1 📘 رؤیتِ ہلال کی اہمیت
①
أحصوا هلال شعبان لرمضان۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
”شعبان کے چاند کو رمضان کے لیے اچھی طرح شمار کرو اور یاد رکھو۔“
📚 سنن الترمذي: 687 الصوم
📚 مستدرك الحاكم: ج 1 ص 425
📚 سنن الدار قطنی: ج 2 ص 163
📖 بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
🔎 دیکھئے: سلسلة الأحاديث الصحيحه: 565
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/687/
②
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول نقل فرماتی ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتحفظ من شعبان ما لا يتحفظ لغيره فإن غم عليه عد ثلاثين يوما ثم صام۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے چاند یا دنوں کو یاد رکھنے میں جس قدر اہتمام سے کام لیتے تھے، اس قدر کسی دوسرے ماہ کے دنوں کو یاد رکھنے کا اہتمام نہیں فرماتے تھے۔ پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے، لیکن اگر انتیسویں شعبان کی شام کو بدلی چھا جاتی تو تیس کی گنتی پوری کرتے، اس کے بعد روزہ رکھتے۔
📚 سنن ابو داود: 2325 الصوم
📚 صحیح ابن خزیمه: 1910 ج 3 ص 203
📚 صحیح ابن حبان الموارد: 869
🔎 دیکھئے: صحیح سنن أبی داود ج 3 ص 50
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2325/
یعنی ماہِ شعبان کے دنوں کو شمار کرتے اور انہیں یاد رکھنے میں اہتمام سے کام لیتے تاکہ رمضان کے روزے اپنی صحیح تاریخوں میں رکھے جا سکیں، ایسا نہ ہو کہ شعبان کے دنوں کے شمار میں بھول ہو جائے تو رمضان کے روزے خطرے میں پڑ جائیں، واللہ اعلم۔
📚 المرعاة: ج 6 ص 451
مذکورہ حدیثوں سے پتہ چلتا ہے کہ:
① رؤیتِ ہلال کے اہتمام کا حکم ہے، خاص کر شعبان و رمضان کا۔
② شعبان کے چاند اور دنوں کے اہتمام میں محنت سے کام لینا اس بات کی دلیل ہے کہ دوسرے مہینوں کے چاند کا بھی عمومی اہتمام کرنا چاہیے۔
③ ہر ماہ کے چاند اور ان کے اہتمام کا ثبوت درج ذیل حدیثوں سے بھی ہوتا ہے:
🔹 الف:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
أوصاني خليلي بثلاث لا أدعهن حتى أموت – صيام ثلاثة أيام من كل شهر وصلاة الضحى ونوم على الوتر۔
میرے خلیل (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے جنہیں میں مرتے دم تک نہیں چھوڑ سکتا، ہر مہینہ کے تین روزے، چاشت کی نماز اور سونے سے قبل وتر کی نماز پڑھنا۔
📚 صحيح البخاری: 1981 الصوم، باب صيام البيض ثلاث عشرة أربع عشرة وخمس عشرة
📚 صحیح مسلم: 720 کتاب صلاة التطوع: باب نمبر 10
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1981/
یہی وصیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ (صحیح مسلم: 722، صلاة التطوع – سنن أبي داود: 1433 الصلاة دیکھئے: صحيح الترغيب والترهيب ج 1 ص 598) اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ (مسند أحمد: ج 5 ص 173 – سنن النسائي: 2406 الصوم – صحيح ابن خزيمه: 3 ص 144) کو بھی فرمائی تھی۔
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/722/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/2406/
صرف یہی چند صحابہ رضی اللہ عنہم نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ترغیبی حکم تھا۔
حضرت قدامہ بن ملحان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمرنا بصيام أيام البيض ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة وقال هن كهيئة الدهر۔
”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ایامِ بیض کے روزے رکھیں یعنی 13، 14 اور 15 تاریخ کو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ان دنوں کا روزہ رکھنا گویا پورے سال کا روزہ رکھنا ہے۔“
📚 سنن ابو داود: 2449 الصوم
📚 سنن النسائي: 2432 الصوم
📚 سنن ابن ماجه: 1707 الصيام
📖 بروايت قدامة بن ملحان
🔎 دیکھئے: صحيح الترغيب ج 1 ص 603
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2449/
ب:
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ماہِ نو کو دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے:
اللهم أهلله علينا باليمن والإيمان والسلامة والإسلام ربي وربك الله۔
”اے اللہ تعالیٰ! اس چاند کو ہمارے اوپر امن و ایمان اور سلامتی و اسلام کے ساتھ طلوع فرما۔ اے چاند! میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔“
📚 مسند احمد: ج 1 ص 162
📚 سنن الترمذى: 3451 الدعوات
📚 مستدرك الحاكم: ج 4 ص 285
🔎 دیکھئے: الصحيحة: 1816
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/3451/
دعاء کے الفاظ اور عمومی طور پر حدیث کے الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رؤیتِ ہلال کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ رؤیتِ ہلال ایک اہم شرعی عمل ہے، اس کا اہتمام کرنا اور چاند دیکھنے کے بعد یہ دعاء پڑھنا تقرب الی اللہ کا ذریعہ ہے۔
واللہ اعلم۔