واٹساپ دعوتی مواد رمضان المبارک

رمضان المبارک

45 پیغامات

1 📘 رؤیتِ ہلال کی اہمیت

أحصوا هلال شعبان لرمضان۔

آپ ﷺ نے فرمایا:
”شعبان کے چاند کو رمضان کے لیے اچھی طرح شمار کرو اور یاد رکھو۔“

📚 سنن الترمذي: 687 الصوم
📚 مستدرك الحاكم: ج 1 ص 425
📚 سنن الدار قطنی: ج 2 ص 163
📖 بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
🔎 دیکھئے: سلسلة الأحاديث الصحيحه: 565

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/687/

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول نقل فرماتی ہیں:

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتحفظ من شعبان ما لا يتحفظ لغيره فإن غم عليه عد ثلاثين يوما ثم صام۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے چاند یا دنوں کو یاد رکھنے میں جس قدر اہتمام سے کام لیتے تھے، اس قدر کسی دوسرے ماہ کے دنوں کو یاد رکھنے کا اہتمام نہیں فرماتے تھے۔ پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے، لیکن اگر انتیسویں شعبان کی شام کو بدلی چھا جاتی تو تیس کی گنتی پوری کرتے، اس کے بعد روزہ رکھتے۔

📚 سنن ابو داود: 2325 الصوم
📚 صحیح ابن خزیمه: 1910 ج 3 ص 203
📚 صحیح ابن حبان الموارد: 869
🔎 دیکھئے: صحیح سنن أبی داود ج 3 ص 50

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2325/

یعنی ماہِ شعبان کے دنوں کو شمار کرتے اور انہیں یاد رکھنے میں اہتمام سے کام لیتے تاکہ رمضان کے روزے اپنی صحیح تاریخوں میں رکھے جا سکیں، ایسا نہ ہو کہ شعبان کے دنوں کے شمار میں بھول ہو جائے تو رمضان کے روزے خطرے میں پڑ جائیں، واللہ اعلم۔

📚 المرعاة: ج 6 ص 451

مذکورہ حدیثوں سے پتہ چلتا ہے کہ:

① رؤیتِ ہلال کے اہتمام کا حکم ہے، خاص کر شعبان و رمضان کا۔

② شعبان کے چاند اور دنوں کے اہتمام میں محنت سے کام لینا اس بات کی دلیل ہے کہ دوسرے مہینوں کے چاند کا بھی عمومی اہتمام کرنا چاہیے۔

③ ہر ماہ کے چاند اور ان کے اہتمام کا ثبوت درج ذیل حدیثوں سے بھی ہوتا ہے:

🔹 الف:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

أوصاني خليلي بثلاث لا أدعهن حتى أموت – صيام ثلاثة أيام من كل شهر وصلاة الضحى ونوم على الوتر۔

میرے خلیل (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے جنہیں میں مرتے دم تک نہیں چھوڑ سکتا، ہر مہینہ کے تین روزے، چاشت کی نماز اور سونے سے قبل وتر کی نماز پڑھنا۔

📚 صحيح البخاری: 1981 الصوم، باب صيام البيض ثلاث عشرة أربع عشرة وخمس عشرة
📚 صحیح مسلم: 720 کتاب صلاة التطوع: باب نمبر 10

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1981/

یہی وصیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ (صحیح مسلم: 722، صلاة التطوع – سنن أبي داود: 1433 الصلاة دیکھئے: صحيح الترغيب والترهيب ج 1 ص 598) اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ (مسند أحمد: ج 5 ص 173 – سنن النسائي: 2406 الصوم – صحيح ابن خزيمه: 3 ص 144) کو بھی فرمائی تھی۔

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/722/

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/2406/

صرف یہی چند صحابہ رضی اللہ عنہم نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ترغیبی حکم تھا۔

حضرت قدامہ بن ملحان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمرنا بصيام أيام البيض ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة وقال هن كهيئة الدهر۔

”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ایامِ بیض کے روزے رکھیں یعنی 13، 14 اور 15 تاریخ کو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ان دنوں کا روزہ رکھنا گویا پورے سال کا روزہ رکھنا ہے۔“

📚 سنن ابو داود: 2449 الصوم
📚 سنن النسائي: 2432 الصوم
📚 سنن ابن ماجه: 1707 الصيام
📖 بروايت قدامة بن ملحان
🔎 دیکھئے: صحيح الترغيب ج 1 ص 603

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2449/

ب:

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ماہِ نو کو دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے:

اللهم أهلله علينا باليمن والإيمان والسلامة والإسلام ربي وربك الله۔

”اے اللہ تعالیٰ! اس چاند کو ہمارے اوپر امن و ایمان اور سلامتی و اسلام کے ساتھ طلوع فرما۔ اے چاند! میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔“

📚 مسند احمد: ج 1 ص 162
📚 سنن الترمذى: 3451 الدعوات
📚 مستدرك الحاكم: ج 4 ص 285
🔎 دیکھئے: الصحيحة: 1816

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/3451/

دعاء کے الفاظ اور عمومی طور پر حدیث کے الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رؤیتِ ہلال کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ رؤیتِ ہلال ایک اہم شرعی عمل ہے، اس کا اہتمام کرنا اور چاند دیکھنے کے بعد یہ دعاء پڑھنا تقرب الی اللہ کا ذریعہ ہے۔

واللہ اعلم۔

2 🌙 سوال:

کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے مطالع کو مکہ کے مطالع کے مطابق کیا جائے تاکہ رمضان المبارک اور دیگر مہینے بیک وقت شروع ہوں اور اس سے امت کی وحدت کا اظہار ہو۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

📝 جواب از شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات علمِ فلکیات کے اعتبار سے ناممکن ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ہلال کے مطالع مختلف ہوتے ہیں، اور اس مسئلے پر علمِ فلکیات کے ماہرین کا بھی مکمل اتفاق ہے۔

جب مطالع مختلف ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ نقلی اور عقلی دلائل کی روشنی میں ہر علاقے کا اپنا اپنا اعتبار کیا جائے۔

📖 نقلی دلیل

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهرَ فَليَصُمهُ﴾
📚 سورۃ البقرة: 185
🔗 https://tohed.com/tafsir/2/185/

ترجمہ:
’’تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو اسے چاہیے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے۔‘‘

اگر زمین کے کسی دور دراز علاقے کے لوگوں نے ہلال نہیں دیکھا، اور اہلِ مکہ نے دیکھ لیا، تو یہ آیت ان لوگوں کے لیے کیسے قابلِ عمل ہوگی جو ہلال کو دیکھ ہی نہیں سکے؟

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

«صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ»
’’چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی روزہ ختم کرو۔‘‘

📚 صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب قول النبی: اذا رايتم الهلال…، حدیث: 1909
📚 صحیح مسلم، کتاب الصيام، باب وجوب صوم رمضان لرؤية الهلال، حدیث: 1081 (18)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1909/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1081/

اگر اہلِ مکہ نے چاند دیکھ لیا ہو، تو اہلِ پاکستان یا ان سے مشرق کی جانب بسنے والے دیگر ممالک کے لوگوں پر روزہ کیوں لازم قرار پائے؟ جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ ان کے افق پر ہلال طلوع ہی نہیں ہوا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے کو رؤیتِ ہلال کے ساتھ مشروط فرمایا ہے۔

🧠 عقلی دلیل

عقلی دلیل بھی اسی اصول کی تائید کرتی ہے۔ مثال کے طور پر ہمیں معلوم ہے کہ زمین کے مشرقی علاقے میں فجر مغربی علاقے سے پہلے طلوع ہوتی ہے۔

تو کیا جب مشرق میں فجر طلوع ہو جائے تو مغرب میں موجود لوگوں پر بھی کھانے پینے سے رکنا لازم ہوگا؟ ہرگز نہیں۔

اسی طرح جب مشرق میں سورج غروب ہو جاتا ہے اور مغرب میں دن باقی ہوتا ہے، تو مغرب والوں کے لیے افطار کرنا درست نہیں۔

ہلال کا معاملہ بھی اسی اصول پر ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ سورج کا تعلق روزانہ کے نظام سے ہے، جبکہ ہلال کا تعلق ماہانہ نظام سے ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿أُحِلَّ لَكُم لَيلَةَ الصِّيامِ الرَّفَثُ إِلى نِسائِكُم هُنَّ لِباسٌ لَكُم وَأَنتُم لِباسٌ لَهُنَّ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُم كُنتُم تَختانونَ أَنفُسَكُم فَتابَ عَلَيكُم وَعَفا عَنكُم فَالـٔـنَ بـشِروهُنَّ وَابتَغوا ما كَتَبَ اللَّهُ لَكُم وَكُلوا وَاشرَبوا حَتّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الخَيطُ الأَبيَضُ مِنَ الخَيطِ الأَسوَدِ مِنَ الفَجرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيامَ إِلَى الَّيلِ وَلا تُبـشِروهُنَّ وَأَنتُم عـكِفونَ فِى المَسـجِدِ تِلكَ حُدودُ اللَّهِ فَلا تَقرَبوها كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ ءايـتِهِ لِلنّاسِ لَعَلَّهُم يَتَّقونَ﴾
📚 سورۃ البقرة: 187

ترجمہ:
’’روزوں کی راتوں میں تمہارے لیے عورتوں کے پاس جانا جائز کر دیا گیا ہے، وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔ اللہ کو معلوم ہے کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنے حق میں خیانت کرتے تھے، سو اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سے درگزر فرمایا۔ اب (تم کو اختیار ہے کہ) ان سے مباشرت کرو اور اللہ نے جو چیز تمہارے لیے لکھ رکھی ہے (یعنی اولاد) اسے اللہ سے طلب کرو، اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے، پھر روزہ رکھ کر اسے رات تک پورا کرو، اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں، ان کے قریب نہ جانا۔ اسی طرح اللہ اپنی آیتیں لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں۔‘‘

اسی طرح فرمایا:

﴿فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهرَ فَليَصُمهُ﴾
📚 سورۃ البقرة: 185

’’تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو اسے چاہیے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے۔‘‘

📌 نتیجہ:

لہٰذا نقلی اور عقلی دلائل کا تقاضا یہی ہے کہ روزے رکھنے یا چھوڑنے کے معاملے میں ہر علاقے کے لوگوں کے لیے وہی حکم ہو جو ان کے اپنے حالات کے مطابق ہو۔

یہ حکم اللہ کی کتاب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں مذکور علامات (چاند، سورج، فجر) کے ساتھ مشروط ہے۔

واللہ أعلم بالصواب۔

3 🌙 فرضیت، فضیلت اور مقصدِ روزہ

📌 فرضیتِ روزہ :
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾
(البقرۃ : 183)
ترجمہ :
”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔“
🔗 https://tohed.com/tafsir/2/183/
اس آیتِ کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ روزہ ان احکامِ شرعیہ میں سے ہے جن کا ذکر سابقہ آسمانی ادیان میں بھی موجود رہا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :
«بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ»
📖 بخاری، کتاب الایمان (8)
📖 مسلم، کتاب الایمان (16)
ترجمہ :
”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان المبارک کا روزہ رکھنا۔“
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/8/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/16/
اس حدیثِ نبوی سے معلوم ہوا کہ روزہ اسلام کی ایسی عظیم عبادت ہے جسے اسلام کی بنیادوں میں شمار کیا گیا ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
🌟 روزہ کی فضیلت :
روزہ اپنے اندر ایک عجیب اور منفرد خصوصیت رکھتا ہے۔ یہ ریاکاری اور دکھلاوے سے کوسوں دور، چشمِ اغیار سے پوشیدہ، سراپا اخلاص اور عابد و معبود، ساجد و مسجود کے درمیان ایک راز ہے۔ اس کا حقیقی علم روزہ دار اور ربِّ کریم کے سوا کسی کو نہیں ہوتا۔
نماز، حج، جہاد وغیرہ جیسی دیگر عبادات کی ایک ظاہری ہیئت و صورت ہوتی ہے، مگر روزے کی اس طرح کوئی ظاہری شکل موجود نہیں جسے دیکھنے والا بآسانی محسوس کر سکے۔ یہ رازق و مرزوق اور مالک و مملوک کے درمیان ایک سرّی تعلق ہے۔
اسی طرح اس کے اجر و ثواب کا معاملہ بھی نہایت عظیم ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
«كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ، الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي»
📖 بخاری، کتاب الصوم (1904)
📖 مسلم، کتاب الصیام (1151)
📖 مشکوٰۃ (1959)
ترجمہ :
”آدم کے بیٹے کے تمام اعمال بڑھا دیے جاتے ہیں۔ ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : روزہ چونکہ میرے لیے ہے، میں ہی اس کی جزا عطا کروں گا، کیونکہ (دنیا میں) روزہ دار نے اپنی خواہش اور کھانا میری خاطر ترک کیا تھا۔“
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1151/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1904/
لفظ «أجزي» کو اگر بصیغۂ مجہول «أُجزى» پڑھا جائے تو معنی یہ ہوگا :
”روزے کا بدلہ میں خود ہوں۔“
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے روزہ داروں کے لیے جنت میں ایک خاص دروازہ مقرر فرمایا ہے جس کا نام ”باب الریان“ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
«فِي الْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ، مِنْهَا بَابٌ يُسَمَّى الرَّيَّانَ، لَا يَدْخُلُهُ إِلَّا الصَّائِمُونَ»
📖 بخاری، کتاب بدء الخلق (3257)
📖 مسلم، کتاب الصیام (1152)
📖 مشکوٰۃ (1957)
ترجمہ :
”جنت میں آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازے کا نام ’الریان‘ ہے، اس سے روزہ داروں کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوگا۔“
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3257/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1152/
ایک اور ارشادِ نبوی ﷺ ہے :
«إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَفِي رِوَايَةٍ: فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ»
📖 بخاری، کتاب الصوم (1899)
📖 مسلم، کتاب الصیام (1079)
📖 مشکوٰۃ (1952)
ترجمہ :
”جب رمضان المبارک کا مہینہ داخل ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے (اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے) کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔“
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1899/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1079/
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
✨ مذکورہ بالا احادیثِ صحیحہ سے معلوم ہوا کہ روزہ دار کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ان کے لیے جنت میں ایک خصوصی دروازہ ”باب الریان“ بھی مقرر ہے۔
اللہ تعالیٰ کی وسیع جنت کا حصول عقائدِ صحیحہ اور اعمالِ صالحہ سے ہی ممکن ہے۔ مگر بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو صحیح عقیدہ سے محروم اور برے اعمال کے دلدادہ ہیں۔ افیون، چرس اور ہیروئن کے رسیا، بدکاری اور شراب نوشی میں مبتلا، حلال و حرام کی پابندیوں سے آزاد، عفت و عصمت کی چادر تار تار کرنے والے، حیا و غیرت کا جنازہ نکال دینے والے، اور پلید زبانوں سے ”دمادم مست قلندر“، ”علی دا پہلا نمبر“ اور ”نہ نیتی نہ قضا کیتی“ جیسے نعرے لگانے والے اپنی نجات کے لیے قرآن و حدیث کی تعلیمات کے برعکس معیار اور ذرائع اختیار کیے ہوئے ہیں۔
یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کی جنت ان خرافات سے پاک ہے۔ وہ اہلِ توحید، مؤمنین، مجاہدین اور اللہ کے نیک و صالح بندوں کے لیے تیار کی گئی ہے، جو عقائد و اعمال کے اعتبار سے بہترین ہوں، فرائض کی پابندی کرنے والے ہوں، اور نوافل و تطوع کو خوش دلی، رغبت، شوق اور اخلاص کے ساتھ ادا کرنے والے ہوں۔
🌙 اللہ تعالیٰ ہمیں روزے کی حقیقت سمجھنے، اس کی قدر کرنے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

4 📘 اذانِ سحری کی شرعی حیثیت

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إن بلالا يؤذن بليل، فكلوا واشربوا حتى ينادي ابن أم مكتوم﴾

”یقیناً بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان دیتے ہیں، سو تم کھاؤ پیو یہاں تک کہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں۔“

(راوی کہتے ہیں:) عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے، وہ اتنی دیر تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک انہیں یہ نہ کہا جاتا: تو نے صبح کر دی، تو نے صبح کر دی۔

📖 بخاری: کتاب الاذان، باب اذان الاعمى اذا كان له من يخبره (617)
📖 مسلم: کتاب الصيام، باب بيان ان الدخول في الصوم يحصل بطلوع الفجر (1092)

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/617/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1092/

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿لا يمنعن أحدكم أذان بلال من سحوره، فإنه يؤذن بليل ليرجع قائمكم ولينبه نائمكم﴾

”تم میں سے کسی کو بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سحری کھانے سے نہ روکے، کیونکہ وہ رات کو اذان دیتے ہیں تاکہ تم میں سے قیام کرنے والا واپس پلٹ آئے اور سونے والا بیدار ہو جائے۔“

📖 بخاری: کتاب الاذان، باب الاذان قبل الفجر (621)
📖 مسلم: کتاب الصيام، باب بيان ان الدخول في الصوم يحصل بطلوع الفجر (1093)

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/621/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1093/

🖋 علماء کی وضاحت:

”اس حدیث سے مراد دونوں اذانوں کے درمیان وقفے کی قلت بیان کرنا ہے، نہ کہ کسی خاص حد کی تعیین۔“

نیز امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قال العلماء: معناه أن بلالا كان يؤذن قبل الفجر، ويتربص بعد أذانه للدعاء ونحوه، ثم يرقب الفجر، فإذا قارب طلوعه نزل فأخبر ابن أم مكتوم، فيتأهب ابن أم مكتوم بالطهارة وغيرها، ثم يرقى ويشرع فى الأذان مع أول طلوع الفجر، والله أعلم

📖 شرح مسلم للنووی (1093)

”علماء نے کہا ہے کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ فجر سے پہلے اذان دیتے تھے اور اذان کے بعد دعا وغیرہ کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ جب طلوعِ فجر قریب ہوتی تو اتر آتے اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو خبر کر دیتے، تو وہ وضو وغیرہ کی تیاری کرتے، پھر اوپر چڑھ جاتے اور فجر طلوع ہوتے ہی اذان شروع کر دیتے۔“

🔹 خلاصہ و وضاحت:

غرض یہ کہ سحری کی اذان اور صبحِ صادق کے درمیان اتنا وقفہ ضرور ہونا چاہیے کہ:

➊ آدمی آسانی سے سحری کر لے۔
➋ قیام کرنے والا واپس پلٹ آئے۔
➌ سویا ہوا بیدار ہو جائے۔
➍ روزے کی تیاری مکمل کر لے۔

کیونکہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کھانے پینے سے مانع نہ تھی، اس لیے کہ وہ صبحِ کاذب میں ہوتی تھی۔

📖 امام بخاری رحمہ اللہ نے اس مسئلے کو ایک اور حدیث سے واضح کیا ہے:

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

﴿تسحرنا مع النبى صلى الله عليه وسلم ثم قام إلى الصلاة، قلت: كم كان بين الأذان والسحور؟ قال: قدر خمسين آية﴾

”ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں نے کہا: اذان اور سحری کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ فرمایا: پچاس آیات (کی تلاوت کے وقت) کے برابر۔“

📖 بخاری: کتاب الصوم، باب قدر كم بين السحور وصلاة الفجر (1921)
📖 مسلم: کتاب الصيام، باب فضل السحور (1097)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کے وقت فرمایا:

﴿يا أنس إني أريد القيام، أطعمني شيئا﴾

”اے انس! میرا روزے کا ارادہ ہے، مجھے کوئی چیز کھلاؤ۔“

میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور اور پانی والا برتن لایا، اور یہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کے بعد کا واقعہ ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿يا أنس، انظر رجلا يأكل معي﴾

”اے انس! کوئی آدمی تلاش کرو جو میرے ساتھ کھانا کھائے۔“

میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دعوت دی۔ وہ تشریف لائے اور کہا: ”میں نے ستو کا ایک گھونٹ پی لیا ہے اور روزے کا ارادہ رکھتا ہوں۔“

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی روزے کا ارادہ رکھتا ہوں۔“

چنانچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، دو رکعت سنت ادا کیں اور پھر نمازِ فجر کے لیے گھر سے تشریف لے گئے۔

📖 نسائی: کتاب الصيام، باب السحور بالسويق والتمر (2166)

📌 اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اذانِ بلال رضی اللہ عنہ کے بعد اتنا وقفہ ضرور ہوتا تھا جس میں آدمی سحری کا انتظام کر کے کھانا کھا لے۔

لہٰذا دونوں اذانوں کے درمیان اتنا وقفہ ہونا چاہیے کہ سحری کا بندوبست بآسانی ہو سکے اور روزے کی تیاری مکمل کی جا سکے۔

5 📘 سحری کھانے کا آخری وقت

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ﴾

”اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے واضح ہو جائے۔“

📖 (البقرۃ: 187)

🔗 https://tohed.com/tafsir/2/187/

🔎 اس آیتِ کریمہ میں:

➊ الخيط الابیض سے مراد: صبحِ صادق
➋ الخيط الاسود سے مراد: رات کی تاریکی

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو میں نے اونٹ باندھنے والی ایک سیاہ رسی اور ایک سفید رسی اپنے تکیے کے نیچے رکھ لی۔ میں رات کے وقت انہیں دیکھنے لگا، مگر مجھے واضح فرق نظر نہ آیا (حالانکہ اب تک سفید ہو جانا چاہیے تھا)۔

میں صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ عرض کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إنما ذلك سواد الليل وبياض النهار﴾

”اس آیت میں سیاہ اور سفید دھاگے سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے۔“

📖 بخاری، کتاب الصوم: باب قول الله تعالى (وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمْ) (1916)

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1916/

📌 اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ:

➤ سحری کا وقت صبحِ صادق تک رہتا ہے۔
➤ جیسے ہی صبحِ صادق طلوع ہو جائے، کھانا پینا بند کرنا لازم ہے۔

⏳ وقت کی تعیین میں وسعت:

چونکہ آج کی طرح گھڑیاں اور جدید آلات زمانۂ رسالت اور خلفائے راشدین کے دور میں موجود نہ تھے، لوگ چاند اور ستاروں سے اوقات معلوم کرتے تھے۔

لہٰذا اگر سحری میں ایک دو منٹ کی معمولی تاخیر ہو جائے تو کوئی قیامت برپا نہیں ہوتی، بشرطیکہ صبحِ صادق طلوع نہ ہوئی ہو۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إذا سمع أحدكم النداء والإناء على يده، فلا يضعه حتى يقضي حاجته منه﴾

”جب تم میں سے کوئی آدمی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اسے اپنی حاجت پوری کرنے سے پہلے نہ رکھے۔“

📖 ابو داؤد، کتاب الصوم: باب في الرجل يسمع النداء والاناء في يده (2350)
📖 حاکم (1/426)
📖 دارقطنی (2162)

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2350/

🖋 مولانا عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

﴿وفيه إباحة الأكل والشرب من الإناء الذى فى يده عند سماع الأذان للفجر، وأن لا يضعه حتى يقضي حاجته﴾

📖 مرعاة المفاتيح (6/469)

”اس حدیث میں فجر کی اذان سنتے وقت اس برتن سے کھانے اور پینے کی اجازت معلوم ہوتی ہے جو اس کے ہاتھ میں ہے، اور یہ کہ وہ اسے اپنی حاجت پوری کرنے سے پہلے نہ رکھے۔“

📚 سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کا شاہد بھی موجود ہے۔

📖 مسند احمد (3/348)

ہیثمی رحمہ اللہ نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

📖 مرعاۃ المفاتیح (2/470)

📌 خلاصہ:

➊ سحری کا آخری وقت صبحِ صادق تک ہے۔
➋ اذانِ فجر کے وقت اگر برتن ہاتھ میں ہو تو اسے رکھنا ضروری نہیں، بلکہ اپنی حاجت پوری کی جا سکتی ہے۔
➌ شریعت نے وقت کی تعیین میں آسانی اور وسعت رکھی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ 🌙

6 📘 روزے کے لیے سحری کھانا لازمی ہے

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿تسحروا ولو بجرعة من ماء﴾

”سحری کھاؤ اگرچہ پانی کے ایک گھونٹ سے ہو۔“

📖 موارد الظمآن (883)

📌 اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سحری کے لیے بیدار ہونا ضروری ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿فصل ما بين صيامنا وصيام أهل الكتاب أكلة السحر﴾

”ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزے میں فرق سحری کا کھانا ہے۔“

📖 مسلم، کتاب الصيام: باب فضل السحور و تأكيد استحبابه (1096)

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1096/

🌿 سحری میں برکت

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿تسحروا فإن فى السحور بركة﴾

”سحری کھاؤ، اس لیے کہ سحری کھانے میں برکت ہے۔“

📖 بخاری، کتاب الصوم: باب بركة السحور من غير ايجاب (1923)
📖 مسلم، کتاب الصيام: باب فضل السحور (1095)

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1923/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1095/

سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

﴿دعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى السحور فى رمضان، فقال: هلم إلى الغداء المبارك﴾

”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک میں سحری کھانے کی دعوت دی اور فرمایا: آؤ بابرکت ناشتہ کی طرف۔“

📖 ابوداؤد، کتاب الصيام: باب من سمى السحور الغداء (2344)
📖 نسائی، کتاب الصيام: باب دعوة السحور (2164)
📖 موارد الظمآن (882)

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2344/

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/2164/

🍃 سب سے بہترین سحری

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿نعم سحور المؤمن التمر﴾

”مؤمن کی بہترین سحری کھجور ہے۔“

📖 ابوداؤد، کتاب الصيام: باب من سمى السحور الغداء (2345)
📖 موارد الظمآن (884)

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2345/

🌙 تاخیر سے سحری کرنا انبیاء کا طریقہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إنا معشر الأنبياء أمرنا أن نعجل إفطارنا ونؤخر سحورنا وأن نضع أيماننا على شمائلنا فى الصلاة﴾

”یقیناً ہم انبیاء کا گروہ ہیں، ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم افطار جلدی کریں، سحری میں تاخیر کریں اور نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھیں۔“

📖 موارد الظمآن (885)
📖 طبرانی کبیر (11/199) (11485)

📌 خلاصہ:

➊ سحری کھانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤکد حکم اور سنت ہے۔
➋ سحری مسلمانوں اور اہلِ کتاب کے روزوں کے درمیان امتیازی شعار ہے۔
➌ سحری میں اللہ تعالیٰ نے برکت رکھی ہے۔
➍ کھجور بہترین سحری ہے۔
➎ سحری میں تاخیر کرنا انبیائے کرام علیہم السلام کا طریقہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 🌙

7 🌙 روزہ توڑ دینے کا کفارہ

جو آدمی کسی بھی وجہ سے عمداً (جان بوجھ کر) روزہ توڑ دے، اس کے لیے درج ذیل کفارہ مقرر ہے:

◈ ایک غلام آزاد کرے۔
◈ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔
◈ اگر یہ بھی نہ کر سکے تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔

📖 بخاری، کتاب الصوم: باب اذا جامع في رمضان (1936)
📖 مسلم، کتاب الصیام: باب تغلیظ تحريم الجماع في نهار رمضان (1111)

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1936/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1111/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🌇 روزہ کب افطار کیا جائے؟

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ﴾
📖 (البقرۃ: 187)

ترجمہ:
”پھر روزہ رات تک پورا کرو۔“

🔗 https://tohed.com/tafsir/2/187/

یعنی رات ہوتے ہی روزہ افطار کر دو، تاخیر نہ کرو۔
رات (لیل) کی ابتدا غروبِ آفتاب سے ہوتی ہے۔

علامہ محمد بن یعقوب فیروز آبادی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:

الليل والليلة من مغرب الشمس إلى طلوع الفجر الصادق أو الشمس
📖 القاموس المحيط (1364)

”رات غروبِ شمس سے لے کر فجرِ صادق کے طلوع ہونے تک یا طلوعِ شمس تک ہے۔“

علامہ ابن منظور الافریقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مبدؤه من غروب الشمس
”رات کی ابتدا غروبِ شمس سے ہے۔“

ائمۂ لغت کی وضاحت سے معلوم ہوا کہ "لیل" کی ابتدا غروبِ آفتاب سے ہوتی ہے، لہٰذا جوں ہی سورج غروب ہو جائے، روزہ افطار کر لیا جائے اور تاخیر نہ کی جائے؛ کیونکہ تاخیر سے افطار کرنا یہود و نصاریٰ کا طریقہ ہے۔

نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:

لا يزال الدين ظاهرا ما عجل الناس الفطر لأن اليهود والنصارى يؤخرون

ترجمہ:
”دین ہمیشہ غالب رہے گا جب تک لوگ افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے، کیونکہ یہود و نصاریٰ افطاری میں تاخیر کرتے ہیں۔“

📖 ابوداؤد، كتاب الصوم: باب ما يستحب من تعجيل الفطر (2353)
📖 ابن ماجه، کتاب الصيام: باب ما جاء في تعجيل الافطار (1298)
📖 ابن خزيمة (2060)
📖 ابن حبان (889)
📖 حاکم (1/431)

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2353/

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1298/

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-khuzaimah/2060/

اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ روزہ دیر سے کھولنا یہود و نصاریٰ کا طریقہ ہے، اور ان کے متبعین کا روزہ موجود دور میں بھی مسلمانوں سے دس یا پندرہ منٹ بعد کھلتا ہے۔ وہ افطاری کے لیے سائرن کا انتظار کرتے رہتے ہیں، جبکہ سائرن بھی غروبِ آفتاب کے بعد تاخیر سے بجایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ عبادت کے لیے سائرن بجانا بھی یہود و نصاریٰ کا طریقہ ہے۔ اہلِ اسلام کے ساتھ اس عمل کا کوئی تعلق نہیں، بلکہ غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی روزہ کھول دینا چاہیے۔

حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر

ترجمہ:
”لوگ ہمیشہ بھلائی میں رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔“

📖 بخاری، کتاب الصوم: باب تعجيل الافطار (1957)
📖 مسلم، کتاب الصيام: باب فضل السحور (1098)

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1957/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1098/

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لا تزال أمتي على سنتي ما لم تنتظر بفطرها النجوم
📖 موارد الظمان (891)

ترجمہ:
”میری امت ہمیشہ میری سنت پر قائم رہے گی، جب تک وہ افطار کے لیے ستاروں کا انتظار نہیں کرے گی۔“

📌 مندرجہ بالا صحیح احادیث سے واضح ہوا کہ افطار کا وقت غروبِ آفتاب ہے، لہٰذا سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کر لینا چاہیے اور بلا وجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

8 🌙 کس چیز سے روزہ افطار کرنا چاہیے؟

سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر فإنه بركة فإن لم يجد فليفطر على ماء فإنه طهور

ترجمہ:
”جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے، کیونکہ اس میں برکت ہے۔ اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے افطار کرے، اس لیے کہ وہ پاک کرنے والا ہے۔“

📖 ترمذی، کتاب الزکاۃ: باب ما جاء فى الصدقة على ذى القرابہ (658)
📖 ابوداؤد، کتاب الصیام: باب ما يفطر عليه (2355)
📖 احمد (4/17-18)
📖 ابن ماجہ (1699)
📖 دارمی (1708)
📖 موارد الظمآن (892)

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/658/

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2355/

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1699/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🍃 نبی اکرم ﷺ کا طریقۂ افطار

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفطر على رطبات قبل أن يصلي فإن لم تكن رطبات فعلى تمرات فإن لم تكن حسا حسوات من ماء

ترجمہ:
”رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے روزہ افطار کرتے تھے۔ اگر تازہ کھجوریں دستیاب نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے افطار کرتے، اور اگر وہ بھی نہ ملتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے تھے۔“

📖 ابوداؤد، کتاب الصیام: باب ما يفطر عليه (2356)
📖 ترمذی، کتاب الصوم: باب ما جاء ما يستحب عليه الافطار (696)
📖 دارقطنی (2/185)
📖 مستدرک حاکم (1/432)

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2356/

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/696/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🤲 روزہ افطار کرنے کی دعا

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب روزہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے:

ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله

ترجمہ:
”پیاس ختم ہو گئی، رگیں تر ہو گئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا۔“

📖 سنن ابی داود، کتاب الصیام (2357)

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2357/

📌 نیز یہ دعا بھی پڑھی جاتی ہے:

اللهم إني لك صمت وعلى رزقك أفطرت

لیکن یہ دعا مرسل روایت میں مروی ہے، اور مرسل روایت محدثین کے نزدیک ضعیف اقسام میں شمار ہوتی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🌾 روزہ افطار کرانے کی فضیلت

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

من فطر صائما أو جهز غازيا فله مثل أجره
📖 موارد الظمآن (891)

ترجمہ:
”جس نے کسی روزہ دار کو افطار کروایا یا کسی غازی کو سامانِ جہاد مہیا کیا، اس کے لیے اسی کے برابر اجر ہے۔“

📌 لہٰذا روزہ دار کو افطار کروانا عظیم اجر و ثواب کا باعث ہے، اور یہ نیکی انسان کے نامۂ اعمال میں بڑا اضافہ کرتی ہے۔

9 📘 روزے کی نیت کیسے کریں؟

نبی کریم ﷺ کی زوجۂ محترمہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

📖 «مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ»

ترجمہ:
جس نے فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کی، اس کا روزہ نہیں ہے۔

📚 ابو داؤد، کتاب الصوم: باب النیة في الصيام (2454)
📚 ترمذی، کتاب الصوم: باب ما جاء لا صيام لمن لم يعزم من الليل (740)
📚 نسائی، کتاب الصيام (2334)
📚 ابن ماجہ، کتاب الصيام (1700)
📚 دارمی (1705)

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2454/

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/2334/

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1700/

📖 نیت کی اہمیت

چونکہ تمام اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے اور نیت کے بغیر کوئی عمل قابلِ قبول نہیں۔
مثلاً: اگر روزے کی نیت نہ کی گئی اور روزے جیسی پابندیاں اپنے اوپر عائد کر لیں تو وہ روزہ نہیں ہوگا بلکہ صرف فاقہ ہوگا۔

یہ بھی یاد رہے کہ نیت کے لیے زبان سے الفاظ ادا کرنا ضروری نہیں کیونکہ نیت دل کا فعل ہے۔

بعض حضرات نے روزے کی نیت کے یہ الفاظ وضع کیے ہیں:

«وَبِصَوْمِ غَدٍ نَوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ»
(میں نے ماہِ رمضان کے کل کے روزے کی نیت کی)

یہ الفاظ کسی حدیث سے ثابت نہیں، اور نیت بھی کل آنے والے دن کی کی جا رہی ہے۔

علامہ ابن منظور رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

أصل الغد وهو اليوم الذى يأتى بعد يومك
📚 لسان العرب (10/26)

یعنی ”غد“ کا اصل معنی وہ دن ہے جو تیرے آج کے دن کے بعد آئے۔

لہٰذا یہ الفاظ معنوی طور پر بھی درست معلوم نہیں ہوتے۔

📌 زبان سے نیت کرنا؟

ہر سال رمضان المبارک سے قبل سحری و افطاری کے اوقات کے تجارتی کیلنڈر شائع ہوتے ہیں، جن پر عموماً روزے کی نیت کے الفاظ بھی درج ہوتے ہیں:
«وَبِصَوْمِ غَدٍ نَوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ»

لیکن یاد رہے:

➊ تمام اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے۔
➋ نیت کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں۔
➌ مگر نیت دل کا ارادہ ہے، زبان کے الفاظ نہیں۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

📖 «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ»
تمام اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔

📚 بخاری، کتاب بدء الوحی
📚 مسلم، کتاب الامارۃ (1907)

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1907/

📘 اعمال اور نیت کا مسئلہ

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اعمال کی دو قسمیں ہیں:

➊ وہ اعمال جو اصل مقصد نہیں بلکہ ذریعہ ہوں، جیسے وضو اور غسل۔
➋ ان میں اگر نیت نہ بھی کی جائے تو درست ہوگا (یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی رائے اور قیاس ہے)۔

لیکن شرعی دلائل میں اس کی کوئی واضح مثال موجود نہیں۔
کیونکہ «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ» کے الفاظ مطلق ہیں اور ہر عمل کو شامل ہیں، چاہے وہ بالواسطہ ہو یا مستقل عبادت۔

احناف کے نزدیک بھی روزے میں نیت ضروری ہے، مگر مروجہ زبانی نیت من گھڑت اور خود ایجاد کردہ ہے۔

فقہ کی معتبر کتب میں بھی یہ بات موجود ہے کہ نیت کا محل دل ہے، زبان نہیں۔

اگر زبان سے الفاظ ادا بھی کر لیے جائیں تو وہ نیت نہیں بلکہ کلام بن جاتا ہے، جس کا جواز کہیں موجود نہیں۔

📖 حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

والشرع خصصه بالإرادة المتوجهة نحو الفعل لابتغاء مرضاة الله وامتثال حكمه
📚 فتح الباری

شریعت نے نیت کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے حکم کی تعمیل کے لیے دل کے ارادے کے ساتھ خاص کیا ہے۔

معلوم ہوا کہ اصل اعتبار دل کی نیت کا ہے۔
اگر زبان سے کچھ اور کہا جائے تو محض الفاظ کا اعتبار نہیں ہوگا۔

اگر کوئی شخص صرف زبان سے نیت کرے مگر دل میں ارادہ نہ ہو تو بالاتفاق یہ ناجائز ہے، کیونکہ نیت قصد و عزم کا نام ہے۔

📖 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ہر گھڑی ہوئی چیز بدعت ہے، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی دوزخ میں لے جانے والی ہے۔

📚 نسائی، کتاب صلاة العيدين (1579)

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1579/

⚠️ اہم نصیحت

نماز اور روزہ دونوں عظیم عبادتیں ہیں۔
اگر ان کو بھی بدعات سے نہ بچایا گیا تو ہماری عبادات اللہ تعالیٰ کے ہاں قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔

✅ لہٰذا روزے سے پہلے زبان سے نیت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
✅ صرف دل میں پختہ ارادہ کر لینا ہی کافی اور قابلِ قبول ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ اور اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

10 📘 روزے کا اجر ضائع کر دینے والے اعمال

یہ وہ اعمال ہیں جن کے ارتکاب سے روزے کا اجر ضائع ہو جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

📖 «مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ»

”جس آدمی نے روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کیا تو اللہ وحدہٗ لاشریک لہ کو اس کا کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی حاجت نہیں۔“

📚 بخاری، کتاب الصوم: باب من لم يدع قول الزور والعمل به في الصوم (1903)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1903/

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

📖 «وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ»

”جب تم میں سے کوئی روزہ دار ہو تو وہ شہوت انگیز گفتگو نہ کرے اور نہ شور و غوغا کرے۔ اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ کہہ دے: میں روزہ دار ہوں۔“

📚 بخاری، کتاب الصوم: باب هل يقول إني صائم إذا شتم (1904)
📚 مسلم، کتاب الصیام: باب فضل الصیام (1151)

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1904/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1151/

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

📖 «كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الظَّمَأُ، وَكَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ»

”کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں اپنے روزے سے پیاس کے سوا کچھ نہیں ملتا، اور کتنے ہی قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں اپنے قیام سے بیداری کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔“

📚 دارمی (2733)
📚 احمد (3732)
📚 حاکم (1/131)
📚 بیہقی (4/270)
📚 شرح السنۃ (6/447)
📚 ابن ماجہ، کتاب الصیام: باب ما جاء في الغیبة (1690)

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1690/

📌 ان احادیث سے حاصل ہونے والے اہم نکات

مذکورہ بالا صحیح احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ روزہ دار کے لیے حالتِ روزہ میں درج ذیل امور سے اجتناب نہایت ضروری ہے:

➊ گالی گلوچ
➋ بدکلامی اور فحش گوئی
➌ تہمت طرازی اور عیب جوئی
➍ دروغ گوئی اور کذب بیانی
➎ جھوٹ کی اشاعت اور جھوٹ پر عمل
➏ غیبت اور دیگر شیطانی امور

اگر کوئی شخص بھوکا پیاسا رہ کر ان امور کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کا روزہ درحقیقت روزہ نہیں بلکہ صرف فاقہ ہے، جس کا اسے کوئی اجر و فائدہ حاصل نہ ہوگا۔

اسی طرح اگر کوئی شب بیداری کرے لیکن اخلاقِ رذیلہ کا پیکر بن جائے اور برے اعمال سے باز نہ آئے تو اسے رات کی بیداری کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔

⚠️ اہم تنبیہ

ہمارے ملکی اخبارات و جرائد کے ایڈیٹر اور ٹی وی مالکان کو بھی غور کرنا چاہیے کہ وہ جھوٹ کی اشاعت اور جرائم کو ہوا دینے سے رمضان المبارک میں بھی باز نہیں آتے، بلکہ اکثر اخبارات اور ٹی وی چینل فاحشہ اور بدکار عورتوں کی تصاویر نمایاں طور پر شائع کرتے ہیں۔

اگر حالتِ روزہ میں ایسے امور سے اجتناب نہ کیا گیا تو روزے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں روزے کی حقیقت سمجھنے، اس کی روح کو محفوظ رکھنے اور ہر ایسے عمل سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے جو ہمارے روزے کا اجر ضائع کر دے۔ آمین۔

11 📘 مُبَاحَاتِ روزہ

یعنی وہ امور جو روزے کی حالت میں سرانجام دینا جائز ہیں اور ان کے کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا:

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➊ مسواک کرنا :

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

❝ لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك عند كل وضوء ❞

ترجمہ:
”اگر میری امت پر مشقت نہ ہوتی تو میں انہیں ہر وضوء کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“

📖 صحیح البخاری / کتاب الجمعہ / حدیث: 887
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/887/

امام بخاری رحمہ اللہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس میں رسول اللہ ﷺ نے روزہ دار کی کوئی تخصیص نہیں فرمائی، لہٰذا روزے کی حالت میں بھی مسواک کرنا جائز ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➋ سحری کھا کر غسلِ جنابت کرنا :

عن عائشة رضي الله عنها:
❝ كان النبى صلى الله عليه وسلم يدركه الفجر فى رمضان من غير حلم فيغتسل ويصوم ❞

ترجمہ:
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ رمضان میں فجر کو اس حال میں پاتے کہ آپ ﷺ جماع کے سبب جنبی ہوتے، پھر آپ ﷺ غسل فرماتے اور روزہ رکھتے تھے۔“

📖 صحیح البخاری / کتاب الصوم / باب اغتسال الصائم / حدیث: 1930
📖 صحیح مسلم / کتاب الصیام / باب صحة صوم من طلع عليه الفجر وهو جنب / حدیث: 1109
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1930/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1109/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➌ بیوی کا بوسہ لینا (اگر اپنے اوپر قابو رکھ سکے) :

❝ إن كان رسول الله ليقبل بعض أزواجه وهو صائم ❞

ترجمہ:
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بعض ازواج کا روزہ دار ہونے کے باوجود بوسہ لیا کرتے تھے۔“

📖 صحیح البخاری / کتاب الصوم / باب القبلة للصائم / حدیث: 1928
📖 صحیح مسلم / کتاب الصیام / باب بيان أن القبلة في الصوم ليست محرمة / حدیث: 1106
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1928/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1106/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➍ بھول کر کھا پی لینا :

عن أبى هريرة رضي الله عنه قال:
❝ إذا نسي فأكل وشرب فليتم صومه فإنما أطعمه الله وسقاه ❞

ترجمہ:
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جب کوئی بھول کر کچھ کھا پی لے تو اسے چاہیے کہ اپنا روزہ پورا کرے، کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایا ہے۔“

📖 صحیح البخاری / کتاب الصوم / باب إذا أكل أو شرب ناسيا / حدیث: 1933
📖 صحیح مسلم / کتاب الصیام / باب أكل الناسي وشربه / حدیث: 1155

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1933/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1155/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➎ سینگی لگوانا (بطورِ علاج جسم سے خون نکلوانا) :

عن ابن عباس رضي الله عنهما:
❝ أن النبى صلى الله عليه وسلم احتجم وهو محرم واحتجم وهو صائم ❞

ترجمہ:
”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے احرام اور روزے کی حالت میں سینگی لگوائی۔“

📖 صحیح البخاری / کتاب الصوم / باب الحجامة والقيء للصائم / حدیث: 1938
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1938/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➏ قے آ جانا :

عن عمر بن الحكم بن ثوبان قال:
سمع أبا هريرة رضي الله عنه يقول:
❝ إذا قاء لا يفطر إنما يخرج ولا يولج ❞

ترجمہ:
”عمر بن حکم بن ثوبان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا: جب کسی کو قے آ جائے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ اس میں چیز باہر نکلتی ہے، اندر داخل نہیں ہوتی۔“

📖 حوالہ: صحیح البخاری / کتاب الصوم / حدیث: Q1938
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/chapter/31/sub/1229/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📿 اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے اور سنت کے مطابق روزہ رکھنے کی توفیق دے۔ آمین۔

12 📕 ممنوعاتِ روزہ

یعنی وہ امور جن سے روزے کی روح مجروح ہوتی ہے اور روزہ دار کو ان سے سختی سے بچنا چاہیے:

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➊ جھوٹ اور برے اعمال :

عن أبى هريرة رضي الله عنه قال:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:

❝ من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة فى أن يدع طعامه وشرابه ❞

ترجمہ:
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی شخص روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پینا چھوڑ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔“

📖 صحیح البخاری / کتاب الصوم / باب من لم يدع قول الزور والعمل به / حدیث: 1903
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1903/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➋ ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا :

عن لقيط بن صبرة رضي الله عنه قال:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:

❝ بالغ فى الاستنشاق إلا أن تكون صائما ❞

ترجمہ:
”سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرو، البتہ روزے کی حالت میں مبالغہ نہ کرو۔“

📖 سنن أبي داود / کتاب الصیام / باب الصائم یصب علیہ الماء من العطش / حدیث: 2366
📖 جامع الترمذی / کتاب الصوم / باب ما جاء في كراهية مبالغة الاستنشاق للصائم / حدیث: 788
📖 سنن النسائی / کتاب الطهارة / باب المبالغة في الاستنشاق / حدیث: 87
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2366/

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/788/

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/87/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➌ شہوت انگیز گفتگو اور شور و غوغا :

عن أبى هريرة رضي الله عنه يقول:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:

❝ وإذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث ولا يصخب فإن سابه أحد أو قاتله فليقل إني امرؤ صائم ❞

ترجمہ:
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو فحش گوئی اور شور و غوغا نہ کرے۔ اگر کوئی شخص اسے گالی دے یا اس سے لڑنا چاہے تو وہ (جواب میں) کہے: میں روزے دار ہوں۔“

📖 صحیح البخاری / کتاب الصوم / باب هل يقول إني صائم إذا شتم / حدیث: 1904
📖 صحیح مسلم / کتاب الصیام / باب حفظ اللسان للصائم / حدیث: 1151
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1904/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1151/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➍ بیوی سے بغل گیر ہونا (جوان کے لیے احتیاط) :

عن أبى هريرة رضي الله عنه:
❝ أن رجلا سأل النبى صلى الله عليه وسلم عن المباشرة للصائم فرخص له وأتاه آخر فسأله فنهاه، فإذا الذى رخص له شيخ وإذا الذى نهاه شاب ❞

ترجمہ:
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے روزے دار کے لیے بغل گیر ہونے کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے اسے اجازت دے دی۔ پھر ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے بھی یہی سوال کیا تو آپ ﷺ نے اسے منع فرما دیا۔ جسے اجازت دی گئی وہ بوڑھا تھا اور جسے منع کیا گیا وہ جوان تھا۔“

📖 سنن أبي داود / کتاب الصیام / باب كراهية ذلك للشاب / حدیث: 2387
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2387/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📿 روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ زبان، آنکھ، کان اور دل کو بھی گناہوں سے بچانے کا نام ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں روزے کی حقیقت کو سمجھنے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

13 📕 مُفسداتِ روزہ وہ امور جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے:

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➊ قصداً قے کرنا :

عن أبى هريرة رضي الله عنه قال:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:

❝ من ذرعه القيء وهو صائم فليس عليه قضاء ومن استقاء عمدا فليقض ❞

ترجمہ:
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص پر قے غالب آ گئی اور اس نے (بلا اختیار) قے کر دی، اس حال میں کہ وہ روزے سے تھا، تو اس پر قضاء نہیں۔ اور جس نے جان بوجھ کر قے کی وہ روزے کی قضاء دے۔“

📖 سنن أبي داود / کتاب الصیام / باب الصائم يستقيء عامداً / حدیث: 2380
📖 جامع الترمذی / کتاب الصوم / باب ما جاء فيمن استقاء عمداً / حدیث: 720
📖 سنن ابن ماجہ / کتاب الصیام / باب ما جاء في الصائم والقيء / حدیث: 1676
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2380/

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/720/

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1676/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➋ جان بوجھ کر کھانا پینا :

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

❝ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ❞

ترجمہ:
”تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے، پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔“

📖 سورۃ البقرہ: 187
🔗 https://tohed.com/tafsir/2/187/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➌ جماع کرنا :

عن عائشة رضي الله عنها:
❝ أن رجلا أتى النبى صلى الله عليه وسلم فقال إنه احترق، قال: ما لك؟ قال: أصبت أهلي في رمضان وأنا صائم... ❞

ترجمہ:
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں تو جل گیا (یعنی ہلاک ہو گیا)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا ہوا؟ اس نے عرض کیا: میں نے رمضان میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا۔ تھوڑی دیر بعد نبی ﷺ کے پاس ایک کھجوروں کا تھیلا لایا گیا جسے ’عرق‘ کہا جاتا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جلنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا: حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے لے لو اور صدقہ کر دو۔“

📖 صحیح البخاری / کتاب الصوم / باب إذا جامع في رمضان / حدیث: 1935
📖 صحیح مسلم / کتاب الصیام / باب تغليظ تحريم الجماع في نهار رمضان / حدیث: 1112
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/6711/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1112/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➍ حیض و نفاس :

سیدنا ابو سعید خدری رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

❝ أليس إذا حاضت لم تصل ولم تصم؟ فذلك نقصان دينها ❞

ترجمہ (مفہوم):
”کیا ایسا نہیں کہ جب عورت کو حیض آتا ہے تو نہ وہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے؟ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔“

📖 صحیح البخاری / کتاب الحیض / باب ترك الحائض الصوم / حدیث: 304
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/304/

لہٰذا حیض اور نفاس کی حالت میں روزہ رکھنا صحیح نہیں، بعد میں اس کی قضاء دی جائے گی۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 روزے کا کفارہ (جماع کی صورت میں) :

سیدنا ابو ہریرہ رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا:
”اے اللہ کے رسول! میں تباہ ہو گیا، میں نے روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا ہے۔“

نبی ﷺ نے فرمایا:

➊ کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے آزاد کر سکو؟
اس نے کہا: نہیں۔

➋ کیا تم پے در پے دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو؟
اس نے کہا: نہیں۔

➌ کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟
اس نے کہا: نہیں۔

پھر نبی ﷺ کے پاس ایک بڑا تھیلا (عرق) لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ”سائل کہاں ہے؟“
اس نے کہا: حاضر ہوں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے لو اور صدقہ کر دو۔“

اس نے عرض کیا: ”کیا میں اپنے سے زیادہ محتاج پر صدقہ کروں؟“
نبی ﷺ اس قدر مسکرائے کہ آپ ﷺ کے سامنے کے دانت نظر آ گئے، پھر فرمایا:
”جاؤ اسے اپنے گھر والوں کو ہی کھلا دو۔“

📖 صحیح البخاری / کتاب الصوم / باب إذا جامع في رمضان ولم يكن له شيء / حدیث: 1936
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1936/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📗 روزے کی رخصت
یعنی ایسے امور جن کی صورت میں روزہ ترک کیا جا سکتا ہے:

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➊ بیماری اور سفر :

❝ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ❞

ترجمہ:
”پس تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔“

📖 سورۃ البقرہ: 184
🔗 https://tohed.com/tafsir/2/184/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➋ حمل اور رضاعت :

سیدنا انس بن مالک رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

❝ إن الله وضع عن المسافر شطر الصلاة، وعن الحامل والمرضع الصوم ❞

ترجمہ:
”بے شک اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز (یعنی قصر) معاف کی ہے اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت سے روزہ (کی رخصت) دی ہے۔“

📖 جامع الترمذی / کتاب الصوم / باب ما جاء في الرخصة في الإفطار للحبلى والمرضع / حدیث: 715
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/715/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➌ شیخِ فانی (انتہائی بوڑھا شخص) :

❝ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ❞

ترجمہ:
”اور جو لوگ (بڑھاپے یا دائمی بیماری کی وجہ سے) روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں۔“

📖 سورۃ البقرہ: 184

سیدنا ابن عباس رضي الله عنهما بیان کرتے ہیں کہ اس آیت سے مراد وہ بوڑھا شخص اور وہ مریض ہے جو شفا یاب ہونے کی امید چھوڑ چکا ہو۔

📖 دارقطنی 2/405
📖 منتقى لابن جارود 281
📖 شرح السنة 2/316-317
🔗 https://tohed.com/hadith/darqutni/2374/

🔗 https://tohed.com/hadith/muntaqa-ibn-al-jarud/381/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📿 اللہ تعالیٰ ہمیں روزے کی صحیح حفاظت کرنے، اس کے آداب کو اپنانے اور اس کی عظمت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

14 🌙📖 رمضان المبارک اور قرآنِ مجید

رمضان المبارک اور قرآنِ مجید کا آپس میں نہایت گہرا ربط و تعلق ہے۔ جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ قرآنِ مجید کا نزول رمضان المبارک ہی میں ہوا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ رمضان المبارک میں قرآنِ مجید کی تلاوت کثرت سے فرمایا کرتے تھے۔

✨ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

وكان جبريل يلقاه كل ليلة فى رمضان حتى ينسلخ يعرض عليه النبى القرآن

“جبریل علیہ السلام رمضان المبارک کی ہر رات، مہینے کے اختتام تک، نبی کریم ﷺ سے ملاقات کرتے تھے اور نبی کریم ﷺ انہیں قرآنِ مجید سناتے تھے۔”

📚 بخاری، کتاب الصوم، باب اجود ما کان النبی ﷺ یکون فی رمضان: 1902
📚 مسلم: 2308
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1902/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2308/

✨ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

كان يعرض على النبى القرآن كل عام مرة فعرض عليه مرتين فى العام الذى قبض فيه

“جبریل علیہ السلام ہر سال ایک مرتبہ نبی ﷺ پر قرآنِ حکیم کا دور کرتے تھے، لیکن جس سال آپ ﷺ کا وصال ہوا، اس سال انہوں نے دو مرتبہ قرآنِ حکیم کا دور کیا۔”

📚 بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب کان جبریل یعرض القرآن علی النبی ﷺ: 4998
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2308/

➤ لہٰذا ہر مسلمان بھائی کو چاہیے کہ رمضان المبارک میں قرآنِ کریم کی تلاوت کثرت سے کرے، اور اس کے معانی و مطالب کو سمجھنے کی کوشش بھی کرے۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآنِ مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

15 🌙🕋 رمضان میں عمرہ کی فضیلت

رمضان المبارک میں عمرہ کی سعادت حاصل کرنا عظیم فضیلت اور بے شمار اجر و ثواب کا باعث ہے۔ احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان میں عمرہ کرنا اجر کے اعتبار سے حج کے برابر ہے۔

✨ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

قال رسول الله لامرأة من الأنصار ما منعك أن تحجى معنا؟ قالت لم يكن لنا إلا ناضحان فحج أبو ولدها وابنها على ناضح وترك لنا ناضحا ننضح عليه قال فإذا جاء رمضان فاعتمرى فإن عمرة فيه تعدل حجة

“نبی ﷺ نے ایک انصاری عورت سے فرمایا: تمہیں ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس چیز نے روکا؟ اس نے عرض کیا: ہمارے پاس پانی لانے کے لیے صرف دو اونٹ تھے۔ میرے بچوں کے والد (میرے شوہر) ایک اونٹ لے کر حج کے لیے چلے گئے اور ایک اونٹ ہمارے لیے چھوڑ گئے جس پر ہم پانی لاد کر لاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جب رمضان المبارک آجائے تو عمرہ کر لینا، کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنا ثواب کے اعتبار سے حج کے برابر ہے۔”

📚 حوالہ: صحیح مسلم / کتاب الحج / حدیث: 1256
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1256/

➤ لہٰذا یہ عظیم موقع ہے کہ مسلمان رمضان المبارک میں عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش کرے، اور اگر اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے تو اس بابرکت مہینے میں بیت اللہ کی حاضری نصیب ہو۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی برکتوں سے بھرپور حصہ عطا فرمائے اور عمرہ و حج کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین۔

16 🌙💎 رمضان المبارک اور خیرات

رمضان المبارک سخاوت، ہمدردی اور خیر خواہی کا مہینہ ہے۔ اس بابرکت مہینے میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اور رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمیں اس حوالے سے بہترین نمونہ فراہم کرتی ہے۔

✨ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

كان النبى أجود الناس بالخير وكان أجود ما يكون فى رمضان حين يلقاه جبريل… فإذا لقيه جبريل كان أجود بالخير من الريح المرسلة

“نبی مکرم ﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے، اور رمضان المبارک میں جب آپ ﷺ سے جبریل علیہ السلام کی ملاقات ہوتی تو آپ ﷺ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔”

📚 بخاری: 1902
📚 مسلم: 2308
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1902/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2308/

➤ لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ رمضان المبارک میں صدقہ و خیرات کثرت سے کریں۔

▪️ مدارسِ اسلامیہ کا تعاون کریں۔
▪️ فقراء و مساکین کا سہارا بنیں۔
▪️ یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کریں۔
▪️ محتاج و تنگ دست افراد کا ہاتھ تھامیں۔
▪️ افلاس زدہ، خستہ حال، کم مایہ اور مفلوک الحال لوگوں کی دل کھول کر مدد کریں۔
▪️ برہنہ پا، قلاش اور بے نوا افراد کی ضروریات پوری کریں۔

تاکہ وہ عزت و وقار کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں اور عید الفطر کی خوشیوں میں بآسانی شریک ہو سکیں۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سچی سخاوت، اخلاص اور دل کھول کر خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

17 🌙📖 رمضان میں قرآنِ کریم کی تلاوت — ایک بہترین سلسلہ

رمضان المبارک قرآنِ مجید کا مہینہ ہے، اور اس بابرکت مہینے میں تلاوتِ قرآن کا خاص اہتمام کرنا نہایت اہم ہے۔

اسی مناسبت سے ہماری ویب سائٹ پر ایک نہایت بہترین اور ایمان افروز سلسلہ موجود ہے، جس میں صحیح احادیث کی روشنی میں مختلف قرآنی سورتوں کے فضائل بیان کیے گئے ہیں۔

یہ سلسلہ ضرور مطالعہ کریں، تاکہ:

▪️ ہر سورت کی فضیلت صحیح دلائل کے ساتھ معلوم ہو۔
▪️ تلاوت کا شوق اور ذوق مزید بڑھ جائے۔
▪️ سنت کے مطابق مخصوص سورتوں کی اہمیت سمجھ میں آئے۔

📲 مزید یہ کہ ان سورتوں کو اپنی موبائل ایپ میں فیورٹ (Favorite) کے طور پر شامل کر لیں، تاکہ روزمرہ معمول میں ان کی تلاوت آسانی سے ممکن ہو سکے اور آپ اس عظیم اجر سے محروم نہ رہیں۔

📚 قرآنی سورتوں کے فضائل

🔗 Link: https://tohed.com/9cb9fc

🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور رمضان المبارک کی برکتوں سے بھرپور حصہ نصیب فرمائے۔ آمین۔

18 📖 حالتِ نماز میں مصحف یا موبائل وغیرہ سے دیکھ کر قرآن پڑھنے کی رخصت کا بیان

جب آدمی حافظِ قرآن نہ ہو تو بوقتِ ضرورت قرآنِ کریم ہاتھ میں پکڑ کر قراءت کر سکتا ہے۔ محدثینِ کرامؒ اس کو جائز سمجھتے تھے۔ اسی طرح اگر سامع حافظ نہ ہو تو وہ بھی ایسا کر سکتا ہے، جیسا کہ درج ذیل آثار سے ثابت ہے:

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➊ سیدہ عائشہؓ کے بارے میں روایت ہے:

کانت عائشۃ یؤمّھا عندھا ذکوان من المصحف۔

“سیدہ عائشہؓ کے غلام ذکوانؓ ان کی امامت قرآنِ مجید سے دیکھ کر کرتے تھے۔”

📚 (صحیح البخاری: ۹۶/۱ تعلیقاً،
مصنف ابن ابی شیبۃ: ۳۳۷/۲،
کتاب المصاحف لابن داوٗد: ۷۹۷،
السنن الکبریٰ للبیہقی: ۲۵۳/۲، وسندہٗ صحیحٌ)

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/692/

🔗 https://tohed.com/hadith/musannaf-ibn-abi-shaybah/7407/

حافظ نوویؒ (خلاصۃ الاحکام: ۵۵۰/۱) نے اس کی سند کو “صحیح” قرار دیا ہے، اور حافظ ابن حجرؒ (تغلیق التعلیق: ۲۹۱/۲) نے بھی اس روایت کو “صحیح” کہا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➋ امام ایوب سختیانیؒ فرماتے ہیں:

کان محمّد لا یری بأسا أن یؤمّ الرجل القوم، یقرأ فی المصحف۔

“امام محمد بن سیرین تابعیؒ اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے کہ آدمی قوم کو امامت کروائے اور قراءت قرآنِ مجید سے دیکھ کر کرے۔”

📚 (مصنف ابن ابی شیبۃ: ۳۳۷/۲، وسندہٗ صحیحٌ)

🔗 https://tohed.com/hadith/musannaf-ibn-abi-shaybah/7406/

🔗 https://tohed.com/hadith/musannaf-ibn-abi-shaybah/7409/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➌ امام شعبہؒ، امام حکم بن عتیبہ تابعیؒ سے روایت کرتے ہیں:

رمضان المبارک میں ایک امام قرآنِ مجید ہاتھ میں پکڑ کر قراءت کرتا تھا، اور آپؒ اس میں رخصت دیتے تھے۔

📚 (مصنف ابن ابی شیبۃ: ۳۳۷/۲، وسندہٗ صحیحٌ)

🔗 https://tohed.com/hadith/musannaf-ibn-abi-shaybah/7410/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➍ امام حسن بصریؒ اور امام محمد بن سیرینؒ فرماتے ہیں:

“نماز میں قرآنِ مجید پکڑ کر قراءت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔”

📚 (مصنف ابن ابی شیبۃ: ۳۳۷/۲، وسندہٗ صحیحٌ)

🔗 https://tohed.com/hadith/musannaf-ibn-abi-shaybah/7411/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➎ امام عطاء بن ابی رباح تابعیؒ فرماتے ہیں:

“حالتِ نماز میں قرآنِ مجید سے دیکھ کر قراءت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔”

📚 (مصنف ابن ابی شیبۃ: ۳۳۷/۲، وسندہٗ صحیحٌ)

🔗 https://tohed.com/hadith/musannaf-ibn-abi-shaybah/7412/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

➏ امام ثابت البنانیؒ بیان کرتے ہیں:

کان أنس یصلّی، وغلامہ یمسک المصحف خلفہ، فإذا تعایا فی آیۃ فتح علیہ۔

“سیدنا انس بن مالکؓ نماز پڑھتے تھے۔ ان کا غلام ان کے پیچھے قرآنِ مجید پکڑ کر کھڑا ہو جاتا تھا۔ جب آپ کسی آیت پر رک جاتے تو وہ لقمہ دے دیتا تھا۔”

📚 (مصنف ابن ابی شیبۃ: ۳۳۷/۲،
السنن الکبریٰ للبیہقی: ۲۱۲/۳، وسندہٗ صحیحٌ)

🔗 https://tohed.com/hadith/musannaf-ibn-abi-shaybah/7414/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📌 معاصر فتویٰ

سعودی عرب کے مفتیٔ اعظم، فقیہ العصر، شیخ عبدالعزیز ابن بازؒ نے بھی فتح الباری (۱۸۵/۲) کی تحقیق میں اسے بوقتِ ضرورت جائز قرار دیا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

❖ مخالفین کی دلیل اور اس کا جواب

جو لوگ کہتے ہیں کہ ہاتھ میں قرآنِ کریم پکڑ کر نماز میں قراءت کرنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں:

سیدنا ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطابؓ نے ہمیں قرآنِ کریم ہاتھ میں پکڑ کر امامت کرانے سے منع فرمایا۔

📚 (کتاب المصاحف: ۷۷۲)

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📌 تبصرہ:

اس روایت کی سند سخت ترین “ضعیف” ہے، کیونکہ:

➊ اس کی سند میں نہشل بن سعید نامی راوی “متروک” اور “کذاب” ہے۔
📚 (تقریب التہذیب: ۷۱۹۷، میزان الاعتدال: ۲۷۵/۴)

➋ اس کے راوی ضحاک بن مزاحم کا سیدنا ابن عباسؓ سے سماع ثابت نہیں۔
📚 (تفسیر ابن کثیر: ۲۳۶/۵،
التلخیص الحبیر لابن حجر: ۲۱/۱،
العجاب فی بیان الاسباب لابن حجر: ص۱۰۴)

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📖 لہٰذا صحیح آثارِ صحابہؓ و تابعینؒ کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ بوقتِ ضرورت نماز میں مصحف یا موبائل وغیرہ سے دیکھ کر قرآن پڑھنا جائز ہے، اور اس کے عدمِ جواز پر پیش کی جانے والی روایت سنداً ثابت نہیں۔

19 🌙 خواتین کا صلاةِ تراویح کے لئے مسجد میں آنا اور اعتکاف کرنا

📖 ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:

صلى ذات ليلة فى المسجد فصلى بصلاته ناس ثم صلى من القابلة فكثر الناس ثم اجتمعوا من الليلة الثالثة أو الرابعة فلم يخرج إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما أصبح قال قد رأيت الذى صنعتم ولم يمنعني من الخروج إليكم إلا أني خشيت أن تفرض عليكم وذلك فى رمضان

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی، صحابہ نے بھی آپ کے ساتھ یہ نماز پڑھی، دوسری رات بھی آپ نے یہ نماز پڑھی تو نمازیوں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ تیسری یا چوتھی رات تو پورا اجتماع ہی ہو گیا تھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس رات نماز پڑھانے تشریف نہیں لائے۔ صبح کے وقت آپ نے فرمایا: تم لوگ جتنی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے تھے میں نے اسے دیکھا، لیکن مجھے باہر آنے سے یہ خیال مانع رہا کہ کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ ہو جائے۔ یہ واقعہ رمضان کا ہے۔“

📚 (صحیح البخاری، کتاب التهجد، باب تحريص النبي صلى الله عليه وسلم على قيام الليل، حدیث: 1129)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1129/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🌸 قیام رمضان میں خواتین کی شرکت

رمضان المبارک میں جس نمازِ تراویح کا ذکر ہوا ہے، اس میں خواتین بھی شرکت کیا کرتی تھیں۔

📖 ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

صمنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يصل بنا حتى بقي سبع من الشهر فقام بنا حتى ذهب ثلث الليل ثم لم يقم بنا فى السادسة وقام بنا فى الخامسة حتى ذهب شطر الليل فقلنا له يا رسول الله لو نفلتنا بقية ليلتنا هذه فقال إنه من قام مع الإمام حتى ينصرف كتب له قيام ليلة ثم لم يصل بنا حتى بقي ثلاث من الشهر وصلى بنا فى الثالثة ودعا أهله ونساءه فقام بنا حتى تخوفنا الفلاح قلت له وما الفلاح قال السحور

”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزہ رکھا۔ آپ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ جب مہینے کی سات راتیں باقی رہ گئیں (چھبیسویں شب) تو آپ ہمیں لے کر قیام میں کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ تہائی رات گزر گئی۔ پھر چھبیسویں کے بعد والی رات قیام نہ کیا (چوبیسویں شب)۔ پھر پچیسویں شب قیام کیا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کاش آپ باقی رات بھی ہمیں نفل پڑھاتے۔ آپ نے فرمایا: جو شخص امام کے ساتھ کھڑا رہے یہاں تک کہ امام فارغ ہو جائے تو اس کے لئے پوری رات قیام کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ پھر آپ نے قیام نہ کیا یہاں تک کہ جب تین راتیں باقی رہ گئیں تو ستائیسویں شب ہمیں نماز پڑھائی، اور اپنے گھر والوں اور عورتوں کو بھی بلایا، اور اتنا طویل قیام کیا کہ ہمیں فلاح کے فوت ہونے کا خوف ہوا۔“

راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: فلاح کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: سحری کا کھانا، یعنی ہمیں اندیشہ ہوا کہ سحری کا وقت نہ نکل جائے۔

📚 (جامع ترمذی: 806)
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/806/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🕌 خواتین کا اعتکاف

📖 ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يعتكف العشر الأواخر من رمضان حتى توفاه الله ثم اعتكف أزواجه من بعده

”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے، پھر آپ کے بعد آپ کی ازواجِ مطہرات بھی اعتکاف کرتی رہیں۔“

📚 (صحیح بخاری، کتاب فضل ليلة القدر، باب الاعتكاف في العشر الأواخر، حدیث: 2026)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2026/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📜 عہدِ فاروقی میں خواتین کی تراویح

امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں سلیمان بن ابی حمہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ رمضان المبارک میں مسجد کے ایک کونے میں عورتوں کو تراویح کی نماز پڑھائیں۔

📚 (المحلی: 3/193)
🔗 https://isla.mw/abrc1e

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📌 خلاصۂ مسئلہ

➊ یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ عورتوں کا مساجد میں نماز کے لئے آنا مشروع ہے۔

➋ سلفِ صالحین کا بھی اس پر عمل رہا ہے، خصوصاً رمضان المبارک میں نمازِ تراویح کے لئے۔

➌ اس سے خواتین کو عبادت، دینی مسائل کی آگاہی اور خیر کے ماحول میں وقت گزارنے کا موقع ملتا ہے اور وہ دنیاوی خرافات سے محفوظ رہتی ہیں۔

➍ تاہم وہ ہر نماز کے لئے مسجد میں آنے کی مکلف نہیں ہیں۔

➎ امہات المؤمنین کے طرزِ عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ خواتین کا اعتکاف بھی مسجد ہی میں ہونا چاہئے، گھر میں اعتکاف درست نہیں۔

🌙 اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

20 🌙 اعتکاف سے متعلق احکام صحیح احادیث کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

✿ «وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ»
”اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو تو بیویوں سے مباشرت نہ کرو۔“
📖 [البقرة: 187]
🔗 https://tohed.com/tafsir/2/187/

اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ اعتکاف صرف مسجد ہی میں کیا جا سکتا ہے۔

اعتکاف کسی بھی مسجد میں کیا جا سکتا ہے، البتہ ایسی مسجد میں اعتکاف کرنا بہتر ہے جہاں جمعہ اور جماعت کے ساتھ نماز قائم ہوتی ہو تاکہ بار بار مسجد سے نکلنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

معتکف کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے آپ کو نفلی عبادتوں میں مشغول رکھے، مثلاً:

◈ نماز
◈ تلاوتِ قرآن
◈ حمد و تسبیح
◈ تکبیر
◈ استغفار
◈ اذکار
◈ درود و سلام
◈ دعائیں

اسی طرح وہ علمی کتابوں کا مطالعہ بھی کر سکتا ہے، مثلاً:

◈ تفسیر
◈ حدیث
◈ فقہ
◈ انبیاء علیہم السلام کی سیرت

اور اعتکاف کے دوران بے مقصد اور بے فائدہ قول و عمل سے اجتناب کرنا چاہیے۔

╭─❀ شبِ قدر کی تلاش میں پورے ماہِ رمضان کا اعتکاف ❀─╮

❀ «عن أبي سلمة، قال: انطلقت إلى أبي سعيد الخدري، فقلت: ألا تخرج بنا إلى النخل نتحدث، فخرج، فقال: قلت: حدثني ما سمعت من النبي صلى الله عليه وسلم في ليلة القدر، قال: اعتكف رسول الله صلى الله عليه وسلم عشر الأول من رمضان واعتكفنا معه، فأتاه جبريل، فقال: إن الذي تطلب أمامك، فاعتكف العشر الأوسط فاعتكفنا معه، فأتاه جبريل، فقال: إن الذي تطلب أمامك، فقام النبي صلى الله عليه وسلم خطيبًا صبيحة عشرين من رمضان، فقال: من كان اعتكف مع النبي صلى الله عليه وسلم فليرجع فإني أريت ليلة القدر وإني نسيتها وإنها في العشر الأواخر في وتر، وإني رأيت كأني أسجد في طين وماء، وكان سقف المسجد جريد النخل وما نرى في السماء شيئًا، فجاءت قزعة فأمطرنا، فصلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم حتى رأيت أثر الطين والماء على جبهة رسول الله صلى الله عليه وسلم وأرنبته تصديق رؤياه.»

حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں ایک روز حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے کہا:
آپ ہمارے ساتھ فلاں نخلستان کی طرف کیوں نہیں چلتے تاکہ ہم کچھ باتیں کریں؟

پس وہ نکلے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا کہ مجھے بیان کیجیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے شبِ قدر کے بارے میں کیا سنا ہے؟

وہ فرمانے لگے کہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف فرمایا، اور ہم لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا۔ اس دوران حضرت جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا:

”جس چیز کی آپ تلاش کر رہے ہیں، وہ آگے ہے۔“

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی عشرے میں بھی اعتکاف فرمایا، اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا۔ پھر حضرت جبریل علیہ السلام دوبارہ آئے اور فرمایا:

”جس چیز کی آپ تلاش ہے، وہ آگے ہے۔“

پھر بیسویں رمضان کی صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے کھڑے ہوئے اور فرمایا:

”جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا ہے، وہ لوٹے (یعنی اعتکاف جاری رکھے)، کیونکہ مجھے شبِ قدر دکھائی گئی تھی، پھر وہ مجھ سے بھلا دی گئی، اور وہ آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے، اور میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں مٹی اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“

اس وقت مسجد کی چھت کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی، اور ہم آسمان میں کوئی بادل نہیں دیکھ رہے تھے۔ اتنے میں بادل کا ایک ٹکڑا آیا اور بارش ہو گئی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، یہاں تک کہ میں نے مٹی اور پانی کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک اور ناک پر دیکھے، جو آپ کے خواب کی تصدیق تھی۔

📖 [صحیح بخاری: 813]
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/813/

╰──────────────────────────╯

🌙 رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف

❀ «عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعتكف العشر الأواخر من رمضان.»

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔

📖 [صحیح بخاری: 2025، صحیح مسلم: 171]
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2025/

❀ «عن عائشة رضي الله عنها، قالت: إن النبي صلى الله عليه وسلم كان يعتكف العشر الأواخر من رمضان حتى توفاه الله، ثم اعتكف أزواجه من بعده.»

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی ازواجِ مطہرات نے بھی اعتکاف کیا۔

📖 [صحیح بخاری: 2026، صحیح مسلم: 1172/5]
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2026/

🌟 زیادہ ثواب کی خاطر بیس دن کا اعتکاف

❀ «عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يعتكف في كل رمضان عشرة أيام، فلما كان العام الذي قبض فيه اعتكف عشرين يومًا.»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں دس دن اعتکاف فرمایا کرتے تھے، لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔

📖 [صحیح بخاری: 2044]
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2044/

🌿 خلاصۂ رہنمائی

➊ اعتکاف صرف مسجد میں ہوتا ہے۔
➋ ایسی مسجد میں اعتکاف افضل ہے جہاں جماعت اور جمعہ کا اہتمام ہو۔
➌ معتکف کو چاہیے کہ عبادت، ذکر، دعا، تلاوت اور علمِ دین میں مشغول رہے۔
➍ اعتکاف کے دوران فضول گفتگو اور بے فائدہ مشاغل سے بچے۔
➎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول آخری عشرے کا اعتکاف تھا۔
➏ بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ اہتمام کے ساتھ بیس دن بھی اعتکاف فرمایا۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سنت کے مطابق اعتکاف کرنے، شبِ قدر کی تلاش کرنے، اور رمضان المبارک کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

21 🌙 رمضان کے اعتکاف کی قضاء

❀ «عن عائشة رضي الله عنها، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر أن يعتكف العشر الأواخر من رمضان، فاستأذنته عائشة فأذن لها، وسألت حفصة عائشة أن تستأذن لها، ففعلت، فلما رأت ذلك زينب ابنة جحش أمرت ببناء فبني لها، قالت: وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى انصرف إلى بنائه فبصر بالأبنية، فقال: ما هذا؟ قالوا: بناء عائشة، وحفصة، وزينب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: آلبر أردن بهذا؟ ما أنا بمعتكف، فرجع، فلما أفطر، اعتكف عشراً من شوال.»

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا ذکر فرمایا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی اعتکاف کی اجازت طلب کی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔

پھر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ ان کے لیے بھی اجازت طلب کریں، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔

جب حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی ایک خیمہ لگانے کا حکم دیا، اور ان کے لیے بھی خیمہ نصب کر دیا گیا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو اپنے خیمے کی طرف تشریف لے گئے، مگر وہاں کئی خیمے دیکھ کر فرمایا:

”یہ کیا ہے؟“

لوگوں نے عرض کیا:
یہ عائشہ، حفصہ اور زینب رضی اللہ عنہن کے خیمے ہیں۔

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”کیا انہوں نے اس کے ذریعے نیکی کا ارادہ کیا ہے؟ میں اعتکاف میں نہیں رہوں گا۔“

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے، اور جب رمضان کے روزے ختم ہوئے تو شوال میں دس دن اعتکاف فرمایا۔

📖 [صحیح بخاری: 2045، صحیح مسلم: 1172/6]
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2045/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1172/

✿ نوٹ:
اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اگر کوئی شخص نفلی اعتکاف میں ہو اور پھر اسے ترک کر دے تو اس پر قضا واجب ہے۔

بلکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب آپ کوئی عمل شروع فرما دیتے تو اسے مکمل بھی فرماتے تھے۔

البتہ قضا کرنا مستحب ضرور ہے۔

ہاں! اگر کسی شخص نے اعتکاف کی نذر مانی ہو، یا اسے اپنے اوپر واجب کر لیا ہو، پھر اسے مکمل نہ کرے، تو اس پر قضا واجب ہو گی۔

──────────────────

🌙 اعتکاف کی قضاء اگلے سال کے اعتکاف کے ساتھ ملا کر

❀ «عن أُبي بن كعب رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يعتكف العشر الأواخر من رمضان، فلم يعتكف عاماً، فلما كان في العام المقبل اعتكف عشرين ليلة. وفي رواية ابن ماجه زيادة: فسافر عاماً. (أي: فسافر عاماً فلم يعتكف.)»

حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دن اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔

ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف نہ کر سکے، تو اگلے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔

📖 [سنن ابوداود: 2463، سنن ابن ماجہ: 1770، صحیح]
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2463/

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1770/

اور امام ترمذی نے اسے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
📖 [سنن ترمذی: 803، صحیح]
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/803/

✿ وضاحت:
امام ابن ماجہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تشریف لے گئے تھے، یعنی سفر کی وجہ سے اعتکاف نہ کر سکے۔

──────────────────

🌙 اعتکاف میں داخل ہونے کا وقت

❀ «عن عائشة رضي الله عنها، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، إذا أراد أن يعتكف صلى الفجر، ثم دخل معتكفه.»

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو نمازِ فجر پڑھ کر اپنی اعتکاف کی جگہ میں داخل ہوتے تھے۔

📖 [صحیح بخاری: 2041، صحیح مسلم: 1172/2]
الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2041/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1172/

✿ نوٹ:
جمہور اہلِ علم کے نزدیک جو شخص رمضان کے آخری دس دن کے اعتکاف کا ارادہ رکھتا ہو، اسے 20 رمضان کو سورج غروب ہونے سے پہلے اعتکاف میں داخل ہو جانا چاہیے۔

اور یہاں مذکور حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ مسجد میں اعتکاف کے لیے جو خاص جگہ مخصوص ہوتی تھی، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر پڑھ کر تشریف لے جاتے تھے، جبکہ مسجد میں اعتکاف کے لیے رات کے آغاز ہی میں آ جاتے تھے۔

اسی طرح جس شخص نے رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف کیا ہو، تو مہینہ ختم ہونے کے بعد سورج غروب ہونے پر وہ اعتکاف سے نکلے گا۔

بعض اہلِ علم کے نزدیک مستحب یہ ہے کہ وہ آخری دن سورج غروب ہونے کے بعد بھی مسجد میں ٹھہرا رہے، اور عید کی نماز کے لیے وہیں سے جائے۔

لیکن اگر وہ سورج غروب ہونے کے بعد ہی اعتکاف سے نکل آئے تو بھی یہ کافی ہے۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں اعتکاف کے مسائل کو صحیح سمجھنے، سنت کے مطابق عمل کرنے، اور رمضان المبارک کی بابرکت گھڑیوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

22 📘 اعتکاف کے لیے مسجد میں جگہ مخصوص کرنا

«عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يعتكف العشر الأواخر من رمضان، قال نافع رحمه الله: وقد أراني عبد الله رضي الله عنه: المكان الذى كان يعتكف فيه رسول الله ﷺ من المسجد.»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دن اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے وہ جگہ بھی دکھائی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔
📖 [صحیح مسلم: 1171/2]

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1171/

❀ «عن عبيد الله بن عمر رضي الله عنهما، عن النبى صلى الله عليه وسلم: أنه كان إذا اعتكف طرح له فراشه، أو وضع له سريره وراء أسطوانة التوبة.»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کرتے تو توبہ کے ستون کے پیچھے آپ کا بستر بچھا دیا جاتا، یا آپ کے لیے چارپائی رکھ دی جاتی۔
📖 [صحیح ابن خزیمہ: 2236، قال شیخ عبید اللہ طاہر فلاحی مدنی اسناده حسن]

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-khuzaimah/2236/

📝 نوٹ:
اسے توبہ کا ستون اس لیے کہا جاتا ہے کہ ایک صحابی حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ نے ایک گناہ سرزد ہونے کے بعد اپنے آپ کو اس ستون سے باندھ لیا تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔

❀ «عن أبى سعيد الخدري رضي الله عنه، قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتكف العشر الأول من رمضان، ثم اعتكف العشر الأوسط، فى قبة تركية على سدتها حصير.»

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف فرمایا، پھر درمیانی عشرے میں بھی اعتکاف فرمایا، ایک ترکی خیمے میں جس کے دروازے پر چٹائی کا ایک ٹکڑا لٹکایا گیا تھا۔
📖 [صحیح مسلم: 1167/215]

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1167/

✦ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف کے لیے مسجد میں ایک مخصوص جگہ اختیار کرنا جائز ہے، اور معتکف کے لیے بستر، چارپائی یا پردے وغیرہ کا انتظام بھی کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس میں سادگی، ضرورت اور مسجد کے آداب کا لحاظ رکھا جائے۔

23 📘 خواتین کے اعتکاف کی جگہ

«عن عائشة رضي الله عنها قالت: إن النبى صلى الله عليه وسلم كان يعتكف العشر الأواخر من رمضان حتى توفاه الله، ثم اعتكف أزواجه من بعده.»

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی ازواجِ مطہرات نے بھی اعتکاف کیا۔
📖 [صحیح بخاری: 2026، صحیح مسلم: 1172/5]

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2026/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1172/

«عن عائشة رضي الله عنها، قالت: إن كنت لأدخل البيت للحاجة، والمريض فيه، فما أسأل عنه إلا وأنا مارة.»

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ضرورت کے تحت گھر میں داخل ہوتی، اور اگر گھر میں کوئی مریض ہوتا تو میں صرف گزرتے گزرتے اس کا حال پوچھ لیتی۔
📖 [صحیح مسلم: 297/7]

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/297/

📝 نوٹ:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مسجد میں اعتکاف کرتی تھیں، کیونکہ اگر اعتکاف گھر میں ہوتا تو پھر گھر میں داخل ہونے کو الگ طور پر بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی۔

✦ اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ خواتین کا اعتکاف بھی مسجد ہی میں ہوتا ہے، اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسجد میں اعتکاف فرمایا۔

24 📘 خواتین کے اعتکاف کے لیے خاوند کی اجازت

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ يَوْمًا مِنْ غَيْرِ رَمَضَانَ إِلَّا بِإِذْنِهِ»

ترجمہ:
کوئی عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر، رمضان کے علاوہ، نفلی روزہ نہ رکھے۔
📖 ابن ماجہ: 1761

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1761/

اسی طرح صحیح بخاری میں ہے:

عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ اس کا شوہر موجود ہو اور وہ اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھے۔
📖 بخاری، مسلم

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5192/

❖ لہٰذا عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اعتکاف بیٹھے۔
📖 المغنی 485/4، محدث ماہنامہ اکتوبر 2004ء

جس طرح عورت کے لیے نفل نماز اور نفل روزے میں اپنے خاوند کی اجازت حاصل کرنا ضروری ہے، اسی طرح اعتکاف کے لیے بھی خاوند کی اجازت لینا ضروری ہے۔

➊ اگر خاوند اجازت نہ دے تو عورت کا اعتکاف کرنا درست نہیں۔

➋ جو عورت خاوند کی ناگواری کے باوجود اعتکاف کر لیتی ہے، وہ خاوند کی نافرمانی کا گناہ مول لیتی ہے۔

➌ عورت کا اپنے خاوند کو ناراض کر کے کوئی بھی نفلی عبادت ادا کرنا درست نہیں۔

➍ نفلی عبادت میں خاوند کی اجازت کی شرط اس لیے رکھی گئی ہے کہ ممکن ہے مرد کو عورت سے کوئی خدمت لینا ہو یا اپنی حاجت پوری کرنا ہو، اور جب عورت حالتِ عبادت میں ہو تو مرد ایسا نہیں کر سکتا۔

📘 عورت کا مسجد جانے کے لیے اجازت لینا

عورت اگر فرض نماز کے لیے بھی مسجد میں جانا چاہے تو اس کے لیے اپنے خاوند سے اجازت لینا ضروری ہے۔ چنانچہ فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

«لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ»

ترجمہ:
اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں جانے سے نہ روکو۔
📖 صحیح مسلم: 442

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/442/

اور ایک روایت میں ہے:

جب تم میں سے کسی کی بیوی (مسجد میں جانے کی) اجازت مانگے تو اسے اجازت دے دیا کرو۔
📖 بخاری: 873

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/873/

❖ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ عورت گھر سے باہر نماز کے لیے نکلے، اعتکاف کے لیے جائے، یا کسی اور کام سے باہر جائے، وہ اپنے خاوند سے اجازت لینے کی پابند ہے۔

❖ ساتھ ہی خاوند کو یہ تاکید بھی کی گئی ہے کہ وہ عورت کو مسجد میں جانے سے نہ روکے۔

📘 گھر سے باہر نکلنے اور مسجد جانے کی شرائط

یاد رہے کہ عورت کے لیے گھر سے باہر نکلنے یا مسجد میں جانے کے وقت چند شرائط کا پورا کرنا ضروری ہے:

◉ عورت بغیر خوشبو کے جائے گی۔

◉ سادہ اور معمولی کپڑے پہن کر نکلے گی۔

◉ بجنے والا زیور، آواز پیدا کرنے والا جوتا، اور کھڑکھڑاہٹ پیدا کرنے والے کپڑے پہن کر نہیں نکلے گی۔

◉ بناؤ سنگھار کر کے گھر سے باہر نہیں نکلے گی۔

◉ اپنے پورے جسم کو چہرے سمیت ایک بڑی چادر (جلباب) سے ڈھانپ لے گی، تاکہ اس کے جسم، کپڑوں، زیور اور مہندی وغیرہ کی زینت ظاہر نہ ہو۔

❖ چنانچہ عورت جب اعتکاف کے لیے بھی گھر سے نکل کر مسجد میں جائے، تو اسے مندرجہ بالا تمام امور کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

25 📘 اعتکاف میں جائز امور

◈ اعتکاف کی جگہ چارپائی اور بستر رکھا جا سکتا ہے۔
📖 ابن ماجہ: 1774

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1774/

◈ شوہر کی زیارت کے لیے بیوی مسجد میں آ سکتی ہے، نیز کوئی عزیز بھی ملنے آ سکتا ہے۔
📖 بخاری: 2038

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2038/

◈ استحاضہ کی بیماری میں مبتلا خواتین کے لیے اعتکاف بیٹھنا درست ہے۔
📖 بخاری: 2037

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2037/

◈ اعتکاف کے لیے مسجد میں خیمہ لگانا درست ہے۔
📖 بخاری: 2033

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2033/

📕 دورانِ اعتکاف ممنوع افعال

◈ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب

◈ ہم بستری

◈ بغیر ضرورت مسجد سے باہر نکلنا

◈ مریض کی عیادت اور جنازے میں شرکت، البتہ اگر مسجد ہی میں جنازہ یا عیادت کا موقع بن جائے تو ایسا کیا جا سکتا ہے۔

◈ عورت کا ناپاکی کی حالت میں اعتکاف کرنا

◈ عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر اعتکاف کرنا

📙 اعتکاف باطل کر دینے والے افعال

◈ مباشرت

◈ ارتداد

◈ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب

◈ بغیر ضرورت مسجد سے باہر جانا

26 📘 کیا اعتکاف کے لیے روزہ شرط ہے؟

❀ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

«عن عائشة رضي الله عنها أن النبى صلى الله عليه وسلم ترك الإعتكاف فى شهر رمضان، حتى اعتكف فى العشر الأولي من شوال.»

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں اعتکاف چھوڑ دیا، پھر شوال کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا۔

📖 [صحيح بخاري: 2033، صحيح مسلم: 1172/6]
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2033/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1172/

✦ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔

✦ نوٹ:
اس روایت میں اعتکاف کے ساتھ روزہ رکھنے کا ذکر نہیں ہے۔ اگر روزہ اعتکاف کے لیے لازمی شرط ہوتا، تو اس کا ذکر بھی واضح طور پر لوگوں کے درمیان معروف اور منقول ہوتا۔

❀ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

«عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، أن عمر سأل النبى صلى الله عليه وسلم، قال: كنت نذرت فى الجاهلية أن أعتكف ليلة فى المسجد الحرام، قال: فاؤف بنذرك.»

❀ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے:

«أوف نذرك، فاعتكف ليلة.»

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:
میں نے زمانۂ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجدِ حرام میں ایک رات اعتکاف کروں گا۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کرو۔“

📖 [صحيح بخاري: 2032، صحيح مسلم: 1656]
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2032/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1635/

✦ امام بخاری رحمہ اللہ کے ہاں ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:
”اپنی نذر پوری کرو، اور ایک رات اعتکاف کرو۔“

📖 [صحيح بخاري: 2042]
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2042/

✦ نوٹ:
اس روایت میں رات کے اعتکاف کا ذکر ہے، جبکہ رات میں روزہ نہیں رکھا جاتا۔
اس سے واضح ہوا کہ اعتکاف کے لیے روزہ شرط نہیں ہے۔

✦ رہی وہ روایتیں جن میں اعتکاف کے ساتھ روزے کا ذکر آتا ہے، تو وہ ضعیف ہیں۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:

📚 الجامع الكامل فى الحديث الصحيح الشامل
[4/865 - 867]

✦ خلاصہ:
اس تمام تفصیل سے معلوم ہوا کہ اعتکاف کے ساتھ روزہ رکھنا شرط نہیں ہے، کیونکہ اعتکاف اور روزہ دو الگ الگ عبادتیں ہیں۔

27 📘 معتکف کا ضروریات کے تحت مسجد سے نکلنا

❀ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

«عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان النبى صلى الله عليه وسلم، إذا اعتكف، يدني إلى رأسه فأرجله، وكان لا يدخل البيت إلا لحاجة الإنسان.»

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو اپنا سر میرے قریب کر دیتے، اور میں آپ کے بالوں میں کنگھی کر دیتی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں صرف انسانی ضرورت کے لیے داخل ہوتے تھے۔

📖 [صحيح مسلم: 297/6]
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/297/

❀ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے ایک اور روایت ہے:

«عن عائشة رضي الله عنها، قالت: إن كنت لأدخل البيت للحاجة، والمريض فيه، فما أسأل عنه إلا وأنا مارة، وإن كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليدخل على رأسه وهو فى المسجد فأرجله، وكان لا يدخل البيت إلا لحاجة، إذا كان معتكفا.»

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ضرورت کے تحت گھر میں داخل ہوتی، اور اگر گھر میں کوئی مریض ہوتا تو میں بس گزرتے ہوئے اس کا حال چال پوچھ لیتی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو مسجد ہی سے اپنا سر میرے قریب کر دیتے اور میں آپ کے بالوں میں کنگھی کر دیتی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں گھر میں صرف ضرورت کے لیے داخل ہوتے تھے۔

📖 [صحيح بخاري: 2029، صحيح مسلم: 297/7]
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2029/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/297/

✦ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
✦ پہلا ٹکڑا صحیح بخاری میں نہیں ہے۔

✦ نوٹ:
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ معتکف صرف اپنی ضروریات کے لیے ہی مسجد سے نکل سکتا ہے۔

✦ رہی وہ حدیث جس میں معتکف کے لیے جنازے میں شرکت اور مریض کی عیادت کے لیے نکلنے کی اجازت مذکور ہے، تو وہ موضوع ہے، اس پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔
یہ روایت ابن ماجہ (1777) میں آئی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━

📘 معتکف کی زیارت کرنا

❀ علی بن حسین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

«عن على بن الحسين رضي الله عنه: أن صفية رضي الله عنها زوج النبى صلى الله عليه وسلم أخبرته، أنها جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوره فى اعتكافه فى المسجد فى العشر الأواخر من رمضان، فتحدثت عنده ساعة، ثم قامت تنقلب، فقام النبى صلى الله عليه وسلم معها يقلبها، حتى إذا بلغت باب المسجد، عند باب أم سلمة مر رجلان من الأنصار، فسلما على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لهما النبى صلى الله عليه وسلم: على رسلكما، إنما هي صفية بنت حيي، فقالا: سبحان الله يا رسول الله، وكبر عليهما، فقال النبى صلى الله عليه وسلم: إن الشيطان يبلغ من الإنسان مبلغ الدم، وإني خشيت أن يقذف فى قلوبكما شيئا.»

علی بن حسین فرماتے ہیں کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ تھیں، انہوں نے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے آئیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں مسجد میں اعتکاف میں تھے۔
وہ کچھ دیر آپ کے پاس بیٹھ کر گفتگو کرتی رہیں، پھر جب واپس جانے کے لیے کھڑی ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہوئے تاکہ انہیں چھوڑ آئیں۔ یہاں تک کہ جب وہ مسجد کے دروازے کے پاس، ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے قریب پہنچیں، تو دو انصاری صحابہ وہاں سے گزرے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔

اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ٹھہرو! یہ صفیہ بنت حیی ہیں۔“

وہ دونوں کہنے لگے:
”سبحان اللہ، یا رسول اللہ!“
یعنی ان کے دل میں یہ بات بہت گراں گزری کہ آپ کے بارے میں کوئی بدگمانی کی جا سکتی ہے۔

تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہے، اور مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کوئی بدگمانی نہ ڈال دے۔“

📖 [صحيح بخاري: 2035، صحيح مسلم: 2175/21]
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2035/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2175/

✦ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ معتکف کی زیارت کی جا سکتی ہے، اور اس سے مختصر گفتگو بھی درست ہے۔
✦ نیز ضرورت کے تحت معتکف اگر کسی کو رخصت کرنے کے لیے ساتھ چل پڑے تو یہ بھی جائز ہے، جب تک وہ اعتکاف کے منافی کسی کام میں مبتلا نہ ہو۔

28 📘 معتکف کا اپنی صفائی اور آرائش کا خیال رکھنا

❀ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

«عن عائشة رضي الله عنها، قالت: كان النبى صلى الله عليه وسلم يُدني إلىَّ رأسه وهو مجاور فى المسجد، فأرجله وأنا حائض.»

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اعتکاف کی حالت میں ہوتے، اور میری طرف اپنا سر مبارک بڑھا دیتے، تو میں آپ کے بالوں میں کنگھی کر دیتی، حالانکہ میں اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی۔

📖 [صحيح بخاري: 2028، صحيح مسلم: 297/8]
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2028/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/297/

❀ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے ایک اور روایت ہے:

«عن عائشة رضي الله عنها، قالت: وكان صلى الله عليه وسلم يخرج رأسه من المسجد وهو معتكف، فأغسله وأنا حائض.»

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اعتکاف کی حالت میں ہوتے، اور مسجد سے اپنا سر مبارک باہر نکالتے، تو میں اسے دھو دیتی، حالانکہ میں اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی۔

📖 [صحيح بخاري: 2031، صحيح مسلم: 297/10]
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2031/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/297/

✦ نوٹ:
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ معتکف کے لیے اپنی صفائی، ستھرائی اور جائز آرائش کا خیال رکھنا درست ہے، مثلاً بالوں میں کنگھی کرنا اور سر دھونا وغیرہ۔
✦ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ حائضہ عورت کا معتکف کی خدمت کرنا، مثلاً بال سنوار دینا یا سر دھو دینا، جائز ہے، بشرطیکہ وہ خود مسجد میں داخل نہ ہو۔

━━━━━━━━━━━━━━━

📘 اعتکاف میں بلند آواز سے تلاوت کی کراہت

❀ بیاضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

«عن البياضي رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج على الناس وهم يصلون، وقد علت أصواتهم بالقراءة، فقال: إن المصلي يناجي ربه، فلينظر بما يناجيه به، ولا يجهر بعضكم على بعض بالقرآن.»

بیاضی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور قراءت میں ان کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”نمازی اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، لہٰذا اسے غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز کے ساتھ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہے، اور تم میں سے کوئی قرآن پڑھنے میں دوسرے پر آواز بلند نہ کرے۔“

📖 [موطا امام مالك، كتاب الصلاة: 31]
🔗 https://tohed.com/hadith/muwatta-malik-qasim/142/

✦ نوٹ:
بعض روایات میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ یہ واقعہ رمضان میں اعتکاف کے دوران پیش آیا تھا، جیسے:

«أن رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتكف العشر من رمضان، وقال: إن أحدكم إذا كان فى الصلاة، فإنما يناجي ربه، فلا ترفعوا أصواتكم بالقرآن.»

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے دس دن اعتکاف کیا اور فرمایا:

”جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، لہٰذا قرآن پڑھتے ہوئے اپنی آوازیں بلند نہ کرو۔“

📖 [السنن الكبرى للنسائي: 3349، صحيح]
🔗 https://tohed.com/hadith/silsilah-sahihah/519/

❀ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

«عن أبي سعيد، قال: اعتكف رسول الله صلى الله عليه وسلم فى المسجد فسمعهم يجهرون بالقراءة، فكشف الستر، وقال: ألا إن كلكم مناج ربه، فلا يؤذين بعضكم بعضا، ولا يرفع بعضكم على بعض فى القراءة، أو قال: فى الصلاة.»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف کیا۔ پھر آپ نے سنا کہ لوگ بلند آواز سے قراءت کر رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا اور فرمایا:

”خبردار! تم میں سے ہر ایک اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہے، لہٰذا ایک دوسرے کو تکلیف نہ دو، اور قراءت میں ایک دوسرے پر آواز بلند نہ کرو۔“
یا فرمایا:
”نماز میں ایک دوسرے پر آواز بلند نہ کرو۔“

📖 [سنن أبي داود: 1332، صحيح]
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1332/

❀ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

«عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، أن النبى صلى الله عليه وسلم اعتكف وخطب الناس فقال: أما إن أحدكم إذا قام فى الصلاة، فإنه يناجي ربه، فليعلم أحدكم ما يناجي ربه، ولا يجهر بعضكم على بعض بالقراءة فى الصلاة.»

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کیا اور لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

”خبردار! جب تم میں سے کوئی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، لہٰذا ہر ایک کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنے رب سے کیا سرگوشی کر رہا ہے، اور نماز میں تم میں سے کوئی ایک دوسرے پر قراءت بلند نہ کرے۔“

📖 [مسند أحمد: 4928، صحيح]
🔗 https://tohed.com/hadith/musnad-ahmad/4928/

✦ خلاصہ:
ان روایات سے معلوم ہوا کہ اعتکاف کے دوران، بلکہ عمومی طور پر مسجد اور نماز کی حالت میں بھی، اتنی بلند آواز سے تلاوت کرنا درست نہیں کہ دوسروں کی نماز، تلاوت یا ذکر میں خلل پڑے۔
✦ لہٰذا معتکف کو چاہیے کہ اپنی عبادت میں خشوع اختیار کرے اور دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے بچے۔

29 🌙 لیلۃ القدر اور اس کی فضیلت — قرآن کی روشنی میں

لیلۃ القدر کا معنی عزت و شرف والی رات ہے۔ چونکہ اس مبارک رات میں قرآنِ مجید نازل ہوا، اس لیے اس رات کو شرافت، بزرگی، عظمت اور ایک خاص مرتبہ حاصل ہے۔

قرآنِ مجید میں اس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے پوری ایک سورت نازل فرمائی ہے، جسے سورۃ القدر کہا جاتا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ۝١ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ۝٢ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ۝٣ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ۝٤ سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۝٥﴾

ترجمہ:
”یقیناً ہم نے اس قرآن کو قدر والی رات میں نازل کیا۔ اور آپ کیا جانیں کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح الامین اپنے رب کے حکم سے ہر کام کو سرانجام دینے کے لیے اترتے ہیں۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے، اور فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔“

📖 سورۃ القدر: 1 تا 5
🔗 https://tohed.com/tafsir/97/1/

اسی طرح دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿حم ۝١ وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ۝٢ إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ۝٣ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ ۝٤ أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا ۚ إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ ۝٥﴾

ترجمہ:
”یقیناً ہم نے اس قرآن کو ایک برکت والی رات میں نازل کیا۔ بے شک ہم ڈرانے والے ہیں۔ اس رات میں ہر مضبوط اور حکمت والا معاملہ طے کر دیا جاتا ہے۔ یہ معاملہ ہماری جانب سے ہے، اور ہم ہی بھیجنے والے ہیں۔“

📖 سورۃ الدخان: 3 تا 5
🔗 https://tohed.com/tafsir/44/3/

بعض لوگوں نے اس آیتِ کریمہ سے مراد 15 شعبان کی رات لی ہے، جسے عرفِ عام میں شبِ براءت بھی کہا جاتا ہے، لیکن یہ تفسیر درست نہیں۔
اس لیے کہ قرآن کی نصِ صریح سے ثابت ہے کہ قرآن شبِ قدر میں نازل ہوا، اور سورۃ الدخان میں اسی رات کو لیلۃ مبارکہ کہا گیا ہے۔

اور یہ رات رمضان المبارک ہی میں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ﴾

ترجمہ:
”ماہِ رمضان وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔“

📖 سورۃ البقرہ: 185
🔗 https://tohed.com/tafsir/2/185/

ان آیاتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ:

◉ قرآنِ مجید کا نزول ماہِ رمضان میں ہوا۔
◉ اور دوسری آیات سے معلوم ہوا کہ وہ رمضان کی اسی رات میں نازل ہوا جسے شبِ قدر کہا جاتا ہے۔
◉ یہ رات نہایت عظمت اور برکت والی رات ہے۔

🌟 لیلۃ القدر کے چار بڑے فضائل:

➊ اس رات میں قرآن جیسی عظیم کتابِ ہدایت نازل ہوئی۔

➋ اس میں فرشتوں اور روح الامین، یعنی جبرئیل علیہ السلام کا نزول ہوتا ہے۔

➌ اس رات میں پورے سال میں ہونے والے معاملات اور واقعات کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔

➍ اس رات کی عبادت ہزار مہینوں (83 سال 4 ماہ) کی عبادت سے بہتر قرار دی گئی ہے۔

🤍 اللہ تعالیٰ ہمیں لیلۃ القدر کی قدر کرنے، اس میں خوب عبادت کرنے، اور اس کی برکتوں سے بھرپور حصہ پانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

30 🌙 لیلۃ القدر اور اس کی فضیلت — حدیث کی روشنی میں

لیلۃ القدر کی فضیلت احادیثِ نبویہ سے بھی نہایت واضح طور پر ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مبارک رات کے قیام، دعا، تلاش، محنت و کوشش اور اس کی علامات کے بارے میں امت کی رہنمائی فرمائی ہے۔

❖ شبِ قدر کا قیام

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

ترجمہ:
”جس نے شبِ قدر کا قیام ایمان اور ثواب کی نیت سے کیا، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے گئے۔“

📖 بخاری: کتاب فضل لیلۃ القدر، باب فضل لیلۃ القدر (2014)
📖 مسلم: کتاب صلاۃ المسافرین، باب الترغیب فی قیام رمضان (760)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2014/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/760/

❖ شبِ قدر کے لیے محنت و کوشش

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

كَانَ رَسُولُ اللهِ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ

ترجمہ:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرے میں عبادت کے لیے جس قدر محنت و کوشش کرتے، اتنی کسی اور وقت میں نہیں کرتے تھے۔“

📖 مسلم: کتاب الاعتکاف، باب الاجتہاد فی العشر الأواخر من شہر رمضان (1175)
📖 مشکوٰۃ: (2089)
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1175/

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے:

كَانَ النَّبِيُّ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ وَأَحْيَا لَيْلَهُ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ

ترجمہ:
”جب آخری عشرہ داخل ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمر بستہ ہو جاتے، اپنی رات کو زندہ رکھتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے۔“

📖 بخاری: کتاب فضل لیلۃ القدر، باب العمل في العشر الأواخر (2024)
📖 مسلم: (1174)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2024/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1174/

❖ شبِ قدر کی دعا

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيَّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ، مَا أَقُولُ فِيهَا؟ قَالَ: قُولِي: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي

ترجمہ:
میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ لیلۃ القدر کون سی رات ہے تو میں اس میں کیا کہوں؟
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”یہ دعا پڑھو: اللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي“
”اے میرے اللہ! بے شک تو بہت معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔“

📖 مشکوٰۃ: (2091)
📖 ترمذی: کتاب الدعوات، باب (84) (2513)
📖 ابن ماجہ: (3850)

حکمِ حدیث:
◉ شیخ البانی: صحیح
◉ شیخ زبیر علی زئی: ضعیف

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/3850/

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/3513/

❖ لیلۃ القدر کی تلاش

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ

ترجمہ:
”شبِ قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔“

📖 بخاری: کتاب فضل لیلۃ القدر (2017)
📖 مسلم: (1169)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2017/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1169/

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شبِ قدر رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہوتی ہے، لیکن ان میں سے کوئی ایک رات قطعی طور پر متعین نہیں۔

◉ بعض دفعہ یہ اکیسویں رات کو بھی پائی گئی ہے۔
📖 مسلم: (1167)
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1167/

◉ اور بعض دفعہ یہ ستائیسویں رات کو بھی پائی گئی ہے۔
📖 مسلم: (762)
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/762/

❖ لیلۃ القدر کی علامات

لیلۃ القدر کی پہچان کے لیے چند صحیح علامات بھی احادیث میں بیان ہوئی ہیں۔

سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

صَبِيحَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ تَطْلُعُ الشَّمْسُ لَا شُعَاعَ لَهَا كَأَنَّهَا طَسْتٌ حَتَّى تَرْتَفِعَ

ترجمہ:
”شبِ قدر کی صبح سورج اس حال میں طلوع ہوتا ہے کہ اس کی شعاع نہیں ہوتی، گویا وہ ایک تھال ہے، یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے۔“

📖 مسلم: کتاب صلاۃ المسافرین (762)
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/762/

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب لیلۃ القدر کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَيُّكُمْ يَذْكُرُ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ وَهُوَ مِثْلُ شِقِّ جَفْنَةٍ

ترجمہ:
”تم میں سے کون اسے یاد رکھتا ہے، جب چاند نکلا تھا اور وہ ایسے تھا جیسے بڑے تھال کا کنارہ ہو۔“

📖 مسلم: کتاب الصیام، باب فضل لیلۃ القدر والحث علی طلبہا (1170)
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1170/

ایک اور روایت میں ہے:

لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةٌ سَمْحَةٌ طَلْقَةٌ، لَا حَارَّةٌ وَلَا بَارِدَةٌ، تُصْبِحُ الشَّمْسُ صَبِيحَتَهَا ضَعِيفَةً حَمْرَاءَ

ترجمہ:
”شبِ قدر ایک پُرسکون اور معتدل رات ہے، نہ زیادہ گرم اور نہ زیادہ سرد۔ اس کی صبح سورج اس طرح طلوع ہوتا ہے کہ اس کی سرخی مدھم ہوتی ہے۔“

📖 صفة صوم النبي ﷺ: ص 90

حکمِ روایت:
◉ شیخ سلیم الہلالی اور شیخ علی حسن عبد الحمید نے اس روایت کی سند کو حسن کہا ہے۔

❖ حاصلِ کلام

مذکورہ بالا آیات و احادیث سے شبِ قدر کی عظیم فضیلت واضح ہوتی ہے۔ لہٰذا اس عظیم رات میں:

➊ قیام اختیار کیجیے۔
➋ تلاوتِ قرآن کا اہتمام کیجیے۔
➌ کثرتِ دعا کیجیے۔
➍ بخشش اور مغفرت کا سامان پیدا کیجیے۔

🤍 وہ انسان کتنا ہی بدنصیب ہوگا جسے یہ ماہِ مبارک نصیب ہو، لیکن وہ اپنی بخشش اور جہنم سے رہائی حاصل نہ کر سکے۔

31 📌 جمعتہ الوداع — ایک اہم وضاحت

رمضان کے آخری جمعہ کو “جمعتہ الوداع” کہنا اور اسے کسی خاص دینی تہوار، عید، یا مخصوص عبادت کا دن سمجھنا شریعت سے ثابت نہیں۔

🔹 قرآن، حدیث، آثارِ صحابہ اور ائمۂ سلف میں رمضان کے آخری جمعہ کی کوئی الگ شرعی فضیلت ثابت نہیں۔
🔹 اس دن کے بارے میں جو خاص نمازیں، قضا نمازوں کی معافی، یا غیرمعمولی ثواب بیان کیا جاتا ہے، وہ ضعیف یا من گھڑت روایات پر مبنی ہے۔
🔹 نبی کریم ﷺ، صحابۂ کرامؓ اور تابعینؒ سے اس دن کو بطور تہوار یا مخصوص عبادت کے ساتھ منانا ثابت نہیں۔
🔹 لہٰذا اس دن کو خاص نام دے کر، خاص ثواب سمجھ کر، یا مخصوص اعمال لازم جان کر منانا بدعت کے دائرے میں آتا ہے۔

📖 اصول یاد رکھیں:
دین مکمل ہو چکا ہے، اس میں نئے مذہبی طریقے، نئی عیدیں یا نئے مخصوص اعمال شامل نہیں کیے جا سکتے۔

🕋 درست رویہ یہ ہے:
رمضان کے آخری جمعہ کو بھی عام جمعہ ہی کی طرح سمجھا جائے، البتہ رمضان کے آخری ایام میں عمومی عبادت، توبہ، دعا اور تقویٰ میں اضافہ ضرور کیا جائے — لیکن “آخری جمعہ” کی کوئی الگ شرعی حیثیت نہ سمجھی جائے۔

⚠️ یاد رکھیں:
ہر وہ عمل جو ثواب سمجھ کر دین میں نیا ایجاد کیا جائے، جبکہ شریعت میں اس کی اصل نہ ہو، وہ بدعت ہے۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں خالص قرآن و سنت کی پیروی اور ہر قسم کی بدعت و گمراہی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

32 🌙 صحابیِ رسول ﷺ اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ کا 27 رمضان کے بارے میں یقین

صحابیِ رسول ﷺ اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ یقین کے ساتھ 27 رمضان ہی کو لیلۃ القدر مانتے تھے۔

حدیثِ مبارک:

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدَةَ، وَعَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، سَمِعَا زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَقَالَ: "رَحِمَهُ اللَّهُ أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ النَّاسُ، أَمَا إِنَّهُ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، ثُمَّ حَلَفَ لَا يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ"، فَقُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ؟ قَالَ: "بِالْعَلَامَةِ أَوْ بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعَ لَهَا"۔

ترجمہ:

سفیان بن عیینہ نے عبدہ اور عاصم بن ابی النجود سے روایت کی، ان دونوں نے حضرت زر بن حبیش سے سنا، وہ کہتے ہیں:

میں نے حضرت اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ میں نے کہا:

آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص سال بھر رات کو قیام کرے گا، وہ لیلۃ القدر کو پا لے گا۔

انہوں نے فرمایا:

”اللہ ان پر رحم فرمائے، انہوں نے یہ چاہا کہ لوگ (چند راتوں کی عبادت پر) بھروسا کر کے بیٹھ نہ جائیں، ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ لیلۃ القدر رمضان ہی میں ہے، آخری عشرے میں ہے، اور وہ ستائیسویں رات ہے۔“

پھر انہوں نے بغیر استثناء کے قسم کھا کر فرمایا کہ وہ ستائیسویں رات ہی ہے۔

میں نے عرض کیا:

ابو المنذر! آپ یہ بات کس بنیاد پر فرماتے ہیں؟

انہوں نے فرمایا:

”اس علامت یا نشانی کی بنیاد پر جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتائی ہے کہ اس دن سورج اس حال میں طلوع ہوتا ہے کہ اس کی شعاعیں نمایاں نہیں ہوتیں۔“

📖 صحیح مسلم: 762

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/762/

✨ اہم نکتہ:
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ بڑے یقین کے ساتھ 27ویں رات کو لیلۃ القدر قرار دیتے تھے، اور اس کی بنیاد انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بتائی ہوئی نشانی پر رکھی تھی۔

33 🌾 زکاۃُ الفطر یا صدقۂ فطر

فطر کا معنی روزہ کھولنا یا روزہ نہ رکھنا ہے۔
ماہِ رمضان کے روزے پورے ہونے پر ہر مسلمان کی طرف سے ایک صاع غلہ صدقہ کرنا فرض ہے۔
اسی لیے اسے زکاۃُ الفطر یا زکاۃِ رمضان بھی کہا جاتا ہے۔

اس کے متعلق چند احادیث اور ان سے ثابت ہونے والے مسائل درج کیے جاتے ہیں:

╭─❖ ① حدیثِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما ❖─╮

عن ابن عباس ، قال: فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين، من أداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة، ومن أداها بعد الصلاة فهي صدقة من الصدقات.

ترجمہ:
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقۂ فطر روزہ دار کو لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کے کھانے کے لیے فرض کیا ہے۔
لہٰذا جو اسے (عید کی) نماز سے پہلے ادا کرے گا تو یہ مقبول صدقہ ہو گا، اور جو اسے نماز کے بعد ادا کرے گا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہو گا۔

📖 سنن ابی داؤد: 1609
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1609/

╰──────────────────────╯

╭─❖ ② حدیثِ ابنِ عمر رضی اللہ عنہما ❖─╮

عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعير على العبد، والحر، والذكر، والأنثى، والصغير، والكبير من المسلمين، وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة.

ترجمہ:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فطر کی زکوٰۃ (صدقۂ فطر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض قرار دی تھی۔
یہ غلام، آزاد، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے، تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔
اور آپ ﷺ نے حکم دیا کہ یہ نمازِ عید کے لیے لوگوں کے نکلنے سے پہلے ادا کر دی جائے۔

📖 صحیح البخاری: 1503
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1503/

وفي رواية قال ابن عمر: فجعل الناس عدله مدين من حنطة.

ترجمہ:
اور ایک روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
پھر لوگوں نے گندم کے دو مد کو (جو کے) ایک صاع کے برابر قرار دے لیا۔

📖 صحیح مسلم: 984
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/984/

╰──────────────────────╯

╭─❖ ③ حدیثِ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ❖─╮

قال أبو سعيد الخدري رضي الله عنه: كنا نعطيها في زمان النبي صلى الله عليه وسلم صاعا من طعام أو صاعا من تمر أو صاعا من شعير أو صاعا من زبيب، فلما جاء معاوية وجاءت السمراء، قال: أرى مدا من هذا يعدل مدين.

ترجمہ:
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ہم صدقۂ فطر ایک صاع کھانے سے، یا ایک صاع کھجور سے، یا ایک صاع جَو سے، یا ایک صاع زبیب (خشک انگور / منقہ) سے ادا کرتے تھے۔
پھر جب معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ آئے اور سمراء (گندم) آئی تو انہوں نے کہا:
میں سمجھتا ہوں کہ اس کا ایک مد دوسرے اناج کے دو مد کے برابر ہے۔

📖 صحیح البخاری: 1508
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1508/

╰──────────────────────╯

╭─❖ ④ حدیثِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ❖─╮

عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: وكلني رسول الله صلى الله عليه وسلم بحفظ زكاة رمضان، فأتاني آت فجعل يحثو من الطعام، فأخذته، فقلت: لأرفعنك إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقص الحديث، فقال: إذا أويت إلى فراشك فاقرأ آية الكرسي.

ترجمہ:
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے زکاۃِ رمضان (صدقۂ فطر) کی حفاظت پر مقرر فرمایا۔
پھر ایک شخص آیا اور دونوں ہاتھوں سے کھانے کی چیز سمیٹنے لگا۔
میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ میں تجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا۔
پھر انہوں نے یہ پورا قصہ بیان کیا۔
اس نے کہا:
جب تم رات کو اپنے بستر پر سونے کے لیے جاؤ تو آیت الکرسی پڑھ لیا کرو۔

📖 صحیح البخاری: 5010
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5010/

╰──────────────────────╯

34 🌾 فوائد و مسائل

صدقۂ فطر کن لوگوں پر فرض ہے؟
صدقۂ فطر ہر مسلمان پر فرض ہے، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا۔
حتیٰ کہ عید سے پہلے جو بچہ پیدا ہو، اس کی طرف سے بھی صدقۂ فطر ادا کیا جائے گا۔
البتہ غیر مسلم کی طرف سے یہ صدقہ فرض نہیں، اگرچہ وہ کسی مسلمان کا باپ، بیٹا، بیوی یا غلام ہی کیوں نہ ہو۔
📖 (دیکھیے: حدیث نمبر 2)

گھر کا ذمہ دار شخص اپنے زیرِ کفالت تمام افراد کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرے گا، یعنی جن کے کھانے پینے کی ذمہ داری اس کے ذمے ہے۔
البتہ ملازم اس میں شامل نہیں، بلکہ وہ اپنا صدقۂ فطر خود ادا کریں گے۔

بعض لوگ صدقۂ فطر کے فرض ہونے کے لیے یہ شرط لگاتے ہیں کہ آدمی اتنے مال کا مالک ہو جو زکاۃ کے نصاب کو پہنچتا ہو، مگر صحیح بات یہ ہے کہ جس شخص کے پاس گھر والوں کے خوردونوش سے زائد غلہ موجود ہو، وہ صدقۂ فطر ضرور ادا کرے۔
اور جو لوگ خود محتاج ہوں، انہیں دوسرے لوگ صدقہ دیں گے، تو ان کی محتاجی کا حل بھی ہو جائے گا۔
اس کی دلیل حدیث نمبر 2 ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ صدقہ ہر مسلمان پر فرض فرمایا ہے۔
اور ہر مسلمان کو اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کے روزے لغو اور رفث سے پاک ہو جائیں۔
ہاں، اگر کوئی شخص خود فاقے میں ہو اور اسے کوئی ایسا صدقہ بھی نہ دے جس سے وہ صدقۂ فطر ادا کر سکے، تو پھر اس کے لیے معافی ہے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾
اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔

╭─❖ صدقۂ فطر کا مقصد ❖─╮

صدقۂ فطر کا مقصد یہ ہے کہ اگر روزے دار سے دورانِ روزہ کوئی نامناسب، لغو یا بیہودہ بات ہو گئی ہو تو یہ صدقہ اس کے لیے طہارت اور کفارہ بن جائے۔
اسی طرح اس کا ایک بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ مساکین کے کھانے پینے اور ان کی ضروریات کا انتظام ہو جائے، تاکہ وہ بھی عید کی خوشی میں شریک ہو سکیں۔
اور کم از کم عید کے دن انہیں کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔
📖 (دیکھیے: حدیث نمبر 1)

╰──────────────────────╯

╭─❖ صدقۂ فطر کب ادا کیا جائے؟ ❖─╮

صدقۂ فطر عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے پہلے ادا کرنا ضروری ہے۔
اگر کوئی شخص اسے نمازِ عید کے بعد ادا کرے گا تو اس کا صدقۂ فطر ادا نہیں ہو گا، بلکہ وہ عام صدقہ شمار ہو گا۔
📖 (دیکھیے: حدیث نمبر 1، 2)

بہتر یہ ہے کہ صدقۂ فطر عید سے کچھ دن پہلے جمع کروا دیا جائے، تاکہ جو حضرات اسے جمع کرتے ہیں وہ اسے وقت پر مساکین تک پہنچا سکیں، اور محتاج لوگ اپنی ضرورت کی چیزیں خرید سکیں۔
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی ایسا ہی ہوتا تھا۔
جیسا کہ حدیث نمبر 4 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو زکاۃِ رمضان کی حفاظت پر مقرر فرمایا، اور تین راتیں شیطان چوری کے لیے آتا رہا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدقۂ فطر عید سے پہلے جمع ہونا شروع ہو چکا تھا۔

╰──────────────────────╯

╭─❖ صدقۂ فطر ایک جگہ جمع کرنا چاہیے ❖─╮

رسول اللہ ﷺ کا طریقہ یہی تھا کہ صدقۂ فطر مسجد میں جمع کیا جاتا تھا، پھر وہاں سے مستحقین میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔
آج بھی یہ حکومتِ اسلامیہ کا فریضہ ہے کہ وہ اس نظام کو قائم کرے۔
📖 (دیکھیے: حدیث نمبر 4)

اگر یہ نعمت میسر نہ ہو تو اجتماعیت کی جو صورت ممکن ہو اسے اختیار کرنا چاہیے۔
مثلاً محلے کی مسجد میں صدقۂ فطر جمع کر کے عید سے پہلے پہلے مستحقین میں تقسیم کر دیا جائے۔
اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو پھر آدمی خود ہی صدقۂ فطر مساکین کو پہنچا دے۔

╰──────────────────────╯

📌 مختصر نکات

➊ صدقۂ فطر ہر مسلمان پر فرض ہے: مرد، عورت، بچہ، بڑا، آزاد اور غلام سب شامل ہیں۔

➋ عید سے پہلے پیدا ہونے والے بچے کی طرف سے بھی صدقۂ فطر ادا کیا جائے گا۔

➌ غیر مسلم کی طرف سے صدقۂ فطر فرض نہیں۔

➍ گھر کا سربراہ اپنے زیرِ کفالت افراد کی طرف سے صدقہ ادا کرے گا۔

➎ ملازم اپنا صدقۂ فطر خود ادا کریں گے۔

➏ صدقۂ فطر کے لیے زکاۃ کے نصاب کا مالک ہونا شرط نہیں، بلکہ جس کے پاس ضرورت سے زائد غلہ ہو وہ ادا کرے۔

➐ اگر کوئی شخص شدید محتاج ہو اور ادائیگی کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ معذور ہے۔

➑ صدقۂ فطر کا مقصد روزے کی کوتاہیوں کا ازالہ اور مساکین کی مدد ہے۔

➒ صدقۂ فطر نمازِ عید سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے۔

➓ اسے اجتماعی طور پر جمع کر کے مستحقین تک پہنچانا افضل اور سنت کے زیادہ قریب ہے۔

35 🌙 صدقۂ فطر نکالنے کا وقت

❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

« أن النبى صلى الله عليه وسلم أمر بزكاة الفطر قبل خروج الناس إلى الصلاة »

ترجمہ:
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۂ فطر کو لوگوں کے نمازِ عید کے لیے جانے سے پہلے نکالنے کا حکم دیا ہے۔

📖 صحیح بخاری: 1509
📖 صحیح مسلم: 986

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1509/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/986/

❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے:

« فرض النبى صلى الله عليه وسلم صدقة الفطر… وكانوا يعطون قبل الفطر بيوم أو يومين »

ترجمہ:
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۂ فطر کو فرض کیا، اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اسے عید سے ایک یا دو دن پہلے ادا کر دیا کرتے تھے۔

📖 صحیح بخاری: 1511

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1511/

❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

« فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين، من أداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة، ومن أداها بعد الصلاة فهي صدقة من الصدقات »

ترجمہ:
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۂ فطر کو فرض کیا، جو روزے دار کو لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرتا ہے اور مساکین کی غذا بنتا ہے۔
پس جو شخص اسے نمازِ عید سے پہلے ادا کرے گا، وہ قبول شدہ زکاۃ ہے، اور جو نماز کے بعد ادا کرے گا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہوگا۔

📖 سنن ابی داود: 1609
📖 سنن ابن ماجہ: 1827
✅ حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1609/

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1827/

✦ نوٹ:
رمضان کے آخری دن غروبِ آفتاب سے صدقۂ فطر واجب ہو جاتا ہے، اور نمازِ عید سے پہلے اس کا ادا کرنا ضروری ہے۔

➊ افضل طریقہ یہ ہے کہ اسے نمازِ عید سے پہلے نکال دیا جائے۔
➋ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عید سے ایک یا دو دن پہلے بھی ادا کر دیتے تھے۔

36 🌾 صدقۂ فطر کی مقدار

❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

« كنا نخرج زكاة الفطر صاعًا من طعام، أو صاعًا من شعير، أو صاعًا من تمر، أو صاعًا من أقط، أو صاعًا من زبيب »

ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم صدقۂ فطر میں ایک صاع کھانا، یا ایک صاع جو، یا ایک صاع کھجور، یا ایک صاع پنیر، یا ایک صاع کشمش نکالا کرتے تھے۔

📖 صحیح بخاری: 1506
📖 صحیح مسلم: 985/17

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1506/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/985/

❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

« كنا نخرج إذ كان فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر، عن كل صغير وكبير، حر أو مملوك، صاعًا من طعام، أو صاعًا من أقط، أو صاعًا من شعير، أو صاعًا من تمر، أو صاعًا من زبيب، فلم نزل نخرجه حتى قدم علينا معاوية بن أبي سفيان حاجًّا أو معتمرًا، فكلم الناس على المنبر، فكان فيما كلم به الناس أن قال: إني أرى أن مدين من سمراء الشام تعدل صاعًا من تمر، فأخذ الناس بذلك، قال أبو سعيد: فأما أنا فلا أزال أخرجه كما كنت أخرجه أبدًا ما عشت »

ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے تو ہم ہر چھوٹے اور بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے ایک صاع کھانا، یا ایک صاع پنیر، یا ایک صاع جو، یا ایک صاع کھجور، یا ایک صاع کشمش نکالا کرتے تھے۔ پھر ہم مسلسل اسی طرح نکالتے رہے، یہاں تک کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما ہمارے پاس حج یا عمرہ کے لیے آئے۔ انہوں نے منبر پر لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:
میرے خیال میں شام کے سرخ گیہوں کے دو مُد ایک صاع کھجور کے برابر ہیں۔
چنانچہ لوگوں نے اسی کو اختیار کر لیا۔
لیکن حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میں تو اپنی پوری زندگی اسی طرح ادا کرتا رہوں گا جیسے پہلے ادا کرتا تھا۔

📖 صحیح بخاری: 1508
📖 صحیح مسلم: 985/18

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1508/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/985/

❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

« كنا نخرج في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفطر صاعًا من طعام »

اور ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

« وكان طعامنا الشعير والزبيب والأقط والتمر »

ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عید الفطر کے دن ایک صاع کھانا نکالا کرتے تھے۔
اور وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہمارا کھانا جو، کشمش، پنیر اور کھجور تھا۔

📖 صحیح بخاری: 1510

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1510/

✦ وضاحت:
صاع ایک ناپنے کا پیمانہ ہے۔ اگر اسی پیمانے سے گیہوں ناپا جائے تو ایک صاع گیہوں تقریباً 2 کلو 176 گرام کے برابر بنتا ہے۔ البتہ اگر اسی پیمانے سے کوئی دوسری ہلکی یا بھاری چیز ناپی جائے تو اس کا وزن مختلف ہوگا۔

اس لیے اگر گیہوں کے علاوہ کسی اور چیز سے صدقۂ فطر ادا کیا جائے تو اندازہ کر لیا جائے کہ وہ چیز گیہوں سے ہلکی ہے یا بھاری، اور اسی حساب سے اس میں مناسب کمی بیشی کر لی جائے۔

🌿 یہ بات بھی یاد رہے کہ اللہ کی راہ میں کچھ زیادہ خرچ کر دینا ہمیشہ فائدے کا سودا ہے۔

✦ مزید وضاحت:
➊ ایک صاع = چار مُد
➋ اس حساب سے دو مُد = آدھا صاع

✦ کن چیزوں سے صدقۂ فطر ادا کیا جا سکتا ہے؟
صدقۂ فطر ہر ایسی حلال چیز سے ادا کیا جا سکتا ہے جو کسی علاقے یا شہر میں بطورِ غذا استعمال ہوتی ہو، جیسے:

➊ کھجور
➋ جَو
➌ گیہوں
➍ چاول
➎ اناج
➏ دالیں
➐ اور اسی طرح دوسری غذائی اشیاء

✦ نقدی کی صورت میں صدقۂ فطر ادا کرنا:
نقدی کی صورت میں صدقۂ فطر ادا کرنا اہلِ علم کے درمیان اختلافی مسئلہ ہے۔

➊ بہتر اور محتاط طریقہ یہی ہے کہ اگر ممکن ہو تو جنس یعنی غذائی اشیاء ہی کی صورت میں صدقۂ فطر نکالا جائے۔
➋ البتہ بعض اہلِ علم کے نزدیک کچھ دلائل کی روشنی میں نقد قیمت کی صورت میں بھی صدقۂ فطر ادا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

37 📘 نمازِ عید، عید گاہ میں پڑھنا مشروع ہے

نمازِ عید کا اہتمام عید گاہ میں کرنا مسنون و مستحب ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمازِ عید عید گاہ میں پڑھنا ہمیشہ معمول رہا ہے۔

╭─❀ دلیل نمبر 1 ❀─╮

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

﴿كان النبى صلى الله عليه وسلم يخرج يوم الفطر ويوم الأضحى إلى المصلى ، فأول شيء يبدأ به الصلاة، ثم ينصرف فيقوم مقابل الناس، والناس جلوس على صفوفهم، فيعظهم، ويوصيهم، ويأمرهم، فإن كان يريد أن يقطع بعثا قطعه، أو يأمر بشيء أمر به، ثم ينصرف، فقال أبو سعيد : فلم يزل الناس على ذلك﴾

ترجمہ:
“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن (نمازِ عید کی ادائیگی کے لیے) عید گاہ کی طرف روانہ ہوتے، اور سب سے پہلے نماز کا آغاز کرتے تھے۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کے بالمقابل کھڑے ہوتے، جبکہ لوگ اپنی صفوں پر بیٹھے ہوتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں وعظ و نصیحت فرماتے، وصیت کرتے اور مختلف امور بجا لانے کا حکم دیتے۔ پھر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ کوئی لشکر روانہ کرنا ہوتا تو روانہ کرتے، یا اگر کسی کام کا حکم دینا ہوتا تو وہ حکم صادر فرماتے، پھر واپس لوٹ جاتے۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر لوگوں کا ہمیشہ یہی معمول رہا۔”

📚 حوالہ:
[بخاری، کتاب العیدین، باب الخروج إلى المصلى بغير منبر: 956]
[مسلم، کتاب صلاة العیدین، باب صلاة العیدین: 889]
[نسائی، کتاب صلاة العیدین، باب استقبال الإمام الناس بوجهه فى الخطبة: 1577]
[بیہقی: 280/3]

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/956/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/889/

╰──────────────────╯

✦ فوائد:

➊ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ نمازِ عید کے لیے صحراء میں نکلنا مستحب ہے، اور صحرا میں نمازِ عید کا اہتمام مسجد میں ادا کرنے سے افضل ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی فضیلت و عظمت کے باوجود نمازِ عید ہمیشہ صحرا اور کھلی فضاء میں ادا کی ہے۔
📖 فتح الباری: 581/2

➋ امام نووی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
یہ حدیث ان لوگوں کے موقف کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ نمازِ عید کی ادائیگی کے لیے عید گاہ کی طرف نکلنا مستحب فعل ہے اور مسجد کی بہ نسبت عید گاہ میں ادا کرنا افضل ہے۔ اکثر بڑے شہروں میں لوگوں کا یہی معمول رہا ہے، البتہ اہلِ مکہ شروعِ اسلام سے مسجدِ حرام میں نمازِ عید ادا کرتے رہے ہیں۔
📖 شرح النووی: 176/6

➌ علامہ عینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
اس حدیث سے یہ مسئلہ مستفاد ہوتا ہے کہ نمازِ عید کے لیے عید گاہ کی طرف نکلا جائے اور بلا ضرورت، مثلاً بارش وغیرہ کے علاوہ، مسجد میں نمازِ عید ادا نہ کی جائے۔
📖 عمدة القاری: 281/6-282

➍ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
نمازِ عیدین کا مسنون طریقہ یہی ہے کہ امام نمازِ عیدین کی ادائیگی کے لیے عید گاہ کی طرف نکلے، البتہ اگر کوئی عذر ہو تو مسجد ہی میں نمازِ عید پڑھی جا سکتی ہے۔
📖 شرح السنة: 294/4

╭─❀ دلیل نمبر 2 ❀─╮

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

﴿كان النبى صلى الله عليه وسلم يغدو إلى المصلى، والعنزة بين يديه تحمل، وتنصب بالمصلى بين يديه، فيصلي إليها﴾

ترجمہ:
“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن صبح سویرے عید گاہ کی طرف جاتے، اور نیزہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے اٹھایا جاتا، پھر عید گاہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نصب کیا جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔”

📚 حوالہ:
[بخاری، کتاب العیدین، باب حمل العنزة أو الحربة بين يدى الإمام يوم العيد: 973]
[ابن ماجہ، کتاب الصلاة، باب ما جاء في الحربة يوم العيد: 1304]

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/973/

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1304/

╰──────────────────╯

╭─❀ دلیل نمبر 3 ❀─╮

براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں:

﴿خرج النبى صلى الله عليه وسلم يوم أضحى إلى البقيع فصلى العيد ركعتين﴾

ترجمہ:
“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے دن بقیع کی طرف نکلے اور دو رکعت نمازِ عید ادا کی۔”

📚 حوالہ:
[بخاری، کتاب العیدین، باب استقبال الإمام الناس في خطبة العيد: 976]
[مسند أحمد: 282/4]

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/976/

╰──────────────────╯

╭─❀ دلیل نمبر 4 ❀─╮

عبد الرحمن بن عابس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا:
کیا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں حاضر ہوئے تھے؟
انہوں نے فرمایا: جی ہاں!

﴿ولو لا مكاني من الصغر ما شهدته، خرج حتى أتى العلم الذى عند دار كثير بن الصلت فصلى ثم خطب، ثم أتى النساء ومعه بلال، فوعظهن وذكرهن وأمرهن بالصدقة فرأيتهن يهوين بأيديهن يقذفنه فى ثوب بلال ثم انطلق هو وبلال إلى بيته﴾

ترجمہ:
“اگر بچپن کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں میرا خاص مقام نہ ہوتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں عید میں حاضر نہ ہو پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے یہاں تک کہ کثیر بن صلت کے مکان کے قریب معروف جگہ (عید گاہ) میں پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عید ادا کی، پھر خطبۂ عید ارشاد فرمایا۔ بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلم عورتوں کے پاس آئے اور بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وعظ و نصیحت فرمائی اور صدقہ کا حکم دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ عورتیں اپنے ہاتھ جھکاتیں اور (کانوں وغیرہ کے زیورات اتار کر) بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈال دیتیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی طرف چل دیے۔”

📚 حوالہ:
[بخاری، کتاب العیدین، باب العلم بالمصلى: 977]

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/977/

╰──────────────────╯

╭──────────────╮
🌿 خلاصۂ کلام
╰──────────────╯

نمازِ عید کا عید گاہ میں ادا کرنا ہی مسنون، مشروع اور افضل طریقہ ہے۔
بلا عذر مسجد میں نمازِ عید ادا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائمی عمل کے خلاف ہے۔
البتہ کسی شرعی عذر، مثلاً بارش وغیرہ کی صورت میں مسجد میں نمازِ عید پڑھی جا سکتی ہے۔

🔹 لہٰذا سنتِ نبوی اور تعاملِ سلف یہی ہے کہ نمازِ عید کا اہتمام عید گاہ میں کیا جائے۔

38 📘 سوال: کیا نمازِ عیدین کے لیے عورتوں کا عیدگاہ میں جانا ضروری ہے؟

🖋 جواب از شیخ مبشر احمد ربانی رحمہ اللہ:

عیدین کی نماز میں عورتوں کی شرکت لازمی ہے۔ حتیٰ کہ جو عورتیں ایامِ ماہواری میں ہوں، وہ بھی عیدگاہ کی طرف جائیں۔ اگرچہ وہ نماز ادا نہیں کریں گی، لیکن مسلمانوں کی دعاؤں میں شرکت کریں گی۔

🌿 سیدہ اُمِ عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

“ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم عیدین کے دن حیض والی اور پردہ دار دوشیزاؤں کو لے کر آئیں، تاکہ وہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کی دعا میں شریک ہو جائیں، اور حائضہ عورتیں نماز والی جگہ سے علیحدہ رہیں۔ ایک عورت نے کہا:
اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے پاس بڑی چادر نہ ہو تو؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
”اسے اس کی ساتھ والی چادر اوڑھا دے۔“”

📖 حوالہ:
صحیح بخاری: 351
صحیح مسلم: 890

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/351/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/890/

✨ اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ خواتین کو عیدین کی نماز ادا کرنے کے لیے عیدگاہ کی طرف جانا چاہیے۔ اگر کسی عورت کے ایامِ ماہواری شروع ہو جائیں تب بھی وہ عیدگاہ کی طرف جائے گی اور مسلمانوں کی دعا میں شرکت کرے گی۔

📚 امام ابن قدامہ مقدسی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”المغنی“ میں یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد بعض ایسے حضرات کے اقوال نقل کیے ہیں جو عورتوں کے لیے عیدگاہ کی طرف جانا پسند نہیں کرتے، پھر اس بارے میں نہایت جامع اور مؤثر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:

“رسول اللہ ﷺ کی سنت سب سے زیادہ اتباع کی حق دار ہے۔”

📖 المغنی: 4/265

🌸 اسی لیے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خواتین عیدگاہ میں حاضر ہوتی تھیں۔

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:

“نبی ﷺ عیدالفطر کے دن تشریف لائے، پہلے نماز ادا کی پھر خطبہ دیا، جب خطبہ سے فارغ ہوئے تو عورتوں کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ نے انہیں نصیحت کی، اور آپ ﷺ بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔”

📖 صحیح بخاری: 961

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/961/

✅ خلاصۂ کلام:
اس معنی کی کئی صحیح احادیث موجود ہیں کہ عورتوں کو نمازِ عید کی ادائیگی کے لیے عیدگاہ کی طرف جانا چاہیے۔

🌷 لہٰذا عورتوں کا عیدگاہ جانا شریعت کی رو سے مشروع، مطلوب اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہے۔

39 📘 نمازِ عیدین میں کن سورتوں کی تلاوت مسنون ہے؟

نمازِ عیدین میں سورۂ فاتحہ کے بعد:

➊ پہلی رکعت میں سورۂ اعلیٰ
➋ دوسری رکعت میں سورۂ غاشیہ

کی تلاوت کرنا مستحب اور مسنون فعل ہے۔

🌿 دلیل:

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ فى العيدين وفي الجمعة سبح اسم ربك الأعلى و هل أتاك حديث الغاشية و إذا اجتمع العيد والجمعة فى يوم واحد يقرأ بهما أيضا فى الصلاتين

“رسول اللہ ﷺ عیدین اور جمعہ میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى اور هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ کی تلاوت کرتے تھے، اور جب کبھی عید اور جمعہ ایک ہی دن میں جمع ہو جاتے تو دونوں نمازوں میں بھی یہی سورتیں پڑھتے تھے۔”

📖 حوالہ:
صحیح مسلم، کتاب الجمعہ، باب ما یقرأ فی صلاۃ الجمعہ: 878
سنن ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب ما یقرأ بہ فی الجمعہ: 1122
جامع ترمذی، کتاب الجمعہ، باب ما جاء فی القراءۃ فی العیدین: 533
سنن نسائی، کتاب صلاۃ العیدین، باب القراءۃ فی العیدین: 1569
سنن ابن ماجہ، کتاب إقامۃ الصلوات، باب ما جاء فی القراءۃ فی صلاۃ العیدین: 1681

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/878/

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/533/

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1569/

📙 فقہ الحدیث:

اکثر احادیث اس بات پر دلیل ہیں کہ نمازِ عیدین میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى اور هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ کی قراءت مستحب ہے، اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔

📖 نیل الأوطار: 3/314

🌸 اسی طرح نمازِ عیدین میں سورۂ فاتحہ کے بعد:

➊ پہلی رکعت میں سورۂ قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ
➋ دوسری رکعت میں سورۂ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ

کی تلاوت بھی مستحب اور مسنون فعل ہے۔

🌿 دلیل:

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی اور عید الفطر میں کون سی سورتیں تلاوت کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا:

كان يقرأ فيهما ب: ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ وَ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ

“آپ ﷺ عیدین میں قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ اور اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔”

📖 حوالہ:
صحیح مسلم، صلاۃ العیدین، باب ما یقرأ فی صلاۃ العیدین: 891
سنن ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب ما یقرأ فی الأضحی والفطر: 1154
جامع ترمذی، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء فی القراءۃ فی العیدین: 534
سنن نسائی، کتاب صلاۃ العیدین، باب القراءۃ فی العیدین: 1568
سنن ابن ماجہ، کتاب إقامۃ الصلوات، باب ما جاء فی القراءۃ فی صلاۃ العیدین: 1282

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/891/

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1154/

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1282/

📙 فقہ الحدیث:

“یہ حدیث دلیل ہے کہ عیدین میں سورۂ قٓ اور سورۂ قمر کی تلاوت بھی مسنون و مستحب ہے۔ نیز امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ عیدین میں ان دو سورتوں کی تلاوت مستحب فعل ہے۔”

📖 نیل الأوطار: 3/314

📌 ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا موقف:

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عیدین میں کسی معین سورت کی تلاوت ثابت نہیں۔

📖 حوالہ:
نیل الأوطار: 3/314
المغنی لابن قدامہ رحمہ اللہ مع الشرح الکبیر: 2/230

لیکن مذکورہ بالا صحیح احادیث ان کے اس موقف کی تردید کرتی ہیں، کیونکہ عیدین میں معین سورتوں کی قراءت نبی کریم ﷺ سے واضح طور پر ثابت ہے۔

✅ خلاصہ:

نمازِ عیدین میں درج ذیل سورتوں کی تلاوت مسنون اور مستحب ہے:

➊ پہلی رکعت: سورۂ اعلیٰ — دوسری رکعت: سورۂ غاشیہ
➋ پہلی رکعت: سورۂ قٓ — دوسری رکعت: سورۂ قمر

🌷 لہٰذا ان سورتوں کی تلاوت سنتِ نبوی ﷺ سے ثابت ہے، اور یہی راجح و مضبوط موقف ہے۔

40 📘 عیدین میں تکبیراتِ زائدہ کی تعداد اور محل

نمازِ عیدین کی دو رکعتوں میں تکبیراتِ زائدہ کی تعداد اور محل کے بارے میں اہلِ علم کا اختلاف ہے۔ اس مسئلے میں امام شوکانی رحمہ اللہ نے علماء کے دس مختلف اقوال ذکر کیے ہیں۔ ان میں سے راجح اور قرینِ صواب قول یہ ہے کہ:

➊ پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ کے بعد، تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ قراءت سے پہلے سات تکبیریں کہی جائیں۔
➋ دوسری رکعت میں تکبیرِ قیام کے علاوہ قراءت سے پہلے پانچ تکبیریں کہی جائیں۔

📚 سید سابق رحمہ اللہ نے فقہ السنہ: 1/302 میں، اور امام شوکانی رحمہ اللہ نے نیل الأوطار: 3/318 میں اسی قول کو راجح قرار دیا ہے۔

🌿 اس کے دلائل حسبِ ذیل ہیں:

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

أن النبى صلى الله عليه وسلم كبر فى عيد ثنتى عشرة تكبيرة سبعا فى الأولى وخمسا فى الآخرة

“بلاشبہ نبی ﷺ نے نمازِ عید میں پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ، یعنی کل بارہ تکبیریں کہیں۔”

📖 حوالہ:
مسند احمد: 2/180
سنن ابن ماجہ، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء فی کم یکبر الإمام فی صلاۃ العیدین: 1678
مصنف ابن أبی شیبہ: 5693
إسنادہ حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/musnad-ahmad/6688/

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1278/

🔗 https://tohed.com/hadith/musannaf-ibn-abi-shaybah/5815/

📌 امام احمد رحمہ اللہ اس روایت کے آخر میں فرماتے ہیں:

وأنا أذهب إليه

“میرا بھی یہی مذہب ہے۔”

🌿 ایک اور روایت میں سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں:

أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كبر فى العيدين الأضحى والفطر ثنتى عشرة تكبيرة فى الأولى سبعا و فى الآخرة خمسا سوى تكبيرة الإحرام

“یقیناً رسول اللہ ﷺ نے عیدین، یعنی عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں تکبیرِ تحریمہ کے سوا بارہ تکبیریں کہیں؛ پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ۔”

📖 حوالہ:
سنن دارقطنی: 1702
إسنادہ حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/darqutni/1728/

🌿 اسی طرح سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

التكبير فى الفطر سبع فى الأولى وخمس فى الآخرة، والقراءة بعدهما كليهما

“عیدالفطر میں پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں، اور قراءت دونوں رکعتوں میں ان تکبیروں کے بعد ہے۔”

📖 حوالہ:
سنن ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب التکبیر فی العیدین: 1151
إسنادہ حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1151/

📙 ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا اثر:

نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

شهدت الأضحى والفطر مع أبى هريرة، فكبر فى الركعة الأولى سبع تكبيرات قبل القراءة، وفي الآخرة خمس تكبيرات قبل القراءة. قال مالك: وهو الأمر عندنا

“میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید الاضحی اور عید الفطر میں حاضر ہوا، تو انہوں نے پہلی رکعت میں قراءت سے قبل سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قراءت سے قبل پانچ تکبیریں کہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک بھی مشروع طریقہ یہی ہے۔”

📖 حوالہ:
موطأ امام مالک، کتاب العیدین، باب ما جاء فی التکبیر والقراءۃ فی صلاۃ العیدین، رقم حدیث الباب: 9
سنن بیہقی: 3/288
إسنادہ صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/muwatta-malik-yahya/435/

📙 امام اوزاعی رحمہ اللہ کا فتویٰ:

ولید بن مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے امام اوزاعی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ نمازِ عید میں کتنی تکبیریں کہی جائیں؟ انہوں نے فرمایا: پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرماتے تھے:

إن السنة مضت فى صلاة العيد: أن يكبر سبع تكبيرات فى الأولى ثم يقرأ، ثم يكبر فيركع، ثم يسجد، ثم يقوم فيكبر خمسا، ثم يقرأ فيكبر ويسجد

“نمازِ عید کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ امام پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہے، پھر قراءت کرے، اس کے بعد اللہ اکبر کہہ کر رکوع کرے، پھر سجدہ کرے۔ پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو، پانچ تکبیریں کہے، پھر قراءت کرے، اس کے بعد تکبیر کہے اور رکوع و سجدہ کرے۔”

📖 حوالہ:
أحکام العیدین للفریابی: 95
إسنادہ صحیح

✅ خلاصہ:

نمازِ عیدین میں راجح، مسنون اور راجح تر طریقہ یہ ہے کہ:

➊ پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ کے بعد سات تکبیریں کہی جائیں۔
➋ دوسری رکعت میں تکبیرِ قیام کے بعد پانچ تکبیریں کہی جائیں۔
➌ دونوں رکعتوں میں یہ تکبیریں قراءت سے پہلے ہوں۔

🌷 لہٰذا یہی قول دلائل کے اعتبار سے زیادہ مضبوط، راجح اور سنتِ نبوی ﷺ کے زیادہ موافق ہے۔

41 📘 عیدین کے دن غسل کرنا درج زیل دلائل کی روشنی میں مستحب ہے

[حدثنا وكيع عن شعبة عن عمرو بن مرة عن زاذان أن رجلا سأل عليا عن الغسل فقال: الغسل يوم الأضحى ويوم الفطر]

ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے غسل کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ عید الاضحی اور عید الفطر کا غسل دین کا حصہ ہے۔

📖 حوالہ:
مصنف ابن أبي شيبہ / أول العيدين / حدیث: 5897
إسناده صحيح

🔗 https://tohed.com/hadith/musannaf-ibn-abi-shaybah/5897/

نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
أن ابن عمر كان يغتسل للعيدين

بلاشبہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی عیدین کا غسل کرتے تھے۔

📖 حوالہ:
مصنف ابن أبي شيبہ / أول العيدين / حدیث: 5898
إسناده صحيح

🔗 https://tohed.com/hadith/musannaf-ibn-abi-shaybah/5898/

📗 غسلِ جمعہ پر قیاس

چونکہ جمعہ اہلِ اسلام کا اجتماع اور عید ہے، اور اسی مناسبت کی وجہ سے غسلِ جمعہ واجب ہے، لہٰذا عیدین میں بھی یہ اسباب موجود ہیں۔ اس لیے عیدین کے غسل کا التزام کرنا بھی بہتر ہے۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إن هذا يوم عيد، جعله الله للمسلمين، فمن جاء إلى الجمعة فليغتسل، وإن كان طيب فليمس منه، وعليكم بالسواك

“بلاشبہ اس دن (جمعہ) کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عید قرار دیا ہے، چنانچہ جو شخص جمعہ کے لیے آئے وہ غسل کرے، اور اگر خوشبو دستیاب ہو تو اسے استعمال کرے، نیز (جمعہ کے دن) مسواک کا التزام کرو۔”

📖 حوالہ:
سنن ابن ماجہ، كتاب إقامة الصلوات، باب ما جاء في الزينة يوم الجمعة: 1098
مصنف ابن أبي شيبہ: 5016
إسناده حسن
بیہقی: 243/3

مصنف ابن أبي شیبہ میں زہری کے سماع کی تصریح موجود ہے۔

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1098/

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم، وسواك ويمس من الطيب ما قدر عليه

“ہر بالغ شخص پر جمعہ کے دن غسل واجب ہے، مسواک لازم ہے، اور وہ بقدرِ استطاعت خوشبو استعمال کرے۔”

📖 حوالہ:
صحیح مسلم، كتاب الجمعة، باب وجوب غسل الجمعة على كل بالغ من الرجال: 846
صحیح ابن حبان: 1233
صحیح ابن خزیمہ: 1743
مسند أحمد: 69/3
سنن نسائی: 384

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/846/

📙 فوائد

➊ جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے، لیکن عیدین کا غسل کم از کم مستحب ضرور ہے۔

➋ جمعہ اور عیدین کی نماز کے لیے مسواک کرنا اور خوشبو استعمال کرنا مستحب عمل ہے۔

📕 تاہم غسلِ عیدین کے متعلق مرفوع روایات ضعیف یا من گھڑت (موضوع) ہیں

➊ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغتسل يوم الفطر و يوم الأضحى

“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن اور عید الاضحی کے دن غسل کرتے تھے۔”

📖 حوالہ:
سنن ابن ماجہ، كتاب إقامة الصلوات، باب ما جاء في الاغتسال في العيدين: 1315
سنن بیہقی: 678/3
إسناده ضعيف

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1315/

اس حدیث کی سند میں جبارہ بن مفلس اور حجاج بن تمیم جزری ضعیف راوی ہیں۔

➋ فاکہ بن سعد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:

أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يغتسل يوم الفطر، ويوم النحر ويوم عرفة، وكان الفاكه يأمر أهله بالغسل فى هذه الأيام

“یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن، عید الاضحی کے دن اور عرفہ کے دن غسل کرتے تھے، اور فاکہ بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے اہلِ خانہ کو ان دنوں کے غسل کا حکم دیتے تھے۔”

📖 حوالہ:
سنن ابن ماجہ، كتاب إقامة الصلوات، باب ما جاء في الاغتسال في العيدين: 1316
مسند أحمد: 78/4
موضوع

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1316/

اس حدیث کی سند میں یوسف بن خالد سمتی کذاب اور وضاع ہے، اور عبدالرحمن بن عقبہ بن فاکہ مجہول راوی ہے۔

➌ ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں:

أن رسول الله صلى الله عليه وسلم اغتسل للعيدين

“بلا تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کا غسل کیا۔”

📖 حوالہ:
مسند بزار: 292/5
البحر الزخار: 242/9
إسناده ضعيف

اس حدیث میں محمد بن عبید اللہ بن ابو رافع اور مندل بن علی ضعیف راوی ہیں۔

42 📘 روزِ عید بہترین لباس زیبِ تن کرنا

عید کے دن عمدہ ترین لباس پہننا مستحب عمل ہے۔ اس کے دلائل درج ذیل ہیں:

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

أخذ عمر جبة من إستبرق تباع فى السوق، فأخذها فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! إبتع هذه، تحمل بها للعيد والوفود، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما هذه لباس من لا خلاق له

“عمر رضی اللہ عنہ نے موٹے ریشم کا ایک جبہ لیا جو بازار میں فروخت ہو رہا تھا۔ پھر وہ اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی:
یا رسول اللہ! آپ اسے خرید لیجیے اور اس سے عید اور وفود کے لیے زینت کا سامان کیجیے۔
اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
یہ تو ان لوگوں کا لباس ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔”

📖 حوالہ:
صحیح بخاری: 948
صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینة، باب تحریم لبس الحریر: 2068
سنن أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب اللبس للجمعة: 1077
سنن نسائی: 1561

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/948/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2068/

📗 فقہ الحدیث

➊ جمعہ اور عید کے دن اور وفود سے ملاقات کے وقت نفیس ترین لباس پہننا مستحب فعل ہے۔
📖 شرح النووی: 37/14

➋ جو شخص عمدہ ترین لباس پہننے کی استطاعت رکھتا ہے، اس کے لیے عیدین میں بہترین لباس زیبِ تن کرنا مستحسن عمل ہے۔
اسی طرح اجتماعات میں شرکت اور وفود سے ملاقات کے وقت زینت و زیبائش کا سامان کرنا جائز و مندوب ہے۔
📖 شرح ابن بطال: 166/4

➌ یہ حدیث دلیل ہے کہ عیدین میں اور وفود سے ملاقات کے وقت خوبصورتی کا سامان کرنا معروف و مشہور تھا۔
اور امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اہلِ علم سے سنا، وہ عیدین میں خوشبو اور زیب و زینت پسند کرتے تھے۔
نیز بالخصوص امام زینت اختیار کرنے کا زیادہ مستحق ہے، کیونکہ وہ تمام لوگوں کا منظورِ نظر ہوتا ہے۔
📖 المغنی لابن قدامہ مع الشرح الكبير: 228/2

نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

أن ابن عمر كان يلبس فى العيدين أحسن ثيابه

“عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عیدین میں اپنا بہترین لباس زیبِ تن کرتے تھے۔”

📖 حوالہ:
سنن بیہقی: 281/3
إسناده صحيح

✨ خلاصہ:
عید کے دن بہترین، پاکیزہ اور عمدہ لباس پہننا مستحب ہے، بشرطیکہ وہ شرعی حدود کے مطابق ہو۔ یہ عمل سلفِ صالحین سے ثابت ہے اور عید کی زینت میں شمار ہوتا ہے۔

43 📘 عید الفطر کے دن نمازِ عید سے قبل طاق کھجوریں لینا

عید الفطر کی نماز سے قبل طاق کھجوریں تناول کرنا مسنون و مستحب عمل ہے، کیونکہ نمازِ عید الفطر سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طاق کھجوریں تناول کرنا دائمی معمول تھا۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يغدو يوم الفطر حتى يأكل تمرات ويأكلهن وترا

“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن (اس وقت تک گھر سے) نہ نکلتے جب تک کچھ کھجوریں تناول نہ فرما لیتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم طاق کھجوریں لیتے تھے۔”

📖 حوالہ:
صحیح بخاری، کتاب العیدین، باب الأكل يوم الفطر قبل الخروج: 953
صحیح ابن خزیمہ: 1429
مسند أحمد: 126/3

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/953/

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-khuzaimah/1429/

انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

ما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفطر حتى يأكل تمرات ثلاثا أو خمسا، أو سبعا أو أقل من ذلك أو أكثر من ذلك وترا

“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن (نمازِ عید کے لیے) تین، پانچ، سات، یا اس سے کم یا زیادہ طاق عدد میں کھجوریں کھائے بغیر کبھی نہ نکلتے تھے۔”

📖 حوالہ:
مسند أحمد: 232/3
صحیح ابن حبان: 3814
بیہقی: 283/3
حاکم: إسناده حسن

بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:

كان النبى صلى الله عليه وسلم لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم، ولا يطعم يوم الأضحى حتى يصلي

“نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کھائے بغیر نماز کے لیے نہ نکلتے تھے، اور عید الاضحیٰ کے دن اس وقت تک کچھ تناول نہ فرماتے جب تک نمازِ عید ادا نہ کر لیتے۔”

📖 حوالہ:
مسند أحمد: 360/5
جامع ترمذی، أبواب العيدين، باب ما جاء في الأكل يوم الفطر قبل الخروج: 542
سنن ابن ماجہ، كتاب الصيام، باب في الأكل يوم الفطر قبل الخروج: 1756
حاکم: 295/1
إسناده حسن
ثواب بن عتبہ مہری صدوق راوی ہے۔

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/542/

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1756/

📗 فوائد

➊ اہلِ علم کے نزدیک عید الفطر کی نماز کے لیے روانگی سے قبل کچھ کھانا مستحب ہے، لیکن کھجور تناول کرنا زیادہ پسندیدہ عمل ہے۔

📖 امام ترمذی رحمہ اللہ
ترمذی، تحت حدیث: 542

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/542/

📙 نمازِ عید الفطر سے قبل کھجور کھانے کی حکمت

نمازِ عید الفطر سے قبل کھجوریں تناول کرنے کے استحباب میں یہ حکمت پنہاں ہے کہ شیرینی روزوں کی وجہ سے بصارت میں جو ضعف واقع ہو چکا ہوتا ہے، اسے تقویت دیتی ہے۔
نیز اس لیے بھی کہ شیرینی ایمان اور خواب کی تعبیر کے موافق ہے، اور اس سے دل نرم ہوتا ہے، اور یہ آسانی سے دستیاب بھی ہوتی ہے۔

بعض تابعین رحمہم اللہ نے تو مطلق میٹھی چیز کا استعمال بھی مستحب قرار دیا ہے، جیسے شہد۔

نیز جسے کھجور وغیرہ میسر نہ ہو، وہ بطور ناشتہ کوئی بھی چیز استعمال کر سکتا ہے، خواہ پانی ہی ہو۔

اور مہلب رحمہ اللہ کہتے ہیں:

طاق عدد میں کھجوریں کھانے میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف اشارہ ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمیع امور میں طاق عدد کا استعمال بطورِ تبرک فرمایا کرتے تھے۔

📖 حوالہ:
فتح الباری: 576/2، 577
تحفة الأحوذی: 68/3

ابن قدامہ رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ اکثر اہلِ علم مثلاً:
علی رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما، مالک رحمہ اللہ، شافعی رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ:

عید الفطر میں نمازِ عید سے قبل کھانا
اور
عید الاضحیٰ میں نمازِ عید سے فارغ ہونے کے بعد کھانا
مسنون عمل ہے۔

اور اس مسنون عمل کے بارے میں علماء میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

📖 حوالہ:
المغنی لابن قدامہ مع الشرح الكبير: 229/2

✨ خلاصۂ

➊ عید الفطر کے دن نمازِ عید سے پہلے کچھ کھانا مسنون ہے۔
➋ کھجور کھانا زیادہ افضل ہے۔
➌ طاق عدد میں کھجوریں کھانا سنت کے زیادہ مطابق ہے۔
➍ اگر کھجور میسر نہ ہو تو کوئی اور میٹھی چیز، بلکہ پانی بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
➎ عید الاضحیٰ کے دن اس کے برعکس نماز کے بعد کھانا مسنون ہے۔

44 📗 شوال کے چھ روزے

شوال کے چھ روزوں کی فضیلت یہ ہے کہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد اگر یہ چھ روزے بھی رکھ لیے جائیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایسا ہے جیسے اس نے پورا سال روزے رکھے۔
اس حوالے سے رسول اللہ ﷺ کی چند صحیح احادیث ملاحظہ فرمائیں:

╭───────────────╮
➊ پہلی حدیث: حدیثِ ابی ایوب رضی اللہ عنہ
╰───────────────╯

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ]

ترجمہ:
جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے، تو یہ اجر میں ایسا ہے جیسے پورے سال کے روزے ہوں۔

📚 حوالہ:
[صحيح مسلم: 1164، کتاب الصيام، باب استحباب صوم ستة أيام من شوال إتباعا لرمضان
سنن ابی داؤد: 2433، کتاب الصوم، باب في صوم ستة أيام من شوال
جامع ترمذی: 759، کتاب الصوم، باب ما جاء في صيام ستة أيام من شوال
سنن ابن ماجة: 1716، كتاب الصيام، باب صيام ستة أيام من شوال
سنن الدارمي: 1754
مسند احمد: 417/5، 419
صحيح ابن خزيمة: 1967
صحیح ابن حبان: 3634
سنن الكبرى: 292/4
مسند ابی داؤد طیالسی: 595
مسند حمیدی: 384، 385
مصنف عبدالرزاق: 7921
مصنف ابن ابي شيبة: 9811
شرح السنة: 1780]

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1164/

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2433/

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/759/

╭───────────────╮
➋ دوسری حدیث: حدیثِ ثوبان رضی اللہ عنہ
╰───────────────╯

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[مَنْ صَامَ سِتَّةَ أَيَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ كَانَ تَمَامَ السَّنَةِ، مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا]

ترجمہ:
جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے، اس کے لیے اجر میں پورے سال کے روزے ہیں۔ جو کوئی ایک نیکی کرتا ہے، اسے اس کا اجر دس گنا ملتا ہے۔

📚 حوالہ:
[سنن ابن ماجة: 1715، كتاب الصيام، باب صيام ستة أيام من شوال
سنن الدارمي: 1762
صحيح ابن خزيمة: 2115
مسند احمد: 280/5
صحيح ابن حبان: 3635
مسند بزار: 4178
السنن الكبرى للنسائي: 2874
المعجم الكبير: 1451
المعجم الاوسط: 7607
شعب الإيمان: 3460، 3461
شرح مشكل الآثار: 2349]

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1715/

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-khuzaimah/2115/

╭───────────────╮
➌ تیسری حدیث: حدیثِ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ
╰───────────────╯

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتَّةَ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ السَّنَةَ كُلَّهَا]

ترجمہ:
جس نے رمضان کے روزوں کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے، گویا کہ اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔

📚 حوالہ:
[مسند احمد: 308/3، 319
السنن الكبرى للبيهقي: 292/4
المعجم الاوسط: 3192، 4642، 8979
شعب الإيمان: 3459
شرح مشكل الآثار: 2350]

🔗 https://tohed.com/hadith/fath-al-rabbani/3963/

╭───────────────╮
➍ ایک اہم تنبیہ
╰───────────────╯

اس مسئلے پر اتنی زیادہ صحیح احادیث ہونے کے باوجود، مشہور حنفی دیوبندی مفتی زرولی صاحب نے منکرینِ حدیث کی روش پر چلتے ہوئے شوال کے چھ روزوں کا انکار کیا ہے۔

🎥 ملاحظہ کیجیے یہ ویڈیو:
🔗 https://www.youtube.com/watch?v=zyxbmznHkqw

موصوف نے اس موضوع پر ایک کتابچہ بھی لکھا ہے، جس کا نام ہے:

احسن المقال في كراهية ستة شوال

اس کتابچے میں پیش کردہ تمام باطل تاویلات و فضولیات کا مدلل جواب یہاں ملاحظہ کریں:

📘 شوال کے چھ روزے اور مفتی زرولی کے پیش کردہ اعتراضات و شبہات کا تحقیقی جائزہ

🔗 Link: https://tohed.com/d31164

╭───────────────╮
➤ خلاصۂ کلام
╰───────────────╯

شوال کے چھ روزے رسول اللہ ﷺ کی صحیح احادیث سے ثابت ہیں، اور ان کی فضیلت یہ ہے کہ رمضان کے بعد انہیں رکھنے والا پورے سال کے روزوں کا اجر پاتا ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ ہمیں سنتِ نبوی ﷺ کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے، اور ہر قسم کے شبہات و باطل تاویلات سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

45 🌿 صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا منع ہے

اس کی دلیل درج ذیل احادیث ہیں:

📖 حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ

عن محمد ابن عباد قال: سألت جابر بن عبد الله رضي الله عنهما وهو يطوف بالبيت، أنهى رسول الله ﷺ عن صيام يوم الجمعة؟ فقال: نعم ورب هذا البيت۔

”حضرت محمد بن عباد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے تھے۔ اس موقع پر میں نے پوچھا: کیا واقعی رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس گھر کے رب کی قسم! آپ ﷺ نے واقعی منع فرمایا ہے۔“

📚 [صحيح مسلم، كتاب الصيام، باب كراهية صيام يوم الجمعة منفردًا، ح: 1143]
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1143/

🌿 البتہ اگر کوئی جمعہ کے ساتھ جمعرات یا ہفتہ کے دن کا روزہ بھی رکھے تو کوئی حرج نہیں۔

📖 حدیثِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال:
لا يصم أحدكم يوم الجمعة إلا أن يصوم قبله أو يصوم بعده۔

”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
تم میں سے کوئی صرف جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے، الا یہ کہ اُس سے پہلے (جمعرات) یا اُس کے بعد (ہفتہ) کا روزہ بھی رکھے۔“

📚 [صحيح البخاري، كتاب الصوم، باب صوم يوم الجمعة، ح: 1985، وصحيح مسلم، كتاب الصيام، باب كراهية صيام يوم الجمعة منفردًا، ح: 1144]
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1985/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1144/

🌿 اگر کسی کا روزہ کسی مقررہ تاریخ کا ہو اور اُس دن جمعہ آ جائے تو پھر کوئی حرج نہیں۔
مثلاً یومِ عرفہ (9 ذی الحجہ) کا روزہ جمعہ کے دن آ جائے۔

اس ضمن میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ولا تخصوا يوم الجمعة بصيام من بين الأيام، إلا أن يكون في صوم يصومه أحدكم۔

”عام دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزے کے لیے مخصوص نہ کرو، الا یہ کہ تمہارے کسی مقررہ روزے کا دن جمعہ کو آ جائے۔“

📚 [صحيح مسلم، كتاب الصيام، باب كراهية صيام يوم الجمعة منفردًا، ح: 1144]
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1144/

🌿 اگر کسی نے صرف جمعہ کے دن ہی روزہ رکھنے کا ارادہ کیا ہو تو ایسی صورت میں روزہ توڑ دینا چاہیے۔

📖 حدیثِ جویریہ رضی اللہ عنہا

عن جويرية رضي الله عنها أن النبي ﷺ دخل عليها يوم الجمعة وهي صائمة، فقال: أصمت أمس؟ قالت: لا۔ قال: تريدين أن تصومي غدًا؟ قالت: لا۔ قال: فأفطري۔

”ام المؤمنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے روز اُن کے پاس تشریف لائے اور وہ روزے سے تھیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم کل روزہ رکھو گی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر روزہ کھول دو۔“

📚 [صحيح البخاري، كتاب الصوم، باب صوم يوم الجمعة، ح: 1986، ومسند أحمد 6/324]
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1986/

🌙 اسی طرح صرف جمعہ کی رات (یعنی جمعرات کے بعد آنے والی رات) کو نوافل وغیرہ کے لیے خاص کرنا بھی شرعاً منع ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

لا تختصوا ليلة الجمعة بقيام من بين الليالي۔

”عام راتوں میں سے جمعہ کی رات کو نوافل وغیرہ کے اہتمام کے لیے خاص نہ کرو۔“

📚 [صحيح مسلم، كتاب الصيام، باب كراهة صيام يوم الجمعة منفردة، ح: 1144]
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1144/

✅ خلاصہ مسئلہ:
➊ صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنا منع ہے۔
➋ اگر جمعرات یا ہفتہ ساتھ ملا لیا جائے تو جائز ہے۔
➌ اگر روزہ کسی مقررہ دن کا ہو اور اتفاقاً جمعہ آ جائے تو جائز ہے۔
➍ صرف جمعہ کی رات کو عبادت کے لیے خاص کرنا بھی منع ہے۔