1 📘 باغِ فدک کا تنازعہ: سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا موقف صحیح احادیث کی روشنی میں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:
((لا نورث ما تركنا صدقة))
’’ہم انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی، جو ہم چھوڑ جائیں؛ وہ صدقہ ہوتا ہے۔‘‘
📖 صحیح البخاری: 3093
📖 صحیح مسلم: 1757
📖 سنن أبي داود: 2963
📖 سنن النسائی: 4148
📖 مسند أحمد: 9
📖 صحيح ابن حبان: 6607
📖 صحيح ابن خزيمة: 2353
📖 مسند البزار: 2
📖 مصنف عبد الرزاق: 9772
📖 مسند أبي يعلى: 2
📖 المعجم الأوسط للطبراني: 1806
📖 السنن الكبرى للبيهقي: 12782
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3093/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1757/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2963/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/4148/
━━━━━━━━━━━━━━━
📌 حدیثِ ترکہ سے صحابہ کی واقفیت
➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا علم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو بھی تھا۔
📖 صحیح البخاری: 3093، 4034
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3093/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/4034/
➋ ان کے علاوہ تمام کبار صحابہ، یعنی سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا عباس، سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم بھی اس حدیث سے واقف تھے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مخاطب کر کے پوچھا تھا:
’’میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
ہم انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی، جو ہم چھوڑ جائیں؛ وہ صدقہ ہوتا ہے؟‘‘
سب نے جواب دیا:
’’یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا تھا۔‘‘
پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے دوبارہ پوچھا:
’’ہم انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی، جو ہم چھوڑ جائیں؛ وہ صدقہ ہوتا ہے۔‘‘
انہوں نے جواب دیا:
’’کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا تھا۔‘‘
📖 صحیح البخاری: 4034، 3094
📖 صحیح مسلم: 1757
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/4034/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3094/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1757/
━━━━━━━━━━━━━━━
📌 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چھوڑا ہوا مال اور ممکنہ ورثاء
➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب رحلت ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کا خمس، باغِ فدک اور مدینہ میں موجود کچھ مال چھوڑ کر گئے۔
➋ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وارث بننے والے یہ لوگ تھے:
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ، اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن۔
➌ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو یہ مال ان کے پاس آگیا۔
➍ اگر یہ مال کسی عام آدمی کا ہوتا تو یوں تقسیم ہونا تھا:
آدھا حصہ بیٹی کو ملتا، آٹھواں حصہ بیویوں کو، اور باقی سارا عصبہ کے طور پر چچا کو ملتا۔
━━━━━━━━━━━━━━━
📌 سیدہ فاطمہؓ کا مطالبۂ میراث اور سیدنا ابوبکرؓ کا فیصلہ
➊ اس کے پیش نظر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کو تقسیم کیا جائے۔
➋ لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بالا حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سنا کر کہا:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے فرمان کے مطابق یہ مال وراثت نہیں بلکہ صدقہ ہے، جو بیت المال میں جمع ہوگا۔
➌ اس پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ان سے ناراض ہو گئیں اور انہیں چھوڑ دیا، اور وفات تک چھوڑے رکھا۔
📖 صحیح البخاری: 3093
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3093/
━━━━━━━━━━━━━━━
📌 ناراضی اور «وفات تک چھوڑنے» کا صحیح مفہوم
➊ چھوڑے رکھنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے قطع تعلقی کر لی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیدہ خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا نے دوبارہ ان سے اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کی۔
➋ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی یہی مفہوم بیان کیا ہے۔
📖 فتح الباری: 6/202
━━━━━━━━━━━━━━━
📌 مرضِ وفات میں سیدنا صدیقؓ کی عیادت اور سیدہ فاطمہؓ کی رضامندی
➊ اس کی دوسری دلیل یہ ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیمار پڑ گئیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔
➋ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ہیں اور آپ کی عیادت کی اجازت چاہتے ہیں۔
➌ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
’’آجائیں۔‘‘
➍ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آ گئے اور انہیں راضی کرتے رہے، اور فرمایا:
والله ما تركت الدار والمال والأهل والعشيرة إلا ابتغاء مرضاة الله ومرضاة رسوله ومرضاتكم أهل البيت.
’’اللہ کی قسم! میں نے گھر بار، مال و دولت، اہل و عیال اور خاندان کو صرف اللہ تعالیٰ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اے اہلِ بیت! آپ کی خوش نودی کی خاطر ہی چھوڑا ہے۔‘‘
یہ سن کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا راضی ہو گئیں۔
📖 حسن بإسناد صحيح، السنن الكبرى للبيهقي: 12735
🔗 https://shamela.ws/book/7861/14666
━━━━━━━━━━━━━━━
➤ اس کا مطلب ہے کہ جو ناراضی تھی وہ وفات سے پہلے ہی ختم ہو گئی تھی۔
➤ چنانچہ ’’وفات تک چھوڑے رکھا‘‘ سے مراد یہی ہے کہ سیدہ خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا نے دوبارہ وراثت کے سلسلے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بات نہیں کی۔
جاری ہے۔۔۔