واٹساپ دعوتی مواد نماز کے متفرق مسائل

نماز کے متفرق مسائل

39 پیغامات

1 📘 دورانِ نماز نظر کہاں ہو؟ صحیح احادیث سے راہنمائی

🌿 نماز میں نظر کا مسئلہ

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿لَا يَزَالُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، فَإِذَا الْتَفَتَ انْصَرَفَ عَنْهُ﴾

ترجمہ:
”اللہ تعالیٰ بندے کی نماز میں برابر متوجہ رہتا ہے، جب تک بندہ ادھر ادھر نہ دیکھے۔ جب بندہ توجہ ہٹا لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے توجہ ہٹا لیتا ہے۔“

📖 سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب الالتفات في الصلاة: 909
📖 صحيح الترغيب والترهيب للألباني: 554 — حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/909/

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں آنکھیں کھول کر رکھتے تھے۔

📖 صحيح البخاري، كتاب الصلاة، باب إذا صلى في ثوب له أعلام ونظر إلى علمها: 373، 374
📖 صحيح مسلم: 556

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/373/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/374/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/556/

➤ بعض لوگ نماز میں خشوع پیدا کرنے کے لیے آنکھیں بند کر لیتے ہیں، یہ خلافِ سنت ہے۔

❀ نماز میں سر کو جھکا لینا چاہیے، ادھر ادھر نہیں دیکھنا چاہیے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

﴿أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَنَزَلَتْ: ﴿الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ [المؤمنون: 2] فَطَأْطَأَ رَأْسَهُ﴾

ترجمہ:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں آسمان کی طرف دیکھا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ’وہی لوگ کامیاب ہیں جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔‘ تو اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر جھکا لیا کرتے تھے۔“

📖 مستدرک حاکم: 393/2، حدیث: 3483 — إسناده حسن لذاته

❀ تشہد میں دائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلی پر نظر رکھنی چاہیے۔

📖 سنن النسائي، كتاب التطبيق، باب موضع البصر في التشهد: 1161 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1161/

❀ نماز میں ادھر ادھر دیکھنا جائز نہیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

﴿سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: هُوَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ﴾

ترجمہ:
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر جھانکنے کے متعلق پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ’یہ تو شیطان کی جھپٹ ہے جو وہ آدمی کی نماز پر مارتا ہے۔‘“

📖 صحيح البخاري، كتاب الأذان، باب الالتفات في الصلاة: 751

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/751/

❀ آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا جائز نہیں، اس سے نظر ختم ہونے کا خطرہ ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي الصَّلَاةِ، أَوْ لَا تَرْجِعُ إِلَيْهِمْ﴾

ترجمہ:
”لوگوں کو نماز میں آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے سے ضرور رک جانا چاہیے، ورنہ ان کی بینائی جاتی رہے گی۔“

📖 صحيح مسلم، كتاب الصلاة، باب النهي عن رفع البصر إلى السماء في الصلاة: 428

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/428/

2 📘 سجدہ سہو کا بیان

سجدہ سہو امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ اس کے ذریعے نماز جیسے عظیم ترین رکن میں انسانی بھول سے پیدا ہونے والے نقص کا ازالہ ہو جاتا ہے۔

سجدہ سہو ہر قسم کی نماز میں بھول چوک پر واجب ہے، آدمی اکیلا نماز ادا کر رہا ہو یا باجماعت، اور نماز فرض ہو یا نفل، بھول چوک پر سجدہ سہو کیے بغیر نماز نہیں ہو گی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ﴾

ترجمہ:
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں بھول جائے تو اسے دو سجدے کرنے چاہییں۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب السهو في الصلاة والسجود له: 572

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/572/

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿فِي كُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ﴾

ترجمہ:
”ہر قسم کی بھول میں سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔“

📖 سنن ابن ماجہ، کتاب إقامة الصلوات، باب ما جاء فيمن سجدهما بعد السلام: 1219 — حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1219/

سلام سے قبل ایک سے زائد غلطیاں ہو جائیں تو ان کے لیے سجدہ سہو کے دو سجدے ہی کافی ہیں، اور نماز میں جان بوجھ کر کی جانے والی غلطی کا ازالہ سجدہ سہو سے نہیں ہو گا، بلکہ نماز باطل ہو جائے گی۔

➤ رکعات میں کمی بیشی پر سجدہ سہو

اگر کوئی رکعت چھوٹ گئی تو اس رکعت کو مکمل کرنے کے بعد سجدہ سہو کیا جائے گا۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات پڑھا کر سلام پھیر دیا، تو آپ سے ذوالیدین نے کہا: ’اے اللہ کے رسول! نماز مختصر ہو گئی ہے، یا آپ بھول گئے ہیں؟‘

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے؟‘

لوگوں نے کہا: ’ہاں!‘

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور باقی والی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہہ کر سجدہ کیا، جو عام سجود کی مانند یا ان سے لمبا تھا، پھر اٹھے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب السهو، باب من لم يتشهد في سجدتي السهو: 1228
📖 صحیح مسلم: 573

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1228/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/573/

❀ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں:

”ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا، پھر اپنے گھر چلے گئے۔

ایک آدمی جسے خرباق کہا جاتا تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، اس نے اس چیز کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں اپنی چادر کھینچتے ہوئے لوگوں کے پاس آئے اور ان سے پوچھا:

’کیا یہ شخص سچ کہتا ہے؟‘

انھوں نے کہا: ’ہاں!‘

آپ نے ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب السهو في الصلاة والسجود له: 574
📖 سنن ابو داؤد: 1018

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/574/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1018/

اگر کوئی رکعت زیادہ پڑھ لی ہے تو اس پر بھی دو سجدے کیے جائیں گے۔

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھا دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا:

”کیا نماز زیادہ ہو گئی ہے؟“

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”کیا بات ہے؟“

کہنے والے نے کہا:

”آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔“

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کے بعد دو سجدے کیے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب السهو، باب إذا صلى خمسا: 1226
📖 صحیح مسلم: 91

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1226/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/91/

اگر کوئی نماز میں بھول کر اضافی رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا ہے تو جہاں یاد آئے وہیں سے پلٹ کر تشہد میں بیٹھ جائے اور سجدہ سہو کر لے۔

3 📘 درمیانہ تشہد چھوٹ جانے پر سجدہ سہو

اگر کوئی درمیانہ تشہد بھول جائے تو وہ سجدہ سہو کرے گا۔

سیدنا عبد اللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ظہر کی نماز پڑھائی اور آپ دو رکعتوں پر بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے، چنانچہ لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔

جب نماز ختم ہونے والی تھی اور لوگ آپ کے سلام پھیرنے کا انتظار کر رہے تھے تو آپ نے اللہ اکبر کہہ کر سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب من لم ير التشهد الأول واجبًا الخ: 829
📖 صحیح مسلم: 570

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/829/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/570/

واضح رہے کہ اگر کوئی درمیانہ تشہد بھول گیا ہے اور وہ سیدھا کھڑا ہو گیا ہے تو وہ یاد آنے پر بیٹھے گا نہیں، بلکہ نماز پوری کرے گا اور آخر میں سلام سے پہلے دو سجدے کرے گا۔

لیکن اگر کھڑا ہونے لگا اور یاد آ گیا تو بیٹھ جائے گا، اور اس غلطی پر دو سجدے نہیں۔

کیونکہ مذکورہ بالا عبد اللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی ایک روایت میں یہ بھی ہے:

”ہم نے سبحان اللہ کہا، پس جب آپ سیدھے کھڑے ہو گئے تو آپ نے قیام شروع کر دیا اور آپ واپس نہ لوٹے۔“

📖 صحیح ابن خزیمہ: 115/2، حدیث: 1031

درمیانہ تشہد جہاں کرنا چاہیے تھا وہاں نہ کیا، یا جہاں نہیں کرنا چاہیے وہاں کیا، تو سجدہ سہو لازم ہو گا۔

➤ رکعات کی تعداد میں شک پر سجدہ سہو

❀ اگر رکعات کی تعداد میں شک پڑ جائے تو اس کی دو شکلیں ہوں گی:

➊ اسے یقین نہیں آ رہا کہ آیا اس نے تین پڑھی ہیں یا چار۔

➋ شک پڑنے پر اس نے غور و خوض کیا اور اسے یقین آ گیا کہ اس نے تین پڑھی ہیں یا چار۔

➊ پہلی حالت

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”اگر تم میں سے کسی کو رکعات کی تعداد کے بارے میں شک پڑ جائے اور اسے معلوم نہ ہو سکے کہ اس نے تین پڑھی ہیں یا چار، تو وہ شک کو چھوڑ دے اور یقینی بات پر بنیاد رکھے، یعنی تین پر۔

اور پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے۔

اب اگر اس نے پانچ رکعت نماز پڑھی ہو گی تو یہ سجدے اس کی نماز کی رکعات کو جفت کر دیں گے، اور اگر اس نے پوری چار رکعت نماز پڑھی ہو گی تو یہ سجدے شیطان کے لیے ذلت کا سبب ہوں گے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب السهو في الصلاة والسجود له: 571

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/571/

اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”جب کسی کو دو اور ایک کے درمیان شک ہو جائے تو وہ ایک رکعت شمار کرے، اور دو اور تین کے درمیان شک ہو تو دو رکعتیں شمار کرے۔

اگر تین اور چار کے درمیان شک پڑ جائے تو تین رکعتیں شمار کرے، پھر باقی نماز پوری کر لے، حتیٰ کہ شک اضافے کے بارے میں رہ جائے۔

پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“

📖 سنن ابن ماجہ، کتاب إقامة الصلوات، باب ما جاء فيمن شك في صلاته فرجع إلى اليقين: 1209 — حسن
📖 جامع ترمذی: 398 — حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1209/

➋ دوسری حالت

اسے شک پڑا مگر غور و خوض کے بعد پتا چل گیا کہ اس کی کون سی رکعت ہے تو وہ ظنِ غالب پر بنیاد رکھے اور آخر میں دو سجدے کر لے۔

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ يُسَلِّمْ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ﴾

ترجمہ:
”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک پڑ جائے تو وہ ٹھیک بات کو تلاش کرے اور اسی کے مطابق اپنی نماز پوری کرے، پھر سلام پھیر کر دو سجدے کر لے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاة، باب التوجه نحو القبلة حيث كان: 401
📖 صحیح مسلم: 572

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/401/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/572/

واضح رہے کہ:

﴿فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ﴾

اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ:

﴿وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ﴾

کا معنی مختلف ہے، جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں جو مختلف چار الفاظ استعمال ہوئے ہیں، ان سے واضح ہوتا ہے۔

یہ فرق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری: 95/3 میں بیان کیا ہے۔

اسی طرح امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے صحیح ابن خزیمہ: 114/2 میں، اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے صحیح ابن حبان میں بھی یہی فرق بیان کیا ہے۔

جبکہ امام نووی رحمہ اللہ اور دیگر علماء نے ان دونوں احادیث کا ایک ہی معنی مراد لیا ہے۔

4 📘 جن غلطیوں پر سجدہ سہو نہیں کیا جائے گا

❀ مندرجہ ذیل غلطیوں پر سجدہ سہو نہیں کیا جائے گا:

➊ کوئی جہالت کی وجہ سے نماز میں بات کرے، یعنی لاعلمی میں بات ہو جائے۔
البتہ جان بوجھ کر بولنے والے کی نماز ٹوٹ جائے گی۔

سیدنا معاویہ بن الحکم السلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لاعلمی کی وجہ سے نماز میں کوئی بات کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ الآدَمِيِّينَ﴾

ترجمہ:
”بلا شبہ یہ نماز ہے، اس میں دنیا کی باتیں کرنا درست نہیں ہے۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب تحريم الكلام في الصلاة الخ: 537

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/537/

➋ کوئی دعا زیادہ مرتبہ پڑھی گئی، یا دعا میں کوئی لفظ زیادہ پڑھا گیا، تو اس پر بھی سجدہ سہو نہیں کیا جائے گا۔

ایک آدمی نے نماز میں اپنی طرف سے یہ الفاظ پڑھ دیے:

﴿رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ﴾

نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:

”یہ کلمات کس نے کہے تھے؟“

اس شخص نے کہا:

”میں نے۔“

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”میں نے تم سے زیادہ فرشتے دیکھے جو اسے لکھنے میں مقابلہ کر رہے تھے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب: 799

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/799/

➌ قراءت میں غلطی ہو گئی تو سجدہ سہو لازم نہیں ہو گا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قراءت بھولنے پر سجدہ سہو نہیں کیا کرتے تھے۔

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب الفتح على الإمام في الصلاة: 907 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/907/

➤ فاتحہ کی قراءت رہ جانے پر

❀ اگر کوئی شخص کسی رکعت میں سورہ فاتحہ کی قراءت بھول جائے تو وہ اس رکعت کو دوبارہ پڑھے اور پھر دو سجدے کرے، کیونکہ فاتحہ کے بغیر رکعت ہی نہیں ہوتی۔

اسی طرح رکوع یا سجدہ کرنا بھول جائے تو بھی پہلے وہ رکعت پڑھے، پھر دو سجدے کرے۔

➤ امام و مقتدی کے احکام

❀ اگر امام بھول جائے تو مقتدی امام کو غلطی پر متنبہ کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي﴾

ترجمہ:
”جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کروا دیا کرو۔“

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب السهو في الصلاة والسجود له: 572

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/572/

❀ امام غلطی سے اضافی رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا تو مقتدیوں کو تنبیہ کرنی چاہیے۔

امام پلٹ آئے تو صحیح، ورنہ مقتدی بھی امام کی اقتدا کریں، کیونکہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بھول کر ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں۔

جب سلام پھیرا تو لوگوں نے پوچھا:

”کیا نماز زیادہ ہو گئی ہے؟“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”کیا بات ہے؟“

لوگوں نے کہا:

”آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا دی ہیں۔“

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کیا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب السهو، باب إذا صلى خمسا: 1226
📖 صحیح مسلم: 572/91

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1226/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/572/

❀ امام غلطی سے دوسرے رکن میں منتقل ہو گیا تو مقتدیوں کو بھی امام کی اقتدا کرنی چاہیے۔

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھول کر درمیانہ تشہد بیٹھے بغیر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے، تو صحابہ بھی پیچھے کھڑے ہو گئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر کے سجدہ سہو کیا، اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب السهو، باب يكبر في سجدتي السهو: 1230
📖 صحیح مسلم: 570/86

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1230/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/570/

❀ کسی غلطی پر امام سجدہ سہو کرے تو مقتدیوں کو بھی سجدہ سہو کرنا چاہیے۔

📖 ایضاً

❀ مقتدی جماعت کے دوران میں کوئی انفرادی غلطی کر لیتا ہے تو اس پر سجدہ سہو نہیں ہو گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إِنَّ الْإِمَامَ ضَامِنٌ﴾

ترجمہ:
”امام مقتدیوں کا ضامن ہے۔“

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب ما يجب على المؤذن من تعاهد الوقت: 517 — صحیح
📖 جامع ترمذی: 207 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/517/

❀ لیکن اگر مقتدی جماعت کے بعد والی رکعات میں غلطی کرے تو وہ سجدہ سہو کرے۔

یا امام کے ساتھ ہی ہے، لیکن کسی وجہ سے اس کی قراءتِ فاتحہ رہ جائے، یا رکوع و سجدہ رہ جائے، تو وہ بعد میں وہ رکعت دوبارہ پڑھے اور دو سجدے کرے۔

5 📘 سجدہ سہو کرنے کا طریقہ

سجدہ سہو نماز کے دوسرے سجدوں کی طرح کیا جاتا ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”اللہ اکبر کہا اور عام سجدوں کی طرح سجدہ کیا، یا اس سے کچھ لمبا، پھر سر اٹھاتے ہوئے اللہ اکبر کہا، پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سر رکھا اور عام سجدوں کی طرح، یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سر اٹھایا۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب السهو، باب يكبر في سجدتي السهو: 1229
📖 صحیح مسلم: 573

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1229/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/573/

➤ سجدہ سہو کرنے کے دو مقامات ہیں:

➊ آخری تشہد میں دعائیں مکمل کرنے کے بعد دو سجدے کریں، پھر سلام پھیر لیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب السهو، باب ما جاء في السهو: 1224
📖 صحیح مسلم: 1269

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1224/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1269/

➋ دونوں طرف سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کریں اور پھر سلام پھیریں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب السهو، باب إذا صلى خمسا: 1226
📖 صحیح مسلم: 1574

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1226/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1574/

سجدہ سہو کے مذکورہ بالا دونوں طریقے جائز ہیں۔ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس غلطی پر جو طریقہ اختیار کیا ہے، وہاں وہ طریقہ افضل ہے۔

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں رہ جانے پر انھیں ادا کیا اور سجدے سلام کے بعد کیے، تو اس صورت میں سلام کے بعد سجدہ سہو کرنا بہتر ہے۔

اور ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا درمیانہ تشہد رہ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے سلام پھیرنے سے پہلے کیے، تو اس صورت میں سلام سے پہلے سجدہ سہو کرنا افضل ہے۔

❀ آخری تشہد میں دعائیں مکمل پڑھنے کے بعد ایک طرف سلام پھیر کر سجدہ سہو کرنا، پھر دوبارہ مکمل تشہد پڑھنا، پھر سلام پھیرنا، یہ کسی صحیح حدیث میں موجود نہیں۔

❀ باتیں کرنے یا وقت گزرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، یعنی نماز دہرانی نہیں پڑے گی۔

ذوالیدین کے واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باتیں کرنے اور وقت گزرنے کے باوجود نماز نہیں دہرائی، صرف باقی نماز ادا کی اور سجدہ سہو کیا۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر کچھ وقت گزر گیا، یا باتیں کر لیں تو نماز دہرانی پڑے گی، جبکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے، بلکہ یہ ذوالیدین والی صحیح حدیث کے خلاف ہے۔

❀ ایک نماز میں ایک سے زائد غلطیاں ہو جائیں تو ان سب کے لیے ایک ہی سجدہ سہو کافی ہے۔

6 📘 نماز میں جائز کام

🌿 نماز کے دوران بعض ضروری اور ثابت شدہ کام جائز ہیں، جن کی رہنمائی صحیح احادیث سے ملتی ہے:
❀ کپڑے، ٹشو وغیرہ میں تھوکنا یا نزلہ صاف کرنا جائز ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
﴿فَلَا يَبْزُقَنَّ أَحَدُكُمْ قِبَلَ قِبْلَتِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ، ثُمَّ أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ، ثُمَّ رَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: أَوْ يَفْعَلُ هَكَذَا﴾
ترجمہ:
”کوئی شخص نماز میں قبلہ کی جانب نہ تھوکے، لیکن بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک لے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر لی، اس میں تھوکا اور اسے چادر میں مل دیا، پھر فرمایا: ”یا اس طرح کر لیا کرو۔“
📖 صحيح البخاري، كتاب الصلاة، باب حك البزاق باليد من المسجد: 405
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/405/
❀ حالتِ نماز میں کسی کو گھر میں آنے کی اجازت دینے کے لیے کھانسنا جائز ہے۔
📖 سنن النسائي، كتاب السهو، باب التنحنح في الصلاة: 1212 تا 1214
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1212/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1213/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1214/
❀ اگر شیطان نماز میں وسوسے ڈالے تو نمازی کو چاہیے کہ:
﴿أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾
پڑھ کر اپنی بائیں جانب تین مرتبہ پھونکے، جس میں لعاب بھی شامل ہو۔
📖 صحيح مسلم، كتاب السلام، باب التعوذ من شيطان الوسوسة في الصلاة: 2203
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2203/
❀ نمازی کو سلام کہنا جائز ہے، اور نمازی کو اشارے سے اس کا جواب دینا چاہیے۔
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے جواب دیا۔“
📖 سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب رد السلام في الصلاة: 925
📖 ترمذي: 367 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/925/
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز میں سلام کا جواب دینے کا طریقہ بتاتے ہوئے فرمایا:
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کرتے تھے“، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اٹھا کر پھیلا دیا۔
📖 سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب رد السلام في الصلاة: 927 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/927/
❀ نماز کے دوران بچہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْمِلُ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا، وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا﴾
ترجمہ:
”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نواسی امامہ کو اٹھا کر نماز پڑھائی، جب سجدہ کرنے لگتے تو اسے زمین پر بیٹھا دیتے، اور جب کھڑے ہوتے تو اسے اٹھا لیتے۔“
📖 صحيح البخاري، كتاب الصلاة، باب إذا حمل جارية صغيرة على عنقه في الصلاة: 516
📖 صحيح مسلم: 543
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/516/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/543/
❀ ایسا اشارہ کرنا جائز ہے جس سے بات سمجھ میں آ جائے۔
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی تو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہی تھیں اور لوگ بھی نماز ادا کر رہے تھے۔ میں نے کہا: لوگوں کا کیا مسئلہ ہے؟ انہوں نے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے کہا: کیا کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں!“
📖 صحيح البخاري، كتاب السهو، باب الإشارة في الصلاة: 1235
📖 صحيح مسلم: 905
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1235/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/905/
❀ ساتھ والے نمازی کی کسی چھوٹی موٹی غلطی کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر نماز پڑھنے لگے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔“
📖 صحيح البخاري، كتاب الأذان، باب إذا قام الرجل: 698
📖 صحيح مسلم: 763
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/698/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/763/
❀ سجدہ کی جگہ کوئی چیز پڑی ہو، یا وہاں کوئی بیٹھا یا لیٹا ہو تو اسے ہاتھ سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوتی، اور میرے پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ والی جگہ ہوتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرنے لگتے تو مجھے دبا دیتے، تو میں اپنے پاؤں اکٹھے کر لیتی۔“
📖 صحيح البخاري، كتاب الصلاة، باب الصلاة على الفراش: 382
📖 صحيح مسلم: 512
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/382/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/512/
❀ کسی ہنگامی معاملہ کی وجہ سے نماز مختصر کی جا سکتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”بعض دفعہ میں لمبی نماز پڑھانے کا ارادہ کرتا ہوں، پھر کسی بچے کو روتے ہوئے سنتا ہوں تو نماز مختصر کر دیتا ہوں، تاکہ اس کی ماں کو مشکل نہ ہو۔“
📖 صحيح البخاري، كتاب الأذان، باب من أخف الصلاة عند بكاء الصبي: 707
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/707/
❀ نماز میں کسی وجہ سے رونا آ جائے تو کوئی حرج نہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری کی حالت میں فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ میں نے کہا: بلاشبہ جب ابوبکر آپ کے مصلیٰ پر کھڑے ہوں گے تو وہ رونے کی وجہ سے لوگوں کو قراءت سنا نہیں پائیں گے۔“
📖 صحيح البخاري، كتاب الأذان، باب إذا بكى الإمام في الصلاة: 716
📖 صحيح مسلم: 418
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/716/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/418/
❀ جمائی آئے تو جہاں تک ممکن ہو اسے روکنا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
﴿التَّثَاؤُبُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْهُ مَا اسْتَطَاعَ﴾
ایک روایت میں ہے:
﴿فَلْيُمْسِكْ بِيَدِهِ عَلَى فَمِهِ﴾
ترجمہ:
”جمائی شیطان کی طرف سے ہے، کسی کو جمائی آئے تو وہ استطاعت کے مطابق اسے روکے۔“
اور ایک روایت میں ہے: ”اگر نہ رکے تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے۔“
📖 صحيح مسلم، كتاب الزهد، باب تشميت العاطس وكراهة التثاؤب: 2994، 2995
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2994/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2995/
❀ مجبوری کے وقت نماز میں ٹیک لگا کر کھڑا ہونا جائز ہے۔
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے اور جسم بھاری ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جائے نماز میں ایک ستون گاڑ لیا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دورانِ نماز ٹیک لگا لیتے تھے۔“
📖 سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب الرجل يعتمد في الصلاة على عصا: 948 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/948/

7 📘 نماز میں جائز کام

❀ نماز میں کسی کام، مثلاً دروازہ کھولنے وغیرہ کے لیے تھوڑا سا ادھر ادھر چلا جا سکتا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز پڑھ رہے تھے، اور دروازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ کی سمت تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑا سا دائیں یا بائیں چل کر دروازہ کھولا اور پھر اپنے مصلیٰ پر لوٹ آئے۔“
📖 سنن النسائي، كتاب السهو، باب المشي أمام القبلة خطى يسيرة: 1207 — حسن
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1207/

❀ سانپ، بچھو یا کسی بھی خطرناک چیز کو مارا جا سکتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
﴿اقْتُلُوا الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ: الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ﴾
ترجمہ:
”دو خطرناک جانور، سانپ اور بچھو کو نماز میں مار دو۔“
📖 سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب العمل في الصلاة: 921
📖 ترمذي: 390 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/921/

❀ چھینک آئے تو چہرے پر ہاتھ یا کپڑا رکھ کر آواز آہستہ کرنی چاہیے۔
📖 سنن أبي داود، كتاب الأدب، باب في العطاس: 5029
📖 ترمذي: 2745 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/5029/
❀ نماز میں چھینک آئے تو یہ دعا پڑھنا جائز ہے:
﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، مُبَارَكًا عَلَيْهِ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى﴾
ترجمہ:
”تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، تعریف بہت زیادہ، پاکیزہ، جس میں برکت کی گئی ہے اور جس پر برکت کی گئی ہے، جس طرح ہمارا رب پسند کرتا ہے اور راضی ہوتا ہے۔“
📖 ترمذي، كتاب الصلاة، باب ما جاء في الرجل يعطس في الصلاة: 404
📖 سنن النسائي: 932 — حسن
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/932/

8

📘 نماز میں ممنوع کام
🌿 نماز میں بعض کام ایسے ہیں جو ممنوع ہیں، کیونکہ وہ نماز کے خشوع، آداب یا صحت کے خلاف ہیں:
❀ چھینک والے کا جواب دینا ممنوع ہے۔
❀ نماز میں باتیں کرنا ممنوع ہے۔
سیدنا معاویہ بن الحکم السلمی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
﴿بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ، قَالَ: إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ﴾
ترجمہ:
”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک آدمی کو چھینک آئی، میں نے يَرْحَمُكَ اللهُ کہہ دیا۔ تو نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نماز ہے، اس میں دنیا کی باتیں کرنا درست نہیں۔“
📖 صحيح مسلم، كتاب المساجد، باب تحريم الكلام في الصلاة: 537
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/537/
❀ ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں ڈالنا ممنوع ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
﴿ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَلَا يُشَبِّكَنَّ يَدَيْهِ، فَإِنَّهُ فِي صَلَاةٍ﴾
ترجمہ:
”پھر وہ نماز کے لیے چلے تو ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں نہ ڈالے، کیونکہ وہ نماز میں ہوتا ہے۔“
➤ جب نماز کی طرف جاتے ہوئے انگلیاں ڈالنا ممنوع ہے، کیونکہ وہ نماز کے حکم میں ہے، تو نماز میں انگلیاں ڈالنا بالکل ممنوع ہے۔
📖 سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب ما جاء في الهدي في المشي إلى الصلاة: 562
📖 ترمذي: 386 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/562/
❀ ہونٹ بند رکھ کر محض دل میں پڑھنا مناسب نہیں، بلکہ ہونٹ کھول کر زبان سے پڑھنا چاہیے۔
کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ داڑھی کی حرکت سے لگایا کرتے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہونٹ کھول کر پڑھتے تھے۔
📖 صحيح البخاري، كتاب الأذان، باب القراءة في الظهر: 760
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/760/
❀ بال باندھنا اور کپڑے سمیٹنا ممنوع ہے۔
📖 صحيح البخاري، كتاب الأذان، باب لا يكف شعرا: 815
📖 صحيح مسلم: 490
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/815/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/490/
➤ بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر شلوار ٹخنوں سے نیچے ہو تو اسے بھی اوپر کو سمیٹنا جائز نہیں، یہ استدلال غلط ہے، کیونکہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا رکھنا حرام ہے۔
❀ برہنہ ہونے سے نماز باطل ہو جاتی ہے، کیونکہ ستر چھپانا نماز کی شرط ہے۔
لیکن اگر کسی کے پاس کپڑا کم ہو تو پھر برہنہ ہونے سے نماز باطل نہیں ہوگی۔
📖 صحيح البخاري، كتاب المغازي: 4302
📖 كتاب الزهد للإمام أحمد بن حنبل: 171 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/4302/
❀ آسمان کی طرف یا ادھر ادھر دیکھنا ممنوع ہے۔
📖 صحيح البخاري، كتاب الأذان، باب رفع البصر إلى السماء في الصلاة: 750، 751
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/750/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/751/
❀ خشوع و خضوع کے منافی بے جا حرکات کرنا ممنوع ہے۔
❀ نماز میں دائیں طرف یا سامنے تھوکنا ممنوع ہے۔
کیونکہ اگر مسجد میں گندگی کا ڈر نہ ہو تو پاؤں کے درمیان یا بائیں طرف تھوکنا جائز ہے۔
تفصیل ”نماز میں جائز کام“ کے بیان میں ملاحظہ فرمائیں۔
❀ دعائیں یا قراءت بلند آواز سے کرنا ممنوع ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
﴿لَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ﴾
ترجمہ:
”کوئی بھی شخص نماز میں اونچی آواز میں قراءت نہ کرے۔“
📖 مسند أحمد: 2/2، حدیث: 4928 — إسناده صحیح، شعیب الأرنؤوط

9 📘 سواری پر فرض نماز کا بیان

❀ بحری جہاز اور کشتی میں نماز پڑھی جا سکتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«صَلِّ فِيهَا قَائِمًا إِلَّا أَنْ تَخَافَ الْغَرَقَ»

ترجمہ:
❀ کشتی میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ، الا یہ کہ تجھے غرق ہونے کا خطرہ ہو، تو بیٹھ کر نماز ادا کر۔

📖 مستدرک حاکم: 275/1، حدیث: 1019

❀ درج بالا حدیث کی روشنی میں اگر سواری سے اُترنا ممکن نا ہو تو ہوائی جہاز، ریل گاڑی وغیرہ میں نماز ادا کرنا جائز ہے۔

❀ نماز شروع کرنے سے پہلے قبلہ معلوم کر لیں۔

10 📘 باجماعت نماز کی اہمیت اور فضیلت صحیح احادیث کی روشنی میں

❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ﴾

ترجمہ:
نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں یعنی جماعت کے ساتھ رکوع کرو، یعنی نماز ادا کرو۔

📖 سورۃ البقرۃ: 43

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِهِ فَلَا صَلَاةَ لَهُ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ»

ترجمہ:
جو شخص اذان کی آواز سنے اور مسجد میں نہ آئے، بلکہ گھر میں نماز پڑھ لے، تو اس کی نماز نہیں ہوگی، الا یہ کہ کوئی عذر ہو۔

📖 ابن ماجہ، کتاب المساجد والجماعات، باب التغلیظ فی التخلف عن الجماعۃ: 793 — صحیح

🔗https://tohed.com/hadith/ibn-majah/793/

❀ ایک نابینا شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی:

مجھے مسجد میں لے جانے والا کوئی نہیں، کیا مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:

کیا اذان کی آواز سنتے ہو؟

اس نے کہا: ہاں!

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تب ضرور نماز کے لیے مسجد میں آؤ۔

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب یجب إتیان المسجد علی من سمع النداء: 653

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/653/

📘 جماعت کی فضیلت
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر وہ محض نماز پڑھنے کے لیے مسجد کی طرف چلے تو اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔
📖 صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب فضل الوضوء والصلاۃ عقبہ: 232
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/232/
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو آدمی اچھی طرح وضو کر کے صرف نماز کے لیے مسجد کی طرف جاتا ہے، اس کا اور کوئی مقصد نہیں ہوتا، تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بلند ہوتا اور ایک گناہ مٹتا ہے، حتیٰ کہ وہ مسجد میں داخل ہو جائے۔
اور جب آدمی مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو جب تک وہ نماز کی وجہ سے وہاں رکا رہے، وہ نماز ہی میں ہوتا ہے، یعنی اسے نماز کا ثواب ملتا رہتا ہے۔
اور جب تک نمازی اپنی نماز والی جگہ بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں:
اے اللہ! اس پر رحم فرما۔
اے اللہ! اسے معاف فرما۔
اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔
یہاں تک کہ وہ کسی کو تکلیف دے، یا وہ بے وضو ہو جائے۔
📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب فضل الصلاۃ المکتوبۃ: 649
📖 صحیح البخاری: 2119
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/649/
🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/2119/
❀ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
باجماعت نماز کا ثواب، اکیلے کی نماز سے ستائیس گنا زیادہ ہے۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب فضل صلاۃ الجماعۃ: 645
📖 صحیح مسلم: 650
🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/645/
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/650/
❀ جماعت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لوگوں میں سے نماز کا زیادہ ثواب اس شخص کو ملے گا جو زیادہ دور سے جماعت کے لیے آئے۔
📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب فضل کثرۃ الخطا إلی المساجد: 1962
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/1962/
❀ باوضو ہو کر مسجد کی طرف جانے والے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص وضو کر کے فرض نماز کے لیے چلتا ہے تو اسے احرام باندھ کر حج کو جانے والے کے برابر ثواب ملتا ہے۔
📖 ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء فی فضل المشی إلی الصلاۃ: 558 — حسن
🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/558/
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
آدمی کی نماز ایک آدمی کے ساتھ تنہا کی نماز سے بہتر ہے، دو آدمیوں کے ساتھ ایک آدمی کے ساتھ پڑھی گئی نماز سے افضل ہے، اور جو نماز جتنی بڑی جماعت کے ساتھ پڑھی جائے، وہ اتنی زیادہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے۔
📖 ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب فی فضل صلاۃ الجماعۃ: 554 — حسن
📖 نسائی: 844 — حسن
🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/554/
🔗https://tohed.com/hadith/nasai/844/
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے گھر سے نکلا، مسجد میں جا کر دیکھا کہ جماعت ختم ہو چکی تھی تو اسے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا ثواب ہوگا، اسے باجماعت نماز پڑھنے والوں سے ذرا بھی کم ثواب نہیں ہوگا۔
📖 ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء فیمن خرج: 564 — صحیح
📖 نسائی: 856 — صحیح
🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/564/
🔗https://tohed.com/hadith/nasai/856/

11 📘 ترکِ جماعت پر وعید

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ الْمُؤَذِّنَ فَيُقِيمَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يَؤُمُّ النَّاسَ، ثُمَّ آخُذَ شُعَلًا مِنْ نَارٍ فَأُحَرِّقَ عَلَى مَنْ لَا يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ بَعْدُ»
ترجمہ:
میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں مؤذن کو اذان کا حکم دوں، پھر ایک آدمی کو جماعت کرانے کا کہوں، پھر آگ کا ایک شعلہ لے کر ان لوگوں کے گھروں کو جلا دوں جو نماز پڑھنے کے لیے نہ نکلے ہوں۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب فضل صلاۃ العشاء فی الجماعۃ: 657
📖 صحیح مسلم: 651
🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/657/
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/651/
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
کسی بستی یا جنگل میں صرف تین مسلمان ہوں اور وہ نماز باجماعت کا اہتمام نہ کریں تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے۔
تم پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا لازم ہے، کیونکہ بھیڑیا تنہا بکری کو کھا جاتا ہے، یعنی شیطان تنہا آدمی پر قابو پا لیتا ہے۔
📖 نسائی، کتاب الإمامۃ، باب التشدید فی ترک الجماعۃ: 848 — حسن
📖 ابو داؤد: 547 — حسن
🔗https://tohed.com/hadith/nasai/848/
🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/547/
━━━━━━━━━━━━━━
📘 جماعت کے لیے کتنے آدمی ہونے چاہییں؟
❀ دو آدمی ہوں تو انہیں جماعت کروانی چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی سے فرمایا:
«إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا»
ترجمہ:
جب نماز کا وقت ہو جائے تو اذان اور اقامت کہنا، پھر تم دونوں میں سے بڑا جماعت کرائے۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب اثنان فما فوقہا جماعۃ: 658
🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/658/
❀ کہیں صرف ایک مسلمان ہے تو اسے بھی اذان و جماعت کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِنَّ رَبَّكَ يَعْجَبُ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُقِيمُهَا فَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ وَهُوَ يَخَافُنِي، قَدْ غَفَرْتُ لَهُ وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ»
ترجمہ:
آپ کا رب بکریوں کے اس چرواہے سے بہت خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر اذان کہتا ہے، پھر اقامت کہتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
میرے اس بندے کو دیکھو! یہ اذان کہتا ہے اور نماز قائم کرتا ہے، حالانکہ یہ مجھ سے ڈرتا ہے۔ میں نے اسے معاف کر دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔
📖 نسائی، کتاب الأذان، باب الأذان لمن یصلی وحدہ: 6067 — صحیح
📖 ابو داؤد: 1203 — صحیح
🔗https://tohed.com/hadith/nasai/6067/
🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1203/

12

📘 نماز کے لیے جانے کے آداب
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تم اقامت کی آواز سنو تو نماز کے لیے سکون اور وقار کے ساتھ چل کر آؤ، جلدی نہ کرو، اور جتنی نماز جماعت سے پالو وہ پڑھ لو، اور جو رہ جائے اسے بعد میں پوری کر لو۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب لا یسعی إلی الصلاۃ: 636
📖 صحیح مسلم: 603
🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/636/
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/603/
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد کی طرف جائے تو وہ ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں نہ ڈالے، کیونکہ وہ نماز میں ہوتا ہے۔
📖 ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء فی الھدی فی المشی إلی الصلاۃ: 562 — صحیح
📖 ترمذی: 386 — صحیح
🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/562/
➤ یعنی مسجد کی طرف جاتے ہوئے آدمی نماز میں ہوتا ہے، لہٰذا اسے راستے میں بھی نماز کے منافی کوئی کام نہیں کرنا چاہیے۔
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعات ضرور پڑھے۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاۃ، باب إذا دخل المسجد فلیرکع رکعتین: 444
📖 صحیح مسلم: 714
🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/444/
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/714/
➤ اگر کسی نے بیٹھنے سے قبل کوئی نفل یا فرض نماز پڑھ لی تو پھر تحیۃ المسجد پڑھنے کی ضرورت نہیں۔

13 📘 تحیۃ المسجد کا حکم اور ممنوعہ اوقات میں ادائیگی

❓ سوال:

کیا تحیۃ المسجد پڑھنا ضروری ہے اور کیا یہ رکعات ممنوعہ اوقات میں بھی ادا کی جا سکتی ہیں؟

✅ جواب از شیخ مبشر احمد ربانی:

ہمارے نزدیک سب سے زیادہ صحیح موقف یہ ہے کہ تحیۃ المسجد کی رکعات کسی وقت بھی ادا کی جا سکتی ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم عام ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«اِذَا دَخَلَ اَحَدَكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ اَنْ يَّجْلِسَ»
📖 بخاری، کتاب الصلاۃ: باب اذا دخل المسجد فليركع ركعتين، حدیث: 444
📖 مؤطا: 162/1
📖 مسلم: 714
📖 ترمذی: 316
📖 شرح السنۃ: 365/2
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/444/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/714/
ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں ادا کرے۔“
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم میں مروی ہے:
دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَي النَّاسِ، قَالَ: فَجَلَسْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْلِسَ؟»
قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُكَ جَالِسًا، وَالنَّاسُ جُلُوسٌ، قَالَ:
«فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ»
📖 مسلم، کتاب صلاة المسافرين: باب استحباب تحية المسجد بركعتين، حدیث: 714
📖 احمد: 305/5
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/714/
ترجمہ:
”میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی جا کر بیٹھ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تجھے بیٹھنے سے قبل دو رکعتیں پڑھنے میں کیا چیز مانع ہوئی؟“
میں نے کہا:
”اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو اور لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا، تو میں بیٹھ گیا۔“
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب بھی تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو دو رکعتیں ادا کرنے سے پہلے نہ بیٹھے۔“
➤ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان دو رکعتوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
➤ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ جب دو رکعتیں پڑھے بغیر بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں نہ پڑھنے کی وجہ پوچھی، پھر عام حکم دیا کہ مسجد میں داخل ہونے والا شخص دو رکعت ادا کیے بغیر نہ بیٹھے۔
➤ ان دو رکعتوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جمعہ والے دن دورانِ خطبہ کسی شخص کو بولنے کی اجازت نہیں۔
جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ اُسْكُتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمْعَةِ فَقَدْ لَغَوْتَ»
📖 مسلم، کتاب الجمعة: باب فى الإنصات يوم الجمعة فى الخطبة، حدیث: 851
📖 مؤطا: 103/1
📖 شرح السنۃ: 258/4
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/851/
ترجمہ:
”جب تم نے جمعہ والے دن امام کے خطبہ کے دوران اپنے ساتھی سے کہا: ’چپ ہو جاؤ‘ تو تم نے بیکار بات کی۔“
لیکن دورانِ خطبہ اگر کوئی شخص دو رکعت ادا کیے بغیر بیٹھے تو اسے بھی اسی دوران دو رکعت ادا کرنے کا حکم ہے۔
جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ:
«أَصَلَّيْتَ؟»
قَالَ: لَا، قَالَ:
«قُمْ فَصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ»
وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ، قَالَ:
«صَلِّ رَكْعَتَيْنِ»
📖 مسلم، کتاب الجمعة: باب التحية والإمام يخطب، حدیث: 875
📖 احمد: 297/3
📖 ترمذی: 510
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/875/
ترجمہ:
”ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا:
”کیا تو نے نماز پڑھی ہے؟“
اس نے کہا:
”نہیں۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعتیں ادا کرو۔“
صحیح مسلم کی ایک روایت ہے کہ حضرت سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ جمعہ کے روز اس وقت مسجد میں آئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو وہ بیٹھ گئے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب بھی تم میں سے کوئی شخص جمعہ والے دن مسجد میں آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو دو قدرے ہلکی رکعتیں ادا کرے، پھر بیٹھے۔“
📖 مسلم، کتاب الجمعة: باب التحية والإمام يخطب، حدیث: 875
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/875/
➤ ان صحیح احادیث سے معلوم ہوا کہ جب بھی کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو اسے دو رکعتیں پڑھے بغیر نہیں بیٹھنا چاہیے۔
➤ یہ دو رکعت پڑھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ سبب والی نمازوں میں سے ہے، جیسا کہ طواف کی نماز، سورج گرہن کی نماز؛ ایسی تمام نمازیں ممنوعہ اوقات میں بھی ادا کی جا سکتی ہیں۔
جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ کسوف کے متعلق فرمایا ہے:
«إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ»
📖 بخاری، کتاب الكسوف: باب الدعاء فى الكسوف، حدیث: 1060
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1060/
ترجمہ:
”بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔“

14 📘 خواتین کی جماعت اور مسجد جانے کا بیان صحیح احادیث کی روشنی میں

عورتوں کے لیے افضل جگہ:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

صلاةُ المرأةِ في بيتِها أفضلُ من صلاتِها في حُجرتِها، وصلاتُها في مَخدعِها أفضلُ من صلاتِها في بيتِها

ترجمہ:
عورت کے لیے اپنے گھر کے دالان میں نماز پڑھنا صحن کی نسبت بہتر ہے، اور اندرونی کمرے میں نماز پڑھنا کھلے مکان میں نماز پڑھنے سے بھی بہتر ہے۔

📖 سنن ابو داود، کتاب الصلاة، باب التشديد في ذلك، حدیث: 570 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/570/

خواتین کو مسجد میں نماز کی اجازت:

❀ خواتین کو مساجد میں جا کر نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا تمنعوا إماءَ اللهِ مساجدَ اللهِ

ترجمہ:
اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد میں جانے سے منع نہ کرو۔

📖 صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب استئذان المرأة زوجها إلى المسجد وغيره، حدیث: 5238
📖 صحیح مسلم، حدیث: 442/136

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5238/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/442/

خواتین کی خاص مساجد:

گھر میں جماعت کے لیے ایک جگہ مخصوص کی جا سکتی ہے، جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ میرے گھر میں تشریف لا کر نماز پڑھیں، پھر میں اس جگہ کو اپنے لیے مسجد بنا لوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک چٹائی پکڑی اور اس پر پانی کے چھینٹے مارے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور انھوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔

📖 سنن نسائی، کتاب المساجد، باب الصلاة على الحصير، حدیث: 738 — إسناده صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/738/

❀ اسی طرح خواتین کی مخصوص جگہوں میں، مثلاً خواتین کے سکول، مدرسہ وغیرہ میں مسجد بنانی چاہیے۔

لیکن مردوں کی طرح عام معاشرے میں عورتوں کے لیے مخصوص مساجد، جس کا آج کل کفار نے حقوقِ نسواں کے نام پر شوشہ چھوڑا ہے، قرآن و سنت یا تاریخِ اسلام میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

➤ لہٰذا عام معاشرے میں خواتین کے لیے علیحدہ مساجد بنانا جائز نہیں، کیونکہ یہ سراسر فتنے کا باعث ہے۔

15 خواتین کی جماعت:

❀ عورتیں بھی جماعت سے نماز ادا کریں تو بہتر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا تخصیص فرمایا:

جماعت کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز تنہا کی نماز سے ستائیس گنا بہتر ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب فضل صلاة الجماعة، حدیث: 645
📖 صحیح مسلم، حدیث: 650

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/645/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/650/

❀ گھر میں خواتین جماعت کروا سکتی ہیں۔ سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاقات کے لیے ان کے گھر میں تشریف لائے، ان کے لیے ایک مؤذن مقرر کیا، اور انہیں اپنے گھر والوں کی جماعت کروانے کا حکم دیا۔

📖 سنن ابو داود، کتاب الصلاة، باب إمامة النساء، حدیث: 592 — حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/592/

❀ سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا اپنے نجی گھر میں موجود صرف عورتوں کو جماعت کرواتی تھیں، کیونکہ دارقطنی میں الفاظ ہیں:

وتؤم نساءها

ترجمہ:
وہ اپنے گھر کی عورتوں کی امامت کرائیں۔

📖 الدارقطنی، حدیث: 1069 — إسناده حسن
🔗 https://tohed.com/hadith/darqutni/1084/

خواتین کی جماعت فرض اور نفل دونوں کے لیے جائز ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام ورقہ رضی اللہ عنہا کو مطلق گھر والوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا، فرض اور نفل کی تفریق نہیں کی۔
خواتین کی جماعت کروانے کا طریقہ:
❀ عورت امام صف ہی میں کھڑی ہوگی، مرد امام کی طرح آگے بڑھ کر نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جماعت کرواتے وقت صف میں کھڑی ہوتی تھیں۔
📖 الدارقطنی: 1/404، حدیث: 1429 — إسناده حسن لذاته
🔗 https://tohed.com/hadith/darqutni/1507/
❀ اس کی قراءت کی آواز بس اسی قدر ہو کہ مقتدی عورتیں سن سکیں۔
خواتین کے لیے مسجد جانے کے آداب:
❀ عورتوں کو خوشبو لگا کر، یا بھڑکیلا لباس پہن کر، مسجد میں نہیں آنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم میں سے کوئی عورت مسجد میں آنا چاہے تو وہ خوشبو نہ لگائے۔
📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب خروج النساء إلى المساجد، حدیث: 443/142
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/443/
❀ اگر فتنے کا خطرہ ہو تو عورت کو مسجد میں جانے کی اجازت نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيما امرأةٍ أصابت بخورًا فلا تشهد معنا العشاءَ الآخرةَ
ترجمہ:
جو عورت خوشبو لگائے، وہ نمازِ عشاء میں ہمارے ساتھ شامل نہ ہو۔
📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب خروج النساء إلى المساجد، حدیث: 444
📖 صحیح البخاری، حدیث: 869
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/444/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/869/

16 📘 نماز کے لیے صف بنانے کا مسنون طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں

صفیں درست کرنا فرض ہے:

❀ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

سووا صفوفكم فإن تسوية الصفوف من إقامة الصلاة

اور ایک روایت میں ہے:

من تمام الصلاة

اپنی صفیں سیدھی کرو، بلاشبہ صفیں درست کرنا نماز کا حصہ ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے: یہ نماز کی تکمیل ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب إقامة الصف من تمام الصلاة: 723
📖 صحیح مسلم: 433

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/723/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/433/

❀ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أقيموا الصفوف وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل ولينوا بأيدي إخوانكم ولا تذروا فرجات للشيطان

صفیں سیدھی کرو، ایک دوسرے کے ساتھ کندھے برابر کرو، خلا کو پر کرو، صفیں درست کروانے والو! اپنے بھائیوں کے لیے نرم ہو جاؤ اور شیطان کے لیے بیچ میں خالی جگہ مت چھوڑو۔

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف: 666 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/666/

❀ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

رسول اللہ ﷺ نماز سے پہلے صفوں کے درمیان ایک طرف سے دوسری طرف تک چلتے اور ہمارے نمازیوں کے سینے اور کندھوں کو ہاتھ سے برابر کرتے تھے۔

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف: 664
📖 سنن نسائی: 812 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/664/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/812/

❀ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے صفیں درست کرنے کے لیے آدمی مقرر کیے ہوئے تھے، اور جب تک صفیں درست کرنے کی اطلاع نہ دی جاتی، آپ نماز شروع نہیں کرتے تھے۔

📖 جامع ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء في إقامة الصفوف، تعلیقاً بعد الحدیث: 227

صفیں درست کرنے کی فضیلت:

❀ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أقيموا الصف فى الصلاة فإن إقامة الصف من حسن الصلاة

نماز میں صفیں درست کرو، بلاشبہ صفیں سیدھی کرنا نماز کا حسن ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب إقامة الصف من تمام الصلاة: 722
📖 صحیح مسلم: 435

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/722/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/435/

❀ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے صفیں ملانے والوں پر درود بھیجتے ہیں، اور جو شخص صف کے خلا کو پر کرتا ہے، اللہ اس کے ذریعے اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے۔

📖 سنن ابن ماجہ، کتاب إقامة الصلوات، باب إقامة الصفوف: 995 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/995/

❀ اور فرمانِ رسول ﷺ ہے:

من وصل صفا وصله الله ومن قطع صفا قطعه الله

صف میں ملانے، یعنی خلا کو پر کرنے والوں کو اللہ اپنے ساتھ ملا لیتا ہے، اور صفیں کاٹنے والوں کو اللہ اپنے سے کاٹ دیتا ہے۔

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف: 666
📖 سنن نسائی: 820 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/666/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/820/

17

📘 نماز کے لیے صفیں درست نہ کرنے کی سزا اور صف بنانے کا مسنون طریقہ
صفیں درست نہ کرنے کی سزا:
❀ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لتسووا صفوفكم أو ليخالفن الله بين وجوهكم
تم ضرور اپنی صفیں درست کر لو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اختلافات پیدا کر دے گا۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب تسوية الصفوف عند الإقامة وبعدها: 717
📖 صحیح مسلم: 436
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/717/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/436/
❀ اور آپ ﷺ نے فرمایا:
اپنی صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہوا کرو، انھیں قریب قریب بناؤ اور گردنوں کو بھی برابر رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بلاشبہ میں شیطان کو دیکھتا ہوں کہ وہ بکری کے بچے کی طرح صفوں کی خالی جگہوں میں گھس جاتا ہے اور نماز خراب کرتا ہے۔
📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف: 667
📖 سنن نسائی: 816 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/667/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/816/
صفیں درست کرنے کا طریقہ:
❀ ارشادِ نبوی ﷺ ہے:
سب سے پہلے پہلی صف مکمل کرو، پھر اس سے پیچھے والی صف مکمل کرو، یہاں تک کہ آخر تک صفیں مکمل کرو، اور اگر کوئی کمی ہے تو وہ صرف آخری صف میں ہونی چاہیے۔
📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف: 671 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/671/
❀ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
نبی کریم ﷺ ہماری صفیں اس طرح سیدھی اور برابر کرتے جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے۔
📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف: 663
📖 سنن نسائی: 811
📖 جامع ترمذی: 227 — صحیح
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/663/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/811/
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
جب نبی کریم ﷺ ہمیں صفیں درست کرنے کا حکم دیتے تو ہم اس طرح کھڑے ہوتے تھے کہ ہر نمازی اپنا پاؤں اور کندھا ساتھ والے کے پاؤں اور کندھے کے ساتھ چپکا دیتا تھا۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب إلزاق المنكب بالمنكب: 725
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/725/
❀ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
پاؤں کو سیدھا کرنا اور ہاتھ کو ہاتھ پر رکھنا سنت میں سے ہے۔
📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب وضع اليمنى على اليسرى في الصلاة: 754 — حسن
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/754/
➤ سب نمازیوں کو امام کی طرف ملنا چاہیے، نہ کہ امام کی مخالف سمت، اور صف درمیان سے بنانی شروع کرنی چاہیے۔
➤ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ آدمی کے دونوں پاؤں کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیے؟
اس مسئلے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ جب احادیث کے مطابق کندھے اور پاؤں ساتھ والے سے ملائیں گے تو پاؤں ایک خاص حد تک کھلیں گے، اس سے نہ زیادہ کھلیں گے اور نہ کم، یعنی نمازی کی جسامت کے مطابق۔

18 📘 پہلی صف کی فضیلت

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں پر درود بھیجتے ہیں۔

📖 سنن النسائی، کتاب الأذان، باب رفع الصوت بالأذان: 647
📖 سنن ابن ماجہ: 997
✅ صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/647/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/997/

❀ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اگر لوگوں کو اذان اور پہلی صف کی فضیلت کا علم ہو جائے اور اسے حاصل کرنے کے لیے قرعہ اندازی کے علاوہ کوئی حل نہ پائیں، تو ضرور وہ قرعہ اندازی ہی کریں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب الاستهام في الأذان: 615
📖 صحیح مسلم: 437

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/615/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/437/

❀ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی صف والوں کے لیے تین مرتبہ دعائے مغفرت فرمائی اور دوسری صف والوں کے لیے ایک مرتبہ۔

📖 سنن ابن ماجہ، کتاب إقامة الصلوات، باب فضل الصف المقدم: 996
✅ صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/996/

━━━━━━━━━━━━━━

📘 بلا وجہ پہلی صف سے پیچھے ہٹنے کی سزا

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تَقَدَّمُوا فَاتِمُّوا بِي، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتّٰى يُؤَخِّرَهُمُ اللهُ

اور ایک روایت میں ہے:
فِي النَّارِ

میرے قریب آؤ اور پہلی صف پوری کرو، پھر دوسری صف والے تمھاری پیروی کریں، اور جو لوگ پیچھے رہیں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں آگ سے نکالنے میں بھی پیچھے کر دیتا ہے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف: 438
📖 سنن ابو داود: 679

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/438/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/679/

━━━━━━━━━━━━━━

📘 دو افراد کی جماعت

❀ دو آدمی ہوں تو مقتدی کو امام کے دائیں جانب برابر کھڑا ہونا چاہیے۔

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب يقوم عن يمين الإمام: 697
📖 صحیح مسلم: 763/184

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/697/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/763/

❀ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں مقتدی کو امام سے ذرا پیچھے ہٹ کر کھڑا ہونا چاہیے، تو یہ بات درست نہیں، بلکہ مندرجہ بالا حدیث کے خلاف ہے۔

❀ دو آدمیوں کی جماعت میں اگر تیسرا آدمی آ جائے تو وہ مقتدی کو پیچھے کھینچ کر اپنے ساتھ کھڑا کر لے۔

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور گھما کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا، پھر جبار بن صخر رضی اللہ عنہ آئے، اس نے وضو کیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑے ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کے اکٹھے ہاتھ پکڑے اور ہمیں دھکیل کر اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الزهد، باب حديث جابر الطويل وقصة أبي اليسر: 3010

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/3010/

❀ اسی طرح اگر امام کے پیچھے دو افراد ہوں اور ایک کسی عذر سے نماز چھوڑ کر چلا جائے تو دوسرا شخص آگے بڑھ کر امام کی دائیں جانب کھڑا ہو جائے۔

❀ اگر دو آدمی جماعت کروا رہے ہوں اور تیسرا آدمی شامل ہونا چاہتا ہے اور پیچھے جگہ نہیں ہے تو امام بھی آگے جا سکتا ہے۔

📖 ابن خزیمہ: 1536، 1674
✅ اسناده صحیح

19 📘 صفوں کی ترتیب

❀ امام کے پیچھے مرد کھڑے ہوں۔

❀ امام کے قریب وہ لوگ کھڑے ہوں جو دینی اعتبار سے سب سے زیادہ عقل مند ہیں، تاکہ وہ بھولنے پر یاد کرا سکیں اور کوئی مشکل پیش آنے پر امام بن سکیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

وَلِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ

میرے قریب وہ لوگ کھڑے ہوں جو دینی اعتبار سے سب سے زیادہ سمجھ دار اور عقل مند ہیں، پھر وہ کھڑے ہوں جو ان کے قریب ہیں، پھر وہ جو ان کے قریب ہیں۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف: 432

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/432/

━━━━━━━━━━━━━━

📘 بچوں کی صف

❀ بچوں کی صف مردوں کی صف کے بعد ہے۔

سیدنا ابو مالک الاشعری رضی اللہ عنہ نے کہا:

کیا میں تمھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ نہ بتاؤں؟

چنانچہ انھوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقامت کہی، پھر مردوں کی صف بنائی اور پھر بچوں کی صف ان کے پیچھے بنائی اور انھیں نماز پڑھائی۔

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب مقام الصبيان من الصف: 677
✅ حسن، زبیر علی زئی

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/677/

❀ لیکن اگر بچے مردوں کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں تو یہ بھی جائز ہے، جیسا کہ صحیح بخاری: 697 میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تنہا ہونے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/697/

❀ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

میں اور ایک یتیم بچے نے ہمارے گھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور میری والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب المرأة وحدها تكون صفا: 727
📖 صحیح مسلم: 658

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/727/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/658/

━━━━━━━━━━━━━━

📘 خواتین کی صف

❀ اگر عورتوں کے لیے علیحدہ انتظام نہ ہو تو مردوں اور بچوں کے بعد عورتوں کی صف بنائی جائے گی۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب قصة الجساسة: 2942

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2942/

❀ عورت ایک ہو، تب بھی وہ پیچھے تنہا کھڑی ہو گی، کسی بھی مرد کے ساتھ کھڑی نہیں ہو گی۔

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب جواز الجماعة: 660/269

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/660/

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مرد و زن اکٹھے ہونے کی صورت میں مردوں کی اچھی صف پہلی اور سب سے بری آخری ہے، اور عورتوں کی پہلی صف بری اور آخری صف افضل ہے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف: 440

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/440/

━━━━━━━━━━━━━━

📘 امام سے آگے کھڑا ہونا

❀ مقتدیوں کو امام کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے، آگے کھڑا ہونا جائز نہیں، ہاں اگر مقتدی ایک ہے تو وہ امام کے ساتھ اس کی دائیں جانب کھڑا ہو گا۔

❀ صف بندی کرتے ہوئے اس کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔

━━━━━━━━━━━━━━

📘 ستونوں کے درمیان صف بندی

❀ ستونوں کے درمیان، جہاں صف درمیان سے منقطع ہو جائے، صف بنانے سے بچنا چاہیے۔

عبد الحمید بن محمود کہتے ہیں:

میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی، ہمیں ستونوں کی طرف دھکیل دیا گیا، ہم آگے پیچھے ہونے لگے، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: عہدِ رسالت میں ہم اس سے بچا کرتے تھے۔

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب الصفوف بين السواري: 673
📖 جامع ترمذی: 229
📖 سنن النسائی: 822
✅ صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/673/
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/822/

20 📘 صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنا

❀ اگلی صف میں جگہ خالی ہونے کے باوجود کوئی شخص پیچھے تنہا نماز ادا کرے، تو اس کی نماز نہیں ہو گی۔

سیدنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ صف سے پیچھے تنہا نماز پڑھ رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز دہرانے کا حکم دیا۔

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب الرجل يصلي وحده خلف الصف: 682
📖 جامع ترمذی: 230
📖 سنن ابن ماجہ: 1004
✅ صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/682/
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1004/

❀ ہمارے ہاں کچھ لوگ اس کی بالکل پروا نہیں کرتے، بلکہ جلدی میں پیچھے ہی کھڑے ہو جاتے ہیں۔

❀ بعض لوگ آگے والی صف سے ایک آدمی کو کھینچ کر اپنے ساتھ کھڑا کر لیتے ہیں، اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ امام کے ساتھ جا کر کھڑے ہو جانا چاہیے۔ یہ تمام طریقے غلط ہیں، ان کا کسی صحیح حدیث میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

❀ یاد رہے کہ اگلی صف سے آدمی پیچھے کھینچنے والی روایات سخت ضعیف ہیں۔

📖 التلخیص الحبیر: 37/2، حدیث: 583
📖 السلسلة الضعیفة: 921

❀ لہٰذا جس آدمی نے آگے والی صف میں جگہ ہونے کے باوجود پیچھے تنہا نماز پڑھی، اس کی نماز قطعاً نہیں ہوئی۔ اسے نماز دہرانی چاہیے، یا جس قدر اس نے تنہا نماز پڑھی ہے، اسے دہرا لے۔

❀ یہ حکم اس صورت میں ہے جب اگلی صف میں جگہ موجود ہو اور وہ پیچھے تنہا کھڑا ہو۔

❀ لیکن اگر کسی نے اگلی صف میں جگہ نہ ملنے کی صورت میں پیچھے تنہا نماز پڑھی، تو چونکہ وہ معذور ہے، لہٰذا اسے نماز دہرانے کی ضرورت نہیں۔ ان شاء اللہ اس کی نماز ہو جائے گی۔

📖 احکام و مسائل از مبشر احمد ربانی: 207، 208
📖 نماز میں صف بندی: 85

❀ اگر عورت اکیلی ہے تو اس کی تنہا صف ہو جاتی ہے، لہٰذا اس کی نماز تنہا ہو جائے گی، جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے تنہا نماز پڑھی تھی۔

━━━━━━━━━━━━━━

📘 امام اور مقتدیوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہونا

❀ امام اور مقتدیوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہو، تو کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ امام کی آواز مقتدیوں تک پہنچتی ہو۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنے چٹائی کے حجرے میں نماز پڑھتے تھے، اور اس کی دیوار چھوٹی تھی۔ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا، تو وہ بھی کھڑے ہو گئے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب إذا كان بين الإمام وبين القوم حائط وسترة: 729–730

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/729/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/730/

❀ لہٰذا امام ایک کمرے میں ہو اور مقتدی دوسرے کمرے میں، تو ان کی نماز درست ہے۔

❀ بعض لوگوں نے یہ مسئلہ گھڑ لیا ہے کہ امام کو مقتدیوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، ورنہ اس کی اقتدا درست نہیں، حتیٰ کہ اگر امام مسجد کے محراب میں ہو، جو مسجد کے ہال سے ذرا آگے ہوتا ہے، اور مقتدی ہال میں ہوں، تو بھی اقتدا درست نہیں۔ لہٰذا امام کو محراب سے ذرا پیچھے ہال میں کھڑا ہونا چاہیے۔

❀ اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر امام کے ساتھ چند مقتدی موجود ہوں تو پھر دوسری جگہ والے مقتدیوں کی نماز جائز ہو گی۔

❀ یہ تمام باتیں خود ساختہ ہیں، حدیث سے ان کا کوئی تعلق نہیں، بلکہ مندرجہ بالا حدیث کے خلاف ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━

📘 امام کا بلند جگہ کھڑے ہو کر نماز پڑھانا

❀ اگر ضرورت و حاجت ہو تو امام بلند جگہ کھڑا ہو کر نماز پڑھا سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔

جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں ہے، ابو حازم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: منبر کس چیز کا تھا؟ تو انھوں نے فرمایا: اس کے متعلق بیان کرنے والا مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی باقی نہیں ہے۔ یہ فلاں عورت کے فلاں غلام نے غابہ جگہ کے جھاؤ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ جب منبر تیار کر کے مسجد میں رکھ دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے اور قبلہ رخ ہو کر نماز شروع کی، اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاة، باب الصلاة في السطوح والمنبر والخشب: 377
📖 صحیح مسلم: 544

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/377/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/544/

❀ بخاری کی مذکورہ بالا حدیث ہی میں ہے کہ علی بن عبد اللہ مدینی نے کہا:

مجھ سے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس حدیث سے متعلق سوال کیا، تو میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونچی جگہ کھڑے تھے، اس لیے میں اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتا کہ امام مقتدیوں سے اونچی جگہ کھڑا ہو۔

❀ اور ابو داؤد: 597 کی جس روایت میں اونچی جگہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، اسے اگرچہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے، لیکن زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، کیونکہ اس میں اعمش مدلس راوی ہے۔

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/597/

21 📘 امامت کا حق دار کون؟

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًّا

لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو قرآنِ مجید زیادہ جانتا ہو۔ اگر قراءتِ قرآن میں سب برابر ہوں تو وہ شخص امامت کا مستحق ہے جو حدیث کا علم زیادہ رکھتا ہو۔ اگر علمِ حدیث میں سب برابر ہوں تو امام وہ ہوگا جس نے ہجرت پہلے کی، اگر اس میں بھی وہ سب یکساں ہوں تو پھر جو اسلام پہلے لایا۔

راوی نے اسلام کی جگہ سن یعنی عمر ذکر کیا ہے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب من أحق بالإمامة، حدیث: 673

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/673/

❀ بعض لوگ کہتے ہیں کہ خوبصورت شخص کو امام بنانا چاہیے۔ ایسی تمام روایات موضوع اور خود ساختہ ہیں۔

📖 موضوع اور منکر روایات: 47، 48

📘 نابالغ کی امامت

مندرجہ بالا شرائط چھوٹے سمجھ دار بچے میں پوری ہوں تو اسے ہی امام بنانا چاہیے۔

❀ سیدنا عمر بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

میرا باپ اپنی قوم میں سے سب سے پہلے مسلمان ہوا۔ جب میرا باپ مسلمان ہو کر آیا تو اس نے اپنی قوم سے کہا:

اللہ کی قسم! میں بچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کر کے تمھارے پاس آ رہا ہوں۔ انھوں نے فرمایا ہے کہ فلاں وقت میں فلاں نماز اس طرح پڑھو اور فلاں وقت میں فلاں نماز اس طرح پڑھو، اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک آدمی اذان کہے اور جس کو قرآن زیادہ یاد ہو، وہ جماعت کرائے۔

لوگوں نے اندازہ لگایا کہ کسے قرآن زیادہ یاد ہے تو انھوں نے مجھ سے زیادہ کسی کو قرآن پڑھنے والا نہ پایا، کیونکہ میں آنے جانے والے سواروں سے قرآن سن کر یاد کر لیا کرتا تھا، لہٰذا سب نے مجھے امام منتخب کر لیا، حالانکہ میں اس وقت چھ یا سات برس کا تھا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب: 4302

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/4302/

📘 معذور کی امامت

❀ کسی معذور، یعنی اندھے، کانے، لنگڑے وغیرہ شخص میں مندرجہ بالا شرائط موجود ہوں تو اسے امام بنانا چاہیے۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جاتے تو اپنا خلیفہ عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مقرر کرتے، جو لوگوں کو جماعت کرواتے، حالانکہ وہ اندھے تھے۔

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب إمامة الأعمى، حدیث: 595، صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/595/

📘 غلام کی امامت

غلام کو امام مقرر کیا جا سکتا ہے۔

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب مہاجرین کی ایک جماعت قبا میں اکٹھی ہو گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تشریف نہیں لائے تھے، تو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کا غلام سالم رضی اللہ عنہ ان کی امامت کراتا تھا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب إمامة العبد والمولى، حدیث: 692

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/692/

❀ اور امام بخاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ذکوان رضی اللہ عنہ قرآن سے دیکھ کر نماز پڑھاتا تھا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب إمامة العبد والمولى، قبل الحدیث: 692

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/692/

22 📘 بڑے عالم کی چھوٹے عالم کے پیچھے نماز

❀ بڑا عالم اپنے سے چھوٹے عالم کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے۔

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر سے پہلے قضائے حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے۔ میں بھی پانی کا برتن اٹھائے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو ہم نے دیکھا کہ لوگ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز میں شامل ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پالی اور وہ رکعت لوگوں، یعنی جماعت، کے ساتھ ادا کی۔

پھر جب عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت کھڑے ہو کر ادا کی۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب تقديم الجماعة من يصلي بهم إذا تأخر الإمام، حدیث: 421

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/421/

📘 مقرر امام کی جگہ جماعت کروانا

❀ کسی مقرر امام کی جگہ اس کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر دوسرے کو جماعت کروانے کی اجازت نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ

کوئی شخص کسی کی حکومت، یعنی مقرر کردہ جگہ، میں اس کی اجازت کے بغیر ہرگز امامت نہ کرائے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب من أحق بالإمامة، حدیث: 673

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/673/

📘 جس امام سے مقتدی ناراض ہوں

❀ جس امام سے لوگ کسی دینی یا اخلاقی وجہ سے ناراض ہوں، اسے نماز نہیں پڑھانی چاہیے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ثَلَاثَةٌ لَا تَرْتَفِعُ صَلَاتُهُمْ فَوْقَ رُؤُوسِهِمْ شِبْرًا: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ

تین آدمیوں کی نماز ان کے سروں سے ایک بالشت بھی بلند نہیں ہوتی، ایک وہ آدمی جو لوگوں کا امام بن جائے، حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں۔

📖 سنن ابن ماجہ، کتاب إقامة الصلوات، باب من أم قوما وهم له كارهون، حدیث: 971، صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/971/

📖 جامع الترمذی، حدیث: 360، صحیح

📘 بدعتی اور مشرک کی امامت

مشرک امام کی اقتدا جائز نہیں، کیونکہ اس کا کوئی بھی عمل قبول نہیں۔

ارشادِ ربانی ہے:

﴿وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾

اگر یہ لوگ بھی شرک کرتے تو ان کے تمام اعمال برباد ہو جاتے۔

📖 سورۃ الأنعام: 88

اسی طرح اس بدعتی کی اقتدا میں بھی نماز نہیں پڑھنی چاہیے جس کی بدعت اسے کفر و شرک تک پہنچانے اور اسلام سے نکال دینے والی ہو۔

❀ فاسق و فاجر اور گناہ گار شخص کی اقتدا میں نماز پڑھنا جائز ہے۔

عبید اللہ بن عدی بن خیار کہتے ہیں کہ جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ محصور تھے تو میں نے ان سے عرض کی:

آپ لوگوں کے امام ہیں، لیکن مصیبت میں گرفتار ہیں اور فتنہ پرور لوگوں کا امام ہمیں نماز پڑھا رہا ہے اور ہم اسے برا محسوس کرتے ہیں، اب ہم کیا کریں؟

تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے:

نماز لوگوں کے اعمال میں سب سے اچھا عمل ہے، جب لوگ اچھا کام کریں تو تم بھی ان کے ساتھ اچھا کام کرو، اور جب وہ برا کام کریں تو تم ان کی برائی میں شامل نہ ہو۔

یعنی ان کی اقتدا میں نماز پڑھو، لیکن ان کے غلط کاموں کی حمایت نہ کرو۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب إمامة المفتون والمبتدع، حدیث: 695

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/695/

❀ لہٰذا امام کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہو کر اس کی اقتدا چھوڑنا جائز نہیں۔

📘 امام کی کوتاہی کا مقتدی پر کوئی اثر نہیں

اگر کسی وجہ سے امام کی نماز نہیں ہوئی، یا اس کی نماز میں کوئی کمی رہ گئی ہے تو مقتدیوں کی نماز درست ہوگی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يُصَلُّونَ لَكُمْ، فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ وَلَهُمْ، وَإِنْ أَخْطَؤُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ

جو لوگ تمھیں نماز پڑھاتے ہیں، اگر وہ ٹھیک پڑھائیں گے تو تمھیں اور انھیں ثواب ملے گا، اور اگر وہ غلطی کریں گے تو تمھارے لیے تو ثواب ہے اور ان کے لیے گناہ ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب إذا لم يتم الإمام وأتم من خلفه، حدیث: 694

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/694/

23 📘 امام کے فرائض و ذمہ داریاں

❀ امام نماز سے پہلے صفیں درست کروائے اور مقتدیوں کو تربیت دے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پہلے کیا کرتے تھے۔

❀ لوگوں کو ثنا پڑھنے کا وقت دینا چاہیے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر اور قراءت شروع کرنے کے درمیان تھوڑی دیر خاموش رہتے تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب ما يقول بعد التكبير، حدیث: 744

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/744/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 598، 599

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/598/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/599/

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ فاتحہ سے پہلے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ بھی پڑھتے تھے۔

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الحروف والقراءات، باب، حدیث: 4001، صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/4001/

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ فاتحہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرتے تھے۔

📖 مسند أحمد: 288/6، حدیث: 26526
📖 سنن ابو داؤد، کتاب الحروف والقراءات، حدیث: 4001

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/4001/

📖 کتاب القراءة للبيهقي: 255

❀ بعض امام الفاظ کو اتنا لمبا کھینچتے ہیں کہ لفظ کی نوعیت بگڑ جاتی ہے اور معنی تبدیل ہو جاتا ہے، یہ ٹھیک نہیں۔

❀ جہری نماز میں اتنی آواز میں قراءت کرنی چاہیے کہ مقتدی سن سکیں، کیونکہ بلند قراءت کا مطلب ہی یہ ہے۔

❀ جہری نماز میں سورۃ فاتحہ کے آخر پر امام اتنی بلند آواز سے آمین کہے کہ مقتدی سن سکیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا

جب امام آمین کہے تب تم بھی آمین کہو۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب جهر الإمام بالتأمين، حدیث: 780

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/780/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 410

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/410/

❀ مقتدی تبھی آمین کہیں گے جب وہ امام کی آمین سنیں گے، لہٰذا امام کو بلند آواز سے آمین کہنی چاہیے۔

❀ کمزوروں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

فَمَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيَتَجَوَّزْ، فَإِنَّ خَلْفَهُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ

جو شخص لوگوں کی جماعت کرائے تو اسے مختصر جماعت کرانی چاہیے، کیونکہ اس کے پیچھے کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند ہوتے ہیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب من شكا إمامه إذا طول، حدیث: 704

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/704/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 446

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/446/

❀ لیکن نماز کو اس قدر بھی مختصر نہیں کرنا چاہیے کہ مقتدی ٹھیک طرح متابعت نہ کر سکیں اور دعائیں نہ پڑھ سکیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارکان میں اطمینان نہ کرنے والے شخص سے کہا تھا:

ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ

واپس جا کر نماز پڑھ، کیونکہ تیری نماز نہیں ہوئی۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب أمر النبي الذي لا يتم ركوعه بالإعادة، حدیث: 793

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/793/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 397

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/397/

❀ اور ایسے امام کے پیچھے نماز ہرگز نہیں پڑھنی چاہیے جو اس قدر تیز نماز پڑھاتا ہو کہ صحیح اطمینان سے ارکان ادا نہ کیے جا سکیں۔

❀ کوئی مسئلہ پیش آ جائے تو نماز مختصر کر دینی چاہیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچے کے رونے کی وجہ سے بھی نماز مختصر کر دیتے تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب من أخف الصلاة عند بكاء الصبي، حدیث: 708

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/708/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 470/192

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/470/

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھتے تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب يستقبل الإمام الناس إذا سلم، حدیث: 845

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/845/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 2275

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2275/

24 📘 قنوتِ نازلہ کی فضیلت اور طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں

قنوتِ نازلہ کا بیان:

❀ مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئے تو امام کو دعائے قنوت کرنی چاہیے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ عَلَىٰ أَحَدٍ أَوْ يَدْعُوَ لِأَحَدٍ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ

بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی پر بددعا کرنا چاہتے، یا کسی کے حق میں دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد قنوت کرتے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب التفسير، باب: ليس لك من الأمر شيء، حدیث: 4560
📖 صحیح مسلم: 675

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/4560/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/675/

❀ قنوتِ نازلہ پانچوں فرض نمازوں میں کی جا سکتی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام نمازوں میں ایک ماہ تک قنوت کرتے رہے۔

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الوتر، باب القنوت في الصلاة، حدیث: 1443
درجہ: حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1443/

قنوتِ نازلہ کا طریقہ:

➊ فرائض کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد دعا کی جائے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب التفسير، باب: ليس لك من الأمر شيء، حدیث: 4560
📖 صحیح مسلم: 675

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/4560/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/675/

➋ قنوتِ نازلہ ہاتھ اٹھا کر کرنی چاہیے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازِ فجر میں دیکھا کہ آپ نے ہاتھ اٹھا کر کفار پر بددعا کی۔

📖 مسند احمد: 3/137، حدیث: 12429
➤ شیخ شعیب الأرنؤوط رحمہ اللہ نے اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔

➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونچی آواز سے دعا پڑھتے اور مقتدی آمین کہتے تھے۔

📖 سنن ابو داؤد، کتاب الوتر، باب القنوت في الصلاة، حدیث: 1443
درجہ: حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1443/

➍ قنوتِ نازلہ میں جس کے لیے دعا یا بددعا کی جا رہی ہو، اس کا نام لینا جائز ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب: يهوى بالتكبير حين سجد، حدیث: 804

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/804/

➎ جب کوئی مصیبت نازل ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قنوتِ نازلہ کیا کرتے تھے، حتیٰ کہ ابو داؤد: 1443 میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رعل، ذکوان اور عصیہ قبائل کے خلاف مسلسل ایک ماہ تک پانچوں نمازوں میں قنوتِ نازلہ کرتے رہے۔

📖 سنن ابو داؤد، حدیث: 1443

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1443/

لیکن آج ہم مصائب میں گھرے ہونے کے باوجود قنوتِ نازلہ نہیں کرتے۔ عوام تو قنوتِ نازلہ سے واقف ہی نہیں۔ آج چند مساجد ہی ایسی ہیں جن میں قنوتِ نازلہ کی جاتی ہے۔

➤ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر امامِ مسجد کو قنوتِ نازلہ شروع کرنی چاہیے، تاکہ ایک سنت زندہ ہو سکے اور مسلمانوں کی مشکلات میں کمی آئے۔

قنوتِ نازلہ کی دعا:

❀ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ دعا کیا کرتے تھے:

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَانْصُرْهُمْ عَلَىٰ عَدُوِّكَ وَعَدُوِّهِمْ.

اللَّهُمَّ الْعَنْ كَفَرَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ، وَيُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَيُقَاتِلُونَ أَوْلِيَاءَكَ.

اللَّهُمَّ خَالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ، وَزَلْزِلْ أَقْدَامَهُمْ، وَأَنْزِلْ بِهِمْ بَأْسَكَ الَّذِي لَا تَرُدُّهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ.

ترجمہ:

اے اللہ! ہمیں اور تمام مومن مردوں، مومن عورتوں، مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بخش دے اور ان کے دلوں میں الفت ڈال دے۔ ان کی باہمی اصلاح فرما دے۔ اپنے اور ان کے دشمنوں پر ان کی مدد فرما۔

اے اللہ! اہلِ کتاب کے کافروں پر اپنی لعنت فرما جو تیری راہ سے روکتے، تیرے رسولوں کو جھٹلاتے اور تیرے دوستوں سے لڑتے ہیں۔

اے اللہ! ان کے درمیان پھوٹ ڈال دے، ان کے قدم ڈگمگا دے اور ان پر اپنا وہ عذاب اتار جسے تو مجرم قوم سے نہیں ٹالا کرتا۔

📖 السنن الكبرى للبيهقي: 2/210-211، حدیث: 3143
➤ امام بیہقی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔

➤ نیز کئی مزید دعائیں بھی ثابت ہیں۔

25 📘 مقتدیوں کو جماعت کے لیے کب کھڑا ہونا چاہیے؟

❀ مقتدی جماعت کے لیے تب کھڑے ہوں جب وہ امام کو دیکھ لیں، اس سے پہلے کھڑا ہونا جائز نہیں ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي، وَعَلَيْكُم بِالسَّكِينَةِ﴾

ترجمہ:
جب نماز کی اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے آتا دیکھ نہ لو، اور تم پر سکون اختیار کرنا لازم ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب: لا يقوم إلى الصلاة، حدیث: 638
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/638/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 3604
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/3604/

❀ بعض لوگ مسجد میں آ کر کھڑے رہتے ہیں اور بے چینی سے جماعت کا انتظار کرنے لگتے ہیں، یہ طریقہ درست نہیں، بلکہ انہیں مسجد میں آ کر نوافل، اذکار، دعا اور قرآنِ مجید کی تلاوت میں مشغول ہونا چاہیے۔

❀ بعض لوگ اس وقت جماعت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں جب مؤذن حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ اور حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہتا ہے، یہ طریقہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

26 📘 دعائے استفتاح پڑھنا

❀ مقتدی اگر حالتِ قیام میں امام سے مل گیا ہے تو اسے دعائے استفتاح پڑھنی چاہیے، کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دعائے استفتاح پڑھا کرتے تھے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب: ما يقال بين تكبير الإحرام والقراءة، حدیث: 601
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/601/

❀ اگر جہری قراءت ہو رہی ہو، یا وقت کم ہونے کی وجہ سے سورۃ الفاتحہ کے رہ جانے کا ڈر ہو تو سورۃ الفاتحہ پڑھ لے اور دعائے استفتاح چھوڑ دے۔

27 📘 امام کی اتباع

❀ امام سے آگے بڑھنے سے بچنا چاہیے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿مَا يَأْمَنُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ فِي صَلَاتِهِ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللهُ صُورَتَهُ فِي صُورَةِ حِمَارٍ﴾

ترجمہ:
کیا نماز میں امام سے پہلے سر اٹھانے والا شخص اس بات سے بے خوف ہو گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی شکل کو گدھے کی شکل بنا دے؟

📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب: تحريم سبق الإمام ركوع أو سجود ونحوهما، حدیث: 427/115
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/427/

❀ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

ہم میں سے کوئی شخص اس وقت تک اپنی کمر نہیں جھکاتا تھا، جب تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں نہ چلے جاتے، اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سجدہ میں جاتے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب: متى يسجد من خلف الإمام، حدیث: 690
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/690/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 474/198
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/474/

📘 جن چیزوں میں امام سے اختلاف جائز ہے

❀ مندرجہ ذیل چیزوں میں امام اور مقتدی کے درمیان اختلاف ہو جائے تو کوئی حرج نہیں:

➊ نیت میں اختلاف جائز ہے، یعنی امام فرض پڑھا رہا ہے جبکہ مقتدی نفل، یا امام کی نیت نفل کی ہو اور مقتدی فرض ادا کر رہا ہو۔

جیسا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے کے بعد اپنی قوم کی جماعت کرواتے تھے، تو وہ ان کی نفل ہوتی اور قوم کی فرض۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب: إذا صلى ثم أم قومًا، حدیث: 711
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/711/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 465
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/465/

➋ اسی طرح امام عصر کی نماز پڑھا رہا ہو اور مقتدی ظہر کی نماز ادا کر رہا ہو۔

➌ امام کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر امامت کرا رہا ہو اور مقتدی کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے ہوں، یا امام کھڑا ہو اور مقتدی بیٹھا ہو۔

جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرضِ وفات میں ایک دن بیٹھ کر جماعت کروائی اور لوگوں نے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب: الرجل يأتم بالإمام ويأتم الناس بالمأموم، حدیث: 713
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/713/

📖 صحیح مسلم، حدیث: 418
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/418/

➍ امام قصر پڑھے اور مقتدی مکمل پڑھے۔

تفصیلی دلائل بعد میں سفر کی نماز کے موضوع کے ساتھ، ان شاء اللہ۔

28 📘 امام کی آواز مقتدیوں تک پہنچانا

اگر امام کی آواز تمام مقتدیوں تک نہ پہنچ رہی ہو تو مقتدیوں میں سے کوئی شخص امام کی تکبیر آخر تک پہنچائے، اور اگر جماعت بہت بڑی ہو تو فاصلے فاصلے پر کھڑے زیادہ لوگوں کو یہ فریضہ انجام دینا چاہیے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرضِ وفات میں جماعت کروائی، اور کمزوری کی وجہ سے لوگوں تک آواز نہیں پہنچ رہی تھی، تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب من أسمع الناس تكبير الإمام: 712
📖 مسلم: 413/85

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/712/
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/413/

❀ اسپیکر کی سہولت موجود ہو تو اسی میں جماعت کروانی چاہیے، تاکہ لوگ صحیح طور پر اقتدا کر سکیں، پھر لوگوں تک امام کی آواز پہنچانے کی ضرورت نہیں رہتی۔

━━━━━━━━━━━━━━

📘 امام بھول جائے تو اسے لقمہ دینا

❀ دورانِ نماز اگر امام بھول جائے تو مقتدیوں کا فرض ہے کہ وہ امام کو لقمہ دیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

فإذا نسيت فذكروني

ترجمہ:
جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کروا دیا کرو۔

📖 بخاری، کتاب الصلاة، باب التوجه نحو القبلة حيث كان: 401
📖 مسلم: 572

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/401/
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/572/

یاد کرانے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر امام قراءت میں سے کچھ بھول گیا ہو تو اسے بھولا ہوا لفظ بتانا چاہیے۔

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قراءت مشتبہ ہو گئی، تو نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

تو نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟

📖 ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب الفتح على الإمام في الصلاة: 908۔ حسن

🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/908/

اس کے علاوہ اگر کوئی اور غلطی ہو جائے تو مرد سبحان الله کہہ کر اور عورتیں تالی بجا کر آگاہ کریں۔

فرمانِ نبوی ہے:

التسبيح للرجال والتصفيق للنساء

ترجمہ:
مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور خواتین کو تالی بجانی چاہیے۔

📖 بخاری، کتاب العمل في الصلاة، باب التصفيق للنساء: 1203
📖 مسلم: 422

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/1203/
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/422/

نماز سے باہر والا شخص بھی نمازی کو اس کی غلطی پر متنبہ کر سکتا ہے۔

جب قبلہ بیت المقدس سے تبدیل ہو کر کعبہ بن گیا، تو کچھ لوگوں کو اس کا علم نہ ہوا۔ وہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے۔ قریب سے گزرنے والے آدمی نے بلند آواز سے کہا:

میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کعبہ کی سمت نماز پڑھی ہے۔

تو لوگوں نے نماز کے دوران ہی اپنا رخ پھیر لیا۔

📖 بخاری، کتاب الصلاة، باب التوجه نحو القبلة حيث كان: 399
📖 مسلم: 1186

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/399/
🔗https://tohed.com/hadith/muslim/1186/

29 📘 امام کی تبدیلی

امام کسی وجہ سے امامت کے قابل نہ رہے تو اس کے پیچھے کھڑا مقتدی آگے بڑھ کر نماز مکمل کروا دے۔

عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

❀ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر نماز میں قاتلانہ حملہ ہوا تو انہوں نے پیچھے کھڑے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر آگے کر دیا، اور انہوں نے نماز مکمل کرائی۔

📖 بخاری، کتاب فضائل أصحاب النبي، باب قصة البيعة والاتفاق على عثمان بن عفان رضی اللہ عنه: 3700

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/3700/

━━━━━━━━━━━━━━

📘 ایک جگہ دو جماعتیں

❀ کچھ لوگ جماعت کے بعد آئیں تو وہ دوسری جماعت کروا سکتے ہیں، بلکہ انہیں جماعت ہی سے نماز ادا کرنی چاہیے، اور ائمہ مساجد کو بھی برا نہیں ماننا چاہیے۔

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

ایک آدمی آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

کون اس شخص پر صدقہ کرتا ہے؟

تو لوگوں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے اس کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی۔

📖 ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء في الجماعة في مسجد قد صلى فيه مرة: 220
📖 ابو داؤد: 574۔ صحیح

🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/574/

❀ اگر بعد میں پہنچنے والا آدمی تنہا ہے تو جماعت کے ساتھ نماز ادا کر لینے والوں میں سے ایک آدمی نفل کی نیت سے اس کے ساتھ شامل ہو جائے، تاکہ جماعت ہو سکے۔ یہ اس کی طرف سے صدقہ ہوگا۔

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مسافر دوسری جماعت کرا سکتے ہیں، لیکن مقیم لوگوں کو جماعت کروانا جائز نہیں، یہ سراسر غلط ہے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس صحابی کو جماعت کرانے کا حکم دیا تھا وہ وہیں کے مقیم ہی تھے۔

اس کے علاوہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مسجد میں دوسری جماعت کروانا ثابت ہے۔

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب فضل صلاة الجماعة، تعلیقاً، قبل الحدیث: 645
📖 ووصله المحدث أبو يعلى الموصلي في مسنده الصغير: 468/3، حدیث: 4338۔ إسناده صحیح

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/645/

❀ دیر سے آنا اور دوسری جماعت کو معمول بنا لینا جائز نہیں، اس سے پہلی جماعت، جو اصل ہے، کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

📘 سنن کے لیے جگہ کی تبدیلی

❀ فرضوں والی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ سنن ادا کرنی چاہییں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أتعجزون أن تتقدموا أو تتأخروا أو تعدل يمينا أو شمالا؟

ترجمہ:
کیا تم اس بات سے عاجز ہو کہ فرضوں کے بعد آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہو جاؤ، یعنی نفل پڑھنے کے لیے؟

📖 ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب في الرجل يتطوع في مكانه الذي صلى فيه المكتوبة: 1006
📖 ابن ماجه: 1427۔ صحیح

🔗https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1006/
🔗https://tohed.com/hadith/ibn-majah/1427/

30 📘 منفرد کے ساتھ نماز میں شریک ہونا

❀ اگر کوئی شخص تنہا نماز پڑھ رہا ہو اور دوسرا شخص آ جائے تو وہ اس کے ساتھ مل جائے، اور پہلا شخص جماعت شروع کرا دے۔ یعنی جماعت کے لیے پہلے سے امامت کی نیت کرنا ضروری نہیں۔

چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، اور میں آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر دائیں جانب کر دیا۔

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب إذا لم ينو الإمام: 699
📖 مسلم: 763

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/699/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/763/

━━━━━━━━━━━━━━

📘 جماعت میں شامل ہونے کا طریقہ

بعد میں آنے والا شخص امام کو جس حالت میں پائے، تکبیرِ تحریمہ کہہ کر اسی حالت میں چلا جائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الصَّلَاةَ وَالْإِمَامُ عَلَى حَالٍ فَلْيَصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ الْإِمَامُ﴾

ترجمہ:
جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے آئے اور امام کسی حالت میں ہو، تو اسے وہی کرنا چاہیے جو امام کر رہا ہو۔

📖 ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما ذكر في الرجل يدرك الإمام: 591
حکم: صحیح

➤ بعض لوگ آتے ہیں، امام رکوع یا سجدہ میں ہو تو وہ جماعت میں شامل ہونے کے لیے امام کے کھڑے ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں، یہ غلط ہے۔

➤ بعض لوگ پہلے دعائے استفتاح پڑھتے ہیں، پھر امام والی حالت میں منتقل ہوتے ہیں، یہ بھی جائز نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━

📘 رکوع میں ملنے والے کی رکعت

رکوع کی حالت میں جماعت میں شامل ہونے سے وہ رکعت شمار نہیں ہو گی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا﴾

ترجمہ:
جس قدر نماز امام کے ساتھ پالو وہ پڑھ لو، اور نماز کا جو حصہ رہ جائے وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد پورا کرو۔

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب لا يسعى إلى الصلاة وليأتها بالسكينة والوقار: 636
📖 مسلم: 602

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/636/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/602/

اس حدیث کی رو سے جس شخص کا قیام اور سورۃ فاتحہ فوت ہو گئی، اس پر فرض ہے کہ چھوٹی ہوئی چیز کو مکمل کرے۔ اور مکمل نہ کرنے والے کی نماز کیونکر مکمل ہو سکتی ہے؟

❀ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا:

جس کے فرائضِ قراءت و قیام فوت ہو جائیں، اس پر لازم ہے کہ اسے مکمل کرے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا کرنے کا حکم دیا ہے۔

📖 جزء القراءة للبخاري: 109

━━━━━━━━━━━━━━

❀ سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

﴿لَا يَرْكَعَنَّ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَقْرَأَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ﴾

ترجمہ:
سورۃ فاتحہ پڑھے بغیر کوئی شخص رکوع نہ کرے۔

📖 جزء القراءة للبخاري: 77

━━━━━━━━━━━━━━

❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:

﴿لَا يُجْزِئُهُ حَتَّى يُدْرِكَ الْإِمَامَ قَائِمًا﴾

ترجمہ:
امام کو اگر رکوع جانے سے پہلے کھڑے نہ پالو تو تمھاری وہ رکعت نہ ہو گی۔

📖 جزء القراءة، باب وجوب القراءة للإمام والمأموم: 20
حکم: علامہ الألبانی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے۔

اس مسئلے کی مزید تحقیق کے لیئے یہ مضمون ملاحظہ کریں:

رکوع میں آ کر ملنے والے کی رکعت سے متعلق فریقین کے دلائل اور ان کا تحقیقی جائزہ

🔗 Link: https://tohed.com/5ea964

31 📘 جماعت کے متفرق مسائل

جب امام سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہہ چکے تو مقتدیوں کو اس وقت رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہنا چاہیے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ﴾

ترجمہ:
امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ اٹھے تو تم بھی اٹھ جاؤ، اور جب وہ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہہ چکے تو تم رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہو۔

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب إنما جعل الإمام ليؤتم به: 688
📖 مسلم: 411

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/688/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/411/

━━━━━━━━━━━━━━

❀ رکوع سے اٹھتے وقت سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ امام اور مقتدی دونوں کہیں گے، اور رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ بھی امام اور مقتدی دونوں کہیں گے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، پھر جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے، پھر رکوع سے اٹھتے وقت سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے، پھر سیدھے کھڑے ہو کر رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہتے۔

📖 بخاری، کتاب الأذان، باب التكبير إذا قام من السجود: 789
📖 مسلم: 391

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/789/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/391/

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی امام ہوتے تھے اور کبھی مقتدی، اور ہمیں اسی طرح نماز پڑھنے کا حکم ہے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی۔ لہٰذا امام اور مقتدی دونوں کو سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہنے کے بعد رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہنا چاہیے۔

━━━━━━━━━━━━━━

❀ ہر دعا اور تسبیح، جس رکن کی ہے، اسی رکن میں پہنچ کر پڑھنا شروع کریں۔

بعض لوگ کسی رکن میں پہنچنے سے پہلے ہی اس رکن کی دعائیں شروع کر دیتے ہیں، مثلاً:

➊ رکوع میں پوری طرح پہنچنے سے قبل ہی رکوع کی تسبیحات پڑھنا۔

➋ سجدہ میں سر رکھنے سے پہلے ہی سجدہ کی دعائیں پڑھنا۔

➌ دوسری رکعت میں سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے ہی سورۃ فاتحہ پڑھنا شروع کر دینا۔

یہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔

32 📘 فرض نمازوں میں کون سی سورتیں پڑھنا مسنون ہے؟ صحیح احادیث کی روشنی میں راہنمائی ━━━━━━━━━━━━━━

🌅 نمازِ فجر میں قراءت

❀ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

میں نے کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جس کی نماز فلاں شخص سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہو۔

سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وہ شخص ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھاتے اور آخری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتے، عصر کی نماز ہلکی پڑھاتے، مغرب میں قصارِ مفصل، عشاء میں اوساطِ مفصل اور فجر میں طوالِ مفصل پڑھا کرتے تھے۔

➊ طوالِ مفصل: سورۃ ق سے سورۃ البروج تک
➋ اوساطِ مفصل: سورۃ الطارق سے سورۃ البینہ تک
➌ قصارِ مفصل: سورۃ الزلزال سے سورۃ الناس تک

📖 سنن النسائی، کتاب الافتتاح، باب تخفیف القیام والقراءۃ، حدیث: 983 — صحیح

🔗https://tohed.com/hadith/nasai/983/

❀ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر میں ساٹھ سے سو آیات تک تلاوت فرمایا کرتے تھے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب القراءۃ فی الصبح، حدیث: 461

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/461/

━━━━━━━━━━━━━━

☀️ نمازِ ظہر میں قراءت

❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں مجموعی طور پر تقریباً تیس آیات اور آخری دو رکعتوں میں تقریباً پندرہ آیات پڑھا کرتے تھے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب القراءۃ فی الظہر والعصر، حدیث: 452/157

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/452/

━━━━━━━━━━━━━━

🌤️ نمازِ عصر میں قراءت

❀ عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر ایک رکعت میں تقریباً پندرہ آیات اور آخری دو رکعتوں میں اس سے نصف، یعنی تقریباً سات یا آٹھ آیات پڑھی جائیں۔

📖 صحیح مسلم، حدیث: 452/157

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/452/

━━━━━━━━━━━━━━

🌇 نمازِ مغرب میں قراءت

❀ نمازِ مغرب میں قصارِ مفصل، یعنی سورۃ الزلزال سے سورۃ الناس تک کی سورتوں میں سے پڑھنا مسنون ہے۔

📖 سنن النسائی، کتاب الافتتاح، باب تخفیف القیام والقراءۃ، حدیث: 983 — صحیح

🔗https://tohed.com/hadith/nasai/983/

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار نمازِ مغرب میں سورۃ الطور اور سورۃ المرسلات جیسی طویل سورتیں بھی پڑھا کرتے تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب القراءۃ فی المغرب، احادیث: 763، 765
📖 صحیح مسلم، احادیث: 362، 363

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/763/

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/765/

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/362/

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/363/

━━━━━━━━━━━━━━

🌙 نمازِ عشاء میں قراءت

❀ نمازِ عشاء میں اوساطِ مفصل، یعنی سورۃ الطارق سے سورۃ البینہ تک کی سورتوں میں سے پڑھنا مسنون ہے۔

📖 سنن النسائی، کتاب الافتتاح، باب تخفیف القیام والقراءۃ، حدیث: 983 — صحیح

🔗https://tohed.com/hadith/nasai/983/

━━━━━━━━━━━━━━

📚 نمازوں میں قراءت کا عمومی قاعدہ

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو اسے نماز ہلکی پڑھانی چاہیے، کیونکہ مقتدیوں میں کمزور، بوڑھے اور بیمار لوگ بھی ہوتے ہیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب إذا صلی لنفسہ فلیطول ما شاء، حدیث: 703
📖 صحیح مسلم، حدیث: 467

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/703/

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/467/

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی رکعت طویل ہوتی تھی اور دوسری رکعت پہلی کی نسبت مختصر ہوتی تھی، جبکہ پہلی دو رکعتیں آخری دو رکعتوں کی نسبت طویل ہوتی تھیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب القراءۃ فی الظہر، احادیث: 758، 759

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/758/

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/759/

━━━━━━━━━━━━━━

📌 خلاصۂ راہنمائی

➊ فجر میں طوالِ مفصل اور تقریباً ساٹھ سے سو آیات تک قراءت کرنا مسنون ہے۔

➋ ظہر کی پہلی دو رکعتوں کو طویل اور آخری دو رکعتوں کو نسبتاً مختصر رکھا جائے۔

➌ عصر کی قراءت ظہر کی نسبت ہلکی رکھی جائے۔

➍ مغرب میں عموماً قصارِ مفصل پڑھی جائیں، تاہم کبھی کبھار طویل سورتیں پڑھنا بھی ثابت ہے۔

➎ عشاء میں اوساطِ مفصل میں سے سورتیں پڑھنا مسنون ہے۔

➏ امام کو مقتدیوں کی حالت کا خیال رکھتے ہوئے نماز میں تخفیف کرنی چاہیے۔

33 📘 جہری اور سِرّی قراءت کے احکام

━━━━━━━━━━━━━━

🔇 ظہر اور عصر میں سِرّی قراءت

❀ ظہر اور عصر کی نمازوں میں قراءت آہستہ آواز سے کی جائے۔

ابو معمر رحمہ اللہ نے سیدنا خباب بن اَرت رضی اللہ عنہ سے پوچھا:

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نمازوں میں قراءت فرمایا کرتے تھے؟

انہوں نے جواب دیا:

ہاں!

ہم نے پوچھا:

آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا علم کیسے ہوتا تھا؟

انہوں نے فرمایا:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کے ہلنے سے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب القراءۃ فی الظہر، حدیث: 760

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/760/

━━━━━━━━━━━━━━

🔊 رات کی نمازوں میں جہری قراءت

❀ رات کی نمازوں میں امام بلند آواز سے قراءت کرے، تاکہ مقتدی اسے سن سکیں۔

🌇 نمازِ مغرب

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازِ مغرب میں سورۃ الطور کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب الجہر فی المغرب، حدیث: 765

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/765/

🌙 نمازِ عشاء

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازِ عشاء میں سورۃ التین کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب القراءۃ فی العشاء، حدیث: 769

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/769/

🌅 نمازِ فجر

سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازِ فجر میں:

﴿وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ﴾

یعنی سورۃ التکویر کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب القراءۃ فی الصبح، حدیث: 456

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/456/

━━━━━━━━━━━━━━

🕰️ قضا نماز میں جہری اور سِرّی قراءت

❀ رات کی نمازیں اگر دن کے وقت بطورِ قضا پڑھی جائیں، یا دن کی نمازیں رات کے وقت بطورِ قضا ادا کی جائیں، تب بھی ہر نماز میں اس کی اصل حالت کے مطابق قراءت کی جائے گی۔

➊ دن کی نمازوں، یعنی ظہر اور عصر میں سِرّی قراءت کی جائے گی۔

➋ رات کی نمازوں، یعنی مغرب، عشاء اور فجر میں جہری قراءت کی جائے گی۔

یعنی نماز کی ادائیگی کے موجودہ وقت کے بجائے اس نماز کی اصل کیفیت کا اعتبار کیا جائے گا۔

━━━━━━━━━━━━━━

📖 امام کی قراءت کا جواب دینے کا حکم

❀ فرض نمازوں میں آیات کا جواب دینے کی کوئی دلیل موجود نہیں۔

تمام متعلقہ احادیث میں نفل نماز کے دوران آیات کا جواب دینے کا ذکر ملتا ہے، لہٰذا آیات کا جواب صرف نفل نماز میں دینا چاہیے۔

❀ اسی طرح امام کے قراءت کرنے پر مقتدی کے آیات کا جواب دینے کی بھی کوئی دلیل موجود نہیں۔

📚 احکام و مسائل، از مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ، صفحہ: 180

34 📘 نماز میں سنتوں کے فضائل اور مسائل

❀ روزانہ بارہ رکعات سنت ادا کرنے کی فضیلت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي لِلّٰهِ كُلَّ يَوْمٍ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ، إِلَّا بَنَى اللّٰهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ﴾

جو مسلمان بندہ ہر روز اللہ تعالیٰ کے لیے فرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعات نفل ادا کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دے گا۔

📖 صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرین، باب فضل السنن الراتبة، حدیث: 728

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/728/

ان بارہ رکعات کی تفصیل سیدہ اُمِّ حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

➊ ظہر سے پہلے چار رکعات
➋ ظہر کے بعد دو رکعات
➌ مغرب کے بعد دو رکعات
➍ عشاء کے بعد دو رکعات
➎ فجر سے پہلے دو رکعات

📖 جامع الترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء فيمن صلى في يوم، حدیث: 415 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/415/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

❀ نمازِ عصر سے پہلے چار رکعات کی فضیلت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿رَحِمَ اللّٰهُ امْرَأً صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا﴾

اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو عصر سے پہلے چار رکعات ادا کرتا ہے۔

📖 سنن ابی داؤد، کتاب صلاة التطوع، باب الصلاة قبل العصر، حدیث: 1271
📖 جامع الترمذی، حدیث: 430 — حسن

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1271/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

❀ نمازِ مغرب سے پہلے دو رکعات

نمازِ مغرب سے پہلے دو رکعات نفل پڑھنی چاہییں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿صَلُّوا قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: لِمَنْ شَاءَ﴾

مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعات پڑھو۔ پھر تیسری مرتبہ فرمایا: جو چاہے، پڑھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب التہجد، باب الصلاة قبل المغرب، حدیث: 1183
📖 سنن ابی داؤد، حدیث: 1281

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1183/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

❀ عشاء سے پہلے نفل نماز

عشاء سے پہلے وقت میسر ہو تو نفل نماز پڑھنی چاہیے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: لِمَنْ شَاءَ﴾

ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہے، ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہے۔ پھر تیسری مرتبہ فرمایا: جو چاہے، پڑھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب بين كل أذانين صلاة لمن شاء، حدیث: 627
📖 صحیح مسلم، حدیث: 1940

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/627/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📗 سنن کے اہم مسائل

❀ سنن دو دو رکعات کرکے پڑھنا افضل ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى﴾

رات اور دن کی نفل نماز دو دو رکعات ہے۔

📖 سنن ابی داؤد، کتاب صلاة التطوع، باب صلاة النهار، حدیث: 1295
📖 سنن النسائی، حدیث: 1666
📖 سنن ابن ماجہ، حدیث: 1322 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1295/

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1666/

سنن ابی داؤد، حدیث: 1270 کی جس روایت میں چار رکعات ایک سلام کے ساتھ پڑھنے کا ذکر ہے، اسے شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔

لہٰذا سنن کو دو دو رکعات کرکے پڑھنا ہی افضل ہے۔

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1270/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

❀ سنن گھر میں ادا کرنا افضل ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ﴾

بلاشبہ آدمی کی افضل نماز وہ ہے جو اس کے گھر میں ادا کی جائے، سوائے فرض نماز کے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب صلاة الليل، حدیث: 731
📖 صحیح مسلم، حدیث: 781

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/731/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/781/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

❀ مغرب کے بعد کی سنتوں میں قراءت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد والی سنتوں کی پہلی رکعت میں سورۃ الکافرون اور دوسری رکعت میں سورۃ الإخلاص پڑھا کرتے تھے۔

📖 جامع الترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء في الركعتين، حدیث: 431

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/431/

35 📘 فجر کی سنتوں کی فضیلت و اہمیت

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

فجر کی دو سنتیں دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، اس سے افضل ہیں۔

📖 صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب استحباب ركعتي سنة الفجر، حدیث: 725

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/725/

❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نمازوں میں سب سے زیادہ اہتمام فجر کی سنتوں کا فرماتے تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب التهجد، باب تعاهد ركعتي الفجر، حدیث: 1169
📖 صحیح مسلم، حدیث: 724/94

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1169/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/724/

❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعت سنتیں سفر اور حضر میں کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب التهجد، باب المداومة على ركعتي الفجر، حدیث: 1159

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1159/

━━━━━━━━━━━━━━

📗 فجر کی سنتیں پڑھنے کا طریقہ

❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر سے پہلے دو رکعتیں بالکل ہلکی پڑھتے تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب التهجد، باب ما يقرأ في ركعتي الفجر، حدیث: 1170
📖 صحیح مسلم، حدیث: 724/92

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1170/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/724/

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں کی پہلی رکعت میں سورۃ الکافرون اور دوسری رکعت میں سورۃ الاخلاص پڑھتے تھے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب استحباب ركعتي سنة الفجر، حدیث: 726

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/726/

━━━━━━━━━━━━━━

📙 فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنا

❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی سنتیں پڑھ لیتے تو اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب التهجد، باب الضجعة على الشق الأيمن بعد ركعتي الفجر، حدیث: 1160
📖 صحیح مسلم، حدیث: 1718

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1160/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1718/

36 📘 جماعت کے دوران سنتیں پڑھنا

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ

جب نماز کے لیے جماعت کھڑی ہو جائے تو سوائے فرض نماز کے کوئی نماز نہیں ہوتی۔

📖 صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب كراهة الشروع في نافلة، حدیث: 710، 712

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/710/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/712/

یعنی جماعت کے دوران پڑھی گئی سنتیں مقبول نہیں ہوں گی۔

━━━━━━━━━━━━━━

📗 فجر کی جماعت کھڑی ہو جائے تو سنتیں نہ پڑھیں

❀ فجر کی جماعت کھڑی ہو جائے تو بھی سنتیں نہیں پڑھنی چاہییں۔

سیدنا مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے، جبکہ نماز کی اقامت ہو چکی تھی اور وہ ابھی فجر سے پہلے والی دو رکعتیں پڑھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ فرمایا، لیکن ہمیں علم نہ ہوا کہ آپ نے کیا فرمایا ہے۔

جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اسے گھیر لیا اور پوچھا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا تھا؟

اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی صبح کی چار رکعتیں پڑھنے لگ جائے۔

📖 مسند احمد، حدیث: 23455، 22991
📖 صحیح البخاری، حدیث: 663
📖 صحیح مسلم، حدیث: 711

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/663/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/711/

━━━━━━━━━━━━━━

📙 سنتوں کے دوران جماعت کھڑی ہو جائے تو کیا کریں؟

❀ سنتوں کے دوران جماعت کھڑی ہو جائے تو سنتیں چھوڑ دیں۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

ایک مرتبہ صبح کی نماز کی اقامت ہو گئی اور ایک آدمی کھڑا فجر کی سنتیں پڑھ رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے کپڑوں سے پکڑ کر کھینچا اور فرمایا:

کیا تو صبح کی چار رکعتیں پڑھے گا؟

📖 مسند احمد: 1/238، حدیث: 2130، حسن

➤ جماعت کھڑی ہوتی ہے اور بعض بھائی آ کر سنتیں ادا کرنے لگ جاتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک سنتوں کی اہمیت ہے، لیکن فرض نماز اور جماعت کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ بعض اوقات اس وجہ سے ان کی فرض نماز کی ایک رکعت بھی نکل جاتی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

📕 فجر کی سنتوں کی قضا

نمازِ فجر قضا ہو جائے تو بھی پہلے سنتیں ادا کی جائیں، پھر فرض ادا کیے جائیں۔

ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ فجر قضا ہو گئی اور سورج طلوع ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سنتیں پڑھیں، پھر فجر کی جماعت کروائی۔

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب قضاء الصلاة الفائتة، حدیث: 681
📖 صحیح البخاری، حدیث: 595

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/681/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/595/

━━━━━━━━━━━━━━

📒 فرض نماز کے بعد فجر کی سنتیں پڑھنا

❀ اگر فجر کی سنتیں جماعت سے پہلے نہ پڑھی جا سکیں تو فرض نماز کے بعد پڑھی جا سکتی ہیں۔

سیدنا قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور اقامت ہو چکی تھی، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی۔

پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی تو آپ نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور فرمایا:

اے قیس! کیا دو نمازیں اکٹھی پڑھنے لگے ہو؟

میں نے عرض کیا:

اے اللہ کے رسول! میں نے فجر کی سنتیں نہیں پڑھی تھیں، اس لیے اب وہ پڑھ رہا ہوں۔

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تب کوئی حرج نہیں۔

📖 جامع الترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء فيمن تفوته الركعتان، حدیث: 422
📖 سنن ابی داؤد، حدیث: 1267، صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/422/
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1267/

➤ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاں جب فجر کی جماعت کھڑی ہو جاتی تو وہ سنتیں نہیں پڑھتے تھے۔

━━━━━━━━━━━━━━

📓 طلوعِ آفتاب کے بعد فجر کی سنتوں کی قضا

❀ اگر فجر کی سنتیں ادا کرنے کا وقت نہ ملے تو وہ طلوعِ آفتاب کے بعد بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ فجر کی سنتوں کی قضا صرف طلوعِ آفتاب کے بعد ہی کی جا سکتی ہے، طلوعِ آفتاب سے پہلے پڑھنا جائز نہیں۔

وہ اس کی دلیل میں جو روایت پیش کرتے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں ہے۔ مزید یہ کہ وہ روایت قتادہ کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف بھی ہے۔

وہ دوسری دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسجد میں آئے۔ جماعت کھڑی ہو چکی تھی اور انہوں نے ابھی تک فجر کی سنتیں نہیں پڑھی تھیں، تو وہ جماعت میں شامل ہو گئے۔

پھر وہ اپنی جگہ بیٹھے رہے اور جب سورج طلوع ہو گیا تو انہوں نے فجر کی سنتیں پڑھیں۔

لیکن یہ روایت اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ اگر فجر کی سنتیں قضا ہو جائیں تو انہیں طلوعِ آفتاب سے پہلے نہیں پڑھنا چاہیے، یا یہ کہ انہیں لازمی طور پر طلوعِ آفتاب کے بعد ہی ادا کرنا چاہیے۔

اس روایت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جماعت کھڑی ہو جائے تو سنتیں ادا کرنا درست نہیں، بلکہ جماعت کے ساتھ شامل ہونا چاہیے، جبکہ ہمارے بھائی اس مسئلے پر عمل کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔

➤ حقیقت یہ ہے کہ یہ روایات فجر کی قضا شدہ سنتیں طلوعِ آفتاب سے پہلے ادا کرنے کے مخالف نہیں ہیں۔

لہٰذا فجر کی سنتیں قضا ہو جانے کی صورت میں وقت ملتے ہی انہیں فوراً ادا کرنا چاہیے۔

37 📘 فوت شدہ نمازوں کی قضا

❀ ہر نماز کو اس کے مقررہ وقت پر ادا کرنا فرض ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا﴾

ترجمہ:
بلاشبہ نماز مومنوں پر مقررہ وقت میں ادا کرنا فرض ہے۔

📖 سورۃ النساء: 103

❀ لیکن اگر کسی مجبوری کی وجہ سے کوئی نماز رہ جائے تو اسے بعد میں ادا کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے غزوۂ احزاب کے موقع پر رہ جانے والی نمازیں بعد میں قضا کی تھیں۔

❀ قضا نماز کو ادا کرنے کا موقع ملتے ہی فوراً ادا کرنا چاہیے اور مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ احزاب کے موقع پر فوت شدہ نمازوں کو وقت ملتے ہی فوراً ادا فرمایا۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 سونے یا بھولنے کی وجہ سے قضا نماز کا مسئلہ

❀ جو شخص نماز کے وقت سویا رہ جائے یا نماز پڑھنا بھول جائے، وہ بیدار ہونے یا یاد آنے کے فوراً بعد نماز ادا کرے۔ اس کے لیے وہی وقت نماز کی ادائیگی کا وقت ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

﴿مَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ ذَلِكَ وَقْتُهَا﴾

ترجمہ:
جو شخص نماز سے سو جائے یا اسے پڑھنا بھول جائے تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب اسے یاد آئے، فوراً نماز ادا کر لے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب قضاء الصلاة الفائتة، حدیث: 684/315

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/684/

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 قضا نماز کی سنتوں کا مسئلہ

❀ اگر نمازِ فجر قضا ہو جائے تو اس کے ساتھ فجر کی سنتیں بھی ادا کی جائیں۔

ایک سفر کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی نمازِ فجر قضا ہو گئی تو طلوعِ آفتاب کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سنتیں ادا فرمائیں، پھر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو جماعت کروائی۔

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب قضاء الصلاة الفائتة، حدیث: 681

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/681/

❀ باقی نمازیں قضا ہونے کی صورت میں ان کی سنتیں ادا کرنا جائز ہے، لیکن ضروری نہیں۔

غزوۂ احزاب کے موقع پر فوت شدہ نمازوں کی سنتیں ادا کرنے کا ذکر کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 قضا نمازوں کی ادائیگی میں ترتیب

❀ جب متعدد فوت شدہ نمازیں جمع ہو جائیں تو انہیں ترتیب کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔

جنگِ خندق کے موقع پر ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ عصر قضا ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عصر کی نماز ادا فرمائی اور اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔

📖 صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب الدلیل لمن قال الصلاة الوسطى هي صلاة العصر، حدیث: 631
📖 صحیح البخاری، حدیث: 945

🔗https://tohed.com/hadith/muslim/631/

🔗https://tohed.com/hadith/bukhari/945/

❀ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قضا نمازوں میں ترتیب ضروری نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مجرد فعل وجوب کی دلیل نہیں۔

لیکن یاد رہے کہ نمازوں کو ترتیب کے خلاف ادا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، لہٰذا خیر اور بھلائی اسی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے فوت شدہ نمازوں کو ترتیب ہی کے ساتھ ادا کیا جائے۔

38 📘 قضائے عمری کا مسئلہ

❀ ایک شخص نے سستی کی وجہ سے کئی سال تک نماز ادا نہیں کی، پھر ہدایت ملنے کے بعد اس نے نماز پڑھنا شروع کر دی۔ اب گزشتہ برسوں میں ترک کی ہوئی نمازوں کی قضا کو ”قضائے عمری“ کہا جاتا ہے۔

❀ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ توبہ کرنے والے شخص کو چھوڑی ہوئی تمام نمازوں کی قضا کرنی چاہیے۔ وہ اس کا طریقہ یہ بتاتے ہیں کہ ایسا شخص ہر نماز کے ساتھ اسی وقت کی ایک قضا نماز بھی ادا کرے۔

چونکہ وقت تھوڑا ہوتا ہے، اس لیے صرف فرض نماز ادا کرے اور سنتیں و نوافل چھوڑ دے۔

اسی طرح عورت اپنے حیض اور نفاس کے ایام کا حساب لگا کر اتنے دن علیحدہ کر لے اور باقی ایام کی نمازوں کی قضا کرے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 قضائے عمری کا ایک اور مروجہ طریقہ

❀ قضائے عمری کا دوسرا طریقہ، جو بہت زیادہ آسان سمجھا جاتا ہے اور صوبہ سرحد میں رائج ہے، یہ ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ کی نماز کے بعد:

➊ سابقہ تمام چھوڑی ہوئی نمازِ فجر کی طرف سے ایک نمازِ فجر پڑھ لی جائے۔

➋ سابقہ تمام چھوڑی ہوئی نمازِ ظہر کی طرف سے ایک نمازِ ظہر پڑھ لی جائے۔

➌ اسی طرح باقی نمازیں بھی ادا کی جائیں۔

یعنی تمام چھوڑی ہوئی نمازوں کی طرف سے صرف پانچ نمازیں پڑھ لی جائیں تو تمام نمازوں کی قضا ہو جائے گی۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📘 شریعتِ اسلامیہ میں قضائے عمری کا حکم

❀ شریعتِ اسلامیہ میں قضائے عمری کا تصور تک موجود نہیں، جبکہ اس کے برعکس ہمیں واضح دلائل ملتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿فَخَلَفَ مِنۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا ۝ إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ شَيْئًا﴾

ترجمہ:
پھر ان انبیائے کرام کے بعد نالائق لوگ ان کے جانشین بنے، جنہوں نے نماز ضائع کر دی اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے۔ وہ عنقریب گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی، ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔ ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ بھر بھی حق تلفی نہیں /و پینتیس برس کی نمازوں کی قضا کا حکم دے؟

یہ بات اصول کے خلاف ہے۔

➤ لہٰذا جب ایسا شخص باقاعدگی کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کرے تو اسے پہلے ترک کی ہوئی نمازوں سے سچی توبہ کرنی چاہیے۔ گزشتہ نمازیں دوبارہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔

39 📘 مریض اور معذور کی نماز

❀ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا﴾

ترجمہ:
جس قدر تم میں طاقت ہو، اسی قدر اللہ سے ڈرو، اس کے احکام سنو اور اس کی اطاعت کرو۔

📖 سورۃ التغابن: 16

❀ مریض اور معذور شخص جس طرح آسانی سے نماز ادا کر سکتا ہو، اسی طرح نماز ادا کرے۔

سیدنا عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ نماز میں آلتی پالتی مار کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا:

”یہ اس لیے ہے کہ میری ٹانگیں میرا بوجھ نہیں اٹھاتیں۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب سنة الجلوس في التشهد، حدیث: 827

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/827/

❀ اس سے ثابت ہوا کہ معذور آدمی کو جس طرح سہولت ہو، اسی طرح نماز پڑھنا جائز ہے۔

➊ ممکن ہو تو کھڑے ہو کر نماز ادا کرے۔

➋ کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھے۔

➌ بیٹھنے کی بھی استطاعت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر، محض سر کے اشارے سے نماز ادا کر لے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب التقصير، باب إذا لم يطق قاعدًا صلى على جنب، حدیث: 1117

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1117/

❀ مریض جس حالت میں بآسانی بیٹھ سکتا ہو، اسی حالت میں بیٹھ کر نماز ادا کرے، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کیا تھا۔ اسی طرح کرسی وغیرہ پر بیٹھ کر بھی نماز پڑھی جا سکتی ہے۔

❀ اگر بیٹھے ہوئے آدمی میں کھڑے ہونے کی طاقت پیدا ہو جائے تو وہ کھڑا ہو جائے، اور اگر لیٹے ہوئے شخص میں بیٹھنے کی طاقت آ جائے تو وہ بیٹھ جائے۔

❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:

”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز شروع کرتے، پھر جب قراءت میں سے تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے اور کھڑے ہو کر ان کی قراءت کرتے، پھر رکوع اور سجدہ کرتے۔“

📖 صحیح البخاری، کتاب التقصير، باب إذا صلى قاعدًا، حدیث: 1119
📖 صحیح مسلم، حدیث: 731/112

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1119/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/731/

❀ کسی چیز پر ٹیک لگا کر کھڑا ہونا بھی جائز ہے۔

📖 سنن ابی داؤد، کتاب الصلاة، باب الرجل يعتمد في الصلاة على عصا، حدیث: 948 — صحیح

🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/948/

❀ اگر مریض رکوع یا سجدے میں پوری طرح جھک نہ سکے تو جس قدر ممکن ہو جھکے، البتہ سجدے میں رکوع کی نسبت زیادہ جھکے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مریض کو تکیے پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکیہ اٹھا کر پھینک دیا اور فرمایا:

”اگر تجھ میں طاقت ہے تو زمین پر نماز پڑھ، ورنہ اشارے سے نماز پڑھ لے، اور سجدے میں رکوع کی نسبت زیادہ جھک۔“

📖 السنن الكبرى للبيهقي، کتاب الصلاة، باب الإيماء بالركوع والسجود إذا عجز عنهما، جلد: 2، صفحہ: 206، حدیث: 3669

❀ جو شخص جماعت میں حاضر ہونے سے معذور ہو، وہ گھر میں نماز ادا کر سکتا ہے۔

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھائی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی زخم کی وجہ سے زخمی تھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب التقصير، باب صلاة القاعد، حدیث: 1113
📖 صحیح مسلم، حدیث: 412

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1113/

🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/412/

➤ معلوم ہوا کہ شریعتِ اسلامیہ مریض اور معذور شخص کو اس کی طاقت اور استطاعت کے مطابق نماز ادا کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ نماز کسی حالت میں بھی معاف نہیں ہوتی، البتہ اس کی ادائیگی کا طریقہ مریض کی جسمانی حالت کے مطابق آسان ہو جاتا ہے۔