واٹساپ دعوتی مواد صحابہ پر شعیہ الزامات

صحابہ پر شعیہ الزامات

15 پیغامات

1 📘 باغِ فدک کا تنازعہ: سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا موقف صحیح احادیث کی روشنی میں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

((لا نورث ما تركنا صدقة))

’’ہم انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی، جو ہم چھوڑ جائیں؛ وہ صدقہ ہوتا ہے۔‘‘

📖 صحیح البخاری: 3093
📖 صحیح مسلم: 1757
📖 سنن أبي داود: 2963
📖 سنن النسائی: 4148
📖 مسند أحمد: 9
📖 صحيح ابن حبان: 6607
📖 صحيح ابن خزيمة: 2353
📖 مسند البزار: 2
📖 مصنف عبد الرزاق: 9772
📖 مسند أبي يعلى: 2
📖 المعجم الأوسط للطبراني: 1806
📖 السنن الكبرى للبيهقي: 12782

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3093/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1757/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2963/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/4148/

━━━━━━━━━━━━━━━

📌 حدیثِ ترکہ سے صحابہ کی واقفیت

➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا علم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو بھی تھا۔

📖 صحیح البخاری: 3093، 4034

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3093/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/4034/

➋ ان کے علاوہ تمام کبار صحابہ، یعنی سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا عباس، سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم بھی اس حدیث سے واقف تھے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مخاطب کر کے پوچھا تھا:

’’میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

ہم انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی، جو ہم چھوڑ جائیں؛ وہ صدقہ ہوتا ہے؟‘‘

سب نے جواب دیا:

’’یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا تھا۔‘‘

پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے دوبارہ پوچھا:

’’ہم انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی، جو ہم چھوڑ جائیں؛ وہ صدقہ ہوتا ہے۔‘‘

انہوں نے جواب دیا:

’’کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا تھا۔‘‘

📖 صحیح البخاری: 4034، 3094
📖 صحیح مسلم: 1757

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/4034/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3094/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1757/

━━━━━━━━━━━━━━━

📌 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چھوڑا ہوا مال اور ممکنہ ورثاء

➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب رحلت ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کا خمس، باغِ فدک اور مدینہ میں موجود کچھ مال چھوڑ کر گئے۔

➋ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وارث بننے والے یہ لوگ تھے:

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ، اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن۔

➌ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو یہ مال ان کے پاس آگیا۔

➍ اگر یہ مال کسی عام آدمی کا ہوتا تو یوں تقسیم ہونا تھا:

آدھا حصہ بیٹی کو ملتا، آٹھواں حصہ بیویوں کو، اور باقی سارا عصبہ کے طور پر چچا کو ملتا۔

━━━━━━━━━━━━━━━

📌 سیدہ فاطمہؓ کا مطالبۂ میراث اور سیدنا ابوبکرؓ کا فیصلہ

➊ اس کے پیش نظر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کو تقسیم کیا جائے۔

➋ لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بالا حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سنا کر کہا:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے فرمان کے مطابق یہ مال وراثت نہیں بلکہ صدقہ ہے، جو بیت المال میں جمع ہوگا۔

➌ اس پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ان سے ناراض ہو گئیں اور انہیں چھوڑ دیا، اور وفات تک چھوڑے رکھا۔

📖 صحیح البخاری: 3093

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3093/

━━━━━━━━━━━━━━━

📌 ناراضی اور «وفات تک چھوڑنے» کا صحیح مفہوم

➊ چھوڑے رکھنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے قطع تعلقی کر لی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیدہ خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا نے دوبارہ ان سے اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کی۔

➋ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی یہی مفہوم بیان کیا ہے۔

📖 فتح الباری: 6/202

━━━━━━━━━━━━━━━

📌 مرضِ وفات میں سیدنا صدیقؓ کی عیادت اور سیدہ فاطمہؓ کی رضامندی

➊ اس کی دوسری دلیل یہ ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیمار پڑ گئیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔

➋ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ہیں اور آپ کی عیادت کی اجازت چاہتے ہیں۔

➌ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

’’آجائیں۔‘‘

➍ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آ گئے اور انہیں راضی کرتے رہے، اور فرمایا:

والله ما تركت الدار والمال والأهل والعشيرة إلا ابتغاء مرضاة الله ومرضاة رسوله ومرضاتكم أهل البيت.

’’اللہ کی قسم! میں نے گھر بار، مال و دولت، اہل و عیال اور خاندان کو صرف اللہ تعالیٰ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اے اہلِ بیت! آپ کی خوش نودی کی خاطر ہی چھوڑا ہے۔‘‘

یہ سن کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا راضی ہو گئیں۔

📖 حسن بإسناد صحيح، السنن الكبرى للبيهقي: 12735
🔗 https://shamela.ws/book/7861/14666
━━━━━━━━━━━━━━━

➤ اس کا مطلب ہے کہ جو ناراضی تھی وہ وفات سے پہلے ہی ختم ہو گئی تھی۔

➤ چنانچہ ’’وفات تک چھوڑے رکھا‘‘ سے مراد یہی ہے کہ سیدہ خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا نے دوبارہ وراثت کے سلسلے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بات نہیں کی۔

جاری ہے۔۔۔

2 📘 جنازہ و تدفین کے بارے میں شبہات کا ازالہ

➊ حقائق کے دشمن بعض لوگوں نے یہ جھوٹ بھی پھیلایا ہے کہ جب سیدہ خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کا جنازہ پڑھا کر رات ہی رات دفن کر دیا، اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ناراضی کے باعث سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اطلاع بھی نہیں دی، تاکہ وہ ان کے جنازے میں شریک نہ ہو سکیں۔
➋ یہ روایت منقطع ہے، کیونکہ یہ امام زہری رحمہ اللہ کا قول ہے، جس کی سند بھی مذکور نہیں ہے، اور منقطع روایت ضعیف ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ليس في الخير ما يدل على أن أبا بكر لم يعلم بموتها ولا صلى عليها ولا شاهد جنازتها ، بل اللائق بهم المناسب لأحوالهم حضور جنازتها واغتنام بركتها ، ولا تسمع أكاذيب الرافضة المبطلين الضالين المضلين.
’’اس روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کا علم نہیں ہوا، آپ نے سیدہ کا جنازہ نہیں پڑھا اور نہ جنازے میں حاضر ہوئے، بلکہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لائق اور شایانِ شان یہی ہے کہ وہ سیدہ کے جنازے میں شریک ہوئے تھے اور ان کی برکت سے مستفید ہوئے تھے۔ روافض کی بہتان بازیوں پر مت جائیے کہ وہ تو باطل پرست، خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے ہیں۔‘‘
📖 المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم: 3/569
━━━━━━━━━━━━━━━
📌 اہلِ بیت کے اخراجات اور فدک کی آمدنی
➊ واضح رہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا:
’’اہلِ بیت کے اخراجات اس سے پورے کیے جائیں گے۔ اللہ کی قسم! میں دورِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولاتِ صدقہ میں تبدیلی نہیں کروں گا، بلکہ انہیں اسی طرح جاری رکھوں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ کر گئے۔‘‘
➋ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے:
’’اے ابوبکر! ہم آپ کی فضیلت اور مرتبے کے اقراری ہیں۔‘‘
➌ اس کے بعد انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اہلِ بیت کی قرابت داری اور ان کے حقوق کا تذکرہ کیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے حسنِ سلوک مجھے اپنے عزیز و اقارب سے زیادہ عزیز ہے۔‘‘
📖 صحیح البخاری: 3711، 3712
📖 صحیح مسلم: 1758
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3711/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3712/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1758/
━━━━━━━━━━━━━━━
📌 «من يرثك؟» والی روایت اور مزید وضاحت
➊ ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے بھی واضح الفاظ میں صراحت فرمائی۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أن فاطمة رضي الله عنها جاءت إلى أبي بكر رضي الله عنه فقالت: من يرثك؟ قال: أهلي وولدي ، قالت: فما لي لا أرث النبي صلى الله عليه وسلم قال: إنى سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ((إنا لا نورث)) ولكني أعول من كان النبي صلى الله عليه وسلم يعوله ، وأنفق على من كان النبي صلى الله عليه وسلم ينفق عليه.
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائیں اور پوچھا:
’’آپ کا وارث کون بنے گا؟‘‘
انہوں نے فرمایا:
’’میری بیوی اور بچے۔‘‘
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں:
’’تو پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وارث کیوں نہیں بن سکتی؟‘‘
انہوں نے کہا:
’’اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:
ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا۔‘‘
اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’میں ان سب کی کفالت کرتا رہوں گا جن کی کفالت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے، اور میں ان سب کو خرچ فراہم کروں گا جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خرچ فراہم کیا کرتے تھے۔‘‘
📖 حسن، السنن الكبرى للبيهقي: 12741
━━━━━━━━━━━━━━━
📌 نبوی وصیت: ازواج کا نفقہ اور باقی صدقہ
➊ نیز سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((لا يقتسم ورثتى دينارا ولا درهما ما تركت بعد نفقة نسائي ومدونة عاملي فهو صدقة))
’’میرے ورثاء درہم و دینار کی تقسیم میں نہ پڑیں، بلکہ میری ازواج کے نان و نفقہ اور اس کے منتظم کی مزدوری سے بچا ہوا مال صدقہ ہوگا۔‘‘
📖 صحیح البخاری: 2776، 3096، 672
📖 صحیح مسلم: 1760
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2776/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3096/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/672/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1760/

جاری ہے۔۔۔

3 📘 غصب کے الزام کا رد اور خلفائے راشدین کا متفقہ طرزِ عمل

➊ اہلِ تشیع کا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غاصب کہنا اس لحاظ سے بھی چنداں حیثیت نہیں رکھتا کہ انہوں نے وہ مال نہ اپنے تصرف میں لایا، نہ اپنے قبضے میں کیا، اور نہ اپنے اہلِ خانہ اور قرابت داروں پر خرچ کیا۔
بلکہ خلیفہ ہونے کے ناتے بہ طورِ امانت اپنے پاس رکھا، اور یہ امانت آپ کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس منتقل ہو گئی، ان کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس، اور ان کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس یہ باغ بہ طورِ امانت آ گیا۔
➋ پھر ایسا بھی نہیں ہے کہ اس باغ سے اہلِ بیت کو محروم ہی کر دیا گیا تھا، جیسا کہ روافض یہ غلط فہمی پھیلاتے ہیں، بلکہ اس باغ کی آمدنی باقاعدہ اہلِ بیت کو دی جاتی تھی اور ان پر خرچ کیا جاتا تھا۔
➌ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے طریقہ کار پر ہی عمل پیرا رہے، اور اس باغ کی آمدنی اہلِ بیت کو دیتے رہے۔
━━━━━━━━━━━━━━━
📌 اگر فیصلہ غلط تھا تو خلافتِ علیؓ میں فدک کیوں واپس نہ ہوا؟
➊ لطف کی بات یہ ہے کہ اگر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ درست نہیں تھا، تو جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے، تو انہوں نے درست فیصلہ صادر فرماتے ہوئے باغِ فدک کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کے حوالے کیوں نہ کیا؟
➋ اس لیے کہ وہ بھی صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو درست سمجھتے تھے، تبھی انہوں نے ان کا فیصلہ برقرار رکھا۔
➌ اور اگر وہ درست نہیں سمجھتے تھے، لیکن پھر اپنے دورِ خلافت میں اختیارات ہونے کے باوجود بھی باغِ فدک کو آلِ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے نہ کرنے سے کیا مطلب اخذ کیا جائے؟
➍ کیا پھر نعوذ باللہ وہ بھی اس غلط فیصلے میں شریک سمجھے جائیں گے؟
➎ پھر صرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہی اس کا ذمہ دار کیوں سمجھا جائے؟
➤ لہٰذا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق بھی وہی رائے رکھی جائے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق رکھی جاتی ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━━
📌 دلچسپ مناظرہ: عباسی خلیفہ اور علوی شخص
اس سلسلے میں ایک دلچسپ قصہ ملاحظہ کیجیے:
➊ ابو العباس عبد اللہ بن محمد بن علی ہاشمی سفاح ایک دن خطبہ دے رہے تھے، تو دورانِ خطبہ آلِ علی رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور بولا:
’’امیر المومنین! ظالم کے خلاف میری مدد کیجیے۔‘‘
➋ خلیفہ نے پوچھا:
’’تم پر کس نے ظلم کیا ہے؟‘‘
➌ اس نے کہا:
’’میں آلِ علی سے ہوں، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فدک نہ دے کر مجھ پر ظلم کیا ہے۔‘‘
➍ خلیفہ نے پوچھا:
’’کیا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس ظلم پر ڈٹے رہے؟‘‘
➎ اس نے کہا:
’’جی ہاں۔‘‘
➏ خلیفہ نے پوچھا:
’’ان کے بعد کون خلیفہ بنا؟‘‘
➐ اس نے کہا:
’’عمر رضی اللہ عنہ۔‘‘
➑ پوچھا:
’’کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اس ظلم پر قائم رہے؟‘‘
➒ وہ بولا:
’’جی ہاں۔‘‘
➓ خلیفہ نے پوچھا:
’’ان کے بعد خلافت کس کے پاس آئی؟‘‘
⓫ اس نے کہا:
’’عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس۔‘‘
⓬ پوچھا:
’’کیا انہوں نے بھی اس ظلم کو جاری رکھا؟‘‘
⓭ وہ کہنے لگا:
’’ہاں جی۔‘‘
⓮ خلیفہ نے پوچھا:
’’ان کے بعد مسندِ خلافت پر کون براجمان ہوئے؟‘‘
⓯ اب وہ ادھر اُدھر دیکھنے لگا اور بھاگنے کی کوشش کرنے لگا۔
📖 تلبیس ابلیس، ص: 153
━━━━━━━━━━━━━━━
📌 فدک کا صدقہ ہونا: عروہؒ کی طویل روایت
➊ عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس صدقے کا انتظام سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں بھی رہا۔
➋ انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو اس میں شریک نہیں کیا، بلکہ خود ہی اس کا انتظام سنبھالے رکھا۔
➌ اس کے بعد یہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے زیرِ انتظام آیا، پھر سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے انتظام میں رہا۔
➍ پھر امام علی بن حسین رحمہ اللہ اور امام حسن بن حسن رحمہ اللہ کی نگرانی میں رہا۔
➎ وہ اسے استعمال کرتے رہے۔
➏ پھر یہ مال امام زید بن حسن رحمہ اللہ کے پاس آ گیا۔
➤ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے صدقہ ہو گیا تھا۔
📖 صحیح البخاری: 4034
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/4034/

4 📘 حدیث «فاطمة بضعة مني» کا صحیح محل

بعض لوگ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تنقیص کے لیے یہ روایت پیش کرتے ہیں کہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي»

’’فاطمہ میرا جگر گوشہ ہے، سو جس نے اسے ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا۔‘‘

📖 صحیح البخاری: 3767
📖 صحیح مسلم: 2449

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3767/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2449/

وہ کہتے ہیں کہ چونکہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ناراض کر دیا تھا، اس لیے وہ اس وعید کا مصداق ٹھہرتے ہیں۔

حالانکہ ان کی یہ بات بالکل غلط اور بے محل ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک واقعے کے بارے میں تھا۔ وہ واقعہ آپ بھی ملاحظہ کیجیے:

«أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَهُ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحٌ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ، فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ مُضْغَةٌ مِنِّي، وَإِنَّمَا أَكْرَهُ أَنْ يَفْتِنُوهَا، وَإِنَّهَا وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا، قَالَ: فَتَرَكَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَ»

’’سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام بھیجا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی ان کے عقدِ نکاح میں تھیں۔ چنانچہ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سنی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کی قوم یہ باتیں کرتی ہے کہ آپ اپنی بیٹیوں کے لیے غصے میں نہیں آتے، اسی لیے علی، ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنے لگے ہیں۔

یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو توحید و رسالت کی گواہی دیتے سنا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اما بعد! میں نے اپنی ایک بیٹی کا ابو العاص بن ربیع سے نکاح کیا تو اس نے مجھ سے جو بات کی، اس کو سچ کر دکھایا، اور بلاشبہ فاطمہ بنت محمد میرا جگر گوشہ ہے، اور میں اس بات کو قطعاً پسند نہیں کرتا کہ کوئی اس کو رنجیدہ کرے۔ اور اللہ کی قسم! یقیناً اللہ کے رسول کی صاحبزادی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک ہی آدمی کے ہاں کبھی اکٹھی نہیں رہ سکتیں۔

راوی کہتے ہیں کہ پھر علی رضی اللہ عنہ نے نکاح کا ارادہ ترک کر دیا۔‘‘

📖 صحیح البخاری: 3729
📖 صحیح مسلم: 2449

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3729/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2449/

➤ اس روایت سے ان نام نہاد محبانِ اہلِ بیت کو خوب سمجھ لینا چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا سیاق و سباق کیا تھا۔

📘 صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی مالی قربانی اور زہد

غور طلب امر یہ بھی ہے کہ اسلام کی خاطر اپنا سارا مال قربان کر دینے والے ابو بکر رضی اللہ عنہ، جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مجھے اتنا فائدہ کسی کے مال نے نہیں دیا جتنا ابو بکر کے مال نے دیا ہے۔

📖 سنن ابن ماجہ: 94
📖 مسند احمد: 7446

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/94/

ایسی شخصیت کے متعلق بھلا یہ بات کہنا زیادتی نہیں کہ انہوں نے مال کے لالچ میں آ کر وہ باغ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیا تھا؟

بلکہ خلیفہ رہتے ہوئے بھی ان کی تنخواہ ایک عام مزدور کے برابر رہی، جبکہ وہ چاہتے تو خوب بڑھا سکتے تھے، مگر جس شخصیت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسی امام الزاہدین ہستی کے سنگ زندگی گزاری ہو، وہ بھلا دنیوی مال کی چاہت دل میں کیسے پال سکتا ہے؟

5 📘 اگر فدک وراثت ہوتا تو امہات المؤمنین کا حصہ

اگر یہ مال وراثت ہوتا تو ورثاء میں چونکہ ازواجِ مطہرات بھی شامل تھیں، اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی لاڈلی زوجہ تھیں، تو نعوذ باللہ اگر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں اس مال کی ذرا سی بھی حیثیت ہوتی تو اپنی پیاری بیٹی کو محروم کیوں رکھتے؟
یعنی باغ کو جب بہ طورِ وراثت بانٹتے تو لازمی بات ہے کہ ان کی صاحبزادی کو بھی اس سے حصہ ملتا۔ لیکن ان کے پیش نظر صرف شرعی حکم کا بجا طور پر نفاذ تھا، اس کے سوا کچھ نہیں!

📘 یارِ غار کی رفاقت اور دینِ دوست

یہ بات بھی غور طلب ہے کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ صرف یارِ غار تھے بلکہ سفر و حضر کے بھی ساتھی تھے، اور اکثر مواقع پر آپ رسول گرامی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی ہوتے تھے۔
گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر عزیز دوست آپ کا کوئی نہیں تھا۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ اپنے سب سے پیارے دوست کے اہلِ خانہ کے ساتھ کوئی ایسا سلوک روا رکھتے جو جائز نہ تھا؟
بلکہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل رفاقت اور صحبتِ خاص سے یہی سیکھا تھا کہ حق اور عدل کا نفاذ کیا جائے۔ اگر آپ کے فیصلے کو خلافِ حق قرار دیا جائے تو یہ بالواسطہ ذاتِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی طعن ہے، کیونکہ رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:
«الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ»
’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہی ہوتا ہے۔‘‘
📖 سنن ابی داود: 4833
📖 سنن الترمذی: 2378
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/4833/
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/2378/
رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر دین کا پیروکار کون ہو سکتا ہے؟
چنانچہ ثابت ہوا کہ آپ نے وہی فیصلہ فرمایا جو آپ نے اپنے دوست صلی اللہ علیہ وسلم کو جاری کرتے دیکھا تھا۔
➤ نیز اس معاملے کی آڑ میں دانستہ و نادانستہ طور پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بددعا والی جھوٹی بات منسوب کر کے ان کے زہد و تقویٰ پر داغ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ نعوذ باللہ جنت کی شہزادی دنیا کے اس حقیر سے مال کی وجہ سے اپنے بابا کے محبوب دوست کو بددعا دیں گی؟
➤ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قدر واضح فرمان موجود تھا کہ ہم انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی، جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے، تو پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وراثت کی تقسیم کا مطالبہ کیوں کیا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ سیدہ خاتونِ جنت کو حدیث کا مفہوم سمجھنے میں اجتہادی غلطی لگ گئی، کیونکہ اس دعوے میں سیدہ کے ساتھ اہلِ بیت کا کوئی اور فرد شریک نہیں ہوا۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سمجھ رہی تھیں کہ زمین کی پیداوار سے حاصل ہونے والا منافع وراثت میں شامل نہیں ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ چنانچہ اس اجتہادی خطا کے باعث یہ سارا معاملہ پیش آیا۔
➤ اجتہادی خطا ہونا کوئی نقص یا عیب نہیں ہے، بلکہ انسان ہونے کے ناتے کسی بات کو سمجھنے میں غلطی لگ جانا عین ممکن ہے، اور اس سے مبرا صرف اور صرف رسول گرامی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے۔
➤ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ترکہ وراثت ہوتا تو پھر ورثاء میں ازواجِ مطہرات بھی شامل تھیں۔ اسی وجہ سے ان سے بھی یہی خطا سرزد ہونے لگی تھی، لیکن پھر انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فرمان یاد آ گیا تو وہ رُک گئیں۔
جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
«أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، يَسْأَلْنَهُ ثُمُنَهُنَّ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنْتُ أَنَا أَرُدُّهُنَّ، فَقُلْتُ لَهُنَّ: أَلَا تَتَّقِينَ اللَّهَ؟ أَلَمْ تَعْلَمْنَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، يُرِيدُ بِذَلِكَ نَفْسَهُ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ، فَانْتَهَى أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَا أَخْبَرْتُهُنَّ»
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات نے عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، اور ان سے درخواست کی کہ وہ انہیں اس جائیداد سے آٹھواں حصہ دیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے بطورِ فَے دیا تھا، اور میں انہیں، یعنی ازواجِ مطہرات کو، منع کرتی تھی۔
میں نے ان سے کہا: تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتی نہیں ہو؟ کیا تمہیں علم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
’’ہمارا کوئی وارث نہیں بنتا، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے مراد خود اپنی ذات تھی۔ تاہم آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس مال سے اپنی ضروریات کے مطابق لیتے رہیں گے۔
جب میں نے ازواجِ مطہرات کو یہ بتایا تو وہ رک گئیں۔
📖 صحیح البخاری: 4034
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/4034/
اس سے واضح ہوتا ہے کہ ازواجِ مطہرات کو بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا علم تھا، لیکن فراموش ہو گیا تھا۔ جب انہیں یاد دلایا گیا تو وہ بھی سمجھ گئیں اور اس مطالبے سے پیچھے ہٹ گئیں۔
لہٰذا ثابت ہوا کہ فدک مالِ وراثت ہرگز نہیں تھا۔

6 📘 بے سند قصے کہانیاں اور امت کا نقصان

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے منسوب ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا:
’’میں آپ کے خلاف ہر نماز کے بعد بددعا کروں گی۔‘‘
یہ روایت بالکل من گھڑت ہے اور اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ شیعہ کی کسی بھی معتبر کتاب میں اس کا ذکر موجود نہیں ہے۔
اس روایت کا ماخذ اور مصدر الامامة والسياسة نامی ایک کتاب ہے، جسے اہلِ سنت کے معروف امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ نہج البلاغہ وغیرہ میں بھی جہاں اس روایت کو درج کیا گیا ہے، وہاں بھی حوالہ اسی مذکورہ کتاب کا دیا گیا ہے۔
اس کتاب کی حقیقت یہ ہے کہ امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ نے اس نام کی کوئی کتاب تالیف ہی نہیں کی، بلکہ کسی رافضی نے لغویات اور گمراہ کن عقائد پر مشتمل یہ کتاب گھڑ کر ان کی طرف منسوب کر دی ہے۔
باتیں بھی ایسی ہیں کہ خود امام موصوف کا عقیدہ اور رائے ان کے بالکل برعکس ہے۔ سو یہ واضح ہوا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بددعا والی بات اس من گھڑت کتاب کے علاوہ کہیں بھی مذکور نہیں ہے، نہ شیعہ کتب میں اور نہ ہی سنی کتب میں۔
➤ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اس روایت کی سند بھی ذکر نہیں کی گئی، یعنی بالکل ہی بے سند بات۔
گویا ایسی بے سروپا بات کہ جس کو معلوم ہی نہ کیا جا سکے کہ کس نے کہی، کس نے سنی، اور کس کس نے آگے بیان کی۔
اس امت کی بربادی ہی اس سے ہوئی کہ من گھڑت باتیں، بے سند روایتیں، رطب و یابس سے بھرپور پلندے، اور مبالغہ آمیز قصے کہانیاں آگے بیان ہوتی رہیں، جس سے امت میں انتشار بھی پیدا ہوا اور حقائق تو بالکل ہی مسخ ہو گئے۔

7 📘 خلافتِ صدیقی پر نبوی اشارے

نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی تو صحابہ کرامؓ نے متفقہ طور پر سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو اپنا حاکم اور خلیفہ منتخب کر لیا۔

گو آپ ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں واضح طور پر کسی صحابی کا نام بطور خلیفہ پیش نہیں کیا، تاہم آپ ﷺ نے ایسے کئی اشارے ضرور فرمائے جن سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آتی ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے بعد خلافتِ صدیقی کی پیشین گوئی فرمائی اور سیدنا ابو بکر صدیقؓ ہی کو خلیفہ بنانے کا حکم دیا۔

➊ آپ ﷺ نے اپنی مرضِ وفات میں فرمایا:

’’ابو بکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔‘‘

عرض کیا گیا:

ابو بکرؓ بے حد نرم دل اور رقیق القلب انسان ہیں، وہ آپ کی جگہ کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔

آپ ﷺ نے پھر وہی حکم دیا تو پھر وہی عرض کیا گیا۔ پھر تیسری بار آپ ﷺ نے فرمایا:

’’تمہاری مثال صواحبِ یوسف کی سی ہے، ابو بکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔‘‘

چنانچہ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سیدنا ابو بکرؓ نماز پڑھانے لگے۔

📖 صحیح البخاری، حدیث: 664
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/664/

نبی کریم ﷺ کا اپنی مرضِ وفات میں سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو مصلّٰی امامت پر کھڑا کرنا اور سیدنا ابو بکر صدیقؓ کا ان تمام ایام میں لوگوں کی امامت کروانا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ نبی ﷺ کے بعد امامت و خلافت انہی کو ملنے والی ہے اور وہی خلیفہ بنیں گے۔

سیدنا عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو انصار نے کہا:

ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک تم میں سے۔

سیدنا عمرؓ ان کے پاس آئے اور فرمایا:

اے انصار کے گروہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے سیدنا ابو بکرؓ کو لوگوں کی امامت کا حکم دیا تھا؟ تم میں سے کون ہے جو سیدنا ابو بکرؓ سے مقدم ہونا چاہتا ہے؟

انہوں نے کہا:

ہم اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں کہ سیدنا ابو بکرؓ سے آگے بڑھیں۔

📖 مسند احمد: 21/1، وإسناده حسن

معلوم ہوا کہ نبی ﷺ کا اپنے ایامِ مرض میں سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو مصلّٰی امامت پر کھڑا کرنا اس بات کا اشارہ تھا کہ آپ ﷺ کے بعد وہی خلیفہ ہوں گے۔ سیدنا عمرؓ اس اشارے کو سمجھ گئے تھے۔

➋ حجۃ الوداع سے ایک سال پہلے نبی ﷺ نے سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو امیرِ حج مقرر فرمایا تھا۔

📖 صحیح البخاری، حدیث: 4657
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/4657/

آپؓ نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں امارتِ حج کے منصب پر فائز ہوئے۔ گویا نبی ﷺ نے اپنی زندگی میں آپؓ کو نماز میں اپنا نائب بنایا اور حج میں بھی۔

آپ ﷺ کا نماز اور حج جیسے اہم امور میں سیدنا ابو بکرؓ کو منتخب فرمانا بھی اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آپ ﷺ کے بعد سیدنا ابو بکرؓ ہی خلیفہ ہوں گے۔

➌ ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ ﷺ نے اسے اب کی دفعہ لوٹ جانے اور پھر کبھی دوبارہ آنے کا حکم دیا۔

اس نے کہا:

اگر میں آؤں اور آپ نہ ملیں تو؟

گویا وہ کہنا چاہتی تھی کہ اگر آپ ﷺ وفات پا جائیں تو کس سے ملوں؟

آپ ﷺ نے فرمایا:

’’اگر میں نہ مل سکوں تو ابو بکرؓ کے پاس چلی جانا۔‘‘

📖 صحیح البخاری، حدیث: 7220
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/7220/

امام بخاریؒ نے اس حدیث سے سیدنا ابو بکرؓ کی خلافت پر استدلال کیا ہے۔ آپ نے اس حدیث پر خلافت کا عنوان قائم کیا ہے۔

علامہ ابن ملقنؒ المتوفی 804ھ فرماتے ہیں:

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکرؓ کو خلیفہ بنایا جائے گا، اور اس حدیث میں شیعہ کے اس قول کا رد ہے کہ سیدنا علیؓ کو خلیفہ بنانے کی رسول اللہ ﷺ نے تصریح کی تھی۔ اسی طرح ان رافضیوں کے قول کا بھی رد ہے جنہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عباسؓ کو خلیفہ بنانے کی تصریح کی تھی۔

📖 التوضیح لشرح الجامع الصحیح: 259/20

حافظ ابن حجرؒ المتوفی 852ھ فرماتے ہیں:

اس حدیث کی شرح میں بعض علماء کا یہ کہنا درست ہے کہ سیدنا ابو بکرؓ نبی ﷺ کے بعد خلیفہ ہیں، لیکن اس میں صراحت نہیں بلکہ واضح اشارہ ہے۔

📖 فتح الباری: 407/13

8 ➍ وفات سے چند دن پہلے آپ ﷺ نے خطبہ دیا اور اس میں فرمایا:

’’مسجد میں کوئی دروازہ نہ چھوڑا جائے، سب بند کر دیے جائیں، سوائے ابو بکرؓ کے دروازے کے۔‘‘
📖 صحیح البخاری، حدیث: 3654
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3654/
امام ابن حبانؒ المتوفی 354ھ فرماتے ہیں:
اس حدیث میں دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد خلیفہ سیدنا ابو بکرؓ تھے، کیونکہ مصطفی ﷺ نے خلافت کے بارے میں لوگوں کا طمع یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ مجھ سے مسجد میں ہر کھڑکی بند کر دو، سوائے ابو بکرؓ کی کھڑکی کے۔
📖 صحیح ابن حبان: 6860
➎ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’میں خواب میں ایک کنویں پر کھڑا اس سے پانی کھینچ رہا تھا کہ میرے پاس ابو بکرؓ و عمرؓ آئے۔ ابو بکرؓ نے مجھ سے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول کھینچے۔ ان کے کھینچنے میں ذرا کمزوری تھی اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ پھر ابو بکرؓ کے ہاتھ سے وہ ڈول عمرؓ نے لے لیا اور ان کے ہاتھ میں پہنچتے ہی وہ ایک بڑے ڈول کی شکل اختیار کر گیا۔ میں نے ان سے زیادہ کوئی ہمت والا اور بہادر انسان نہیں دیکھا جو اتنی حسنِ تدبیر اور مضبوط قوت کے ساتھ کام کرنے کا عادی ہو۔ چنانچہ انہوں نے اتنا پانی کھینچا کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو بھی پانی پلا کر بٹھا دیا۔‘‘
📖 صحیح البخاری، حدیث: 3676
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3676/
اس حدیث میں بھی سیدنا ابو بکر صدیقؓ کی خلافت کا بڑا واضح اشارہ ہے۔ نبی ﷺ سے سیدنا ابو بکرؓ نے ڈول لیا، یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ نبی ﷺ کے بعد خلافت سیدنا ابو بکرؓ کو ملے گی۔
سیدنا ابو بکرؓ کے ڈول کھینچنے میں کچھ کمزوری تھی، یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ ان کی مدتِ خلافت کم ہوگی اور اس میں فتوحات بھی کم ملیں گی۔
امام شافعیؒ المتوفی 204ھ فرماتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ کا فرمان کہ ’’ان ابو بکرؓ کے ڈول کھینچنے میں کمزوری تھی‘‘ کا معنی ان کی مدتِ خلافت کا اختصار، ان کی وفات کا جلد واقع ہونا اور اہلِ ارتداد سے لڑنے میں مصروف ہونے کی وجہ سے ان کا فتوحات اور خلافتِ اسلامیہ کو توسیع دینے سے رہ جانا اور اس کا موقع نہ ملنا ہے۔
📖 کتاب الأم: 21/2
➏ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیماری کے ایام میں فرمایا:
’’اپنے والد ابو بکرؓ اور اپنے بھائی کو بلاؤ تاکہ میں انہیں ایک تحریر لکھ دوں۔ میں ڈرتا ہوں کہ کوئی خلافت کی تمنا کرنے والا تمنا نہ کرے اور کوئی کہنے والا یوں نہ کہے کہ میں اس خلافت کا زیادہ مستحق ہوں، حالانکہ اللہ انکار کرتا ہے، اور مسلمان بھی انکار کرتے ہیں کہ ابو بکرؓ کے سوا کسی اور کو خلافت ملے۔‘‘
📖 صحیح مسلم، حدیث: 2387
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2387/
علامہ نوویؒ المتوفی 676ھ فرماتے ہیں:
اس حدیث میں سیدنا ابو بکرؓ کی خلافت پر واضح دلیل ہے اور مستقبل کے متعلق نبی ﷺ کی پیش گوئی ہے کہ خلافت کے معاملے میں مسلمانوں میں نزاع ہوگا اور سیدنا ابو بکرؓ کے علاوہ مسلمان کسی کی خلافت پر متفق نہیں ہوں گے۔
سیدہ عائشہؓ کے بھائی کو اس لیے بلایا تھا کہ وہ مکتوب لکھ دیں گے، کیونکہ نبی ﷺ کے لیے جانا دشوار اور مشکل تھا۔ آپ ﷺ جماعت سے نماز پڑھنے بھی نہیں جا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے نمازوں میں سیدنا ابو بکرؓ کو خلیفہ بنا دیا تھا۔
📖 شرح صحیح مسلم: 273/2، 274
➐ سیدنا حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
’’مجھے معلوم نہیں کہ میں کب تک تمہارے درمیان رہتا ہوں، لہٰذا تم میرے بعد ان دونوں کی اقتدا کرنا۔‘‘
آپ ﷺ نے سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ کی طرف اشارہ کیا۔
📖 سنن الترمذی، حدیث: 3663، وإسناده حسن
اس حدیث میں بھی خلافتِ صدیقی کی طرف اشارہ ہے کہ نبی ﷺ کے بعد سیدنا ابو بکرؓ اور ان کے بعد سیدنا عمرؓ خلیفہ ہوں گے۔ اس لیے مسلمانوں کو حکم فرمایا کہ ان کی اقتدا کرنا۔
➑ سیدہ عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ اگر رسول اللہ ﷺ کسی کو خلیفہ بناتے تو کس کو خلیفہ بناتے؟
انہوں نے فرمایا:
سیدنا ابو بکرؓ کو۔
پوچھا گیا:
ابو بکرؓ کے بعد کس کو خلیفہ بناتے؟
فرمایا:
عمرؓ کو۔
پوچھا گیا کہ عمرؓ کے بعد؟
فرمایا:
ابو عبیدہ بن جراحؓ کو۔
اس کے بعد سیدہ عائشہؓ خاموش ہو گئیں۔
📖 صحیح مسلم، حدیث: 2385
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2385/
یہ روایات اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیقؓ ہی ہیں۔
پھر ایسے ہی ہوا کہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں سیدنا عمرؓ، اربابِ حل و عقد، اور پھر تمام مسلمانوں نے سیدنا ابو بکرؓ کی بیعت کی، جو سیدنا ابو بکرؓ کی خلافت کا بین ثبوت ہے۔
اگر صحابہ کرامؓ کو سیدنا ابو بکرؓ کی خلافت کے سلسلے میں کوئی شبہ ہوتا یا ان کے خاص و عام میں اس کے درمیان کوئی اختلاف ہوتا تو وہ سب آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے میں متفق نہ ہوتے، اور اگر انہوں نے بیعت کر لی تھی تو دوسرے اس کو جائز قرار نہ دیتے۔
صحابہ کرامؓ کا سیدنا صدیقؓ کی بیعت پر متفق ہو جانا خلافتِ صدیقی کے برحق ہونے کے لیے کافی ہے۔
بالفرض اگر سیدنا ابو بکرؓ کی خلافت کسی شرعی دلیل سے ثابت نہ بھی ہوتی، اس کی طرف کوئی اشارہ کنایہ نہ بھی ہوتا، تو ان کی خلافت کے صحیح ہونے کے لیے صحابہ کرامؓ کا اتفاق اور اجماع ہی کافی تھا۔
اللہ ہمیں حق کی پیروی کی توفیق دے۔ آمین۔

9 📘 *حدیثِ قرطاس: خلافت کے تنازع کی حقیقت*

*حدیثِ قرطاس*

یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری ایام کا ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم شدید بیمار تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پاس موجود تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”کچھ لکھنے کے لیے لائیں، میں ایسی تحریر لکھ دوں کہ آپ کو ہمیشہ یاد رہے۔“

اس موقع پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ خیال آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ تکلیف میں ہیں، لہٰذا ایسی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ زحمت نہیں دینی چاہیے۔

انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار دیگر صحابہ سے کیا اور کہا کہ:

”آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف کا غلبہ ہے، اور ہمارے پاس قرآنِ مجید موجود ہے، جو ہمارے لیے کافی ہے۔“

اس موقع پر حاضرین میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ کچھ صحابہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت کرتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ تحریر نہ دی جائے، جبکہ کچھ نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تحریر دی جائے۔

اس تکرار کی صورتِ حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کاغذ اور قلم رہنے دیں، اور صحابہ سے فرمایا:

”آپ یہاں سے چلے جائیں، مجھے تنہائی چاہیے۔“

━━━━━━━━━━━━━━

📌 *اس واقعہ سے متعلق مختلف روایات*

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

لَمَّا حُضِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَّنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ، قَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَلَبَهُ الْوَجَعُ، وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ، فَحَسْبُنَا كِتَابُ اللّٰهِ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَاخْتَصَمُوا، فَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُولُ: قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا لَّنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ، وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغَطَ وَالِاخْتِلَافَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُومُوا عَنِّي.

ترجمہ:

”جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو گھر میں کچھ لوگ موجود تھے، جن میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’قلم کاغذ لائیں، تاکہ میں ایسی تحریر لکھ دوں کہ اس کے بعد آپ کبھی گمراہ نہ ہوں گے۔‘

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف کا غلبہ ہے، اور ہمارے پاس قرآن موجود ہے، ہمیں کتاب اللہ کافی ہے۔

اس پر گھر میں موجود لوگوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا۔ کچھ نے کہا:

’قلم کاغذ دیں تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی تحریر لکھ دیں کہ اس کے بعد گمراہی کا اندیشہ نہ رہے۔‘

جبکہ کچھ نے وہی کہا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔

جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اختلاف اور شور بڑھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’میرے پاس سے اُٹھ جاؤ۔‘“

📖 صحیح البخاری: 7366
🔗 [https://tohed.com/hadith/bukhari/7366/](https://tohed.com/hadith/bukhari/7366/)

📖 صحیح مسلم: 1637
🔗 [https://tohed.com/hadith/muslim/1637/](https://tohed.com/hadith/muslim/1637/)

━━━━━━━━━━━━━━

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:

قُومُوا عَنِّي، وَلَا يَنْبَغِي عِنْدِي التَّنَازُعُ

ترجمہ:

”میرے پاس سے اٹھ جائیں، میری موجودگی میں اختلاف مناسب نہیں۔“

📖 صحیح البخاری: 114
🔗 [https://tohed.com/hadith/bukhari/114/](https://tohed.com/hadith/bukhari/114/)

━━━━━━━━━━━━━━

ایک اور روایت میں ہے:

ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَّنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا، فَقَالُوا: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْجُرُ.

ترجمہ:

”لائیں ہڈی اور دوات، یا تختی اور دوات، میں ایسی تحریر لکھ دیتا ہوں کہ اس کے بعد آپ کبھی گمراہ نہ ہوں گے۔“

صحابہ نے کہا:

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدید بیماری کی حالت میں ہیں، اور یہ تکلیف کی شدت سے نہیں ہے۔“

📖 صحیح البخاری: 4431
🔗 [https://tohed.com/hadith/bukhari/4431/](https://tohed.com/hadith/bukhari/4431/)

📖 صحیح مسلم: 1637
🔗 [https://tohed.com/hadith/muslim/1637/](https://tohed.com/hadith/muslim/1637/)

━━━━━━━━━━━━━━

سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ جمعرات کا دن کتنا پریشان کن تھا۔ وہ روتے ہوئے فرما رہے تھے:

اِشْتَدَّ بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ، فَقَالَ: ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَّنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا، فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ، فَقَالُوا: مَا شَأْنُهُ، أَهَجَرَ؟ اسْتَفْهِمُوهُ، فَذَهَبُوا يَرُدُّونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: دَعُونِي، فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِّمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ.

ترجمہ:

”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض کی شدت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’میرے پاس کچھ لاؤ تاکہ میں ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد آپ کبھی بھٹک نہ سکیں۔‘

صحابہ میں اختلاف ہو گیا، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اختلاف مناسب نہیں تھا۔

صحابہ کہنے لگے:

’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا معاملہ پیش آیا ہے، کیا آپ شدتِ تکلیف کی وجہ سے ایسا کہہ رہے ہیں؟‘

صحابہ نے بار بار لکھنے کا کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی آپ مجھ سے توقع کر رہے ہیں۔‘“

📖 صحیح البخاری: 4431
🔗 [https://tohed.com/hadith/bukhari/4431/](https://tohed.com/hadith/bukhari/4431/)

📖 صحیح مسلم: 1637
🔗 [https://tohed.com/hadith/muslim/1637/](https://tohed.com/hadith/muslim/1637/)

━━━━━━━━━━━━━━

📌 *سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا اجتہاد*

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض کی شدت تھی۔

اسی وجہ سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اجتہاداً کہا کہ ہمارے لیے قرآن و حدیث کافی ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی رائے کو درست سمجھا اور صحابہ کے اصرار کے باوجود تحریر نہیں لکھوائی۔

جاری ہے۔۔۔

10 📘 *لفظِ ہجر کی تحقیق*

*ہجر* کا مطلب ہے:

”شدتِ بخار کی حالت میں بے معنی باتیں کرنا۔“

تاہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کا انکار کیا ہے۔

حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ *”أَهَجَرَ“* میں موجود ہمزہ، استفہامِ انکاری کے لیے ہے، جبکہ *ہجر* ماضی کا فعل ہے۔

کچھ روایات میں بغیر ہمزہ کے *”ہجر“* اور *”یہجر“* کے الفاظ بھی ملتے ہیں، جو دراصل ہمزہ محذوف ہونے کی مثال ہے، اور عربی زبان میں اس طرح کے محذوفات عام ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━

📌 *لفظ ”أَهَجَرَ“ کی وضاحت*

حدیث میں مذکور الفاظ:

*فَقَالُوا مَا لَهُ أَهَجَرَ*

یعنی:

”انہوں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدتِ بخار کی وجہ سے بے معنی باتیں کر رہے ہیں؟“

سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ الفاظ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نہیں تھے، بلکہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تھے جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اختلاف کر رہے تھے۔

ان کا مدعا یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شدید بیماری کے باوجود شعور کے ساتھ بات کر رہے ہیں، بے معنی گفتگو نہیں فرما رہے۔

اس لیے اس حدیث میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی توہین کا کوئی پہلو نہیں ہے، بلکہ یہ حدیث ان کی عظمت کی عکاس ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رائے کی موافقت کرتے ہوئے تحریر لکھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔

━━━━━━━━━━━━━━

📖 صحیح بخاری: 4431
🔗 [https://tohed.com/hadith/bukhari/4431/](https://tohed.com/hadith/bukhari/4431/)

📖 صحیح مسلم: 1637
🔗 [https://tohed.com/hadith/muslim/1637/](https://tohed.com/hadith/muslim/1637/)

ان روایات میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

*دَعَوْنِي، فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِّمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ*

ترجمہ:

”مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں، آپ جو مجھے لکھنے کا کہہ رہے ہیں، میرے مطابق نہ لکھنا ہی بہتر ہے۔“

━━━━━━━━━━━━━━

📌 *موافقاتِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ*

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اجتہادات کی متعدد مثالیں قرآن و حدیث میں ملتی ہیں، جن میں ان کی رائے کو شریعت کا درجہ دیا گیا۔

اس ضمن میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ مشہور ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے اور اچانک اٹھ کر چلے گئے۔ طویل غیر حاضری پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فکر لاحق ہوئی اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک باغ میں پایا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا جوتا دیا اور پیغام دیا کہ راستے میں ملنے والے ہر کلمہ گو کو جنت کی خوشخبری دے دو۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملے اور جنت کی بشارت دی۔

اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں زور سے تھپڑ مارا، جس سے وہ زمین پر گر پڑے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھاگے اور شکایت کی۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی ان کے پیچھے آئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا:

*يَا عُمَرُ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟*

ترجمہ:

”عمر! تم نے ایسا کیوں کیا؟“

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:

*يَا رَسُولَ اللّٰهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَبَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ، مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ، بَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ؟ قَالَ: نَعَمْ*

ترجمہ:

”آقا! میرے ماں باپ آپ پر قربان، کیا آپ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو جوتا دے کر بھیجا تھا کہ جو بھی کلمہ گو ملے، اسے جنت کی بشارت دو؟“

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”جی ہاں۔“

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:

*فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا، فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُونَ*

ترجمہ:

”آقا! ایسا نہ کریں، مجھے ڈر ہے کہ لوگ اسی پر تکیہ کر لیں گے، انہیں چھوڑ دیں تاکہ یہ عمل کرتے رہیں۔“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

*فَخَلِّهِمْ*

ترجمہ:

”انہیں چھوڑ دو۔“

📖 صحیح مسلم: 31
🔗 [https://tohed.com/hadith/muslim/31/](https://tohed.com/hadith/muslim/31/)

━━━━━━━━━━━━━━

📌 *حدیثِ قرطاس میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا موقف*

اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنا موقف پیش کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اتفاق کیا۔

اسی طرح حدیثِ قرطاس میں بھی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے اپنی رائے کا اظہار کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شدید تکلیف میں ہیں، اور اس حالت میں تحریر لکھنے کی زحمت نہ دی جائے۔

اس پر بعض صحابہ نے ان سے اختلاف کیا، جبکہ بعض نے موافقت کی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخرکار سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی رائے کو ترجیح دی اور تحریر کا ارادہ ترک کر دیا۔

━━━━━━━━━━━━━━

📌 *فہم اور بصیرت کی نعمت*

اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو گہری بصیرت اور شاندار فہم عطا کیا تھا۔

انہوں نے یہ بات اجتہادی طور پر کہی تھی اور اس کے لیے دلیل بھی دی۔

حافظ نووی رحمہ اللہ 631-676ھ اس بارے میں لکھتے ہیں:

*وَأَمَّا كَلَامُ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فَقَدِ اتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ الْمُتَكَلِّمُونَ فِي شَرْحِ الْحَدِيثِ عَلَى أَنَّهُ مِنْ دَلَائِلِ فِقْهِ عُمَرَ وَفَضَائِلِهِ وَدَقِيقِ نَظَرِهِ*

ترجمہ:

”شارحینِ حدیث اس بات پر متفق ہیں کہ یہ حدیث سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بصیرت، دین میں ان کی فقاہت، اور ان کی گہری نظر کا ثبوت ہے۔“

(شرح صحیح مسلم للنووي: 11/90)

*جاری ہے۔۔۔*

11 📘 *کیا اختلافِ صحابہ نے خلافت کی تحریر میں رکاوٹ ڈالی؟*

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے:

*إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذٰلِكَ الْكِتَابَ مِنَ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ*

ترجمہ:

”بہت بڑی مصیبت تب واقع ہوئی، جب صحابہ کا باہمی اختلاف اور شور ہوا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔“

📖 صحیح البخاری: 7366
🔗 [https://tohed.com/hadith/bukhari/7366/](https://tohed.com/hadith/bukhari/7366/)

📖 صحیح مسلم: 1637
🔗 [https://tohed.com/hadith/muslim/1637/](https://tohed.com/hadith/muslim/1637/)

━━━━━━━━━━━━━━

📌 *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تحریر کا ارادہ ترک کرنا*

یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اجتہادی رائے ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا ارادہ صحابہ کے اختلاف کی وجہ سے نہیں، بلکہ خود ہی ترک کر دیا تھا۔

اس سے چند دن قبل بھی ایک واقعہ پیش آیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ ابوبکر اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بلائیں، تاکہ میں خلافت کی بابت کچھ لکھ دوں، مگر پھر ارادہ ترک کر دیا اور فرمایا:

*وَيَأْبَى اللّٰهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ*

ترجمہ:

”خلافت کے لیے ابوبکر کے علاوہ کسی کا نام آئے گا تو اللہ تعالیٰ اور مومن اس سے انکار کر دیں گے۔“

📖 مسند الإمام أحمد: 6/144

📖 صحیح مسلم: 2387
🔗 [https://tohed.com/hadith/muslim/2387/](https://tohed.com/hadith/muslim/2387/)

━━━━━━━━━━━━━━

📌 *شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی وضاحت*

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

*إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ كِتَابَةَ الْكِتَابِ بِاخْتِيَارِهِ، فَلَمْ يَكُنْ فِي ذٰلِكَ نِزَاعٌ، وَلَوِ اسْتَمَرَّ عَلَى إِرَادَةِ الْكِتَابِ مَا قَدِرَ أَحَدٌ أَنْ يَمْنَعَهُ*

ترجمہ:

”اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا ارادہ اپنے اختیار سے ترک کیا۔ اگر آپ لکھنا چاہتے تو کسی کی مجال نہ تھی کہ آپ کو روکے۔“

📖 منہاج السنۃ النبویۃ في نقض کلام الشیعۃ والقدریۃ: 6/317

━━━━━━━━━━━━━━

انہوں نے مزید فرمایا:

*وَلَا فِي شَيْءٍ مِّنَ الْحَدِيثِ الْمَعْرُوفِ عِنْدَ أَهْلِ النَّقْلِ أَنَّهُ جَعَلَ عَلِيًّا خَلِيفَةً… فَإِنْ كَانَ قَدْ فَعَلَ ذٰلِكَ فَقَدْ أَغْنَى عَنِ الْكِتَابِ…*

ترجمہ:

”کسی صحیح حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بلا فصل خلافت پر کوئی نص موجود نہیں، جبکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر صحیح ثابت نصوص موجود ہیں۔

اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر قطعی نص قائم کی تھی، تو پھر لکھنے کی ضرورت کیا تھی؟“

📖 منہاج السنۃ النبویۃ في نقض کلام الشیعۃ والقدریۃ: 6/318

━━━━━━━━━━━━━━

📌 *سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مصیبت کس کو کہتے ہیں؟*

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خلافتِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے شک اور انکار کو بڑی مصیبت قرار دیا ہے۔

ان کے مطابق اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں تحریر فرما دیتے تو انکار کرنے والوں اور گمراہ لوگوں کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہتا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

*يَقْتَضِي أَنَّ هٰذَا الْحَائِلَ كَانَ رَزِيَّةً، وَهُوَ رَزِيَّةٌ فِي حَقِّ مَنْ شَكَّ فِي خِلَافَةِ الصِّدِّيقِ، أَوِ اشْتَبَهَ عَلَيْهِ الْأَمْرُ؛ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ هُنَاكَ كِتَابٌ لَّزَالَ هٰذَا الشَّكُّ، فَأَمَّا مَنْ عَلِمَ أَنَّ خِلَافَتَهُ حَقٌّ فَلَا رَزِيَّةَ فِي حَقِّهِ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ*

ترجمہ:

”سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا کلام ظاہر ہے کہ وہ خلافتِ صدیق رضی اللہ عنہ میں شک و انکار کو بڑی مصیبت اور ہلاکت قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اگر خلافت کے بارے میں تحریر ہوتی، تو یہ شک ختم ہو جاتا۔

جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کو حق سمجھتا ہے، اس کے لیے کوئی مصیبت نہیں، اور الحمدللہ۔“

📖 منہاج السنۃ النبویۃ فی نقض کلام الشیعۃ والقدریۃ: 6/25

12 📘 *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا لکھنا چاہتے تھے؟*

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضِ وفات میں کی گئی گفتگو اور احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلافت کے حوالے سے ایک تحریر لکھنا چاہتے تھے، تاکہ خلافت کے بارے میں بعد میں کوئی اختلاف نہ ہو۔

اور یہ تحریر دراصل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے حق میں تھی، تاکہ ان کی خلافت پر کسی کو اعتراض کا موقع نہ ملے۔

━━━━━━━━━━━━━━

📌 *حدیث نمبر 1*

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

*لَمَّا كَانَ وَجَعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، قَالَ: ادْعُوا لِي أَبَا بَكْرٍ وَّابْنَهُ، فَلْيَكْتُبْ لِكَيْلَا يَطْمَعَ فِي أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ طَامِعٌ، وَلَا يَتَمَنّٰى مُتَمَنٍّ، ثُمَّ قَالَ: يَأْبَى اللّٰهُ ذٰلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ مَرَّتَيْنِ….، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَبَى اللّٰهُ وَالْمُسْلِمُونَ.*

ترجمہ:

”جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیماری میں مبتلا تھے، جس میں آپ کا انتقال ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو بلاؤ، تاکہ وہ لکھ لیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں کوئی خواہش مند طمع نہ کرے اور کوئی آرزو کرنے والا امید نہ لگائے۔‘

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا:

’اللہ تعالیٰ اور مسلمان کسی اور کی خلافت کو تسلیم نہیں کریں گے۔‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’چنانچہ اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں نے میرے والد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور کو تسلیم نہیں کیا۔‘“

📖 مسند الإمام أحمد: 6/106، وسندہ حسن

━━━━━━━━━━━━━━

📌 *حدیث نمبر 2*

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی ایک اور روایت میں آتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

*أُدْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ، أَبَاكِ، وَأَخَاكِ، حَتّٰى أَكْتُبَ كِتَابًا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَّتَمَنّٰى مُتَمَنٍّ وَّيَقُولُ قَائِلٌ: أَنَا أَوْلٰى، وَيَأْبَى اللّٰهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ.*

ترجمہ:

”اپنے والد ابوبکر رضی اللہ عنہ اور بھائی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو بلاؤ، تاکہ میں تحریر کر دوں۔

مجھے یہ خوف ہے کہ کوئی خلافت کا متمنی کہے کہ میں زیادہ حق دار ہوں، حالانکہ اللہ تعالیٰ اور مومنین ابوبکر کے علاوہ کسی کو تسلیم نہیں کریں گے۔“

📖 مسند الإمام أحمد: 6/144

📖 صحیح مسلم: 2387
🔗 [https://tohed.com/hadith/muslim/2387/](https://tohed.com/hadith/muslim/2387/)

━━━━━━━━━━━━━━

📌 *وضاحت*

ان احادیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ تھا کہ تحریری طور پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی تصدیق فرما دیں، تاکہ بعد میں کوئی اختلاف یا تنازعہ نہ رہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لیے بہترین جانا، اور یہ یقین دلایا کہ اللہ تعالیٰ اور مسلمان بھی اسی فیصلے کی تائید کریں گے۔

━━━━━━━━━━━━━━

📌 *حدیث نمبر 3*

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران فرمایا:

*لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُّ أَنْ أُرْسِلَ إِلٰى أَبِي بَكْرٍ وَّابْنِهٖ فَأَعْهَدَ، أَنْ يَّقُولَ: الْقَائِلُونَ أَوْ يَتَمَنَّى الْمُتَمَنُّونَ*

ترجمہ:

”میں نے ارادہ کیا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے عبدالرحمٰن کی طرف پیغام بھیجوں اور خلافت کی وصیت کر دوں، تاکہ کوئی خلافت کا دعویدار نہ بنے اور نہ ہی کوئی تمنا کرے۔“

📖 صحیح البخاری: 7217
🔗 [https://tohed.com/hadith/bukhari/7217/](https://tohed.com/hadith/bukhari/7217/)

━━━━━━━━━━━━━━

📌 *وضاحت*

یہ احادیث واضح طور پر اشارہ کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کو تحریری طور پر لکھنے کا ارادہ فرمایا تھا، لیکن پھر اسے ترک کر دیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارادہ اس وجہ سے تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ خلافت کے کسی دوسرے دعوے دار کے لیے کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔

مگر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ اور مسلمان سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں متفق ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

یہی وجہ ہے کہ خلافت کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتخاب اللہ تعالیٰ اور مومنین کی طرف سے قبول کر لیا گیا۔

13 📘 حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حمل ساقط کرنے کی جھوٹی روایت

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بطنِ پاک پر مکا مار کر حمل ساقط کرنے کا واقعہ سراسر جھوٹ ہے۔ اہلِ سنت کی معتبر کتابوں میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ یہ روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں ملتی ہے، جس کے ذریعے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ نعوذباللہ صحابہ کرام اہلِ بیت سے دشمنی رکھتے تھے۔
حالانکہ کتاب سلیم بن قیس، جسے کتاب السقیفہ بھی کہا جاتا ہے، خود شیعہ علماء کے نزدیک بھی ناقابلِ اعتماد اور مشتبہ کتاب ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━
➊ سلیم بن قیس مجہول ہے
شیعہ عالم ابن الغضائری لکھتے ہیں:
”ہمارے اصحاب کہتے تھے کہ سلیم مجہول ہے، اس کا کسی حدیث میں ذکر نہیں، اور اس کی کتاب موضوع یعنی جھوٹی ہے۔ اس میں ایسی باتیں ہیں جو اس کے جھوٹا ہونے پر دلالت کرتی ہیں، مثلاً محمد بن ابو بکر کا اپنے والد کو بوقتِ وفات نصیحت کرنا، اور ائمہ کا تیرہ ہونا وغیرہ۔“
📖 الرجال: 5/1
━━━━━━━━━━━━━━
➋ کتاب کا راوی ابان بن ابو عیاش ضعیف ہے
ابن الغضائری لکھتے ہیں:
”ابان بن ابو عیاش ضعیف اور ناقابلِ التفات ہے، اور ہمارے اصحاب کتاب سلیم بن قیس کو اسی کی گھڑی ہوئی کتاب قرار دیتے ہیں۔“
📖 الرجال: 4/1
اسی کتاب کا دار و مدار ابان بن ابو عیاش پر ہے، جبکہ شیعہ کتبِ رجال میں اس کی معتبر توثیق ثابت نہیں۔
━━━━━━━━━━━━━━
➌ دوسری سند بھی ثابت نہیں
نجاشی نے ایک اور سند ذکر کی، مگر اس میں بھی خرابی ہے۔ سید خوئی لکھتے ہیں کہ ہمارے پاس حماد بن عیسیٰ، ابراہیم بن عمر، عن سلیم بن قیس والی سند سے کتاب سلیم بن قیس کا کوئی ثابت طریق نہیں، کیونکہ اس سند میں محمد بن علی صیرفی ابو سمینہ ہے، جو ضعیف اور کذاب ہے۔
📖 معجم رجال الحديث: 235/9
نجاشی نے بھی محمد بن علی صیرفی ابو سمینہ کے بارے میں لکھا:
”یہ سخت ضعیف، فاسد العقیدہ اور ناقابلِ اعتماد ہے، کوفہ میں جھوٹا مشہور تھا۔“
📖 رجال النجاشي: 234/1
━━━━━━━━━━━━━━
➍ شیعہ علماء نے بھی کتاب کو ناقابلِ اعتماد کہا
ابن الغضائری لکھتے ہیں:
”اس کتاب میں کئی مشہور منکر باتیں ہیں، میرے نزدیک یہ جھوٹی ہے۔“
📖 الرجال: 4/8
ابن داؤد حلی نے بھی اسے موضوع یعنی جھوٹی قرار دیا۔
📖 رجال ابن داؤد، ص: 242
شیخ مفید شیعہ لکھتے ہیں:
”یہ کتاب قابلِ اعتماد نہیں، اس کے اکثر حصے پر عمل جائز نہیں، اس میں تخلیط و تدلیس ہے، لہٰذا دین دار شخص کو اس پر عمل سے بچنا چاہیے۔“
📖 تصحيح العقائد، ص: 72
━━━━━━━━━━━━━━
➎ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی وضاحت
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض روافض یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حمل ضائع کر دیا تھا، مگر یہ اور اس جیسی باتیں جھوٹ ہیں، جن کا بطلان معمولی علم رکھنے والے پر بھی واضح ہے۔
📖 منهاج السنة النبوية: 493/4
━━━━━━━━━━━━━━
➤ خلاصہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بطن پر مکا مار کر حمل ساقط کرنے کا کوئی ثبوت نہیں۔ جس کتاب سے یہ روایت پیش کی جاتی ہے، وہ خود مجروح، ناقابلِ اعتماد اور محتاجِ دلیل ہے۔

14 📘 کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا گھر جلایا؟

شیعہ روافض بڑے زور و شور سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا گھر جلا دیا تھا۔

اس سلسلے میں شیعہ روافض اہلِ سنت کی کتابوں سے کچھ ضعیف روایات کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان روایات کی تحقیق درج ذیل ہے:

⚠️ تنبیہ:

اہلِ سنت کی ضعیف روایات، جن میں اس واقعے کا اثر ملتا ہے، ان تمام روایات میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے صرف دھمکی دینے کا ذکر ہے، اور کہیں بھی یہ ذکر نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گھر کو جلایا یا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تکلیف دی۔

لہٰذا یہ روایات خود روافض ہی کے خلاف جاتی ہیں، کیونکہ ان سے ان کا گھر جلانے کا دعویٰ باطل ثابت ہوتا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

📌 پہلی روایت

سب سے پہلی روایت تاریخِ طبری سے پیش کی جاتی ہے، جو کچھ اس طرح ہے:

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا:

ہاں! میرے دل میں دنیا کی حسرت نہیں ہے، مگر تین چیزیں ایسی ہیں جو میں نے کی ہیں مگر کاش نہ کرتا، اور تین چیزیں ایسی ہیں جو میں نے چھوڑ دی ہیں مگر کاش ان کو کرتا، اور تین چیزیں ایسی ہیں کہ کاش میں رسول اللہ ﷺ سے ان کے متعلق دریافت کر لیتا۔

وہ تین چیزیں جن کو میں چھوڑ دیتا تو اچھا ہوتا، یہ ہیں:

کاش میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کا گھر نہ کھولتا۔

📖 تاریخ طبری اردو، حصہ دوم، جلد دوم، صفحہ: 205

رافضی اس روایت سے گھر جلانا مراد لیتے ہیں، حالانکہ اس میں گھر جلانے کا کوئی تذکرہ نہیں۔

اس روایت کی سند سخت ضعیف اور منکر ہے، کیونکہ اس کی سند میں علوان بن داؤد، جسے علوان بن صالح بھی کہا جاتا ہے، منکر الحدیث ہے۔

📖 لسان المیزان از حافظ ابن حجر عسقلانی، جلد: 5، صفحہ: 472
📖 ضعیف تاریخ طبری، تحقیق محمد بن طاہر البرزنجی، جلد: 8، صفحات: 152، 153، 154

لہٰذا یہ روایت حجت نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━

📌 دوسری روایت

رافضی اسی طرح تاریخِ طبری کی ایک اور ضعیف روایت کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر طعن کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

وہ روایت یہ ہے:

زیاد بن کلیب سے مروی ہے کہ وہاں سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ کے مکان پر آئے، طلحہ، زبیر اور بعض دوسرے مہاجرین رضی اللہ عنہم بھی وہاں موجود تھے۔

عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:

چل کر بیعت کرو، ورنہ میں اس گھر میں آگ لگا کر تم سب کو جلا دوں گا۔

زبیر رضی اللہ عنہ تلوار نکال کر عمر رضی اللہ عنہ پر بڑھے، مگر فرش میں پاؤں الجھ جانے کی وجہ سے گر گئے اور تلوار ہاتھ سے چھوٹ گئی، تب اور لوگوں نے فوراً زبیر رضی اللہ عنہ پر یورش کر کے انہیں قابو کر لیا۔

📖 تاریخ طبری اردو، حصہ اول، جلد دوم، صفحہ: 406

اس روایت کی سند اس طرح ہے:

ابن حميد قال حدثنا جرير عن مغيرة عن زياد بن كليب

📖 ضعیف تاریخ طبری، تحقیق محمد بن طاہر البرزنجی، جلد: 8، صفحہ: 15

➊ جریر بن حازم ثقہ ہیں، لیکن ان کو آخری عمر میں اختلاط ہو گیا تھا۔

📖 تقریب التہذیب، روایت نمبر: 923، صفحہ: 196

➋ مغیرہ بن مقسم تدلیس کرتے ہیں، اور یہ روایت “عن” سے ہے۔

یہ اہلِ سنت کا مشہور اصولِ حدیث ہے کہ مدلس کی روایت، غیر صحیحین یعنی بخاری و مسلم کے علاوہ، اگر “عن” سے ہو تو وہ روایت ضعیف ہوتی ہے۔ یہ روایت بھی تاریخِ طبری میں عنعنہ سے ہے۔

📖 تقریب التہذیب، روایت نمبر: 6899، صفحہ: 966
📖 تہذیب تہذیب الکمال، جلد: 9، صفحہ: 80

➌ زیاد بن کلیب ثقہ ہیں، لیکن وہ تابعی ہیں، صحابی نہیں ہیں۔

زیاد بن کلیب یہ واقعہ براہِ راست بیان کر رہے ہیں، حالانکہ وہ اس واقعہ میں موجود نہ تھے، بلکہ وہ تو نبی ﷺ کی وفات کے کافی دیر بعد اسلام لائے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ان کی وفات 110 یا 119 ہجری میں ہوئی، جبکہ نبی ﷺ 11 ہجری میں وفات پا گئے تھے۔ یہ واقعہ آپ ﷺ کی وفات کے فوراً بعد کا ہے۔

لہٰذا یہ ثابت ہی نہیں ہوتا کہ زیاد بن کلیب اس واقعہ میں موجود تھے۔ اس طرح یہ روایت منقطع ہو جاتی ہے۔

📖 تہذیب تہذیب الکمال، جلد: 3، صفحات: 325، 326

لہٰذا یہ روایت بھی سخت ضعیف اور ناقابلِ استدلال ہے۔

جاری ہے۔۔۔

15 ━━━━━━━━━━━━━━ 📌 تیسری روایت

تیسری اور آخری روایت مصنف ابن ابی شیبہ سے پیش کی جاتی ہے، لیکن اس میں بھی گھر جلانے کا ذکر نہیں۔
روایت اس طرح ہے:
بعد رسول اللہ ﷺ جب ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی تو علی اور زبیر رضی اللہ عنہما فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں مشورہ اور گفتگو کیا کرتے تھے۔
جب عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی خبر ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پاس آئے اور کہا:
اے بنتِ رسول ﷺ! محبوب ترین فرد میرے نزدیک آپ کے والد ہیں، اور اس کے بعد آپ ہیں، لیکن اللہ کی قسم! یہ محبت میرے لیے مانع نہیں ہے کہ اگر یہ افراد تمہارے گھر میں جمع ہوئے تو میں گھر کو جلا دوں گا۔
جب عمر رضی اللہ عنہ چلے گئے اور یہ افراد جناب سیدہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا:
معلوم ہے عمر رضی اللہ عنہ نے کیا کہا ہے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ہے: اللہ کی قسم! اگر دوبارہ یہ لوگ جمع ہوئے تو تم لوگوں پر گھر کو جلا دوں گا۔ خدا کی قسم! عمر رضی اللہ عنہ اپنے کہے پر عمل کر کے رہے گا۔
📖 مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب المغازی، جلد: 13، صفحات: 468، 469
اس روایت کی سند اس طرح ہے:
حدثنا محمد بن بشير نا عبيد الله بن عمر حدثنا زيد بن أسلم عن أبيه أسلم
مگر افسوس کہ یہ روایت بھی روافض کے لیے قابلِ استدلال نہیں، کیونکہ اولاً اس میں بھی صرف دھمکی کا ذکر ہے، گھر جلانے کا ذکر نہیں۔
نیز اسلم، یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام، تابعی ہیں، صحابی نہیں ہیں۔
لہٰذا اس روایت میں بھی تابعی براہِ راست ایک واقعہ بیان کر رہے ہیں۔ ان کا اس واقعہ میں موجود ہونا ثابت نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی وفات 11 ہجری میں ربیع الاول کے مہینے میں ہوئی۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات آپ ﷺ کی وفات کے چھ ماہ بعد رمضان یا شوال میں ہوئی۔
جس واقعہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف الزام لگایا جاتا ہے، وہ واقعہ آپ ﷺ کی وفات کے فوراً بعد کا ہے۔
اسلم القرشی تو ان تینوں واقعات میں موجود نہ تھے:
➊ آپ ﷺ کی وفات کے وقت
➋ جب یہ دھمکی والا واقعہ ہوا
➌ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے وقت
بلکہ وہ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد مدینہ آئے۔
امام بخاری رحمہ اللہ ان کے متعلق لکھتے ہیں:
اسلم، عمر رضی اللہ عنہ کے غلام، یمن کے قیدیوں میں سے تھے۔ ابن اسحاق سے نقل ہوا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسلم کو 11 ہجری میں، جب امیرِ حج ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے تھے، خریدا۔
📖 التاریخ الکبیر از امام بخاری، جلد: 2، روایت نمبر: 1565، صفحات: 23، 24
مطلب یہ کہ اسلم 11 ہجری میں حج کے بعد مدینہ آئے، یعنی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بھی دو ماہ بعد۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلم نے یہ واقعہ کس سے سنا؟ جبکہ وہ تو بہت بعد مدینہ آئے۔
تو ثابت ہوا کہ مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت بھی مرسل ہونے کی وجہ سے ناقابلِ استدلال ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━
📌 ایک اہم نکتہ
اس واقعہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں:
“اے بنتِ رسول ﷺ! محبوب ترین فرد میرے نزدیک آپ کے والد ہیں، اور ان کے بعد آپ ہیں۔”
اس سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اہلِ بیت سے محبت ثابت ہو جاتی ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ ڈرانا دھمکانا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے نہیں تھا، بلکہ ان لوگوں کے لیے تھا جو گھر میں جمع ہوئے تھے۔
━━━━━━━━━━━━━━
📌 خلاصہ
آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ شیعہ معتبر کتابوں میں بھی یہ واقعہ موجود نہیں۔
یہ واقعہ طبرسی نے الاحتجاج میں نقل کیا ہے، لیکن اس میں بھی صرف دھمکی کا ذکر ہے، جلانے کا ذکر نہیں۔
➤ لہٰذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا گھر جلانے کا الزام باطل، بے بنیاد اور ضعیف و منقطع روایات پر مبنی ہے۔