نمازِ خسوف اس وقت ادا کی جاتی ہے جب سورج یا چاند کو گرہن لگے۔
خسوف کے لیے کسوف کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے۔ بعض اہلِ علم نے ان دونوں میں فرق کیا ہے کہ سورج گرہن کے لیے کسوف اور چاند گرہن کے لیے خسوف کا لفظ استعمال ہوتا ہے، لیکن قرآن و حدیث میں دونوں الفاظ ایک ہی چیز کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
🌘 نمازِ خسوف کی اہمیت
❀ سورج اور چاند کو کسی کی پیدائش یا موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
﴿إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنْ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ﴾
”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ انہیں کسی کی موت یا پیدائش کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔“
یعنی جو ذات انہیں عارضی طور پر بے نور کر سکتی ہے، وہ انہیں مستقل طور پر بھی بے نور کرنے پر قادر ہے۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الكسوف، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم: يخوف الله عباده بالكسوف، حدیث: 1048
📖 صحیح مسلم، حدیث: 901
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1048/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/901/
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
🤲 گرہن کے وقت کے اعمال
❀ جب گرہن لگے تو فوراً اللہ تعالیٰ کے ذکر، نماز، صدقہ، دعا اور استغفار میں مصروف ہو جانا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
﴿فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ، وَكَبِّرُوا، وَصَلُّوا، وَتَصَدَّقُوا﴾
”جب تم گرہن دیکھو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو، تکبیر کہو، نماز ادا کرو اور صدقہ دو۔“
ایک دوسری روایت میں ہے:
﴿فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ﴾
”اللہ تعالیٰ کے ذکر، دعا اور توبہ و استغفار میں مصروف ہو جاؤ۔“
📖 صحیح البخاری، کتاب الكسوف، باب الصدقة في الكسوف، احادیث: 1059، 1044
📖 صحیح مسلم، حدیث: 2117
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1059/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1044/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2117/
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
❀ گرہن ختم ہونے تک نماز اور دعا میں مشغول رہنا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
﴿فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا وَادْعُوا اللَّهَ حَتَّى يَنْكَشِفَ مَا بِكُمْ﴾
”جب تم گرہن دیکھو تو نماز ادا کرو اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہو، یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔“
📖 صحیح البخاری، کتاب الكسوف، باب الصلاة في كسوف الشمس، حدیث: 1040
📖 صحیح مسلم، حدیث: 911
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1040/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/911/
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
🕌 نمازِ خسوف کی جماعت
❀ جب گرہن لگے تو نماز باجماعت کا اعلان کیا جائے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں سورج کو گرہن لگا تو نماز باجماعت کا اعلان کیا گیا۔“
📖 صحیح البخاری، کتاب الكسوف، باب النداء بـ «الصلاة جامعة» في الكسوف، حدیث: 1045
📖 صحیح مسلم، حدیث: 901/5
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1045/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/901/
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
👥 مرد، عورتیں اور بچے سب شریک ہوں
❀ نمازِ کسوف میں مردوں، عورتوں اور بچوں، سب کو جمع ہونا چاہیے۔
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”سورج کو گرہن لگا تو میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی۔ میں نے دیکھا کہ لوگ نماز ادا کر رہے ہیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی نماز پڑھ رہی ہیں۔“
📖 صحیح البخاری، کتاب الكسوف، باب صلاة النساء مع الرجال في الكسوف، حدیث: 1053
📖 صحیح مسلم، حدیث: 905
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1053/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/905/
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
📘 نمازِ خسوف کا طریقہ
نمازِ خسوف کی دو رکعتیں ہیں۔ انہیں ادا کرنے کا طریقہ درج ذیل ہے:
➊ اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کریں۔
➋ پہلی رکعت میں طویل قیام کریں اور سورۃ البقرۃ کے مساوی قراءت کریں۔
➌ پھر طویل رکوع کریں۔
➍ پھر رکوع سے اٹھ کر دوبارہ قیام کریں، جو پہلے قیام سے کچھ چھوٹا ہو۔
➎ پھر دوسری مرتبہ رکوع کریں، جو پہلے رکوع سے کچھ چھوٹا ہو۔
➏ پھر رکوع سے اٹھ کر کھڑے ہوں۔
➐ اس کے بعد دو سجدے کریں۔
اس طرح ایک رکعت مکمل ہو جائے گی۔
➑ پھر اسی طریقے سے دوسری رکعت مکمل کریں۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الكسوف، باب الصدقة في الكسوف، احادیث: 1052، 1044
📖 صحیح مسلم، حدیث: 901
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1052/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1044/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/901/
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
📖 نمازِ خسوف میں جہری قراءت
❀ نمازِ خسوف میں بلند آواز سے قراءت کی جائے گی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ خسوف میں جہری قراءت فرمائی۔“
📖 صحیح البخاری، کتاب الكسوف، باب الجهر بالقراءة في الكسوف، حدیث: 1065
📖 صحیح مسلم، حدیث: 901/5
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1065/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/901/
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
❀ ہر رکعت میں تین یا چار رکوع کرنا بھی جائز ہے۔
📖 صحیح مسلم، کتاب الكسوف، باب ما عرض على النبي صلی اللہ علیہ وسلم في صلاة الكسوف، احادیث: 908، 904/10، 2111
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/908/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/904/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2111/
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
⏳ نماز کب ختم کی جائے؟
❀ نمازِ خسوف اس وقت ختم کرنی چاہیے جب گرہن ختم ہو جائے۔
📖 صحیح البخاری، حدیث: 1040
📖 صحیح مسلم، حدیث: 911
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1040/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/911/
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
🤲 نمازِ خسوف میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا
❀ نمازِ خسوف میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا بھی ثابت ہے۔
سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
﴿فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الصَّلَاةِ رَافِعٌ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يُسَبِّحُ وَيَحْمَدُ وَيُهَلِّلُ وَيُكَبِّرُ وَيَدْعُو﴾
”میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ خسوف پڑھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ اٹھائے ہوئے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید بیان کر رہے تھے، لا إلہ إلا اللہ کہہ رہے تھے، اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کر رہے تھے اور دعا فرما رہے تھے۔“
📖 صحیح مسلم، کتاب الكسوف، باب ذكر النداء بصلاة الكسوف، حدیث: 913/26
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/913/
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
🎙️ نمازِ خسوف کے بعد خطبہ
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ خسوف کے بعد خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔
اس خطبے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم:
➤ تقویٰ کی نصیحت فرماتے۔
➤ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے۔
➤ گناہوں سے بچنے کی تلقین فرماتے۔
➤ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی ترغیب دیتے۔
➤ صدقہ کرنے کی تاکید فرماتے۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الكسوف، باب الصدقة في الكسوف، احادیث: 1052، 1044
📖 صحیح مسلم، حدیث: 901
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1052/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1044/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/901/