واٹساپ دعوتی مواد رکعات تراویح

رکعات تراویح

9 پیغامات

1 📘 مسنون تراویح مع وتر — گیارہ رکعات

امّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

﴿
كان رسولُ الله ﷺ يُصَلِّي فيما بين أن يَفْرُغَ من صلاةِ العِشاءِ، وهي التي يَدْعُو الناسُ العَتَمَةَ، إلى الفجرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ بين كلِّ رَكْعَتَيْنِ، ويُوتِرُ بواحدة

ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد صبح تک گیارہ رکعات پڑھتے تھے، ہر دو رکعات پر سلام پھیرتے تھے، اور ایک وتر پڑھتے تھے۔ عشاء کی نماز کو لوگ ”عَتمہ“ بھی کہتے ہیں۔

📚 حوالہ:
صحیح مسلم: 254/1، حدیث: 736
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/736/

ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے
امّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا:
رسول اللہ ﷺ کی رمضان میں رات کی نماز (تراویح) کیسی ہوتی تھی؟
تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

﴿
ما كان يزيد في رمضان ولا في غيره على إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَة

ترجمہ:
رمضان ہو یا غیر رمضان، رسول اللہ ﷺ گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔

📚 حوالہ:
صحیح بخاری: 269/1
عمدۃ القاری: 128/11
(کتاب الصوم، کتاب التراویح، باب فضل من قام رمضان)
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1147/

سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

﴿
صَلَّى بنا رسولُ الله ﷺ في رمضانَ ثمانَ رَكَعَاتٍ والوترَ

ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں رمضان میں نماز پڑھائی، آپ ﷺ نے آٹھ رکعات اور وتر پڑھے۔

📚 حوالہ:
صحیح ابن خزیمہ: 138/2، حدیث: 1070
صحیح ابن حبان: 2406
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-khuzaimah/1070/

سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

میں نے رمضان میں آٹھ رکعات اور وتر پڑھے، اور نبی ﷺ کو اس کی خبر دی،
تو آپ ﷺ نے کچھ بھی نہیں فرمایا۔

ترجمہ:
پس یہ رضامندی والی سنت بن گئی۔

📚 حوالہ:
مسند ابی یعلی: 336/3، حدیث: 1801
📌 نورالدین ہیثمی رحمہ اللہ: ﴿ إسناده حسن ﴾
📚 مجمع الزوائد: 74/2

2 📘 آثارِ صحابہ و ائمہ — تراویح گیارہ رکعات

سیدنا امیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا حکم

عربی متن:
أنَّ عُمَرَ بنَ الخطابِ رضيَ اللهُ عنهُ أَمَرَ أُبَيَّ بنَ كعبٍ وتميمَ الداريِّ رضيَ اللهُ عنهما أنْ يَقوما للناسِ في رمضانَ بإحدى عشرةَ ركعة

ترجمہ:
سیدنا امیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ اور سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو رمضان میں رات کے وقت گیارہ رکعات پڑھائیں۔

📚 حوالہ:
موطا امام مالک: ص 98، حدیث: 249
🔗 https://tohed.com/hadith/muwatta-malik-yahya/249/

تصحیحِ اثر — اقوالِ علماء

عربی متن:
وإسناده صحيح

ترجمہ:
اس کی سند صحیح ہے۔

📚 حوالہ:
محمد بن علی النیموی رحمہ اللہ (متوفی 1322ھ)
آثار السنن: ص 250

مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت

عربی متن:
إنَّ عمرَ جمعَ الناسَ على أُبَيِّ وتميمٍ فكانا يُصَلِّيَانِ إحدى عشرةَ ركعة

ترجمہ:
بے شک عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اُبی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہما پر جمع کیا، پس وہ دونوں گیارہ رکعات پڑھاتے تھے۔

📚 حوالہ:
مصنف ابن ابی شیبہ
نیز: تاریخ المدینہ — عمر بن شبہ رحمہ اللہ (متوفی 262ھ): 713/2
📌 اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے۔

سیدنا السائب بن یزید رضی اللہ عنہ کی روایت

عربی متن:
كُنَّا نَقُومُ في زمانِ عمرَ بنِ الخطابِ رضيَ اللهُ عنهُ بإحدى عشرةَ ركعة

ترجمہ:
ہم سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں گیارہ رکعات پڑھتے تھے۔

📚 حوالہ:
سنن سعید بن منصور — بحوالہ الحاوی للفتاوی: 1/349
حاشیہ آثار السنن: ص 250

📌 علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ (متوفی 911ھ) فرماتے ہیں:
عربی متن: بسندٍ في غايةِ الصحة
ترجمہ: نہایت اعلیٰ درجے کی صحیح سند کے ساتھ ہے۔

📚 حوالہ:
المصابیح في صلاة التراويح للسيوطي: ص 15
الحاوی للفتاوی: 1/350

سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث

عربی متن:
إنَّهُ من قامَ معَ الإمامِ حتى ينصرفَ كُتِبَ لهُ قيامُ ليلةٍ

ترجمہ:
جو شخص امام کے ساتھ قیام کرتا ہے یہاں تک کہ امام فارغ ہو جائے، اس کے نامۂ اعمال میں پوری رات کے قیام کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔

📚 حوالہ:
جامع ترمذی: ج 1، ص 162، حدیث: 802

📌 امام ترمذی رحمہ اللہ:
عربی متن: هذا حديثٌ حسنٌ صحيح
ترجمہ: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

انور شاہ کشمیری دیوبندی (متوفی 1352ھ) کا بیان

عربی متن:
ولا مناصَ من تسليمِ أنَّ تراويحَهُ عليهِ السلامُ كانت ثمانَ ركعاتٍ، ولم يثبتْ في روايةٍ من الرواياتِ أنَّهُ عليهِ السلامُ صلَّى التراويحَ والتهجُّدَ عليحدةً في رمضان

ترجمہ:
اس بات کو تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ نبی ﷺ کی تراویح آٹھ رکعات تھیں، اور کسی ایک روایت سے بھی یہ ثابت نہیں کہ آپ ﷺ نے رمضان میں تراویح اور تہجد الگ الگ پڑھی ہوں۔

مزید وضاحت — انور شاہ کشمیری

عربی متن:
وأمَّا النَّبيُّ ﷺ فصحَّ عنهُ ثمانُ ركعاتٍ، وأمَّا عشرونَ ركعةً فهو عنهُ ﷺ بسندٍ ضعيفٍ، وعلى ضعفِه اتفاق

ترجمہ:
نبی ﷺ سے آٹھ رکعات صحیح ثابت ہیں، اور بیس رکعات والی روایت آپ ﷺ سے ضعیف سند کے ساتھ مروی ہے، اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔

📚 حوالہ:
العرف الشذی: 1/166

خلیفۂ راشد سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے متعلق

خلیفۂ راشد سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے بیس رکعات تراویح باسند صحیح متصل قطعاً ثابت نہیں۔
بعض لوگ جو روایات پیش کرتے ہیں وہ یا تو منقطع ہیں یا ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول، فعل یا تقریر سرے سے موجود ہی نہیں۔
لہٰذا ایسی ضعیف، غیر متعلق روایات اور نامعلوم لوگوں کے سخت اختلافی عمل کو،
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صحیح، متصل اور ثابت حکم (گیارہ رکعات) کے مقابل پیش کرنا نہایت ناپسندیدہ طرزِ عمل ہے۔

3 📘 تراویح سے متعلق حدیثِ عائشہؓ پر اعتراض اور اس کا مفصل جواب

❀ بعض لوگوں کا اعتراض:
حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تعلق تراویح سے نہیں بلکہ تہجد سے ہے۔

📖 حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا (صحیح مسلم)

❀ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي فيما بين أن يفرغ من صلاة العشاء وهى التى يدعوا الناس العتمة إلى الفجر إحدي عشرة ركعة يسلم بين كل ركعتيں ويوتر بواحدة إلخ

ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد صبح تک گیارہ رکعات پڑھتے تھے، اور اسی نماز کو لوگ عَتَمہ بھی کہتے تھے۔ آپ ﷺ ہر دو رکعات پر سلام پھیرتے تھے اور ایک وتر پڑھتے تھے۔
📚 صحیح مسلم: 254/1، حدیث: 736
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/736/

📖 حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا (صحیح بخاری)

❀ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا:

رسول اللہ ﷺ کی رمضان میں (رات کی) نماز (تراویح) کیسی ہوتی تھی؟

تو آپؓ نے فرمایا:

ما كان يزيد فى رمضان ولا فى غيره على إحدي عشرة ركعة إلخ

ترجمہ:
رمضان ہو یا غیر رمضان، رسول اللہ ﷺ گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔
📚 صحیح بخاری: 229/1، حدیث: 2013
📚 عمدة القاري: 128/11
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2013/

❓ اعتراض

یہ حدیث تہجد کے بارے میں ہے، تراویح کے بارے میں نہیں؟

✅ جواب (تفصیلی دلائل کے ساتھ)
✦ بنیادی اصول

تہجد، تراویح، قیام اللیل، قیام رمضان اور وتر — یہ سب ایک ہی نماز کے مختلف نام ہیں۔

🔹 دلیل ①

نبی کریم ﷺ سے تہجد اور تراویح کو الگ الگ پڑھنا قطعاً ثابت نہیں۔

🔹 دلیل ②

ائمۂ محدثین نے حدیثِ عائشہؓ پر قیامِ رمضان اور تراویح کے ابواب قائم کیے ہیں، مثلاً:

● صحیح بخاری
کتاب الصوم → کتاب صلوٰۃ التراویح → باب فضل من قام رمضان

● موطا محمد بن الحسن الشیبانی (ص 141)
باب: قيام شهر رمضان وما فيه من الفضل

◈ مولوی عبدالحئی لکھنوی حاشیہ میں لکھتے ہیں:

قيام شهر رمضان ويسمى التراويح
یعنی قیامِ رمضان ہی تراویح کہلاتا ہے۔

● السنن الکبری للبیہقی
📚 2/495–496
باب: ما روي في عدد ركعات القيام في شهر رمضان

🔹 دلیل ③

کسی معتبر محدث یا فقیہ نے یہ نہیں کہا کہ حدیثِ عائشہؓ کا تعلق تراویح سے نہیں۔

🔹 دلیل ④

اس حدیث کو متعدد ائمہ نے بیس رکعات والی موضوع و منکر روایت کے مقابلے میں بطورِ دلیل پیش کیا، مثلاً:

◈ علامہ زیلعی حنفی — نصب الرايہ 2/153
◈ حافظ ابن حجر عسقلانی — الدراية 1/203
◈ علامہ ابن ہمام حنفی — فتح القدير 1/467
◈ علامہ عینی حنفی — عمدة القاري 11/128
◈ علامہ سیوطی — الحاوي للفتاوي 1/348
وغیرہم

🔹 دلیل ⑤

سائل نے سوال قیامِ رمضان (تراویح) کے بارے میں کیا تھا، تہجد کے بارے میں نہیں۔
ام المؤمنین عائشہؓ نے جواب میں نبی ﷺ کے رمضان و غیر رمضان دونوں کے قیام کی وضاحت فرمائی،
لہٰذا گیارہ رکعات تراویح کا ثبوت صریح ہے۔
📚 ملخصاً من خاتمہ اختلاف: ص 64

🔹 دلیل ⑥

بعض لوگوں کا دعویٰ ہے:

▪ نبی ﷺ نے 23 رکعات تراویح (3+20)
▪ اور اسی رات 11 رکعات تہجد (3+8)

❗ اشکال:
اس طرح تو ایک ہی رات میں دو وتر لازم آتے ہیں، حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا:

لا وتران في ليلة
ایک رات میں دو وتر نہیں ہوتے۔

📚 ترمذی: 470
📚 ابوداؤد: 1439
📚 نسائی: 1678
📚 صحیح ابن خزیمہ: 1101
📚 صحیح ابن حبان: 1671

↰ امام ترمذی فرماتے ہیں:

هذا حديث حسن غريب
اور اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

🔹 چونکہ نبی ﷺ کے قول و فعل میں تضاد نہیں، اس لیے ثابت ہوا کہ:
✔ ایک رات میں صرف ایک وتر
✔ کل قیام گیارہ رکعات
✔ 23 رکعات کا دعویٰ باطل

🔹 دلیل ⑦

مولوی انور شاہ کشمیری دیوبندی نے تسلیم کیا:

تہجد اور تراویح ایک ہی نماز ہے، ان میں کوئی فرق نہیں۔

📚 فیض الباری 2/420
📚 العرف الشذی 1/166

؏ گھر کو آگ لگ گئی، گھر کے چراغ سے

🔹 دلیل ⑧

امیر المؤمنین سیدنا عمر بن الخطابؓ بھی تہجد اور تراویح کو ایک ہی سمجھتے تھے۔
📚 فیض الباری 2/420

🔹 دلیل ⑨

متعدد علماء نے اس شخص کو تہجد پڑھنے سے منع کیا جس نے تراویح پڑھ لی ہو۔
📚 قيام الليل للمروزي (بحوالہ فیض الباری 2/420)

↰ یہ واضح دلیل ہے کہ ان کے نزدیک تہجد اور تراویح ایک ہی نماز ہے۔

🔹 دلیل ⑩

سیدنا جابر بن عبداللہ الانصاریؓ کی روایت:

صلى بنا رسول الله ﷺ في رمضان ثمان ركعات والوتر

یہ روایت بھی اس موقف کی تائید کرتی ہے، جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔

✅ نتیجہ

✔ حدیثِ عائشہؓ کا تعلق یقیناً تراویح سے ہے
✔ تہجد اور تراویح میں فرق کرنا باطل ہے

وَتِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ✦

4 📘 آٹھ رکعت تراویح پر حدیثِ سیدنا جابرؓ اور اس پر کیے جانے والے اعتراضات کا جائزہ

❀ حدیثِ جابر الانصاری رضی اللہ عنہ
سیدنا جابر الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

ہمیں رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں نماز پڑھائی۔
آپ ﷺ نے آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھے۔

📖 [صحيح ابن خزيمه: 138/2، ح: 1070
صحيح ابن حبان (الاحسان): 62، 64/4، ح: 2401، 2406]
https://tohed.com/hadith/ibn-khuzaimah/1070/

❖ پہلا اعتراض

🔸 اعتراض:
اس روایت کی سند میں محمد بن حمید الرازی ہے جو کذاب ہے۔
📚 [مختصر قيام الليل للمروزي: ص 197]

🔹 جواب:

یہ روایت یعقوب بن عبداللہ القمی سے صرف محمد بن حمید ہی نہیں بلکہ کئی دوسرے ثقہ و صدوق رواۃ نے بھی بیان کی ہے، مثلاً:

➊ جعفر بن حمید الکوفی
📚 [الكامل لابن عدي: 1889/5، المعجم الصغير للطبراني: 190/1]

➋ ابوالربیع
📚 [الزهراني / مسند ابي يعلی: 336/3، 337، ح: 1801
صحيح ابن حبان: 2401، 2406]

➌ عبدالاعلی بن حماد
📚 [مسند ابي يعلی: 336/3، ح: 1801
الكامل لابن عدي: 1888/5]

➍ مالک بن اسماعیل
📚 [صحيح ابن خزيمه: 138/2، ح: 1070]

➎ عبید اللہ (ابن موسی)
📚 [صحيح ابن خزيمه: 138/2، ح: 1070]

↰ یہ تمام رواۃ ثقہ و صدوق ہیں
لہٰذا صرف محمد بن حمید پر اعتراض غلط اور مردود ہے۔

❖ دوسرا اعتراض

🔸 اعتراض:
سند میں یعقوب القمی ضعیف ہے، امام دارقطنی نے کہا:

ليس بالقوي

🔹 جواب:

یعقوب القمی جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ ہے:

➊ امام نسائی: لیس بہ باس
➋ امام طبرانی: ثقه
➌ ابن حبان: کتاب الثقات میں ذکر کیا اور حدیث صحیح قرار دی
➍ جریر بن عبدالحمید: مومن آل فرعون کہا
➎ امام ابن مہدی نے اس سے روایت لی
📚 [تهذيب التهذيب: 342/11، 343]
◈ اور ابن مہدی صرف ثقہ سے روایت کرتے ہیں
📚 [تدريب الراوي: 317/1]

➏ حافظ ذہبی: صدوق
📚 [الكاشف: 255/3]

➐ ابن خزیمہ: حدیث حسن
➑ نورالدین ہیثمی: حدیث حسن
➒ امام بخاریؒ نے تعلیقات میں روایت لی اور التاریخ الکبیر میں طعن نہیں کیا
📚 [التاریخ الکبیر: 391/8، ح: 3443]
↰ بقول تھانوی: یہ بخاریؒ کے نزدیک ثقاہت کی دلیل ہے
📚 [قواعد فی علوم الحدیث: ص 136]

➓ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں اس کی منفرد حدیث پر سکوت کیا
📚 [فتح الباری: 12/3، تحت ح: 1129]
↰ دیوبندی اصول کے مطابق یہ سکوت تحسینِ حدیث ہے
📚 [قواعد فی علوم الحدیث: ص 55]

✦ وتلك عشرة كاملة

❖ تیسرا اعتراض

🔸 اعتراض:
سند میں عیسی بن جاریہ ضعیف ہے، بعض نے منکر الحدیث کہا۔

🔹 جواب:

عیسی بن جاریہ جمہور کے نزدیک ثقہ، صدوق یا حسن الحدیث ہے:

➊ ابو زرعہ: لا بأس به
➋ ابن حبان: الثقات میں ذکر
➌ ابن خزیمہ: حدیث صحیح
➍ نورالدین ہیثمی: حدیث صحیح
📚 [مجمع الزوائد: 72/2]
◈ اور ثقہ کہا
📚 [مجمع الزوائد: 185/2]

➎ البوصیری: حدیث حسن
📚 [زوائد سنن ابن ماجہ، حدیث: 4241]

➏ امام ذہبی: اسناده وسط
➐ امام بخاری: التاریخ الکبیر میں ذکر، کوئی جرح نہیں
📚 [385/6]

➑ حافظ ابن حجر: فتح الباری میں سکوت
📚 [10/3، تحت ح: 1129]

➒ حافظ منذری: باسناد جيد
📚 [الترغيب والترهيب: 507/1]

➓ ابوحاتم الرازی: ذکر کیا، کوئی جرح نہیں
📚 [الجرح والتعديل: 273/6]
↰ دیوبندی اصول کے مطابق ابوحاتم کا سکوت توثیق ہے
📚 [قواعد فی علوم الحدیث: ص 247]

✦ لہٰذا یہ سند حسن ہے
وتلك عشرة كاملة

📌 خلاصہ:
حدیثِ سیدنا جابرؓ آٹھ رکعت تراویح کے ثبوت میں سنداً و متناً قابلِ حجت ہے، اور اس پر کیے گئے اعتراضات علمی طور پر کمزور اور ناقابلِ اعتماد ہیں۔

5 🌙✨ گیارہ رکعاتِ تراویح اور سنتِ فاروقی رضی اللہ عنہ ✨🌙

❀ سیدنا امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا اُبیّ بن کعب اور سیدنا تمیم الداری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو (رمضان میں رات کے وقت) گیارہ رکعات پڑھائیں۔

📖 موطا امام مالک : 114/1، ح 249
📖 السنن الکبریٰ للبیہقی : 496/2

🔗 https://tohed.com/hadith/muwatta-malik-yahya/249/

📚 یہ حدیث متعدد کتب میں موجود ہے، مثلاً:

① شرح معانی الآثار — 293/1 (واحتج به)
② المختارة للحافظ ضیاء المقدسی — (بحوالہ کنزالعمال : 407/8 ح 23465)
③ معرفۃ السنن والآثار للبیہقی — 305/2 ح 1366 ب
④ قیام اللیل للمروزی — ص 200
⑤ مصنف عبدالرزاق — (بحوالہ کنزالعمال : ح 23465)
⑥ مشکوٰۃ المصابیح — ص 115 ح 1302
⑦ شرح السنۃ للبغوی — 120/4 تحت ح 990
⑧ المہذب فی اختصار السنن الکبیر للذہبی — 461/2
⑨ کنزالعمال — 407/8 ح 23465
⑩ السنن الکبریٰ للنسائی — 113/3 ح 4687
وغیرہم۔

📌 اس فاروقی حکم کی سند بالکل صحیح ہے۔

🔎 دلائل ملاحظہ فرمائیں:

➊ اس کے تمام راوی نہایت ثقہ اور مضبوط ہیں۔
➋ اس سند کے کسی راوی پر کوئی جرح ثابت نہیں۔
➌ اسی سند کے ساتھ ایک روایت صحیح بخاری، کتاب الحج میں بھی موجود ہے۔ (ح 1858)
➍ شاہ ولی اللہ دہلوی نے "اہل الحدیث" سے نقل کیا ہے کہ موطا کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
📖 حجة الله البالغة : 241/2 (اردو)
➎ جناب طحاوی حنفی نے لهذا يدل کہہ کر اس اثر کو بطورِ حجت پیش کیا ہے۔
📖 معانی الآثار : 193/1
➏ ضیاء المقدسی نے المختارہ میں اسے لا کر اس کے صحیح ہونے کو ثابت کیا ہے۔
📖 اختصار علوم الحدیث : ص 77
➐ امام ترمذی نے اسی جیسی ایک سند کے بارے میں فرمایا: حسن صحیح (ح 926)
➑ متقدمین میں سے کسی محدث نے بھی اسے ضعیف قرار نہیں دیا۔
➒ علامہ باجی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو تسلیم کیا ہے۔
📖 موطا بشرح الزرقانی : 238/1 ح 249
➓ محمد بن علی النیموی (متوفی 322ھ) نے فرمایا:
واسناده صحيح
📖 آثار السنن : ص 250

📌 لہٰذا بعض متعصب لوگوں کا پندرہویں صدی میں اسے مضطرب کہنا باطل اور بے بنیاد ہے۔

🌟 سنتِ خلفائے راشدین کا وجوبِ اتباع 🌟

❀ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

فمن أدرك منكم فعليه بسنتي و سنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجد

"پس تم میں سے جو یہ (اختلاف) پائے تو اس پر لازم ہے کہ میری سنت اور میرے خلفائے راشدین مہدیین کی سنت کو لازم پکڑ لے، اور اسے اپنے دانتوں سے مضبوطی سے تھام لے۔"

📖 سنن ترمذی : 96/2 ح 2676

↰ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: هذا حديث حسن صحيح

📌 یاد رہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خلیفہ راشد ہونا نصِ صحیح اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔

📌 ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا:

❀ اقتدوا بالذين من بعدي أبى بكر و عمر

"میرے بعد ان دو شخصوں، ابو بکر اور عمر، کی اقتداء (اطاعت) کرنا۔"

📖 سنن ترمذی : 207/2 ح 3662
📖 سنن ابن ماجہ : 97

↰ امام ترمذی نے فرمایا: هذا حديث حسن

📌 نتیجہ واضح ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فاروقی حکم حدیثِ مرفوع کے حکم میں ہے، جبکہ دیگر مرفوع احادیث بھی اس کی تائید کرتی ہیں، اور ایک بھی صحیح مرفوع حدیث اس کے مخالف ثابت نہیں۔

🌙 پس سنتِ نبوی ﷺ اور سنتِ خلفائے راشدین کو مضبوطی سے تھام لینا ہی نجات کا راستہ ہے۔

6 📘 مسئلہ تراویح کے ایک اشتہار میں موجود بیس رکعات تراویح سے متعلق روایات کا جائزہ

🔹 قولہ : حدیث نمبر 1 :

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں بیس رکعت تراویح اور وتر پڑھتے تھے۔
📖 مصنف ابن ابي شيبه : 393/2

🔸 جواب :

یہ حدیث موضوع اور من گھڑت ہے۔

مصنف ابن ابی شیبہ (394/2) میں یہ روایت ابراهيم بن عثمان عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس کی سند کے ساتھ ہے۔ اس کے راوی ابراہیم کے بارے میں علامہ زیلعی حنفی رحمہ اللہ (متوفی 762ھ) فرماتے ہیں:

📌 قال أحمد : منكر الحديث
امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: یہ منکر احادیث بیان کرتا تھا۔
📖 (نصب الرایہ 53/1)

علامہ زیلعی حنفی نے نصب الرایہ (66/2) میں اس کی ایک حدیث کو ضعیف کہا، اور (ص : 67 پر) بیہقی رحمہ اللہ سے یہ قول نقل کیا ہے:
📌 وهو ضعيف
وہ ضعیف ہے۔

اور (ج 2 ص : 153 پر) ابوالفتح سلیم بن ایوب الرازی الفقیہ سے یہ قول نقل کیا ہے:
📌 وهو متفق على ضعفه
اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔

علامہ عینی حنفی فرماتے ہیں:

📌 كذبه شعبة وضعفه أحمد و ابن معين والبخاري والنسائي وغيرهم وأورد له ابن عدي هذا الحديث فى الكامل فى مناكيره

اسے ابراہیم بن عثمان کو شعبہ نے کاذب (جھوٹا) کہا ہے، اور احمد رحمہ اللہ، ابن معین رحمہ اللہ، بخاری رحمہ اللہ اور نسائی رحمہ اللہ وغیرہ نے ضعیف کہا ہے، اور ابن عدی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”الکامل“ میں اس حدیث کو اس شخص کی منکر روایات میں ذکر کیا ہے۔
📖 (عمدۃ القاری : 128/8)

ابن ہمام حنفی نے ”فتح القدیر“ (333/1) اور عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ نے اپنے فتاویٰ (354/1) میں اس حدیث پر جرح کی ہے۔

انور شاہ کشمیری دیوبندی اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں:

📌 وأما عشرون ركعة فهو عنه عليه السلام بسند ضعيف وعلى ضعفه اتفاق

اور جو بیس رکعت ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضعیف سند کے ساتھ مروی ہیں اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔
📖 (العرف الشذی : 126/1)

ان کے علاوہ اور بھی دیوبندی علماء نے اس حدیث اور اس کے راوی پر جرحیں کی ہیں، مثلاً دیکھئے محمد زکریا کاندھلوی دیوبندی تبلیغی کی ”اوجز المسالک“ (397/1) وغیرہ۔

ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان پر محدثین کی شدید جروح کے لئے دیکھئے:
📖 ”میزان الاعتدال“ (4761)
📖 ”تہذیب التہذیب“ (144/1، 145) وغیرہما۔

علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے راوی پر شدید جرح کی اور کہا:

📌 هذا حديث ضعيف جدا لا تقوم به حجة
📖 (الحاوی : 347/1)

یہ حدیث سخت ضعیف ہے، اس سے حجت قائم نہیں ہوتی۔

لہٰذا اسے کوئی تلقی بالقبول حاصل نہیں ہے، بلکہ بڑے بڑے علماء مثلاً حافظ ذہبی رحمہ اللہ، علامہ زیلعی رحمہ اللہ، علامہ عینی رحمہ اللہ اور ابن ہمام رحمہ اللہ وغیرہما نے تو اسے رد کر دیا ہے، یعنی اس روایت کو تلقی بالرد حاصل ہے۔ لہٰذا ان پڑھ لوگوں کو دھوکا دینا انتہائی قابل مذمت ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔹 قولہ : حدیث نمبر 2 :

یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ لوگوں کو بیس رکعت پڑھائے۔

🔸 جواب :

یہ سند منقطع ہے۔

نیموی صاحب (متوفی 1322ھ) لکھتے ہیں:

📌 قلت : رجاله ثقات لكن يحي بن سعيد الأنصاري لم يدرك عمر
📖 (حاشیہ آثار السنن ص : 253)

میں کہتا ہوں: اس کے راوی سچے ہیں لیکن یحییٰ بن سعید الانصاری رحمہ اللہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔

ایسی منقطع اور بے سند روایات کو انتہائی اہم مسئلہ میں پیش کرنا آخر کون سے دین کی خدمت ہے؟

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📌 جاری ہے۔۔۔

7 📘 بیس رکعات تراویح سے متعلق روایات کا جائزہ

🔹 قولہ : حدیث نمبر 3 :

امام حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے۔
(نسخہ ابو داود)

🔸 جواب :

یہ بات سفید جھوٹ ہے۔

ہمارے پاس سنن ابی داود کا جو نسخہ ہے، اس میں یہ روایت بالکل نہیں ہے۔ ہمارے نسخے (136/2 ح 429 نسخہ مصریہ) میں جو روایت ہے، اس میں الفاظ یہ ہیں:

📌 فكان يصلي لهم عشرين ليلة
📖 (السنن الکبری : 498/2)

یعنی: وہ انہیں بیس راتیں پڑھاتے تھے۔ (الخ کے الفاظ ہیں)

امام بیہقی رحمہ اللہ نے یہی حدیث امام ابوداود رحمہ اللہ سے نقل کی ہے، اس میں بھی بیس راتیں کا لفظ ہے۔

اسی طرح مشکوۃ المصابیح اور تحفۃ الاشراف وغیرہما میں بھی یہی حدیث ابو داود سے بیس راتیں کے لفظ کے ساتھ منقول ہے۔

حافظ زیلعی حنفی نے ”نصب الرایہ“ (126/2) میں ابوداود سے یہی حدیث عشرين ليلة یعنی بیس راتیں کے لفظ کے ساتھ نقل کی ہے۔

اس کے علاوہ اور بھی بہت سے حوالے موجود ہیں۔ انصاف پسند کے لیے یہی کافی ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔹 قولہ : حدیث نمبر 4 :

یزید بن رومان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں رمضان میں 23 رکعات پڑھتے تھے۔

🔸 جواب :

یہ روایت منقطع ہے، جیسا کہ علامہ عینی حنفی نے ”عمدۃ القاری“ (27/11 طبع دار الفکر) میں تصریح کی ہے۔

نیموی نے کہا:

📌 يزيد بن رومان لم يدرك عمر بن الخطاب
📖 (آثار السنن، حاشیہ ص : 253)

یزید بن رومان نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔹 قولہ : حدیث نمبر 5 :

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لوگ رمضان میں 20 رکعات تراویح پڑھا کرتے تھے۔

🔸 جواب :

”بیہقی“ (496/2) میں یہ الفاظ قطعاً نہیں ہیں کہ لوگ عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بیس رکعت پڑھتے تھے، لہٰذا یہ کاتبِ اشتہار کا عثمان رضی اللہ عنہ پر سفید جھوٹ ہے۔

دوسرے یہ کہ اس روایت کا ایک راوی علی بن الجعد تشیع کے ساتھ مجروح ہے۔ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ وغیرہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی تنقیص کرتا تھا۔
(دیکھئے تہذیب التہذیب وغیرہ)

اس کی روایات صحیح بخاری میں متابعات میں ہیں، اور جمہور محدثین نے اس کی توثیق کی ہے، لیکن ایسے مختلف فیہ راوی کی شاذ روایت موطا امام مالک کی صحیح روایت کے خلاف کیوں کر پیش کی جا سکتی ہے؟

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔹 قولہ : حدیث نمبر 6 :

حضرت ابو عبد الرحمن سلمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رمضان میں …. الخ

🔸 جواب :

یہ روایت سخت ضعیف ہے۔

”السنن الکبری للبیہقی“ (496/2) میں اس کا ایک راوی حماد بن شعیب ہے، جسے امام ابن معین رحمہ اللہ، امام نسائی رحمہ اللہ اور امام ابو زرعہ رحمہ اللہ وغیرہما نے ضعیف کہا۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا:
📌 منكر الحديث … تركوا حديثه
📖 (لسان المیزان : 348/2)

اس پر نیموی کی جرح کے لیے دیکھئے:
📖 حاشیہ آثار السنن ص 254

اس کا دوسرا راوی عطاء بن السائب مختلط ہے۔ زیلعی حنفی نے کہا:

📌 لكنه اختلط بآخره وجميع من روى عنه فى الإختلاط إلا شعبة و سفيان
📖 (نصب الرایہ : 58/3)

لیکن وہ آخر میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا، اور تمام جنہوں نے اس سے روایت کی ہے وہ اختلاط کے بعد کی ہے، سوائے شعبہ اور سفیان کے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

❗ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ضعیف، منکر اور موضوع روایات چن چن کر اشتہار چھاپنا بہت ہی بُری بات ہے۔ آخر ایک دن مرنا بھی تو ہے، اس دن کے لیے کیا جواب سوچ رکھا ہے؟

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📌 جاری ہے۔۔۔

8 📘 بیس رکعات تراویح سے متعلق روایات کا جائزہ

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔹 قولہ : حدیث نمبر 7 :

ابوالحسناء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ ۔۔۔

🔸 جواب :

یہ سند بھی ضعیف ہے۔

ابوالحسناء مجہول ہے۔
📖 (تقریب التہذیب : 8053 ص 201 للحافظ ابن حجر)

حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے کہا:
📌 لا يعرف
وہ معروف نہیں ہے۔
📖 (میزان الاعتدال : 515/4)

نیموی نے بھی کہا:
📌 وهو لا يعرف
وہ معروف نہیں ہے۔
📖 (حاشیہ آثار السنن ص 255)

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔹 قولہ : حدیث نمبر 8 :

امام حسین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا: بیس رکعات پڑھاؤ۔۔۔
📖 (مسند زید ص : 139)

🔸 جواب :

کاتبِ اشتہار کا زیدی شیعوں کی من گھڑت ”مسند زید“ سے حوالہ پیش کرنا انتہائی تعجب خیز ہے۔

اس مسند کے راوی عمرو بن خالد الواسطی کو محدثین نے بالاتفاق کذاب اور جھوٹا قرار دیا ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ اور امام ابن معین رحمہ اللہ وغیرہما نے کہا:

📌 كذاب
📖 (تہذیب التہذیب وغیرہ)

وہ زید بن علی رحمہ اللہ سے موضوع روایات بیان کرتا ہے۔
📖 (التہذیب، میزان الاعتدال : 257/3)

اس کا دوسرا راوی عبد العزیز بن اسحاق بن البقال بھی غالی شیعہ اور ضعیف تھا۔
📖 (دیکھئے لسان المیزان : 25/4، تاریخ بغداد 1/458)

اس کتاب میں بہت سی موضوع روایات ہیں، مثلاً دیکھئے:
📖 مسند زید ص : 405

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔹 قولہ : حدیث نمبر 9 :

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیس تراویح پڑھاتے تھے۔
📖 (قیام اللیل ص : 9)

🔸 جواب :

یہ سند منقطع ہے۔

”قیام اللیل للمروزی“ کے ہمارے نسخے میں (صفحہ 20) پر یہ روایت بلا سند اعمش رحمہ اللہ سے منقول ہے۔

”عمدۃ القاری“ (127/11) پر حفص بن غیاث عن الأعمش کے ساتھ اس کی سند مذکور ہے۔

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ 32ھ یا 33ھ میں مدینہ میں فوت ہوئے۔
اعمش رحمہ اللہ 61ھ میں پیدا ہوئے اور مشہور ثقہ مدلس تھے۔

ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان کی پیدائش سے بہت عرصہ پہلے فوت ہو گئے تھے، لہٰذا اس قسم کی منقطع روایت ڈوبتے کو تنکے کا سہارا لینے کے مترادف ہے۔

اس کی سند میں حفص بن غیاث بھی مدلس ہیں اور عن سے روایت کر رہے ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔹 قولہ : حدیث نمبر 10 :

عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو بیس رکعات تراویح اور تین وتر ہی پڑھتے پایا۔
📖 (ابن ابی شیبہ : 393/2)

🔸 جواب :

➊ یہ نہ قرآن ہے، نہ حدیث، نہ اجماع، نہ عملِ خلفائے راشدین، اور نہ ہی عملِ صحابہ رضی اللہ عنہم۔

➋ دوسرے یہ کہ اس ترجمہ میں ہی کا لفظ غلط ہے۔

➌ تیسرے یہ کہ نامعلوم لوگوں کا عمل کوئی شرعی حجت نہیں ہے۔

➍ چوتھے یہ کہ نامعلوم لوگوں کا عمل خلیفۂ راشد کے حکم کے خلاف ہے۔

➎ پانچویں یہ کہ اہلِ مدینہ اکتالیس (41) رکعات پڑھتے تھے۔
📖 (سنن ترمذی : 1/162 ح 802)

کیا ان کا یہ عمل شرعی حجت ہے؟

9 📘 بیس تراویح پر اجماع کا دعویٰ باطل ہے

بیس رکعات تراویح پر اجماع کا دعویٰ درست نہیں۔ ذیل میں مستند ائمہ اور محدثین کے وہ حوالے پیش کیے جا رہے ہیں جن کی روشنی میں اجماع کا دعویٰ باطل ثابت ہوتا ہے:

➊ امام مالک رحمہ اللہ (متوفی 179؁ھ) فرماتے ہیں:

الذى آخذ به لنفسي فى قيام رمضان هو الذى جمع به عمر بن الخطاب الناس إحدي عشرة ركعة وهى صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا أدري من أحدث هذا الركوع الكثير، ذكره ابن مغيث

”میں اپنے لیے قیامِ رمضان (تراویح) گیارہ رکعتیں اختیار کرتا ہوں۔ اسی پر عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا تھا اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ لوگوں نے یہ زیادہ رکعتیں کہاں سے نکال لی ہیں؟ اسے ابن مغیث مالکی نے ذکر کیا ہے۔“

📚 كتاب التهجد : ص 76ا فقره : 890، دوسرا نسخه ص : 287
تصنيف عبدالحق اشبيلي متوفي 581؁ه

🔹 تنبیہ ① امام مالک رحمہ اللہ سے ابن القاسم کی نقل قول مردود ہے۔ دیکھئے:
📚 كتاب الضعفاء لابي زرعة الرازي : ص 534

🔹 تنبیہ ② یونس بن عبداللہ بن محمد بن مغیث المالکی کی کتاب ”المتھجدین“ کا ذکر سیر اعلام النبلاء [570/17] پر بھی ہے۔

◈ عینی حنفی فرماتے ہیں:

وقيل إحدي عشرة ركعة وهو اختيار مالك لنفسه و اختاره أبوبكر العربي

”اور کہا جاتا ہے کہ تراویح گیارہ رکعتیں ہیں، اسے امام مالک رحمہ اللہ اور ابوبکر العربی نے اپنے اپنے لیے اختیار کیا ہے۔“

📚 عمدة القاري : 126/11، ح 2010

➋ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بیس رکعات تراویح باسند صحیح ثابت نہیں ہیں۔ اس کے برعکس حنفیوں کے ممدوح محمد بن الحسن الشیبانی کی ”المؤطا“ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ گیارہ رکعات کے قائل تھے۔

➌ امام شافعی رحمہ اللہ نے بیس رکعات تراویح کو پسند کرنے کے بعد فرمایا:

وليس فى شيء من هذا ضيق ولا حد ينتهي إليه لأنه نافلة فإن أطالوا القيام وأقلوا السجود فحسن وهو أحب إلى و إن أكثر والركوع و السجود فحسن

”اس چیز (تراویح) میں ذرہ برابر تنگی نہیں ہے اور نہ کوئی حد ہے، کیونکہ یہ نفل نماز ہے۔ اگر رکعتیں کم ہوں اور قیام لمبا ہو تو بہتر ہے اور مجھے زیادہ پسند ہے، اور اگر رکعتیں زیادہ ہوں تو بھی بہتر ہے۔“

📚 مختصر قيام الليل للمروزي : ص 202، 203

↰ معلوم ہوا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے بیس کو زیادہ پسند کرنے سے رجوع کر لیا تھا، اور وہ آٹھ اور بیس دونوں کو پسند کرتے تھے، بلکہ آٹھ کو زیادہ بہتر سمجھتے تھے۔ واللہ اعلم۔

➍ امام احمد رحمہ اللہ سے اسحاق بن منصور نے پوچھا کہ رمضان میں کتنی رکعتیں پڑھنی چاہئیں؟ تو انہوں نے فرمایا:

قد قيل فيه ألوان نحوا من أربعين، إنما هو تطوع

”اس کے بارے میں چالیس تک رکعتیں روایت کی گئی ہیں، یہ صرف نفلی نماز ہے۔“

📚 مختصر قيام الليل : ص 202

◈ راوی کہتے ہیں: ولم يقض فيه بشيء
”امام احمد نے اس میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔“

📚 سنن الترمذي : ح 806

↰ معلوم ہوا کہ ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام سے بھی یہ ثابت نہیں کہ بیس رکعات تراویح سنت مؤکدہ ہیں اور ان سے کم یا زیادہ جائز نہیں۔

➎ امام قرطبی رحمہ اللہ (متوفی 656؁ھ) نے فرمایا:

ثم اختلف فى المختار من عدد القيام فعند مالك : أن المختار من ذلك ست و ثلاثون۔۔۔ وقال كثير من أهل العلم : إحدي عشرة ركعة أخذا بحديث عائشة المتقدم

”تراویح کی تعداد میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام مالک نے (ایک روایت میں) چھتیس رکعتیں اختیار کی ہیں۔۔۔ اور کثیر علماء کہتے ہیں کہ گیارہ رکعتیں ہیں، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سابق حدیث سے استدلال کیا ہے۔“

📚 المفهم لما اشكل من تلخيص كتاب مسلم : 389، 390/2

🔹 تنبیہ: حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا ”ما كان يزيد فى رمضان ولا فى غيره على إحدى عشرة ركعة“ کے الفاظ سے المفہم للقرطبی [374/2] میں موجود ہے۔
↰ امام قرطبی رحمہ اللہ کے اس قول سے معلوم ہوا کہ جمہور علماء گیارہ رکعات کے قائل و فاعل ہیں۔

➏ قاضی ابوبکر العربی المالکی رحمہ اللہ (متوفی 543؁ھ) نے فرمایا:

والصحيح أن يصلي احد عشر ركعة صلوة النبى صلى الله عليه وسلم وقيامه فأما غير ذلك من الأعداد، فلا أصل له ولا حد فيه

”اور صحیح یہ ہے کہ گیارہ رکعات پڑھنی چاہئیں، یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور یہی قیام (تراویح) ہے۔ اس کے علاوہ جتنی رکعتیں مروی ہیں ان کی (سنت میں) کوئی اصل نہیں ہے، اور چونکہ یہ نفل ہے اس کی کوئی حد نہیں۔“

📚 عارضة الاحوذي : 19/4 ح 806

➐ عینی حنفی رحمہ اللہ (متوفی 855؁ھ) فرماتے ہیں:

وقد اختلف العلماء فى العدد المستحب فى قيام رمضان على أقوال كثيرة، وقيل إحدي عشرة ركعة

”تراویح کی مستحب تعداد کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، ان کے بہت سے اقوال ہیں۔۔۔ اور کہا جاتا ہے کہ گیارہ رکعتیں ہیں۔“

📚 عمدة القاري : 127، 126/11

➑ علامہ سیوطی رحمہ اللہ (متوفی 911؁ھ) فرماتے ہیں:

أن العلماء اختلفوا فى عددها

”بے شک تراویح کی تعداد میں علماء کا اختلاف ہے۔“

📚 الحاوي للفتاوي : 348/1

➒ ابن ہمام رحمہ اللہ (متوفی 681؁ھ) فرماتے ہیں:

فتحصل من هذا كله أن قيام رمضان سنة إحدي عشرة ركعة بالوتر فى جماعة فعله صلى الله عليه وسلم

”اس ساری بحث سے یہ نتیجہ حاصل ہوا کہ وتر کے ساتھ قیام رمضان گیارہ رکعتیں ہیں، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کے ساتھ پڑھا ہے۔“

📚 فتح القدير شرح الهدايه : 407/1

➓ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

واختلف أهل العلم فى قيام رمضان

”علماء کا قیام رمضان (کی تعداد) میں اختلاف ہے۔“

📚 سنن الترمذي : ح 806

📌 نتیجہ:

ان تمام حوالہ جات سے واضح ہوتا ہے کہ بیس رکعات پر اجماع کا دعویٰ درست نہیں۔ دیوبندیوں اور بریلیوں کا یہ کہنا کہ ”بیس رکعات ہی سنت مؤکدہ ہیں اور ان سے کم یا زیادہ جائز نہیں“ محلِ نظر ہے۔

یہ تمام حوالے انگریزوں کے دور سے پہلے کے ہیں، لہٰذا ثابت ہوا کہ بیس رکعات پر اجماع کا دعویٰ باطل ہے۔