1 📘 بت پرستی اور قبر پرستی کا آغاز
بت پرستی اور قبر پرستی کی بیماری سب سے پہلے قومِ نوح میں ظاہر ہوئی۔ قرآنِ مجید اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿قَالَ نُوحٌ رَبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِي وَاتَّبَعُوا مَنْ لَمْ يَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ إِلَّا خَسَارًا * وَمَكَرُوا مَكْرًا كُبَّارًا * وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا﴾
ترجمہ:
(کفار سے مایوس ہو کر) حضرت نوح علیہ السلام نے دعا کی: اے میرے رب! یہ لوگ میری نافرمانی کر رہے ہیں اور ان (معبودوں) کی پیروی پر جم گئے ہیں جو ان کے مال اور اولاد میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کرتے بلکہ انہیں نقصان ہی پہنچاتے ہیں۔ اور انہوں نے بہت بڑی چالیں چلیں۔ اور وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا، اور خاص طور پر وَدّ، سُوَاع، يَغُوث، يَعُوق اور نَسْر کو ہرگز نہ چھوڑنا۔
📖 سورۃ نوح: 21–23
یہ ودّ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر دراصل حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے نیک اور صالح لوگ تھے۔ ان کی زندگی میں لوگ ان کے پیروکار تھے اور ان سے دین سیکھتے تھے۔
➊ جب یہ نیک لوگ فوت ہو گئے تو ان کے پیروکاروں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان کی تصویریں اور مجسمے بنا لیے جائیں تاکہ عبادت میں شوق اور یکسوئی پیدا ہو جائے۔
➋ چنانچہ ان بزرگوں کی تصویریں اور مجسمے بنا دیے گئے، لیکن اس وقت ان کی عبادت نہیں کی جاتی تھی۔
➌ پھر جب وہ نسل بھی ختم ہو گئی اور بعد کی نسلیں آئیں تو ان سے کہا گیا کہ یہ بزرگ ان مجسموں کی عبادت کیا کرتے تھے اور انہی کے ذریعے بارش طلب کرتے تھے۔
➍ اس بات کو سن کر بعد والوں نے ان کی عبادت شروع کر دی اور یوں آہستہ آہستہ شرک اور بت پرستی عام ہو گئی، حتیٰ کہ پورے عرب میں یہ عقیدہ پھیل گیا۔
اس کی صریح وضاحت صحیح بخاری میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں موجود ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
یہ (ودّ، سواع، یغوث، یعوق، نسر) حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے صالح اور نیک لوگ تھے۔ جب یہ فوت ہو گئے تو شیطان نے ان کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ ان کی مجلسوں میں جہاں وہ بیٹھا کرتے تھے، ان کے مجسمے نصب کر لو اور ان کے نام پر ان کے نام رکھ دو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، لیکن اس وقت ان کی عبادت نہیں کی جاتی تھی۔ پھر جب وہ لوگ بھی فوت ہو گئے اور علم مٹ گیا تو ان کی عبادت شروع کر دی گئی۔
📖 صحیح البخاری، کتاب تفسیر القرآن، حدیث: 4920
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/4920
اسی حقیقت کی تائید صحیحین اور دیگر کتبِ حدیث کی ان روایات سے بھی ہوتی ہے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ اور عبادت گاہ بنانے سے شرک نے جنم لیا۔
➤ یہی وہ بنیادی تاریخی حقیقت ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ قبر پرستی دراصل بت پرستی ہی کا ابتدائی دروازہ ہے، جو نیک لوگوں کی تعظیم سے شروع ہو کر رفتہ رفتہ عبادت تک جا پہنچتی ہے۔