1 📘 رفع سبابہ یعنی پورے تشہد میں اُنگلی سے اشارہ کرنے پر 25 صحیح احادیث
📘 رفع سبابہ یعنی پورے تشہد میں اُنگلی سے اشارہ کرنے پر 25 صحیح احادیث
1️⃣
عن عبدالله بن الزبير رضى الله عنهما قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قعد فى الصلواة وضع يده اليسرى على ركبته اليسرى، ووضع يده اليمنى على فخذه اليمنى واشار باصبعه
🔹(صحیح مسلم 1192، نووی: باب صفة الجلوس في الصلوة وكيفية وضع اليدين على الفخذين، ابوداؤد 988، وفيه: وأرانا عبدالواحد واشار بالسبابة)
حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں قعدہ (تشہد) فرماتے تو بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھتے اور دائیں ہاتھ کو داہنی ران پر رکھتے اور انگشت شہادت سے اشارہ فرماتے۔
2️⃣
عن عبدالله بن الزبير رضى الله عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قعد يدعو وضع يده اليمنى على فخذه اليمنى، ويده اليسرى على فخذه اليسرى، واشار باصبعه السبابة، ووضع ابهامه على اصبعه الوسطى، ويلقم كفه اليسرى ركبته
🔹(صحیح مسلم 1193)
حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعائے تشہد کے لیے قعدہ فرماتے تو اپنے داہنے ہاتھ کو داہنی ران پر، اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھتے، اور انگشت شہادت سے اشارہ فرماتے، اور اپنا انگوٹھا بیچ والی انگلی پر رکھتے، اور بائیں ہتھیلی کو بایاں گھٹنہ پکڑاتے۔
3️⃣
عن عبدالله بن الزبير رضى الله عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا جلس فى الثنتين او الاربع يضع يديه على ركبتيه، ثم اشار باصبعه
🔹(سنن نسائی 1166، صحیح)
عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعت پر، یا چار رکعت پر بیٹھتے (قعدہ تشہد فرماتے) تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، اور اپنی انگشت (شہادت) سے اشارہ فرماتے۔
4️⃣
عن عبدالله بن الزبير رضى الله عنه كان اذا قعد فى التشهد وضع كفه اليسرى على فخذه اليسرى، واشار بالسبابة، لايجاوز بصره اشارته
🔹(سنن النسائی 1275، سنن ابو داؤد 990، حسن صحیح)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں قعدہ فرماتے تو اپنی بائیں ہتھیلی کو بائیں ران پر رکھتے، اور (داہنے ہاتھ کی) انگشت شہادت سے اشارہ فرماتے اور اپنی نگاہ اپنے اشارہ سے ہٹاتے نہیں۔
5️⃣
أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ , : قُلْتُ : لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي ؟ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَوَصَفَ , قَالَ : ثُمَّ قَعَدَ وَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى , وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ قَبَضَ اثْنَتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً , ثُمَّ رَفَعَ أُصْبُعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا
🔹(سنن النسائی 1269، و سنده صحيح صحيح ابن خزيمه 714 منتقي ابن الجارود 208 اور صحيح ابن حبان الاحسان: 1857)
´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے ( اپنے جی میں ) کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو دیکھوں گا کہ آپ کیسے پڑھتے ہیں ؟ تو میں نے دیکھا ، پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی کیفیت بیان کی ، اور کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بایاں پیر بچھایا ، اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا ، اور اپنی دائیں کہنی کے سرے کو اپنی دائیں ران پر کیا ، پھر اپنی انگلیوں میں سے دو کو سمیٹا ، اور ( باقی انگلیوں میں سے دو سے ) حلقہ بنایا ، پھر اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسے ہلا رہے تھے ، اس کے ذریعہ دعا مانگ رہے تھے ۔
6️⃣
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ , أَنَّهُ : " رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ ذِرَاعَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ , وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ يَدْعُو بِهَا " .
🔹(سنن نسائي / كتاب السهو / حدیث: 1265، صحیح)