519]

◈ محدث البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”رشدین بن سعد نے ابن لہیعہ کی متابعت کی ہے۔“

[حديث ابن حيويه: 3/10/ا]
[السلسلة الصحيحة: 3/136]

↰ عرض ہے کہ رشدین بن سعد بن مفلح المہری بذاتِ خود ضعیف ہے۔
دیکھیے: [تقريب التهذيب: 1942]

↰ لہٰذا یہ روایت دونوں سندوں کے ساتھ ضعیف ہی ہے، حسن نہیں۔

④ حدیث ابی موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

↰ اسے ابن لہیعہ نے
عن الزبير بن سليم عن الضحاك بن عبدالرحمٰن عن أبيه قال: سمعت أبا موسى…
کی سند سے روایت کیا ہے۔

تخریج:
سنن ابن ماجه: [2/1390]
السنة لابن أبي عاصم: [510، دوسرا نسخہ: 522]
السنة للالكائي: [3/447 حدیث: 763]

↰ اس سند میں عبدالرحمٰن بن عرزب مجہول ہے۔
[تقريب التهذيب: 3950]

↰ اسی طرح زبیر بن سلیم بھی مجہول ہے۔
[تقريب التهذيب: 1996]

↰ بعض کتابوں میں غلطی کی وجہ سے ربیع بن سلیمان اور بعض میں زبیر بن سلیمان چھپ گیا ہے۔

نتیجہ: یہ سند ضعیف ہے۔

❀ تنبیہ

ابن ماجہ کی دوسری سند
[1/1390]
میں ابن لہیعہ کے علاوہ:

➤ ولید بن مسلم — مدلس
➤ ضحاک بن ایمن — مجہول
[تقريب التهذيب: 2965]

↰ یہ سند بھی منقطع ہے، لہٰذا یہ بھی ضعیف ہے۔

⑤ حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

↰ اسے ہشام بن عبدالرحمٰن نے
الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه
کی سند سے روایت کیا ہے۔

تخریج:
كشف الأستار عن زوائد البزار: [2/436 حدیث: 2046]
العلل المتناهية لابن الجوزي: [2/70 حدیث: 921]

↰ اس کا راوی ہشام بن عبدالرحمٰن نامعلوم العدالت (مجہول) ہے۔

◈ حافظ ہیثمی لکھتے ہیں:

وَلَمْ أَعْرِفْهُ

”اور میں اسے نہیں پہچانتا۔“

[مجمع الزوائد: 8/65]

نتیجہ: یہ سند ضعیف ہے۔

⑥ حدیث ابی بکر الصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

↰ اسے عبدالملک بن عبدالملک نے
عن معصب بن أبي ذئب عن القاسم بن محمد عن أبيه أو عمه عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه
کی سند سے روایت کیا ہے۔

تخریج:
كشف الأستار: [2/435 حدیث: 2045]
كتاب التوحيد لابن خزيمة: [ص 136 حدیث: 200]
السنة لابن أبي عاصم: [509، دوسرا نسخہ: 521]
السنة للالكائي: [3/438–439 حدیث: 750]
أخبار أصبهان لأبي نعيم: [2/2]
شعب الإيمان للبيهقي: [3827]

↰ اس سند میں عبدالملک بن عبدالملک پر جمہور محدثین نے جرح کی ہے۔

◈ حافظ ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مُنْكَرُ الْحَدِيثِ جِدًّا

”یہ سخت منکر حدیثیں بیان کرنے والا ہے۔“

[كتاب المجروحين: 2/136]

◈ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فِيهِ نَظَرٌ

”یہ متروک و متہم ہے۔“

[التاريخ الكبير: 5/424]

◈ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مَتْرُوكٌ

[سؤالات البرقاني: 304]

↰ معصب بن أبي ذئب بھی غیر موثق اور غیر معروف ہے۔
دیکھیے: [كتاب الجرح والتعديل: 8/307 رقم: 1418]

نتیجہ: یہ سند ضعیف ہے۔

3 📘 نصف شعبان کی رات کی فضیلت — روایات کا تحقیقی جائزہ

⑦ حدیثِ عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ

↰ اس کی سند یوں ہے:
عن عبدالرحمٰن بن أنعم عن عبادة بن نسي عن كثير عن مرة عن عوف بن مالك رضي الله عنه

تخریج:
كشف الأستار: [2/436 ح 2048]
المجلس السابع لأبي محمد الجوهري
[السلسلة الصحيحة: 3/137]

↰ اس روایت میں عبدالرحمٰن بن زیاد بن أنعم جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔

◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ضَعِيفٌ فِي حِفْظِهِ، وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا

”حفظ کے اعتبار سے ضعیف ہے، اگرچہ نیک آدمی تھا۔“

[تقريب التهذيب: 3862]

⑧ حدیثِ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

↰ اسے حجاج بن أرطاة نے
عن يحيى بن أبي كثير عن عروة عن عائشة رضي الله عنها
کی سند سے روایت کیا ہے۔

تخریج:
سنن الترمذي: [1/106 ح 739]
سنن ابن ماجه: [1389]
مسند أحمد: [6/238 ح 26546]
مصنف ابن أبي شيبة: [10/438 ح 29849]
عبد بن حميد: [1507]
شعب الإيمان للبيهقي: [3824]
العلل المتناهية: [2/66 ح 915]

◈ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”میں نے امام بخاری کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ حدیث ضعیف ہے، نہ یحییٰ بن ابی کثیر نے اسے عروہ سے سنا ہے اور نہ حجاج بن أرطاة نے اسے یحییٰ سے سنا ہے۔“

[سنن الترمذي: 739]

↰ حجاج بن أرطاة جمہور کے نزدیک ضعیف اور مدلس ہے،
اور یحییٰ بن ابی کثیر بھی مدلس ہیں۔

نتیجہ: یہ سند ضعیف ہے۔

↰ اس روایت کے تین ضعیف شواہد بھی ہیں:

➊ العلل المتناهية [2/67–68 ح 917]
↰ اس میں سلیمان بن أبي كريمة ضعیف ہے، منکر روایات بیان کرتا تھا۔
[لسان الميزان: 3/102]

➋ العلل المتناهية [2/68–69 ح 918]
↰ اس میں سعيد بن عبدالکريم الواسطی کا ثقہ ہونا معلوم نہیں۔
[لسان الميزان: 3/36]

➌ العلل المتناهية [2/69 ح 919]
↰ اس میں عطاء بن عجلان کذاب اور متروک ہے۔
[الكشف الحثيث: ص 289]
[تقريب التهذيب: 4594]

خلاصہ: یہ تینوں شواہد مردود ہیں۔

⑨ حدیثِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

↰ اسے ابن أبي سبرة نے
عن إبراهيم بن محمد عن معاوية بن عبدالله بن جعفر عن أبيه عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه
کی سند سے روایت کیا ہے۔

تخریج:
سنن ابن ماجه: [1388]
العلل المتناهية: [2/71 ح 923]

↰ اس میں ابوبكر بن أبي سبرة کذاب ہے۔
[تقريب التهذيب: 7973]

نتیجہ: یہ روایت موضوع ہے۔

❀ تنبیہ

سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس مفہوم کی دیگر موضوع روایات بھی مروی ہیں۔
دیکھیے:
الموضوعات لابن الجوزي: [2/127]
ميزان الاعتدال: [3/120]
اللآلي المصنوعة: [2/60]

⑩ حدیثِ كردوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ

↰ اسے عیسیٰ بن إبراهيم القرشي نے
عن سلمة بن سليمان الجزري عن مروان بن سالم عن ابن كردوس عن أبيه
کی سند سے روایت کیا ہے۔

تخریج:
كتاب العلل المتناهية: [2/71–72 ح 924]

↰ اس سند میں:
➤ عیسیٰ بن إبراهيم — منکر الحدیث، متروک
➤ مروان بن سالم — متروک، متہم
➤ سلمة بن سليمان — ثقہ ہونا نامعلوم

نتیجہ: یہ سند موضوع ہے۔

⑪ حدیثِ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

↰ اسے صالح الشمومي نے
عن عبدالله بن ضرار عن يزيد بن محمد بن أبيه محمد بن مروان عن ابن عمر رضي الله عنه
کی سند سے روایت کیا ہے۔

تخریج:
الموضوعات لابن الجوزي: [2/128]

↰ اس سند میں:
صالح الشمومي، عبدالله بن ضرار، يزيد، محمد بن مروان
— سب نامعلوم العدالت (مجہول) ہیں۔

◈ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے۔“

[الموضوعات: 2/129]

4 📘 نصف شعبان کی رات کی فضیلت — روایات کا تحقیقی جائزہ

⑫ حدیث محمد بن علی الباقر رحمہ اللہ

↰ اسے علی بن عاصم (ضعیف) نے
عن عمرو بن مقدام عن جعفر بن محمد بن أبيه
کی سند سے روایت کیا ہے۔

[الموضوعات لابن الجوزي: 2/128، 129]

↰ عمرو بن أبي المقدام رافضی اور متروک راوی ہے۔

◈ علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

هٰذَا إِسْنَادٌ مَوْضُوعٌ

”یہ سند موضوع ہے۔“

[اللآلي المصنوعة: 2/59]

↰ علی بن عاصم سے نیچے والی سند میں بھی کلام ہے۔

⑬ حدیث ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ

↰ اسے ابن عساکر نے نامعلوم راویوں کے ساتھ
محمد بن حازم عن الضحاك بن مزاحم عن أبي بن كعب
کی سند سے روایت کیا ہے۔

دیکھیے: ذيل اللآلي المصنوعة
[ص: 112، 113]

↰ یہ روایت منقطع ہونے کے ساتھ موضوع بھی ہے۔

⑭ مکحول تابعی رحمہ اللہ کا قول

امام مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

إِنَّ اللَّهَ يَطَّلِعُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فِي النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لَهُمْ إِلَّا لِرَجُلَيْنِ: إِلَّا كَافِرًا أَوْ مُشَاحِنًا

”پندرہ شعبان کو اللہ تعالیٰ زمین والوں کی طرف (خاص طور پر) متوجہ ہوتا ہے، پھر وہ کافر اور ایک دوسرے سے دشمنی رکھنے والوں کے سوا سب لوگوں کو بخش دیتا ہے۔“

[شعب الإيمان للبيهقي: 3/381 ح 3830]

↰ یہ سند حسن ہے، لیکن یہ حدیث نہیں بلکہ امام مکحول کا قول ہے۔

↰ معلوم ہوا کہ مکحول کے اس قول کو ضعیف اور مجہول راویوں نے مرفوع حدیث کے طور پر بیان کر دیا ہے۔
↰ مکحول کے قول کو مرفوع حدیث بنا دینا صحیح نہیں ہے، اور اگر مرفوع مان بھی لیا جائے تو مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔

❀ خلاصہ التحقیق

پندرہ شعبان والی کوئی روایت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے ثابت نہیں ہے۔

◈ محققین کا فیصلہ

◈ ابوبکر بن العربی رحمہ اللہ (چوتھی صدی کے فقیہ) لکھتے ہیں:

وَلَيْسَ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ حَدِيثٌ يُعَوَّلُ عَلَيْهِ، لَا فِي فَضْلِهَا وَلَا فِي نَسْخِ الْآجَالِ فِيهَا، فَلَا تَلْتَفِتُوا إِلَيْهَا

”نصف شعبان کی رات کی فضیلت کے بارے میں کوئی حدیث قابلِ اعتماد نہیں ہے، اور نہ ہی اس رات میں موت کے فیصلے کی منسوخی کے بارے میں کوئی حدیث معتبر ہے، لہٰذا ان (ناقابل اعتماد) روایات کی طرف بالکل توجہ نہ کریں۔“

[أحكام القرآن: 4/1690]

◈ حافظ ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

لَا يَصِحُّ مِنْهَا شَيْءٌ

”(پندرہ شعبان کی رات سے متعلق خاص نمازوں والی) روایات میں سے کوئی چیز بھی صحیح نہیں ہے۔“

[المنار المنيف: ص 98، 99]

◈ حافظ ابن القیم رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:

”تعجب ہے اس شخص پر جسے سنت کی سمجھ بوجھ ہے، پھر بھی وہ ایسے (ہذیانی) اقوال سن کر ایسی عجیب و غریب نماز پڑھتا ہے (یعنی سو رکعت ایک ہزار سورۂ اخلاص کے ساتھ)۔“

[ایضاً: ص 99]

5 📘 نصفِ شعبان کی روایت پر شیخ البانیؒ کے قول کا علمی جواب

محدثِ کبیر شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے پندرہ شعبان والی روایت کو تعددِ طرق کی بنا پر ”صحیح“ قرار دیا ہے۔

جواب از شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

یہ روایت صحیح لغیرہ کے درجے تک نہیں پہنچتی، کیونکہ اس کی ایک بھی سند صحیح یا حسن لذاتہ نہیں ہے، تو پھر یہ کس طرح صحیح لغیرہ بن سکتی ہے؟

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ روایت حسن لغیرہ ہے۔
عرض ہے کہ حسن لغیرہ کی دو قسمیں ہیں:

➊ ایک ضعیف سند والی روایت بذاتِ خود ضعیف ہوتی ہے، جبکہ دوسری روایت حسن لذاتہ ہوتی ہے، تو یہ ضعیف روایت اس حسن لذاتہ کے ساتھ مل کر حسن ہو جاتی ہے۔

➋ ایک ضعیف سند والی روایت بذاتِ خود ضعیف ہوتی ہے اور اسی مفہوم کی دوسری ضعیف روایات بھی موجود ہوتی ہیں، بعض علماء اسے حسن لغیرہ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ بھی ضعیف حدیث ہی کی ایک قسم ہے۔

❀ دلائل

➊ دلیل نمبر ①
قرآن، حدیث اور اجماع سے یہ قطعاً ثابت نہیں کہ
ضعیف + ضعیف + ضعیف = حسن لغیرہ
کو بطورِ حجت تسلیم کیا جائے۔

➋ دلیل نمبر ②
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایسی روایت کا حجت ہونا ثابت نہیں۔

➌ دلیل نمبر ③
تابعین کرام رحمہم اللہ سے بھی ایسی روایت کا حجت ہونا ثابت نہیں۔

➍ دلیل نمبر ④
امام بخاری، امام مسلم رحمہم اللہ وغیرہ سے ایسی روایت کا حجت ہونا ثابت نہیں۔

➎ دلیل نمبر ⑤
امام ترمذی رحمہ اللہ کے علاوہ عام محدثین سے ایسی ”حسن لغیرہ“ روایت کا حجت ہونا ثابت نہیں۔ مثالیں ملاحظہ ہوں:

محمد بن ابی لیلیٰ (ضعیف) نے
عن أخيه عيسى عن الحكم عن عبدالرحمٰن بن أبي ليلى عن البراء بن عازب
”ترکِ رفع یدین“ کی ایک حدیث بیان کی ہے۔

(سنن أبي داود: 752)

↰ اس کی سند ضعیف ہے، اور اس کے متعدد ضعیف شواہد بھی ہیں، دیکھیے:
سنن أبي داود: (748، 749)

ان تمام شواہد کے باوجود امام ابو داود فرماتے ہیں:

هٰذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِصَحِيحٍ

”یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔“

(سنن أبي داود: 752)

عام نماز میں ایک طرف سلام پھیرنے کی کئی روایات ہیں، دیکھیے:
السلسلة الصحيحة للالباني (1/564–566، ح 316)

ان میں سے ایک روایت بھی صحیح یا حسن لذاتہ نہیں ہے۔

ان روایات کے بارے میں:

◈ حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

إِلَّا أَنَّهَا مَعْلُولَةٌ، وَلَا يُصَحِّحُهَا أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ

”یہ سب روایات معلول ہیں، اور اہلِ علمِ حدیث انہیں صحیح قرار نہیں دیتے۔“

(زاد المعاد: 1/259)

◈ حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَلَكِنْ لَمْ يَثْبُتْ عَنْهُ ذٰلِكَ مِنْ وَجْهٍ صَحِيحٍ

”لیکن نبی ﷺ سے یہ کسی صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں۔“

(ایضاً: ص 259)

➏ دلیل نمبر ⑥
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

يَكْفِي فِي الْمُنَاظَرَةِ تَضْعِيفُ الطَّرِيقِ الَّتِي أَبْدَاهَا الْمُنَاظِرُ، وَيَنْقَطِعُ، إِذْ الْأَصْلُ عَدَمُ مَا سِوَاهَا حَتَّى يَثْبُتَ بِطَرِيقٍ أُخْرَى، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ

”مناظرے میں یہ کافی ہے کہ مخالف کی پیش کردہ سند کو ضعیف ثابت کر دیا جائے، وہ لاجواب ہو جائے گا، کیونکہ اصل یہ ہے کہ باقی تمام روایات معدوم (باطل) ہیں، الا یہ کہ وہ کسی دوسری صحیح سند سے ثابت ہو جائیں۔“

(اختصار علوم الحديث: ص 85، نوع 22)
(نقله السخاوي في فتح المغيث: 1/287)

➐ دلیل نمبر ⑦
ابن القطان الفاسی نے حسن لغیرہ کے بارے میں صراحت کی ہے:

لَا يُحْتَجُّ بِهِ كُلِّهِ، بَلْ يُعْمَلُ بِهِ فِي فَضَائِلِ الْأَعْمَالِ

”اس کے ساتھ بطورِ حجت استدلال نہیں کیا جاتا، بلکہ صرف فضائلِ اعمال میں عمل کیا جاتا ہے۔“

(النكت على كتاب ابن الصلاح: 1/402)

➑ دلیل نمبر ⑧
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ابن القطان کے اس قول کو ”حسن قوی“ قرار دیا ہے۔

(النكت: 1/402)

➒ دلیل نمبر ⑨
حنفی و شافعی وغیرہ علماء جب ایک دوسرے پر رد کرتے ہیں تو ایسی حسن لغیرہ روایت کو حجت تسلیم نہیں کرتے۔ مثالیں:


من كان له إمام فقراءة الإمام له قراءة
کے مفہوم والی کئی ضعیف سندوں کی روایت کو علامہ نووی نے ضعیف قرار دیا ہے۔

(خلاصة الأحكام: 1/377، ح 1173، فصل في ضعيفه)


فاتحہ خلف الامام کی کئی سندوں والی روایات کو نیموی حنفی نے معلول قرار دے کر رد کیا ہے۔

(آثار السنن: ح 353، 354، 355، 356)

➓ دلیل نمبر ⑩
جدید دور میں بھی بہت سے علماء ایسی متعدد سندوں والی روایات، جن کا ضعف شدید نہیں ہوتا، کو ضعیف و مردود قرار دیتے ہیں۔ مثال:

محمد بن إسحاق عن مكحول عن محمود بن الربيع عن عبادة بن الصامت
والی روایت (جس میں فاتحہ خلف الامام کا ثبوت ہے) کے بارے میں شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ضعيف

(تحقيق سنن أبي داود: 823، مكتبة المعارف، الرياض)

↰ حالانکہ اس روایت کے کئی شواہد موجود ہیں، دیکھیے:
كتاب القراءات للبيهقي
الکواکب الدرية في وجوب الفاتحة خلف الإمام في الجهرية

ان تمام شواہد کے باوجود شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن لغیرہ تک تسلیم نہیں کیا۔

❀ خلاصہ

خلاصہ یہ ہے کہ نصفِ شعبان والی روایت ضعیف ہے۔

6 📘 ضعیف حدیث پر فضائل میں عمل

بعض لوگ فضائل میں (جب مرضی کے مطابق ہوں تو) ضعیف روایات کو حجت تسلیم کرتے ہیں اور ان پر عمل کے قائل و فاعل ہیں، لیکن محققین کا ایک گروہ ضعیف حدیث پر مطلقاً عمل نہ کرنے کے قائل اور فاعل ہیں، یعنی احکام اور فضائل دونوں میں ان کے نزدیک ضعیف حدیث ناقابلِ عمل ہے۔

◈ جمال الدین قاسمی (شامی) رحمہ اللہ نے ضعیف حدیث کے بارے میں پہلا مسلک یوں نقل کیا ہے:

”احکام ہوں یا فضائل، اس پر عمل نہیں کیا جائے گا، اسے ابن سید الناس نے عیون الاثر میں ابن معین سے نقل کیا ہے، اور (سخاوی نے) فتح المغیث میں ابوبکر بن العربی سے منسوب کیا ہے، اور ظاہر ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم کا یہی مسلک ہے۔ صحیح بخاری کی شرط اس پر دلالت کرتی ہے، امام مسلم نے ضعیف حدیث کے راویوں پر سخت تنقید کی ہے، دونوں اماموں نے اپنی کتابوں میں ضعیف روایات میں سے ایک روایت بھی فضائل و مناقب میں نقل نہیں کی۔“

[قواعد التحديث ص 113، الحديث حضرو: 4 ص 7]

◈ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرسل روایات کو سننے کے بھی قائل نہ تھے۔

[مقدمہ صحيح مسلم: حدیث 21]
[النكت على كتاب ابن الصلاح: 2/553]

↰ معلوم ہوا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ضعیف حدیث کو فضائل میں بھی حجت تسلیم نہیں کرتے تھے۔

◈ حافظ ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

كان ما رُوِيَ الضَّعِيفُ وَمَا لَمْ يُرْوَ فِي الْحُكْمِ سَوَاءً

”یعنی ضعیف روایت جو بیان کی جائے اور وہ روایت جس کا سرے سے وجود ہی نہ ہو، حکم کے اعتبار سے دونوں برابر ہیں۔“

[كتاب المجروحين: 1/328، ترجمہ: سعيد بن زياد بن قائد]

◈ مروان بن محمد الطاطری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

میں نے امام لیث بن سعد المصری رحمہ اللہ سے کہا:

”آپ عصر کے بعد کیوں سو جاتے ہیں، جبکہ ابن لہیعہ نے ہمیں
عن عقيل عن مكحول عن النبى صلى الله عليه وسلم
کی سند سے حدیث بیان کی ہے کہ:
جو شخص عصر کے بعد سو جائے، پھر اس کی عقل زائل ہو جائے، تو وہ صرف اپنے آپ کو ہی ملامت کرے۔“

تو لیث بن سعد نے جواب دیا:

لا أَدَعُ مَا يَنْفَعُنِي بِحَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ عَنْ عَقِيلٍ

”مجھے جس چیز سے فائدہ پہنچتا ہے، میں اسے ابن لہیعہ کی عقیل سے روایت کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتا۔“

[الكامل لابن عدي: 4/1463، وسنده صحيح]

❀ تنبیہ

ابن لہیعہ اختلاط کے بعد ضعیف اور مدلس ہے، اور یہ سند مرسل ہے، لہٰذا ضعیف ہے۔

◈ حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَلَا فَرْقَ فِي الْعَمَلِ بِالْحَدِيثِ فِي الْأَحْكَامِ أَوْ فِي الْفَضَائِلِ إِذِ الْكُلُّ شَرْعٌ

”احکام ہوں یا فضائل، ضعیف حدیث پر عمل کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے، کیونکہ یہ سب شریعت ہیں۔“

[تبيين العجب بما ورد في فضائل رجب، ص 73]

7 📘 لیلۂ مبارکہ سے مراد لیلۃ القدر ہے، نہ کہ شبِ برات (نصف شعبان)

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ

بے شک ہم نے اسے (قرآن مجید کو) ایک بہت برکت والی رات میں اتارا، بے شک ہم ڈرانے والے تھے۔

(الدخان: 3)

➊ لیلۂ مبارکہ سے مراد کون سی رات ہے؟

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس آیت میں مذکور ”لیلۂ مبارکہ“ سے مراد نصف شعبان کی رات ہے، لیکن یہ بات درست نہیں۔
ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک کسی معتبر مفسر نے اس آیت کی تفسیر میں لیلۂ مبارکہ کو نصف شعبان کی رات قرار نہیں دیا۔ اگر کسی نے اس کا ذکر کیا بھی ہے تو اس کا مقصد اس قول کی تردید کرنا تھا۔

➋ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول

صحیح سند کے ساتھ مفسرِ قرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے کہ انہوں نے لیلۂ مبارکہ سے مراد لیلۃ القدر لی ہے:

﴿ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ ﴾

”بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں نازل کیا۔“

(المستدرک على الصحيحين: 3678)
قال الحاكم: صحيح الإسناد ولم يخرجاه
وقال الذهبي: صحيح على شرط مسلم

➌ جلیل القدر مفسرین کے اقوال

➊ امام طبری (م 310ھ)
وَالصَّوَابُ مِنَ الْقَوْلِ فِي ذٰلِكَ قَوْلُ مَنْ قَالَ: عُنِيَ بِهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ
”اس بارے میں صحیح قول وہی ہے جس نے کہا کہ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے۔“
(تفسیر الطبری 8/22)

➋ امام زجاج (م 313ھ)
وَقَالَ الْمُفَسِّرُونَ: فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ، هِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ
”مفسرین نے کہا: بابرکت رات سے مراد لیلۃ القدر ہے۔“
(معانی القرآن للزجاج 4/423)

➌ امام ماتریدی (م 333ھ)
قَالَ أَهْلُ التَّأْوِيلِ: إِنَّا أَنْزَلْنَا الْكِتَابَ أَيْ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ
”اہلِ تفسیر نے کہا: ہم نے کتاب یعنی قرآن کو لیلۃ القدر میں نازل کیا۔“
(تفسیر الماتریدی 9/196)

➍ علامہ سمعانی (م 489ھ)
أَنَّهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ، وَهٰذَا قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالْحَسَنِ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَأَكْثَرِ الْمُفَسِّرِينَ
”یہ لیلۃ القدر ہے، اور یہی ابن عباس، حسن، سعید بن جبیر اور اکثر مفسرین کا قول ہے۔“
(تفسیر السمعانی 5/121)

➎ علامہ ابن العربی (م 543ھ)
وَجُمْهُورُ الْعُلَمَاءِ عَلَى أَنَّهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: إِنَّهَا لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَهُوَ بَاطِلٌ
”جمہور علماء کے نزدیک یہ لیلۃ القدر ہے، اور جس نے نصف شعبان کہا وہ باطل ہے۔“
(احکام القرآن لابن العربی 4/117)

➏ علامہ ابن الجوزی (م 597ھ)
أَنَّهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ وَهُوَ قَوْلُ الْأَكْثَرِينَ
”یہ لیلۃ القدر ہے اور یہی اکثر لوگوں کا قول ہے۔“
(زاد المسیر 4/87)

➐ علامہ فخر الدین رازی (م 606ھ)
مَا رَأَيْتُ لَهُمْ فِيهِ دَلِيلًا يُعَوَّلُ عَلَيْهِ
”میں نے ان کے پاس کوئی قابلِ اعتماد دلیل نہیں دیکھی۔“
(التفسير الكبير 27/651)

➑ علامہ قرطبی (م 671ھ)
وَاللَّيْلَةُ الْمُبَارَكَةُ لَيْلَةُ الْقَدْرِ… وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ
”بابرکت رات لیلۃ القدر ہے… اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔“
(الجامع لأحكام القرآن 16/127)

➒ علامہ ابن جزی (م 741ھ)
وَقِيلَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَذٰلِكَ بَاطِلٌ
”اور کہا گیا کہ یہ نصف شعبان ہے، اور یہ باطل ہے۔“
(التسهيل 2/266)

➓ علامہ ابن کثیر (م 774ھ)
وَمَنْ قَالَ إِنَّهَا لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقَدْ أَبْعَدَ النُّجْعَةَ
”جس نے کہا کہ یہ نصف شعبان ہے وہ حقیقت سے بہت دور ہو گیا۔“
(تفسیر ابن کثیر 7/246)

➤ خلاصہ

تیسری صدی سے لے کر آٹھویں صدی ہجری تک تمام معتبر مفسرین کا اجماع ہے کہ لیلۂ مبارکہ سے مراد لیلۃ القدر ہے، نہ کہ نصف شعبان۔

◈ امام شنقیطی (م 1394ھ)

فَدَعْوَى أَنَّهَا لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ دَعْوَى بَاطِلَةٌ لِمُخَالَفَتِهَا لِنَصِّ الْقُرْآنِ الصَّرِيحِ

”یہ دعویٰ کہ یہ نصف شعبان کی رات ہے، بلا شک باطل ہے کیونکہ یہ قرآن کے صریح نص کے خلاف ہے۔“

(أضواء البيان 7/172)

8 📘 عجمی ممالک میں 15 شعبان کو شبِ برات کے نام سے رائج بدعات و خرافات

➊ شبِ برات کے موقع پر آتش بازی

شعبان کے مہینے میں شبِ برات کے موقع پر آتش بازی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، اور اسے مذہبی عقیدت کا رنگ دے کر روپیہ پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے، حالانکہ اسلام میں عبادات میں آتش کا کہیں تصور نہیں۔

بلکہ آتش پرست جنہیں مجوسی کہا جاتا ہے، وہ اپنی عبادت اور خوشی کے مواقع پر آگ روشن کرتے ہیں، چراغاں کا باقاعدہ اہتمام ہوتا ہے۔
جیسا کہ ایران میں جشنِ نوروز پر آتش بازی کا مظاہرہ ہوتا ہے، اور ہندوستان میں دیوالی اسی آتش پرستی کی یادگار کے حوالے سے منائی جاتی ہے۔

غیر مذاہب کے ساتھ یا قریب رہنے سے بہت سی خرابیاں مسلمانوں میں داخل ہو گئیں، جن میں سے ایک شبِ برات کے موقع پر آتش بازی کا اہتمام کرنا بھی ہے۔

علامہ طاہر پٹنی ہندی لکھتے ہیں:

علی بن ابراہیم فرماتے ہیں:

آگ روشن کرنے کی بدعت سب سے پہلے برا مکہ نے جاری کی، وہ آگ کے پجاری تھے۔ جب اسلام میں داخل ہوئے تو انہوں نے اسلام میں ایسی چیز کو داخل کر دیا جس کو ملمع سازی کے ذریعے دین کی سنت کہا۔ حالانکہ ان کا مقصد آگ کی عبادت تھا، اور شریعت میں کسی موقع پر ضرورت سے زیادہ چراغاں کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔

(تذكرة الموضوعات، ص: 46)

➋ شبِ برات میں مخصوص اور طویل نمازیں

شبِ برات کے موقع پر لوگ لمبی لمبی نمازیں ادا کرتے ہیں اور مخصوص سورتیں متعین کردہ تعداد کے مطابق پڑھتے ہیں۔

امام ابو محمد عزالدین بن عبدالسلام المقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

بیت المقدس میں رجب کے مہینے میں صلوٰۃ الرغائب اور نصف شعبان کی صلوٰۃ قطعاً نہ تھیں۔ یہ بدعت 448ھ میں ایجاد ہوئی۔ نابلس میں ایک شخص جو ابو الحی کے نام سے معروف تھا، ہمارے ہاں آیا، وہ اچھی تلاوت کر لیتا تھا۔ وہ نصف شعبان کی رات مسجد اقصیٰ میں نماز کے لیے کھڑا ہو گیا۔ آہستہ آہستہ اس کے پیچھے لوگ جمع ہونے لگے، حتیٰ کہ نماز کے اختتام پر بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ اگلے سال وہ پھر آیا، اس کے ساتھ ایک جمِ غفیر نے نماز ادا کی، اور یہ نماز مسجد اقصیٰ اور لوگوں کے گھروں اور دیگر مقامات میں عام ہو گئی، یہاں تک کہ اسے سنت سمجھ لیا گیا، اور آج تک یہ بدعت جاری ہے۔

(حلبي الكبير، ص: 434)
(الباعث على إنكار البدع والحوادث، ص: 32)
(كتاب الحوادث والبدع للطرطوشي، ص: 103)

امام ابو بکر محمد بن الوليد الطرطوشی فرماتے ہیں:

جب مجھے امام عزالدین نے یہ بات بیان کی تو میں نے ان سے کہا: آپ کو بھی تو میں نے اس جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے دیکھا ہے؟
تو امام عزالدین رحمہ اللہ نے فرمایا:

جی ہاں، پھر میں نے اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی مانگ لی۔

(كتاب الحوادث والبدع، ص: 103)

➌ سلف صالحین کا طرزِ عمل

زید بن اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

مَا أَدْرَكْنَا أَحَدًا مِنْ مَشَايِخِنَا وَلَا فُقَهَائِنَا يَلْتَفِتُونَ إِلَى النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَلَا يَلْتَفِتُونَ إِلَى حَدِيثِ مَكْحُولٍ، وَلَا يَرَوْنَ لَهَا فَضْلًا عَلَى مَا سِوَاهَا

ہم نے اپنے مشائخ اور فقہاء میں سے کسی کو بھی شبِ برات کی طرف توجہ دیتے نہیں پایا، نہ وہ مکحول کی حدیث کی طرف التفات کرتے تھے، اور نہ اس رات کی کوئی زائد فضیلت جانتے تھے۔

(معجم البدع لابن وضاح، ص: 110)
(كتاب الحوادث والبدع للطرطوشي، ص: 101)
(تذكرة الموضوعات، ص: 45)

لیکن عوام الناس میں قصہ گو خطباء کی وجہ سے اس رات کی فضیلت اس قدر پھیلا دی گئی کہ بعض لوگ اسے لیلۃ القدر سے بھی افضل سمجھنے لگے۔

امام ابن ابی ملیکہ سے کہا گیا کہ زیاد الخمیری (ایک قصہ گو واعظ) کہتا ہے کہ شبِ برات کا اجر لیلۃ القدر کے برابر ہے، تو ابن ابی ملیکہ نے فرمایا:

لَوْ سَمِعْتُهُ وَبِيَدِي عَصًا لَضَرَبْتُهُ

اگر میں یہ بات اس سے سن لیتا اور میرے ہاتھ میں لاٹھی ہوتی تو میں اسے مار دیتا۔

(كتاب الحوادث والبدع، ص: 101–102)
(معجم البدع لابن وضاح، ص: 111)

➍ نمازِ الفیہ (100 رکعت) کا رد

علامہ طاہر پٹنی فرماتے ہیں:

نصف شعبان کی رات جو نمازِ الفیہ ادا کی جاتی ہے، یہ بدعات میں سے ہے۔ اس نماز میں 100 رکعت پڑھی جاتی ہیں، ہر رکعت میں 10 مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھی جاتی ہے۔ لوگ اس کا عید سے زیادہ اہتمام کرتے ہیں، حالانکہ اس سے متعلق مروی احادیث و آثار یا تو ضعیف ہیں یا موضوع۔

امام غزالی نے احیاء العلوم میں اور تفسیر ثعلبی میں جو ذکر کیا ہے، اس سے دھوکہ نہ کھایا جائے۔ اس سے عوام الناس ایک عظیم فتنہ میں مبتلا ہو گئے، حتیٰ کہ اس کے نتیجے میں کثرت سے چراغاں، فسق و فجور اور عفت و عصمت دری جیسے جرائم ہونے لگے، جو ناقابلِ بیان ہیں۔
یہ نماز سب سے پہلے بیت المقدس میں 448ھ میں شروع ہوئی۔

(تذكرة الموضوعات، ص: 45)

➎ نصف شعبان کی فضیلت پر علماء کا فیصلہ

امام ابو بکر بن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

جمہور علماء کا قول ہے کہ لیلۃ مبارکہ سے مراد لیلۃ القدر ہے، اور بعض نے نصف شعبان کی رات کہا ہے، اور یہ باطل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قطعی کتاب میں فرمایا: رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔ جس نے یہ کہا کہ قرآن رمضان کے علاوہ کسی اور رات میں نازل ہوا، اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔ اور نصف شعبان کی رات کی فضیلت اور اس میں مردوں کے نام لکھے جانے کے بارے میں کوئی قابلِ اعتماد روایت موجود نہیں، لہٰذا اس کی طرف توجہ نہ دو۔

(أحكام القرآن، 4/1690)

➏ محدثین کے اقوال

امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

نصف شعبان کی رات میں نزولِ باری تعالیٰ کے متعلق مرویات کمزور ہیں، جبکہ ہر رات میں نزول صحیح احادیث سے ثابت ہے، لہٰذا نصف شعبان بھی اسی عموم میں شامل ہے۔

(الضعفاء الكبير، 3/29)

حافظ ابو الخطاب ابن دحیہ فرماتے ہیں:

اہلِ جرح و تعدیل کے نزدیک نصف شعبان کی رات کے بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں۔

(الباعث على إنكار البدع والحوادث، ص: 34)

حافظ ابو شامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

كل ذلك بأسانيد ضعاف

یہ سب روایات ضعیف اسناد کے ساتھ مروی ہیں۔

(الباعث، ص: 35)

◈ خلاصہ

شبِ برات (نصف شعبان) کی فضیلت سے متعلق تمام مروی احادیث و روایات ضعیف یا موضوع ہیں، اور اس رات سے وابستہ رائج اعمال بدعات و خرافات پر مبنی ہیں، جن کی شریعت میں کوئی اصل ثابت نہیں۔