واٹساپ دعوتی مواد قبر پرستی

قبر پرستی

30 پیغامات

1 📘 بت پرستی اور قبر پرستی کا آغاز

بت پرستی اور قبر پرستی کی بیماری سب سے پہلے قومِ نوح میں ظاہر ہوئی۔ قرآنِ مجید اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿قَالَ نُوحٌ رَبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِي وَاتَّبَعُوا مَنْ لَمْ يَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ إِلَّا خَسَارًا * وَمَكَرُوا مَكْرًا كُبَّارًا * وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا﴾

ترجمہ:
(کفار سے مایوس ہو کر) حضرت نوح علیہ السلام نے دعا کی: اے میرے رب! یہ لوگ میری نافرمانی کر رہے ہیں اور ان (معبودوں) کی پیروی پر جم گئے ہیں جو ان کے مال اور اولاد میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کرتے بلکہ انہیں نقصان ہی پہنچاتے ہیں۔ اور انہوں نے بہت بڑی چالیں چلیں۔ اور وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا، اور خاص طور پر وَدّ، سُوَاع، يَغُوث، يَعُوق اور نَسْر کو ہرگز نہ چھوڑنا۔
📖 سورۃ نوح: 21–23

یہ ودّ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر دراصل حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے نیک اور صالح لوگ تھے۔ ان کی زندگی میں لوگ ان کے پیروکار تھے اور ان سے دین سیکھتے تھے۔

➊ جب یہ نیک لوگ فوت ہو گئے تو ان کے پیروکاروں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان کی تصویریں اور مجسمے بنا لیے جائیں تاکہ عبادت میں شوق اور یکسوئی پیدا ہو جائے۔

➋ چنانچہ ان بزرگوں کی تصویریں اور مجسمے بنا دیے گئے، لیکن اس وقت ان کی عبادت نہیں کی جاتی تھی۔

➌ پھر جب وہ نسل بھی ختم ہو گئی اور بعد کی نسلیں آئیں تو ان سے کہا گیا کہ یہ بزرگ ان مجسموں کی عبادت کیا کرتے تھے اور انہی کے ذریعے بارش طلب کرتے تھے۔

➍ اس بات کو سن کر بعد والوں نے ان کی عبادت شروع کر دی اور یوں آہستہ آہستہ شرک اور بت پرستی عام ہو گئی، حتیٰ کہ پورے عرب میں یہ عقیدہ پھیل گیا۔

اس کی صریح وضاحت صحیح بخاری میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں موجود ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

یہ (ودّ، سواع، یغوث، یعوق، نسر) حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے صالح اور نیک لوگ تھے۔ جب یہ فوت ہو گئے تو شیطان نے ان کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ ان کی مجلسوں میں جہاں وہ بیٹھا کرتے تھے، ان کے مجسمے نصب کر لو اور ان کے نام پر ان کے نام رکھ دو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، لیکن اس وقت ان کی عبادت نہیں کی جاتی تھی۔ پھر جب وہ لوگ بھی فوت ہو گئے اور علم مٹ گیا تو ان کی عبادت شروع کر دی گئی۔

📖 صحیح البخاری، کتاب تفسیر القرآن، حدیث: 4920

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/4920

اسی حقیقت کی تائید صحیحین اور دیگر کتبِ حدیث کی ان روایات سے بھی ہوتی ہے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ اور عبادت گاہ بنانے سے شرک نے جنم لیا۔

➤ یہی وہ بنیادی تاریخی حقیقت ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ قبر پرستی دراصل بت پرستی ہی کا ابتدائی دروازہ ہے، جو نیک لوگوں کی تعظیم سے شروع ہو کر رفتہ رفتہ عبادت تک جا پہنچتی ہے۔

2 📘 قبروں پر مسجد بنانے کی ممانعت

اسلام میں قبروں کو سجدہ گاہ یا مسجد بنانا سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہی عمل رفتہ رفتہ قبر پرستی اور شرک کی بنیاد بنتا ہے۔ قرآن و سنت اور صحابۂ کرامؓ کی واضح تصریحات اس پر دلالت کرتی ہیں۔

حبشہ کے گرجا گھروں کا ذکر اور نبی ﷺ کا فیصلہ کن فرمان

ایک مرتبہ سیدہ امِّ سلمہ رضی اللہ عنہا حبشہ گئیں۔ وہاں انہوں نے ایک ایسا گرجا دیکھا جو تصویروں اور مجسموں سے بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں سے کوئی نیک اور صالح انسان فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے تھے۔ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں۔"

📖 صحیح البخاری، كتاب الجنائز، حدیث: 1341
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1341/

لات کی اصل حقیقت (قبر پر مجاوری سے بت پرستی تک)

امام ابن جریر رحمہ اللہ سورۃ النجم کی آیت
﴿أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ﴾
کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ:

لات ایک شخص تھا جو حاجیوں کو ستو گھول کر پلایا کرتا تھا۔
جب وہ فوت ہو گیا تو لوگ اس کی قبر پر مجاور بن کر بیٹھ گئے، اور یہی عمل آگے چل کر اس کی عبادت اور بت پرستی کا سبب بن گیا۔

📖 صحیح البخاری، كتاب تفسير القرآن، حدیث: 4859
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/4859/

نبی ﷺ کا آخری ایام میں سخت انتباہ

سیدنا جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفات سے چند دن پہلے فرماتے ہوئے سنا:

«ألا وإن من كان قبلكم كانوا يتخذون قبور أنبيائهم مساجد، فإني أنهاكم عن ذلك»

ترجمہ:
"خبردار! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا کرتے تھے۔ سن لو! میں تمہیں اس سے سختی سے منع کرتا ہوں۔"

📖 صحیح مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، حدیث: 532
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/532/

یہود و نصاریٰ پر لعنت کی وجہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر مرضِ وفات کی حالت طاری تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد»

ترجمہ:
"یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔"

📖 صحیح البخاری، كتاب الجنائز، حدیث: 1390
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1390/

نبی ﷺ کی قبر مبارک کو نمایاں نہ کرنے کی وجہ

اسی سلسلے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مزید فرماتی ہیں:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرضِ وفات میں فرمایا:

«لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد»

پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

"اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیا جائے گا تو آپ کی قبر مبارک کو کھلے میدان میں بنایا جاتا، لیکن یہ خدشہ تھا کہ لوگ اسے مسجد بنا لیں گے۔"

📖 صحیح البخاری، كتاب الجنائز، حدیث: 1330
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1330/

قبروں کو مسجد بنانے والوں کا انجام

امام احمد رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جید سند کے ساتھ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"سب سے برے لوگ وہ ہوں گے جن پر قیامت قائم ہو گی، اور وہ لوگ جو قبروں کو مسجدوں کی حیثیت دیتے ہیں۔"

📚 الفتح الربانی، بيان القيامة وأحوال الآخرة، حدیث: 12911
🔗 https://tohed.com/hadith/fath-al-rabbani/12911/

نتیجہ:
ان تمام نصوص سے واضح ہوتا ہے کہ قبروں پر مسجد بنانا، وہاں نماز پڑھنا، یا انہیں عبادت کا مرکز بنانا ممنوع اور انتہائی خطرناک عمل ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے قومِ نوح میں شرک پیدا ہوا، اور جس سے یہود و نصاریٰ گمراہی میں مبتلا ہوئے۔

اسلام نے اس دروازے کو شروع ہی سے بند کر دیا، تاکہ توحید خالص محفوظ رہے اور امت قبر پرستی جیسے فتنوں سے بچی رہے۔

3 📘 قبروں سے گنبد اور قبے گرانے کا شرعی حکم

اسلام میں قبروں کو بلند کرنا، ان پر گنبد و قبے تعمیر کرنا اور انہیں نمایاں بنانا ممنوع ہے۔ اس کی واضح اور صریح دلیل نبی کریم ﷺ کے اوامر اور صحابۂ کرامؓ کے عملی تعامل سے ثابت ہے۔

نبی ﷺ کا صریح حکم: بلند قبروں کو برابر کرنا

حضرت ابو وائلؒ، حضرت ابو الہیّاج الاسدیؒ سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں:

عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ :
" أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟
أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ ،
وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ "

ترجمہ:
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا:
“کیا میں تمہیں اس کام پر نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے بھیجا تھا؟
وہ یہ کہ کسی تصویر یا مجسمے کو نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا،
اور کسی بلند قبر کو نہ چھوڑنا مگر اسے زمین کے برابر کر دینا۔”

📖 صحیح مسلم، كتاب الجنائز، حدیث: 969

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/969/?hid=11214
📖 سنن النسائي، كتاب الجنائز، حدیث: 2033

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/2033/

📖 سنن أبي داود، كتاب الجنائز، حدیث: 3218

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/3218/

📖 سنن الترمذي، كتاب الجنائز، حدیث: 1049

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/1049/

قبر پرستوں کی تاویل اور اس کا رد

بعض قبر پرست حضرات ان احادیث کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ شاید یہ حکم صرف مشرکین کی قبروں کے بارے میں ہو۔
لیکن یہ تاویل صحابۂ کرامؓ کے عملی تعامل کے سراسر خلاف ہے، کیونکہ صحابہ کرامؓ اپنے صالح، نیک اور جلیل القدر صحابی ساتھیوں کی قبروں کو بھی برابر کیا کرتے تھے، اور ان پر مزار یا گنبد تعمیر نہیں کرتے تھے۔

اس پر صریح دلیل یہ روایت ہے:

صحابہؓ کا عملی تعامل: صالح صحابی کی قبر کو برابر کرنا

ثمامہ بن شفیؒ بیان کرتے ہیں:

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ شُفَيٍّ حَدَّثَهُ ، قَالَ :
" كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ ،
فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا ،
فَأَمَرَ فَضَالَةُ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ ،
ثُمَّ قَالَ :
سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا "

ترجمہ:
ثمامہ بن شفی کہتے ہیں:
“ہم سرزمینِ روم میں حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ ہمارا ایک ساتھی وفات پا گیا،
تو حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ نے اس کی قبر کو برابر کرنے کا حکم دیا،
چنانچہ وہ قبر برابر کر دی گئی،
پھر انہوں نے فرمایا:
میں نے رسول اللہ ﷺ کو قبروں کو برابر کرنے کا حکم دیتے ہوئے سنا ہے۔”

📖 سنن النسائي، كتاب الجنائز، حدیث: 2032

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/2032/
📖 سنن أبي داود، كتاب الجنائز، حدیث: 3219

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/3219/
📖 صحیح مسلم، كتاب الجنائز، حدیث: 968

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/968/

📌 وضاحت

➤ “برابر کرنے” سے مراد یہ ہے کہ قبر کو کوہان کی طرح اونچا نہ بنایا جائے بلکہ مسطح رکھی جائے، اگرچہ وہ زمین سے قدرے بلند ہو سکتی ہے، جیسا کہ دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے:

(مشكوة المصابيح / كتاب الجنائز / حدیث: 1712، قال شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ إسناده حسن)

🔗https://tohed.com/hadith/mishkat-al-masabih/1712

واللہ اعلم۔

4 📘 قبے اور مزارات بنانے کی ممانعت کا بیان

اس سے پہلے بیان کردہ صحیح مسلم میں مذکور سیدنا ثمامہ بن شفیؒ کی روایت (حدیث: 968) اس بات پر صریح دلیل ہے کہ ہر وہ قبر جو شریعت میں مقرر حد سے زائد بلند کی جائے، اسے برابر کرنا واجب اور لازم ہے۔

قبروں کو اونچا کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ان پر گنبد، قبے یا مزارات تعمیر کیے جائیں۔ لہٰذا ایسی تمام صورتیں بلا شبہ ممنوع ہیں۔ اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو قبروں کو برابر کرنے اور ان پر بنی ہوئی چیزوں کو مٹانے پر مامور فرمایا تھا۔

قبر پر عمارت بنانے کی صریح ممانعت (صحیح مسلم)

صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ ، وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ ، وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ

ترجمہ:
حضرت جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ قبر پر چونا لگایا جائے، اس پر بیٹھا جائے اور اس پر عمارت بنائی جائے۔

📖 صحیح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 970
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/970/?hid=11216

قبروں کو پختہ کرنے، لکھنے اور عمارت بنانے کی ممانعت (ترمذی)

سنن ترمذی میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُجَصَّصَ الْقُبُورُ ، وَأَنْ يُكْتَبَ عَلَيْهَا ، وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهَا ، وَأَنْ تُوطَأَ

ترجمہ:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ قبروں کو پختہ کیا جائے، ان پر لکھا جائے، ان پر عمارت بنائی جائے اور انہیں روندا جائے۔

📖 سنن ترمذي / كتاب الجنائز / حدیث: 1052
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/1052/

ان احادیث کا واضح مفہوم

ان احادیث میں نہایت صراحت کے ساتھ قبر پر عمارت بنانے کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔
اور یہ ممانعت صرف قبر کے اوپر عمارت تک محدود نہیں بلکہ:

➤ قبر کے ارد گرد دیوار بنانے پر بھی صادق آتی ہے
➤ جیسا کہ آج کل عام طور پر قبروں کے گرد ایک ہاتھ یا اس سے اونچی دیواریں بنا دی جاتی ہیں

کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ قبر کو بعینہٖ مسجد یا عمارت نہیں بنایا جاتا بلکہ قبر کے ارد گرد موجود متصل جگہ میں تعمیر کی جاتی ہے۔

لغوی اور عقلی وضاحت

عربی زبان میں جب یہ کہا جاتا ہے کہ:

فلاں شہر پر دیوار بنائی گئی
فلاں بستی پر فصیل قائم کی گئی

تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ دیوار شہر کے عین وسط میں بنائی گئی، بلکہ شہر یا بستی کے چاروں اطراف میں دیوار قائم کی گئی ہوتی ہے۔

اسی طرح:

➤ اگر قبر درمیان میں ہو
➤ یا ایک جانب ہو

تب بھی قبر پر عمارت بنانا ہی کہلائے گا۔

یہی اصول:

✔ گنبد
✔ قبے
✔ مزارات
✔ مسجدیں
✔ بڑی بڑی یادگاری عمارتیں

سب پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔

جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ ان احادیث میں مذکور ممانعت کا اطلاق قبروں کے ارد گرد بنی عمارتوں پر نہیں ہوتا، وہ درحقیقت:

➤ لغتِ عرب سے ناواقف ہے
➤ اور عربی اسلوبِ کلام کو نہیں سمجھتا

اہلِ عرب اپنی زبان میں ان الفاظ کو اسی مفہوم میں استعمال کرتے ہیں۔

خلاصہ

✔ قبروں کو شریعت سے زائد اونچا کرنا
✔ قبروں پر گنبد، قبے اور مزارات بنانا
✔ قبروں کے ارد گرد مستقل دیواریں اور عمارتیں کھڑی کرنا

یہ سب اعمال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح فرمان کے خلاف اور
قبر پرستی کے فروغ کا ذریعہ ہیں،
اسی لیے شریعتِ اسلامیہ نے ان کی واضح اور سخت ممانعت فرمائی ہے۔

5 📘 اہلِ قبور کو نفع و نقصان کا اختیار نہیں

جب یہ بات قطعی دلائل سے ثابت ہو گئی کہ قبروں کو اونچا کرنا، ان پر گنبد، قبے، مسجد یا مزار تعمیر کرنا ممنوع ہے، تو یہ بھی واضح ہو گیا کہ ایسا کرنے والوں کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت وعیدیں فرمائی ہیں۔
کبھی فرمایا کہ اس قوم پر اللہ کا شدید غضب ہوا جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا،
کبھی ان پر لعنت فرمائی،
کبھی اس سے صراحتاً منع کیا،
کبھی قبروں کو برابر کرنے کے لیے آدمی بھیجا،
کبھی اسے یہود و نصاریٰ کا طریقہ بتایا،
اور کبھی فرمایا: میری قبر کو بت نہ بنانا،
اور کبھی فرمایا: میری قبر کو عید نہ بنانا، یعنی اس پر سالانہ میلے اور اجتماعات نہ کرنا۔

یہ سب باتیں صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔

اہلِ قبور کی عاجزی

یہ لوگ اللہ کی عبادت چھوڑ بیٹھے، حالانکہ:
➤ اللہ ہی نے انہیں پیدا کیا
➤ اللہ ہی رزق دیتا ہے
➤ وہی موت دیتا ہے
➤ اور وہی قیامت کے دن زندہ کرے گا

اس کے باوجود یہ لوگ اللہ کے بندوں کے پجاری بن گئے، حالانکہ وہ بندے منوں مٹی کے نیچے دبے پڑے ہیں،
➤ نہ وہ اپنے نفع کے مالک ہیں
➤ نہ نقصان کے
➤ نہ کسی کی تکلیف دور کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔

رسول ﷺ کا اپنا اعلانِ عجز

اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ لوگوں سے صاف کہہ دیں:

﴿لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا﴾
ترجمہ:
“میں خود اپنے نفع و نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتا۔”
📖 الأعراف: 188

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی محبوب ترین بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:

“اے فاطمہ! محمد ﷺ کی بیٹی!
میں اللہ کے ہاں تیرے کسی کام نہیں آؤں گا۔”

صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4771

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/4771

غور کیجیے!
جب سید البشر اور خاتم النبیین ﷺ نے اپنے نفس اور اپنی سب سے قریبی بیٹی کے بارے میں یہ اعلان فرمایا، تو وہ لوگ جو نہ نبی ہیں، نہ معصوم، نہ رسول—ان کے بارے میں کیا گمان رکھا جا سکتا ہے؟

قبر پرستوں کی گمراہی

کتنی تعجب انگیز بات ہے کہ ایک معمولی انسان، جو خود امتِ محمدیہ کا ایک فرد ہے، اس کے متعلق یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ:
➤ لوگوں کو نفع پہنچا سکتا ہے
➤ تکلیف دور کر سکتا ہے
➤ مشکلات حل کر سکتا ہے

حالانکہ وہ اس نبی کی امت سے ہے جس نے فرمایا:
“مجھے اپنے نفع و نقصان کا کوئی اختیار نہیں”۔

یہ اس سے بڑی گمراہی ہے جسے سن کر آدمی کہے:
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

📌 قبروں پر گنبد اور قبے بنانے کے مفاسد

➊ اس گمراہی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ شیطان نے قبروں کو اونچا کرنے کو لوگوں کے دلوں میں خوبصورت بنا دیا۔
➋ قبروں پر غلاف، چونا، گچ، بیل بوٹے، چراغ اور خوشبوئیں لگا دی جاتی ہیں۔
➌ جاہل آدمی جب ایسی قبر دیکھتا ہے تو اس کے دل میں صاحبِ قبر کی غیر شرعی تعظیم پیدا ہو جاتی ہے۔
➌ اس پر رعب اور خوف طاری ہو جاتا ہے۔
➍ پھر آہستہ آہستہ اس کے دل میں شیطانی عقائد جنم لیتے ہیں۔
➎ بالآخر وہ صاحبِ قبر سے ایسی دعائیں مانگنے لگتا ہے جو صرف اللہ ہی قبول کر سکتا ہے۔

یہی وہ مرحلہ ہے جہاں:
➤ انسان توحید سے پھسل جاتا ہے
➤ اور شرک میں جا پڑتا ہے۔

📌 صاحبِ قبر کے متعلق جھوٹی کہانیاں

➊ بعض اوقات شیطان، یا اس کے انسان نما ایجنٹ، قبروں پر بیٹھ جاتے ہیں۔
➋ زائرین کے سامنے جھوٹی کہانیاں، من گھڑت کرامتیں اور ڈراؤنی باتیں بیان کرتے ہیں۔
➌ ان قصوں کو بزرگوں سے منسوب کر کے عوام میں پھیلا دیا جاتا ہے۔
➍ جاہل لوگ ان باتوں کو حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔
➎ پھر یہ جھوٹ نسل در نسل چلتا رہتا ہے، حتیٰ کہ لوگ شرک کو دین سمجھ بیٹھتے ہیں۔

نتیجہ
قبروں کو اونچا کرنا، ان پر گنبد و قبے بنانا، اور اہلِ قبور کو نفع و نقصان کا مالک سمجھنا—
یہ سب شیطان کے ہتھکنڈے ہیں،
اور انسان کو توحید سے شرک کی طرف لے جانے کا سب سے خطرناک راستہ ہیں۔

6 📘 قبر کی نذر ماننا، قبروں پر ذبح اور گنبد و مزارات کے مفاسد

قبروں پر مزارات کے مفاسد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگ وہاں نذر وغیرہ کے لیئے جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جاہل لوگ آہستہ آہستہ مشرکانہ عقائد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنا عمدہ اور بہترین مال قبروں پر نذر کرتے ہیں اور وہاں خرچ کرتے ہیں، اس امید پر کہ اس سے بڑے فوائد اور زیادہ ثواب حاصل ہوگا۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بڑی عبادت، مقبول نیکی اور مفید اطاعت ہے، حالانکہ اس سے رضائے الٰہی ہرگز مقصود نہیں ہوتی۔ درحقیقت اس سے وہ مقصد پورا ہوتا ہے جس کے لیے شیطان نے قبروں پر اپنے جال بچھا رکھے ہوتے ہیں۔

قبروں کے مجاور اور وابستہ لوگ عوام کے دلوں میں صاحبِ قبر کا رعب اور خوف ڈالتے ہیں، جھوٹی کہانیاں اور من گھڑت باتیں گھڑتے ہیں، تاکہ جاہل لوگوں کا مال حاصل کریں۔ اس شیطانی ذریعے سے قبروں کی آمدنی بڑھتی ہے اور ناجائز دولت جمع کی جاتی ہے۔ اگر قبروں پر دیے جانے والے نذرانوں کا حساب لگایا جائے تو وہ اتنا ہو کہ مسلمانوں کے ایک بڑے شہر کے لوگوں کی خوراک کے لیے کافی ہو جائے، یا فقراء کی ایک بڑی جماعت کی کفالت ہو سکے۔ یہ سب معصیت اور گناہ ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان ہے:

لا وفاء لنذر في معصيته
ترجمہ: اللہ کی نافرمانی میں کسی نذر کو پورا کرنا جائز نہیں۔
📖 سنن أبي داود، كتاب الأيمان والنذور، حدیث: 3316

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/3316/

قبروں کی نذر بھی اسی حکم میں داخل ہے، کیونکہ اس میں اللہ کی رضا مقصود نہیں ہوتی، بلکہ یہ عمل اللہ کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔ ایسی نذر انسان کے دل میں ایسا غلو پیدا کر دیتی ہے کہ وہ مردوں کو نفع و نقصان کا مالک سمجھنے لگتا ہے، اور دین کے معاملے میں اس کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔ جب انسان اپنا محبوب اور قیمتی مال خرچ کرتا ہے تو شیطان اس کے دل میں صاحبِ قبر کی محبت، تعظیم اور تقدیس کا بیج بو دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ باطل عقائد میں پھنس جاتا ہے اور واپس حق کی طرف نہیں آتا۔ ہم اللہ سے ایسی ذلت و گمراہی سے پناہ مانگتے ہیں۔

📌 قبروں پر ذبح اور قربانی

اس میں کوئی شک نہیں کہ قربانی عبادت ہے، اور عبادت صرف اللہ کے لیے خاص ہے۔ جو شخص قبر کے پاس جا کر جانور ذبح کرتا ہے، اس کی نیت صاحبِ قبر کی تعظیم، اس سے نفع حاصل کرنا یا مصیبت سے بچنا ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے یہ عمل غیر اللہ کے لیے عبادت شمار ہوتا ہے، اور بتوں کے پاس قربانی کرنے سے مختلف نہیں۔ صرف نام بدل دینے سے حقیقت نہیں بدلتی، جیسے شراب کا نام بدل دینے سے وہ حلال نہیں ہو جاتی۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا عقر في الإسلام
ترجمہ: قبروں پر جانور ذبح کرنا اسلام میں جائز نہیں۔
📖 سنن أبي داود، كتاب الجنائز، حدیث: 3222

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/3222/

📌 قبروں کو اونچا کرنے، گنبد و قبے بنانے کے مفاسد

قبروں کو اونچا کرنا، چونے گچ سے پختہ کرنا، ان پر گنبد و قبے اور مزارات تعمیر کرنا شیطان کا ایک بڑا ہتھکنڈا ہے۔ جب جاہل شخص ایسی قبر دیکھتا ہے تو اس پر رعب طاری ہو جاتا ہے، پھر وہ صاحبِ قبر سے وہ دعائیں مانگنے لگتا ہے جو صرف اللہ ہی قبول کر سکتا ہے۔ یوں آہستہ آہستہ وہ توحید سے ہٹ کر شرک میں جا پڑتا ہے۔

اسی طرح بعض لوگ قبروں پر بیٹھ کر جھوٹی کرامتیں اور من گھڑت کہانیاں پھیلاتے ہیں، جنہیں جاہل لوگ سچ سمجھ لیتے ہیں اور نسل در نسل دہراتے رہتے ہیں، حالانکہ یہ سب کذب و افتراء ہے۔

📌 خلاصۂ کلام

✔ قبروں کو اونچا کرنا
✔ ان پر گنبد، قبے اور مزارات بنانا
✔ قبروں کی نذر ماننا
✔ قبروں پر جانور ذبح کرنا

یہ سب امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح اوامر کے خلاف ہیں اور انسان کو قبر پرستی اور شرک کی طرف لے جاتے ہیں۔ کسی کی فضیلت ان امور کو جائز نہیں بنا سکتی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مقابلے میں کسی اور کی پیروی قابل قبول نہیں۔

الٰہی! ہمیں توحید پر ثابت قدم رکھ اور ہر قسم کے شرک سے محفوظ فرما۔
وصلى الله على محمدٍ عبدِه ورسولِه، وعلى آله وأصحابه أجمعين۔

7 📘 سوال و جواب: کیا قبروں پر جانور ذبح کرنا یا نذر و نیاز چڑھانا جائز ہے؟

سوال:
کیا قبروں پر جانور ذبح کرنا یا نذر و نیاز چڑھانا جائز ہے؟

جواب:
نذر و نیاز اور تقرب کی نیت سے جانور ذبح کرنا عبادت ہے، اور عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے عبادت جائز نہیں۔

🔹 قرآنِ مجید کی واضح نصوص

✿ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾
ترجمہ:
“کہہ دیجیے! بلاشبہ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔”
📖 الأنعام: 162–163 

🔗 https://tohed.com/tafsir/6/162

✿ فرمایا:

﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾
ترجمہ:
“اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔”
📖 الکوثر: 2

🔗 https://tohed.com/tafsir/108/2/

✿ فرمایا:

﴿لَنْ يَنَالَ اللَّـهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنْكُمْ﴾
ترجمہ:
“اللہ کو ان جانوروں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”
📖 الحج: 37

🔗 https://tohed.com/tafsir/22/37/

↰ ان آیات سے واضح ہے کہ ہر قسم کی عبادت، قربانی اور نذر صرف اللہ کے لیے ہونی چاہیے؛ اس میں کسی کو شریک بنانا جائز نہیں۔

🔹 احادیثِ نبویہ

✿ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے صحیفے میں نبی ﷺ کا فرمان ہے:

لعن الله من ذبح لغير الله
ترجمہ:
“اللہ کی لعنت ہو اس شخص پر جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا۔”
📖 مسند أحمد: 954، سنن النسائي: 4427

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/4427/

↰ اسی مفہوم کی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔
📖 مسند أحمد: 2913

✿ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

لا عقر في الإسلام
ترجمہ:
“اسلام میں قبروں کے نزدیک جانور ذبح کرنا جائز نہیں۔”، امام عبدالرزاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “مشرکین قبروں کے پاس گائے یا بکری ذبح کیا کرتے تھے۔”

📖 سنن ابي داود: 3222

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/3222

◈ امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اہلِ جاہلیت سخی آدمی کی قبر پر اونٹ ذبح کرتے اور کہتے تھے کہ ہم اس کی سخاوت کا بدلہ دے رہے ہیں؛ اسلام نے اس عمل کو ختم کر دیا۔

🔹 اہلِ قبور کو پکارنے کی تردید (قرآنی دلیل)

﴿وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ * إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ﴾
ترجمہ:
“اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں؛ اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار نہیں سنتے، اور اگر سن بھی لیں تو جواب نہیں دے سکتے۔”
📖 فاطر: 13–14

🔗 https://tohed.com/tafsir/35/13/

↰ اس سے واضح ہوا کہ اہلِ قبور نہ سنتے ہیں، نہ نفع و نقصان کے مالک ہیں۔

🔹 فقہاء و ائمہ کے اقوال

◈ علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قبروں پر نذر ماننا بالاجماع باطل و حرام ہے؛ کیونکہ:
➊ نذر عبادت ہے اور عبادت مخلوق کے لیے نہیں۔
➋ جس کے لیے نذر مانی جا رہی ہے وہ مردہ ہے، اختیار نہیں رکھتا۔
➌ اگر اسے متصرف سمجھا جائے تو یہ کفر ہے۔
📚 البحر الرائق 2/298
↰ یہی بات فتاویٰ شامی اور فتاویٰ عالمگیری میں بھی ہے۔

◈ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“علماء کا اجماع ہے کہ جو شخص غیر اللہ کے تقرب کے لیے ذبح کرے وہ مرتد ہو جاتا ہے۔”
📚 فتاویٰ عزیزی (اردو) ص 538

🔹 ایک اہم اصولی حدیث (مقامِ عبادت کی شرط)

ثابت بن الضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ نبی ﷺ نے پوچھا:
“کیا وہاں جاہلیت کا کوئی بت یا میلہ تھا؟”
جب نفی ہوئی تو فرمایا:
“اپنی نذر پوری کرو، کیونکہ اللہ کی نافرمانی میں نذر پوری نہیں کی جاتی۔”
📖 سنن أبي داود: 3313

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/3313/

◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
جس مقام پر کبھی غیر اللہ کی عبادت ہوتی رہی ہو، وہاں اللہ کے نام کی نذر یا قربانی بھی ممنوع ہے۔
📚 هداية المستفيد 1/400

📌 خلاصۂ حکم

✔ قبروں پر نذر و نیاز ماننا
✔ قبروں کے پاس جانور ذبح کرنا
✔ ایسے مقامات پر اللہ کے نام کی قربانی جہاں غیر اللہ کی عبادت ہوتی ہو

یہ سب امور حرام ہیں اور شرک کے دروازے کھولتے ہیں۔
لہٰذا ان سے مکمل اجتناب لازم ہے اور عبادت کو خالصتاً اللہ وحدہٗ لا شریک کے لیے خاص رکھنا واجب ہے۔

8 📘 قبروں کی مجاوری اور اسلام — حصہ 1/2

قبروں کی تعظیم میں غلو نے بہت سے اعتقادی اور اخلاقی فتنوں کو جنم دیا ہے۔ قبروں اور مزارات پر مشرکانہ عقائد و اعمال اور کافرانہ رسوم و رواج اس قدر رواج پا رہی ہیں کہ بعض لوگوں نے یہود و نصاریٰ کی پیروی میں اولیاء و صالحین کی قبور کو سجدہ گاہ بنا لیا ہے۔ طلبِ حاجات کے لیے ان پر مراقبہ اور مجاہدہ کرتے نظر آتے ہیں، ہر مشکل میں ان کی پکار کرتے ہیں اور ان سے فریادیں کرتے ہیں، ان سے ڈرتے ہیں اور انہی سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔ ان پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں، منت منوتی اور نذرانے پیش کرتے ہیں۔ لوگوں کا قیمتی مال ہڑپ کرنے کے لیے وہاں ٹھگ بیٹھے ہوتے ہیں جنہیں مجاور کہتے ہیں۔ وہ زائرین کو صاحب قبر کے متعلق جھوٹی حکایات اور کرامات سناتے ہیں۔ جہالت اور ضعفِ اعتقادی کے باعث لوگ ان کی باتوں میں آ جاتے ہیں۔ اس طرح یہ جاہل لوگ عوام کا ایمان برباد کرتے ہیں۔ قبوریوں کی یہ انتہائی کوشش ہوتی ہے کہ وہ عوام الناس کو قبرپرستی اور اولیاء پرستی کے حوالے سے وہ سارے کے سارے وسائل و ذرائع مہیا کریں جن کی بنیاد پر وہ شرک و بدعت کی طرف چل دیں۔

انہی وسائل میں سے ایک قبروں پر مجاور بن کر بیٹھنا ہے۔ قبروں پر مجاور اور خادم بن کر بیٹھنا منکر اور بدعت ہے۔ یہ بتوں کے پجاریوں کے ساتھ مشابہت اور یہودیانہ روش ہے۔ مشرکین اپنے بتوں کی دیکھ بھال اور نگرانی اسی طرح کرتے تھے۔

مشرکین کا بتوں پر مجاور بننا (قرآنی دلیل)

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ ٭ قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ﴾
ترجمہ:
“جب (ابراہیم علیہ السلام نے) اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو؟ وہ کہنے لگے: ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور انہی کے مجاور بنے رہتے ہیں۔”
📖 الشعراء: 70–71
🔗 https://tohed.com/tafsir/26/70/

نیز فرمایا:

﴿إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَـذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾
ترجمہ:
“جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا: کیا ہیں یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو؟”
📖 الأنبياء: 52
🔗 https://tohed.com/tafsir/21/52/

اور فرمایا:

﴿وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلَى قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَى أَصْنَامٍ لَهُمْ قَالُوا يَا مُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَـهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ﴾
ترجمہ:
“اور ہم بنی اسرائیل کو سمندر سے پار اتار لائے تو وہ ایسے لوگوں کے پاس پہنچے جو اپنے کچھ بتوں پر جمے بیٹھے تھے۔ کہنے لگے: اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی کوئی معبود بنا دیجیے جیسے ان کے معبود ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: یقینا تم بڑے جاہل لوگ ہو۔”
📖 الأعراف: 138
🔗 https://tohed.com/tafsir/7/138/

ذاتِ انواط والا واقعہ (صحیح حدیث)

سنان بن ابی سنان دؤلی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوواقد اللیثی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں:

أنه سمع أبا واقد الليثي، يقول وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم : لما افتتح رسول الله مكة، خرج بنا معه قبل هوازن، حتى مررنا على سدرة الكفار، سدرة يعكفون حولها، ويدعونها ذات أنواط، قلنا : يا رسول الله، اجعل لنا ذات أنواط كما لهم ذات أنواط، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الله أكبر، إنها السنن، هذا كما قالت بنو إسرائيل لموسى : اجعل لنا إلها كما لهم آلهة، قال إنكم قوم تجهلون ، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إنكم لتركبن سنن من قبلكم

ترجمہ:
“جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ ہمیں اپنے ساتھ ہوازن کی طرف لے گئے۔ ہم کفار کی ایک بیری کے پاس سے گزرے جس کے پاس وہ مجاوری کرتے تھے اور اسے ذاتِ انواط کہتے تھے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس طرح کفار کی ذاتِ انواط ہے، ہمارے لیے بھی ایک ذاتِ انواط مقرر فرما دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر! یہ پچھلی امتوں کے طریقے ہیں۔ بالکل ایسا ہی ہے جیسے بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دیں جیسے ان کے معبود ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا: تم بڑے جاہل لوگ ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ضرور بالضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر چلو گے۔”

ترمذی: 2180، مسند الحميدي: 871

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/2180/ 🔗 https://tohed.com/hadith/musnad-humaydi/871/

9 📘 قبروں کی مجاوری اور اسلام — حصہ 2/2

علامہ شاطبی رحمہ اللہ (م: 790ھ) اسی حدیثِ ذاتِ انواط کی شرح میں فرماتے ہیں:

وصار حديث الفرق بهذا التفسير صادقا على أمثال البدع التي تقدمت لليهود والنصارى، وأن هذه الأمة تبتدع في دين الله مثل تلك البدع، وتزيد عليها بدعة لم تتقدمها واحدة من الطائفتين
ترجمہ:
“اس تفسیر کے ساتھ فرقوں والی حدیث ان بدعتوں پر صادق آتی ہے جو یہود و نصاریٰ میں پہلے سے موجود تھیں، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ امت بھی اللہ کے دین میں ویسی ہی بدعتیں ایجاد کرے گی بلکہ ایک ایسی زائد بدعت بھی ایجاد کرے گی جو یہود و نصاریٰ دونوں میں سے کسی نے بھی نہیں کی۔”
📚 الاعتصام: 2/245

📌 ائمۂ امت کی صریح تصریحات

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ومن المحرمات: العكوف عند القبر، والمجاورة عنده، وسدانته، وتعليق الستور عليه، كأنه بيت الله الكعبة
ترجمہ:
“حرام کاموں میں سے یہ ہے کہ قبر پر اعتکاف کیا جائے، اس کے پاس مجاور بن کر بیٹھا جائے، اس کی خدمت کی جائے اور اس پر پردے لٹکائے جائیں گویا وہ خانۂ کعبہ ہو۔”
📚 اقتضاء الصراط المستقيم: 267

اسی کتاب میں مزید فرماتے ہیں:

فأما العكوف والمجاورة عند شجرة أو حجر أو قبر نبي أو غير نبي… فليس هذا من دين المسلمين، بل هو من جنس دين المشركين
ترجمہ:
“کسی درخت، پتھر، بت یا کسی نبی یا غیر نبی کی قبر کے پاس اعتکاف یا مجاوری کرنا مسلمانوں کے دین سے نہیں بلکہ مشرکین کے دین سے ہے۔”
📚 اقتضاء الصراط المستقيم: 365

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ومنها اتخاذها عيدا، والعكوف عندها، والمجاورة عندها، وتعليق الستور عليها… ويرجحون المجاورة عندها على المجاورة عند المسجد الحرام
ترجمہ:
“قبر پرستی کی خرابیوں میں یہ بھی ہے کہ قبروں کو میلہ گاہ بنایا جاتا ہے، ان کے پاس اعتکاف اور مجاوری کی جاتی ہے، پردے لٹکائے جاتے ہیں، حتیٰ کہ قبر کی مجاوری کو مسجدِ حرام کی مجاوری پر ترجیح دی جاتی ہے۔”
📚 إغاثة اللهفان: 1/197

📌 مجاوریت کے جواز کا باطل دعویٰ اور اس کا رد

جناب احمد یار خان نعیمی بریلوی نے اپنی کتاب جاء الحق میں یہ دعویٰ کیا کہ “مجاور بننا جائز ہے” اور اسے صحابہؓ سے ثابت کرنے کی کوشش کی، خصوصاً سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ دعویٰ کیا کہ وہ نبی ﷺ کی قبر کی مجاور تھیں۔

یہ دعویٰ سراسر باطل ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے قاسم بن محمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

دخلت على عائشة فقلت: يا أمه اكشفي لي عن قبر النبي صلى الله عليه وسلم وصاحبيه، فكشفت عن ثلاثة قبور، لا مشرفة ولا لاطئة، مبطوحة ببطحاء العرصة الحمراء
ترجمہ:
“میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور عرض کیا: امی جان! رسول اللہ ﷺ اور آپ کے دونوں ساتھیوں (ابوبکر و عمرؓ) کی قبریں دکھا دیجیے۔ تو انہوں نے تین قبریں دکھائیں جو نہ اونچی تھیں نہ زمین کے ساتھ بالکل برابر، بلکہ میدان کی سرخ کنکریوں سے ہموار تھیں۔”
📖 سنن أبي داود: 3220 (سند صحیح)

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/3220/

اس حدیث سے واضح ہے کہ:
➤ قبریں نہ اونچی تھیں
➤ نہ پختہ
➤ نہ ان پر پردے
➤ نہ گنبد
➤ نہ مجاور

اگر نعیمی صاحب یہ حدیث نقل کر دیتے تو ان کے قبوری نظریے کی بنیاد ہی منہدم ہو جاتی، اسی لیے انہوں نے اسے ذکر نہیں کیا۔

📌 “قُبَّة” والی روایت کا مغالطہ

جناب نعیمی صاحب نے ایک روایت میں آنے والے لفظ قُبَّة سے گنبد مراد لے کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، حالانکہ یہاں قبة سے مراد خیمہ ہے، نہ کہ پختہ گنبد۔

مزید یہ کہ اس روایت کی سند میں محمد بن حمید الرازی ہے جو جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
📚 تقريب التهذيب: 5834

اسی روایت کے اگلے الفاظ (جنہیں دانستہ چھپا لیا گیا) یہ ہیں:

ثم رفعت، فسمعوا صائحا يقول: هل وجدوا ما فقدوا؟ فأجاب آخر: بل يئسوا فانقلبوا
ترجمہ:
“پھر خیمہ اٹھا لیا گیا، تو ایک آواز آئی: کیا انہوں نے جو کھویا تھا پا لیا؟ دوسرے نے جواب دیا: نہیں، وہ مایوس لوٹ گئے۔”

یعنی قبر پر قبہ یا خیمہ لگانے والے ناکام اور مایوس ہی رہتے ہیں۔

📌 نتیجۂ حتمی

قرآن، سنت، صحابہؓ، تابعین اور ائمۂ امت کی تصریحات سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ:

➤ قبروں پر مجاور بننا
➤ قبروں پر اعتکاف
➤ ان پر پردے، چادریں، گنبد
➤ اور انہیں عبادت یا تعظیم کا مرکز بنانا

یہ سب بدعت ہیں، یہود و نصاریٰ اور مشرکین کی مشابہت ہیں، اور دینِ محمدی ﷺ سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

اہلِ علم سے گزارش ہے کہ خود فیصلہ کریں:
کیا قرآن و سنت کے دلائل حق پر ہیں یا قبوری نظام کے من گھڑت قصے؟

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر قبول کرنے اور باطل کو باطل سمجھ کر چھوڑنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔

10 📘 قبروں پر سجدہ (تعظیمی یا غیر تعظیمی) کا شرعی حکم

سوال:
کیا قبروں پر سجدہ تعظیمی یا کسی اور قسم کا سجدہ کرنا جائز ہے؟ اس کی حقیقت کیا ہے؟

جواب:
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلامی شریعت کی روشنی میں غیر اللہ کے لیے ہر قسم کا سجدہ، خواہ تعظیمی ہو یا غیر تعظیمی، قطعاً ناجائز اور حرام ہے۔ یہ عمل گناہِ کبیرہ میں شمار ہوتا ہے۔ قرآن و سنت دونوں اس مسئلے میں نہایت واضح ہیں۔

📖 قرآنِ مجید کی صریح دلیل

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿لَا تَسۡجُدُواْ لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ وَٱسۡجُدُواْۤ لِلَّهِۤ ٱلَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمۡ إِيَّاهُ تَعۡبُدُونَ﴾
ترجمہ:
“سورج کو سجدہ نہ کرو اور نہ چاند کو، بلکہ سجدہ کرو اللہ کو جس نے ان دونوں کو پیدا کیا، اگر تم واقعی اسی کی عبادت کرتے ہو۔”
📚 حم السجدہ: 37
🔗 https://tohed.com/tafsir/41/37/

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ سجدہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے، کسی مخلوق کے لیے نہیں۔

📖 نبی کریم ﷺ کی واضح ہدایت

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

«لَوْ كُنْتُ اٰمُرُ أَحَدًا أَنْ یَّسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا»
ترجمہ:
“اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔”

📚 سنن ترمذی، كتاب الرضاع، حدیث: 1159
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/1159/

یہ حدیث اس بات پر قطعی دلیل ہے کہ اسلام میں کسی بھی انسان کے لیے سجدہ جائز نہیں۔

📖 حدیثِ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ (قبر کا صریح ذکر)

قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

«فَقَالَ لِیْ : أَرَأَیْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِیْ أَکُنْتَ تَسْجُدُ لَہُ ؟ فَقُلْتُ : لاَ ۔ فَقَالَ : لاَ تَفْعَلُوْا…»

ترجمہ:
“رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بتاؤ اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو کیا اسے سجدہ کرو گے؟ میں نے کہا: نہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا نہ کرنا۔ اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں۔”

📚 سنن ابی داود، كتاب النكاح، حدیث: 2140
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2140/
(یہ حدیث حسن لغیرہ بلکہ بعض کے نزدیک صحیح لغیرہ ہے)

یہ حدیث قبر پر سجدہ کی ممانعت پر نہایت واضح نص ہے۔

📌 نتیجہ

➤ قبروں پر سجدہ کرنا، خواہ تعظیمی ہو یا غیر تعظیمی،
➤ اسلامی شریعت میں قطعاً ناجائز، حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔

سجدہ صرف اللہ رب العزت کے لیے ہے، کسی نبی، ولی، صالح، قبر یا کسی بھی مخلوق کے لیے جائز نہیں۔

➤ قرآن و سنت دونوں اس بات پر بالکل واضح ہیں۔

ھذا ما عندي، والله أعلم بالصواب۔

📌 ماخوذ: احکام و مسائل – عقائد کا بیان جلد 1، صفحہ 67

11 📘 قبروں پر اجتماعی دعائیں اور سورۂ یٰسین کی تلاوت کا شرعی حکم

سوال:
بعض لوگ قبروں پر جا کر ہاتھ اٹھا اٹھا کر اجتماعی دعا کرتے ہیں اور سورۂ یٰسین کی تلاوت کرتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟
(حاجی نذیر خان، دامانِ حضرو)

جواب:
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس سوال کے دونوں حصوں کا جواب بالترتیب درج ذیل ہے:

قبروں پر اجتماعی دعا کا حکم

◈ قبروں پر جا کر اجتماعی دعا کرنا شریعت سے ثابت نہیں ہے۔

◈ شریعت میں صرف دفن کے فوراً بعد میت کے لیے دعا کرنے کا حکم آیا ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے دفن کے بعد صحابہؓ کو میت کے لیے دعا کا حکم دیا۔
📖 سنن أبي داود، حدیث: 3221 (سندہ حسن، امام حاکم نے صحیح کہا اور امام ذہبی نے موافقت کی)
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/3221/

◈ جن قبروں کی عبادت کی جاتی ہو یا جن کے پاس شرکیہ اعمال رائج ہوں، وہاں جا کر قبر والے کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا نہیں مانگنی چاہیے، تاکہ مشرکین اور مبتدعین سے تشبہ نہ ہو۔

◈ اگر کوئی شخص ایسی قبر کے پاس پہنچ جائے جس کے صاحب کا عقیدہ درست ہو، تو دل میں خاموشی سے دعا کر لینا جائز ہے، مثلاً:
اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے۔

◈ اگر کوئی شخص اکیلا قبرستان جائے تو اس کے لیے یہ جائز ہے کہ قبرستان والوں کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا کرے۔
رسول اللہ ﷺ سے یہ عمل ثابت ہے:
آپ ﷺ ایک مرتبہ جنت البقیع تشریف لے گئے اور ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی۔
📖 صحیح مسلم، حدیث: 974
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/974/?hid=11227

قبرستان میں سورۂ یٰسین کی تلاوت کا حکم

◈ قبرستان میں یا میت کے پاس سورۂ یٰسین کی تلاوت کرنا کسی صحیح حدیث یا صحابی کے اثر سے ثابت نہیں۔

◈ لہٰذا، یہ عمل بدعت ہے اور اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
📚 (دیکھئے: معجم البدع، شیخ رائد بن صبری بن ابی علفہ، ص: 679)

خلاصۂ حکم

✔ قبرستان والوں کے لیے انفرادی دعا جائز ہے۔
✖ قبروں پر اجتماعی دعا کرنا ثابت نہیں۔
✖ قبرستان میں سورۂ یٰسین یا مخصوص سورتوں کی تلاوت بدعت ہے۔

ھذا ما عندي، واللہ أعلم بالصواب۔

📌 ماخوذ : فتاویٰ علمیہ، جلد 1، کتاب الجنائز، صفحہ 516

12 📘 سوال و جواب: قبر پر قرآن پڑھنا — کیا کسی حدیث سے ثابت ہے؟

سوال:
کیا قبر پر قرآن پڑھنا کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے؟

جواب:
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میت کی تدفین کے بعد قبر پر جا کر قرآن خوانی کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ قبرستان والوں کے لیے کیا کہا جائے؟
تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دعا سکھائی، قرآن پڑھنے کا کوئی ذکر نہیں فرمایا۔

یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل فرمان سے مزید واضح ہوتی ہے:

«لا تجعلوا بيوتكم مقابر، إن الشيطان ينفر من البيت الذى تقرا فيه سورة البقرة»

ترجمہ:
“اپنے گھروں کو قبریں مت بناؤ، بے شک شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔”

📖 صحیح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها
باب استحباب صلاة النافلة فى بيته وجوازها فى المسجد
حدیث: 780
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/780/

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبرستان قرآن پڑھنے کی جگہ نہیں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں قرآن پڑھنے کو قبرستان کے مقابلے میں ذکر فرمایا ہے۔

اسی مفہوم کی ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«صلوا فى بيوتكم ولا تتخذوها قبورا»

ترجمہ:
“اپنے گھروں میں نماز پڑھو اور انہیں قبریں نہ بناؤ۔”

📖 صحیح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها
باب استحباب صلاة النافلة فى بيته وجوازها فى المسجد
حدیث: 777
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/777/?hid=10791

ان دونوں احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:

➤ جس طرح قبرستان میں نماز نہیں پڑھی جاتی
➤ اسی طرح قبرستان میں قرآن کی تلاوت بھی مشروع نہیں

لہٰذا یہ عمل جو آج کل عوام میں رائج ہو چکا ہے کہ قبروں پر جا کر قرآن خوانی کی جاتی ہے، شریعت سے ثابت نہیں، اور اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

📌 ماخذ:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب
“احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں”
سے ماخوذ ہے۔

ھذا ما عندي، واللہ أعلم بالصواب۔

13 📘 قبروں پر پھول اور چادریں چڑھانا — حصہ 1/3

اولیاء اللہ اور صالحین کی قبروں پر پھول اور چادریں چڑھانا عجمی تہذیب پر مبنی قبیح بدعت ہے۔ یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور ائمہ سلف کے طریقے کے خلاف ہے۔ اگر اس میں کوئی دینی مصلحت ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اس کی رہنمائی فرماتے اور سلف صالحین ضرور اسے اپناتے۔

بدعت دین میں نیا اضافہ ہے اور یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیش قدمی ہے۔ سلف صالحین بدعت سے سخت متنفر تھے اور اسے دین کے لیے بہت بڑا نقصان سمجھتے تھے۔

🔹 بدعت کی سنگینی پر سلف کا موقف

شیخ الاسلام ثانی، علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اشتد نكير السلف والأئمة لها، وصاحوا بأهلها من أقطار الأرض، وحذروا فتنتهم أشد التحذير، وبالغوا في ذلك، ما لم يبالغوا مثله في إنكار الفواحش، والظلم والعدوان، إذ مضرة البدع وهدمها للدين ومنافاتها له أشد .

ترجمہ:
“سلف صالحین اور ائمہ دین بدعت کا سخت ترین ردّ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اہلِ بدعت کو زمین کے کونے کونے سے للکارا اور لوگوں کو ان کے فتنے سے بہت زیادہ ڈرایا۔ انہوں نے بدعت کی اتنی زیادہ مخالفت کی کہ اتنی مخالفت فحاشی، ظلم اور زیادتی جیسے گناہوں کی بھی نہیں کی، کیونکہ بدعت کی مضرت، دین کو ڈھانے کی قوت، اور دین سے اس کی منافات باقی گناہوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔”

📚 مدارج السالكين لابن القيم: 1/372

🔹 بدعتی تاویلات اور فہمِ سلف

بدعتی لوگ جب اپنی بدعت پر شرعی دلیل پیش کرنے سے عاجز ہو جاتے ہیں تو بعض عمومی نصوص کو اپنے مطلب کے مطابق موڑ کر بدعت کے لیے “جواز” نکالنے لگتے ہیں۔ علامہ شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر قرآن و سنت کا یہی مفہوم ہوتا جو بدعتی لوگ بیان کرتے ہیں تو سب سے پہلے سلف صالحین اسے سمجھتے اور اس پر عمل کرتے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بدعات سلف میں موجود نہیں تھیں اور انہوں نے ان پر عمل نہیں کیا، لہٰذا یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ نئے مفاہیم باطل ہیں۔

فإن هؤلاء الذين أدركوا هذه المدارك… فدل على أن تلك الأدلة لم تتضمن هذه المعاني المخترعة بحال… فكلّ ما جاء مخالفاً لما عليه السلف الصالح فهو الضلال بعينه .

ترجمہ:
“جن لوگوں نے نصوص سے یہ (بدعتی) مفاہیم نکالے ہیں، یا تو انہوں نے شریعت کا وہ فہم پا لیا ہے جو سلف کو نہیں ملا، یا پھر وہ سمجھنے میں غلطی کر گئے—اور دوسری بات ہی درست ہے۔ سلف صالحین صراطِ مستقیم پر تھے، ان نصوص سے وہی سمجھتے تھے جس پر وہ عمل کرتے رہے۔ یہ بدعات ان میں موجود نہ تھیں اور نہ انہوں نے ان پر عمل کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ نصوص میں یہ گھڑے ہوئے معنی ہرگز موجود نہیں۔ لہٰذا جو کام سلف صالحین کے طریقے کے خلاف ہو، وہی عین گمراہی ہے۔”

📚 الموافقات للشاطبي: 3/73

🔹 بدعت کی “حسنہ/سیئہ” تقسیم کا رد

بعض لوگ بدعت کو “بدعت حسنہ” کہہ کر جواز نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ بدعت کی یہ تقسیم ہی خود بدعت ہے۔ علامہ شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

إن هذا التقسيم أمر مخترع، لا يدل عليه دليل شرعي… فإن من حقيقة البدعة أن لا يدل عليها دليل شرعي… فالجمع بين كون تلك الأشياء بدعا، وبين كون الأدلة تدل على وجوبها أو ندبها أو إباحتها، جمع بين متناقضين .

ترجمہ:
“(بدعت کی) یہ تقسیم (خود) ایجاد کردہ ہے، اس پر کوئی شرعی دلیل نہیں۔ بدعت کی حقیقت یہ ہے کہ اس پر کوئی شرعی دلیل نہیں ہوتی۔ اگر کوئی دلیل اس کے وجوب، استحباب یا جواز پر دلالت کرے تو وہ بدعت رہتی ہی نہیں۔ لہٰذا کسی چیز کو بدعت کہنا اور پھر اس کے جواز کے لیے دلائل کا دعویٰ کرنا دو متناقض باتوں کو جمع کرنا ہے۔”

📚 الاعتصام للشاطبي: 1/191–192

14 📘 قبروں پر پھول اور چادریں چڑھانا — حصہ 2/3

موجودہ دور میں بعض لوگوں نے بہت سے ایسے امور کو دین کا درجہ دے رکھا ہے جن کا صحابہ و تابعین اور ائمہ دین کے دور میں نام و نشان تک نہ تھا۔ انہی میں سے ایک کام قبروں پر پھول اور چادریں وغیرہ چڑھانا ہے۔

🔹 بدعتی دعویٰ (پھول/چادریں)

امامِ بریلویت احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں:

“قبروں پر پھول ڈالنا، چادریں چڑھانا، چراغاں کرنا علمائے اہل سنت کا فرمان ہے کہ پھول ڈالنا تو ہر مؤمن کی قبر پر جائز ہے خواہ وہ ولی اللہ ہو یا گناہگار، اور چادریں ڈالنا اولیاء، علماء، صلحاء کی قبور پر جائز ہے، عوام مسلمین کی قبور پر ناجائز کیونکہ یہ بے فائدہ ہے۔”
📚 جاء الحق (نعیمی): 1/269

اگر “علمائے اہل سنت” سے مراد نام نہاد اہل سنت (بدعتی) ہوں تو یہ بات ان کے ہاں درست سمجھی جا سکتی ہے، ورنہ علمائے اہل سنت میں سے کوئی بھی قبروں پر پھول اور چادریں چڑھانے کا قائل و فاعل نہیں۔ جو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ تھا، صحابہ کرام جس سے ناواقف تھے اور ائمہ سلف نے جسے اختیار نہ کیا—وہ “نیکی” کیسے بن گیا؟

قبروں پر پھول چڑھانا نصاریٰ کا وطیرہ ہے، اور چادریں چڑھانا صالحین کی تعظیم میں غلو ہے، جس کی شریعت میں مذمت موجود ہے۔ اگر عوام کی قبروں پر چادریں “بے فائدہ” ہونے کی وجہ سے ناجائز ہیں تو صلحاء کی قبروں پر ان کا “فائدہ” کیا ہے؟ اگر شرعی فائدہ ہوتا تو اللہ اور اس کا رسول ضرور بتاتے اور سلف صالحین ضرور اپناتے۔

📌 قبروں پر چادریں اور علمائے حق کے اقوال

➊ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ

ومن المحرمات: العكوف عند القبر، والمجاورة عنده، وسدانته، وتعليق الستور عليه، كأنه بيت الله الكعبة
ترجمہ:
“حرام کاموں میں سے یہ ہے کہ قبر پر اعتکاف کیا جائے، اس کے پاس مجاوری کی جائے، اس کی خدمت کی جائے، اور اس پر پردے لٹکائے جائیں گویا وہ بیت اللہ کعبہ ہو۔”
📚 اقتضاء الصراط المستقيم لابن تيمية: 267

اور فرماتے ہیں:

ومنهم من يعلق على القبر المكذوب أو غير المكذوب، من الستور والثياب، ويضع عنده من مصوغ الذهب والفضة، ما قد أجمع المسلمون على أنه ليس من دين الإسلام
ترجمہ:
“بعض لوگ جعلی یا حقیقی قبروں پر پردے اور کپڑے لٹکاتے ہیں اور وہاں سونے چاندی کے زیورات رکھتے ہیں، مسلمانوں کا اجماع ہے کہ یہ دینِ اسلام میں سے نہیں۔”
📚 اقتضاء الصراط المستقيم: 384

اور فرماتے ہیں:

وقد اتفق أئمة الدين على أنه لا يشرع بناء المساجد على القبور، ولا أن تعلق عليها الستور
ترجمہ:
“ائمہ دین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قبروں پر مسجدیں بنانا اور ان پر پردے لٹکانا مشروع نہیں۔”
📚 جامع الرسائل لابن تيمية: 1/54

➋ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ

ومنها: مشابهة عبادة الأصنام بما يفعل عندها من العكوف عليها، والمجاورة عندها، وتعليق الستور عليها وسدانتها…
ترجمہ:
“قبروں کی خرافات میں سے یہ بھی ہے کہ ان کے پاس وہ کام کیے جائیں جو بت پرستی سے مشابہ ہیں: قبروں پر اعتکاف، مجاوری، پردے لٹکانا، خدمت پر مقرر ہونا وغیرہ…”
📚 إغاثة اللهفان لابن القيم: 1/197

➌ علامہ شوکانی رحمہ اللہ (قبر پرستی کی جڑ)

فلا شك ولا ريب أن السبب الأعظم… رفع القبور، ووضع الستور عليها، وتجصيصها وتزيينها… حتى يطلب من صاحب ذلك القبر ما لا يقدر عليه إلا الله سبحانه، فيصير في عداد المشركين
ترجمہ:
“اس میں کوئی شک نہیں کہ مردوں کے بارے میں باطل اعتقادات کا سب سے بڑا سبب قبروں کو بلند کرنا، ان پر پردے ڈالنا، انہیں پختہ اور نہایت مزین کرنا ہے… یہاں تک کہ جاہل شخص صاحب قبر سے وہ چیزیں مانگنے لگتا ہے جن پر صرف اللہ قادر ہے، اور یوں مشرک بن جاتا ہے۔”
📚 شرح الصدور بتحريم رفع القبور: ص 17

📌 “شعائر اللہ” والی تاویل (بدعتی استدلال)

بدعتی حضرات صالحین کی قبروں کو “شعائر اللہ” قرار دے کر پھول/چادروں کو “جائز تعظیم” ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ:
➤ اللہ تعالیٰ نے صالحین کی قبروں کی ایسی تعظیم کا حکم کہاں دیا؟
➤ صحابہ کرام، تابعین اور ائمہ سلف نے یہ طریقہ کیوں اختیار نہیں کیا؟
➤ پھول کی “تسبیح” سے مردے کو ثواب پہنچنے کی دلیل کہاں ہے؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ﴾
ترجمہ:
“اور کوئی چیز ایسی نہیں مگر وہ اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے، لیکن تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں۔”
📖 الإسراء: 44

اور فرمایا:

﴿كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ﴾
ترجمہ:
“ہر ایک کو اپنی نماز اور اپنی تسبیح معلوم ہے۔”
📖 النور: 41

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

ولقد كنا نسمع تسبيح الطعام وهو يؤكل
ترجمہ:
“ہم کھانے کی تسبیح بھی سنتے تھے جب اسے کھایا جا رہا ہوتا تھا۔”
📖 صحیح البخاري: 3579

15 📘 قبروں پر پھول اور چادریں چڑھانا — حصہ 3/3 (آخری)

📌 بدعت کی دلیل کے طور پر پیش کی جانے والی حدیث کا صحیح مفہوم

بعض لوگ قبروں پر پھول چڑھانے اور قرآن خوانی کے جواز کے لیے یہ حدیث پیش کرتے ہیں:

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:
مرَّ النبيُّ ﷺ على قبرين يُعذَّبان، فقال:
«إنهما ليُعذَّبان، وما يُعذَّبان في كبير؛ أما أحدهما فكان لا يستتر من البول، وأما الآخر فكان يمشي بالنميمة»
ثم أخذ جريدةً رطبةً فشقَّها نصفين، فغرز في كل قبرٍ واحدة، فقالوا: يا رسولَ الله، لِمَ صنعتَ هذا؟
قال: «لعله أن يُخفَّف عنهما ما لم ييبسا»

ترجمہ:
نبی ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے جن کے مردوں کو عذاب دیا جا رہا تھا… پھر آپ ﷺ نے ایک تازہ کھجور کی ٹہنی لی، اسے دو حصوں میں کیا اور ہر قبر پر ایک ایک گاڑ دی، اور فرمایا: شاید جب تک یہ تر رہیں ان دونوں سے عذاب میں تخفیف ہو جائے۔
📖 صحیح بخاری: 1361 — صحیح مسلم: 292

📌 اس حدیث سے پھول/چادریں ثابت نہیں ہوتیں

  1. حدیث میں پھول چڑھانے یا چادریں ڈالنے کا کوئی ذکر نہیں۔

  2. تخفیفِ عذاب کا سبب ٹہنی کی “تسبیح” نہیں بلکہ نبی ﷺ کی دعا و شفاعت تھی۔

  3. یہ نبی ﷺ کا خاصہ تھا؛ اس سے عام لوگوں کے لیے قاعدہ نہیں بنتا۔

اسی کی تائید ایک دوسری روایت سے ہوتی ہے:

«إني مررت بقبرين يُعذَّبان، فأحببتُ بشفاعتي أن يُرفَّه عنهما ما دام الغصنان رطبين»
ترجمہ:
میں دو قبروں کے پاس سے گزرا جنہیں عذاب دیا جا رہا تھا، تو میں نے اپنی شفاعت کی وجہ سے چاہا کہ جب تک دونوں ٹہنیاں تر رہیں، ان سے عذاب میں نرمی ہو جائے۔
📖 صحیح مسلم (مفہوماً)

اسی مضمون کی روایت سیدنا ابو ہریرہؓ سے بھی ہے۔
📖 صحیح ابن حبان: 824 (سند حسن)

📌 ائمہ کی صریح تصریحات

➊ علامہ نوویؒ کی توضیح (تنبیہ کے ساتھ)

علامہ نوویؒ نے تلاوت کے بارے میں استحباب کا ذکر کیا، لیکن خیرالقرون میں اس پر عمل نہیں ملتا؛ لہٰذا اسے قیاس بنا کر قبروں پر قرآن/پھول ثابت کرنا قیاسٌ مع الفارق ہے۔

➋ علامہ بدرالدین عینیؒ (شارحِ بخاری)

وكذلك ما يفعله أكثر الناس من وضع ما فيه رطوبة من الرياحين والبقول على القبور، ليس بشيء، وإنما السنة الغرز
ترجمہ:
لوگ قبروں پر پھول و سبزیاں رکھتے ہیں؛ یہ بے بنیاد ہے۔ سنت تو (ٹہنی) گاڑنا تھا۔
📚 عمدة القاري: 3/121

➌ علامہ خطابیؒ

ليس ذلك من أجل أن في الجريد الرطب معنى ليس في اليابس… وليس لما تعاطوه من ذلك وجه
ترجمہ:
ٹہنی میں کوئی ذاتی تاثیر نہیں تھی؛ تخفیف نبی ﷺ کی دعا کی وجہ سے تھی۔ عوام کا قبروں میں پتّے بچھانا بے دلیل ہے۔
📚 معالم السنن: 1/27

➍ علامہ احمد شاکرؒ

عام لوگوں کا قبروں پر پھول رکھنا عیسائیوں کی تقلید ہے؛ یہ سب بدعات و منکرات ہیں جن کی کتاب و سنت میں کوئی اصل نہیں۔
📚 تعليق أحمد شاكر على الترمذي: 1/103

📌 “قُبَّة” (قبہ) والی روایت کا مغالطہ

بعض نے قُبَّة سے گنبد مراد لیا؛ حالانکہ یہاں خیمہ مراد ہے۔ مزید یہ کہ روایت کی سند میں ضعف ہے، اور اگلے الفاظ بتاتے ہیں کہ قبر پر خیمہ لگانے والے مایوس لوٹے—یہ جواز نہیں بنتا۔

📌 قطعی نتیجہ

✔ قبروں پر پھول چڑھانا، چادریں ڈالنا، چراغاں کرنا—
✖ قرآن و سنت اور فہمِ سلف سے ثابت نہیں؛
✖ یہ بدعت ہے اور قبر پرستی کی راہ ہموار کرتی ہے۔

اگر اس میں کوئی دینی خیر ہوتی تو صحابہؓ، تابعینؒ اور ائمہؒ ضرور اپناتے۔
حق یہ ہے کہ عبادت و تعظیم کے یہ تمام مظاہر اللہ کے لیے خاص ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توحیدِ خالص پر قائم رکھے اور ہر بدعت و شرک سے محفوظ فرمائے۔
آمین۔

16 📘 قبرستان جانے کے مقاصد — حصہ 1/3

سوال (احمد خان پھلاڈیوں، سندھ):
کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جب اہلحدیث حضرات قل، ختم، چہلم وغیرہ کو نہیں مانتے تو پھر قبرستان جا کر کیا کرتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ کا قبرستان جانے کا معمول کیا تھا؟ کیا قبرستان میں قرآن پڑھنا منع ہے؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ مردوں کو قرآن پڑھ کر بخشنے کے مخالف ہیں۔

جواب:
الحمد للہ، والصلاة والسلام علی رسول اللہ، أما بعد!
قبرستان جانے کے کئی واضح اور ثابت شدہ مقاصد ہیں، جن کی بنیاد کتاب و سنت پر ہے۔

نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل

◈ نبی کریم ﷺ قبرستان جا کر اہلِ قبور کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔
◈ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں:

"حتی جاء البقیع فقام فاطال القيام ثم رفع يديه ثلاث مرات ثم انحرف فانحرفت..."

ترجمہ:
حتی کہ نبی ﷺ بقیع (مدینہ کے قبرستان) پہنچے، وہاں کھڑے ہوئے، دیر تک کھڑے رہے، پھر تین مرتبہ ہاتھ اٹھا کر دعا کی، پھر واپس لوٹے، تو میں بھی واپس لوٹی۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب ما یقال عند دخول القبور والدعاء
حدیث: 974 (ترقیم دارالسلام: 2256)
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/974/?hid=11227

◈ اسی حدیث کے ضمن میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

"میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اہلِ بقیع کی قبروں پر جا کر ان کے لیے دعائے مغفرت کروں۔"
📖 صحیح مسلم: 974

قبروں کی زیارت سے منع کا حکم منسوخ ہو چکا ہے

◈ ثقہ تابعی عبداللہ بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں:

“ایک دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قبرستان سے آئیں۔ میں نے پوچھا: اے ام المؤمنین! کہاں سے آرہی ہیں؟
فرمایا: اپنے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی قبر سے۔
میں نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت سے منع نہیں فرمایا تھا؟
تو فرمایا: ہاں! پہلے منع کیا تھا، پھر زیارت کا حکم دے دیا گیا۔”

📖 المستدرک للحاکم 1/376، حدیث: 1392
📖 السنن الکبریٰ للبیہقی 4/78
سند صحیح — تصحیح: امام ذہبی و امام بوصیری
(دیکھئے: احکام الجنائز للالبانی، ص: 181)

صحیح بخاری سے واضح دلیل

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

نبی کریم ﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بچے کی قبر پر رو رہی تھی۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
«اتقي الله واصبري»
(اللہ سے ڈرو اور صبر کرو)

اس واقعے میں نبی ﷺ نے عورت کو قبر پر آنے سے منع نہیں فرمایا بلکہ صبر کی تلقین فرمائی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اصل منع، نوحہ و جزع سے ہے، قبرستان آنے سے نہیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الجنائز، حدیث: 1283
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1283/
📚 فتح الباری، ج: 3، ص: 148

17 📘 قبرستان جانے کے مقاصد — حصہ 2/3

قبروں کی زیارت موت اور آخرت کی یاد دہانی کے لیے

نبی کریم ﷺ نے قبروں کی زیارت کا بنیادی مقصد موت اور آخرت کی یاد بیان فرمایا ہے۔

◈ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

«فَزُورُوا القُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الآخِرَةَ»

ترجمہ:
“پس قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ وہ تمہیں آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔”

📖 صحیح مسلم، کتاب الجنائز
حدیث: 976
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/976/?hid=11230

◈ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ القُبُورِ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَزُورَ فَلْيَزُرْ، وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا»

ترجمہ:
“میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب جو چاہے زیارت کرے، لیکن لغو اور باطل باتیں نہ کرے۔”

📖 سنن النسائي، حدیث: 2035
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/2035/

قبرستان میں اصل عمل: دعا اور عبرت

قبرستان جا کر شریعت میں جو عمل ثابت ہے، وہ یہ ہے:

◈ اہلِ قبور کے لیے دعائے مغفرت
◈ اپنی موت اور انجام کو یاد کر کے عبرت و نصیحت
◈ دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی تیاری

نبی کریم ﷺ قبرستان میں داخل ہوتے وقت یہ دعا فرمایا کرتے تھے:

«السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ العَافِيَةَ»

ترجمہ:
“اے ایمان والوں کی بستی کے رہنے والو! تم پر سلام ہو، اور ہم بھی اگر اللہ نے چاہا تو تم سے آ ملنے والے ہیں، ہم اللہ سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔”

📖 صحیح مسلم، کتاب الجنائز
حدیث: 975
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/975/

عورتوں کے لیے زیارتِ قبور کے ضوابط

◈ عورتوں کا کثرت سے قبروں کی زیارت کرنا ممنوع ہے۔

◈ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

«لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَوَّارَاتِ القُبُورِ»

ترجمہ:
“رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی کثرت سے زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔”

📖 سنن الترمذي، کتاب الجنائز
حدیث: 1056حسن صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/1056/

◈ نبی ﷺ نے اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سخت الفاظ میں تنبیہ فرمائی جب وہ قبرستان گئیں۔ (سنن ابی داود، ح 3123؛ سند صحیح: المستدرک 1/373-374) 🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/3123/ ◈ ربیعہ بن سیف روایت کرتے ہیں جو جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق ہیں۔ (دیکھئے نیل المقصود 2/714، عمدۃ المساعی 1/188)

◈ البتہ دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ:

➤ عورت اگر کبھی کبھار
➤ بغیر نوحہ، جزع فزع اور شرکیہ اعمال کے
➤ کسی قریبی رشتہ دار کی قبر پر عبرت کے لیے جائے

تو بعض اہلِ علم کے نزدیک اس کی گنجائش ہے، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے عمل سے واضح ہوتا ہے (جیسا کہ حصہ 1 میں گزر چکا ہے)۔

اہلحدیث حضرات قبرستان جا کر کیا کرتے ہیں؟

اہلحدیث حضرات قبرستان جا کر:

✔ اہلِ قبور کے لیے دعا کرتے ہیں
✔ موت اور آخرت کو یاد کرتے ہیں
✔ نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہیں

اور درج ذیل امور سے اجتناب کرتے ہیں:

✖ قبروں پر چادریں چڑھانا
✖ قل، ختم، چہلم اور برسی
✖ اجتماعی دعا کی مخصوص محفلیں
✖ قبرستان میں قرآن خوانی
✖ خود ساختہ ایصالِ ثواب کی رسومات

کیونکہ ان اعمال کا قرآن، سنت، اجماع یا فہمِ سلف سے کوئی ثبوت نہیں۔

18 📘 قبرستان جانے کے مقاصد — حصہ 3/3

قبرستان میں قرآن پڑھنے کا حکم

قبرستان میں جا کر قرآنِ مجید پڑھنا یا مردوں کو قرآن پڑھ کر بخشنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ قبرستان والوں کے لیے کیا کہا جائے؟
تو نبی کریم ﷺ نے صرف دعا سکھائی، قرآن پڑھنے کا کوئی حکم نہیں دیا۔

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

«لا تجعلوا بيوتكم مقابر، إن الشيطان ينفر من البيت الذى تقرأ فيه سورة البقرة»

ترجمہ:
“اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ، بے شک شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔”

📖 صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، حدیث: 780
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/780/

اسی طرح فرمایا:

«صلوا في بيوتكم ولا تتخذوها قبورا»

ترجمہ:
“اپنے گھروں میں نماز پڑھو اور انہیں قبریں نہ بناؤ۔”

📖 صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، حدیث: 777
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/777/?hid=10791

↰ ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ جس طرح قبرستان نماز کی جگہ نہیں، اسی طرح قرآن پڑھنے کی جگہ بھی نہیں۔

قبروں کی طرف سفر کا شرعی حکم

قبروں یا مزارات کی طرف خصوصی ثواب کی نیت سے سفر کرنا جائز نہیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«لا تُشَدُّ الرِّحالُ إلا إلى ثلاثة مساجد»

ترجمہ:
“سفر باندھا نہیں جاتا مگر تین مسجدوں کی طرف۔”

📖 صحیح البخاری، حدیث: 1189
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1189/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 1397
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1397/?hid=12355

یہ تین مسجدیں ہیں:
➤ مسجدِ حرام
➤ مسجدِ نبوی
➤ مسجدِ اقصیٰ

اسی بنا پر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو کوہِ طور کی طرف عبادت کی نیت سے سفر کرنے سے روکا گیا۔
📖 موطا امام مالک، حدیث: 239 (سند صحیح)

شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

والحق عندي أن القبر ومحل عبادة ولي من أولياء الله والطور كل ذلك سواء في النهي

ترجمہ:
“میرے نزدیک قبر، کسی ولی کی عبادت گاہ اور کوہِ طور—یہ سب ممانعت میں برابر ہیں۔”

📚 حجۃ اللہ البالغہ، ج: 1، ص: 192

قل، ختم، چہلم اور ایصالِ ثواب کا حکم

◈ قل، ختم شریف، تیجہ، چہلم اور برسی جیسی رسومات قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔
◈ قرآن پڑھ کر مردوں کو ایصالِ ثواب کرنا بھی کسی صحیح دلیل سے ثابت نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ﴾

ترجمہ:
“اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔”

📖 سورۃ النجم: 39

🔗 https://tohed.com/tafsir/53/39/

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

ومن هذه الآية استنبط الشافعي ومن اتبعه أن القراءة لا يصل إهداء ثوابها إلى الموتى… ولو كان خيرا لسبقونا إليه

ترجمہ:
“اس آیت سے امام شافعی اور ان کے متبعین نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ قرآن پڑھ کر اس کا ثواب مردوں کو نہیں پہنچتا، کیونکہ یہ ان کے عمل میں شامل نہیں۔ اگر یہ عمل خیر ہوتا تو صحابہ کرام ہم سے پہلے اس پر عمل کرتے۔”

📚 تفسیر ابن کثیر، سورۃ النجم: 39

📌 جامع خلاصہ

✔ قبرستان جانا سنت ہے
✔ مقصد: دعا، عبرت، موت اور آخرت کی یاد
✔ اہلِ قبور کے لیے دعائے مغفرت

✖ قبرستان میں قرآن خوانی
✖ قل، ختم، چہلم، برسی
✖ قبروں کی طرف ثواب کی نیت سے سفر
✖ قبروں کو عبادت یا تعظیم کا مرکز بنانا

یہ تمام امور بدعت ہیں اور سلف صالحین کے طریقے کے خلاف ہیں۔

19 📘 مزار پرستی، اولیاء پرستی کے جواز میں قبر پرستوں کے 19 مشہور دلائل کا جائزہ

🔹 تبرک کے لیے اولیاء کے اجسام یا ان سے منسوب اشیاء کو استعمال کرنا جائز نہیں بلکہ بدعت ہے۔
سلف صالحین سے اس عمل کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ یہاں قبر پرستوں کے پیش کردہ 19 مشہور دلائل کا مختصر جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

دلیل نمبر 1: امام شافعی رحمہ اللہ کا واقعہ

امام شافعی رحمہ اللہ کے شاگرد ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ سے منسوب ہے کہ:

امام شافعی رحمہ اللہ مصر سے ایک خط لکھ کر انہیں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تک پہنچانے کا کہتے ہیں۔ جب ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ بغداد پہنچے تو فجر کے وقت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ملاقات کی اور انہیں خط دیا۔ خط پڑھتے وقت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ خط میں امام شافعی رحمہ اللہ نے ایک خواب کا ذکر کیا تھا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو "خلق قرآن” کے باطل عقیدے کی مخالفت کرنے کا پیغام دیا تھا۔ ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ مزید بیان کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے انہیں اپنی ایک قمیص دی، جسے وہ مصر میں امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس لے گئے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس قمیص سے برکت حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی اور اسے پانی میں بھگو کر استعمال کیا۔
📚 تاریخ دمشق لابن عساکر: 5/311
📚 مناقب أحمد بن حنبل لابن الجوزي: 609، 610

📌 اس روایت پر تبصرہ

یہ واقعہ کمزور اور غیر معتبر سندوں پر مبنی ہے۔ اس کے کئی اسباب ہیں:

محمد بن حسین ابو عبدالرحمن سلمی (راوی) “متہم بالکذب” یعنی جھوٹا سمجھا جاتا ہے۔
ابوبکر محمد بن عبداللہ بن عبدالعزیز بن شاذان رازی (گمراہ صوفی) کو بھی “متہم” قرار دیا گیا ہے۔
علی بن عبدالعزیز طلحی کے حالاتِ زندگی کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔

📌 دوسری سند (مناقب احمد بن حنبل)

اس واقعے کی ایک اور سند مناقب احمد بن حنبل میں ہے، مگر اس میں بھی خامیاں ہیں:

ابوعلی الحسن بن علی بن محمد (ابن مذہب بغدادی) کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“یہ شیخ مضبوط حافظے والے نہیں تھے”
📚 ميزان الاعتدال: 1/512

◈ دیگر علماء نے بھی اس راوی کے اختلاط کا ذکر کیا ہے۔

📌 تیسری سند (تاریخ ابن عساکر / طبقات الشافعیہ)

یہ سند بھی “ضعیف” ہے:

جعفر بن محمد مالکی کی توثیق نہیں ملتی۔
ابن شاذان رازی کے بارے میں حافظ ذہبی لکھتے ہیں:
“یہ ثقہ نہیں تھا”
📚 تاریخ الاسلام: 6/360

📌 ربیع بن سلیمان کے بغداد جانے پر اشکال

حافظ ذہبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ربیع بن سلیمان طلبِ علم کے لیے زیادہ سفر کرنے والے نہیں تھے، اور یہ کہ ان کا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پاس بغداد جانا درست نہیں۔
📚 سیر اعلام النبلاء: 12/587

اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ خطیب بغدادی نے اپنی کتاب تاریخ بغداد میں ان کا ذکر نہیں کیا۔ اگر وہ بغداد گئے ہوتے تو ان کا تذکرہ ضرور ہوتا۔

دلیل نمبر 2: امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کا واقعہ

عمرو بن قیس ملائی، ابو عبداللہ کوفی رحمہ اللہ کے بارے میں امام عجلی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں کہ:

“امام سفیان ثوری رحمہ اللہ ان کے پاس آتے، ان سے سلام کرتے اور ان سے برکت حاصل کرتے۔”
📚 الثقات: 368

📌 تبصرہ

یہ قول سخت منقطع ہے، کیونکہ:

◈ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کی وفات: 161 ہجری
◈ امام عجلی رحمہ اللہ کی ولادت: 182 ہجری
◈ دونوں کے درمیان واسطہ کا ذکر نہیں، لہٰذا یہ سند منقطع ہے اور مردود ہے۔

20 دلیل نمبر 3: سلطان محمود غزنوی اور جبۂ خرقانی

قبر پرستوں کا دعویٰ ہے کہ سلطان محمود غزنویؒ کو سومنات کی فتح
علی بن احمد ابو الحسن خرقانی بسطامی (م 425ھ) کے جبے کی برکت سے ملی۔

📚 تذکرۃ الاولیاء از فرید الدین عطار، ص: 344

🔍 تبصرہ

◈ یہ قصہ جھوٹا، من گھڑت اور بے سند ہے۔
◈ کسی معتبر حدیث، تاریخ یا سلفی ماخذ سے ثابت نہیں۔
◈ یہ گمراہ صوفیانہ حکایات میں سے ہے جن کا مقصد تبرک و وسیلہ کو رواج دینا ہے۔

نتیجہ:
یہ دلیل سرے سے ناقابلِ اعتبار ہے۔

دلیل نمبر 4: سیدنا حمزہؓ کی قبر پر قبہ

علامہ سخاوی (831–902ھ) لکھتے ہیں:

“سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر پر ایک قبہ بنایا گیا، اس سے لوگ تبرک حاصل کرتے ہیں۔”
📚 التحفۃ اللطیفۃ: 1/307

🔍 تبصرہ

◈ قبروں پر قبے بنانا رافضیوں کی بدعت ہے۔
◈ اہل سنت کے نزدیک قبروں پر قبے بنانا حرام اور معصیت ہے۔
◈ خیر القرون (صحابہ، تابعین، تبع تابعین) میں اس کا کوئی ثبوت نہیں۔
◈ نبی ﷺ کی قبر پر سبز گنبد بھی صدیوں بعد بنایا گیا، نہ کہ سلف کے دور میں۔

نتیجہ:
نامعلوم بدعتی لوگوں کے عمل کو دلیل بنانا باطل ہے۔

دلیل نمبر 5: امام طبرانی کا قبرِ رسول ﷺ پر واقعہ

حافظ ذہبی رحمہ اللہ ایک قصہ نقل کرتے ہیں کہ:

امام طبرانی، ابن مقری اور ابو الشیخؒ مدینہ میں فاقہ کشی کا شکار ہوئے،
قبرِ رسول ﷺ کے پاس جا کر شکایت کی، پھر خواب کے ذریعے رزق آیا۔

📚 تذکرۃ الحفاظ: 3/122
📚 سیر أعلام النبلاء: 16/400
📚 مصباح الظلام: 61

🔍 تبصرہ

◈ یہ واقعہ بے سند اور قصہ کہانی ہے۔
◈ اس کا مقصد محدثین کو قبر سے مدد لینے والا ثابت کرنا ہے۔
◈ اسلام میں بے سند واقعات کی کوئی حیثیت نہیں۔

نتیجہ:
یہ دلیل علمی دیانت کے خلاف اور ناقابلِ قبول ہے۔

دلیل نمبر 6: سیدنا عباسؓ کے وسیلے سے بارش کی دعا

سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

«كان عمرُ إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب»
ترجمہ:
“جب قحط پڑتا تو عمرؓ، عباس بن عبدالمطلبؓ کے وسیلے سے بارش کی دعا کرواتے تھے۔”
📖 صحیح البخاری: 1010

🔍 تبصرہ

◈ یہ زندہ شخص سے دعا کروانے کی مثال ہے، قبر سے دعا کی نہیں۔
◈ اگر قبر پر دعا افضل ہوتی تو عمرؓ، قبرِ رسول ﷺ پر جاتے۔
◈ صحابہؓ نے قبروں پر جا کر دعا کو کبھی اختیار نہیں کیا۔

نتیجہ:
یہ دلیل قبر پرستی کے خلاف ہے، اس کے حق میں نہیں۔

21 دلیل نمبر 7: امام شافعیؒ کا ابو حنیفہؒ کی قبر پر دعا کرنا

منسوب روایت:

“میں ابو حنیفہؒ کی قبر پر آتا، دو رکعت پڑھتا اور دعا کرتا تو حاجت پوری ہو جاتی۔”
📚 تاریخ بغداد: 1/135

🔍 تبصرہ

◈ روایت جھوٹی اور باطل ہے۔
◈ اس کے راوی مجہول ہیں (عمر بن اسحاق، علی بن میمون)۔
◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے اسے صریح جھوٹ قرار دیا۔

📚 اقتضاء الصراط المستقيم: ص 165

نتیجہ:
امام شافعیؒ پر یہ عمل بہتان ہے۔

دلیل نمبر 8: امام بخاریؒ کی قبر پر بارش کی دعا

ابن بشکوال کے مطابق سمرقند میں قحط کے وقت امام بخاریؒ کی قبر پر دعا ہوئی اور بارش آئی۔
📚 الصلة في تاريخ أئمة الأندلس: ص 603

🔍 تبصرہ

◈ پانچویں صدی کا نامعلوم واقعہ ہے۔
◈ سلف صالحین سے ایسا کوئی عمل ثابت نہیں۔
◈ بارش آ جانا اتفاق ہو سکتا ہے، دلیل نہیں۔

نتیجہ:
یہ دلیل شرعی حجت نہیں۔

دلیل نمبر 9: موسیٰ بن جعفر کی قبر سے وسیلہ

حسن بن ابراہیم کا قول کہ وہ موسیٰ بن جعفر کی قبر پر جا کر دعا کرتا تھا۔
📚 تاریخ بغداد: 1/120

🔍 تبصرہ

◈ راوی غیر موثق ہے۔
◈ یہ بعد کے لوگوں کا عمل ہے، دین کی دلیل نہیں۔
◈ ابن تیمیہؒ: قبروں کے پاس دعا افضل نہیں۔
📚 مجموع الفتاویٰ: 27/180

نتیجہ:
یہ دلیل مردود ہے۔

دلیل نمبر 10: معروف کرخیؒ کی قبر “تریاقِ مجرب”

منسوب قول: “معروف کرخیؒ کی قبر تریاق ہے۔”
📚 تاریخ بغداد: 1/122

🔍 تبصرہ

◈ روایت جھوٹی ہے۔
◈ راوی غیر ثقہ اور مجروح ہیں۔
◈ محدثین (خطیب بغدادی، ابو نعیم، سہمی) نے سخت تضعیف کی۔

نتیجہ:
یہ قصہ باطل اور قبر پرستی کی ترویج ہے۔

دلیل نمبر 11: معروف کرخیؒ کی قبر پر حاجات کی قبولیت

منسوب ہے کہ معروف کرخیؒ کی قبر کے پاس سورۂ اخلاص پڑھنے سے حاجت پوری ہو جاتی ہے۔
📚 تاریخ بغداد: 1/122

🔍 تبصرہ

◈ یہ متاخرین کا عمل ہے؛ خیر القرون سے ثابت نہیں۔
◈ حاجت پوری ہونا اتفاق ہو سکتا ہے؛ اسے قبر کی تاثیر سمجھنا دلیل نہیں۔
◈ اگر یہ مشروع ہوتا تو صحابہؓ ضرور اختیار کرتے۔

نتیجہ: دلیل نہیں بنتی۔

دلیل نمبر 12: معروف کرخیؒ کی قبر سے پریشانی کا خاتمہ

منسوب قول کہ جو پریشان معروف کرخیؒ کی قبر کا قصد کرے، اس کی پریشانی دور ہو جاتی ہے۔
📚 تاریخ بغداد: 1/123

🔍 تبصرہ

◈ یہ بھی بعد کے لوگوں کا قول ہے، دین کی حجت نہیں۔
◈ قبروں کے پاس دعا کو افضل سمجھنا سلف سے ثابت نہیں۔

📚 ابن تیمیہؒ:
“قبروں کے پاس دعا کو مستحب نہیں کہا گیا۔”
مجموع الفتاویٰ: 27/180

نتیجہ: مردود۔

22 دلیل نمبر 13: سیدنا ابو ایوبؓ کی قبر سے بارش کی دعا (روایتِ مجاہد)

منسوب ہے کہ رومی قحط میں ابو ایوبؓ کی قبر کھولتے تو بارش ہوتی۔
📚 معجم الصحابة للبغوي: 2/222

🔍 تبصرہ

◈ سند ضعیف ہے؛ واقدی اور اسحاق بن یحییٰ ضعیف ہیں۔
📚 تقريب التهذيب: 390

نتیجہ: قابلِ احتجاج نہیں۔

دلیل نمبر 14: امام مالکؒ سے منسوب خبر (رومیوں کا عمل)

منسوب ہے کہ رومی ابو ایوبؓ کی قبر کے وسیلے سے بارش مانگتے تھے۔
📚 الاستيعاب: 4/1606

🔍 تبصرہ

◈ امام مالکؒ نے صرف خبر نقل کی، تائید نہیں کی۔
نامعلوم راوی؛ شرعی بنیاد نہیں۔

نتیجہ: دلیل نہیں۔

دلیل نمبر 15: ابو ایوبؓ کی قبر پر دعاؤں کی قبولیت

کہا گیا کہ اس قبر کے وسیلے سے بارش آتی ہے۔
📚 الاستيعاب: 2/426

🔍 تبصرہ

◈ قبولیت کو قبر سے منسوب کرنا بے دلیل ہے۔
◈ اگر یہ درست ہوتا تو صحابہؓ و تابعین ضرور کرتے—جبکہ نہیں کیا۔

نتیجہ: مردود۔

دلیل نمبر 16: حاتم اَصَمؒ کا قبرِ نبوی ﷺ پر دعا والا قصہ

منسوب ہے کہ حاتم اَصَمؒ نے قبرِ رسول ﷺ پر دعا کی اور غیبی آواز آئی کہ حاجت پوری ہو گئی۔
📚 المواهب اللدنية: 3/597

🔍 تبصرہ

◈ یہ واقعہ بے سند ہے۔
◈ بے سند حکایات دین میں حجت نہیں بنتیں۔
◈ غیر مستند قصوں کو شریعت کا حصہ بنانا باطل ہے۔

نتیجہ: مردود۔

دلیل نمبر 17: خواب کی بنیاد پر قبر پر دعا

منسوب ہے کہ ایک شخص نے خواب میں نبی ﷺ کو دیکھا اور قبرِ یحییٰ بن یحییٰ کے پاس دعا کرنے کا حکم ملا، تو حاجت پوری ہوئی۔
📚 تاریخ الإسلام للذهبي: 5/729
📚 تهذيب التهذيب: 11/299

🔍 تبصرہ

◈ یہ خواب ہے؛
◈ نبی ﷺ کے علاوہ کسی کے خواب سے شرعی حکم ثابت نہیں ہوتا۔
◈ خواب وحی نہیں اور دین کا ماخذ نہیں۔

نتیجہ: قابلِ استدلال نہیں۔

دلیل نمبر 18: ابو فتح قَوّاس سے برکت (زندہ شخص)

دارقطنیؒ فرماتے ہیں کہ ہم ابو فتح قواس (بچپن میں) سے برکت حاصل کرتے تھے۔
📚 تاریخ بغداد: 14/325

🔍 تبصرہ

◈ یہ زندہ شخص سے دعا/برکت کا معاملہ ہے، قبر سے نہیں۔
◈ زندہ نیک شخص سے دعا کروانا جائز ہے—اس پر اختلاف نہیں۔
◈ اس سے قبر سے تبرک ثابت نہیں ہوتا۔

نتیجہ: قبر پرستی کے حق میں دلیل نہیں۔

23 دلیل نمبر 19: سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی قبر پر دعا

امام ابن ابی عاصم رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:

’’میں نے اہلِ علم و فضل کی ایک جماعت کو دیکھا کہ جب انہیں کسی پریشانی کا سامنا ہوتا تو وہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی قبر پر جا کر سلام کرتے اور وہاں دعا مانگتے، اور قبولیت محسوس کرتے تھے۔ ہمارے مشایخ نے خبر دی کہ انہوں نے بھی اپنے سے پہلے لوگوں کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔‘‘
📚 الآحاد والمثاني: 1/163

🔍 تبصرہ

◈ یہ نامعلوم افراد کا عمل ہے، شریعت کی دلیل نہیں۔
◈ خیر القرون (صحابہ، تابعین، تبع تابعین) میں اس عمل کا کوئی ثبوت نہیں۔
◈ اگر قبروں پر دعا مشروع ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک پر ضرور دعا کرتے، جبکہ ایسا ثابت نہیں۔
◈ قبولیت کا “محسوس ہونا” اتفاقی ہو سکتا ہے، اس سے شرعی حکم ثابت نہیں ہوتا۔

نتیجہ:
یہ دلیل بھی قابلِ احتجاج نہیں۔

24 📌 جامع خلاصۂ بحث (دلائل 1 تا 19)

اس مکمل بحث میں قبر پرستوں کی جانب سے پیش کیے گئے 19 مشہور دلائل کا فرداً فرداً جائزہ لیا گیا۔ خلاصہ درج ذیل ہے:

🔹 1) قبروں سے تبرک حاصل کرنا بدعت ہے

قرآن، سنت اور عملِ صحابہ میں قبروں سے تبرک کا کوئی ثبوت نہیں۔ یہ تصور بعد کے زمانوں میں پیدا ہوا۔

🔹 2) اکثر دلائل ضعیف، منقطع یا جھوٹے ہیں

امام شافعیؒ، امام احمدؒ، امام طبرانیؒ، امام بخاریؒ، معروف کرخیؒ، ابو ایوبؓ وغیرہ سے منسوب اکثر واقعات: ◈ یا تو بے سند ہیں
◈ یا ضعیف راویوں پر مشتمل
◈ یا صوفیانہ قصے ہیں

🔹 3) خواب شرعی دلیل نہیں

انبیاء کے علاوہ کسی کے خواب سے شرعی حکم ثابت نہیں ہوتا۔ خواب کو دلیل بنانا باطل اصول ہے۔

🔹 4) زندہ اور مردہ میں فرق

زندہ نیک شخص سے دعا کروانا جائز ہے،
لیکن مردہ کی قبر سے دعا/تبرک لینا شریعت سے ثابت نہیں۔

🔹 5) قبروں پر دعا کی افضلیت کا تصور بے بنیاد

قبروں کے پاس دعا کو افضل سمجھنا: ◈ قرآن و سنت سے ثابت نہیں
◈ سلف صالحین کے عمل کے خلاف ہے
◈ اور شرک کے دروازے کھولتا ہے

🔹 6) صحابہ کرام کا طرزِ عمل فیصلہ کن ہے

اگر قبروں سے تبرک یا وسیلہ جائز ہوتا تو: ◈ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم
◈ نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک پر
یہ اعمال ضرور کرتے—جبکہ ایسا بالکل ثابت نہیں۔

🧾 حتمی نتیجہ

➤ قبروں سے تبرک لینا
➤ قبروں کے وسیلے سے دعا مانگنا
➤ قبروں کو حاجت روائی کا ذریعہ سمجھنا

یہ سب اعمال بدعات ہیں جو: ◈ خیر القرون میں نہ تھیں
◈ قرآن و سنت سے ثابت نہیں
◈ اور عقیدۂ توحید کے منافی ہیں

مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ دین کو
صرف قرآن، سنت اور فہمِ صحابہ کے مطابق سمجھیں
اور ان بدعات سے مکمل اجتناب کریں۔

﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ… رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾
(التوبہ: 100)

اللہ تعالیٰ ہمیں توحیدِ خالص پر قائم رکھے
اور ہر قسم کی بدعت و شرک سے محفوظ فرمائے۔
آمین۔

25 📘 مردے پر اعمال پیش ہونا — شرعی تحقیق

سوال:
کیا زندہ لوگوں کے اعمال مردے پر پیش کیے جاتے ہیں، جیسا کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے عزیزوں کا واقعہ تفسیر ابن کثیر میں بیان ہوا ہے؟
اور کیا مردہ اپنی قبر کی زیارت کرنے والے کو پہچانتا ہے؟
(جامع الصغیر وغیرہ کی روایات کی بنیاد پر)

جواب (از: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ):
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

زندہ کے اعمال مردے پر پیش ہونے کا حکم

➤ زندہ لوگوں کے اعمال مردوں پر پیش ہونے کے بارے میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں۔

تفسیر ابن کثیر (جلد 3، صفحہ 439، سورۃ الروم: 52–53) میں عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے اقارب سے متعلق جو قصہ ذکر کیا گیا ہے، وہ بے اصل ہے۔

➤ جو لوگ اس واقعے کو دلیل بناتے ہیں، ان پر لازم ہے کہ:

  • مکمل سند پیش کریں

  • راویوں کی توثیق دکھائیں

صرف کسی کتاب کا حوالہ دے دینا شرعی دلیل نہیں۔

سند کی تحقیق (اہم نکتہ)

➤ تفسیر ابن کثیر میں اس قصے سے قبل ابن ابی الدنیا کی کتاب سے ایک روایت نقل کی گئی ہے، جس کا راوی:

خالد بن عمر الأموي ہے۔

➤ اس راوی کے بارے میں محدثین کے اقوال:

  • کذاب

  • منکر الحدیث

  • متروک الحدیث

📚 تہذیب الکمال: جلد 5، ص 394–395

➤ اسی ایک مثال سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس نوعیت کے قصے ناقابلِ اعتماد ہیں۔

کیا مردہ اپنی قبر کی زیارت کرنے والے کو پہچانتا ہے؟

➤ اس مفہوم کی روایت کی راویہ فاطمہ بنت الریان ہے،
جس کے حالاتِ زندگی اور توثیق موجود نہیں۔

📚 السلسلۃ الضعیفۃ (علامہ البانی):
جلد 9، ص 475، حدیث: 4493

➤ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس مفہوم کی تمام روایات کو: ضعیف قرار دیا ہے۔

📚 السلسلۃ الضعیفۃ: ص 473–476

مسند احمد کی روایت کا حکم

➤ مسند احمد (جلد 3، ص 165، حدیث: 12683) میں وارد روایت:

"عمن سمع"
یعنی ایک مجہول راوی کی وجہ سے ضعیف ہے۔

➤ لہٰذا یہ روایت بھی حجت نہیں۔

📌 خلاصۂ حکم

➤ زندہ لوگوں کے اعمال مردوں پر پیش ہونے کا کوئی صحیح ثبوت نہیں۔
➤ مردے کا زائر کو پہچاننا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔
➤ اس موضوع پر بیان کی جانے والی اکثر روایات:

  • یا تو ضعیف ہیں

  • یا بے اصل

  • یا کذاب و متروک راویوں پر مبنی ہیں

📚 ماخذ:
فتاویٰ علمیہ
جلد 1، کتاب الجنائز، صفحہ 561

ھذا ما عندي، واللہ أعلم بالصواب۔

26 📘 میت کے سرہانے سورۂ بقرہ پڑھنے کا شرعی حکم

سوال:
ہمارے ہاں کسی میت کو دفن کرنے کے بعد قبر کے سرہانے سورۂ بقرہ کا پہلا رکوع اور قبر کی پائنی (پاؤں کی جانب) سورۂ بقرہ کا آخری رکوع پڑھا جاتا ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ یہ عمل جائز ہے یا نہیں؟

جواب (از: شیخ مبشر احمد ربانی):
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

➊ جس روایت پر اس عمل کی بنیاد رکھی جاتی ہے

میت کے دفن کے بعد قبر کے سرہانے سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات اور پاؤں کی جانب آخری آیات پڑھنے کی بنیاد ایک ضعیف روایت پر ہے، جسے صاحبِ مشکوٰۃ نے:

📖 كتاب الجنائز، باب دفن الميت (حدیث: 7171)

میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

«إذا مات أحدكم فلا تحبسوه، وأسرعوا به إلى قبره، وليُقرأ عند رأسه بفاتحة البقرة، وعند رجليه بخاتمة البقرة»

ترجمہ:
“جب تم میں سے کوئی وفات پا جائے تو اسے روک کر نہ رکھو بلکہ جلدی قبر کی طرف لے جاؤ، اور اس کے سر کے پاس سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات اور پاؤں کی جانب سورۂ بقرہ کی آخری آیات پڑھی جائیں۔”

اسے امام بیہقی نے شعب الإيمان میں روایت کیا اور فرمایا:
“صحیح یہ ہے کہ یہ روایت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے۔”

➋ مرفوع روایت کی سند کا حکم

یہ روایت شعب الإيمان کے علاوہ:

طبرانی کبیر
➤ امام خلال کی كتاب القراءة عند القبور

میں بھی مروی ہے، جیسا کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے مشکوٰۃ (تحقیق ثانی) میں ذکر کیا ہے۔

لیکن اس کی سند میں:

یحییٰ بن عبداللہ بن الضحاک البابلی

  • امام ذہبی: «واهٍ» (کمزور)

  • ازدی: “ضعف اس کی حدیث میں واضح ہے”

  • ابوحاتم: «لا يُعتدّ به»

  • ابن عدی: اس کی روایت میں ضعف نمایاں ہے

📚 حوالہ:
تهذيب التهذيب 6/153
ميزان الاعتدال 4/390
المغني في الضعفاء 2/521

◈ اس کے استاد ایوب بن نہیک الحِلمی

  • ابوحاتم: ضعیف

  • ازدی: متروک

  • امام ذہبی: “ترکوه” (محدثین نے چھوڑ دیا)

📚 حوالہ:
ميزان الاعتدال 1/294
المغني في الضعفاء 1/151
الجرح والتعديل 2/259

➡️ نتیجہ:
یہ روایت نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں۔

➌ موقوف روایت (عبداللہ بن عمرؓ) کا حکم

یہ روایت السنن الكبرى للبيهقي (4/56) میں
عبدالرحمن بن العلاء بن الجلاج عن أبيه کے طریق سے مروی ہے، جس میں یہ ذکر ہے کہ:

العلاء بن اللجلاج نے وصیت کی کہ قبر میں رکھنے کے بعد ان کے سر کے پاس سورۂ بقرہ کا ابتدائی اور آخری حصہ پڑھا جائے، اور کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اسے مستحب سمجھتے دیکھا۔

لیکن:

عبدالرحمن بن العلاء بن الجلاج شامی مجہول ہے
◈ اس سے صرف مبشر بن اسماعیل روایت کرتا ہے
◈ شعیب ارناؤوط: “یہ مجہول ہے”
◈ علامہ البانی:
«والموقوف لا يصح إسناده»

📚 حوالہ:
ميزان الاعتدال 9/258
تحرير تقريب التهذيب 7/342
مشكوٰۃ (تحقیق ثانی) 2/223

➡️ نتیجہ:
یہ موقوف روایت بھی سنداً صحیح نہیں۔

➍ صحیح احادیث سے اصل رہنمائی

نبی کریم ﷺ کا واضح فرمان ہے:

«لا تجعلوا بيوتكم مقابر، إن الشيطان ينفر من البيت الذي تُقرأ فيه سورة البقرة»
📖 صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، حدیث: 780

ترجمہ:
“اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ، یقیناً شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔”

اور فرمایا:

«صلّوا في بيوتكم ولا تتخذوها قبورًا»
📖 صحیح مسلم، حدیث: 777

ترجمہ:
“اپنے گھروں میں نماز پڑھو اور انہیں قبریں نہ بناؤ۔”

➡️ جس طرح قبرستان میں نماز نہیں پڑھی جاتی،
اسی طرح قبرستان میں قرآن کی تلاوت بھی مشروع نہیں۔

📌 حتمی نتیجہ

➤ قبر کے سرہانے اور پائنی سورۂ بقرہ پڑھنے کا عمل
◈ نہ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے
◈ نہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بسندِ صحیح

➤ یہ رواج ضعیف اور غیر ثابت روایات پر قائم ہے
➤ اس سے اجتناب کرنا واجب ہے

📚 ماخذ:
احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں
از: شیخ مبشر احمد ربانی

ھذا ما عندي، واللہ أعلم بالصواب۔

27 📘 دفن کے بعد قبر پر سورۂ بقرہ کا اول و آخر حصہ پڑھنے کا شرعی حکم

سوال:
دفن کے بعد قبر کے سرہانے یا پائینتی سورۂ بقرہ کی ابتدائی اور آخری آیات کی تلاوت کرنا کیسا ہے؟

جواب (از: شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری):
الحمد للہ، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

🔹 شرعی تحقیق کا خلاصہ

دفن کے بعد قبر کے سرہانے یا پائینتی سورۂ بقرہ کی ابتدائی اور آخری آیات کی تلاوت کرنا ثابت نہیں۔ اس بارے میں پیش کی جانے والی تمام روایات ضعیف یا سخت ضعیف ہیں۔

پہلی روایت (عبدالرحمن بن العلاء بن الحجاج)

عبدالرحمن بن العلاء بن الحجاج اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:
“اے بیٹا! جب میں مر جاؤں تو میرے سر کے پاس سورۂ بقرہ کی ابتدائی اور آخری آیات پڑھنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ پڑھتے سنا ہے۔”

📚 المعجم الكبير للطبراني: 19/220، حدیث: 491
📚 مجمع الزوائد: 3/44

تبصرہ:
◈ عبدالرحمن بن العلاء مجہول الحال ہے۔
◈ امام ابن حبان کے سوا کسی نے اس کی توثیق نہیں کی۔
◈ حافظ ابن حجر نے اسے مقبول (مجہول) کہا ہے۔

📚 تقريب التهذيب: 3975

➡️ لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے۔

دوسری روایت (سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے مرفوع)

منسوب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«فليُقرأ عند رأسه فاتحةُ البقرة، وعند رجليه خاتمةُ البقرة»

📚 المعجم الكبير للطبراني: 12/240، حدیث: 13613

تبصرہ:
◈ اس کی سند میں یحییٰ بن عبداللہ البابلي ہے، جو ضعیف ہے۔
◈ حافظ ابن حجر، حافظ ہیثمی وغیرہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔
ایوب بن نہیک کو امام ابو زرعہ نے منکر الحدیث اور امام ابو حاتم نے ضعیف الحدیث کہا ہے۔

📚 تقريب التهذيب: 7585
📚 لسان الميزان: 1/490
📚 الجرح والتعديل: 1/259

➡️ لہٰذا حافظ ابن حجر کا اس سند کو “حسن” کہنا درست نہیں۔

📚 فتح الباري: 3/184

موقوف روایت (سیدنا ابن عمرؓ)

یہ روایت سنن كبریٰ بیہقی (4/56) میں موقوفاً بھی آئی ہے، لیکن:
◈ اس میں بھی عبدالرحمن بن العلاء بن الحجاج موجود ہے جو مجہول ہے۔

➡️ اس وجہ سے یہ روایت بھی ضعیف ہے۔

اثرِ عامر شعبی رحمہ اللہ

منقول ہے:
«كان الأنصار إذا مات لهم ميت قرؤوا حول قبره القرآن»

📚 الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر للخلال: 123
📚 مصنف ابن أبي شيبة: 3/236

تبصرہ:
◈ اس کی سند میں مجالد بن سعيد ہے جو جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
◈ اس کا حافظہ آخری عمر میں بگڑ گیا تھا اور وہ تلقین قبول کرتا تھا۔
حفص بن غياث مدلس ہے اور سماع کی تصریح نہیں۔

📚 فتح الباري: 9/480

➡️ یہ اثر بھی سخت ضعیف ہے۔

📌 حتمی نتیجہ

✔ دفن کے بعد قبر کے سرہانے یا پائینتی سورۂ بقرہ کی ابتدائی و آخری آیات پڑھنا
✖ نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں
✖ صحابہ کرامؓ سے بسندِ صحیح ثابت نہیں
✖ تمام پیش کردہ روایات ضعیف یا سخت ضعیف ہیں

قبرستان میں مطلق قرآن خوانی بھی مشروع نہیں، جیسا کہ صحیح احادیث سے واضح ہے۔

📚 ماخذ:
فتاویٰ امن پوری
از: شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری

ھذا ما عندي، واللہ أعلم بالصواب۔

28 📘 مسجدِ نبوی میں قبر کا وجود؟ — شرعی و تاریخی حقائق کا جائزہ

سوال

کیا قبر پر مسجد یا عمارت بنانا، یا مسجد کے اندر قبر بنانا حرام ہے؟
اور ان لوگوں کو کیا جواب دیا جائے جو مسجدِ نبوی میں رسول اللہ ﷺ کے دفن ہونے کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس شبہ کا جواب شرعی اور تاریخی حقائق کی روشنی میں درج ذیل نکات سے واضح ہو جاتا ہے:

مسجدِ نبوی قبر پر نہیں بنائی گئی تھی

◈ مسجدِ نبوی نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں تعمیر کی گئی۔
◈ اس وقت اس جگہ کوئی قبر موجود نہیں تھی۔
◈ لہٰذا یہ کہنا کہ مسجد قبر پر بنائی گئی، تاریخی طور پر غلط ہے۔

رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں دفن نہیں کیا گیا

◈ نبی اکرم ﷺ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں دفن کیا گیا۔
◈ آپ ﷺ کو مسجد کے اندر دفن نہیں کیا گیا۔
◈ اس لیے اس واقعے کو اس بات کی دلیل بنانا کہ نیک لوگوں کو مسجد میں دفن کیا جا سکتا ہے، باطل ہے۔

حجرۂ عائشہ رضی اللہ عنہا بعد میں مسجد میں شامل کیا گیا

◈ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا گھر شروع میں مسجدِ نبوی کا حصہ نہیں تھا۔
◈ یہ شمولیت بعد کے دور میں ہوئی، تقریباً 94 ہجری کے بعد۔
◈ اس وقت تک اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وفات پا چکے تھے۔
◈ یہ شمولیت تمام صحابہ کے اجماع سے نہیں ہوئی۔
◈ بعض جلیل القدر تابعین، خصوصاً حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے اس پر اعتراض بھی کیا۔

قبر مبارک آج بھی مسجد کا حصہ نہیں

◈ رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک آج بھی ایک علیحدہ حجرے میں ہے۔
◈ اگرچہ حجرہ مسجد میں شامل کیا گیا، لیکن قبر کو مسجد کے اندر شامل نہیں کیا گیا۔
◈ قبر کے گرد تین مضبوط دیواریں بنائی گئیں تاکہ:

  • قبر کی طرف نماز نہ پڑھی جائے

  • قبر کو سجدہ گاہ بننے سے روکا جائے

◈ اس احاطے کو مثلث (تکون) شکل دی گئی ہے۔
◈ اس کا ایک زاویہ شمالی سمت کی طرف رکھا گیا ہے،
تاکہ قبلہ رخ نماز پڑھنے والے کا رخ قبر کی طرف نہ ہو۔

📌 حتمی نتیجہ

✔ مسجدِ نبوی کی مثال پیش کر کے
✖ قبر پر مسجد بنانے
✖ یا مسجد میں قبریں بنانے
کو جائز قرار دینا شرعی اور تاریخی طور پر غلط ہے۔

یہ استدلال اہلِ قبور کی طرف سے باطل، بے بنیاد اور خلافِ حقیقت ہے۔

ھذا ما عندي، واللہ أعلم بالصواب۔

29 📘 قبر والی مسجد میں نماز کا شرعی حکم

سوال:
جن مسجدوں میں قبریں بنی ہوئی ہوں، ان میں نماز پڑھنے کا حکم کیا ہے؟

جواب (از: علامہ عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین رحمہ اللہ):
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قبر والی مسجد میں نماز کا حکم

◈ جن مسجدوں میں قبریں موجود ہوں، ان میں نماز پڑھنا درست نہیں۔
◈ اگر کوئی ایسی مسجد میں نماز پڑھ لے تو اس نماز کو دہرانا ضروری ہے۔

نبی کریم ﷺ کی واضح ممانعت

نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:

«الأرض كلها مسجد إلا المقبرة والحمام»

ترجمہ:
“قبرستان اور حمام کے سوا ساری زمین مسجد ہے۔”

📖 مسند احمد: 3/92
📖 سنن ابی داود، کتاب الصلاة، حدیث: 492
📖 سنن ترمذی، کتاب الصلاة، حدیث: 317
(یہ حدیث صحیح ہے، امام حاکم رحمہ اللہ وغیرہ نے تصحیح کی ہے)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا عمل

امام ابن ابی شیبہ اور امام عبدالرزاق رحمہما اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے:

«رآني عمر وأنا أصلي إلى قبر، فجعل يقول: يا أنس! القبر، وفي لفظ: القبر أمامك، فنهاني»

ترجمہ:
“سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے قبر کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: اے انس! قبر ہے (یا: قبر تمہارے سامنے ہے)، اور مجھے اس جگہ نماز پڑھنے سے روک دیا۔”

📖 مصنف ابن ابی شیبہ: 2/155
📖 مصنف عبدالرزاق: 1/404

قبروں کے درمیان نماز کی ممانعت

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

«أن النبي ﷺ نهى أن يصلى بين القبور»

ترجمہ:
“نبی کریم ﷺ نے قبروں کے درمیان نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔”

📖 صحیح ابن حبان: 6/88، حدیث: 2315
📖 البزار (کشف الأستار): 1/221

غلط فہمیاں اور ان کا رد

◈ بعض فقہاء نے کہا کہ ایک یا دو قبروں کے ہوتے ہوئے نماز جائز ہے،
یا یہ کہ ممانعت کی علت نجاست ہے۔

لیکن شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس موقف کی سخت تردید کی ہے اور وضاحت فرمائی ہے کہ:

◈ اصل علت نجاست نہیں
◈ بلکہ غلو اور شرک کا خطرہ ہے

📚 حوالہ:
اقتضاء الصراط المستقيم (ص 332)
الاختيارات (ص 44)
مجموع الفتاویٰ: 4/521، 11/290، 17/502

قبروں کو مسجد بنانے کی صریح ممانعت

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«ألا فلا تتخذوا القبور مساجد، فإني أنهاكم عن ذلك»

ترجمہ:
“خبردار! قبروں کو مسجد نہ بنانا، میں تمہیں اس سے سختی سے منع کرتا ہوں۔”

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، حدیث: 532
(حضرت جندب رضی اللہ عنہ)

یہود و نصاریٰ پر لعنت کی وجہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے مرضِ وفات میں فرمایا:

«لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد»

ترجمہ:
“اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔”

📖 صحیح مسلم، حدیث: 529

اور ایک اور روایت میں ہے:

«ألا وإن من كان قبلكم كانوا يتخذون قبور أنبيائهم وصالحيهم مساجد»

ترجمہ:
“خبردار! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجد بنا لیا کرتے تھے۔”

📖 صحیح مسلم، حدیث: 532

اہم نکتہ

◈ انبیاء علیہم السلام کے جسم مبارک نہ گلتے ہیں نہ سڑتے
◈ اس کے باوجود قبروں کے پاس نماز سے روکا گیا
↳ اس سے واضح ہوا کہ ممانعت کی وجہ نجاست نہیں بلکہ شرک اور غلو کا سدِّ باب ہے۔

📌 حتمی نتیجہ

➤ قبر والی مسجد میں نماز پڑھنا جائز نہیں
➤ ایسی نماز لوٹانا واجب ہے
➤ اس ممانعت کی اصل وجہ قبروں کو سجدہ گاہ بننے سے روکنا اور شرک کے دروازے بند کرنا ہے۔

واللہ أعلم بالصواب۔

30 📘 قبر والی مسجد میں نماز کا شرعی حکم

سوال:
ایسی مساجد جہاں قبریں ہوں، کیا ان میں نماز پڑھنا جائز ہے؟ اور اگر پڑھ لی جائے تو کیا نماز ادا ہو جائے گی؟

جواب (از: شیخ مبشر احمد ربانی):
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قبر والی مسجد میں نماز کا حکم

ایسی مساجد جن میں قبریں موجود ہوں، ان میں نماز ادا کرنا جائز نہیں۔
بلکہ اس سے اجتناب لازم ہے، اور اگر کوئی شخص وہاں نماز پڑھ لے تو اس نماز کو لوٹانا ضروری ہے۔

➊ قبروں پر مسجد بنانے کی ممانعت

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«إن أولئك إذا كان فيهم الرجل الصالح فمات، بنوا على قبره مسجدا… فأولئك شرار الخلق عند الله يوم القيامة»

ترجمہ:
“جب ان میں کوئی نیک آدمی مر جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے… یہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے۔”

📖 صحیح بخاری، کتاب الصلاة
📖 صحیح مسلم: 528
📖 سنن نسائی: 705

➋ قبروں کو مسجد بنانے والوں پر لعنت

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد»

ترجمہ:
“اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔”

📖 صحیح بخاری: 1390
📖 صحیح مسلم: 1186

➌ قبروں کو مسجد بنانے سے سخت ممانعت

سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وفات سے قبل فرمایا:

«ألا وإن من كان قبلكم كانوا يتخذون قبور أنبيائهم وصالحيهم مساجد، ألا فلا تتخذوا القبور مساجد، إني أنهاكم عن ذلك»

ترجمہ:
“خبردار! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجد بنا لیتے تھے۔ خبردار! تم قبروں کو مسجد نہ بنانا، میں تمہیں اس سے روکتا ہوں۔”

📖 صحیح مسلم: 1188

➍ قبر کی طرف نماز سے روکنا

سیدنا ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

«لا تصلوا إلى القبور ولا تجلسوا عليها»

ترجمہ:
“قبروں کی طرف نماز نہ پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو۔”

📖 صحیح مسلم: 972
📖 سنن ابی داود: 3229
📖 سنن ترمذی: 1050

➎ قبروں کے درمیان نماز کی ممانعت

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

«أن النبي ﷺ نهى أن يصلى بين القبور»

ترجمہ:
“نبی کریم ﷺ نے قبروں کے درمیان نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔”

📖 موارد الظمآن: 345
📖 مسند بزار
📖 طبرانی اوسط: 5627

➏ قبرستان نماز کی جگہ نہیں

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«الأرض كلها مسجد إلا المقبرة والحمام»

ترجمہ:
“ساری زمین مسجد ہے سوائے قبرستان اور حمام کے۔”

📖 سنن ترمذی: 317
📖 سنن ابی داود: 492
📖 مسند احمد: 3/83
(اسے ابن خزیمہ، ابن حبان، حاکم اور ذہبی رحمہم اللہ نے صحیح کہا ہے)

گھروں کو قبرستان بنانے سے ممانعت

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

«اجعلوا في بيوتكم من صلاتكم ولا تتخذوها قبورا»

ترجمہ:
“اپنی نماز کا کچھ حصہ گھروں میں ادا کرو، انہیں قبرستان نہ بناؤ۔”

📖 صحیح بخاری: 432
📖 صحیح مسلم: 208

اور فرمایا:

«لا تجعلوا بيوتكم مقابر، إن الشيطان ينفر من البيت الذي تقرأ فيه سورة البقرة»

ترجمہ:
“اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، بے شک شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔”

📖 صحیح مسلم: 780

↰ اس سے واضح ہوا کہ قبرستان میں نہ نماز ہے، نہ قرآن کی تلاوت۔

ائمہ کا موقف

◈ امام احمد رحمہ اللہ (نقل از ابن حزم):

«من صلى في مقبرة أو إلى قبر أعاد أبدا»

ترجمہ:
“جس نے قبرستان میں یا قبر کی طرف نماز پڑھی، وہ نماز کو ضرور لوٹائے۔”

📖 المحلى: 4/27–28

◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“نہ قبر والی جگہ اور نہ قبر کی طرف نماز صحیح ہے، اور اس ممانعت کی اصل علت شرک کے دروازے بند کرنا ہے۔ ایک قبر ہو یا کئی، سب شامل ہیں۔”

📖 الاختيارات العلمية: ص 25

📌 حتمی نتیجہ

✔ قبروں والی جگہ نماز پڑھنا جائز نہیں
✔ قبر کی طرف نماز باطل ہے
✔ ایسی نماز لوٹانا واجب ہے
✔ ممانعت کی اصل وجہ:
➡️ شرک، غلو اور قبر پرستی کے اسباب کو ختم کرنا

واللہ أعلم بالصواب۔