واٹساپ دعوتی مواد رفع سبابہ

رفع سبابہ

7 پیغامات

1 📘 رفع سبابہ یعنی پورے تشہد میں اُنگلی سے اشارہ کرنے پر 25 صحیح احادیث

📘 رفع سبابہ یعنی پورے تشہد میں اُنگلی سے اشارہ کرنے پر 25 صحیح احادیث

1️⃣
عن عبدالله بن الزبير رضى الله عنهما قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قعد فى الصلواة وضع يده اليسرى على ركبته اليسرى، ووضع يده اليمنى على فخذه اليمنى واشار باصبعه
🔹(صحیح مسلم 1192، نووی: باب صفة الجلوس في الصلوة وكيفية وضع اليدين على الفخذين، ابوداؤد 988، وفيه: وأرانا عبدالواحد واشار بالسبابة)

حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں قعدہ (تشہد) فرماتے تو بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھتے اور دائیں ہاتھ کو داہنی ران پر رکھتے اور انگشت شہادت سے اشارہ فرماتے۔

2️⃣
عن عبدالله بن الزبير رضى الله عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قعد يدعو وضع يده اليمنى على فخذه اليمنى، ويده اليسرى على فخذه اليسرى، واشار باصبعه السبابة، ووضع ابهامه على اصبعه الوسطى، ويلقم كفه اليسرى ركبته
🔹(صحیح مسلم 1193)

حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعائے تشہد کے لیے قعدہ فرماتے تو اپنے داہنے ہاتھ کو داہنی ران پر، اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھتے، اور انگشت شہادت سے اشارہ فرماتے، اور اپنا انگوٹھا بیچ والی انگلی پر رکھتے، اور بائیں ہتھیلی کو بایاں گھٹنہ پکڑاتے۔

3️⃣
عن عبدالله بن الزبير رضى الله عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا جلس فى الثنتين او الاربع يضع يديه على ركبتيه، ثم اشار باصبعه
🔹(سنن نسائی 1166، صحیح)

عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعت پر، یا چار رکعت پر بیٹھتے (قعدہ تشہد فرماتے) تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، اور اپنی انگشت (شہادت) سے اشارہ فرماتے۔

4️⃣
عن عبدالله بن الزبير رضى الله عنه كان اذا قعد فى التشهد وضع كفه اليسرى على فخذه اليسرى، واشار بالسبابة، لايجاوز بصره اشارته
🔹(سنن النسائی 1275، سنن ابو داؤد 990، حسن صحیح)

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں قعدہ فرماتے تو اپنی بائیں ہتھیلی کو بائیں ران پر رکھتے، اور (داہنے ہاتھ کی) انگشت شہادت سے اشارہ فرماتے اور اپنی نگاہ اپنے اشارہ سے ہٹاتے نہیں۔

5️⃣

أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ , : قُلْتُ : لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي ؟ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَوَصَفَ , قَالَ : ثُمَّ قَعَدَ وَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى , وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ قَبَضَ اثْنَتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً , ثُمَّ رَفَعَ أُصْبُعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا

🔹(سنن النسائی 1269، و سنده صحيح صحيح ابن خزيمه 714 منتقي ابن الجارود 208 اور صحيح ابن حبان الاحسان: 1857)

´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے ( اپنے جی میں ) کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو دیکھوں گا کہ آپ کیسے پڑھتے ہیں ؟ تو میں نے دیکھا ، پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی کیفیت بیان کی ، اور کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بایاں پیر بچھایا ، اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا ، اور اپنی دائیں کہنی کے سرے کو اپنی دائیں ران پر کیا ، پھر اپنی انگلیوں میں سے دو کو سمیٹا ، اور ( باقی انگلیوں میں سے دو سے ) حلقہ بنایا ، پھر اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسے ہلا رہے تھے ، اس کے ذریعہ دعا مانگ رہے تھے ۔

6️⃣
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ , أَنَّهُ : " رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ ذِرَاعَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ , وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ يَدْعُو بِهَا " .
🔹(سنن نسائي / كتاب السهو / حدیث: 1265، صحیح)

2 📘 رفع سبابہ یعنی پورے تشہد میں اُنگلی سے اشارہ کرنے پر 25 صحیح احادیث

1️⃣2️⃣
عن وائل بن حجر قال أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فرأيته اذا جلس فى الركعتين اضجع اليسرى ونصب اليمنى ووضع يده اليمنى على فخذه اليمنى ونصب اصبعه للدعاء، ووضع يده اليسرى على فخذه اليسرى
🔹(سنن نسائی 1159، صحیح)

1️⃣3️⃣
عن وائل بن حجر قال قلت لأنظرن الى صلوة رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف يصلي فافترش رجله اليسرى ووضع يده اليسرى على فخذه اليسرى وحد مرفقه الايمن على فخذه اليمنى، وقبض ثنتين وحلق ورأيته يقول هكذا واشار بالسبابة من اليمنى، وحلق الابهام والوسطى
🔹(سنن نسائی 1265، سنن ابوداؤد 957، 726 بطریق بشر بن المفضل عن عاصم بن كليب عن ابيه عن وائل بن حجر، نیز ابو داؤد 727 بطریق زائدة عن عاصم بن کلیب باسنادہ ومعناه، صحیح)

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ آپ قعدہ تشہد میں بیٹھے تو بایاں پاؤں بچھایا، اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھا، اور (داہنے ہاتھ کی) دو انگلیوں کو بند کر دیا (یعنی چھنگلی اور اس کے پاس والی انگلی)، اور انگوٹھے اور بیچ والی انگلی سے حلقہ (دائرہ) بنایا، اور انگشت شہادت سے اشارہ فرمایا۔

1️⃣4️⃣
عن وائل بن حجر أنه رأى النبى صلى الله عليه وسلم جلس فى الصلوة فافترش رجله اليسرى ووضع ذراعيه على فخذيه واشار بالسبابة يدعو بها
🔹(سنن النسائی 1264، صحیح)

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں قعدہ تشہد کے لیے بیٹھے تو اپنا بایاں پاؤں بچھا دیا، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی دونوں رانوں پر رکھا، اور انگشت شہادت سے اشارہ کیا، دعا کرتے ہوئے۔

1️⃣5️⃣
عن وائل بن حجر قال رأيت النبى صلى الله عليه وسلم قد حلق الابهام والوسطى ورفع التى تليها يدعو بها فى التشهد
🔹(سنن ابن ماجہ 912، صحیح)

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے انگوٹھے اور بیچ والی انگلی سے حلقہ (دائرہ) بنایا، اور ان دونوں سے ملی انگلی (یعنی انگشت شہادت) کو اٹھایا (اشارہ کیا) تشہد میں دعا کرتے ہوئے۔

1️⃣6️⃣
عن وائل بن حجر قال قلت لأنظرن الى صلوة رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف يصلى؟ فنظرت اليه فوصف قال ثم قعد وافترش رجله اليسرى ووضع كفه اليسرى على فخذه وركبته اليسرى وجعل حد مرفقه الايمن على فخذه اليمنى، ثم قبض ثنتين من اصابعه وحلق حلقة، ثم رفع اصبعه فرأيته يحركها يدعو بها
🔹(سنن نسائی 981 و 1268، صحیح)

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ میں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو دیکھوں گا کہ آپ کیسے پڑھتے ہیں۔
چنانچہ میں نے دیکھا آپ نے قعدہ (تشہد) کیا تو اپنا بایاں پاؤں بچھا دیا، اور اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنی بائیں ران اور اپنے بائیں گھٹنہ پر رکھا، اور داہنے ہاتھ کی کہنی داہنی ران پر رکھی، پھر داہنے ہاتھ کی انگلیوں میں سے دو انگلیاں (چھنگلی اور اس کے پربار والی انگلی) بند کر لیں اور (انگوٹھا اور بیچ والی انگلی سے) دائرہ بنایا، پھر انگشت شہادت کو اٹھایا؛ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا انگشت شہادت کو حرکت دیتے ہوئے، اس سے دعا کرتے ہوئے۔

3 📘 رفع سبابہ یعنی پورے تشہد میں اُنگلی سے اشارہ کرنے پر 25 صحیح احادیث

1️⃣7️⃣
اجتمع ابوحميد الساعدي و ابواسيد و سهل بن سعد و محمد بن مسلمة رضي الله عنهم فذكروا صلوة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ابو حميد أنا اعلمكم بصلوة رسول الله صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما جلس يعني للتشهد فافترش رجله اليسرى واقبل بصدره اليمنى على قبلته، ووضع كفه اليمنى على ركبته اليمنى، وكفه اليسرى على ركبته اليسرى واشار باصبعه, يعني السبابة
🔹(جامع ترمذی 293، سنن ابوداؤد 734، صحیح)

حضرت ابوحمید ساعدی، حضرت ابواسید، حضرت سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم ایک مجلس میں جمع تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا تو ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں میں تم سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔
(پھر مطالبہ پر عملِ نبوی کی کیفیت بیان فرمائی اور اس میں قعدہ تشہد کی کیفیت ذکر کی)
کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے لئے بیٹھے تو اپنا بایاں پاؤں بچھایا، دائیں پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ رخ موڑ دیا، داہنی ہتھیلی کو دائیں گھٹنے پر رکھا، بائیں ہتھیلی کو بائیں گھٹنے پر رکھا، اور انگشت شہادت سے اشارہ فرمایا۔

1️⃣8️⃣
عن ابي هريرة رضى الله عنه أن رجلا كان يدعو باصبعيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أحد، أحد
🔹(سنن النسائي 1272، جامع ترمذی 3557، صحیح)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص (قعدہ تشہد میں) دعا کرتے ہوئے دو انگلیوں سے اشارہ کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ایک انگلی سے، ایک انگلی سے۔"

1️⃣9️⃣
عن سعد رضى الله عنه قال مر على رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا ادعو باصابعي، فقال: أحد، أحد
🔹(سنن النسائی 1273، صحیح)

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں (نماز کے اندر قعدہ تشہد میں) اپنی انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دعا کر رہا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ایک انگلی سے، ایک انگلی سے۔"

4 📘 رفع سبابہ یعنی پورے تشہد میں اُنگلی سے اشارہ کرنے پر 25 صحیح احادیث

🟦 نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ

2️⃣0️⃣
عن نمير الخزاعي رضى الله عنه قال رأيت النبى صلى الله عليه وسلم واضعا ذراعه اليمنى على فخذه اليمنى رافعا اصبعه السبابة وقد احناها شيئا وهو يدعو
🔹(سنن ابوداؤد 991، سنن النسائی 1274، قال العلامة الألباني: منكر بزيادة الإحناء وبغيرها صحيح)

حضرت نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ کو اپنی داہنی ران پر رکھا ہوا تھا، اور (تشہد میں) دعا کرتے ہوئے اپنی انگشت شہادت کو اٹھایا ہوا تھا، اور اسے تھوڑا سا جھکایا ہوا تھا۔

🌿 وضاحت:
اس حدیث میں الفاظ "وقد احناها شيئا" (کہ انگشت اشارہ کو تھوڑا جھکائے ہوئے تھے) — یہ سند صحیح سے ثابت نہیں۔
باقی پوری حدیث صحیح ہے۔

2️⃣1️⃣
عن نمير الخزاعي رضى الله عنه قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم واضعا يده اليمنى على فخذه اليمنى فى الصلوة واشار باصبعه
🔹(سنن النسائی 1271، سنن ابن ماجه 911، صحیح)

حضرت نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنے داہنے ہاتھ کو اپنی داہنی ران پر رکھے ہوئے تھے، اور اپنی انگشت (شہادت) سے اشارہ فرمایا۔

2️⃣2️⃣
عن خفاف بن ايماء الغفاري رضى الله عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا جلس فى آخر صلوته يشير باصبعه السبابة، وكان المشركون يقولون يسحر بها، وكذبوا ولكنه التوحيد
🔹رواہ الطبرانی
🔹وقال الهيثمي: رجاله ثقات
📘 (مجمع الزوائد 140/2)

2️⃣3️⃣
وفي رواية عنه قال: انما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع ذلك يوحد بها ربه عزوجل
🔹(مسند احمد، الفتح الربانی جلد 4 ص 12/716)

حضرت خفاف بن ایما غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخر صلوٰة میں (یعنی تشہد میں) قعدہ فرماتے تو اپنی انگشت شہادت سے اشارہ فرماتے۔
مشرکین کہتے تھے: "آپ اس سے جادو کرتے ہیں۔"
جھوٹ کہا ان مشرکین نے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس سے توحیدِ الٰہی یعنی اپنے رب عزوجل کی وحدانیت کا اظہار و اعلان فرماتے تھے۔

5 📘 رفع سبابہ یعنی پورے تشہد میں اُنگلی سے اشارہ کرنے پر 25 صحیح احادیث

2️⃣4️⃣
عن ابن عباس رضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال هكذا الاخلاص يشير باصبعه التى تلي الابهام
🔹(سنن کبری بیہقی جلد 2 ص 132)

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"یہ ہے اخلاص" — اور انگوٹھے کے بغل والی انگلی (یعنی انگشت شہادت) سے اشارہ فرمایا۔

2️⃣5️⃣
عن عبدالرحمن بن ابزى رضى الله عنه قال كان النبى صلى الله عليه وسلم يقول فى صلوته هكذا، واشار باصبعه السبابة
🔹رواہ الطبرانی فی الکبیر
🔹قال الهيثمي في مجمع الزوائد 140/2: لم يروه عنه غير منصور بن المعتمر
🔹قلت: هو مؤثر من رجال الصحة

حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اس طرح کرتے تھے، اور پھر انہوں نے اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔

🌿 مزید اقوالِ ائمہ:
علامہ عابد سندھی رحمہ اللہ نے طوالع الانوار شرح در مختار میں لکھا ہے کہ تشہد میں انگلی اٹھانے سے متعلق ستائیس اٹھائیس صحابہ سے روایات مروی ہیں۔
ملا علی قاری رحمہ اللہ نے بھی اپنے رسالہ تزئين العبارة بتحسين الاشارة میں یہی لکھا ہے۔
🔹(فتاویٰ نذیریہ جلد 1 ص 506)

6 📘 پورے تشہد میں شہادت کی اُنگلی کو حرکت دینا بھی مسنون عمل ہے

📘 پورے تشہد میں شہادت کی اُنگلی کو حرکت دینا بھی مسنون عمل ہے

جیسا کہ ہم نے 25 صحیح احادیث پیش کیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ پورے تشھد میں شہادت والی اُنگلی اُٹھانا، اس کے ساتھ اشارہ کرنا اور نظریں اسی پر مرکوذ رکھنا نبیﷺ کی سنت ہے، اس طرح دوران تشہد اُنگلی کو حرکت دینا بھی ایک مسنون عمل ہے۔

🟦 حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث

ثُمَّ رَفَعَ اُصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُوْ بِهَا
🔹[نسائي 1269]

”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو اٹھایا پھر اسے حرکت دیتے رہے اور دعا کرتے رہے۔“

مولوی سلام اللہ حنفی شرح مؤطا میں لکھتے ہیں:

وِفِيْهِ تَحْرِيْكُهَا دَائِمًا اِذَا الدُّعَاءُ بَعْدَ التَّشَهُّدِ
”اس حدیث میں ہے کہ انگلی کو تشہد میں ہمیشہ حرکت دیتے رہنا چاہیے کیونکہ دعا تشہد کے بعد ہوتی ہے۔“

علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فَفِيْهِ دَلِيْلٌ عَلٰي اَنَّ السُّنَّةَ اَنْ يَّسْتَمِرَّ فِي الْاِشَارَةِ وَفِيْ تَحْرِيْكِهَا اِلَي السَّلَامِ
🔹[صفة صلاة النبى ص 158]

”اس حدیث میں دلیل ہے کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ انگلی کا اشارہ اور حرکت سلام تک جاری رہے۔“

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 صرف ایک مرتبہ انگلی اٹھانے یا "اشہد اللہ" پر اٹھانے کی کوئی دلیل؟

اس بارے میں صحیح احادیث میں کوئی دلیل موجود نہیں۔
بلکہ یہ عمل مذکورہ صحیح احادیث کے خلاف ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🟥 عدمِ تحریک والی روایت — مکمل تحقیقی وضاحت

سنن ابی داؤد [رقم: 989] میں ہے:

سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تو انگلی سے اشارہ کرتے اور اسے حرکت نہ دیتے تھے۔

یہ روایت ضعیف ہے، کیونکہ:

1️⃣ اس کی سند میں محمد بن عجلان ہے — اور وہ مدلس راوی ہے۔
2️⃣ وہ عن سے روایت کرتا ہے، سماع کی کوئی صراحت نہیں۔
3️⃣ اصولِ حدیث کے مطابق:

”صحیحین کے علاوہ کسی روایت میں اگر مدلس راوی 'عن' سے روایت کرے، اور سماع کی تصریح نہ کرے تو وہ روایت ضعیف ہوتی ہے۔“

🔹[تقریب التہذیب: ت 6136، ص 553]
🔹[مقدمہ ابن الصلاح: ص 60]
🔹[فتاویٰ رضویہ: جلد 5، ص 245]

مزید یہ کہ:

چار ثقہ راویوں نے عامر بن عبداللہ سے یہی روایت بیان کی ہے

لیکن کسی ایک میں ’’لا یحرکها‘‘ کے الفاظ نہیں

لہٰذا یہ الفاظ شاذ ہیں۔

امام مسلم رحمہ اللہ نے بھی محمد بن عجلان کے طریق سے یہی روایت ذکر کی ہے — وہاں بھی "لا یحرکها" نہیں ہے۔

دوسری طرف وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث کو:

ابن ملقن

ابن قیم

امام نووی

علامہ البانی

سب نے صحیح قرار دیا ہے۔

لہٰذا تحریک والی روایت ہی راجح اور معتبر ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 اشارہ والی احادیث، تحریک والی احادیث کے خلاف نہیں

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث:

فَاَشَارَ اِلَيْهِمْ اَنِ اجْلِسُوْا
🔹[بخاري 688]

”آپ ﷺ نے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ۔“

یہ اشارہ حرکت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
لہٰذا اشارہ والی احادیث، تحریک والی احادیث کی تائید کرتی ہیں، مخالفت نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث

لَهِيَ اَشَدُّ عَلَي الشَّيْطَانِ مِنَ الْحَدِيْدِ
🔹[صفة صلاة النبى ص159]

”یہ انگلی شیطان کے لیے لوہے سے بھی سخت ہے۔“

اس میں نہ حرکت کی نفی ہے، نہ اثبات —
لہٰذا اسے ’’عدمِ تحریک‘‘ کی دلیل بنانا غلط ہے۔

اگر کوئی اسے دونوں عمل کے جواز پر محمول کرے تو علامہ صنعانی نے سبل السلام میں اسی کو راجح کہا ہے۔
لیکن تحقیق کے مطابق حرکت زیادہ قوی ہے کیونکہ:

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے پوری نماز کا تفصیلی بیان کیا

خاص اہتمام سے تشہد کے اعمال ذکر کیے

اور حرکت کا صریح بیان بھی انہی کے پاس ہے

لہٰذا ان کی روایت کو ترجیح حاصل ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 مزید تفصیل کے لیے

علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ کی کتاب:

"تمام المنة"

کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے، جس میں اس مسئلے کی مکمل تحقیق موجود ہے۔

7 🟦 مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی کا اعتراف

🟦 مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی کا اعتراف

مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی سلام تک انگلی سے اشارہ کرنے کے قائل تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ:

"ترمذی کی کتاب الدعوات میں حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد کے بعد فلاں دعا پڑھی اور اس میں سبابہ شہادت کی انگلی سے اشارہ فرما رہے تھے، اور ظاہر ہے کہ دعا قریب سلام کے پڑھی جاتی ہے، پس ثابت ہو گیا کہ آخر تک اس کا باقی رکھنا حدیث میں منقول ہے۔"

🔹[تذکرۃ الرشید، صفحہ 164، باب تفقه وافتاء، مکتبہ دارالکتاب دیوبند]

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🟦 امام نافع رحمہ اللہ کا بیان — انگلی کا اشارہ شیطان پر لوہے سے سخت

امام نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ:

جب عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تشہد کے لیے نماز میں بیٹھتے تو:

ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے

انگلی سے اشارہ کرتے

اور نظر انگلی پر رکھتے

پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

بَهِي أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنَ الْحَدِيدِ
(یعنی انگشتِ شہادت کا یہ اشارہ شیطان کے لیے لوہے کی چوٹ، اس کی تلوار یا چھری سے زیادہ سخت ہے)

🔹[مسند احمد 2000 / مشکوٰۃ: کتاب الصلاۃ، حدیث 179 / سندہ حسن]

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🟥 غلط اعتراض: "اگر ایک بار نشانہ بنا دیا جائے تو کافی ہے"

بعض لوگ کہتے ہیں:

"شیطان پر بار بار حملے کی کیا ضرورت ہے؟ ایک وار ہی کافی تھا!"

یہ بات سنت کو مٹانے والی، اور شیطان کی دوستی کرنے والی بات ہے۔
ایسے لوگ سنت کے مقابلے میں اپنی عقل کو فوقیت دیتے ہیں۔
ان کے ہاں نماز کی کوئی وقعت نہیں۔

اللہ ہمیں ہدایت دے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🟦 خلاصہ کلام (فقہی نتیجہ)

✔ تشہد میں بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھا جائے۔
✔ دایاں ہاتھ بند کر کے دائیں ران پر رکھا جائے۔
✔ دو کنارے کی انگلیاں بند ہوں۔
✔ درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنایا جائے۔
✔ شہادت کی انگلی کو ہلکا سا خم دے کر اٹھایا جائے۔
✔ اور پورے تشہد میں سلسلہ وار حرکت دی جائے — جیسے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🟥 تنبیہ بلیغ

بریلویوں، دیوبندیوں اور حنفیوں کے ہاں جو انگلی اٹھانے کا طریقہ رائج ہے،
وہ سند صحیح سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے ثابت نہیں۔

اگر کسی کے پاس کوئی صحیح سند ہو تو پیش کرے — "منہ مانگا انعام" دیا جائے گا۔
مگر شرط ہے کہ سند صحیح ہو۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🟦 ایک گزارش — "سند مانگنے" پر گالی دینا جہالت ہے

بعض لوگ جب کسی مسئلے میں سند مانگی جائے تو فوراً گالی دینے لگتے ہیں۔

مثلاً کہتے ہیں:

"اپنے باپ کی سند لاؤ!" — یہ بے حیائی، جہالت، اور فرار ہے۔

سند مانگنا کوئی نئی بات نہیں، بلکہ قرآن، حدیث، صحابہ، تابعین، ائمہ — سب اسی اصول پر چلتے ہیں۔

📖 قرآن کریم
‏قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ ‎﴿١٠﴾‏
(ہلاک ہو گئے بے سند باتیں گھڑنے والے)
🔹[الذاریات: 10]

📖 حدیثِ نبوی
كفى بالمرء كذبا أن يحدث بكل ما سمع
🔹[مقدمہ صحیح مسلم]
(آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات بیان کرتا پھرے)

📖 امام محمد بن سیرین تابعی رحمہ اللہ

إن هذا الحديث دين فانظروا عمن تأخذوه
🔹[الجرح والتعديل لابن أبی حاتم 2/15]
(یہ حدیث دین ہے، دیکھو دین کس سے لے رہے ہو)

📖 امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ

الإسناد من الدين، ولولا الإسناد قال من شاء ما شاء
🔹[مقدمہ صحیح مسلم]
(سند دین ہے، اگر سند نہ ہوتی تو ہر آدمی جو چاہتا کہہ دیتا)

📌 لہٰذا:
سند مانگنے پر غصہ نہیں کرنا چاہیے —
حق سامنے آجائے تو رجوع کرنا چاہیے۔
اللہ ہمیں حق کے آگے جھکنے کی توفیق دے۔ آمین۔